No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
کیا ہوا ہے تجھے؟
مان نے آکف سے پوچھا
جو اپنی گاڑی سے تھوڑا دور اس کی طرف پشت کیے کھڑا تھا
مان کی آواز پر اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا لیکن آکف کی سرخ آنکھیں بکھرے بال اور عجیب حلیہ دیکھ کر مان بھی پریشان ہوا تھا
مان مجھے وہ چاہیے
آکف نے مان نے گلے لگتے ہوئے کہا کب سے کیا ہوا صبر اب جواب دے گیا تھا
مان نے اپنے کندھے کی شرٹ کو بھگتنا ہوا محسوس کیا تو آکف سے کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹا ۔
آکف کا رونا مان کے لیے ناقابلِ قبول تھا
آکف کیا ہوا ہے؟ تم رو رہے ہو؟
مان نے آکف کو دیکھتے ہوئے پوچھا جس کا چہرہ کافی مرجھایا ہوا لگ رہا تھا
مان میری وجہ سے آج ایک معصوم اپنے گھر والوں کے سامنے رسوا ہوئی ہے مجھے وہ چاہیے آکف نے بھیگے لہجے میں کہا ۔
کیا کیا ہے تو نے اور کون چاہیے کس کی بات کر رہے ہو تم؟
مان نے نا سمجھی سے پوچھا
ایزل آکف نے سرخ آنکھیں مان کی سنجیدہ آنکھوں میں گارڈھتے ہوئے کہا
ایزل وہ آفس والی؟ مان نے حیرانگی سے پوچھا
آکف نے اثبات میں سر ہلایا
آکف کیا کیا ہے تم نے اس کے ساتھ امید کرتا ہوں تم نے کچھ ایسا نہیں کیا ہو گا جس کی وجہ سے اس کی عزت پر بات آئی ہو
مان کا اشارا اس کی رسوا کرنے والی بات کی طرف تھا ۔
مان مجھے نہیں پتہ تھا میرا چھوٹا سا مزاح اس کے لیے اتنا بڑا مسئلہ کھڑا کر دے گا
آکف نے بےبسی سے کہا
آکف کیا کیا ہے تم نے؟ اس بار مان نے دانت پیستے ہوئے پوچھا
وہ کچھ دنوں سے آفس نہیں آرہی تھی تو میں اس کے گھر گیا تھا آکف یہ کہہ کر خاموش ہو گیا
تو؟ مان نے پوچھا
میں کھڑکی سے اس کے کمرے میں گیا تھا شاید اس کے بھائی نے دیکھ لیا اور اسے گھر سے نکال دیا
میں اس دن سے ایزل کو تلاش لر رہا ہوں لیکن وہ مجھے کہی نہیں ملی
آکف نے بات مکمل کرکے اپنی نظریں جھکا لیں
آکف اگر تم نے اس کے گھر جانا ہی تھا تو دروازے سے جاتے اس کے کمرے میں. جانے کی کیا ضرورت تھی؟
اگر اس کے بھائی کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو وہ بھی غلط ہی سمجھتا
مان نے غصے میں کہا
اور یقیناً بات کچھ اور بھی ہے
کیونکہ اتنی سی بات پر گھر سے نہیں نکالا جا سکتا ۔
مان نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
میں ایزل کے گھر گیا تھا لیکن وہاں اس کی بھابھی نے جو باتیں مجھے سنائی میں بھی حیران ہو گیا تھا مال میں میں نے مزاح میں ایزل کا ہاتھ پکڑا تھا اور یہ سب اس کا بھائی دیکھ چکا تھا اور شاید جو میں نے بکواس کی وہ بھی اس نے سن لی تھی
اور جب اس کے بھائی نے کسی لڑکے کو اپنی بہن کے کمرے میں دیکھا تو غصے میں اسے گھر سے نکال دیا ۔
