Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15


روحی بیٹا تم گاؤں کیوں جانا چاہتی ہو؟
یہاں کوئی مسئلہ ہے تمہیں؟ صفیہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا ۔
ان کو اچانک روحی کے گاؤں جانے پر حیرانگی ہو رہی تھی کیونکہ روحی کو گاؤں اتنا پسند نہیں تھا
ماما میرا دل کر رہا ہے روحی نے نظریں جھکا کر کہا
ٹھیک ہے بیٹا جیسی تمھاری مرضی لیکن تم جلدی واپس آنے کی کوشش کرنا اگر تم زیادہ دن وہاں رکی تو میں تمہیں لینے آجاؤ گی صفیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
ان کو روحی کچھ پریشان سی لگی تھی
شاہ جو اپنی ماں کے کمرے میں داخل ہونے والا تھا اپنی ماں کی بات سن کر وہی رک گیا تھا ۔
اور صفیہ بیگم کے کمرے میں جانے کی بجائے روحی کے کمرے میں چلا گیا تھا ۔
روحی اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور بنا بیڈ کی طرف دیکھے الماری سے کپڑے نکالنے لگی
شاہ سنجیدگی سے روحی کو دیکھ رہا تھا
جو اپنے خیالوں میں گم کپڑے نکالنے میں بزی تھی
جب کچھ کپڑے لے کر بیڈ کے قریب آئی اور سامنے کھڑے شاہ کے سینے سے جا ٹکرائی
اُف روحی لگ گئ نا دیوار تجھے
روحی نے منہ میں بڑبڑاتے ہوۓ اپنا ماتھا مسلتے کہا
کہاں جا رہی ہو تم؟
شاہ کی بھاری آواز کمرے میں. گونجی تو روحی ایک دم ڈر سے اچھلی اور سامنے کھڑے شاہ کو گھورنے لگی ۔
میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے؟ شاہ نے سرد لہجے میں پوچھا
وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ کیوں وہ روحی سے سوال کر رہا ہے
میری مرضی میرا دل کر رہا ہے گاؤں جانے کا روحی نے روکھے لہجے میں کہا
اور اپنے بیگ میں کپڑے رکھنے لگی ۔
مجھے خود کو اگنور کیے جانا بلکل بھی پسند نہیں ہے
شاہ نے روحی کو بازو سے پکڑ کر خود کے سامنے کھڑے کرتے ہوئے کہا
آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ میرے یہاں رہنے سے بھی آپ کو مسئلہ تھا اب جا رہی ہوں تو بھی آپ کو مسئلہ ہو رہا ہے
روحی نے اپنا بازو آذاد کرواتے ہوئے کہا
اگر جا رہی ہو تو کبھی واپس مت آنا
شاہ نے روحی کا بازو چھوڑتے ہوئے کہا
فکر مت کریں اب واپس کبھی نہیں آؤں گی روحی نے روندی ہوئے لہجے میں کہا
اور اپنے کپڑے بیگ میں رکھنے لگی
شاہ نے غصے سے روحی کے کمرے سے نکل گیا
اس کے جاتے ہی روحی بیڈ پر بیٹھ کر بے بسی سے اپنے کپڑوں کو دیکھنے لگی تھی ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖 💖
شاہ غصے میں اپنے کمرے میں آیا تھا روحی کو تو کبھی نا واپس آنے کا کہہ آیا تھا
لیکن دل نا جانے کیوں بے چین ہو رہا تھا
اور گاؤں میں اس کا منگیتر بھی ہو گا یہ سوچ اسے زیادہ تکلیف دے رہی تھی شاہ روحی کے ہاتھ میں پہنی بوئی اس کے نام کی انگوٹھی کو برداشت نہیں کر رہا تھا
اب تو روحی پوری کی پوری اس کے پاس جا رہی تھی ۔
شاہ ٹہلتا ہوا اپنے بےچین ہونے کا مطلب سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن کچھ بھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا ۔
کافی دیر ٹہلنے کے بعد بھی جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو گاڑی کی چابیاں اٹھا کر گھر سے باہر نکل گیا ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
سویرا جب بازل کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی تو ثناء نے پورے محلے والوں کو بتا دیا تھا کہ سویرا کیسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئ ہے ۔
