Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 47 (Part 2)


ڈنر کے بعد سب لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے تھے ۔مہرو یہی رکی تھی ۔
ایزل اپنے کمرے میں چلی گئی تھی آکف کو وہ دوبارہ نظر نہیں آئی۔
وہ ایزل سے بات کرنا چاہ رہا تھا لیکن اسے موقع نہیں ملا۔
بھابھی مان آیا ہے آپ کو بلا رہا ہے آکف نے ایزل کے پاس بیٹھی مہرو کو کہا۔
اچھا ٹھیک ہے میں آتی ہوں
مہرو نے کہا اور کمرے سے نکل گئی ۔
ایزل نے آکف کی طرف نہیں دیکھا تھا اور مروہ کے ساتھ کھیلتی رہی ۔
آکف چھوٹے قدم لیتا ایزل کے سامنے ہی بیٹھ گیا تھا ۔اور گہری نظروں سے ایزل کو دیکھنے لگا۔
آکف کی نظروں کی تپش ایزل اپنے چہرے پر محسوس کر ہی تھی لیکن پھر بھی ڈھیٹ بنی مروہ کے ساتھ کھیلتی رہی۔
تم نے اپنے بھائی کو اتنی جلدی معاف کیوں کر دیا؟
مجھے تو تم نے سزا دی جس کا میں حق دار بھی نہیں تھا۔
اور جس نے تمھارے ساتھ غلط کیا تمہیں گھر سے نکال دیا اُسے تم نے اتنی جلدی معاف کر دیا؟
آکف نے بات کا آغاز کرتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔
ایزل نے نظریں اٹھا کر آکف کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
جب میں میٹرک میں تھی اُس وقت سے ہی بھائی نے مجھ بسے منہ موڑ لیا تھا میں نہیں جانتی تھی کہ کیا وجہ ہے لیکن پھر مجھے آہستہ آہستہ پتہ چلا یہ سب بھابھی نے کیا ہے وہ بھائی کو میرے خلاف بھڑکاتی تھی میرا ایک ہی بھائی ہے اور میں بہت زیادہ اپنے بھائی سے اٹیچ تھی۔
اُن کا رویہ مجھے دکھ دیتا تھا ۔اپنے ہی بھائی سے میں بات کرنے کا بہانا ڈھونڈنے لگی تھی
میں جانتی ہوں بھائی نے میرے ساتھ جو بھی کیا وہ بہت برا تھا لیکن جب انہوں نے مجھ سے معافی مانگی میرے سامنے روئے تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا ۔
جو چیز میں چاہتی تھی وہ مجھے آج مل گئ اور وہ بھائی کا پیار
میں ناچاہتے ہوئے بھی بھائی کے سامنے غصہ نہیں دکھا سکی ۔اُن سے ناراض نہیں ہو سکی۔
بس یہی وجہ ہے ۔
ایزل نے نظریں جھکا کر کہا ۔
اتنا پیار کرتی ہو اپنے بھائی سے؟
آکف نے مسکرا کر پوچھا ۔
ہاں بہت زیادہ ایزل نے بھی مسکراتے ہوئے کہا ۔کل سب لوگ شاپنگ پر جا رہے ہیں اور میں چاہتا ہوں تم نکاح کا جوڑا میری پسند کا پہنو ۔
ایک اور بات نکاح کے بعد ولیمہ ہو گا جو میرا اور عرشمان دونوں کا اکٹھا ہو گا
مجھے یہ مہندی وغیرہ پسند نہیں ہے اس لیے میں نے ماما کو منع کر دیا تھا نکاح اور ولیمہ دھوم دھام سے ہو گا ۔
اگر تم چاہتی ہو کہ باقی کے فنکشن بھی ہو تو بتا دو ہم. باقی کے فنکشن بھی کر لیں گئے
آکف نے مروہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو چاکلیٹ کھا کم اور اپنے چہرے پر زیادہ لگا رہی تھی ۔
نہیں یہ تو اچھی بات ہے اور ویسے بھی اسلام میں ولیمہ ہی ہے باقی کی چیزیں توہم لوگوں نے خود ایڈ کر لی ہیں ایزل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
واہ کتنی سمجھدار بیوی ملی ہے مجھے آکف نے معصومیت سے کہا۔
ہونے والی ایزل نے درستگی کرتے ہوئے کہا
ہاں وہی ایک دن کی تو بات ہے
