Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

☠️☠️☠️☠️☠️☠️☠️
کوثر اپنی بیٹیوں کے ساتھ ملک ویلا سے چلی گئی تھی کوثر کو صائم کی کال آئی تھی جو گھر آنے کا بول رہا تھا
صائم آپ کے گھر والوں نے اگر مجھے قبول نا کیا تو؟
نایاب نے صائم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے اپنا ڈر بتاتے ہوئے پریشانی سے پوچھا
صائم نے پہلے نایاب کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر نایاب کو جو صائم کی ذومعنی نظروں کا مطلب سمجھ کر اپنا ہاتھ پیچھے کرنے ہی والی تھی لیکن صائم نے اس کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اس کو بازو سے پکڑ کر خود پر گرایا تھا
نایاب جو وہاں سے بھاگنے کے چکر میں. تھی سیدھی صائم کے سینے پر جا گری تھی
مسز کبھی محبت سے بھی میرا ہاتھ تھام لیا کرو ہمیشہ پریشانی میں ہی تھامتی ہو
اور ماما بھی آتی ہی ہو گی ورنہ میں تمہیں تفصیل سے بتاتا
صائم نے نایاب نے چہرے پر پھوک مارتے ہوئے بہکے لہجے میں کہا
کیا مطلب؟ نایاب نے ناسمجھی سے صائم کو دیکھتے ہوئے پوچھا
صائم کی گرم سانسوں کی تپش نایاب کا چہرہ جھلسا رہی تھی
مطلب یہ کہ اب میں تمہیں کمرے میں اگر لے گیا تو ماما کو ٹھیک نہیں لگے گا
صائم نے شرارتی لہجے میں کہا
تم بےہودہ بھی ہو یہ مجھے آج پتہ چلا ہے
ہٹو پیچھے
نایاب نے گھورتے ہوئے صائم کو کہا اور صائم کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی
جو کہ ناممکن ہی تھی
اس سے پہلے صائم کوئی گستاخی کر گزرتا کوثر کی آواز اسے ہوش میں لائی تھی
نایاب تو شرم اور شرمندگی کے مارے نظریں ہی نہیں اٹھا پا رہی تھی
یہ کیا ہو رہا ہے؟ اور یہ لڑکی کون ہے صائم؟ کوثر نے غصے میں پوچھا
کیونکہ سامنے کا منظر اگر کوئی بھی دیکھتا تو وہ دونوں کو غلط ہی سمجھتا
ماما یہ نایاب ہے میری وائف
صائم نے آرام سے وہاں کھڑے تینوں نفوس پر بم پھوڑا
دیکھا میں پہلے ہی کہہ رہی تھی کہ بھائی نکاح کر چکے ہیں
پتہ نہیں خاندان کے لڑکوں کو کیا ہوتا جارہا ہے ۔
بنا کسی بڑے کو بتائے نکاح کر رہے ہیں
کومل نے اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا
کومل فضا تم دونوں اپنے کمروں میں جاؤ
کوثر نے سنجیدگی سے کہا
لیکن موم کومل نے کچھ کہنا چاہا لیکن کوثر کی گھوری نے اسے کچھ بھی بولنے سے روکا تھا۔
فضا اور کومل اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں
اگر تمہیں کوئی لڑکی پسند تھی تو تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟
کوثر نے صائم کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ماما نایاب اچانک میری زندگی میں آئی اور صورتحال ہی کچھ ایسی ہو گئی کہ مجھے نایاب سے نکاح کرنا پڑا
میں اسے کھونا نہیں چاہتا تھا جانتا ہوں آپ کو بھی میرے اس فیصلے نے کافی تکلیف پہنچائی ہے
ایم سوری لیکن میرے پاس دوسرا کو آپشن نہیں تھا
صائم نے اپنی ماں کے ہاتھ پکڑتے ہوۓ افسردگی سے کہا
تو میرا بیٹا جو پیچھلے دنوں سے بے حد پریشان تھا وہ اس لڑکی کی وجہ سے تھا؟
کوثر نے کنفرم کرنا چاہا
صائم اپنی ماں کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرا پڑا تھا
مجھے بس اس بات کا دکھ ہے کہ تمہیں مجھے بتانا چاہیے تھا
تاکہ تمھاری شادی دھوم دھام سے کرتے
کوثر نے مسکراتے ہوئے کہا
اس کا مطلب آپ کو میرے نکاح سے کوئی مسئلہ نہیں ہے؟ صائم نے حیران کن لہجے میں پوچھا
بیٹا یہ تمھاری پوری زندگی کا معاملہ ہے اور یہ تمھاری خود کی زندگی ہے اور میں زبردستی کسی لڑکی کو تمھارے ساتھ باندھ نہیں سکتی تھی ۔
کوثر نے اشارے سے نایاب کو اپنے پاس بلاتے ہوئے کہا
