Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39


صائم تم نے کومل کو تھپڑ مارا؟
مجھے تم سے اس حرکت کی امید نہیں تھی
کوثر بیگم پیچھلے آدھے گھنٹے سے صائم پر برس رہی تھیں کیونکہ کومل ابھی تک گھر نہیں آئی تھی۔صائم بھی اسے ہر جگہ ڈھونڈ چکا تھا ۔
موم اس نے باتیں ہی ایسی کی تھی کہ مجھے غصہ آگیا لیکن آپ ٹینشن نا لے میں پھر سے اسے ڈھونڈنے جا رہا ہوں ۔وہ مل جائے گی۔
صائم نے اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے شرمندگی سے کہا اور وہاں سے جانے لگا
لیکن سامنے آتی کومل کو دیکھ کر رک گیا تھا
کہاں تھی تم؟
صائم نے کومل کو دیکھتے ہوئے ماتھے پر تیوری چڑھائے پوچھا۔
لانگ ڈرائیو پر گئی تھی کومل نے عامر کا سارا غصہ صائم پر اتارتے ہوئے بتميزی سے جواب دیا ۔
کومل بڑا بھائی ہے تمھارا اور یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا؟
صائم کے جواب دینے سے پہلے ہی کوثر بول پڑی تھی
موم ان کو بھی چاہیے کہ اپنی بہن کے ساتھ بڑے بھائیوں کی طرح پیش آئے لیکن آپ نہیں جانتی انہوں نے صبح کیا حرکت کی تھی
کومل نے اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے کہا
اگر تمھاری زبان اسی طرح ہی چلتی رہی تو مجھ بسے بھی کسی اچھے کی امید مت رکھنا
اور اگر آئندہ تم اتنی دیر تک گھر سے باہر رہی تو تمھاری ٹانگیں توڑ دوں گا ۔
صائم نے انگلی اٹھاتے کومل کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
ماما دیکھا آپ نے میرے بڑے بھائی کو کس طرح مجھے دھمکی دے کر گیا ہے
میں کیا اس کی ملازم ہوں جو اس کی بات مانو
کومل نے کوثر بیگم کو دیکھتے ہوئے غصے میں کہا ۔
کومل اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھا کرو ورنہ اسی زبان کی وجہ سے کہی تمہیں پچھتانا نا پڑے.
اور آئندہ تم مجھے رات دس بجے کے بعد گھر سے باہر جاتی ہوئی نظر مت آؤ ۔
کوثر بیگم نے بات کو ختم کرتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی ۔
کومل منہ کھولے اپنی ماں کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی سب کو میری زبان سے ہی مسئلہ ہے
کومل کا اشارہ عامر کی بات کی طرف تھا ۔
میں بھی دیکھتی ہوں کون مجھے روکتا ہے میرے جو دل میں آئے گا میں وہی کرو گی
کومل نے منہ میں بڑبڑاتے ہوۓ کہا
اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی ۔
💗💗💗💗💗
فضا پھر تم نے کیا سوچا؟
کوثر بیگم نے فضا کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا جو کتاب کھولے اپنے خیالوں میں گم بیٹھی تھی۔
ماما اگر کوئی انسان اپنی غلطی پر شرمندہ ہو
تو کیا اسے معاف کر دینا چاہیے؟
فضا نے سوال کے بدلے سوال پوچھا
اگر کوئی انسان اپنی غلطی پر شرمندہ ہو تو اسے مزید شرمندہ نہیں کرنا چاہیے اور معاف کر دینا چاہیے لیکن وہ شرمندہ نا ہو صرف دکھاوا کر رہا ہے تو اس بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتی کیونکہ اللہ دلوں کے حال بہتر جانتا ہے ۔
لیکن جب ایک انسان دل سے اتر جاتا ہے تو پھر وہ دوبارہ اس مقام پر نہیں آسکتا جس مقام پر ہم نے اسے پہلے رکھا تھا۔
