No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
عرشمان میرا ہاتھ چھوڑو!
آرزو نے تکلیف سے چلاتے ہوئے کہا اسے عرشمان کے ہاتھ کی انگلیاں اپنے بازوں میں دھنستی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں
عرشمان نے گھر میں داخل ہوتے آرزو کا ہاتھ ایک جھٹکے سے چھوڑا..
آرزو اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور سامنے پڑے صوفے پر دھڑام سے گری
تھوڑی دیر تک مولوی صاحب آتے ہوں گے وہ سامنے روم ہے جاؤ اپنا حلیہ درست کرکے آؤ
عرشمان نے آرزو کے کپڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو وائیٹ گھٹنوں تک آتی شرٹ اور بلیو جینز میں موجود تھی ۔
میں تم سے نکاح نہیں کر سکتی آرزو نے صدمے کی حالت میں کہا ۔
عرشمان کی بات اسے بجلی کے جھٹکے کی طرح لگی ۔
کیوں نہیں کر سکتی تم مجھ سے نکاح؟
عرشمان نے جھکتے ہوئے آرزو کے دائیں اور بائیں جانب ہاتھ رکھتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے. پوچھا..
جو کھسک کر تھوڑا پیچھے ہو گئی ۔
میری منگنی ہے ایک ہفتے بعد میں گھر والوں کو کیا جواب دوں گی ۔
آرزو نے کپکپاتے لہجے میں کہا..
اس کا مطلب تمہیں صرف گھر والوں کا مسئلہ ہے کہ تم انہیں کیا جواب دوں گی اس نکاح سے تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے؟ ٹھیک کہہ رہا ہوں نا جان۔
عرشمان نے معنی خیزی میں کہا
آرزو نے نفی میں سر ہلایا مجھے نکاح نہیں کرنا پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو ۔
آرزو نے روتے ہوئے کہا ۔
نکاح تو ہو کر ہی رہے گا سویٹ ہارٹ
اور گھر والوں کو ہینڈل کرنا تمھارا مسئلہ ہے تم کس طرح ان کو راضی کرتی ہوں اور شادی سے منع کرتی ہو؟ مجھے معلوم نہیں ہے ۔
چلو جلدی سے چینج کرکے آؤ ویسے تو میرا ارادہ کچھ دنوں بعد تم سے نکاح کرنے کا تھا لیکن تمھاری ماما نے مجھے آج ہی موقع فراہم کر دیا ۔
عرشمان نے سنجیدگی سے کہا
اور بازو سے پکڑ کر اسے کمرے کی جانب دھکیلا ۔
عرشمان تم بھائی کو اچھے سے جانتے ہو جب ان کو معلوم ہو گا وہ بہت برا پیش آئے گے تمھارے ساتھ آرزو نے خود میں ہمت پیدا کرتے ہوئے سامنے کھڑے عرشمان کو کہا ۔
پیچھے دروازہ کھلا ہوا تھا….
