Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 50


صبح جب کومل کی آنکھ کھلی تو خود کو کسی اجنبی کے کمرے میں دیکھ کر چھت کو گھورنے لگی اور کل اس کے ساتھ کیا کچھ ہوا اُس کے بارے میں سوچنے لگی ۔
لیکن جیسے ہی اس کا دماغ بیدار ہوا اور اسے سب یاد آیا تو فوراً اُٹھ کر بیٹھ گئی اس نے ارد گرد نظریں دہرائی لیکن کمرہ خالی تھا ۔صبح کے آٹھ بج رہے تھے ۔
کومل وہی اپنا سر پکڑے بیٹھ گئی۔
اچانک اس کا دھیان اپنی شرٹ کی طرف گیا جو اسکی اپنی تو بلکل بھی نہیں تھی بلکہ عامر کی تھی۔
کومل نے دو چار گالیوں سے عامر کو نوازا اور اپنے کپڑے اٹھا کر باتھروم کی طرف چلی گئی۔
ابھی گھر جانا زیادہ ضروری تھا اگر کسی کو پتہ چل جاتا تو کومل کیا جواب دیتی ۔
لیکن وہ نہیں جانتی تھی عامر پہلے ہی صائم کو کال کر کے کومل کی اپنے گھر موجودگی کے بارے میں بتا چکا ہے ۔
کومل باتھروم سے باہر آئی تو عامر کو مسکراتا دیکھ اس کا غصہ پھر سے عود آیا تھا ۔
تم ایک گھٹیا انسان ہو تم میں زرا سی بھی شرم نہیں ہے۔
جو کچھ تم نے رات کیا میں اُس کے لیے تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی ۔
تم نے میری بے بسی کا فائدہ اٹھایا ہے
کومل نے غصے سے کھولتے عامر کا کالر پکڑتے ہوئے کہا۔
جو ابھی بھی کھڑا مسکرا رہا تھا ۔
عامر نے کومل کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود کے قریب تر کیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔
جو میں نے رات کیا وہ میرا حق تھا اگر وہ سب میں نے تمھارے ساتھ بغیر نکاح کے کرتا تو تمھارے لگائے گئے سارے الزام میں تسلیم کر لیتا۔
لیکن تم میری بیوی ہو نکاح ہوا ہے میرا تمھارے ساتھ
کچھ بھی غلط نہیں کیا میں نے اور ایک بات تمھارے بھائی کو میں کال کر چکا ہوں وہ جانتا ہے کہ تم نے پوری رات اپنے شوہر کے ساتھ گزاری ہے۔
اب اپنے بھائی کو تم خود جواب دینا ۔
عامر نے کہتے ہی کومل کے ہونٹوں کو ہلکا سا چھوا جو حیرت کے مارے آنکھیں پھاڑے عامر کو دیکھ رہی تھی ۔
جبکہ عامر نے صائم کو ایسا کچھ نہیں کہا تھا اس نے کومل کے اپنے گھر میں ہونے کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ ماما کچھ وقت کومل کے ساتھ گزرنا چاہتی تھی جب انہوں نے یہ بات کومل سے کی تو وہ رات کو ہی دوڑی چلی آئی۔
تم سچ میں پاگل انسان ہو اگر مجھے ایک خون معاف ہوتا تو وہ خون میں تمھارا کرتی
کومل نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔
عامر کومل کی بات پر کھلکھلا کر ہنس پڑا تھااگر جان لینے والا اتنا خوبصورت ہو تو انسان خوشی خوشی اپنی جا دے دیں ۔
۔اور بیگم صاحبہ امید کرتا ہوں رات آپ کو اچھا سبق ملا ہو گا۔
آئندہ رخصتی تک میرے قریب آنے سے پہلے سو بار سوچنا اور جن کاموں سے میں نے تمہیں منع کیا ہے اگر وہ مجھے تم کرتی ہوئی نظر آئی تو پھر نتائج کے لیے بھی تیار رہنا ۔
اور جاؤ ابھی ماما سو رہی ہے ڈرائیور تمہیں گھر پ
چھوڑ دے گا ۔
عامر نے سنجیدگی سے کہتے کومل کی گردن پر اپنے دہکتے لب رکھ دیے۔
کومل کی مزاحمت کرنے کے باوجود عامر اپنا کام کرکے ہی پیچھے ہٹا ۔
کومل نے کھا جانے والی نظروں سے عامر کو دیکھا اور اسے پیچھے دھکا دے کر کمرے سے نکل گئی ۔
بس تمہیں تھوڑا سیٹ کرنے کی ضرورت ہے ورنہ بری تم بلکل بھی نہیں ہو ۔
کومل کے جاتے ہی عامر نے خود سے کہا اور بیڈ پر پڑی اپنی شرٹ کو دیکھ لر مسکرا پڑا ۔
💞💞💞💞💞💞💞
شاہ نے روحی کو گرتے ہوئے دیکھا لیکن اس کے پاس نہیں آیا ۔
صفیہ بیگم جو کمرے میں داخل ہو رہی تھی روحی کو زمین بوس ہوئے دیکھ جلدی سے اس کے پاس آئی ۔
روحی…
کیا ہوا ہے اسے؟ اور تم کھڑے شکل کیا دیکھ رہے ہو ڈاکٹر کو فون کرو ۔صفیہ بیگم نے شاہ کو دیکھتے غصے میں کہا ۔
کچھ نہیں ہوا اسے آجائے گی ہوش
شاہ نے پتھریلے لہجے میں کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا ۔
صفیہ بیگم حیرت زدہ اپنے بیٹے کے رویے کے بارے میں. سوچ رہی تھی انہوں نے روحی کے گال کو تھپتھپایا لیکن وہ بے سدھ زمین پر پڑی رہی۔
اور کافی کوشش کے بعد روحی کو بیڈ پر لیٹانے میں کامیاب ہو گئی ۔
انہوں نے ایک افسردہ نگاہ روحی پر ڈالی اور کمرے سے باہر چلی گئی ۔
باہر کافی لوگ تعزیت کے لیے آچکے تھے ۔
مان کو بھی خبر مل چکی تھی اور وہ بھی شاہ حویلی آیا تھا ۔
رات تک روحی کو ہوش آگیا تھا اس نے جب اپنی آنکھیں کھولی تو صفیہ بیگم روحی کے سرہانے بیٹھی اس کے بال سہلا رہی تھی ۔
ایک ہی دن میں صفیہ بیگم مرجھا سہی گئی تھیں ۔
روحی نے خالی نظروں سے صفیہ بیگم کو دیکھا ۔
روحی بیٹا تم ٹھیک ہو؟ صفیہ بیگم نے چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ لاتے ہوئے پوچھا۔
ماما شاہ نے مجھے…..
روحی نے اچانک صفیہ بیگم کے گلے لگے سسکتے ہوئے کہا
کیا ہوا بیٹا کیا کیا شاہ نے؟
صفیہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا کیونکہ جو رویہ انہیں نے شاہ کا دیکھا تھا وہ ناقابلِ یقین تھا ۔
ماما شاہ نے مجھے طلاق دے دی ہے روحی کہتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔
کیا….