تم سمجھدار ہو بہتر جانتی ہو میں کیا کہنا چاہ رہی ہو باقی جو تمھارا فیصلہ ہو گا تمھاری ماما ساتھ ہونگی
کوثر بیگم نے فضا کے ہاتھ کو ہلکا سا دبا کر تھپتھپاتے ہوئے کہا
کیونکہ وہ جان گئی تھی کہ ابھی تک فضا کسی فیصلے پر نہیں پہنچی اس لیے مزید اسے کریدنا ٹھیک نہیں تھا
مجھے نایاب کے بارے میں بھی تم سے بات کرنی تھی تمہیں تو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے؟
کوثر نے بات کو تبدل کرتے ہوئے پوچھا
نہیں ماما مجھے تو وہ بہت اچھی لگی ہے ۔
بھائی اور نایاب دونوں ساتھ بہت اچھے لگتے ہیں اور بھائی نایاب سے محبت کرتے ہیں اور میں خوش ہوں ۔
کم از کم بھائی کو اپنا پیار تو مل گیا ہے ورنہ لوگ ترستے ہیں اور ان کو سچی محبت نہیں ملتی بھائی خوش قسمت ہیں جس کو چاہا اسی سے شادی بھی کر لی فضا نے افسردگی سے مسکراتے ہوئے کہا ۔
بیٹا جو ہوتا ہے اس میں ہماری ہی بہتری ہوتی ہے اگر ہم. کسی چیز کی چاہ کر رہے ہیں اور وہ ہمیں نہیں مل رہی تو سمجھ جاؤ وہ ہمارے حق میں بہتر نہیں ہے ۔
اور پھر اللہ تعالیٰ ہمیں وہ چیز عطا کر دیتا ہے جس کا کبھی ہم نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا
اس لیے مایوس نہیں ہوتے اچھے کی امید رکھتے ہیں
کوثر بیگم نے پیار سے کہا۔
میرے ساتھ چلو صائم کی دلہن کے لیے میں نے کچھ سیٹ بنوائے تھے میں سوچ رہی ہوں اسے نایاب کو دے دوں کیونکہ آپی کی طرف ابھی جو مسئلہ چل رہا ہے اس دوران میں صائم کا ولیمہ تو نہیں کر سکتی ۔
کوثر نے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا جس نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنی ماں کے ساتھ ان کے کمرے میں چلی گئی ۔
💗💗💗💗💗💗
روحی اب کافی حد تک ٹھیک ہو گئی تھی آج اس کی آرزو سے بات ہوئی تھی جو روحی سے ملنے کی ضد کر رہی تھی۔
روحی نے شاہ سے پوچھ کر آرزو کو گھر آنے کا کہا تھا اور اب آرزو عرشمان کے ساتھ مال آئی تھی تاکہ روحی کی پسند کا پرفیوم لے سکے
جو اکثر آرزو روحی کو گفٹ کیا کرتی تھی۔
عرشمان کو مان کی کال آئی تھی جو آرزو کو اسی شاپ پر چھوڑ کر خود باہر آگیا تھا تاکہ کال اٹینڈ کر سکے۔
تھوڑی دیر بعد آرزو شاپ سے باہر آئی تاکہ عرشمان بل ادا کر سکے لیکن اسے باہر کہی بھی عرشمان نہیں نہیں آیا ۔
آرزو ابھی تھوڑا ہی آگئے آئی تھی
جب کسی نے اس کا بازو پکڑ کر کھنچا اور دیوار کے ساتھ لگایا
آرزو ایک دم گھبرا گئی تھی
لیکن مقابل کو دیکھ کر تو اس کے ہوش اڑ گئے تھے سامنے سفیان اپنی خونخوار نظروں سے آرزو کو دیکھ رہا تھا ۔
آرزو نے اپنے دائیں جانب دیکھا لوگ اہنے دھیان چلتے جا رہے تھے جو نا ہونے کے برابر تھے۔
اور اس طرف کی کافی شاپ بھی بند تھیں اس لیے لوگ بھی اس طرف کم ہی آرہے تھے
کیا ہوا ڈارلنگ؟
مجھے نہیں لگتا کہ تم مجھے اتنی جلدی بھول گئی ہو گی
سفیان نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔
آرزو نے سفیان کو پیچھے دھکا دینا چاہا لیکن بے سود
آرزو نازک سی جان کے بس کی بات نہیں تھی کہ وہ سفیان کو پیچھے کر سکتی۔
چھوڑو مجھے اگر تمہیں عرشمان نے دیکھ لیا تو وہ تمھیں جان سے مار دے گا۔
