No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
روحی بیٹا تمھاری طبعیت اب کیسی ہے بخار تو کافی حد تک اتر چکا ہے صفیہ بیگم نے پیار سے کہتے ہوئے پوچھا ۔
جو روحی کے سرہانے ہی بیٹھی ہوئی تھیں
مجھے کیا ہوا تھا؟
روحی نے بھی اٹھتے ہوئے بوجھل لہجے میں پوچھا۔
تمہیں بہت تیز بخار تھا لیکن اب اتر چکا ہے ۔
صفیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
ماما امی کہاں ہیں؟
روحی نے صفیہ بیگم کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا.
بیٹا وہ گاؤں گئی ہے کوئی ضروری کام تھا اور تمھاری امی کا جانا بھی ضروری تھا ۔
تم فریش ہو جاؤ پھر اکٹھے ناشتہ کرتے ہیں صفحہ بیگم نے کہا
تو روحی اثبات میں سر ہلا کر فریش ہونے چلی گئ ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
کیا کہا تمھارے بھائی نے؟ عرشمان نے آرزو کے کان کے پاس سرگوشی نما پوچھا
اپنے کان پر پڑتی گرم سانسوں کی تپش سے آرزو خود میں سمٹ گئی لیکن پیچھے نہیں مڑی اگر زرا سی بھی پیچھے ہوتی تو عرشمان کے سینے سے جا ٹکراتی
کچھ خاص نہیں
آرزو نے دھیمے لہجے میں کہا
جھوٹ مجھے پسند نہیں ہے جان
عرشمان نے آرزو کا رخ خود کی طرف کرتے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے مزید اپنے قریب کرتے کہا.
آرزو کی نظریں ابھی بھی جھکی ہوئی تھیں
میں نے کچھ پوچھا ہے آرزو جان
عرشمان نے آرزو کی کمر پر اپنی پکڑ سخت کرتے کہا
آرزو کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا
میں نے بھائی سے جھوٹ بولا ہے
آرزو نے اپنی بات شروع کرتے ہوئے کہا
کیسا جھوٹ عرشمان نے حیران کن لہجے میں پوچھا
دونوں میں فاصلہ نا ہونے کے برابر تھا
کہ میں تمہیں پسند کرتی ہوں
آرزو نے نظریں جھکا کر کہا جیسے کسی جرم کا اعتراف کر رہی ہو
واؤ اس کا مطلب اب سالہ صاحب مجھ سے بات کرے گئے
تو اگر میں تم سے شادی کرنے سے منع کر دوں تو؟ عرشمان نے ٹھوڑی سے آرزو کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
آرزو کو عرشمان کی بات سے کرنٹ لگا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ. یہ کرنا کیا چاہتا ہے۔
تم آخر چاہتے کیا ہو ؟
کیوں میری زندگی جہنم بنا رہے ہو کیوں مجھے لوگوں کے سامنے رسوا کرنا چاہتے ہو؟ کیوں کرہے ہو یہ سب میرے ساتھ؟
آرزو نے عرشمان کا گریبان پکڑتے ہوۓ بے بسی سے پوچھا
ابھی سے ہمت ہار گئی ہو جان ابھی تو تڑپنا باقی ہے ۔
عرشمان نے آرزو کے دونوں بازو کو پکڑتے ہوۓ روکھے لہجے میں کہا ۔
اور تمھارا بھائی کب رشتے سے انکار کرے گا آج سفیان کے گھر والے آرہے ہیں کل نکاح ہے اس سالے کو کچھ زیادہ ہی جلدی ہے نکاح کی
عرشمان نے آخری بات غصے میں کہی
مجھے نہیں معلوم چھوڑو مجھے آرزو نے غصے میں خود کے بازو عرشمان کی گرفت سے آزاد کرواتے ہوئے کہا
چھوڑ دیا ۔
عرشمان نے آرزو کے دونوں بازوں کو آذاد کرتے ہوئے. کہا اور کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا ۔
مجھے شدت سے انتظار رہے گا اپنے سالے صاحب کے جواب کا جب وہ سفیان کے گھر والوں کے سامنے رشتے سے انکار کریں گئے ۔
عرشمان نے مسکراتی نظروں سے آرزو کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
تم بہت پچھتاؤ گئے عرشمان ملک
آرزو نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے. کہا
اور بنا اس کا جواب سنے وہاں سے چلی گئی ۔
پیچھے عرشمان اپنے ہاتھ کی مٹھی بنائے اپنے غصے کو کنٹرول کر رہا تھا ۔
جتنا بھی وہ آرزو کو تکلیف دینے کی کوشش کرتا لیکن بعد میں اسے بھی تکلیف ہوتی تھی لیکن ان سب میں اس کی انا آجاتی تھی اور نا چاہتے ہوئے بھی آرزو کو تکلیف دے دیتا ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
صائم اپنے کمرے میں آیا اور آتے ہی شاور لینے چلا گیا اس کی آنکھوں کے سامنے نایاب کا سراپا گھوم رہا تھا.