نایاب نے جھجکتے ہوئے کوثر کو سلام کیا جس نے سلام کا جواب دینے کے بعد نایاب کے ماتھے پر پیار سے بوسہ دیا اور اسے گلے سے لگایا
تم بھی مجھے صائم کی طرح ماما ہی بلانا مجھے اچھا لگے گا
کوثر نے مسکراتے ہوئے کہا
جبکہ نایاب کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا
ارے رونا نہیں ہے اگر تم مجھے آنٹی بھی کہنا چاہو تو کہہ سکتی ہو
کوثر نے جلدی سے کہا اسے لگا شاید ماما والی بات نایاب کو پسند نہیں. آئی
نہیں ماما آپ غلط سمجھ رہی ہیں
میری امی نہیں ہے تو اس لیے نایاب نے بات کو ادھورا چھوڑتے ہوئے خاموش خاموش ہو گئی
تو کیا ہوا میں ہوں نا تمھاری ماما
کوثر نے پیار سے کہا
صائم نکاح تو تم کر چکے ہو لیکن میں چاہتی ہوں ولیمہ بھی ہو جائے میں اپنے سارے ارمان ولیمے پر پورے کر لوں گی
اور اب تم نایاب کو کمرے میں لے جاؤ ابھی مجھے تمھاری خالہ کی طرف جانا ہے
کوثر نے صائم کو کہا جس نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنی ماں کے ماتھے پر بوسہ دے کر نایاب کو لے کر کمرے میں چلا گیا
کوثر نے غصہ نہیں کیا تھا اور نا ہی صائم پر اپنی مرضی تھوپی تھی وہ جانتی تھی صائم ایک پڑھا لکھا لڑکا ہے اور کسی کو پسند کرنا بری بات نہیں اور سب سے بڑی بات اس نے نکاح کر کے اپنے اور نایاب کے رشتے کو حلال کر لیا تھا
صائم نکاح تو کر ہی چکا تھا اور کوثر اپنے بیٹے کو خوش دیکھنا چاہتی تھی
اس کی خوشی نایاب میں تھی وہ تو کوثر کو اس وقت ہی پتہ چل گیا تھا
جب صائم نے پیچھلے کچھ دنوں سے کھانا پینا کم کر دیا تھا اور زیادہ وقت گھر سے باہر رہتا تھا
صائم نایاب سے کس قدر محبت کرتا تھا وہ کوثر اس کی آنکھوں میں دیکھ چکی تھی
اور آج اس نے ایک اچھی ماں ہونے کا ثبوت دیا تھا اپنے بیٹے کی خوشی میں خوش ہو کر
💝💝💝💝💝💝💝
سر میڈم جب گھر سے نکلی تھیں تو ہم نے ان کا پیچھا کیا تھا لیکن اچانک وہ گاڑی ہماری نظروں کے سامنے سے غائب ہو گئی
ہم لوگوں نے کافی کوشش کی لیکن وہ گاڑی پتہ نہیں کہاں چلی گئی
شاہ کے آدمی نے نظریں جھکا کر کہا جو سرخ آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے آدمی کو دیکھ رہا تھا
شاہ نے اس آدمی کے جبڑے پر زوردار مکا مارا
جو سیدھا زمین پر جا گرا تھا جس کا شاید دانت بھی ٹوٹ گیا تھا
سارے کے سارے نکمے ہو کمینوں
تم لوگوں کی وجہ سے آج میری بیوی میرے پاس نہیں ہے
شاہ کی وحشت بھری آواز نے وہاں کھڑے آدمیوں کو کانپنے پر مجبور کر دیا تھا
قاسم شاہ کا پتہ لگاؤ وہ کہاں پر ہے؟
شاہ نے غصے سے کہا اور وہاں سے نکل گیا
ابھی شاہ نے گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ اگلے بڑھایا ہی تھا کہ اس کا موبائل رنگ ہوا
نمبر کو دیکھتے ہی اس کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا
شاہ مجھے کل کی ڈیل کے بارے میں تم سے کچھ باتیں ڈسکس کرنی ہے جلدی آفس آؤ میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں
قسم شاہ نے عام سے لہجے میں کہا
اپنے باپ کی بات سن کر ایک پل کے لیے شاہ ٹھٹھکا ضرور تھا
اگر روحی قاسم شاہ کے پاس ہوتی تو وہ کبھی بھی ریان کو اپنی لوکیشن نا بتایا
لیکن ریان نے آفس جانے کی بجائے گاڑی سوہا کے فارم ہاؤس کی طرف موڑ لی تھی
آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ریان نے سوہا کے فارم ہاؤس کے باہر گاڑی روکی
گاڑی سے نکل کر اس نے ارد گرد نظر دہرائی اور مضبوط قدم بھرتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوا ۔
سوہا سامنے پڑے بڑے سے صوفے پر بیٹھنے کے انداز میں لیٹی ہوئی تھی اس کے ہاتھ میں وائن کا گلاس تھا