آرزو نے اپنے کندھے پر رکھے سفیان کے ہاتھوں کو پیچھے کرتے اسے دھمکی دیتے ہوئے کہا ۔
جو ناممکن ہی تھا سفیان ٹس سے مس تک نہیں ہوا تھا ۔
میں اپنا بدلہ جب تک تمھارے شوہر سے نہیں لے لوں گا میں سکون سے نہیں بیٹھو گا ۔
سفیان نے آرزو کے کان کے پاس غراتے ہوئے کہا اور بنا اسے سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اپنی جیب سے رومال نکال کر آرزو کے منہ ہر رکھ دیا جو تھوڑی دیر بعد بےہوش ہو کر وہی گر گئی ۔
💗💗💗💗💗💗
ایزل نظریں جھکائے بیٹھی تھی اس کے سامنے مان اور دائیں جانب فاخر بیٹھا تھا ۔
ایزل کے ساتھ ہی رقیہ بیگم بیٹھی تھیں
ایزل میں جانتا ہوں آکف کی وجہ سے تمھارے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ غلط تھا ۔مان نے بات کا آغاز کرتے ہوئے مزید کہا۔
اور میں آکف سے سخت ناراض بھی تھا اور اس کی جو حالت ہے تمھارے سامنے ہیں۔
میں نا تو یہ کہو گا کہ آکف کو معاف کر دو اور نا ہی تمہیں تمھارے گھر جانے کے لیے فورس کرو گا۔
لیکن اتنا ضرور کہو گا تمہارے ساتھ جو کچھ بھی ہوا میرے بھائی کی وجہ سے ہوا ہے وہ تو شکر ہے تم فاخر کو مل گئ۔
اور تم اب سے اسءی گھر میں رہو گی جب تک تم چاہو اور جس دن تمہیں کوئی ایسی جگہ مل گئی جہاں تم آرام سے اپنی زندگی گزار سکتی ہو اس دن میں بھی تمہیں یہاں سے جانے کی اجازت دے دوں گا ۔
لیکن ابھی میں تمہیں یہاں سے جانے نہیں دے سکتا اب سے تم. میری ذمہ داری ہو۔
اگر میں چاہتا تو تمہیں اپنے گھر بھی لے جاسکتا تھا لیکن وہاں آکف کا آنا جانا ہے جو تمہیں اچھا نہیں لگتا اس لیے تم یہاں رہو گی
فاخر میرا دوست بعد میں بھائی پہلے ہے یہاں تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا ۔
مان نے تحمل سے ساری بات ایزل کو سمجھاتے ہوئے کہا
ایک اور بات مان نے ایزل کو منہ کھولتے دیکھا تو کہا
یہاں سے جانے کی بات کے علاوہ تم کچھ بھی کہہ سکتی ہو
مان نے کہا اور پھر ایزل کی طرف دیکھا جس نے نفی میں سر ہلایا اس کا مطلب وہ کچھ نہیں کہنا چاہتی تھی۔
گڈ گرل اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو آنٹی کو کہہ دینا
مان نے رقیہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو مان کا اشارہ سمجھتے ہوئے ایزل کو وہاں سے گئی تھی ۔
ایزل مان کو منع کرنے ہی والی تھی لیکن مان کی بات نے اور دوسرا ایزل کے پاس بھی ایسی کوئی جگہ بھی نہیں تھی جہاں وہ جا سکتی اس لیے اس میں بھی اللہ کی کوئی نا کوئی مصلحت سمجھ کر مان گئی تھی۔
اور جتنے بھی دن اس کے یہاں گزرے تھے اسے کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا
مان آکف کو تم خود سمجھا دینا کہ وہ یہاں نا آئے ورنہ ایزل یہاں سے چلی جائے گی ۔
فاخر نے ایزل کے روم سے جاتے ہی سگریٹ کو سلگاتے مان کو کہا
فاخر سچ بتاؤ تو بہت تھک گیا ہوں میں یار
ایک مسئلہ ختم ہوتا نہیں ہے دوسرا مسئلہ سامنے آجاتا ہے۔
مان نے فاخر کی بات کو اگنور کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
فاخر خاموش ہو گیا تھا وہ جانتا تھا مان کا اشارہ کن چیزوں کی طرف ہے ۔
