No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
بھائی یہ لڑکی کون ہے؟ کومل جو فضا کو لے کر باہر آئی تھی تاکہ اپنا موڈ ٹھیک کر سکے صائم کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھ کر حیران ہوئی تھیں
ایک پل کے لیے تو صائم بھی صورتحال حال دیکھ کر بوکھلا گیا تھا لیکن جلد ہی اس نے اپنے تاثرات پر قابو پا لیا تھا ۔
تم دونوں گھر چلو پھر بتاتا ہوں
صائم نے تحمل سے کہا
بھائی مجھے ابھی جواب چاہیے کہی آپ نے بھی مان کی طرح چھپ کر نکاح تو نہیں کر لیا؟
کومل نے مشکوک انداز میں پوچھا
ہم لوگ اس وقت گھر پر نہیں ہے تم اپنی تحقیقات گھر جا کر کر لینا باہر میں کسی قسم کا تماشا نہیں چاہتا
صائم نے کومل کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ۔
چلیں پھر گھر جا کر ہی بات کر لیتے ہیں
لیکن ماما خالہ کی طرف ہیں تو آپ ہمیں یہ بھی بتا دیں کس گھر میں جانا ہے؟
کومل نے تیکھے لہجے میں پوچھا
جہاں تمھارا دل کرے آجانا
اور یقیناً تم دونوں ڈرائیور کے ساتھ آئی ہو گی تو گھر پہنچو پھر بات کرتے ہیں
صائم نے سنجیدگی سے کہا اور نایاب کو وہاں سے لے کر چلا گیا جو اب تک خاموش کھڑی تھی ۔
صائم نے مال سے باہر نکلتے ہی. مان کو فون اور اسے بتا دیا کہ وہ نایاب کو لے کر گھر آرہا ہے مان نے بھی کہا تم آجاؤ کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔
ہم کہاں جا رہے ہیں؟ نایاب نے صائم سے پوچھا؟
گھر
صائم نے سنجیدگی سے کہا ۔
کون سے گھر؟ نایاب سمجھ تو گئی تھی لیکن پھر بھی اس نے پوچھنا بہتر سمجھا ۔
اپنے گھر صائم نے کہا اس نے بعد گاڑی میں خاموشی چھا گئی تھی ۔
نایاب نے مزید سوال نہیں کیا تھا
💝💝💝💝💝💝
کوٹھے پر نایاب اور مہرو دونوں نہیں تھیں لوگ ان دونوں کا رقص دیکھنے ہی آتے تھے ۔
لیکن اب کوٹھے کی کمائی نا ہونے کے برابر تھی ۔سلمیٰ نے نایاب کو فون کیا جو کہ بند جارہا تھا ۔
آج کچھ لوگوں نے خاص طور پر مہرو کا رقص دیکھنے آنا تھا
سلمیٰ نے مہرو کو کال کرکے ساری صورتحال بتائی شبنم بھی بیمار تھی ورنہ اس سے کام چل جاتا۔
مہرو تو صرف ایک دن کے لیے آجا
ورنہ جو لوگ آرہے ہیں وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑے گئے
اور تو جانتی ہے وہ سب لوگ خاص طور پر تیرا رقص دیکھنے کے لیے آرہے ہیں اگر شبنم ٹھیک ہوتی تو میں تجھے کبھی تنگ نا کرتی ۔
سلمیٰ اور بھی کافی کچھ کہہ رہی تھی
لیکن مہرو اس کشمکش میں مبتلا ہو گئی تھی کہ جائے یا ناجائے اگر معارج کو پتہ چل گیا تو وہ کیا کرے گا؟ لیکن سلمیٰ کے بھی بہت سے احسانات مہرو پر تھے اور اس مشکل وقت میں وہ سلمی کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی اس لیے اس نے ہامی بھر لی
سلمیٰ تو خوش ہو گئی تھی مہرو نے چادر اوڑھی اور بنا کسی کو بتائے گھر سے نکل گئی
لیکن علیدان نے اسے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھ لیا تھا اس نے مہرو کا پیچھا کیا جو کوٹھے پر گئی تھی