یہ کیسے ہو سکتا ہے شاہ ایسا نہیں کرسکتا ۔
صفیہ بیگم نے بے یقینی کی کیفیت میں کہا ۔
ماما پتہ نہیں انکو کیا ہو گیا ہے وہ سمجھ رہے ہیں میری وجہ سے اُن کے ڈیڈ کی جان گئی ہے ۔
لیکن میں نے جو بھی کیا خود کو بچانے کے لیے کیا ۔
ماما میری بات کا یقین کریں میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ۔
روحی نے صفیہ بیگم کو دیکھتے ہوئے بےبسی سے روتے ہوئے کہا جو خود ضبط کے کڑے مراحل سے گز رہی تھیں ۔
میں شاہ سے بات کرتی ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا تم نے کچھ غلط نہیں کیا ۔تم مجھے اپنی ماں مانتی ہو نا تو میں اپنی بیٹی کو کیسے دکھی دیکھ سکتی ہوں ۔
صفیہ بیگم نے پیار سے روحی کے آنسو صاف کرتے کہا ۔
ماما آپ کو میری بات پر یقین ہے؟ روحی نے حیرانگی سے پوچھا ۔
بلکل ہے اور اب ہم. قاسم کے بارے میں بات نہیں کریں گئے اور جو کچھ ہوا حادثاتی طور پر ہوا تم نے کچھ نہیں کیا
صفیہ بیگم نے سرد لہجے میں کہا ۔
اگر انہوں نے سوہا کی باتیں نا سنی ہوتی تو وہ بھی یقین نا کرتی لیکن اب سچ ان کے سامنے تھا ۔
مال میں سوہا کو اس کی فرینڈ کی کال آئی تھی اور وہ اپنے سارے پلان کے بارے میں اپنی فرینڈ کو بتا برہی تھی اُس وقت ہی انہوں نے سوہا کی ساری بات سن لی تھی۔
اور ان کے شوہر نے اپنے بیٹے کی بیوی پر ہی گندی نظر رکھی ہوئی تھی یہ سن کر صفیہ بیگم کو بہت تکلیف پہنچی تھی اور جب وہ گھر آئی اور ان کو قاسم شاہ کی موت کی خبر ملی تو ان کو دکھ تو بہت ہوا کیونکہ وہ اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھی ۔
لیکن ایک طرف ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ قاسم کے ساتھ جو بھی ہوا اس کے اپنے گناہوں کی سزا ہی اسے ملی ہے۔
اگر قاسم روحی کو اپنے ساتھ لے جاتا تو آگے کا سوچ کر ہی صفیہ بیگم کا دل ڈوب سا گیا تھا ۔
اس لیے صفیہ بیگم قاسم کی موت کا سن کر خاموش ہو گئی تھیں ۔
ماما آپ شاہ سے بات نہیں کریں
صفیہ بیگم اپنے خیالوں میں گم تھیں جب روحی کی آواز ان کو ہوش میں لائی ۔
آپ جانتی ہے نا کسی بھی رشتے میں اگر بھروسہ ناہو تو وہ رشتہ بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے اور آج شاہ نے میرا مان، میرا بھروسہ اور مجھے بھی توڑ دیا ہے۔
میں شاہ لو کبھی معاف نہیں کروں گی اور آپ مجھے فورس بھی نہیں کریں گیں پلیز
روحی نے روندی آواز میں کہا اور صفیہ بیگم کے گلے لگ گئی ۔
شاہ کیا کروں میں تمھارا صفیہ بیگم نے بے بسی سے سوچتی ہوئے خود سے کہا ۔انبکے اچھے بھلے خوشحال گھر کو کسی کی نظر لگ گئی تھی ۔
💞💞💞💞💞💞
شاہ اپنی گاڑی میں بیٹھا سگریٹ پر سگریٹ پیتے جا رہا تھا بار بار اس کی نظروں کے سامنے تصاویر گھور رہی تھیں ۔
شاہ نے غصے میں سٹیرنگ پر زور سے مکا مارا ۔کیوں روحی کیوں تم نے میرے ساتھ ایسا کیا کیوں
شاہ نے چیختے ہوئے کہا ۔
ایک سفید موتی شاہ کی آنکھ سے نکل کر بے مول ہو گیا تھا آج پہلی بار شاہ رویا تھا آج پہلی بار شاہ ٹوٹا تھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا جو غلطی وہ کر چکا ہے اُس کے لیے اب اسے ساری زندگی پچھتانا ہے ۔
شاہ نے پوری رات گھر سے باہر گزاری تھی ۔صبح کے سات بجے شاہ گھر آیا تو صفیہ بیگم اسی کا انتظار کر رہی تھی ۔
کہاں تھے تم ساری رات نا تمہیں اپنی ماں کی پرواہ ہے اور نا ہی اپنی بیوی کی
باپ کے جاتے ہی ماں کو بھول گئے تم
صفیہ بیگم نے شاہ کو دیکھتے ہوئے تیکھے لہجے میں کہا ۔
شاہ نے غور سے اپنی ماں کے مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھا تو اسے اپنی لاپروائی کا احساس ہوا۔
سوری ماں جی
شاہ نے اپنی ماں کی طرف بڑھتے ہوئے شرمندگی سے کہا
لیکن صفیہ بیگم نے اسے وہی ہاتھ کے اشارے سے روک دیا تھا ۔
.تم نے روحی کو طلاق کیوں دی؟ کیا میں وجہ جان سکتی ہوں؟ صفیہ بیگم نے کرخت لہجے میں شاہ سے پوچھا ۔
میں بہت جلد روحی کو اس رشتے سے آذاد کر دوں گا ۔میں نے وکیل سے بات کر لی ہے جیسے ہی وہ پیپرز تیار کرے گا میں اُس پر سائن کرکے روحی کو آذاد کر دوں گا ۔
شاہ نے بے تاثر لہجے میں کہا۔
تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے یہ کیا بکواس کر رہے ہو؟
صفیہ بیگم نے غصے میں کہا ۔
ماں جی آپ کچھ نہیں جانتی اس لیے اس معاملے سے دور رہے۔
شاہ نے کہتے ہی رخ موڑ لیا
شاہ جلد بازی میں کیے گئے فیصلے اکثر اوقات غلط بھی ہوتے ہیں..