آرزو چھوٹے چھوٹے قدم لیتی عرشمان کے قریب آرہی تھی جو شاید اس کا ارادہ بھانپ گیا…
اگر تمھارا ارادہ مجھے باتوں میں لگا کر یہاں سے بھاگنے کا ہے تو جان تم بہت غلط سوچ رہی ہو میرے ہوتے ہوئے تمھارا اس گھر سے ایک قدم بھی باہر نکالنا مشکل نہیں نا ممکن ہے ۔
عرشمان نے آرزو کی بات کو نظر انداز کرتے سینے پر ہاتھ باندھتے عام سے لہجے میں کہا ۔
آرزو کو حیرت کا جھٹکا لگا جو یہ سوچ رہی تھی اسے کیسے معلوم ہوا ۔
زیادہ مت سوچو تمھارے خوبصورت چہرے کے تاثرات سب کچھ بیان کر رہے ہوتے ہیں
عرشمان نے کہا اور ایک قدم کا فاصلہ بھی ختم کر دیا جو دونوں کے درمیان حائل تھا
اگر تم چاہتی ہو میں اپنے ہاتھوں سے تمہیں دلہن بناؤ تو مجھے مسئلہ نہیں ہے…
عرشمان نے آرزو کے کان کے پاس جھکتے ہوئے سرگوشی نما کہا اور اس کے کان کی لو کو ہلکا سا اپنے ہونٹوں سے چھو کر پیچھے ہٹ گیا ۔عرشمان کے چھونے پر آرزو کو کرنٹ سا لگا
آرزو میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ نظریں اٹھا کر دیکھ لے اسکا دل کر رہا تھا دھاڑے مار مار کر روئے ۔
جاؤ…
اس بار عرشمان نے سخت لہجے میں کہا ۔
آرزو بنا اس سے نظریں ملائے کمرے میں گھس گئ اور اندر جاتے ہی دروازے کو لوکڈ کرکے وہی بیٹھی رونے لگی ۔
💖 💖 💖 💖 💖
سویرا کو لڑکے کی ماں اور بہن دیکھ کر چلی گئی تھی اُن کو سویرا بہت پسند آئی تھی
لڑکے کی ماں نے ہاں بھی کر دی ۔
اور اگلے ہفتے نکاح کا کہا تھا اور رخصتی ایک سال بعد
رقیہ بیگم نے عقیل صاحب سے بات کی تو انکو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا سب سے اچھی بات لڑکے والوں نے جہیز لینے سے منع کر دیا تھا
عقیل صاحب نے بھی لڑکے کی اچھی طرح چھان بین کروا لی اور اس کے بعد انہوں نے ہاں کر دی ۔
سویرا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس لڑکے کی جان لے لیں رقیہ بیگم نے اسے لڑکے کی تصور دکھائی لیکن اس نے دیکھنے سے منع کر دیا ۔
رقیہ بیگم چاہتی تھیں انکی بیٹی کا ہر ایک خواب پورا ہو اور لڑکے والے اچھے خاصے تھے اور رقیہ بیگم خوش تھی کہ ان کی بیٹی بھی خوش رہے گی بےشک ابھی وہ ان سے ناراض ہے لیکن جب شادی ہو گی تو خود ہی سمجھ جائے گی کہ جو کچھ ماں باپ کرتے ہیں اس میں اولاد کا ہی بھلا ہوتا ہے..
لیکن رقیہ بیگم کی لاڈلی کچھ ایسا کرنے جا رہی تھی جس کی توقع کسی کو بھی نہیں تھی ۔
💖💖 💖 💖 💖
سویرا اپنے کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی
کیا کروں میں؟ امی تو میری بات نہیں سن رہی اور ابو سے بھی بات کر لی وہ بھی نہیں مانے کیا کروں میں؟
سویرا نے چکر کاٹتے ہوئے سوچا
سویرا بیٹا چلوں مارکیٹ چلتے ہیں تم نے جو جو چیزیں لینی ہے وہ لے لینا.
رقیہ بیگم نے سویرا کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا.
امی اب پیسے کہاں سے آئے؟
سویرا نے حیرانگی سے پوچھا
بیٹا میں نے جو کمیٹی ڈالی تھی وہ نکلی ہے
ان پیسوں سے میں تمھارے نکاح کے لیے کچھ چیزیں لے لوں گی.
رقیہ بیگم خوشی سے سویرا کو بتا رہی تھی
نا چاہتے ہوئے بھی سویرا کو اپنی ماں کے ساتھ مارکیٹ جانا پڑا.