مان ایزل بے قصور ہے
بنا غلطی کے اسے سزا مل رہی ہے
مجھے وہ چاہیے میں اس سے معافی مانگنا چاہتا ہوں
آکف نے مایوسی سے کہا اس کے لہجے میں بےبسی کے ساتھ شرمندگی بھی تھی
تم نے ایزل کے بھائی سے بات کی ان کی غلط فہمی دور کی؟
مان نے سنجیدگی سے آکف کو دیکھتے ہوئے پوچھا
وہ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا بات کیا سنے گا؟
آکف نے غصے میں کہا اسے ایزل کے بھائی پر بھی بہت غصہ آرہا تھا ۔
لیکن میں تمھاری مدد نہیں کروں گا آکف مرتضی
مان نے پوری بات سننے کے بعد دوٹوک انداز میں کہا اس سارا قصور آکف کا ہی لگا تھا
مان اب تم بھی میرے ساتھ غیروں والا سلوک کرو گئے
آکف نے ٹوٹےپھوٹے لہجے میں کہا
بلکل میں تیری مدد نہیں کروں گا
اگر وہ لڑکی اب تک زندہ بھی ہوئی اور واپس بھی آجاتی ہے تو کیا اس کی عزت پر جو تمھاری وجہ سے داغ لگ چکا ہے کیا وہ دھل جائے گا؟
کیا اس کا بھائی اسے اپنا لے گا؟
نہیں…..
تم اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتے اب تو کافی دن گزر چکے ہیں بقول تمھارے اسکے بھائی کے سوا اس دنیا میں اس لڑکی کا کوئی نہیں تھا تو وہ کہاں گئی ہو گی؟
اور یہ دنیا کتنی ظالم ہے تم اچھے سے جانتے ہو اگر اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آگیا ہوا تو کیا کرو گئے؟
تم صرف اس سے معافی مانگنا چاہتے ہو اور جو کچھ ان چند دنوں میں اس کے ساتھ ہوا ہو گا اس کا ذمہ دار کون ہو گا آکف مرتضی؟
مان نے کرخت لہجے میں سینے پر بازو باندھتے ہوئے پوچھا
تو ایزل کو ڈھونڈنے میں. میری مدد کرے گا یا نہیں؟
آکف نے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا
نہیں…
مان نے کہا
ٹھیک ہے
جب تک میں ایزل کو ڈھونڈ نہیں لیتا گھر نہیں آؤ گا
اور اگر ایزل مجھے نا بھی ملی تو خود کو ختم کر لو گا
لیکن اس کے بغیر میں گھر نہیں آؤں گا
بتا دینا گھر میں سب کو
اور ہاں مجھے پوری امید ہے کہ ایزل مجھے ضرور مل جائے گی اور جس دن وہ مجھے مل گئی اسی دن اس سے نکاح کر لوں گا پھر چاہے زبردستی ہی کیوں نا کرنا پڑے
آکف نے طیش میں کہا
اور وہاں سے جانے لگا
نکاح کرکے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنا چاہتے ہو اور جو تکلیف تمھاری وجہ سے ایزل کو پہنچی ہے اس کا کیا کرو گئے؟ خود کو مطمئن کرنا چاہتے ہو سکون چاہتے ہو لیکن اس کو سکون کیسے دو گئے؟
اور جہاں تک مجھے لگتا ہے وہ تمھاری شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گی
مان نے سرد لہجے میں کہا
ایک سیکنڈ تمہیں کیوں اتنی تکلیف ہو رہی ہے کہی مہرو کے ساتھ ساتھ تمھاری نظر ایزل پر تو نہیں تھی؟