اکف نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہنستے ہوئے کہا ۔
ویسے میں ابھی جانا تو نہیں چاہتا لیکن جانا پڑے گا اگر ماما نے دیکھ لیا تو یہ نا ہو نکاح کی ڈیٹ آگے کر دیں۔
آکف نے شرارتی لہجے میں کہا ۔
اور مروہ کی گال چوم کر کمرے سے چلا گیا ۔
ایزل نے آکف کع جاتے ہوئے مسکرا کر دیکھا اور مروہ کو گود میں اٹھائے اس کا فیس واش کرنے واشروم کی طرف چلی گئی ۔
💞💞💞💞💞💞💞
کیا ہوا؟
مہرو نے مان کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
ہوا تو کچھ نہیں بس تمھاری یاد آرہی تھی ۔
مان نے مہرو کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پاس بیٹھاتے ہوئے کہا ۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے تو آپ گئے تھے؟ اتنی جلدی یاد آگئی؟
مہرو نے مسکراہٹ دباتے پوچھا
مجھے اپنا کمرہ تمھاری بغیر ویران لگ رہا ہے ۔ہر طرف تم ہی نظر آرہی تھی۔
کیسا ڈائلاگ ہے؟ مان نے مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا ۔
بہت اچھا مہرو نے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے کہا
بس ایسے ہی ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہنا۔
مان نے مہرو کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے پیار سے کہا۔
جب تک آپ میرے ساتھ ہیں میں ایسے ہی مسکراہٹ رہو گی ۔
مہرو نے مان کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا ۔اگر کل کو مجھے کچھ ہو جاتا ہے تو پھر؟ مان کی زبان سے بے ساختہ نکلا تھا
مہرو لگا کسی نے اس کی سانسیں چھیننے کی بات کی ہو ۔
مہرو منہ بنائے بنا کچھ بولے وہاں سے جانے لگی لیکن مان نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا اور دوبارہ اپنے پاس بیٹھایا ۔
مہرو میرے بہت سارے دشمن ہے یار بس انسان کو ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار تیار رہنا چاہیے ۔
مان نے صفائی دیتے ہوئے کہا ۔
مان آج کے بعد ایسی کوئی فضول بات مت کیجیے گا اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو مہرو ٹوٹ جائے گی۔اور آپ اچھے سے جانتے ہیں پھر میرا کیا ہو گا۔
آخر میں مہرو کی آواز روندی گئی تھی۔
اچھا ایم سوری یار تم اب رونے مت بیٹھ جانا ۔یہ بتاؤ کل شاپنگ پر تم نے جانا ہے مان نے بات بدلتے ہوئے پوچھا ۔
نہیں میرے پاس کپڑے ہے صرف روبینہ آنٹی کی فیملی جا رہی ہے ۔
مہرو نے کہتے پھر سے مان کے کندھے پر سر رکھ لیا
۔
ہمم میں نے شاہ کو بھی انویٹ کیا ہے وہ بھی اپنی بیوی کے ساتھ آئے گا ۔
مان نے کہا ۔
مان آپ نے مجھے فاخر بھائی کے بارے میں بتایا کیوں نہیں؟
یاد آنے پر مہرو نے پوچھا
یار مجھے خود کافی وقت بعد معلوم ہوا تھا ۔
اور میں چاہتا تھا کہ آرام سے تمہیں فاخر اور تمھاری امی سے ملوا دوں گا ۔
مان نے مہرو کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا ۔
مان آپ کب مجھے امی کے پاس لے کر جائے گئے؟
مہرو نے آہستگی سے پوچھا ۔
بہت جلد میری جان بس تھوڑا سا صبر کر لو
مان نے آسمان کو دیکھتے ہوئے کہا جہاں ستارے جگمگا رہے تھے ۔
پھر مہرو خاموش ہوگئی تھی مان ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