جو اس وقت شاید ہوش میں بھی نہیں تھی
شاہ غصے میں آگے بڑھا
اور سوہا کو بالوں سے پکڑتے ہوۓ اس نے اپنے سامنے کھڑا کیا اور اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا ابھی وہ پہلے تھپڑ سے ہی نہیں سنبھلی تھی کہ شاہ نے ایک کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا تھپڑ اسے مارا
سوہا کا ہونٹ پھٹ چکا تھا اور اس میں سے خون رسنے لگا
شاہ نے اسے دوبارہ بالو سے پکڑا اور خود کے سامنے کھڑا کیا
سوہا کا سارا نشہ اتر چکا تھا اب وہ آنکھوں میں خوف لیے شاہ کو دیکھ رہی تھی
روحی کہاں ہے؟
شاہ نے غرارتے ہوئے پوچھا
مجھے نہیں پتہ سوہا نے جلدی سے کہا
شاہ نے سوہا کو گردن سے پکڑا تھا مجھ سے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے
اگر تم نے جھوٹ بولا تو یہی تمھارا کام تمام کر دوں گا
میں نہیں جانتی وہ میرے ساتھ ہی تھی پھر میری آنکھوں میں دھول جھونک کر پتہ نہیں کہاں بھاگ گئی
سوہا نے بمشکل اپنی بات مکمل کی اس کی آنکھیں باہر کو آرہی تھی
شاہ کے ہاتھ کا دباؤ اس کی گردن پر بڑھتا جا رہا تھا
تم نے جو کال پر بکواس کی وہ سب کیا تھا ڈیڈ بھی اس سب میں شامل ہیں؟
شاہ نے وحشت بھرے لہجے میں پوچھا
نہیں وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے روحی کے بھاگنے کے بعد میں نے تمہیں کال کی تھی تاکہ تم بھی اس درد اور تکلیف سے گز سکو جس سے میں گزر رہی ہوں
سوہا نے آہستگی سے کہا
اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں شاہ نے اپنی گرفت ٹھیلی کر دیا تھی ۔
اور تھوڑی دیر بعد اس نے سوہا کی گردن کو چھوڑ دیا
سوہا جھول کر نیچے زمین پر جا گری اور زور زور سے کھانستے ہوئے اپنا سانس بھال کرنے لگی ۔
اگر میری بیوی کو زرا سی بھی خراش آئی تو تمہیں زندہ نہیں چھوڑو گا
شاہ نے ایک نفرت بھری نگاہ سوہا پر ڈالتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا
شاہ کے جاتے ہی سوہا اونچی آواز میں قہقہہ لگائے ہنسنے لگی تھی
تم روحی تک کبھی نہیں پہنچ سکتے شاہ اب تک تو وہ لوگ اسسے اس شہر سے بہترین دور لے گئے ہونگے
اور اگر وہ مل بھی جاتی ہے تم تم اسے کبھی بھی قبول نہیں کرو گئے
سوہا نے پاگلوں کی طرح ہنستے ہوئے کہا
اس نے روحی کو ایک گینگ کے ہاتھوں بیچ دیا تھا
جو ناجانے روحی کے ساتھ کیا کچھ کر چکے تھے جو پتہ نہیں زندہ بھی تھی یا نہیں یہ کسی کو نہیں پتہ تھا
سوہا نے رات کی فلائٹ سے لندن چلی جانا تھا
💝💝💝💝💝💝
مہرو اپنا سارا وقت مروہ کے ساتھ گزارتی تھی ۔علیدان اس دن کے بعد گھر نہیں آیا تھا ۔
گھر میں اب زیادہ تر خاموشی ہی رہتی تھی
مان اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا
جب اس کا موبائل رنگ ہوا اس نے غصے سے کال اٹینڈ کی
کیا تکلیف ہے؟
ابھی میں اپنی بیوی کے پاس جا رہا ہوں
ابھی مجھے ڈسٹرب نا کری
سارا زمانہ میرے پیار کا دشمن بنا بیٹھا ہے
مان نے دانت پیستے ہوئے کہا اور فون بند کرنے لگا کیونکہ معارج کو شاداب نے کسی کام کے سلسلے میں دوسرے شہر بھیج دیا تھا اور آج وہ گھر ایا تھا
معارج آکف نے بھیگے لہجے میں اسے پکارا
مان کے چلتے قدموں کو بریک لگی تھی
آکف نے کبھی بھی مان کو معارج نہیں کہا تھا اور آج پہلی بار اس کا نام لیا تھا
کیا ہوا ہے؟ آکف تم ٹھیک ہو ؟
مان نے بےتابی سے پوچھا اور اپنے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے
کہاں ہو تم؟
مان نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے پوچھا آکف نے اپنی لوکیشن کے بتا کر فون بند کر دیا تھا
مان کو اتنا تو معلوم ہو گیا تھا کہ بات ضرور سیریس ہے