تمھارے آفس میں ہی کام کرتی تھی اور تم علیدان کے ہی بھائی ہو تو اسے الگ تو نہیں ہو گئے
آکف نہیں جانتا تھا غصے میں وہ کیا بکواس کر چکا ہے
مان نے حیرت سے آکف کو دیکھا جو خونخوار نظروں سے مان کو دیکھ رہا تھا
مان اگلے بڑھا اور اور زور دار مکا آکف کے جبڑے پر دے مارا جو لڑکھڑا کر مان سے دو قدم پیچھے جا کھڑا ہوا
تیری سوچ اتنی گھٹیا ہے یہ بھی مجھے آج پتہ چل گیا ہے
مجھے سب سے زیادہ تو جانتا ہے اور آج تو مجھ پر الزام لگا رہا ہے بتا مجھے کتنی لڑکیوں پر میں نے نظر رکھی ہے یا کتنی لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزاری ہے تجھے تو میرے بارے میں سب پتہ ہے
اگر تو مجھے تھپڑ بھی مار دیتا تو وہ بھی مجھے اتنی تکلیف نا دیتا آکف مرتضی جتنے تیرے الفاظ نے مجھے لہولہان کیا ہے ۔
تیرے یہ الفاظ میرے یہاں آکر لگے ہیں مان نے اپنے دل کے مقام پر انگلی رکھتے دھاڑتے ہوئے کہا اس کی آنکھیں انگارے کی طرح لال ہو رہی تھیں
اگر آکف کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک مان کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھا ہوتا
مان میری بات….
آکف نے کچھ کہنا چاہا لیکن مان نے اسے روک دیا تھا
آکف کو بھی احساس ہو گیا تھا کہ وہ غصے میں بہت غلط بول چکا ہے جبکہ مان کو وہ خود سے بھی بہتر جانتا تھا
بس آکف مرتضی مجھے تمھاری کسی قسم کی صفائی کی ضرورت نہیں ہے
اب میں یہ کہتا ہوں اللہ کرے ایزل تمہیں مل جائے لیکن تمہیں وہ کبھی معاف نا کرے پل پل تمھیں تڑپائے
پھر تمہیں احساس ہو گا
کہ اصل تکلیف کیا ہوتی ہے؟ پھر چاہے وہ تکلیف لفظوں کی ہو یا مار کی
مان نے سرخ ہوتے چہرے سے کہا اور پھر ایک سیکنڈ بھی وہاں نہیں رکا تھا
آکف بےبسی سے مان کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا وہ جانتا تھا غصے میں بہت غلط بول چکا ہے اور مان بھی کافی ہرٹ ہوا ہے اس لیے تو اسلام میں غصے کو حرام قرار دیا ہے
آکف وہی پر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا
💗💗💗💗💗💗💗
کیا کر رہی ہو؟
عرشمان نے آرزو کو اپنے بازوں کے حصار میں لیتے ہوئے پیار سے پوچھا
جو عرشمان کے ایک دم قریب آنے پر بوکھلا گئی تھی
تم کب آئے؟ آرزو نے عرشمان کی طرف مڑتے ہوئے نظریں جھکا کر پوچھا
ابھی آیا اور تمھارے لیے ایک گفٹ لایا ہوں عرشمان نے مسکراتے ہوئے کہا
پیچھلے کچھ دنوں سے اس کا رویہ آرزو سے کافی بہتر ہو گیا تھا
کیا؟
آرزو نے عرشمان کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
آنکھیں بند کرو
عرشمان کی فرمائش پر آرزو نے اسے حیرانگی سے دیکھا
ارے کچھ ایسا ویسا نہیں کروں گا
