No Download Link
Rate this Novel
Episode 43
نایاب کھوٹے میں داخل ہوتے ہی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی سلمیٰ بائی نایاب کو دیکھ کر حیران تھی ۔
ان کو تو لگتا تھا کہ اب مہرو اور نایاب کبھی بھی کوٹھے کا رخ نہیں کریں گئیں ۔
سلمیٰ بائی کیسی ہیں آپ؟
تھوڑی دیر بعد نایاب اپنے پرانے حلیے میں سلمیٰ کے سامنے موجود تھی ۔
میں تو ٹھیک ہوں لیکن تجھے کیا ہوا؟ تو یہاں کیا کر رہی ہے؟ سلمیٰ بے حیرانگی سے پوچھا
میرا اپنا کوئی گھر نہیں تھا اس لیے یہاں آگئی۔
نایاب نے سرد لہجے میں کہا
تیرا شوہر جانتا ہے کہ. تو یہاں ہے؟
سلمیٰ نے نایاب کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔
اس کی بہن اسے بتا دے گی اور میں تیار ہونے جا رہی ہوں آج کا رقص میں کروں گی
نایاب نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔
نایاب مجھے لگتا ہے تجھے اپنے گھر چلے جانا چاہیے
سلمیٰ نے کہا
اپنے گھر؟ نایاب کا انداز تمسخرانہ تھا
سلمیٰ بائی آپ بھی اچھی طرح جانتی ہے طوائف کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا
نایاب نے تیکھے لہجے میں کہا اور اپنے کمرے میں تیار ہونے چلی گئی ۔
سلمیٰ بائی نے نفی میں سر ہلایا
جیسے کہہ رہی ہو اس کا کچھ نہیں ہو سکتا
نایاب اپنے کمرے میں تیار ہو رہی تھی اس نے ڈیپ ریڈ کلر کا گھیرے دار لمبا فراک زیب تن کیا بالوں کو جوڑے کی شکل میں قید کیے ہونٹوں پر سرخ لپ سٹک لگائے
بےتحاشا خوبصورت لگ رہی تھی اسے لگ رہا تھا صائم نے اسے دھوکہ دیا ہے
غلطی صائم کی بھی تھی اسے بھی نایاب کو پہلے ہی ساری سچائی سے آگاہ کر دینا چاہیے تھا ۔
اور کنزہ نے بےشک جھوٹ بولا لیکن یہ بات نایاب کو تو معلوم نہیں تھی۔
نایاب آئینے کے سامنے تیار کھڑی خود کے عکس کو دیکھ رہی تھی ۔
اتنے میں کوئی آندھی طوفان بنا روم میں داخل ہوا نایاب آنے والے کی آہٹ سے ہی پہچان گئی تھی ۔
صائم کا تو نایاب کو اس حلیے میں دیکھ کر خون کھول اٹھا تھا جب وہ گھر آیا تو آتے ہی فضا نے ساری بات اس بتا دی تھی ۔
صائم کو غصہ تو بہت آیا لیکن خاموشی کے ساتھ گھر سے نکل گیا ۔
اور اب نایاب کی پشت کو خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا ۔
صائم آگے بڑھا اور نایاب کی نازک کلائی کو زور سے پکڑتے اس کا چہرہ خود کی طرف کیا ۔
ایک پل کے لیے تو صائم کی نظریں بھی ساکت ہو گئی تھیں ۔
لیکن جلد ہی اس نے اپنے جذبات پر قابو پا لیا ۔لگتا ہے تم اپنے اس بےہودہ لباس کو کافی مس کر رہی تھی اس لیے یہاں چلی آئی ۔
لیکن میں نے تمہیں منع تو نہیں کیا تھا تم روم میں میرے سامنے اس بےہودہ لباس میں آسکتی تھی۔
صائم نے طنزیہ لہجے میں کہتے نایاب کو ٹھوڑی سے پکڑتے اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے کہا ۔
اس کی پکڑ نرم تو ہرگز نہیں تھی ۔
آپ مجھ سے کسی بھی قسم کا سوال پوچھنے کا حق کھو چکے ہیں بہتر یہی ہوگا مجھے سے دور رہ کر بات کریں۔
نایاب نے صائم کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔
حق کی بات نا کرو نایاب ابھی تو میں نے تم پر کسی قسم کا حق جتایا نہیں ہے اگر جتانے پر آیا تو تم بھی مجھے روک نہیں سکو گی
تم اتنی جذباتی کیوں ہو؟ ایک بار تو مجھ سے تم وجہ دریافت کرتی؟
لیکن تم نے ایک بار بھی میرے بارے میں نہیں سوچا اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں آگئی کیوں؟
صائم نے نایاب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد مہری سے پوچھا
میرا شوہر اپنی بیوی کو وقت نہیں دیتا باہر اس نے دوسری شادی کی ہوئی ہے اور یہ سب جاننے کے بعد بھی میں رک کر آپ سے شادی کرنے کی وجہ معلوم کرتی پھرتی؟
وجہ کچھ بھی ہو
آپ مجھے طلاق دے دیں اور جائیے اپنی دوسری بیوی کے پاس نایاب نے بات ختم کرتے ہوئے اپنی نظروں کا زاویہ بھی تبدیل کر لیا یا پھر بوہ اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو سامنے کھڑے شخص کو دکھانا نہیں چاہتی تھی ۔
آج کے بعد اگر تم نے اپنے ان خوبصورت لبوں سے یہ گھٹیا لفظ ادا کیے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔
جتنی جلدی ہو سکے میری اس بات کو اپنے چھوٹے سے دماغ میں بیٹھا لو
اور جہاں تک بات ہے میری دوسری شادی کی تو ایسا کچھ نہیں ہے کنزہ جھوٹ بول رہی تھی میری صرف ایک ہی بیوی ہے اور وہ میرے سامنے کھڑی ہے
صائم نے نایاب کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
میں کیسے مان لوں کہ آپ سچ بول رہے ہیں؟ جبکہ وہ لڑکی آپ کے سامنے آپ کو اپنا شوہر کہہ رہی تھی اگر وہ جھوٹ بول رہی تھی تو آپ نے اس کی بات کی نفی کیوں نہیں کی؟
نایاب نے صائم کو دیکھتے ہوئے مشکوک انداز میں پوچھا ۔
بیگم صاحبہ آپ نے مجھے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور وہاں سے بھاگ گئی تو کیسے میں صفائی دیتا؟
صائم نے سنجیدگی سے کہا
اور جو آپ کچھ دنوں سے مجھے ٹائم بھی نہیں دے رہے تھے وہ کیا تھا؟
نایاب نے ایک اور شکوہ کرتے ہوئے کہا
اوہ تو میری بیوی کو ٹائم چاہیے تھا پہلے کیوں نہیں بولا تم نے
صائم نے شرارتی انداز میں کہا
آپ غلط سمجھ رہے ہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا۔
نایاب نے جلدی سے صفائی دیتے ہوئے کہا ۔
چلو اس بارے میں گھر جاکر بات کرتے ہیں جاؤ چینج کرکے آؤ اور اگر دوبارہ تم نے اس جگہ قدم رکھا تو بہت برا پیش آؤں گا
صائم ایک پل میں سنجیدہ ہوا تھا ۔
ٹھیک ہے نہیں رکھتی اس جگہ قدم لیکن اگر وہ لڑکی جھوٹ بول رہی تھی تو آپ اس کے ساتھ کیا کر ہے تھے اور اس نے آپ کو کال کرکے ڈنر پر کیوں بلایا؟
نایاب نے یاد آنے پر صائم کو دیکھتے ہوئے پوچھا
میں تمہیں گھر جا کر ساری حقیقت سے آگاہ کر دوں گا مسز ابھی جا کر چینج کر لو ورنہ آپ کا معصوم شوہر بھٹک بھی سکتا ہے ۔
صائم نے نایاب کے سرخ ہونٹوں پر اپنی نظریں گاڑھتے ہوئے کہا
جس نے نا سمجھی سے صائم کو دیکھا
کیا مطلب؟ آپ……
اس سے پہلے نایاب اپنی بات پوری کرتی صائم نے اس کی بولتی اپنے طریقے سے بند کروائی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد صائم نایاب سے پیچھے ہٹا جو نظریں جھکائے سرخ چہرہ لیے کھڑی تھی ۔
مطلب سمجھ میں آگیا یا اور سمجھاؤں؟