جس پر وہاں بیٹھے تمام لوگوں کی نظریں جمی ہوئی تھیں
وہ ایک طوائف ہے صائم تو اس کے بارے میں اب نہیں سوچے گا
صائم کے دماغ نے کہا
محبت نہیں دیکھتی کہ وہ طوائف سے ہو رہی ہے یا کسی شہزادی سے یہ تو بس ہو جاتی ہے صائم کے دل نے بھی نایاب کے حق میں گواہی دی ۔
چپ ہو جاؤ تم دونوں
صائم نے چلاتے ہوئے کہا اور اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا
صائم بیٹا سب ٹھیک ہے؟ کوثر جو کسی کام کے سلسلے میں آئی تھی اس نے چلانے کی آواز سنی تو پریشانی سے پوچھا
ماما میں ٹھیک ہوں
صائم نے سنبھلتے ہوئے جواب دیا
ٹھیک ہے بیٹا میں باہر تمھارا انتظار کررہی ہوں مجھے ایک ضروری بات کرنی ہے کوثر بیگم نے کہا اور کمرے سے چلی گئی
صائم کو اب اپنی کہی ہوئی باتوں پر افسوس ہو رہا تھا اسے نایاب کو ایسا نہیں کہنا چاہیے گا ۔غصے میں انسان ناجانے کیا کچھ بول دیتا ہے اور پھر بعد میں اپنے الفاظ کے بارے میں سوچ کر پچھتاتا ہے
صائم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا تھا
لیکن اب تو وہ اپنے لفظوں کے جوہر دکھا کر آچکا تھا
ایک بات پر صائم ابھی بھی قائم تھا کہ وہ دوبارہ کبھی بھی اس سے نہیں ملے گا
لیکن آنے والے وقت سے لاعلم تھا ۔
💖 💖 💖 💖 💖
اگلے کچھ دن بھی بہت خوشگوار گزرے تھے
سویرا نے اپنے ماں باپ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو بازل نے یہ کہہ کر خاموش کروا دیا کہ ابھی ملنا مناسب نہیں ہے ۔
کچھ دنوں بعد سویرا کو خوش خبری ملی کہ وہ ماں بننے والی ہے
لیکن اس خوشخبری نے بازل کو زیادہ خوش نہیں کیا ۔
بازل نے سویرا کو کہا کہ وہ ابھی بچہ نہیں چاہتا لیکن سویرا اپنی بات پر قائم رہی کہ وہ اس بچے کو دنیا میں ضرور لائے گی ۔
بازل کو سویرا سے جھگڑا کرنے کا موقع چاہیے تھا
بازل نے بچے کی بات پر سویرا کے ساتھ جھگڑا کیا ۔
اور غصے میں گھر سے نکل گیا ۔
سویرا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ بازل کو بچے سے مسئلہ کیا ہے ۔لیکن وہ کم عقل اس بات سے بے خبر تھی کہ اسے بچے سے نہیں بلکہ اب سویرا سے مسئلہ ہے۔
بازل کافی دنوں سے گھر نہیں آیا ۔
سویرا کو اب ٹینشن ہونے لگی تھی اس نے کافی بار بازل کو فون کیا لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا ۔
اٹھاتا بھی کیسے وہ دوسری لڑکیوں کے ساتھ بزی ہو گیا تھا
اس کا دل سویرا سے بھر چکا تھا اب اسے کیسی دوسری لڑکی کی تلاش تھی ۔بازل نے سویرا کو اپنے اپنے افس میں دیکھا تھا۔
اس کے بعد اس نے سویرا کے بارے میں سب کچھ معلوم کروایا اور اسے لگا کہ سویرا اس کے جال میں آسانی سے پھنس جائے گی
اور ایسا ہی ہوا
جس دن سویرا مارکیٹ گئی تھی اور جو عبایہ والی عورت سویرا کے ساتھ ٹکرائی تھی
وہ عورت نہیں بلکہ عمیر بازل کا دوست تھا۔