مان نے وہی صوفے سے ٹھیک لگائے آنکھیں موند لی تھیں ۔
💗💗💗💗💗
مان کہاں تھا تو؟
آکف نے روم میں اندر داخل ہوتے مان کو دیکھ کر بےتابی سے پوچھا کیونکہ کچھ دونوں سے گھر والے آکف کی اچھی کلاس لے چکے تھے۔
اور اسے گھر جانے بھی نہیں دے رہے تھے ۔
اوع کافی دنوں سے مان اسے ملنے بھی نہیں آیا تھا ۔
کیا ہوا؟
تو ٹھیک ہے؟ مان نے پریشانی سے پوچھا
ہاں میں ٹھیک ہوں اور اب مجھے گھر جانا ہے اور ایزل کو تلاش بھی کرنا ہے
آکف نے سنجیدگی سے کہا
ایزل مجھے مل چکی ہے مان نے عام سے لہجے میں کہا۔
کیا؟ کہا ہے وہ؟ کیسی ہے؟ وہ ٹھیک تو ہے نا؟ آکف ایک ہی سانس میں تین سوال پوچھ بیٹھا تھا۔
مان نے ساری صورتحال آکف کو بتا دی تھی ۔اور اس کی خوشی کی انتہا نہیں تھی
تمہیں کسی بھی طرح ایزل کو ماننا ہو گا اس سے معافی مانگنی ہو گی اور اگر وہ تمہیں معاف کر دیتی ہے تو میں خود تم دونوں کا نکاح کروا دوں گا
لیکن جب فاخر گھر پر نہیں ہو گا اس وقت تم ایزل سے ملنے جاؤ گئے رقیہ آنٹی سے میں نے بات کر لی ہے وہ تمہاری مدد کرے گئیں لیکن کچھ دنوں تک تم آرام کرو گئے اور گھر میں رہو گئے
مان نے تھکن زدہ لہجے میں کہا
ٹھیک ہے لیکن مجھے تو کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا؟
کیا ہوا ہے تجھے؟
آکف نے مان کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار دیکھتے ہوئے پوچھا
کچھ خاص نہیں وہی گھریلو مسائل میں پھنسا ہوا ہوں تو آرام کر ڈاکٹر نے کہا ہے تو اب گھر جا سکتا ہے۔
میں ڈسچارج پیپرز وغیرہ دیکھ لوں مان نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اور روم سے نکل گیا۔
اور آکف ایزل سے ملنے کے لیے اتنا بےتاب تھا اس نے سوچ لیا کہ آج ہی ہسپتال سے نکلتے وہ ایزل سے ملنے جائے گا
جبکہ مان نے اسے ابھی ملنے سے منع کیا تھا ۔
💗💗💗💗💗
آکف نے اپنے باپ کو الگ گاڑی میں آنے کا کہا کہ وہ ڈرائیور کے ساتھ آجائے گا پہلے تو عظیم صاحب نا مانے لیکن بعد میں مان گئے۔
مان گھر کی خواتین کو لے کر گھر چلا گیا تھا
اور آکف کے پاس یہی صحیح موقع تھا
ایزل کو ملنا کا احساس ہی اس کے چہرے سے مسکراہٹ الگ نہیں کر رہا تھا۔
اور اپنی جلدبازی میں آکف مان کی بات کو بھی نظر انداز کر چکا تھا۔
آکف انہی سوچوں میں گم تھا جب ڈرائیور کی آواز اسے ہوش کی دنیا میں لائی
آکف گاڑی سے باہر نکلا۔
اور سامنے بنے گھر کو دیکھ کر اس نے لمبا سانس بھرا
اس گھر میں وہ لڑکی تھی جس کو ڈھونڈنے کے لیے آکف در در بھٹکا تھا ۔
چوکیدار نے اسے اندر آنے دیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آکف فاخر کا دوست ہے ۔
ملازمہ نے رقیہ بیگم کو آکف کے آنے کی اطلاع دے دی تھی فاخر گھر پر نہیں تھا ۔
بیٹا ابھی آپ کو آرام کرنا چاہیے تھا
اب طبیعت کیسی ہے آپ کی؟ رقیہ بیگم نے پیار سے پوچھا
آنٹی اب میں ٹھیک ہوں
بس ایزل سے بات کرنا چاہتا ہوں آپ پلیز اسے بلا دیں
آکف نے جلدی سے کہا
ٹھیک ہے میں اسے بلاتی ہوں رقیہ بیگم نے کہا اور ایزل کو بلانے چلی گئی ۔
رقیہ نے ایزل کو آکف کے آنے کا نہیں بتایا تھا اور اسے دروازے کے پاس ہی چھوڑ کر چلی گئیں۔