صائم نے نایاب کی ٹھوڑی کو اپنی ہاتھ کی دو انگلیوں سے اوپر کرتے ہوئے شرارتی انداز میں پوچھا ۔
نہیں میں سمجھ گئی چینج کرکے کے آتی ہوں
نایاب نے ہڑبڑا کر کہا اور وہاں سے بھاگ گئی
صائم نے شکر کا سانس لیا تھا اور نایاب کے آنے کا انتظار کرنے لگا ۔
وہ جانتا تھا غلطی اس کی اپنی ہے اور پہلے وہ نایاب کو پیار سے سمجھانا چاہتا تھا ۔نایاب سمجھ بھی گئی تھی
💞💞💞💞💞
آکف یہ سب کچھ کیا ہے؟ اس طرح تو ایزل تم سے مزید نفرت کرنے لگے گی ۔مان نے سامنے بیٹھے آکف کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
جانتا ہوں لیکن میں اس سے دور بھی نہیں رہ سکتا
اور وہ کم عقل لڑکی مجھ سے بدلہ لینے کے لیے نکاح کرنے والی تھی ۔
اپنی زندگی خراب کرنے جارہی تھی ۔
میں مانتا ہوں اسے میں یہاں زبردستی لایا لیکن ایزل کو میں اس کی زندگی خراب بھی نہیں کرنے دے سکتا
ابھی تو اس نے غصے میں آکر فاخر سے نکاح کی بات کی اگر وہ بھی منع کر دیتا تو وہ باہر کسی سے مدد لیتی۔
اور تم اچھے سے جانتے ہو ہمارے معاشرے میں کس طرح کے لوگ موجود ہیں ۔ میں نے سوچ لیا ہے میں ایک بار پھر ایزل سے بات کروں گا اگر وہ اب بھی مجھ سے نکاح نہیں کرنا چاہتی تو میں اس کے ساتھ زبردستی نہیں کروں گا اس کی خوشی مجھے زیادہ عزیز ہے لیکن اسے میں اپنی نظروں کے سامنے رکھوں گا بےشک وہ میرے نکاح میں نا رہے کم از کم میری نظروں کے سامنے تو رہے گی
آکف نے اپنا ماتھا مسلتے ہوئے کہا
فاخر خاموشی سے دونوں کی باتیں سن رہا تھا
ویسے ایک بات تو پکی ہے
فاخر نے اکف کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا.
کیا؟ آکف نے ناسمجھی سے پوچھا مان کی توجہ بھی فاخر کی طرف مرکوز تھی ۔
باقی سب کا تو پتہ نہیں لیکن ایزل کی محبت نے تمہیں عقل مند ضرور بنا دیا ہے
فاخر نے ہنستے ہوئے کہا
اکف نے کھا جانے والی نظروں سے فاخر کو دیکھا مان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی تھی۔
ایزل جسے تھوڑی دیر پہلے ہی ہوش آیا تھا
اور باہر آئی تھی لیکن آکف کی بات سن کر وہی دروازے پر رک گئی تھی ۔
اس نے ٹھنڈے دماغ سے سوچا تھا اسے آکف سے زیادہ غلطی اپنے بھائی اور بھابھی کی لگی تھی۔
اور اب اسے آکف کی باتیں سن کر احساس ہوا تھا کہ وہ ایزل کو کس حد تک چاہتا ہے اور روم میں جو کچھ بھی آکف نے کہا وہ غصے میں کہا لیکن اس کے قریب نہیں آیا اگر وہ چاہتا تو ایزل کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا تھا۔
ایزل دوبارہ اسی کمرے کی طرف جارہی تھی کہ کچھ سوچتے ہی اس نے اپنے قدم دوبارہ اسی کمرے کی طرف بڑھا دیے جہاں وہ تینوں موجود تھے ۔
میں آکف سے شادی کے لیے تیار ہوں
ایزل نے کمرے میں داخل ہوتے ہی وہاں بیٹھے تینوں نفوس کو حیرت میں مبتلا کرتے ہوئے آرام سے کہا ۔
آکف تو سمجھ نہیں آرہا تھا کیسا ریکشن دے
حیران تو مان اور فاخر بھی تھے ۔
ٹھیک ہے میں ابھی مولوی کا انتظار کرتا ہوں فاخر نے ہوش میں آتے ہوئے کہا
پہلے آپ میری شرط سن لیں
ایزل نے سنجیدگی سے کہا
تمھاری ساری شرطیں مجھے منظور ہے
آکف نے چہکتے ہوئے جلدی سے کہا کہی ایزل منع ہی نا کر دے ۔