علیدان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ اب آگے اس نے کیا کرنا تھا وہ اسے اچھے سے جانتا تھا
💝💝💝💝💝💝
مان گھر آیا تو سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا وہ سب سے پہلے مہرو کو یہ خبر سنانا چاہتا تھا کہ اس کی بیٹی ٹھیک ہے اور مروہ آرزو کے پاس ہے
جب اس مہرو کہی نظر نہیں آئی تو اسے ڈھونڈنے کے لیے کمرے سے نکلنے ہی والا تھا کہ علیدان بھی کمرے میں داخل ہوا ۔
اس کے چہرے کی مسکراہٹ مان کو کچھ غلط ہونے کا احساس دلا رہی تھی
تمھاری بیوی کہاں ہے معارج ملک۔۔۔۔ میں نے سنا ہے وہ دوبارہ اُسی کوٹھے پر چلی گئ ہے۔۔۔۔ اور تم نے ایک طوائف سے نکاح کیا ہے؟ بہت افسوس ہوا مجھے اچھے خاصے ہو تم دنیا میں کیا لڑکیاں ختم ہو گئی تھیں جو تم نے ایک طوائف سے نکاح کیا
لیکن مہرو نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔ طوائف کبھی گھر نہیں بسا سکتی اب تم مہرو کو ہی دیکھ لو آخر بے چاری کب تک خود کو روکتی۔۔۔۔!!!
علیدان نے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا انداز اس کا صاف چڑھانے والا تھا۔۔۔۔
اگر اس کا ارادہ معارج کو بھڑکانے کا تھا تو وہ اپنے مقصد میں خاصا کامیاب بھی ہو گیا تھا۔۔۔۔
معارج نے اپنی لال انگارے جیسی آنکھیں علیدان پر گاڑھی تھیں جبڑے اس کے سختی سے تنے ہوئے تھے۔۔۔۔ ماتھے کی نیلی رگیں اس کی پھول چکی تھیں تنے ہوئے جبڑے اس بات کی علامت تھے کہ معارج ملک اپنے غصے پر بہت مشکل سے قابو پا رہا ہے۔۔۔۔ اگر علیدان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک اپنی آخری سانسیں گن رہا ہوتا۔۔۔۔
آپ کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ میرے منہ نا لگے علیدان صاحب۔۔۔۔!!!
اگر میں ابھی تک خاموش ہوں تو یہ مت سمجھیے گا کہ میں آپ کی چالاکیوں سے واقف نہیں ہوں۔۔۔۔!!!
معارج نے ٹھنڈے لہجے میں اپنے سامنے کھڑے علیدان کو کہا وہ اچھے سے اپنے غصے کو کنٹرول کرنا جانتا تھا۔۔۔۔ علیدان معارج کی بات سن کر ایک دم گھبرا گیا تھا جیسے اس کا گناہ پکڑا گیا ہو۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔۔!!! اور تم میرے بھائی ہو تمھاری عزت میری عزت ہے اور میں ہرگز نہیں چاہو گا کہ میرے بھائی کی عزت پر اس طوائف کی وجہ سے کوئی بھی تمہیں حقارت سے دیکھے
علیدان نے اپنے لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
معارج علیدان کی بات سن کر ہنسنے لگا تھا اس کی ہنسی نے جلتی پر تیل کا کام سر انجام دیا تھا۔۔۔۔ علیدان کا مقصد معارج کو تکلیف دینا تھا لیکن یہاں اسے معاملہ الٹا ہوتا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔۔
مسٹر علیدان کاش آپ کو اپنے بھائی یا اپنی فیملی کی پرواہ ہوتی اور میرے سامنے جھوٹے پیار جتانے کی ضرورت نہیں ہے جتنا کمینہ میں آپ کو سمجھتا تھا آپ تو میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا انسان نکلے آپ نے تو میری سوچ کو ہی بدل دیا آئی ایم ویری ایمپریس۔۔۔۔!!!