تم ٹھنڈے دماغ سے پہلے اچھی طرح سوچ لو ایسا نا ہو کہ بعد میں تمہیں اپنے کیے گئے فیصلے پر افسوس ہو ۔
اس بار صفیہ بیگم نے شاہ کو دیکھتے ہوئے تھوڑا دھیمے لہجے میں کہا ۔جس کے سر پر روحی سے علیحدگی کا بھوت سوار تھا ۔
ماں جی میں نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے اور میں چھوٹا بچہ نہیں ہوں جو جذبات میں آکر غلط فیصلہ کر لوں
میں اپنا اچھا برا بہتر جانتا ہوں ۔
اور اب آپ میرے سامنے روحی کا نام نہیں لیں گیں ۔
شاہ نے سرد لہجے میں صفیہ بیگم سے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
تو ٹھیک ہے کل کیا تم نے روحی کو طلاق دینی ہے آج ہی دو
تاکہ وہ اپنی عدت پوری کرے اور میں اس کی کسی ایسے انسان سے شادی کروا دوں جو اُس کی قدر کرے اگر کل کو مجھے کچھ ہو جاتا ہے تو اُس بچی کو سہارا دینے والا کون ہو گا؟
صفیہ بیگم نے شاہ کو دیکھتے کرخت لہجے میں کہا ۔
اور اپنی ماں کی بات سن کر شاہ کے ماتھے کی رگیں پھول گئی تھیں ۔
وہ اسی گھر میں ہمیشہ رہے گی اپنی ساری زندگی اسی گھر میں گزارے گی۔
اگر آپ نے اس کی شادی کسی اور سے کرنے کی کوشش کی تو اُس انسان کے ساتھ روحی کی جان بھی اپنے ہاتھوں سے لے لوں گا۔
شاہ نے رخ موڑے اپنی ماں کو دیکھتے سخت لہجے میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا ۔
تم بھی میری بات کان کھول کر سن لو شاہ اگر روحی کو تمھاری وجہ سے مزید زرا سی بھی تکلیف پہنچی تو میں سمجھ جاؤ گی تم بھی اپنے باپ کی طرح ذلیل انسان نکلے ہو ۔
صفیہ بیگم نے ایک ایک لفظ چبا کر غصے میں کہا اور بنا شاہ کا جواب سنے وہاں سے چلی گئی ۔
شاہ پیچھے حیرت-زدہ کھڑا اپنی ماں کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔
یقیناً روحی نے ماں جی کے کان بھرے ہونگے نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں
شاہ نے دانت پیستے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ غصے میں وہ اپنی زندگی کہ کتنی قیمتی چیز کو کھو چکا ہے
💞💞💞💞💞
مان آپ نے ڈیڈ سے بات کر لی؟
مہرو کے گاڑی میں بیٹھنے کے فوراً بعد پوچھا ۔مان کی گود میں مروہ بیٹھی کھیل رہی تھی ۔
ہاں کر لی ہے ڈیڈ بہت مشکل سے مانے ہیں ابھی تو ہم گھر جا رہے ہیں تم ساری پیکنگ کر لینا اور ابھی موم کو اس بارے میں کچھ نہیں معلوم وہ پتہ نہیں کیسا ردعمل ظاہر کریں گئی۔
مان نے مروہ مہرو کو پکراتے ہوئے کہا
مان میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ۔
مہرو نے مان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
لیکن مہرو ڈارلنگ میں نے تو ابھی ایسا کچھ کیا ہی نہیں
مان نے مسکراہٹ دباتے ذومعنی لہجے میں کہا ۔
مہرو نے نا سمجھی سے مان کی طرف دیکھا ۔جس کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی ۔
مان جب میں سیریس بات کر رہی ہوں تو آپ بھی سیریس ہو جایا کریں ۔
مہرو نے اپنی جھینپ چھپانے کے لیے الٹا مان کو گھورتے ہوئے کہا ۔