دماغ میں بس ایک ہی بات چل رہی تھی کہ کس طرح اس نکاح کو روکنا ہے۔
سویرا بے دھیانی میں چیزیں خرید رہی تھی ۔
جب اس کی نظر سامنے کھڑے بازل پر پڑی
امی میں سامنے والی دکان میں جارہی ہوں وہاں جیولری اچھی ہوتی ہے سویرا نے اپنی ماں کو کہا۔
رقیہ بیگم نے اثبات میں سر ہلا اور کپڑے دیکھنے لگی سویرا وہاں سے نکل گئی اور بازل کے سامنے جاتے ہی اس نے حیرت سے پوچھا
آپ؟
سویرا نے بازل کو دیکھتے ہوئے کہا
جو کب سے کھڑا سویرا کو گھور رہا تھا آنکھیں غصے سے سرخ تھیں
مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔
بازل نے سنجیدگی سے کہا
سویرا نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا
اور اچانک اسے اپنے نکاح کا خیال آیا
مجھے بھی آپ سے بات کرنی ہے سویرا نے جلدی سے کہا
لیکن ابھی میری امی میرا انتظار کر رہی ہے مجھے جانا ہے سویرا نے جلدی سے کہا
ٹھیک ہے تم یہ موبائل رکھ لو رات کو میں کال کروں گا۔
بازل نے ایک نیا موبائل سویرا کی طرف بڑھاتے ہوئے ہوئے کہا۔
یہ میں نہیں لے سکتی سویرا نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ۔
تم مجھے بعد میں واپس کر دینا ٹھیک ہے
اب میں چلتا ہوں بازل نے سویرا کے ہاتھ میں. موبائل رکھا اور وہاں سے چلا گیا
سویرا نے موبائل کو اپنے بیگ میں رکھا اور اپنی ماں کے پاس چلی گئی ۔
بازل کا سویرا کا پیچھا کرنا جہاں اس کا ہونا وہاں بازل کا پہنچ جانا سب کچھ عجیب تھا لیکن سویرا اس بات کو نوٹ نہیں کررہی تھی اور اب سویرا کو موبائل دینا خطرے کی نشانی تھی۔
لیکن شاید سویرا اس وقت خود کے فائدے کے بارے میں . سوچ رہی تھی خود غرض بن رہی تھی باقی سب فراموش کر بیٹھی تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ بازل اس کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔
💖 💖 💖 💖 💖
رات سویرا اپنے کمرے میں بیٹھی بازل کے دیے ہوئے مہنگے موبائل کو ستائشی نظروں سے دیکھ رہی تھی کہ اچانک موبائل رنگ ہوا ۔
سویرا کو سمجھ نہیں آئی کہ کیا کرے تو اس نے کال کاٹ دی اتنا مہنگا فون اس نے صرف ٹی وی ڈراموں میں دیکھا تھا ۔
دوبارہ موبائل رنگ ہوا تو سویرا نے دھڑکتے دل کے ساتھ موبائل کان سے لگایا ۔
ہیلو….
سویرا نے آہستگی سے کہا
میں بازل بات کر رہا ہوں ۔
کیسی ہو تم؟
بازل نے دلکشی سے مسکراتے ہوئے پوچھا
اس کی آواز سے لگ رہا تھا کہ وہ مسکرا رہا ہے ۔آپ نے کیا بات کرنی تھی ۔
سویرا نے بازل کی بات کو نظرانداز کرتے پوچھا
پہلے تم بتاؤ تمہیں مجھ سے کیا بات کرنی تھی؟ بازل نے پوچھا
مجھے آپ کی ہیلپ چاہیے ۔
سویرا نے کہا
کس طرح کی ہیلپ؟ بازل نے ناسمجھی سے پوچھا۔
میرے امی ابو میری مرضی کے بغیر میرا نکاح کر رہے ہیں اور میں یہ نکاح نہیں کرنا چاہتی ۔
سویرا نے بازل کو کہا۔
تو میں تمھاری مدد کیسے کر سکتا ہوں؟
بازل نے سنجیدگی سے پوچھا ۔
دو دنوں بعد میرا نکاح ہے اس کے بعد جیسے جیسے سویرا بتاتی جا رہی تھی بازل کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آتی گئی۔
ٹھیک ہے میں تمھاری مدد کرنے کے لیے تیار ہوں بازل نے کہا اور فون بند کر دیا ۔