ایزل نے حیرت سے آکف کو دیکھا جو ایزل کو ترسی ہوئی نظروں سے دیکھ کر اپنی آنکھوں کی پیاس بجھا رہا تھا
جس کے ماتھے پر سفید پٹی بندی ہوئی تھی اور کافی مرجھایا ہوا بھی لگ رہا تھا۔
ایزل نے آکف کو دیکھا تو اپنے قدم دروازے کی طرف بڑھا دیے۔
ایزل پلیز ایک بار میری بات سن لو
آکف نے التجا کرتے ہوئے کہا
اگر تو تم. مجھ سے معافی مانگنے آئے ہو تو معارف کرنا میرا اتنا بڑا ظرف نہیں ہے
اور اب تم یہاں سے جا سکتے ہو
ایزل نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا پلیز ایک بار مجھے معاف کر دو میں مانتا ہوں میری وجہ سے تمہیں بہت تکلیف پہنچی ہے
میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں
آکف نے ایزل کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
جس نے پہلے تو حیرانگی پھر تمسخرانہ انداز میں آکف کو کہا
نکاح؟ وہ بھی تم سے؟ ایسا تم نے سوچ بھی کیسے لیا۔
جس انسان نے میری زندگی برباد کر دی میں اسی سے نکاح کرو گئ؟
کبھی نہیں اور نکاح کی بات اپنے دماغ سے نکال دو آکف مرتضی
میں تم سے تو کبھی نکاح نہیں کرو گی
ایزل نے دو ٹوک انداز میں کہا ۔
میں محبت کرتا ہوں تم سے ایزل پلیز ایسا مت کہو
اتنی ظالم مت بنو میں مر جاؤں گا
آکف نے بےبسی سے کہا۔
اس کی آواز کا قرب بھی سامنے کھڑی ایزل کا دل نرم نہیں کر رہا تھا۔
ایزل لاپرواہ بنی کھڑی آکف کو بے تاثر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
پلیز میرا ہاتھ تھام لو وعدہ کرتا ہوں کبھی بھی تمھارا ساتھ نہیں چھوڑوں گا ۔
آکف نے ایزل کے ہاتھ کو اپنے ٹھنڈے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
اس وقت آکف مرتضی بے بسی کی انتہا پر کھڑا تھا۔
اسے لگا تھا سب آسان ہو گا لیکن یہ معاملہ اتنا بھی آسان نہیں تھا جتنا آکف کو لگ رہا تھا ۔ایزل کی آنکھوں میں خود کے لیے نفرت دیکھنا آکف کو تکلیف سے دوچار کر گیا تھا ۔
سامنے کھڑی ظالم لڑکی سے نا جانے کب آکف محبت کرنے کی غلطی کر بیٹھا تھا اگر اس کے اپنے اختیار میں ہوتا تو کبھی بھی محبت کرنے کا گناہ نا کرتا ۔لیکن یہ گناہ اس سے سر زرد ہو گیا تھا ۔
ان چند دنوں میں ہی آکف مرتضی جنونی حد تک ایزل جہانگیر سے محبت کرنے لگا تھا
“انسان کے اپنے اختیار میں کب ہوتا ہے
وہ جتنا اس احساس سے دور بھاگتا ہے اتنا ہی وہ احساس اسے خود کی لپٹ میں لے لیتا ہے”
آکف نے بھی بہت کوشش کی اپنا دامن بچا کر نکلنے کی مگر یہ دل……
ہائے یہ دل اس کی سننتا کب ہے ۔
ظالم….. ظالم میں یا تم آکف مرتضی ؟
ایزل نے طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے اپنا ہاتھ آکف کی گرفت سے آذاد کروایا.
میں معافی مانگتا ہوں اگر تم کہتی ہو تو تمھارے پاؤں پڑ جاتا ہوں لیکن مجھے اس تکلیف سے دوچار مت کرو جس کو سہنے کی مجھ میں سکت نہیں ہے ۔
آکف نے ایزل کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے سر جھکا کر کہا۔
ضبط سے آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں ۔اس کے چہرے کی ازیت، لہجے کی بےبسی بھی ایزل کا پتھر دل نرم کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی تھی..