مجنوں پہلے لیلا کی شرط سن لے یہ نا ہو لینے کے دینے پڑ جائے
مان نے آکف کی خوشی پر بالٹی بھر پانی ڈالتے ہوئے کہا ۔
آکف نے گھور کر مان کو دیکھا
میری شادی پورے رسم رواج سے ہو گی آپ کے گھر والے بھی اس رشتے سے مطمئن ہونے چاہیے پھر مجھے کوئی اعتراض نہیں
ایزل کہہ کر خاموش ہو گئی ۔
ہمارے گھر میں کسی کو بھی اس رشتے سے کسی قسم کا اعتراض نہیں ہو گا
جیسا تم چاہتی ہو ویسا ہی ہو گا
مان نے ایزل کے سر ہر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے کہا ۔
اور آکف تم ایزل کو لے کر گھر آجانا مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے ۔مان نے آکف کو. دیکھتے ہوئے کہا جس کے چہرے پر ایک پل کے لیے بھی مسکراہٹ جانے کا نام نہیں لے رہی تھی آکف کو لگ رہا تھا اس نے ایزل کو کھو دیا ہے لیکن اللہ نے اس کی سن لی۔
اور دوسری بات مجھے اپنا بھائی ہی سمجھنا
میں ہمیشہ تمھارے ہر فیصلے میں تمھارے ساتھ ہی کھڑا رہوں گا اور اب میں چلتا ہوں
مان نے کہا اور فاخر کو بھی پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔
دونوں کے جانے کے بعد ایزل نے ایک نظر آکف کو دیکھا میں نے آپ کو ابھی بھی معاف نہیں کیا اس لیے مجھ سے زیادہ فری ہونے کی کوشش مت کرنا ۔
ایزل نے آکف کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اسے تنبیہ کرتے ہوئے کہا اور کمرے میں اپنی چادر لینے چلی گئی ۔
آکف بےچارہ ہکا بکا وہی کھڑا ایزل کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔
کیا زمانہ آگیا ہے جس سے شادی کرنے جارہی ہیں میڈم اسی سے بات نہیں کر رہی
آکف نے منہ میں بڑبڑاتے ہوۓ کہا اور وہی بیٹھ کر ایزل کا انتظار کرنے لگا
💞💞💞💞💞💞💞
شاہ صاحب اتنی نوازش کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟ مان نے سامنے بیٹھے ریان شاہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ریان بنا کسی مطلب کے کسی کی بھی مدد نہیں کرتا لیکن تم نے میری کافی ہیلپ کی ہے اس لیے تھوڑی سی نوازش تو میں کر ہی سکتا ہوں
ریان نے چائے کا کپ لبوں سے لگاتے ہوئے کہا اس کا اشارہ سیٹھ سے روحی کو بچانے والی بات کی طرف تھا ۔
مان کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی ۔
سیٹھ واپس آگیا ہے اور ابھی بھی اس کی نظر تمھاری بیوی پر ہے جسے پانے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ۔اور جانتے ہو اس بار اس کا ساتھ کون دے رہا ہے؟
شاہ نے تھوڑا مان کی طرف جھکتے ہوئے کہا
تمھارا بھائی علیدان ملک
اس بار وہ دونوں کچھ ایسا کرے گئے کہ سب کچھ تباہ ہو جائے گا
اس لیے سنبھل کر رہنا
شاہ نے مان کو وارن کرتے ہوئے کہا ۔
واہ شاہ جی آپ کو میری اتنی فکر کیوں ہورہی ہے؟
مان نے مسکراتی نظروں سے شاہ لو دیکھتے ہوئے پوچھا جو شاید اس کا جواب پہلے سے جانتا تھا ۔
تمھاری فکر کیوں ہونے لگی معارج ملک
میں بس یہ نہیں چاہتا کہ مہرو بیوہ ہو جائے اسے دکھی نہیں دیکھ سکتا
شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ٹھیک کہہ رہے ہو اب بہنوں کی فکر بھائی کو نہیں ہو گی تو اور کس کو ہو گی ۔