کیا ہوا؟ کیا کہہ رہی تھی؟ عمیر نے اپنی وائن کے گلاس میں برف کے ٹکڑے ڈالتے ہوئے پوچھا
وہ لڑکی خود ذبح ہونے کے لیے تیار ہے ہم کیا کر سکتے ہیں بازل نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔
کیا مطلب؟ عمیر نے حیرانگی سے پوچھا
یار وہ لڑکی سچ میں بہت بیوقوف ہیں اُس انسان پر بھروسہ کر رہی ہے جیسے اچھے سے جانتی بھی نہیں ہے ۔
میرا کام تو اور بھی آسان ہو گیا ہے ۔
تو میرا فلیٹ صاف کروا دے باقی کا تجھے میں بعد میں بتا دوں گا۔
اور ہاں عامر کو غلطی سے بھی ہمارے کسی پلین کا معلوم نہیں ہونا چاہیے؟
بازل نے عمیر کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ۔
تم فکر مت کرو اسے کچھ نہیں معلوم ہوگا ۔
عمیر نے ہنستے ہوئے کہا ۔
بازل آنکھیں موندے صوفے سے ٹیک لگائے لیٹ گیا ۔
💖 💖 💖 💖 💖
آپی آپ کہاں گئی تھیں؟
مہرو نے نایاب سے پوچھا جو اپنی کالی چادر اتار رہی تھی ۔
کچھ سامان چاہیے تھا تو وہی لینے گئی تھی اظہر کو کہہ دو تو سو سو نخرے کرتا ہے ۔
نایاب نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
آپی میں سوچ رہی ہوں اپنے بالوں کا کلر تبدل کروا لوں مہرو نے نایاب کو دیکھتے ہوئے کہا
مہرو یہ کلر تمھارے بالوں پر بہت سوٹ کر رہا ہے ابھی رہنے دو ۔
نایاب نے مہرو کے بالوں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
اتنے میں اظہر کمرے میں آیا ۔
جس جس نے پارلر جانا یے جلدی سے تیار ہو جائے باہر لڑکیاں میرا انتظار کر ہی ہیں جی
میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے جی
اظہر نے نایاب اور مہرو دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
ہم دو دن بعد خود ہی چلے جائے گئے تم باقی کی لڑکیوں کو کر جاؤ اور سب کا خیال رکھنا
نایاب نے سنجیدگی سے کہا ۔
جی ٹھیک ہے جی ۔
اظہر نے کہا اور کمرے سے نکل گیا
نایاب کا رنگ گندمی تھا لیکن بڑی بڑی آنکھیں چھوٹی سی ناک اور گلابی ہونٹ اسے پرکشش بناتے تھے گندمی رنگ اس پر سوٹ بھی بہت کرتا تھا ۔
مہرو اور نایاب دونوں نے ناک میں ایک جیسی چھوٹی سی بالی پہنی ہوئی تھی ۔
نایاب کے ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے ا سکا ایک بھائی تھا ناصر جو نشہ کرتا تھا…
نایاب گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر گھر کا سارا نظام چلاتی تھی ۔
نایاب کے بھائی نے نشہ کرنا نہیں چھوڑا بلکہ مزید اس میں ڈوبتا گیا ۔
پھر ایک دن نایاب کا بھائی اپنے کچھ آوارہ دوستوں کو گھر لے کر آیا
اسے خود کی تو ہوش ہوتی نہیں تھی جب نایاب نے اسے روکا تو ناصر نے اپنے دوستوں کے سامنے نایاب کو تھپڑ مارا اور اسے بالوں سے پکڑا…
اس کے دوست آنکھیں میں خباثت لیے نایاب کو دیکھ رہے تھے ۔
نایاب نے اپنے بھائی کو پیچھے دھکا دیا اور خود کمرے میں جا کر بند ہو گئی ۔
یار تیری بہن تو بہت خوبصورت ہے
ناصر کے دوستوں میں سے ایک نے ہنستے ہوئے کہا ۔جبکہ نایاب کا بھائی نشے میں دھت پڑا تھا اور وہی پڑا سو گیا ۔
کیا خیال ہے؟ ناصر کے دوستوں نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے کمینگی سے کہا..