بیگم صاحبہ کیوں آپ کا دل گھبرا رہا ہے یہ بھی بتا دیں ۔
مان کا اب سارا دھیان مہرو کی طرف تھا
پتہ نہیں مان لیکن مجھے لگتا ہے کچھ ضرور ایسا ہونے والا ہے جو ہم سب کی زندگی تباہ کر دے گا ۔
مہرو نے پریشانی سے کہا ۔
بیگم ڈائیلاگ اچھا یے ویسے کون سی مووی دیکھ کر آرہی ہو؟
مان نے مہرو کی بات کو مزاح میں لیتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی ۔
مان مجھے اب آپ سے بات ہی نہیں کرنی مہرو نے غصے میں تلملاتے ہوئے کہا اور اپنی توجہ مروہ کی طرف مرکوز کر لی ۔
بیگم صاحبہ آپ زرا کم سوچا کرو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے سب ٹھیک ہو گا ۔
مان نے مہرو کو حوصلہ دیتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔
مہرو نے اثبات میں سر ہلایا لیکن دل اس کا ابھی بھی گھبرا رہا تھا مان کی بات نے بھی اس کو مطمئن نہیں کیا تھا ۔
گھر پہنچتے مہرو مروہ کو لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
آرزو بھی آئی ہوئی تھی اس لیے وہ مروہ کو لینے آگئی ۔
مہرو نے مروہ آرزو کو پکڑائی اور خود پیکنگ کرنے لگی ۔
بھابھی ڈیڈ نے مجھے بتایا آپ لوگ یہاں سے جا رہے ہیں ۔
آرزو نے مہرو کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
ہاں تم سارے حالات سے اچھی طرح واقف ہو اور ہمارا یہاں سے جانا ہی بہتر ہے مہرو نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
تو پھر میں ہر ہفتے اپنی ڈول سے ملنے آؤ گی
آرزو نے چٹا چٹ مروہ کے دونوں گال پر بوسہ دیتے ہوئے کہا تمھارا اپنا گھر ہے جب مرضی آجانا ۔
مہرو نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
چلے آپ پیکنگ کریں میں مروہ کو لے کر باہر جا رہی ہوں ۔آرزو نے کہا اور کمرے سے نکل گئی ۔
مہرو پیکنگ کرنے میں مصروف ہو گئی ۔
تھوڑی دیر بعد مان بھی آگیا تھا۔
مہرو میں ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں ایک گھنٹے تک آ جاؤں گا. تم پیکنگ کر لو
مان نے موبائل پر ٹائپنگ کرتے مصروف سے انداز میں کہا ۔
مہرو کے ہاتھ مان کی بات سن کر رہی رک گئے تھے ۔
مان آپ کہاں جا رہے ہیں؟
مہرو نے پریشانی سے پوچھا ۔
مان نے نظریں اٹھا کر مہرو کو دیکھا جو پریشان نظر آرہی تھی ۔
کیا ہوا یار کام ہے ایک گھنٹے تک آ جاؤں گا اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو؟
مان نے مہرو کے سامنے کھڑے ہوتے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ناسمجھی سے پوچھا ۔
مان آپ پلیز مت جائیں پلیز
مہرو کو خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیوں مان کو روک رہی ہے لیکن دل کہہ رہا تھا مان کو روک لے۔
بےبسی کے مارے مہرو کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا ۔
مہرو تم رو کیوں رہی ہو؟مجھے بتاؤ کیا بات تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟
مان نے اپنی انگلی کی پور سے مہرو کے آنسو صاف کرتے ہوئے بے چینی سے پوچھا ۔