اپنی لاڈلی بیٹی کے بھاگنے کا سن کر عقیل صاحب کو ہارٹ اٹیک آگیا تھا اور وہ ہسپتال جانے سے پہلے ہی وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔
رقیہ بیگم گم سم سی ہو گئی تھی
ہمیشہ سویرا نے ان کو تکلیف دی تھی لیکن اس بار کی تکلیف کچھ زیادہ تھی ۔
صبح سویرا کا نکاح بھی تھا
لوگ باتیں بنا رہے تھے رقیہ بیگم خاموش تھی ان کی اپنی بیٹی نے ان کا بھرم نہیں رکھا تھا باقیوں سے کیا گلہ کرتی
عقیل صاحب کے جانے کے بعد ایک رات رقیہ بیگم بھی گھر چھوڑ کر کہی چلی گئی تھی
لوگوں کی باتیں ان کو سکون سے جینے نہیں دے رہی تھی۔
کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں گئی ہے ۔
💖💖💖💖💖💖💖
مان تمھارا شادی کے بارے میں کیا خیال ہے؟
رابعہ بیگم نے ٹی وی دیکھتے مان سے پوچھا
بہت اچھے خیالات ہے میرے شادی کے بارے میں لیکن ماما وہ میں اپنی بیوی کے ساتھ ہی ڈسکس کروں گا
مان نے سنجیدگی سے کہا
شٹ اپ مان
میرا مطلب ہے تم نے شادی کب کرنی ہے رابعہ بیگم نے گھورتے ہوئے کہا
مان قہقہہ لگائے ہنسنے لگا تھا ۔
ماما جب کوئی لڑکی پسند آئے گی تو شادی بھی کر لوں گا
مان نے عام سے لہجے میں کہا
مجھے کومل بہت پسند ہے میں چاہتی ہوں وہ میری بہو بنے
رابعہ نے مان کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں کومل کا سن کر سنجیدگی چھا گئی تھی۔
ماما میں کومل کو پسند نہیں کرتا اور شادی میں ایک ایسی لڑکی سے کروں گا جس سے مجھے محبت ہو گی
اور بہتری اسی میں ہے کہ آپ کومل کا خیال اپنے دماغ سے نکال دیں
مان نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا
رابعہ ابھی مان سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اپنی سنا کر چلا گیا تھا ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
سویرا کو اب اس فلیٹ سے وحشت ہونے لگی تھی ۔اور کافی کمزور بھی ہو گئی تھی بازل نے ایک بار بھی چکر نہیں لگایا تھا ۔
آج اسے شدت سے اپنے ماں باپ کی یاد آرہی تھی۔
ناچاہتے ہوئے بھ آنسو اس کی آنکھوں سے نکلنے لگے تھے جب دروازہ کسی نے نوک کیا
سویرا نے اپنے آنسو صاف کیے دروازہ کھولا تو سامنے عامر کھڑا تھا۔
اس کا ارادہ بازل کو سرپرائز دینے کا تھا لیکن اس کے فلیٹ پر ایک لڑکی کو دیکھ کر حیران ہوا تھا
آپ کون؟ عامر نے حیرانگی سے سامنے کھڑی سویرا سے پوچھا
میں بازل کی بیوی ہوں آپ کون ہیں؟ سویرا نے حیرانگی سے پوچھا
بیوی لفظ پر عامر نے آنکھیں پھاڑے سویرا کو دیکھا جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو
بازل یہ تو نے کیا کر دیا
عامر نے دل میں کہا اور سامنے کھڑی سویرا کی حالت پر افسوس کرنے لگا
میں عامر ہوں بازل کا دوست میں اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا لیکن شاید وہ گھر میں نہیں ہے
تو میں چلتا ہوں عامر نے کہا اور وہاں سے جانے لگا
وہ پیچھلے آٹھ ماہ سے گھر نہیں آئے اور میرا فون بھی نہیں اٹھا رہے آپ پلیز ان سے بات کرے تو میرا پیغام ان تک پہنچا دیجیے گا
سویرا نے جلدی سے کہا
کیا میں آپ سے کچھ پوچھ سکتا ہوں؟ عامر نے تھوڑا جھجھکتے ہوئے پوچھا
جی بلکل سویرا نے کہا ۔
آپ ایسا کرے اندر آجائے اگر آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہے تو؟ سویرا نے راستہ دیتے ہوئے کہا تو عامر خاموشی سے اندر آگیا
آپ کے لیے کچھ لے کر آؤ؟
سویرا نے پوچھا
نہیں آپ بیٹھیے عامر نے سویرا کی حالت کے مدنظر کہا
آپ کو بازل کہاں ملا تھا
عامر نے سنجیدگی سے پوچھا
تو سویرا نے اپنی پہلی ملاقات سے لے کر اب تک کا سب کچھ عامر کو بتا دیا اور اس کے لہجے کی شرمندگی کو عامر نے بھی محسوس کیا تھا