بہت اچھا خیال ہے دوسرے نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا…
نایاب دروازے کے پاس کھڑی ان سب کی باتیں سن رہی تھی..
چھوٹا سا گھر تھا جس میں دو کمرے تھے جو ساتھ ساتھ بنے تھے..
نایاب نے اپنی چادر پکڑی اور اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر کود گئی اپنی عزت سے بڑھ کر اس وقت اسے کچھ بھی نہیں لگا تھا…
ناصر کے دوست جب دروازے کو توڑ کر اندر آئے تو اندر کوئی نہیں تھا ۔
بھاگ گئی سالی
ان میں سے ایک نے غصے سے کہا
زیادہ دور نہیں گئی ہو گی پیچھا کرتے ہیں
یہ کہتے ہی چاروں گھر سے نکل گئے ۔
نایاب اندھا دھند بھاگتی جا رہی تھی ۔
جب بھاگتے ہوئے کافی اگلے آگئ تو وہی کھڑی لمبے لمبے سانس لینے لگی اسے لگا کہ وہ کافی دور آگئی ہے لیکن جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی ڈر کے مارے چیخ نکل گئی ۔
یہ جگہ کافی سنسان تھی ۔
پیچھے چاروں دوست کھڑے نایاب کو اپنی غلیظ نظروں سے گھور رہے تھے…
اتنی آسانی سے تو تجھے ہم نہیں چھوڑ سکتے تیرے نشئی بھائی کو ہم لوگوں نے اتنا پیسہ اس لیے نہیں دیا کہ تو بنا ہمیں خوش کیے بھاگ جائے ۔ان میں سے ایک لڑکے نے نایاب کو بالوں سے پکڑتے ہوۓ غصے میں کہا ۔
نایاب اس وقت شدت سے اپنی موت کی دعا مانگی تھی کاش اسے اس وقت موت آجائے لیکن ابھی شاید اللہ نے نایاب کی زندگی لکھی ہوئی تھی…
میں نے کیا بگاڑا ہے آپ لوگوں کا مجھے جانے دو…
نایاب نے گڑگڑاتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر کہا ۔
پورے دو مہینے سے تیرے بھائی کو برداشت کر رہے ہیں. تو صرف تیری وجہ سے اور تو کہہ رہی ہے تجھے جانے دے ایسا نہیں ہوسکتا ۔
دوسرے لڑکے نے بھی آگے بڑھتے ہوئے کہا اور نایاب کی چادر کو اتار کر دور اچھال دیا
نایاب دل میں اللہ کو مدد کے لیے پکار رہی تھی ۔اور بےشک وہ اپنے بندوں کی حفاظت کرنے والا ہے ۔
نایاب نے آنکھیں بند کی ہوئی تھی جب اس کے کانوں میں کسی اجنبی کی آواز پڑی
چھوڑ دو اس لڑکی کو اجنبی نے چاروں لڑکوں کو گھورتے ہوئے کہا
تو ہے کون؟
مرد ہے یا عورت اس لڑکے نے قہقہہ لگاتے ہیں کہا اس کے باقی کے دوست بھی ہنسنے لگے..