مان نے کافی کا کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا
مان کی بات سن کر ریان شاہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔
معارج ملک میں کچھ باتیں کلئیر کرنا چاہتا ہوں ۔
میں کوٹھے پر ضرور جاتا تھا لیکن اللہ گواہ ہے میں نے کبھی بھی مہرو کو غلط نظر سے نہیں دیکھا مجھے مہرو کو کوٹھے پر دیکھ کر دکھ ہوتا تھا اور جب مجھے اس کے ماضی کا پتہ چلا تو میرا دل کیا علیدان ملک کی جان لے لوں لیکن مہرو نے مجھے روک دیا ۔وہ کہتی تھی میں نے اپنا معاملہ اللہ پر. چھوڑ دیا ہے ۔
اور جب تم. اس کی زندگی میں آئے تو علیدان کی وجہ سے مجھے تم سے بھی نفرت محسوس ہونے لگی تھی لیکن آہستہ آہستہ معلوم ہوا تم اپنے بھائی جیسے ہرگز نہیں ہو اور یہ جان کر مجھے دلی خوشی ہوئی تھی۔
مہرو کے ساتھ تمھارا نکاح ہوا تو میں بہت خوش تھا میں کوئی ایسا ہی شخص ہی مہرو کے لیے چاہتا تھا جو اسے سمجھے اس کا ساتھ دے ۔
اور اب آتے ہیں مہرو کو بہن بنانے کی بات کی طرف تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں
شاہ نے ساری بات مان کو بتاتے ہوئے آخری بات شرارتی لہجے میں کہی
جس پر مان بھی مسکرا پڑا تھا ۔
مان بہت پہلے ہی جان گیا تھا کہ شاہ اور مہرو صرف ایک دوسرے کے اچھے دوست ہیں لیکن آج شاہ کے منہ سے ساری بات سن کر مان کو سکون مل گیا تھا ۔
تو شاہ صاحب آپ اپنی بہن سے ملنا نہیں چاہے گئے؟
مان نے بھی شرارتی لہجے میں کہا
انشاءاللہ میں بہت جلد اپنی بیوی کے ساتھ تمھارے گھر آؤں گا ۔
شاہ نے مان کے گلے لگتے ہوئے کہا جو جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تھا
ضرور میں انتظار کروں گا ۔اور جہاں تک بات ہے علیدان اور سیٹھ کی تو زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے
مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا اور اللہ اپنے بندوں کی بہتر حفاظت کرنے والا ہے
مان نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا
بندہ اتنا بھی برا نہیں ہے جتنا میں سمجھتا تھا۔
شاہ نے اپنے کندھے کی چادر درست کرتے مسکرا کر کہا اور خود بھی گھر کے اندر چلا گیا کیونکہ دونوں باہر لان میں بیٹھی تھے اسے گھر بھی جانا تھا روحی گھر میں اکیلی تھی ۔
💞💞💞💞💞💞
ماما میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں اور اسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں آپ پلیز ان کے گھر میرا رشتہ لے کر جائے ۔
عامر نے اپنی ماں کو کہا جو پہلے عامر کی بات سن کر حیران ہوئی پھر ان کی حیرانگی خوشی میں بدل گئی۔
کون ہے وہ لڑکی؟ تمھارے پاس اس کی کوئی تصویر ہے؟
عامر کے ماں نے بےتابی سے پوچھا
نہیں ماما میرے پاس اس کی کوئی تصویر تو نہیں ہے لیکن آپ کو اتنا بتا سکتا ہوں وہ علیدان کی کزن ہے
عامر نے اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے کہا
یہ تو اور بھی اچھی بات ہے علیدان سے تو میں کافی بار مل چکی ہوں اچھا لڑکا ہے