پتہ نہیں مان مجھے لگ رہا ہے کچھ برا ہونے والا ہے آپ پلیز مت جائے ۔
مہرو نے مان کے ہاتھ پر اپنی گرفت مظبوط کرتے ہوئے کہا۔
مہرو لگنے اور ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔
تم فضول میں پریشان ہو رہی ہو ۔میرا جانا ضروری ہے ورنہ میں تمھاری بات مان لیتا ۔
مان نے مہرو کو پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا ۔جس نے نظریں جھکا لی تھیں ۔
مہرو ایسی شکل بناؤ گی تو میں کیسے پھر تمہیں چھوڑ کر جاؤ گا یار
مان نے محبت بھرے لہجے میں مہرو کو ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے کہا ۔
مان…
شششش روکنے کے علاوہ اگر کوئی بات کرنی ہے تو وہ کرو ۔
مان نے مہرو کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھتے اسے خاموش کرواتے کہا ۔
نہیں مجھے کچھ نہیں کہنا مہرو نے مان کو دیکھتے ہوئے کہا۔
چلو جلدی سے مجھے ایک پیاری سی سویٹ سی کِس دو
پھر مجھے جانا بھی ہے ۔
مان نے بات بدلتے ہوئے کہا۔
مان میں کچھ نہیں دے رہی مہرو نے گھور کر کہا۔
ٹھیک ہے میں خود لے لیتا ہوں مان نے کہتے ہی بنا مہرو کو کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اس کا چہرہ اوپر کیا اور اپنی گرم سانسیں مہرو میں اترانے لگا مہرو نے زور سے آنکھیں میچ لی اور مان کا کالر پکڑ لیا ۔
تھوڑی دیر بعد مان مہرو سے الگ ہوا اور اس کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ کر مسکرا پڑا ۔
بےبی تم بہت سویٹ ہو ۔
مان نے مہرو کے سرخ ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے کہا
مان آپ بہت بےشرم ہیں مہرو نے اپنی خفت مٹانے کے لیے گھور کر کہا ۔
جس کمبخت کی تمھاری جیسی بیوی ہو اسے بےشرم پڑنا پڑتا ہے ۔
مان نے مہرو کے کان کے پاس سرگوشی کرتے کہا ۔اور مہرو کے کان کی لو پر. بوسہ دے کر پیچھے ہو گیا ۔
اب میں چلتا ہوں ورنہ تم میری نیت خراب کر دو گی ۔
مان نے مہرو کو دیکھتے ہوئے شرارتی انداز میں کہا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر کمرے سے نکل گیا ۔
مہرو مان کو جاتے دیکھ ہلکا سا مسکرا پڑی اور اپنے دماغ میں چلتے خیالات کو جھٹک کر پیکنگ میں بزی ہو گئی ۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
شاہ کمرے میں داخل ہوا اور خالی کمرے اسے منہ چڑا رہا تھا ۔
اسے روحی کہی نظر نہیں آئی تو دوبارہ اپنی ماں کے کمرے میں داخل ہوا ۔
ماں جی روحی کہاں ہے؟
شاہ نے سخت لہجے میں پوچھا ۔
تمھاری بیوی ہے اور تمھاری طرح ڈھیٹ بھی ہے مجھے نہیں معلوم وہ کہاں ہیں ۔
صفیہ بیگم نے غصے سے کہا ۔
ماں جی پلیز مجھے بتا دیں وہ کہاں ہے؟
شاہ نے تحمل سے پوچھا ۔
یہ ایک لیٹر تمھارے لیے چھوڑ کر گئی ہے جو مجھے اُس کے کمرے سے ملا اس کے علاوہ مجھے نہیں معلوم وہ کہاں پر ہے ۔
صفیہ بیگم نے لیٹر شاہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جسے شاہ نے کانپتے ہاتھوں سے تھام لیا
💞💞💞💞💞💞