شاہ مجھے تو آپ کی سمجھ نہیں آتی اُس دن آپ نے کہا تھا ہم گھر جا رہے ہیں پھر اچانک آپ کو کیا ہو گیا؟
اب آپ مجھے بتا دیں ہم گھر کب جا رہے ہیں؟
روحی نے گھر میں. فاخل ہوتے شاہ کو دیکھتے ہوئے غصے سے کہا ۔
جو اسے چھوڑ کر سارا دن باہر رہتا تھا اور رات کو واپس آتا تھا ۔
بیگم صاحبہ شوہر تھکا ہارا گھر آیا ہے اسے پانی کا پوچھنے کی بجائے تم لڑنے کے لیے کھڑی ہو۔
شاہ نے بات کو مزاح میں لیتے ہوئے مسکرا کر کہا
چاہ میں سیرس ہوں ۔
روحی نے دانت پیستے ہوئے کہا
جان آپ سیرس بھی ہوتی ہو؟
شاہ نے روحی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود کے قریب کرتے نرمی سے اس کے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا
شاہ خبر دار ایسی ویسی کوئی حرکت کی مجھے گھر جانا ہے آپ بھی سارا دن گھر نہیں آتے میں بور ہو جاتی ہوں
روحی منہ بسوڑتے ہوئے کہا ۔
اچھا پرسوں مان کے کزن کا نکاح ہے ہمیں بھی انویٹ کیا ہے اُس کے بعد ہم لوگ گھر چلے جائے گئے
اب اپنا موڈ ٹھیک کرو ۔
شاہ نے روحی کے نرم گال کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے کہا ۔
مجھے آپ کی بات پر اب بلکل بھی بھروسہ نہیں ہے روحی نے غصے سے کہا
تو کس طرح میں تمہیں یقین دلاؤں بتا دوں مجھے شاہ نے روحی کے دونوں ہاتھ اپنے کندھے پر رکھتے ہوئے میٹھے لہجے میں کہتے روحی کو مزید خود کی طرف کیا ۔
کچھ دیر خاموشی سے روحی شاہ کو دیکھتی رہی ۔
کیا ہوا؟ شاہ نے روحی کے گال پر اپنا لمس چھوڑتے ہوئے پوچھا ۔
شاہ کبھی تو مجھے اپنی قسمت پر رشک آتا ہے اور کبھی مجھے بہت خوف بھی آتا ہے مجھے لگتا ہے یہ سب ایک حسین خواب ہے جو بہت جلد ٹوٹنے والا ہے ۔
روحی نے شاہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنا ڈر بیان کیا شاہ کا چہرہ پل بھر میں سنجیدہ ہوا تھا ۔
تم ایسا کیوں سوچتی ہو سب کچھ ٹھیک ہو گا اب ہم دونوں کو کوئی الگ نہیں کر سکتا ۔اور جلدی سے کھانا لگا دو مجھے بہت بھوک لگی ہے
شاہ نے نرمی سے روحی کو کہا۔
جو اثبات میں سر ہلا کر کچن کی طرف چلی گئی تھی۔
شاہ نے کچن کہ طرف جاتیں روحی کو دیکھ کر گہرا سانس لیا ۔
وہ نہیں جانتا تھا قسمت اس کے ساتھ کیا کرنے والی ہے اور وہ اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر خراب کرنے والا ہے لیکن یہ تو آنے والے وقت نے بتانا تھا جو شاید آنے ہی والا تھا اور روحی کا ڈر بھی سچ ثابت ہونے والا تھا ۔
💞💞💞💞💞💞
صبح ہوتے ہی نایاب روبینہ بیگم کی طرف آگئی تھی ۔آکف اور عرشمان ایزل اور آرزو کو شاپنگ کے لیے لے گئے تھے ۔نایاب کو صائم چھوڑ کر چلا گیا تھا۔
رابعہ بیگم نے رات کو آنا تھا وہ مہرو کو اگنور کرنے لگی تھی بات کرنا تو دور وہ مہرو کو دیکھا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔
مہرو بیٹا تم بھی اپنے لیے کوئی جوڑا خرید لیتی ایزل کے ساتھ چلی جاتی روبینہ بیگم نے مسکرا کرا کہا ۔
نہیں آنٹی ابھی پچھلے دنوں ہی تو مان نے مجھے اتنے سارے سوٹ لے کر دیے ہیں اور وہ بہت اچھے ہیں اُن میں سے ہی پہنو گی
مہرو نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔
اور مان آتے ہی ہونگے مجھے اُن کے ساتھ جانا ہے اس لیے میں نے نایاب کو یہاں بلایا تاکہ وہ مروہ کو سنبھال لیں
مہرو نے مسکرا کر کہا
ارے بیٹا نایاب کو بلانے کی کیا ضرورت ہے اس کی نانو ہیں نا اسے سنبھالنے کے لیے
روبینہ بیگم نے مصنوعی ناراضی سے کہا ۔
نہیں نہیں آنٹی ایسی بات نہیں ہے دراصل وہ بہت تنگ کرنے لگی ہے اور نایاب اسے اچھے سے ہینڈل کر لیتی ہے اس لیے میں نے اسے بلایا ۔
مہرو نے جلدی سے صفائی دیتے ہوئے کہا ۔
چلو کوئی بات نہیں میں ویسے بھی مزاح کررہی تھی ۔تم دونوں کا اپنا گھر ہے جب مرضی آؤ
اور مان کب تک آئے گا؟ اگر اُس نے کچھ کھانا ہے تو میں بنوا دیتی ہوں۔
روبینہ بیگم نے کہا نہیں آنٹی مان نے آتے ہی ہم لوگ نکل جائے گئے
مہرو نے جلدی سے کہا۔
چلوں ٹھیک ہے آذان ہو گئی ہے میں نماز پڑھ لوں اور دھیان سے جانا روبینہ بیگم نے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی ۔
مہرو کو وہاں بیٹھے تھوڑی دیر ہی گزری تھی جب ملازمہ نے مان کے آنے کی اطلاع دی جو باہر گاڑی میں انتظار کر رہا تھا ۔
مہرو نے سفید چادر کندھوں پر ڈالی اور گلے میں لیا ہوا ڈوپٹہ سر پر لیتے ہی باہر کی طرف چلی گئی ۔
مان مہرو کو باہر آتے دیکھا تو اپنی گلاسس کو تھوڑا سا نیچے کر کے مہرو کو غور سے دیکھا جو وائٹ کلر کے سوٹ میں سفید گلاب ہی لگ رہی تھی ۔
ماشاءاللہ مان نے دل ہی دل میں کہا
کیا آج میری جان لینے کا ارادہ ہے
مان نے مسکراتے ہوئے پوچھا،
مہرو نے ناسمجھی سے مان کی طرف دیکھا ۔
لیکن مان کی نظروں کی تپش نے اسے نظریں جھکانے پر مجبور کر دیا تھا مان دیر ہو رہی ہے بعد میں گھور لیجیے گا مہرو نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا ۔
پگلی اسے گھورنا نہیں پیار سے دیکھنا کہتے ہیں مان نے ہنستے ہوئے گاڑی سٹارٹ کرتے کہا ۔
مان جب آپ مجھے ایسے دیکھتے ہیں تو جانتے ہیں مجھے کیسی فیلنگز آتی ہیں۔
مہرو نے مان کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔
کیسی؟ مان نے جلدی سے پوچھا
جیسے ایک لوفر آتی جاتی لڑکی کو گھورتا ہے مہرو نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا ۔
بیگم صاحبہ موڈ کا بیڑا غرق کوئی تم سے کرنا سیکھے ۔
مان نے مصنوعی ناراضگی سے کہا ۔
اپنی فیلنگز بتائی ہیں آپ کو مان ۔اب میں اپنے شوہر کو نہیں بتاؤ گی تو کسے بتاؤ گئ؟
مہرو نے مان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
تم اپنے ڈیشنگ شوہر کو لوفر کہہ رہی ہو اور میں خوش ہو جاؤ
مان نے گھور کر پوچھا ۔
مان آپ صرف میرے ہے اور میں آپ کو کچھ بھی کہہ سکتی ہوں لیکن یہ سب کچھ صرف میں ہی کہہ سکتی ہو کسے دوسرے کو اجازت نہیں دیتی
مہرو نے سنجیدگی سے کہا ۔
مان نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی اور مہرو کو سنجیدگی سے دیکھنے لگا ۔
اگلے آؤ مان نے سرد لہجے میں کہا مہرو پہلے تو ناسمجھی سے مان کو دیکھتی رہی پھر تھوڑا آگے کو جھکی جب مان نے بے ساختہ اپنے لب مہرو کے ماتھے پر رکھ دیے ۔