عرشمان نے ہنستے ہوئے کہا تو پہلے آرزو نے اسے گھورا اور پھر اپنی آنکھیں بند کر لیں
عرشمان آرزو سے تھوڑا پیچھے ہٹا اور اپنی پینٹ کی پاکٹ سے ایک خوبصورت اور نفیس سا لاکٹ نکالا جو ہارٹ شیپ میں بنا ہوا تھا اور درمیان میں جھوٹا سا اے لکھا تھا
جب تک میں نا کہو تم آنکھیں نہیں کھولو گی
عرشمان نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا آرزو نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا
عرشمان نے آرزو کو کندھوں سے پکڑ کر آئینے کے سامنے کھڑا کیا اور اس کی گردن سے بال پیچھے ہٹا کر لاکٹ پہنانے لگا
اپنی گردن پر عرشمان کی انگلیوں کا لمس محسوس کرتے آرزو گھبرا گئی تھی
لیکن اس نے آنکھیں نہیں کھولی تھیں
اب آنکھیں کھول سکتی ہو
عرشمان نے آرزو کے کان کے پاس سرگوشی نما کہا
اور اس کے کان کی لو کو ہلکا سا اپنے ہونٹوں سے چھوا
عرشمان کی اس حرکت پر آرزو کانپ سی گئی تھی
آرزو نے جلدی بسے اپنی آنکھیں کھول لیں
کیسا ہے؟
عرشمان نے آرزو کے کندھے پر ٹھوڑی رکھتے ہوئے پوچھا
بہ بہت خوبصورت ہے آرزو نے کپکپاتے لہجے میں لاکٹ کو دیکھتے ہوئے کہا
عرشمان اس کی حالت کو اچھے بسے سمجھ رہا تھا
اس لیے ہلکا سا مسکرا پڑا تھا
میں چاہتا ہوں پیچھلی باتوں کو بھولا کر ہم دونوں اپنی زندگی کی نئی شروعات کرتے ہیں
عرشمان نے اس بار سنجیدگی سے کہا
آرزو عرشمان کو جواب دینا چاہتی تھی لیکن اسے الفاظ نہیں مل رہے تھے اور دوسرا عرشمان کی قربت اس کی جان ہلکان کر رہی تھی
عرشمان نے آرزو کا رخ خود کی طرف کرتے ہوئے کہا اور جھک کر اس کے لاکٹ پر ہونٹ رکھ دیے
آرزو نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لی تھیں
رات کو تیار رہنا ہم. لوگ باہر ڈنر کے لیے جائے گئے
عرشمان نے آرزو کو دیکھتے ہوئے کہا جو آنکھیں بند کیے کھڑی تھی
ڈر پھوک لڑکی
عرشمان نے ہنستے ہوئے کہا
آرزو نے جلدی سے آنکھیں کھولی اور حیرت سے عرشمان کو دیکھنے لگی اس سے پہلے وہ کچھ کہتی
عرشمان اس کے ہونٹوں پر جھک گیا
تھوڑی دیر بعد آرزو سے الگ ہونے کے بعد اس نے آرزو کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا جو گہرے سانس لے رہی تھی
تم کچھ کہنے والی تھی؟
آرزو نے نفی میں سر ہلایا نظریں ملانے کی تو اس میں ہمت نہیں تھی اس لیے بھاگ کر ڈریسنگ روم میں گھس گئی
عرشمان قہقہہ لگائے ہنسنے لگا تھا
اور کمرے سے نکل گیا اسے رات کے ڈنر کے لیے ارینجمنٹ کرنا تھا ۔
💗💗💗💗💗💗
سوہا لندن جانے والی تھی لیکن اس کے باپ نے اسے روک لیا تھا
انکو سوہا سے بزنس کے معاملے میں ایک ضروری کام تھا اور ناچاہتے ہوئے بھی سوہا کو رکنا پڑا تھا
سوہا لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اسی غنڈے کی اسے کال لیکن اس کی بات سن کر سوہا کا پارا ہائی ہو گیا تھا