بازل اور عمیر نے پورا ایک پلان بنایا تھا عمیر نے اس نیکلس کو سویرا کے بیگ میں اس طرح ڈالا کہ وہ نیکلس آدھا باہر نظر آہا تھا
پھر بازل کا آکر سویرا کو بچانا
اس طرح آہستہ آہستہ بازل اپنے پلان میں کامیاب ہوتا گیا
اور جب اسے سویرا کے نکاح کی خبر ملی تو غصے میں سویرا سے ملنے آیا اور وہ اسے مارکیٹ میں ملی اسے اپنے محنت ضائع ہوتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
لیکن پھر رات کو جب سویرا نے اسے کال پر بتایا کہ وہ نکاح نہیں کرنا چاہتی تو بازل کا کام اور بھی آسان ہو گیا
بازل نے نقلی نکاح نامہ بنایا اور اس پر سویرا کے دستخط لیے اس کا مقصد صرف سویرا کو اس بات کا یقین دلانا تھا کہ ان دونوں کا نکاح ہو چکا ہے اور سویرا نے یقین بھی کر لیا ۔
کیونکہ اس نے نکاح نامے پر دستخط کیے تھے ۔
سویرا نے پوچھا کہ میں نے قبول ہے تو کہا ہی نہیں یہ کیسا نکاح تھا
تو بازل نے کہا کہ جب ہم تمھارے امی ابو سے ملے گئے پھر تمام رسمُ رواج کے ساتھ نکاح کر لے گئے۔
بازل پوری طرح سویرا کے خیالات پر قابض ہو چکا تھا جو وہ کہتا سویرا آنکھ بند کر کے اس پر یقین کر لیتی ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
ایزل کی بھابھی اپنے آوارہ بھائی کے ساتھ اس کی شادی کروانا چاہتی تھی ۔
بھابھی کا بھائی کوئی کام تو کرتا نہیں تھا اور چوبیس گھنٹے اپنی بہن کے گھر ہی نظر آتا تھا
۔بھابھی نے ایزل کو اس کے رشتے کے بارے میں بتایا بلکہ ان کا انداز احسان کرنے والا تھا
کہ میں نے اور تمھارے بھائی نے جمشید کے ساتھ تمھاری بات پکی کر ردی ہے
ایزل تو اپنی بھابھی کی بات سن کر شوکڈ ہو گئی تھی
بھابھی میں آپ کے بھائی سے شادی نہیں کروں گی
ایزل نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ۔
کیا کہا تم نے میرے ہیرے جیسے بھائی سے تم نے شادی نہیں کرنی
تو تمہیں کیا لگتا ہے تمھارے لیے آسمان سے کوئی شہزادہ اترے گا شکر کرو تم جیسی لڑکی کو میرا بھائی مل رہا ہے بھابھی نے نحوست سے کہا ۔
میری جیسی لڑکی سے آپ کا کیا مطلب ہے آپ نے اپنے آوارہ بھائی کو دیکھا ہے جو مجھے باتیں سنا رہی ہیں۔
میں سب کچھ برداشت کر سکتی ہوں لیکن کوئی میرے کردار پر کیچڑ اچھالے میں برداشت نہیں کرو گی
اور آپ کے نشئی بھائی سے تو میری جوتی شادی کرے گی ۔
ایزل نے غصے میں اپنی بھابھی کو ایک ایک لفظ باور کرواتے ہوئے کہا ۔آج اس نے سارا لحاظ سائیڈ پر رکھ کر بھابھی سے بات کی تھی ۔
بھابھی ایزل کو منہ کھولے دیکھ رہی تھی ۔
آج تک ایزل نے اس طرح کے لہجے میں بھابھی سے بات نہیں کی تھی
ایزل اپنی بات مکمل کرکے وہاں سے چلی گئی تھی ۔
تمھارا کردار ۔
اب دیکھنا میں تمھارے ساتھ کیا کرتی ہوں
بھابھی نے ہوش میں آتے ہی اپنے شاطر دماغ میں کچھ سوچتے ہوئے کہا.