اور پھر پیچھے ہو گیا تم نے تو آج معارج ملک کا دل جیت لیا اب تو مجھے تم کچھ بھی کہہ سکتی ہو تمھارا مان کبھی اپنی مہرو کی بات کا برا نہیں منائے گا اور ایسے ہی مجھ پر اپنا حق جتایا کرو اچھا لگتا ہے
مان نے خوشی سے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔
اُف مان میں تو ڈر ہی گئی تھی مہرو نے گہرا سانس لیتے کہا ۔
ڈرنا بنتا بھی تھا مان نے ہنستے ہوئے کہا
انہی باتوں کے دوران راستہ کٹ گیا تھا ۔
مان نے ایک ریسٹورنٹ کے سامنے گاڑی روکی اور مہرو کے نکلنے سے پہلے اس نے خود جا کر مہرو کی طرف کا دروازہ کھولا ۔ مہرو مان کو دیکھ کر مسکرا پڑی تھی ۔
مان اب تو بتا دو ہم یہاں کیوں آئے ہیں ۔
مہرو نے اپنے ساتھ چلتے مان سے پوچھا وہ دیکھو سامنے مان نے کچھ فاصلے پر بیٹھے فاخر کی طرف اشارہ کرتے کہا ۔
بھائی مہرو نے خوشی سے کہا اور فاخر سے جا کر ملی ۔
مہرو فاخر کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی ۔دونوں باتوں میں مصروف ہو گئے تھے مان مہرو کے ساتھ بیٹھا تھا۔
فاخر مہرو کے سامنے بیٹھا تھا اس کی پیچھلی ٹیبل پر دو لڑکے مہرو کو بہت گھور کر دیکھ رہے تھے ۔اور آپس میں سرگوشی کرتے ہنس بھی رہے تھے ۔
مان سنجیدگی سے ان لڑکوں کو دیکھ رہا تھا یہ بات مہرو نے تو نہیں لیکن فاخر نے ضرور محسوس کی تھی اور ایک بار مڑ کر پیچھے اُن لڑکوں کو بھی دیکھا تھا ۔
فاخر کو ساری بات سمجھ میں آگئی تھی ۔
مان نے فاخر کو اشارہ کیا جس نے اثبات میں سر ہلایا اور مہرو کی طرف دیکھا مہرو چلو کسی دوسرے ریسٹورنٹ چلتے ہیں مجھے اب یاد آیا کہ یہاں کا کھانا اچھا نہیں ہے ۔
مان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
ہاں یہاں پاس ہی ایک نیا ریسٹورنٹ اوپن ہوا ہے ہم لوگ وہاں چلتے ہیں فاخر نے بھی مان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے جیسی آپ لوگوں کی مرضی
مہرو نے کہا اور وہاں سے اٹھ گئی مان اس کے ساتھ ہی تھا آپ دونوں جائیے میں آتا ہوں فاخر نے کہا تو مان مہرو کو لے کر وہاں سے چلا گیا ۔
فاخر پیچھلی ٹیبل پر بیٹھے اوباش لڑکوں کی طرف آیا
جس لڑکی کو تم لوگ دیکھ رہے تھے وہ باہر تم لوگوں کو بلا رہی ہے فاخر نے سنجیدگی سے کہا۔
کیا سچ میں وہ تو کوٹھے پر کسہ کو اپنے قریب نہیں آنے دیتی تھی اور یہاں مجھے بلا رہی ہے میری تو قسمت جاگ اٹھی اُس لڑکے نے خوشی سے کہا۔
اوئے تیرے ساتھ میں بھی چلتا ہوں تجھے اکیلے کو کیسے مزے کرنے دوں دوسرے لڑکے نے خباثت سے کہا فاخر کا دل کیا ان کا منہ توڑ دیں ۔
لیکن مان ان کو اچھے سے سنبھال لے گا یہ سوچ کر فاخر مطمئن تھا ۔
فاخر وہاں سے چلا گیا باہر مان اس کا ہی انتظار کر رہا تھا ۔
تم گاڑی میں بیٹھو میں زرا آتا ہوں مان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
کیونکہ ان لڑکوں کو وہ کوٹھے پر بھی دیکھ چکا تھا ۔
ٹھیک ہے فاخر نے کہا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
جس کو ڈھونڈ رہے ہو وہ وہاں ہے مان نے اُن لڑکوں کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا جو مان کی بات سنتے ہی اُس طرف چلے گئے ۔
لیکن وہاں تو کوئی نہیں تھا ۔