معارج نے تالی بجاتے ہوئے کہا اور چھوٹے چھوٹے قدم لیتا ہوا علیدان سے کچھ فاصلے پر ہی کھڑا ہو گیا تھا اور لفظ با لفظ علیدان کا کارنامہ اسے بتانے لگا۔۔۔۔
آپ نے مہرو سے نکاح کیا لیکن وہ نکاح نامہ نقلی تھا نکاح نقلی تھا۔۔۔۔ سب کچھ جھوٹ تھا گواہ نہیں تھے۔۔۔۔ یہاں تک کے مولوی بھی نہیں تھا۔۔۔۔ آپ نے مہرو کو دیکھانے کے لیے نقلی نکاح نامہ بنایا۔۔۔۔ اور اس پر مہرو کے دستخط لیے۔۔۔۔ اور وہ بےچاری یہی سمجھی کے اس کا نکاح ہو گیا ہے۔۔۔۔ جبکہ وہ اس بات سے ناواقف تھی کہ نکاح تو ہوا ہی نہیں ہے۔۔۔۔ تو اس کا مطلب آپ صرف اسے استعمال کررہے تھے۔۔۔۔ یہ سب آپ نے صرف اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے کیا تھا۔۔۔۔ اور یقین کرو یہ بات جاننے کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ آپ جیسا بےغیرت انسان آج پہلی بار میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے۔۔۔۔!!!جتنی عزت اور محبت میں آپ سے کرتا تھا شاید ہی کسی سے کی ہو
میرا بڑا بھائی ہمیشہ میرا غرور رہا ہے لیکن آپ کی واہیات حرکتوں نے میری آنکھوں سے پٹی اتار دی اور مجھے آپ کے ان سب کارناموں کا بہت پہلے سے ہی پتہ چل گیا تھا ۔اگر میں خاموش تھا تو صرف مروہ کی وجہ سے اور اب وہ بھی میرے پاس ہی تو مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے
معارج نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا یہ بات کہتے ہوئے اس وقت اسے جس قدر تکلیف محسوس ہو رہی تھی اُس سے صرف معارج کے علاوہ اللہ گواہ تھا۔۔۔۔
معارج کا تیکھا لہجہ علیدان کو بہت کچھ باور کروا گیا تھا۔۔۔۔
اگر مہرو کا نکاح ہی آپ کے ساتھ نہیں ہوا تو اس کا مطلب جس بچی کو میں نے دیکھا تھا وہ پھر آپ کی ناجائز اولاد ہوئی۔۔۔۔؟؟؟ معارج نے کرخت لہجے میں کہا۔۔۔
مان تم حد سے بڑھ رہے ہو اپنی اوقات میں رہو۔۔۔۔!!! علیدان نے گرجدار آواز میں کہا۔۔۔
میں تو اپنی اوقات میں ہی ہوں علیدان صاحب لیکن لگتا ہے آپ اپنی اوقات بھول رہے ہیں۔۔۔۔!!!اور مان کہنے کا حق آپ کھو چکے ہیں میرا نام معارج ہے
معارج نے طنزیہ مسکراہٹ علیدان کی طرف اُچھالتے ہوئے کہا۔۔۔۔
میں نے مہرو سے نکاح کیا تھا۔۔۔۔!!!