💖💖💖💖💖💖
کیا ہوا روحی بیٹا کیا تلاش کر رہی ہو؟ صفیہ بیگم نے روحی سے پوچھا جو کچھ تلاش کرنے میں لگی ہوئی تھی ۔
ماما میری رنگ نہیں مل رہی پتہ نہیں کہاں ہے میں نے پورے گھر میں اسے دیکھ لیا ہے مجھے کہی نہیں ملی
بیٹا تم اپنے روم میں دیکھو یا یاد کرو تم کہاں کہاں گئ تھی وہی گری ہو گی ۔
صفیہ بیگم نے کہا
ماما ایک دو جگہ رہ گئی ہیں میں وہاں بھی دیکھ لیتی ہوں
روحی نے مسکرا کر کہا اور شاہ کے کمرے کی طرف چلی گئی ایک یہی کمرہ رہ گیا تھا جہاں اس نے انگوٹھی کو نہیں ڈھونڈا نہیں تھا
اگر انگوٹھی ضروری نا ہوتی تو کبھی بھی اس جلاد کے کمرے میں نا جاتی ۔
روحی نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر اندر جھانکا تو کمرہ خالی تھا
روحی نے شکر ادا کیا اور روم میں دبے پاؤں داخل ہوئی ۔
اور ارد گرد نظریں دہرائے اپنی انگوٹھی کو تلاش کرنے لگی ۔
رنگ تو اسے کہی نظر نہیں آئی لیکن شاہ کی آواز سے اس کا دل ڈر کے مارے زور زور سے دھڑکنے لگا
یا اللہ یہ کب آئے؟
روحی نے دل میں کہا
اور مڑ کر پیچھے کھڑےشاہ کی طرف دیکھا جو ماتھے پر تیوری لیے روحی یو گھور رہا تھا ۔
میں آپ کے کمرے میں چوری کرنے نہیں آئی کچھ ڈھونڈنے آئی تھی
روحی نے دروازے کی طرف اپنے قدم بڑھاتے ہوئے کہا
وہی رک جاؤ
شاہ کی بھاری آواز کمرے میں گونجی
تو روحی کے قدم وہی تھمے تھے
کیا ڈھونڈ رہی ہو؟
شاہ نے روحی کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
میری منگنی کی انگوٹھی گم ہو گئ ہے وہ نہیں مل رہی اگر وہ نا ملی تو میں اپنے ہونے والے شوہر کو کیا جواب دوں گی ۔
روحی نے پریشانی سے کہا ۔
جبکہ ہونے والے شویر کا سن کر شاہ کا خون کھول اٹھا تھا ۔
ہونے والا شوہر ابھی ہوا نہیں ہے
اور جب تک شادی نہیں ہو جاتی اس وقت بتک وہ تمھارے لیے نامحرم ہے ۔
سمجھی اور آئندہ فضول گوئی سے پرہیز کرنا
شاہ نے روحی کو وارن کرتے ہوئے کہا
فضول گوئی میں نے کی ہی کب ہے کچھ مہینوں بعد میری اور اس سے پہلے روحی اپنی بات مکمل کرتی شاہ نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ رکھ خاموش کروایا
روحی آنکھیں پھاڑے شاہ کو دیکھ رہی تھی
آئندہ اُس نمونے کا نام میں تمھارے ان خوبصورت ہونٹوں سے نا سنو ورنہ…
شاہ نے بات کو ادھوری چھوڑتے ہوئے روحی کے ہونٹ کے پاس تل کو انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے ذومعنی لفظوں میں کہا
آپ بھی تو میرے لیے نا محرم ہے
روحی نے شاہ کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا اسے آج شاہ کچھ عجیب لگا تھا
مجھے روکنے کی غلطی دوبارہ مت رونا روحی میڈم
بہت جلد تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کون محرم ہے اور کون نا محرم
شاہ نے روحی کے چہرے کی طرف جھکتے ہوئے کہا
روحی نے اپنی آنکھیں زور سے بند کر لی تھیں
اور ہاں تمھاری رنگ میرے پاس ہی تھی لیکن میں نے اسے پھینک دیا
شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا
روحی نے آنکھیں کھول کر حیرت سے شاہ کو دیکھا جو مسکرا رہا اسے حیرت انگوٹھی کے پھینکنے کا سن کر نہیں بلکہ شاہ کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر ہوئی تھی
جو مسکراتے ہوئے ایک الگ ہی انسان لگ رہا تھا ۔
میں چلتی ہوں روحی نے شاہ کے چہرے سے نظریں ہٹا کر کہا اور دروازے کی طرف بھاگی
لیکن دروازہ کھلنے پر اندر آتے قاسم شاہ سے جا ٹکرائی
سوری روحی نے قاسم شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے شرمندگی سے کہا
کوئی بات نہیں
مجھے برا نہیں لگا قاسم شاہ نے روحی کے چہرے پر نظریں گاڑھتے ہوئے کہا
جو ناسمجھی سے قاسم شاہ کو دیکھ رہی تھی
روحی جاؤ یہاں سے پیچھے کھڑے شاہ کی غصے سے بھری آواز کانوں میں پڑتے ہی روحی فوراً وہاں سے رفو چکر ہو گئ
ڈیڈ آپ کو کچھ کام تھا شاہ نے دانت پیستے ہوئے پوچھا
ہاں مجھے بات کرنی تھی
قاسم شاہ نے کہا اور جو بات کرنے آئے تھے وہ کرنے لگے ۔
💖💖💖💖💖💖
السلام علیکم
مان نے ہال میں بیٹھے لوگوں کو اونچی آواز میں سلام کرتے داخل ہوا اور صوفے پر جا کر بیٹھ گیا
شاداب ملک نے سفیان کی فیملی سے مان کا تعارف کروایا ۔
عرشمان بھی وہی موجود تھا ۔
اس سے پہلے آپ لوگ نکاح کے بارے میں بات کرے میں آپ سب لوگوں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔
مان نے وہاں بیٹھے تمام لوگوں کی توجہ خود کی طرف کرواتے ہوئے کہا
یہ نکاح نہیں ہو سکتا مان نے وہاں بیٹھے لوگوں کے سروں پر بم پھوڑے ہوئے عام سے لہجے میں کہا
مان یہ کیا بکواس کر رہے ہو؟
شاداب ملک نے غصے سے گھورتے ہوئے پوچھا
ڈیڈ میں اپنی بہن کی شادی سفیان سے نہیں کروا سکتا
مان نے سنجیدگی سے کہا
کوئی خاص وجہ علیدان نے مان کو دیکھتے ہوئے پوچھا
مان نے ایک نظر علیدان کو دیکھا اور کچھ تصاویر علیدان کی طرف بڑھائی
میرا خیال ہے یہ وجہ کافی ہے
مان نے کہا اور سفیان کے والدین کو دیکھنے لگا جو خود نظریں رہے تھے
علیدان کے ساتھ بیٹھے شاداب ملک نے بھی تصاویر دیکھی تو غصے سے ان کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔
سفیان کسی لڑکی کے ساتھ بیڈ پر موجود تھا
اور تینوں تصویروں میں الگ الگ لڑکیاں اس کے ساتھ موجود تھیں
مجھے نہیں لگتا کہ تم اپنے بیٹے کی حرکتوں سے ناواقف ہو گئے جس طرح تم نظریں چرا رہے ہو اس کا صاف مطلب ہے تمہیں بھی معلوم تھا کہ تمھارا لاڈلا یہ سب کچھ کرتا ہے
شاداب ملک نے اپنے پارٹنر کو دیکھتے ہوئے غصے میں کہا
جس کے پاس دینے کو کوئی وضاحت نہیں تھی
انکل آپ ابھی یہاں سے چلے جائے علیدان نے سنجیدگی سے کہا تو سفیان کے والدین خاموشی سے ملک ولا سے چلے گئے کیونکہ یہاں رکنے کا اب جواز ہی نہیں بنتا تھا ۔
روبینہ اور رابعہ تو حیرانگی سے ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہی تھی کہ اچانک یہ سب کچھ کیا ہو گیا ۔
ایم سوری بیٹا مجھے سفیان کے بارے میں بھی معلوم کرونا چاہیے تھا یہ میری غلطی ہے
شاداب صاحب نے شرمندگی سے مان کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
ڈیڈ یار میں آپ کو شرمندہ ہرگز نہیں کرنا چاہتا تھا