کیا مطلب؟ روحی ابھی بھی زندہ ہے؟ سوہا نے چیختے ہوئے کہا روحی کے زندہ ہونے کی خبر نے اسے چیخنے پر مجبور کر دیا تھا
میری بات غور سے سن لڑکی اگر تو ایک گھنٹے کے اندر میرے باقی کے پیسے نا لے کر آئی تو تیرے گھر آجاؤ گا اور اسی جگہ آنا جہاں ہم پہلی بار ملے تھے سمجھی
مقابل نے غصے سے کہا اور کال کاٹ دی
کمینہ انسان میں نے روحی کو ختم کرنے کا کہا تھا اور کام پورا کیا نہیں پیسے پورے چاہیے
سوہا نے فون کو دیکھتے ہوئے منہ میں بڑبڑاتے کہا
اس نے جن غنڈوں کی مدد سے روحی کو کیڈنیپ کروایا تھا وہ دوسرے شہر میں جا کر روحی کو بیچ آئے تھے اور سوہا سے بھی باقی کے پیسے مانگ رہے تھے
جبکہ سوہا نے روحی کو جان سے مارنے کا کہا تھا لیکن ان غنڈوں نے بھی اپنا فائدہ دیکھا اور روحی کو شبو کے ہاتھوں بیچ دیا
اگر وہ سچ میں گھر آگئے تو؟ میں کیا کرو گی؟ شاہ کو پتہ چل گیا تو وہ میری جان لینے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگائے گا
ایسا کرتی ہوں باقی کے پیسے بھی دے دیتی ہوں کم از کم روحی شاہ سے تو دور ہی رہے گی
سوہا نے پریشانی سے سوچتے ہوئے حل نکالا کہا
ہاں یہ ٹھیک ہے سوہا نے خود سے کہا اور وہاں سے اٹھ گئی
شاہ جو پاگلوں کی طرح روحی کو ہر جگہ دیکھ چکا تھا یہاں تک کے اس نے ہسپتال بھی چیک کر لیے تھے لیکن روحی کا اسے کہی پتہ نہیں چلا تھا اور اب تھک ہار کر دوبارا سوہا کے گھر آیا تھا اس کے چاچو نے بلایا تھا
لیکن سوہا کو کسی سے فون پر بات کرتے دیکھ
وہی دروازے کے پاس رک گیا تھا
تمہیں اب میرے ہاتھوں کوئی نہیں بچا سکتا سوہا
شاہ نے دانت پیستے ہوئے کہا اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر تو لگ رہا تھا وہ سب کچھ سن چکا ہے
شاہ نے صفیہ بیگم کو روحی کے لاپتہ ہونے کا نہیں بتایا تھا ان سے یہی کہا تھا کہ روحی کو اس نے اپنے فارم ہاؤس پر رکھا ہے تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار سکے اور ایک دوسرے کو سمجھ سکے اور صفیہ بیگم تو شاہ کی بات سن کر خوش ہو گئی تھیں
وہ یہی تو چاہتی تھی
شاہ بنا اپنے چاچو سے ملنے وہی سے الٹے قدم واپس چلا گیا
💗💗💗💗💗💗💗
سوہا اس وقت اسی جگہ موجود تھی جہاں اس آدمی نے آنے کا کہا تھا
تھوڑی دیر بعد وہ غنڈہ بھی وہاں آگیا تھا
سوہا جب اپنے گھر سے نکلی تھی شاہ اور اس کے آدمی بھی اس کے پیچھے ہی تھے لیکن سوہا کو معلوم نہیں تھا
اس سے پہلے دونوں ایک دوسرے سے بات کرتے شاہ کے آدمی کسی طوفان کی طرح آئے تھے اور دونوں پر بندوقیں تانے کھڑے ہو گئے تھے
یہ جگہ کافی سنسان تھی
اسی جگہ پر سوہا پہلی بار اس غنڈے سے ملی تھی