یار مجھے لگتا وہ لوگو جھوٹ بول رہے تھے اُس طوائف کے اتنے نخرے تھے وہ تو کوٹھے پر بھی کسی کو قریب نہیں آنے دیتی تھی ایک لڑکے نے کہا اس سے پہلے دوسرا کوئی جواب دیتا
مان نے پیچھے سے دونوں کو گردنوں سے دبوچتے ان کے سر دیوار میں دے مارے تھے ۔
دونوں لڑکے تو اس اچانک افتاد پر بوکھلا گئے تھے ۔دونوں کا سر دیوار میں لگنے کی وجہ سے خون نکلنے لگا تھا ۔دونوں لڑکے کمزور جسامت کے تھے اگر مان کا ایک اور مکا پڑتا تو پکا ان دونوں نے دنیا سے کوچ کر جانا تھا ان کے سر سے بہت خون نکل رہا تھا ۔
اگر دوبار کسی بھی لڑکی کے بارے میں فضول بولے تو اگلی بارکوئی اور تمھاری جان لینے میں ایک سیکنڈ نہیں لگائے گا ۔
اگر تم لوگوں نے کسی بھی لڑکی کو دیکھ کر طوائف کہا تو بہت برا پیش آؤں گا ۔
مان نے ایک ایک لفظ چبا کر تنبیہ کرتے ہوئے کہا ۔اس کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں ۔
اس نے وہاں سے جاتے ایک نفرت بھری نگاہ زمین پر پڑے بےحال لڑکوں پر ڈالی اور وہاں سے چلا. گیا ۔
مان آپ کہاں گئے تھے ۔گاڑی میں بیٹھتے ہی مہرو نے مان سے پوچھا
مجھے ایک ضروری کال آگئی تھی مان نے گاڑی سٹارٹ کرتے کہا جبکہ ساتھ بیٹھا فاخر مسکرا پڑا تھا ۔
💞💞💞💞💞💞💞
کومل تجھے جو بھی کرنا ہے آج ہی کرنا ہو گا ورنہ گھر والے تیری زبردستی اُس گھٹیا انسان سے شادی کر دیں گئے
سوچ جلدی کچھ سوچ
کومل نے اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے خود سے کہا ۔لیکن اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایسا کیا کریں جس سے وہ شادی سے بچ سکے ۔جو اس نے سوچا تھا اُس میں بہت رسک تھا۔
کافی سوچنے کے بعد کومل نے گھر سے جانے کا فیصلہ کیا ۔
اس نے ضروری سامان اپنے بیگ میں رکھا اور کمرے سے باہر نکلی اس وقت گھر میں کوئی نہیں تھا ایسا کومل کو لگا تھا۔
لیکن شاید کومل کی قسمت اس وقت اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔
کومل جب گھر کے دروازے سے باہر جانے لگی تواسے اپنے پیچھے صائم کی آواز سنائی دی
کہاں جا رہی ہو؟
صائم کی آواز سن کر کومل کے قدم وہی جم گئے تھے اسے لگا تھا گھر میں. کوئی نہیں ہے اس لیے تو بنا کسی کی پرواہ کیے آرام سے گھر سء جا رہی تھی ۔
میں نے پوچھا کہاں جا رہی تھی؟
صائم نے کرخت لہجے میں پوچھا
کومل نے ڈرتے ہوئے اپنا رخ صائم کی طرف کیا جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا
میں گھر چھوڑ کر جا رہی ہوں کیونکہ آپ لوگ میری زبردستی شادی کرنا چاہتے ہو جو میں ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔
کومل نے اپنے ڈر کو سائیڈ پر رکھتے بے خوف لہجے میں کہا ۔
اتنے میں فضا اور کوثر بھی وہاں آگئی تھیں ماما میں عامر سے بات کرتا ہوں اب کومل اور عامر کا نکاح بھی آکف اور ایزل کے نکاح کے ساتھ ہو گا ۔
آگر کومل نے کسی قسم کی کوئی بھی فضول حرکت کرنے کی کوشش کی
تو یہ سمجھ جائے ہم سب اس کے لیے مر چکے ہیں اور پھر میں خود اسے اس گھر سے نکال دوں گا اور اس کا ہمارے ساتھ کوئی رشتہ نہیں رہے گا ۔
اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے یا تو ابھی گھر سے چلی جاؤ یا پھر کل نکاح کے لیے تیار ہو جانا