اور یہ میری بہن کی پوری زندگی کا معاملہ تھا تو آپ نے معلوم نہیں کروایا تو میں نے کروا لیا
آپ پریشان نہ ہوں
مان نے موبائل کان سے لگاتے ہوئے کہا
لیکن بیٹا آرزو پر کیا گزرے گی مجھے اس کی فکر ہو رہی ہے شاداب نے پریشانی سے کہا
ڈیڈ اسے میں سنبھال لوں گا
آپ بے فکر رہے اور ابھی مجھے آکف کی خبر لینی ہے میں چلتا ہوں
مان نے مسکرا کر کہا
اور وہاں سے نکل گیا
کوئی نہیں جانتا تھا کہ جب سفیان کو پتہ چلے گا تو وہ کیا کرے گا
اتنی آسانی سے تو وہ آرزو کا پیچھا نہیں چوڑنے والا تھا ۔
💖 💖 💖 💖 💖
کہاں ہوتا ہے تو آجکل؟ مان نے گھورتے ہوئے آکف سے پوچھا جس سے آج ملاقات ہو رہی تھی ۔
یار آفس میں ہوتا ہوں آکف نے اپنی گال کو سہلاتے ہوئے کہا مان نے آتے ہی اس کے جبڑے پر زور سے مکا مارا تھا ۔
وہ تو شکر تھا آکف اپنے کیبنٹ میں تھا ورنہ اس کی عزت کا فالودہ بن جانا تھا۔
مجھے تو تیرے مطابق یہاں کوئی کام نہیں نظر آیا
تو تو سارا دن آفس میں کرتا کیا ہے؟
مان نے طنز کرتے ہوئے کہا
یار آفس میں کام کرتا ہوں اور کیا کروں گا ۔
آکف نے گڑبڑا کر کہا
تیری رگ رگ سے میں واقف ہوں اور میں تیری آفس آنے کی وجہ بھی جلد ہی جان لوں گا
ابھی زرا تو میرے ساتھ چل
مان نے آکف کو دیکھتے ہوئے کہا۔
یار تو نے اچھی حاصی میری شکل خراب کر دی ہے اب میں کس منہ سے باہر جاؤں گا
آکف نے گھورتے ہوئے پوچھا
یہ جو منہ اللہ نے اتنا بڑا دیا ہے اسی کے ساتھ باہر تشریف لے کر جائے ورنہ دوسرے گال کا بھی نقشہ بگاڑ دوں گا ۔
مان نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ۔
آرہا ہوں صبر نہیں ہوتا تیرے سے آکف نے کھا جانے والی نظروں سے مان کو دیکھتے ہوئے کہا اور دونوں آفس سے نکل گئے ۔
آکف دل میں دعا کر رہا تھا کہ راستے میں ایزل نا مل جائے لیکن شاید آج کا دن آکف کے لیے اچھا تھا اس لیے وہ نہیں ملی ورنہ مان کو پتہ چل جانا تھا۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
سیٹھ مہرو کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ بیڈ پر بیٹھی اپنے خیالوں میں گم کھوئی ہوئی تھی
واہ کیا خوبصورتی ہے
سیٹھ نے مہرو کو دیکھتے ہوئے کہا
مہرو نے چونک کر سیٹھ کی طرف دیکھا جو اب دروازہ بند کر رہا تھا
کون ہو تم؟ اور تم سب کو میرا ہی کمرہ ملا ہے جس کا دل کرتا ہے منہ اٹھا کر اندر چلا آتا ہے ۔
مہرو نے غصے میں سیٹھ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
تو چیز ہی ایسی ہے کسی بھی کمبخت کو دیوانہ بنا دیتی ہے
سیٹھ نے بےباکی سے اپنی غلیظ نظریں مہرو کے وجود میں گاڑھتے ہوئے کہا ۔
نکلو میرے کمرے سے مہرو نے مضبوط لہجے میں کہا اسے سیٹھ کی گندھی نظریں زہر لگ رہی تھیں ۔
نکل جاؤ
سیٹھ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا
پنکی کو پورے دس لاکھ دیے تھے
اب تو میری ہے سمجھی ۔سیٹھ نے غصے سے کہا۔
کیا بکواس کر رہے ہو؟ مہرو نے بے یقینی سے کہا ۔
اسے سیٹھ کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا
بعد میں تجھے بتا دو گا ابھی جو کرنے آیا ہوں وہ کر لوں سیٹھ نے مہرو کی طرف بڑھتے ہوئے کہا
مہرو بھاگ کر دروازے کی طرف جانے لگی تو سیٹھ نے اسے پیچھے سے پکڑنا چاہا تو شرٹ کا کچھ کپڑا کندھے سے پھٹ کر اس کے ہاتھ میں آگیا آج صحیح معنوں میں مہرو کو طوائف ہونے کا مطلب سمجھ میں آیا تھا ۔
اس سے پہلے مہرو بھاگ کر دروازہ کھولتی سیٹھ نے مہرو کو بازو سے پکڑتے ہوئے اس کا رخ خود کی طرف کرتے ایک زور دار تھپڑ اس کے رخسار پر مارا جو اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور سیدھی زمین پر جا گری ماتھے پر بندھی پٹی میں سے خون رسنے لگا ۔
مہرو وہی ماتھے پر ہاتھ رکھے بیٹھی رہی سر کافی زور سے زمین سے ٹکرایا تھا۔
مہرو کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن آنکھوں کے سامنے آتے اندھیرے کی وجہ سے وہی بے ہوش ہو گئ ۔
سیٹھ نے مہرو کو بازو سے پکڑ کر سیدھا کیا اور اس کے چہرے سے بال پیچھے کیے آنکھوں میں شیطانیت لیے مہرو کو دیکھ رہا تھا۔
اس سے پہلے سیٹھ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب ہوتا کوئی طوفان کی طرح دروازہ توڑ کر کمرے میں داخل ہوا
سیٹھ نے ہڑبڑا کر سامنے کھڑے انسان کو دیکھ کر منہ میں بڑبڑایا
ملک…….
معارج ملک اپنے معمول کے مطابق کوٹھے پر آیا تھا نایاب نے شاہ کو فون کیا تو اس کا نمبر بند جا رہا تھا۔
ملک کو کال کرنے کی ضرورت نہیں پڑی وہ اسے سامنے آتا ہوا نظر آگیا تھا
نایاب نے جلدی سے معارج کو سب کچھ بتا دیا
ملک نے دروازہ توڑا اور اب غصے میں سب کچھ بھسم کر دینے والی نظروں سے سیٹھ کو گھور رہا تھا ۔
اس کی آنکھوں میں جلتی آگ کو دیکھ کر سیٹھ مہرو سے پیچھے ہو گیا۔
معارج نے مہرو کو دیکھا جس کی شرٹ کندھے سے کافی حد تک پھٹ چکی تھی
مہرو کی حالت معارج کو مزید طیش میں لے آئی تھی ۔
تو نے میری مہرو کو اپنی گندی نظروں سے دیکھا اسے چھونے کی کوشش کی؟
معارج نے سیٹھ کو پکڑ کر اس کے منہ پر مکے مارتے ہوئے دھاڑ کر کہا ۔
معارج ملک سیٹھ کو سنبھلنے کا موقع نہیں دے رہا تھا
اور معارج کے کچھ گھونسے کھا کر ہی وہ بے ہوش ہونے والا تھا ۔
سیٹھ کے منہ اور ناک سے خون نکلنے لگا تھا معارج ملک وحشی بنا کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر سیٹھ کو مار رہا تھا۔
معارج نے پاس پڑی کرسی کو اٹھا کر سیٹھ کے سر دے ماری
ملک بس کر دو وہ مر جائے گا پنکی نے پریشانی سے کہا سلمیٰ اور پنکی بھی کمرے میں آگئی تھیں ۔
اس سالے کی میں بوٹی بوٹی کرکے کتوں کو کھلا دوں گا۔
تجھے کیا لگا معارج ملک تجھ جیسے ذلیل اور کمینمے انسان کی جان اتنی آسانی سے چھوڑ دے گا تو نے ملک کی مہرو کو ہاتھ لگانے کی گستاخی کی ہے اور اب مرنا تجھ پر لازم ہے ۔
معارج نے سیٹھ کو بالوں سے پکڑتے ہوئے ایک زوردار مکا اس کے جبڑے پر مارتے کہا ۔
ملک مہرو کو دیکھو
نایاب نے معارج کا دھیان مہرو کی طرف کرواتے ہوئے کہا ۔
جو سیٹھ کو جان سے مار دینے کے در ہر تھا
نایاب کی بات نے معارج کی توجہ مہرو کی طرف کی جس کے ماتھے سے خون نکل رہا تھا۔