وہ غنڈہ بھی شاہ کے آدمی کو دیکھ کر ڈر گیا تھا کیونکہ شاہ کے آدمی کوئی آدم خور ہی لگ رہے تھے
سوہا کے تو پسنے چھوٹ گئے تھے
شاہ تنے بوئے جبڑوں کے ساتھ بھاری قدم بڑھتا ہوا سوہا کے پاس آیا جو آنکھوں میں خوف لیے شاہ کو دیکھ رہی تھی جو چہرے پر خطر ناک تیوری لیے سوہا کو گھور رہا تھا
شاہ میں تمہیں…
اس سے پہلے سوہا اپنی بات مکمل کرتی
شاہ کا وزنی ہاتھ سوہا کے گال پر نشان چھوڑ گیا تھا
اور وہ زمین پر جا گری تھی ۔
ہمارا جو خاص کمرہ ہے سوہا میڈم کو وہاں لے جاؤ اور اگر یہ میرے آنے سے پہلے مری تو تمھاری خیر نہیں ہے
شاہ نے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھتے ہوئے کہا جو شاہ کے لیے ہی کام کرتی تھی
اور اب معاملہ سوہا کا تھا
اور شاہ نہیں چاہتا تھا کوئی بھی آدمی سوہا کو ہاتھ لگائے
وہ لڑکی سوہا کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لے گئ تھی جو چلا چلا کر شاہ سے معافی مانگ رہی تھی
شاہ نے اپنے آدمی کو اشارہ کیا
پھر شاہ کے آدمیوں نے اس غنڈے کو اتنا مارا
کہ وہ بےہوش ہو گیا
ڈالو اسے گاڑی میں شاہ نے سنجیدگی سے کہا اور اپنی گاڑی کی طرف چل پڑا
…………..
گرم پانی ڈالو اس پر شاہ نے اپنے پاس کھڑے آدمی کو کہا
جس نے گرم پانی اس غنڈے پر ڈال دیا تھا
جو ہڑبڑا کر ہوش میں آیا
اور چیخنے چلانے لگا
کون ہو تم لوگ؟ کیوں مجھے قید کیا ہوا ہے؟
کرسی پر بندھے آدمی نے کہا جلن کے مارے اس کی جان نکل رہی تھی
میں صرف ایک بار پوچھوں گا اگر تم نے جواب غلط دیا تو پھر گرم پانی کی جگہ گرم تیل تمھارے اوپر ڈالوں گا
اب بتاؤ میری بیوی کہاں ہے؟
شاہ نے پہلے دھمکی دی اس کے بعد روحی کا پوچھا
کون و وہ لڑکی اسے تو میں شبو بائی کے کوٹھے پر بیچ آیا تھا ۔
اس غنڈے نے سچ بولنے میں ہی عافیت جانی
کہاں ہے شبو بائی کا کوٹھا؟
شاہ نے طیش کے عالم میں اس آدمی کو بالوں سے پکڑتے ہوۓ پوچھا
جس نے جلدی سے کوٹھے کا اڈریس بتا دیا
شاہ نے ایک غصیلے نگاہ کرسی پر بندھے آدمی پر ڈالی اور وہاں سے نکل گیا
💗💗💗💗💗💗
روحی کو یہاں آئے دو دن ہو چکے تھے دو دن سے وہ بےہوش ہی تھی آج ہی اسے ہوش آیا تھا ۔
جب اس نے خود کو انجان جگہ پر پایا تو شور مچانے لگی لیکن کوئی بھی اس کے پاس نہیں آیا تھا
ایک لڑکی آکر اس کے پاس کھانا رکھ کر چلی گئی تھی جسے روحی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا
روحی اپنے گھٹنوں پر سر رکھے شاہ کو ہی سوچ رہی تھی شاہ نے اسے منع کیا تھا کہ سوہا کے ساتھ کہی نا جائے لیکن اس دن سوہا نے ضد کی تو مجبوراً روحی کو سوہا کے ساتھ جانا پڑا
وہ صفیہ بیگم کو منع نہیں کر سکی تھی روحی انہی سوچوں میں گم تھی جب اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی
اس نے دروازے کی طرف دیکھا تو وہاں پر تقریباً چالیس سال کی عورت کھڑی عجیب نظروں سے روحی کو دیکھ رہی تھی اس عورت کو دیکھ کر ہی روحی کو کراہت محسوس ہوئی تھی
اے لڑکی جلدی سے ان کو پہن اور باہر آ
شبو نے گھنگھرو اور ایک سرخ جوڑا روحی کے سامنے پھینکتے ہوئے نحوست سے کہا جو اس کوٹھے کی بائی تھی ساری لڑکیاں اس کے اشاروں پر چلتی تھی
شبو لڑکیوں کو سمگل بھی کرتی تھی
پلیز مجھے جانے دیں
میں ایسی لڑکی نہیں ہوں
روحی نے روتے ہوئے کہا اب تو اس سے بولا بھی نہیں جارہا تھا جتنا وہ چیخی اور چلائی تھی اب اس کا گلہ بیٹھ گیا تھا
میں نے بہت تیرے نخرے برداشت کر لیے اب نہیں کروں گی
جلدی سے تیار ہو جا
ورنہ تجھے ایسی لڑکی سے ویسی لڑکی بنانے میں دیر نہیں لگاؤ گی
شبو نے روحی کو بالوں سے پکڑتے ہوۓ غصے سے کہا
جو تم چاہتی ہو وہ میں کبھی نہیں کرو گی
روحی نے شبو کو پیچھے دھکا دیتے ہوئے کہا
جس کا سر دیوار کے ساتھ جا لگا تھا
شبو نے کراہ کر اپنے سر پر ہاتھ رکھا جہاں سے خون نکل رہا تھا
تیری اتنی ہمت
ابھی تیری ساری اکڑ نکالتی ہوں
شبو نے طیش میں کہا اور دروازے کے پاس لٹکی بیلٹ کو پکڑا جو یہاں آئی لڑکیوں کو مارنے کے لیے استعمال کرتی تھی جو شبو کی بات ماننے سے انکار کرتی
روحی آنکھوں میں خوف لیے شبو کو دیکھ رہی تھی
ماتھے سے نکلتا خون اس کے چہرے پر پھیل گیا تھا میک اب سے لدھا چہرا اس وقت خوفناک منظر پیش کر رہا تھا
شبو روحی کے پاس آئی جو پیچھے دیوار کے ساتھ جا لگی اور اپنا سر نفی میں ہلانے لگی
شبو اندھا دھند روحی کو بلٹ سے مارنے لگی تھی
روحی کی درد ناک چیخے پورے کمرے میں گونج رہی تھیں
لیکن شبو کو اس پر رحم نہیں آیا جب روحی مزید درد برداشت نہیں کر سکی تو وہی زمین پر پڑی بےہوش ہو گئ
زخموں سے خون رسنے لگا تھا
شبو نے روحی کے بےہوش ہونے کی بھی پرواہ نہیں کی اور اسے مارتی رہی
جب اس کا اپنا دل بھر گیا تو روحی سے پیچھے ہوئی جو ناجانے کب کی بےہوش ہو چکی تھی
تو ابھی مجھے جانتی نہیں ہے شبو سے کوئی اونچی آواز میں بات نہیں کرتا اور تو نے مجھے دھکا دیا
تیرے نخرے دیکھنے کے لیے شبو نے اتنی بھاری قیمت نہیں دی
اب تیرے ذریعے میں اپنی رقم ڈبل وصول کر کروں گی
شبو نے اپنے ماتھے پر جمے خون کو اپنے ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔
اور کمرے سے باہر نکل گئ
کہ ایک لڑکی ہانپتی ہوئی شبو کے پاس آئی بائی باہر پولیس آئی ہے اس لڑکی نے شبو کے سر پر بم پھوڑا
کیا بک رہی ہے؟
پولیس کا یہاں کیا کام ہے ابھی وہ یہی بات کر ہی تھی جب شاہ اپنی روبدار پرسنیلٹی اور تنے ہوئے جبڑوں سے اندر آیا