ایزل کے دل کو پتھر کرنے میں اہم کردار بھی تو آکف مرتضی کا ہی تھا۔
آکف جیسا خوبرو مرد اس وقت ایک ٹوٹے بکھرے انسان کی مانند لگ رہا تھا۔
محبت نے اسے کہی کا نہیں چھوڑا تھا اور قسمت کا کھیل دیکھو ہوا بھی اُس بے رحم لڑکی سے تھا جس کا ملنا شاید اس کے مقدر میں نہیں تھا۔
اگر کوئی جاننے والا آکف مرتضی کو اس حالت میں دیکھتا تو اپنی نظروں کا دھوکا سمجھتا۔
ایزل کی محبت نے اسے بےبس اور لاچار بنا دیا تھا…
پیچھلے بیس دنوں سے آکف ایزل کو پاگلوں کی طرح تلاش کررہا تھا جانے انجانے میں وہ ایزل کو بہت تکلیف پہچا چکا تھا اس کے بعد اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور مان ہی جانتا ہےطکس طرح اس نے کچھ دن آکف کو ہسپتال میں روک رکھا تھا
اور بات صرف معافی کی نہیں تھی بلکہ محبت تک پہنچ چکی تھی
آکف مرتضی ایزل کے چند میٹھے بول کا طلبگار تھا….
اس کے الفاظ سے اپنے سینے میں لگی آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہتا تھا۔
مجھے تمھاری معافی کی ضرورت نہیں آکف مرتضی
گزرا ہوا وقت اگر تم واپس لا سکتے ہو تو لادو میں بھی وعدہ کرتی ہوں تمہیں معاف کر دوں گی۔
ایزل نے آکف کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پتھریلے لہجے میں کہا اور اپنی نظریں سامنے دیوار پر لگی تصویر پر جما دی ۔
آکف نے دھاندلاتی آنکھوں سے ایزل کو دیکھا ۔کاش وہ گزرے وقت کو واپس لا سکتا
کاش وہ ایزل کے ساتھ کی ہوئی زیادتی کو بدل سکتا ۔کاش اس کاش پر آکر سب کچھ رک جاتا ہے۔
وقت گزر جاتا ہے اور پیچھے اگر کچھ چھوڑ کر جاتا ہے تو وہ ہے پچھتاوا
جو انسان کو ساری زندگی زہریلے سانپ کی طرح ڈستا رہتا ہے ۔
اور انسان اس زہر کو بھی اپنے جسم سے باہر نہیں نکال سکتا۔
زندگی کے ہر موڑ پر اسے اپنے کیے کا افسوس ہوتا ہے آکف کے ساتھ بھی شاید ایسا ہی ہونے والا تھا لیکن اس نے تو پچھتاوے کے ساتھ محبت کا روگ بھی پال لیا تھا ۔
اب خاموش کیوں ہو آکف مرتضی ؟ ایزل کا انداز تمسخرانہ تھا۔
آکف نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں اس کے چہرے پر چھائی تکلیف، بےبسی حتیٰ کے قرب بھی ایزل کو دکھائی دے رہا تھا۔
آکف مرتضی جس نے کبھی کسی پر اپنے احساسات اور تاثرات ظاہر نہیں ہونے دیے آج ایک لڑکی کے سامنے کھلی کتاب کی طرح کھڑا تھا۔
جیسے وہ آسانی سے پڑھ سکتی تھی یا صرف یہ عنایت ایزل کے لیے ہی تھی کسی اور کا آکف کو پڑھنا ابھی بھی ناممکن تھا ۔
اپنی حالت دیکھو آکف مرتضی کیا سے کیا بن گئے ہو؟ سب کچھ ہے تمھارے پاس پیسہ، عزت شان وشوکت ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے بھی تم بے چین ہو جانتے ہو کیوں؟
کیونکہ دوسروں کو تکلیف دے کر انسان کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتا ۔
مجھے تو تمہیں دیکھ کر حیرت ہوئی ہے اور ساتھ ساتھ تم پر ترس کھانے کا بھی دل کررہا ہے…
لیکن تم تو ترس کھانے کے لائق بھی نہیں ہو تمہیں اس حال میں روتا بلکتا دیکھ کر مجھے حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہورہی ہے تم اس بات کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے….