معارج مہرو کے پاس گیا اور اپنے کندھے پر رکھی چادر کو مہرو پر ڈالا اور اسے اٹھا کر بیڈ پر لیٹایا۔اس کی آنکھوں میں جو مہرو کو تکلیف میں دیکھ کر بےبسی تھی وہ نایاب کے ساتھ سلمیٰ بائی نے بھی محسوس کی تھی ۔
ڈاکٹر کو فون کرو معارج نے نایاب کو دیکھتے ہوئے کہا
جو پریشانی سے ہاتھ مسل رہی تھی
میں کیا بکواس کر رہا ہوں ڈاکٹر کو فون کرو معارج نے دھاڑے ہوئے کہا
اور اپنی چادر سے مہرو کے ماتھے کا خون صاف کرنے لگا
مہرو کو اس حالت میں دیکھتے اس کا دل ڈوبٹا جا رہا تھا ۔
اور آج معارج ملک پر ایک اور بھی انکشاف ہوا تھا کہ وہ مہرو سے محبت کرنے لگا تھا پہلے اس کا مقصد کچھ اور تھا پہلے کسی اور کی وجہ سے وہ مہرو سے نکاح کرنا چاہتا تھا لیکن اب بات دل کی تھی ۔جس نے مہرو سے محبت کرنے کی گواہی دے دی تھی ۔
ملک کوٹھے پر کوئی ڈاکٹر نہیں آتا نایاب نے پریشانی سے کہا ۔
ملک نے نایاب کی بات سن کر فون نکالا اور اپنے آدمیوں کو ڈاکٹر لانے کا کہا ۔
سیٹھ کے آدمی اسے وہاں سے لے گئے تھے
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر آیا جسے ملک کے آدمی زبردستی لائے تھے ۔
تم لوگوں کو ایک بات سمجھ میں نہیں آتی میں اس ناپاک جگہ پر نہیں آنا چاہتا کیوں مجھے یہاں لائے ہو؟
داکٹر چیختے چلا کر کہہ رہا تھا
ملک کے آدمیوں نے ڈاکٹر کو معارج کے سامنے کھڑا کیا ۔
میں یہاں ایک سیکنڈ بھی نہیں رکو گا اگر تم لوگوں نے زبردستی کی تو میں پولیس کے پاس جاؤ گا
ڈاکٹر نے اپنا کوٹ ٹھیک کرتے دھمکی دیتے ہوئے کہا
پسٹل دو مجھے معارج نے ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے اس کے پیچھے کھڑے اپنے آدمی کو سنجیدگی سے کہا جس نے گن معارج کو پکڑا دی۔
معارج نے ڈاکٹر کے شوز کے پاس گولی چلائی جو چیخ کر کچھ فاصلے پر جا کھڑا ہوا
وہ سامنے پیشنٹ ہے اسے چیک کرو ورنہ اگلی گولی تمھارے دل کے آر پار ہو گی
معارج نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا
میں ابھی کرتا ہوں داکٹر نے گھبرا کر جلدی سے کہا اور مہرو کو چیک کر کے اس کی پٹی کرنے کے بعد کہا
کہ کچھ دیر میں اسے ہوش آجائے گی ۔
ڈاکٹر کی پھرتی دیکھ کر نایاب حیران کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
جس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔
تم سے تو میں بعد میں بات کرو گا
معارج نے پنکی کو دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا
ملک صاحب میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں
میں نے بعد میں سیٹھ کو بہت ڈھونڈا تھا تاکہ میں اسے پیسے واپس کر سکو لیکن وہ مجھے نہیں ملا پنکی نے شرمندگی سے کہا ۔
جاؤ یہاں سے تم سب لوگ
معارج نے سنجیدگی سے کہا سارے کمرے سے چلے گئے ۔
معارج مہرو کے سرہانے بیٹھ گیا تھا
اب تو کچھ نا کچھ کرنا ہی پڑے گا معاملہ دل کا جو بن گیا ہے
معارج نے مہرو کی تھوڑی پر ہونٹ رکھتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں کہا اور اس کے چہرے کو دیکھنے میں مگن ہو گیا
💖💖💖💖💖💖