عامر کی ماں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اچھا… اگر آپ کو اس کی کرتوتوں کا پتہ چل جائے تو کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کریں گئی
یہ بات عامر نے دل میں کہی تھی۔
عامر کی ماں بہت خوش ہوئی تھی کیونکہ وہ کافی وقت سے عامر کے پیچھے پڑی تھیں کہ شادی کر لو لیکن عامر ہمیشہ انکار کر دیتا اور اب عامر کا خود اپنے منہ سے شادی کا کہنا خوشی کے ساتھ حیرانگی کا باعث بھی تھا ۔
میں آج ہی تمھارے ڈیڈ سے بات کرتی ہوں اور کل ہی اُن کے گھر چلتے ہیں عامر کی ماں نے مسکرا کر کہا
اور عامر سوچ میں پڑ گیا تھا کہ کومل کا کا ردعمل ہو گا؟
💞💞💞💞💞💞
مان مجھے نایاب سے ملنا ہے ۔مان ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی روم میں آیا تھا اور آتے ہی مروہ سے کھیلنے لگا تھا ۔
مل لو جانِ من میں نے کب منع کیا ۔مان نے مصروف سے انداز میں کہا ۔
تو کیا میں ابھی جاؤ؟ مہرو نے اجازت ملنے پر جلدی سے پوچھا
اب میرا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ تم ابھی اس سے ملنے چلی جاؤ
مان نے مہرو کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔جس کا چہرہ اتر سا گیا تھا ۔
مان نے مروہ کو گود میں اٹھایا اور مہرو کے سامنے کھڑا ہو گیا
یار ابھی تو میں گھر آیا ہوں تھوڑا سا وقت تو میرے ساتھ گزار لوں ابھی اگر مجھے کسی کی کال آگئی تو پھر سے جانا پڑ جائے گا. مان نے پیار سے مہرو اداس چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
تو یہ آپ کی غلطی ہے آپ ہی پورا دن غائب رہتے ہو میں اکیلی کمرے میں بور ہوجاتی ہوں
مہرو نے منہ بسوڑتے ہوئے کہا اور ایسا کرتے ہوئے مان کو مہرو ایک چھوٹی سی بچی لگی تھی۔
بیوی تو صاف صاف کہوں نا کہ تم میرے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہو مان نے شرارت بھرے لہجے میں کہا ۔
پھر شروع ہو گئے ابھی اپنا چھچھوڑا پن آپ زار سائیڈ پر رکھے
مہرو نے گھورتے ہوئے کہا ۔
ڈارلنگ اگر مروہ میری گود میں نا ہوتی تو اچھی طرح تمہیں بتاتا کہ چھچھوڑا پن اصل میں ہوتا کیا ہے مان نے مہرو کی ناک کو کھنچتے ہوئے کہا
میرے پاس تمھاری بوریت دور کرنے کا ایک علاج بھی مان نے کچھ سوچتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
وہ کیا؟ مہرو نے حیرانگی سے پوچھا
کیوں نا مروہ کو ایک بھائی لا دیا جائے اگر بہن بھی آجائے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں تم کیا کہتی ہو؟ مان نے اس قدر سنجیدگی سے پوچھا کہ کچھ پل تو مہرو بھی سوچ میں پڑ گئی کہ مان نے کہا کیا ہے؟
لیکن جب اسے مان کی بات سمجھ میں آئی تو شرم کے مارے اسکے گال لال ہو گئے تھے
آپ سچ میں چھچھوڑے ہیں
مہرو نے کہا اور وہاں سے بھاگ کر ڈریسنگ روم میں چھپ گئی یار ابھی تو میں نے کچھ کیا نہیں تم پہلے ہی شرمانے لگی ہو مان نے پیچھے سے ہانکتے ہوئے کہا،
آپ کی ماما کتنی شرمیلی ہے آپ انہیں سمجھاتی کیوں نہیں میری پیاری سی میری گول گپی
مان نے مروہ کو دیکھتے ہوئے پیار سے کہا جو اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے مان کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔
💞💞💞💞💞💞💞