تم جسے بدمعاشوں سے تو میں روز نپٹتی ہوں پنکی نے نحوست سے کہا اور اس کے پیچھے ایک گاڑی گاڑی آ کر رکی جس میں سے پانچ ہٹے کٹے آدمی نکلے ۔
ان آدمیوں کو دیکھ کر ہی چارو لڑکے ڈر گئے تھے۔
جس نے نایاب کا ہاتھ پکڑا تھا اس نے نایاب کا ہاتھ دھکا دینے والے انداز میں چھوڑا
نایاب سیدھی پنکی کے قدموں میں جا گری ۔
پنکی نے نایاب کو سہارا دے کر اٹھایا اور اسے گاڑی میں بٹھایا۔
اس سے پہلے چاروں لڑکے وہاں سے بھاگتے پنکی کے آدمیوں نے انہیں پکڑ لیا ۔
تم میرے ساتھ چلو اور ان بدمعاشوں کی ایسی دھلائی کرنا کے ان سب کو اچھے سے پتہ چل جائے پنکی کی بات نا ماننے کا کیا انجام ہوتا ہے…
پنکی نے پہلی بات اپنے پاس کھڑے آدمی کو اور دوسری بات باقی کے چاروں کو دیکھتے ہوئے کہی. گاڑی میں بیٹھ گئ ۔
پیچھے پنکی کے آدمیوں نے چاروں دوستوں کو مار مار کر اچھا سبق سکھایا ۔
پنکی نایاب کو سلمیٰ کے پاس لے آئی تھی اور نایاب نے اپنی مرضی سے رقص کرنا شروع کیا تھا ۔اب نایاب کا سب کچھ یہ کوٹھا اور یہاں کے لوگ تھے…
سلمیٰ کے پاس جو بھی لڑکی آتی اس نے کبھی بھی زبردستی کسی کو رقص کرنے کا نہیں کہا جو بھی رقص کرتی اپنی مرضی سے کرتی
…………
مہارانی جی کب سے میں تمھارا انتظار کر رہی ہوں۔
آج اتنی دیر کیسے ہو گئ؟ کہاں گئی تھی؟
ایزل جب گھر آئی تو آتے ہی اس کی بھابھی نے سخت تیور لیے پوچھا..
بھابھی کام زیادہ تھا اور بس بھی تھوڑی لیٹ آئی تھی اس لیے دیر ہو گئی..
ایزل نے سنجیدگی سے جواب دیا
اب بہانے بنانے بیٹھ جاؤ ایک تو میں سارا دن گھر دیکھو کھانا بناؤ…
اور تم آکر کرتی کیا ہو؟
سارا کام مجھے کرنا پڑتا ہے ۔
ایزل خاموشی سے سن رہی تھی وہ جانتی تھی جبکہ بھابھی اپنے دل کی بھڑاس نہیں نکال لیں گی ان کو چین نہیں آئے گا۔
جب بھابی اپنی بھڑاس نکال کر چلی گئی تو
ایزل بھی کچن میں آ گئی وہ جانتی تھی بھابھی نے کھانا بھی نہیں بنایا ہو گا
ایزل نے کھانا بنایا اور خود کا کھانا لے کر اپنے کمرے میں آگئی۔
ایزل کا ایک بڑا بھائی تھا ماں باپ کے گزر جانے کے بعد ایزل کے بھائی رضوان نے اپنی بہن کو بہت لاڈ سے پالا تھا
لیکن رضوان کی شادی ہوتے ہی سب کچھ بدل گیا ۔
بھابھی کو ایزل ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی تھی ۔اس نے رضوان کو نا جانے ایسا کیا کہا کہ رضوان ایزل سے کھیچا کھیچا رہنے لگا ۔
ایزل آج تک سمجھنے سے قاصر تھی بھابھی اسے رضوان کے سامنے ڈانٹتی لیکن وہ خاموش رہتا ۔
ایزل کو اپنے بھائی کا رویہ دیکھ کر دکھ ہوتا تھا لیکن اب اس نے بھی بھابھی کے سامنے بولنا چھوڑ دیا تھا جو وہ کہتی خاموشی سے سن لیتی
💖💖💖💖💖
کیسی لگی آج کی ایپی؟
اب کیا لگتا ہے صائم کو کون ملا تھا؟