علیدان نے اپنے لہجے میں پختگی لاتے ہوئے کہا۔۔۔اگر معارج کو سب معلوم ہو ہی گیا تھا تو علیدان نے اپنی صفائی دینا بھی ضروری سمجھا
کم اون مجھ سے جھوٹ بولنے کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔۔ آپ نے جن پیپر پر مہرو سے سائن کروائے تھے وہ پیپر میرے پاس موجود ہیں جو کہ جعلی نکاح نامہ تھا۔۔۔۔ اس پیپر پر صرف مہرو اور کسی باذل نامی لڑکے کے دستخط ہیں۔۔۔۔ باقی کے سارے خانے بھی خالی تھے۔۔۔۔ اور ایسا نکاح تو میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے۔۔۔۔ جس میں صرف لڑکی کے سائن کے علاوہ کسی اور لڑکے کا نام موجود تھا۔۔۔ لیکن آپ کا نام تو علیدان ہے نا مجھے آپ کا نام تو کہیں نظر نہیں آیا اور گواہوں کے بھی سائن موجود نہیں۔۔۔۔
سوائے اُس پیپر پر لڑکا لڑکی کے علاوہ کسی اور کے سائن موجود نہیں تھے کیسا نکاح تھا یہ علیدان صاحب کہہ رہے ہیں کہ اُن کا نکاح مہرو سے ہوا تھا۔۔۔۔ لیکن مجھے تو علیدان کی جگہ کسی بازل نامی انسان کے دستخط نظر آئے تھے۔۔۔۔!!!
ویسے بازل کون ہیں پھر تو مہرو کا نکاح کسی باذل نامی شخص سے ہوا ہے۔۔۔۔؟؟معارج نے سوچنے والے انداز میں کہا۔۔۔۔
اور ہاں نقلی نکاح نامہ مجھے عامر نے لا کر دیا تھا ۔آپ کا جو وہ جو آپ کا گھٹیا دوست ہے عمیر اس طرف میرے بہت سے حساب نکلتے ہیں اسے کہیے گا تیار رہے اور آپ دونوں سے تو میں بعد میں نپٹ لوں گا۔۔۔۔!!!
معارج نے سرد لہجے میں کہا اور روم سے نکل گیا۔۔۔۔
پیچھے علیدان نے سختی سے اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر اپنا غصہ کنٹرول کیا تھا۔۔۔۔
معارج گھر سے باہر نکلتے ہی غصے میں گاڑی میں آبیٹھا تھا۔۔۔ جتنے تحمل کا مظاہرہ اس نے علیدان کے سامنے کیا تھا یہ بات وہی جانتا تھا۔۔۔۔
مہرو تم نے گھر سے باہر نکل کر اور میری بات نا مان کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔۔۔۔!!!جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ اب تم کوٹھے پر نہیں جاؤ گی تو کیوں نہیں میری بات مانی؟
معارج نے غصے میں گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے خود سے کہا اگر مہرو اس وقت اسے دیکھ لیتی تو کبھی بھی گھر سے باہر نکلنے کی غلطی نا کرتی معارج نے اپنی گاڑی کوٹھے والے راستے پر ڈال دی تھی۔۔۔۔
معارج نے کوٹھے کے باہر اپنی گاڑی روکی اور غصے میں گاڑی سے باہر نکل کر کوٹھے کے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔ جہاں پر مہرو وہاں پر بیٹھے لوگوں پر بجلیاں گراتی رقص کرنے میں مصروف تھی۔۔۔
یہ منظر دیکھتے ہی معارج کا خون کھول اٹھا تھا اور وہاں بیٹھے لوگوں کی نظروں میں جو غلاظت تھی معارج کا دل کر رہا تھا یہاں بیٹھے ہر ایک انسان کی آنکھیں نکال لے۔۔۔۔
معارج نے چہرے پر سخت تیور لیے مہرو کے پاس جاتے ہی سختی سے اس کے بازو کو دبوچا تھا اور اس کا رخ اپنی طرف کر کے ایک زور دار طمانچہ مہرو کے چہرے پر رسید کیا تھا۔۔۔۔
معارج کے تھپڑ کی تاب نا لاتے ہوئے مہرو زمین پر اوندھے منہ جا گری تھی پورے کوٹھے پر ایک دم سکوت چھا گیا تھا۔۔۔۔