آپ کو اپنا گھر چھوڑ کر نہیں آنا چاہے تھا آپ کو کیا پتہ کہ بازل کس طرح کا انسان ہے آپ دو یا تین ملاقات میں کیسے کسی انسان کو اس حد تک جان سکتی ہے کہ آپ اس سے نکاح کر لیں؟
اور بقول آپ کے بازل کو یہاں سے گئے آٹھ ماہ ہو گئے ہیں وہ کسی دوسرے کے ہاتھ خرچہ پانی بھیج دیتا ہے لیکن خود نہیں آتا
آپ ابھی بھی نہیں سمجھی کہ بازل کیا چاہتا تھا؟
عامر نے سنجیدگی سے سویرا کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
جو نظریں جکھائے آنسو بہا رہی تھی اسے اپنی غلطی کا احساس تو بہت پہلے ہی ہو چکا تھا لیکن وقت گزر چکا تھا ۔
آپ جانتی بھی ہے بازل کون ہیں؟
عامر نے سرد لہجے میں پوچھا
اس سے پہلے سویرا کوئی جواب دیتی اسے اپنے پہلو میں شدید درد کی لہر اٹھی ہوئی محسوس ہوئی اور وہ بے ساختہ چیخ اٹھی
کیا ہوا ہے؟ آپ ٹھیک ہے؟ عامر نے پریشانی سے پوچھا
لیکن سویرا نا قابلِ حد تک ہوتے درد کو برداشت نہیں کر پائی اور وہی بے ہوش ہو گئ
عامر تو گھبرا گیا تھا اسے اس. وقت جو بہتر لگا اس نے وہی کیا اور سویرا کو اٹھا کر ہسپتال لے گیا ۔
💖💖💖💖💖💖💖
عامر نے بازل کو فون کرکے بتا دیا تھا اور خود ہسپتال سے چلا گیا تھا کیونکہ اس کا دل نہیں کر رہا تھا کہ بازل کی شکل بھی دیکھ لے ۔
سویرا کو اللہ نے پیاری سی بیٹی دی تھی اسے جب ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک بند کمرے میں پایا
جو چھوٹا سا تھا
سامنے صوفے پر بیٹھا عمیر آنکھوں میں خباثت لیے سویرا کو دیکھ رہا تھا ۔
سویرا نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی عمیر چلتا ہوا سویرا کے پاس آیا
اس بار سویرا ہمت کرکے بیٹھ گئی تھی ۔
آپ؟ اس نے عمیر کو دیکھتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا
ہاں میں
تو پہلے میں تمہیں بتا دوں بازل اپنے بیٹی کو لے کر جا چکا ہے اور میں تمہیں یہاں لے آیا ۔
عمیر نے سویرا کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا ۔
کیا مطلب وہ میری بیٹی کو کہاں لے کر گیا ہے؟ سویرا نے بوکھلائے ہوئے انداز میں پوچھا
اسے لگا تھا بچے کے آنے کے بعد بازل بھی تبدیل ہو جائے گا ۔
وہ تمھاری بیٹی نہیں صرف بازل کی بیٹی ہے اس کی تم فکر مت کرو
اور بازل نے اپنی خوبصورت بیوی کو میرے حوالے کیا ہے تاکہ میں تمھارا اچھے سے خیال رکھ سکو
عمیر نے سویرا کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا سویرا کھسک کر پیچھے ہو گئی
تم جھوٹ بول رہے ہو بازل کہاں ہیں؟
سویرا نے کپکپاتے لہجے میں کہا
تم سچ میں بہت بھولی ہو تمہیں ابھی بھی لگتا ہے کہ بازل بہت اچھا انسان ہے
عمیر نے طنزیہ لہجے میں نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا
وہ بہت بڑا کمینہ ہے لیکن تم فکر مت کرو اب تم یہاں میرے ساتھ ہی رہو گی تو میں تمہیں اس کے بارے میں سب کچھ بتا دوں گا لیکن ابھی تم مجھے خوش کرو جیسے بازل کو کرتی تھی
عمیر نے سویرا کے قریب ہوتے ہوئے کہا
سویرا کو اپنے قریب سٹیل کا جگ پڑا ہوا نظر آیا اور اس نے اپنا پورا زور لگایا اور اس جگ کو عمیر کے سر پر دے مارا
حملہ اچانک ہوا تھا اس لیے عمیر اپنا بچاؤ نہیں کر سکا اور سویرا کو گالیوں سے نوازنے لگا
خون ابل ابل کر باہر آرہا تھا سویرا نے یہی موقع غنیمت سمجھا اور کمرے سے نکل گئ
اگر اب ہمت ہار جاتی تو کبھی بھی اس شیطان کے چنگل سے باہر نا نکل پاتی
اپنی تکلیف کو نظر انداز کرتے سویرا گھر سے نکل گئ تھی
باہر سڑک سننسان تھی لیکن سویرا کو اندھا دھند چلتی جا رہی تھی…..