ایزل نے آکف کی آنکھوں میں خود کے عکس کو دیکھتے ہوئے مزید اپنے بات کو جاری رکھتے ہوئے زہر خند لہجے میں کہا۔
جس طرح میں در در بھٹکی ہوں صبح سے لے کر رات تک لاوارثوں کی طرح سڑکوں کی خاک چھانی ہے جو تکلیف میں نے برداشت کی ہے اُسی طرح اب تم پر بیتے گی اور یہ تکلیف تمہیں میری تکلیف کی یاد دلائے گی۔
تمھارے چھوٹے سے مزاح کی میں نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔
آکف مرتضی
اُس دن کو اگر میں بھولنا بھی چاہو تو کبھی نہیں بھول سکتی وہ دن ایک بھیانک خواب کی طرح ہر وقت میرے دماغ میں سوار رہتی ہے
جب میرے اپنے ہی بھائی نے مجھ پر الزام لگا کر مجھے گھر سے دھکے دے کر نکالا تھا …
جب بھی تمھاری شکل دیکھتی ہوں مجھے مزید تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔
تمھاری وجہ سے مجھے بے گھر کر دیا گیا تمھاری وجہ سے میرے بھائی نے مجھ سے منہ پھیر لیا ۔
ایزل نے نفرت و حقارت بھرے لہجے میں آکف کو شعلہ برساتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
جو بت بنا اپنی محبت کے منہ سے خود کے لیے ایسے القابات سن رہا تھا۔
جسے سننے کی ہمت اس میں نہیں تھی آکف نے پاس پڑی کرسی کا سہارا لیا اور خود کو گرنے سے بچایا۔
ایزل ایک موقع صرف ایک موقع تو تم مجھے دے سکتی ہو…
میرا پل پل تکلیف میں رہنا رونا، سسکنا تمھیں دکھائی نہیں دیتا؟
تمھارے دل میں رحم پیدا نہیں ہوتا تم اتنی بے حس تو نہیں تھی۔
میں مانتا ہوں میری غلطی تھی مجھے تمھارے کمرے میں نہیں آنا چاہیے تھا لیکن میرا یقین کرو میرا ارادہ تمہیں تکلیف پہچانے کا نہیں تھا
آکف نے تکلیف دہ لہجے میں کہا سینے میں اُٹھتے درد کی وجہ سے اس سے بولنے میں بھی دشواری ہو رہی تھی۔
غلطی تم سے ہوئی ہے جانے یا انجانے میں ہی سہی
سزا تو مجھے ہی بھگتنی پڑی ہے
اور آج تم اس گھر میں آگئے ہو دوبارہ یہاں آنے کی غلطی مت کرنا میں نہیں چاہتی تمہاری وجہ سے یہاں بھی مجھے ذلیل ہونا پڑے
ایزل نے سنجیدگی سے آکف کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا اور اپنے قدم دروازے کی طرف بڑھا دیے
میں مر جاؤ گا ایزل……
آکف کی آواز ایزل کے کانوں سے ٹکرائی تو اس نے حیران تاثرات چہرے پر لیے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
تو مر جاؤ مجھے تمھارے ہونے یا نا ہونے سے فرق نہیں پڑتا اور ہاں جہاں تک بات ہے…
بے رحم بننے کی تو ہاں میں بن گئ ہوں بے رحم میں نے اپنے جزبات اور احساسات کو دفنا دیا ہے۔
اب میرے پاس ایسا کوئی احساس نہیں ہے جس کی بنا پر مجھے تمھاری تکلیف یا بے بسی کا اندازہ ہو ایزل نے سفاکی سے تیکھے لہجے میں کہا اور پھر ایک سیکنڈ بھی کمرے میں نہیں رکی تھی۔
دو شفاف قطرے آکف کی آنکھوں سے نکل کر بے مول ہو گئے۔
آج خود میں بہت سی ہمت پیدا کرکے آکف مان کے کہنے پر ایزل سے معافی مانگنے آیا تھا
فاخر اس بات لاعلم تھا مان نے اسے کچھ بھی بتانے سے منع کیا تھا
آکف کی چھوٹی سی غلطی جو انجانے میں ہوئی اسے اتنا خوار کرے گی اسے معلوم نہیں تھا ۔
……….