دوسری بات تمھارے سارے اکاؤنٹس بھی میں بند کروا دوں گا اگر جانا ہی ہے تو خالی ہاتھ جانا پھر تمہیں پتہ چلے گا گھر چھوڑنے کا فیصلہ ٹھیک تھا یا غلط؟
صائم نے سنجیدگی سے کہا اور پھر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
کومل. ابھی بھی وہی شوکڈ کھڑی تھی ۔
فضا کومل پر ایک افسوس بھری نظر ڈال کر کوثر بیگم کو اپنے ساتھ لے کر وہاں سے چلی گئی ۔
کومل نے اپنا بیگ پکڑا اور خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی ۔
💞💞💞💞💞💞
صائم نے کمرے میں جاتے ہی عامر کو کال کرکے نکاح کا کہا تھا اسے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا اور اس نے اپنے ماں باپ کو بھی سنبھال لیا تھا ۔
کومل نے کمرے میں جاتے ہی سوچ لیا تھا کہ وہ عامر سے نکاح کر لیں گی اور پھر اس کی زندگی جہنم بنا دے گی پھر وہ خود اسے طلاق دے گا ۔
کومل جانتی تھی صائم نے جو کہا ہے وہ ویسا ہی کرے گا ۔اس لیے بہتر یہی تھا وہ خاموشی سے نکاح کر لے ۔
اگلے دن سب کاموں میں مصروف تھے عظیم صاحب نے اپنے گھر میں ہی سارا انتظام کیا تھا ان کا گاڑدن کافی بڑا تھا اس لیے وہی پر سب مہمان موجود تھے۔
عامر کی فیملی آچکی تھی اور عامر سب سے ملا تھا علیدان نے خود ہی آنے سے منع کر دیا تھا ۔
کومل اور ایزل پارلر سے تیار ہوکر واپس آچکی تھیں ۔
مہرو نے لائٹ پیچ کلر کا لانگ فراک پہنا تھا اور مروہ نے بھی سیم اپنی ماں جیسا ڈریس پہنا تھا دونوں ماں بیٹی بہت پیاری لگ رہی تھیں۔
مان سفید شلوار قمیض پہنے آستین کو فولڈ کیے سنجیدہ سا سیدھا مہرو کے دل میں اتر طرہا تھا مہرو بار بار مان کو دیکھ رہی تھی اور یہ بات مان نے بھی نوٹ کی تھی اس کے لب بے ساختہ مسکرا پڑے تھے ۔
فاخر بھی آچکا تھا جس نے براؤن شلوار قمیض پہنی تھی ۔وہ ایک سائیڈ پر بیٹھا کچھ فاصلے پر باتیں کرتی فضا کو دیکھ رہا تھا جو بلیو کلر کے سوٹ میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔
۔کومل اور ایزل کا نکاح ظہر کے وقت پاس والی مسجد میں ہو گیا تھا ۔
اب نایاب اور آرزو، کومل اور ایزل کو لے کر آرہی تھیں ایزل بہت خوش تھی جبکہ اس کے برعکس کومل کچھ پریشان اور گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی ۔
دو سٹیج بنائے گئے تھے ۔
آکف اور عامر تو اپنی منکوحہ کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے تھے ۔اور آنکھوں میں خوشی لیے اپنی اپنی بیوی کو دیکھنے لگے ۔
عامر کے لیے تو یہ سب کچھ اچانک ہی ہوا تھا ۔صائم نے جب اپنی خواہش ظاہر کی کہ وہ آکف کے نکاح کے ساتھ ہی کومل کا نکاح کرنا چاہتا ہے تو عامر منع نہیں کر سکا۔جبکہ وہ خود بھی جلدی نکاح کرنا چاہتا تھا ۔
آکف نے لائٹ براؤن کلر کا تھری پیس سوٹ پہنا تھا ایزل لائٹ گرین کلر کی لانگ میکسی میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔
کچھ پارلر والی کے ہاتھوں کا جادو تھا جس نے ایزل کے حسن کو چار چاند لگا دیے تھے
کومل بھی کسی سے کم نہیں لگ رہی تھی اس نے وائٹ شرارہ پہنا تھا عامر کو وہ گھبرائی سی بہت اچھی لگ رہی تھی ۔کومل کا یہ روپ عامر نے آج پہلی بار دیکھا تھا ۔اور کومل کو لگ رہا تھا اس نے صائم کی باتوں میں آکر غلطی کی ہے ۔