کافی زیادہ چلنے کے بعد اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا ۔مزید جلنے کی سکت نہیں تھی
سویرا وہی دیوار کا سہار لے کر کھڑی ہو گئ اسے سامنے والی سڑک گھومتی ہوئی محسوس ہورہی تھی
اور وہی ہوش سے بیگانہ ہوکر گر پڑی
اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی اس کے پاس کھڑا ہے
اس کے بعد اسے نہیں یاد کہ کیا ہوا تھا کون اس کے پاس کھڑا تھا اس کا دماغ تاریخی میں چلا گیا تھا ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
روحی روبینہ بیگم سے مل کر گاڑی میں اداس سی بیٹھی ہوئی تھی اور آنکھیں برسنے کو تیار تھیں لیکن کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکتی تھی۔
اپنے خیالوں میں گم اسے معلوم نہیں ہوا کہ گاڑی کب چلی تھی
پندرہ منٹ بعد گاڑی جھٹکا لگنے کی وجہ سے رکی
روحی بھی اپنے خیالوں سے باہر آئی اور ڈرائیور کو دیکھنے لگی
وہ میڈم سامنے کچھ گاڑیاں کھڑی ہے
ڈرائیور نے پریشانی سے کہا
جب باہر کھڑے آدمی نے ڈرائیور کو باہر آنے کا اشارہ کیا ان کے ہاتھوں میں گنز تھیں روحی کے تو پسنے چھوٹ گئے تھے
میڈم آپ باہر مت آئیے گا ڈرائیور نے کہا اور گاڑی سے باہر نکل گیا
باہر آؤ اسی آمی نے روحی کو بھی کہا
روحی ڈری سہمی گاڑی کے کونے سے جا لگی
اس آدمی نے دروازہ کھولا اور روحی کو بازو سے پکڑ کر باہر نکالا
روحی کے پہلے ہی آنسو باہر آنے کو بےتاب تھے اب تو ہچکیوں سے رونے لگی تھی ۔
ہاتھ چھوڑو لڑکی کا
ملک کی بھاری آواز نے سیٹھ کے آدمیوں کو بھی پریشان کر دیا تھا
. معارج ملک سیٹھ کے پاس ہی جا رہا تھا جب راستے میں اس کے کچھ آدمی نظر آئے جو کسی لڑکی کو زبردستی اپنے ساتھ لے کر جا رہے تھے ۔
ملک صاحب یہ سیٹھ اور شاہ کا معاملہ ہے آپ ان سب میں نا پڑے سیٹھ کے آدمی نے کہا
میں آخری بار کہہ رہا ہوں لڑکی کا ہاتھ چھوڑ دو ورنہ نتائج بہت برے ہونگے
ملک نے غراتے ہوئے کہا ۔
سیٹھ نے کہا ہے اس لڑکی
کو لے کر آنا ہے اور ہم اس لڑکی کے بغیر نہیں جائے گئے ۔
سیٹھ کے آدمی نے اپنے ڈر پر قابو پاتے ہوئے کہا ۔
]ٹھیک ہے جیسی تم. لوگوں کی مرضی
سیٹھ کو ختم. کرنے سے پہلے تم لوگوں کو ختم کرنا بھی ضروری ہے ملک نے اپنے قدم روحی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
ملک ہمارے معاملے سے دور رہو سیٹھ کے آدمی نے گھبراتے ہوئے کہا اور روحی کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔
روحی کچھ فاصلے پر کھڑی ہو گی تھی
گاڑی میں بیٹھو
معارج نے روحی کو دیکھتے ہوئے کہا
جو تھوڑا جھجھکتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئ
اگر تم لوگوں کو اپنی جان پیاری ہے تو یہاں سے چلے جاؤ اور اپنے سیٹھ کو بتا دو کہ ملک آرہا ہے
معارج نے سنجیدگی سے کہا
سیٹھ کے آدمی معارج کی بات سنتے ہی وہاں سے غائب ہو گئے تھے
معارج نے ڈرائیور کو کہا کہ وہ شاہ کو کال کر کے یہاں بلائے
ڈرائیور نے شاہ کو کال کی اور اس کے آنے کا انتظار کرنے لگا
معارج نے سگریٹ نکالا اور لائٹر سے اسے سلگایا ۔
روحی کو ملک کو دیکھ کر بھی خوف آرہا تھا
معارج نے دوبارہ روحی کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی اور گاڑی سے ٹیک لگائے شاہ کے آنے کا انتظار کرنے لگا