عامر نے سفید شلوار قمیض اور ساتھ سفید ہی واسکٹ پہنی تھی ۔
ایزل اور آکف تھوڑی بہت ایک دوسرے سے باتیں کرہے تھے لیکن عامر ایک لفظ نہیں بولا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد شاہ اور روحی بھی آگئے شاہ پہلے شاداب ملک اور عظیم صاحب سے ملا جو شاہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے ۔روحی آرزو کے پاس چلی گئی تھی ۔
کیسے ہیں آپ ملک صاحب؟ شاہ نے مان کے گلے لگتے ہوئے خوشدلی سے پوچھا ۔
بس آپ کی دعائیں ہیں شاہ صاحب
مان نے مسکرا کر کہا اتنے میں مہرو بھی وہاں آگئی اور شاہ سے ملی۔
شاہ تمھاری بیوی کہاں ہے مجھے اس سے ملنا ہے مہرو نے مسکرا کر پوچھا
شاہ نے روحی کو اشارے سے اپنے پاس بلایا جو آرزو کی گود میں بیٹھی مروہ سے کھیل رہی تھی ۔
السلام عليكم روحی نے آتے ہی سلام کیا۔
شاہ تمھاری بیوی تو بہت پیاری ہے مہرو نے سلام کا جواب دینے کے بعد روحی کو دیکھتے ہوئے کہا جس نے شرما کر نظریں جھکا لیں تھیں ۔
بس جب اللہ دینے پر آتا ہے تو نالائقوں کو خوبصورت بیوی بھی دے دیتا ہے ۔
مان نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا.
اپنا تجربہ بتا رہے ہو؟
شاہ نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔
نہیں دونوں کا مان نے بھی مسکراتے ہوئے کہا
چلو روحی ہم یہاں سے چلتے ہیں مہرو نے مان کو گھورتے ہوئے کہا اور روحی کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گئی ۔
مان اور شاہ ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے تھے۔
آج تو میری مانو بلی بہت پیاری لگ رہی ہے صائم نے نایاب کے کان کے پاس سرگوشی نما کہا جو پنک کلر کی فراک میں بہت پیاری لگ رہی تھی ۔
صائم آپ نے ڈرا دیا مجھے نایاب نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
ویسے ایک بات بتائے
ایک رات کے اندر ایسا کیا ہو گیا جو آپ نے کومل کا نکاح کروا دیا؟
نایاب نے حیرانگی سے پوچھا
تم بس ایسا سمجھ لو اُس کا نکاح ہونا بہت ضروری تھا اب عامر اسے سنبھال لے گا اگر میں اُس کا نکاح نا کرواتا تو یقیناً وہ خود کا نقصان کروا بیٹھتی ۔اور عامر بہت اچھا ہے میری بہن کو خوش رکھے گا ۔
صایم نے نایاب کے چہرے پر جھولتی لٹوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا
ہمم جیسے آپ کو بہتر لگے نایاب نے مسکرا کر کہا اتنے میں اسے آرزو نے آواز دے دی اور وہ وہاں سے چلی گئی ۔
عرشمان سارے کام. دیکھ رہا تھا ۔مان نے اس کے ذمے سارے کام. لگائے تھے جسے وہ بہت اچھی طرح سرانجام دے رہا تھا ۔
💞💞💞💞💞💞
علیدان اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا ۔جتنی خوشی منانی ہے منا لو معارج ملک یہ تمھاری آخری خوشی ہے اس کے بعد تمہیں خوشی کیا غم دیکھنا بھی نصیب نہیں ہو گا ۔
علیدان نے تصویر میں اپنے ساتھ کھڑے مان کو دیکھتے ہوئے نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔
جو وہ کرنے جا رہا تھا اسے پوری امید تھی کہ وہ کامیاب بھی ہو جائے گا اس لیے مطمئن تھا ۔
💞💞💞💞💞💞💞💞