No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
فاخر تم آ….. رقیہ بیگم جو کچن سے بے دھیانی میں نکل رہی تھیں فاخر کے بازوں میں ایک نازک وجود کو دیکھ کر آدھی بات ان کے منہ میں ہی رہ گئی تھی
فاخر ایزل کو رقیہ کے کمرے میں لے گیا اور اسے بیڈ پر لیٹا دیا
رقیہ بیگم بھی فاخر کے پیچھلے ہی کمرے میں چلی آئی تھیں
ان کی بےتاب نظریں فاخر کے چہرے پر ٹکی تھیں جیسے وہ کچھ غلط سننا نا چاہتی ہوں
فاخر بیٹا یہ کون ہے؟
رقیہ بیگم نے اس بار تھوڑا سرد لہجے میں بیڈ پر لیٹے وجود کو دیکھتے ہوئے پوچھا
خالہ جان یہ محترمہ مجھے سڑک کے کنارے بےہوش ملی ہیں
فاخر نے سنجیدگی سے کہا فاخر کی بات نے ان کو مطمئن کر دیا تھا
لیکن بیٹا اس طرح کسی لڑکی کو گھر لے آنا میرے خیال سے ٹھیک نہیں ہے
رقیہ بیگم نے پریشانی سے پیشانی مسلتے فاخر کو کہا
خالہ جان لیکن میں اسے سڑک پر اکیلا چھوڑ کر بھی نہیں آسکتا تھا
فاخر نے کہا اور ڈاکٹر کو کال کی
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر ایزل کو چیک کرکے چلا گیا تھا جس نے کہا تھا کہ صبح تک ان کو ہوش آجائے گا اور پریشانی سے بےہوش ہو گئی تھی
خالہ جان آپ پریشان نا ہوں صبح تک اس لڑکی کو ہوش آجائے گا
پھر میں خود اس کے گھر اسے چھوڑ آؤں گا
فاخر نے رقیہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا
بیٹا وہ سب تو ٹھیک ہے
لیکن ایک لڑکی کا پوری رات گھر سے باہر رہنا ٹھیک نہیں ہے اگر اس کے گھر والوں نے کچھ الٹا سیدھا بول. دیا تو کیا کرو گئے؟
رقیہ بیگم نے کی آواز آخر میں روند سی گئی تھی ان کے ذہن میں پیچھلے کچھ سالوں پہلے کی کچھ تلخ یادیں تازہ ہو گئی تھیں جو یقیناً ان کے لیے تکلیف دہ تھیں
خالہ جان میں نے آپ کو کتنی بار کہا ہے کہ پیچھلی باتوں کے بارے میں سوچ کر پریشان نا ہوا کریں
ایک خالہ کا رشتہ ہی تو میرے پاس ہے اور میں آپ کو کھونا نہیں چاہتا
سب لوگوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے لیکن آپ کو جانے نہیں دوں گا
فاخر نے رقیہ کے کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے بےبسی سےکہا
ایسے نہیں کہتے بیٹا
رقیہ نے خود کو کمپوز کرتے فاخر کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا
ایک فاخر ہی تو تھا جس نے رقیہ بیگم کو سگی اولاد سے بھر کر سنبھالا تھا ورنہ سگی اولاد نے تو رقیہ کو ذلیل کرنے میں زرا بھی کسر نہیں چھوڑی تھی
خالہ جان آپ مان کی بات کیوں نہیں مان لیتی
میں جانتا ہوں آپ کا بھی دل تڑپتا ہے آپ بھی اس سے ملنا چاہتی ہے اپنی ضد چھوڑ کیوں نہیں دیتی؟
فاخر نے رقیہ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا
فاخر بیٹا میں تمھارے لیے کھانا لاتی ہوں تم بھی فرش ہو جاؤ
رقیہ بیگم نے نے فاخر کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی
فاخر افسردگی سے اپنی خالہ جان کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا
💗💗💗💗💗
رقیہ بیگم کی ایک ہی بہن تھی جو کافی بیمار رہتی تھی
جب لوگوں کے طعنے رقیہ مزید برداشت نہیں کر سکی تو اپنے گھر کو چھوڑ کر اپنی بہن کے پاس آگئی تھی
اور رقیہ کے اپنے گھر میں ایسا تھا ہی کیا جس کے لیے وہاں رکتی
رقیہ کی بہن کا ایک ہی بیٹا فاخر تھا جو تین سال پہلے ہی اپنی پڑھائی مکمل کرکے واپس پاکستان آیا تھا
فاخر جب دس سال کا تھا تو اس کے والد اس دنیا سے رخصت ہو گئے اس کی ماں نے اسے سنبھالا تھا
پندرہ سال کی عمر میں اپنی ماں کی ضد پر فاخر سٹڈی کے لیے انگلینڈ چلا گیا تھا
پاکستان واپس آکر اس نے اپنا بزنس شروع کیا تھا
رقیہ بیگم نے کچھ کچھ باتیں اپنی بہن کو بتا دی تھی انکو بھی دکھ ہوا تھا
اور سویرا کی حرکت نے ان کو زیادہ تکلیف پہنچائی تھی
فاخر کی ماں کی طبعیت بہت ناساز تھی
پھر ایک دن وہ فجر کی نماز پڑھ کے سوئی اور دوبارہ اٹھی نہیں تھیں
فاخر اپنی ماں کو لے کر بہت حساس تھا اور پھر رقیہ ہی جانتی ہے اسے کیسے سنبھالا تھا
فاخر کی ماں باتوں باتوں میں رقیہ کو فاخر کی ذمہ داری سونپ گئی تھیں
آہستہ آہستہ دن گزرتے گئے فاخر نے بھی خود کو سنبھال لیا اور چہرے پر سنجیدگی کا ایک خول چڑھا لیا تھا
جب اس نے بزنس شروع کیا تھا تو اس وقت اس کی ملاقات مان اور آکف سے ہوئی تھی
پہلی بار وہ ایک میٹنگ میں ملے تھے
اس میٹنگ کے بعد کام کے سلسلے میں مان اور فاخر ایک دوسرے سے ملنے لگے اور کب ان کی دوستی نے مظبوطی پکڑی اس بات سے خود بھی دونوں انجان تھے
آکف اپنی شرارتی نیچر کی وجہ سے فاخر کے ساتھ جلدی گھل مل گیا تھا
مان ایک بار بھی فاخر کے گھر نہیں آیا تھا جب بھی وہ ملتے تو اپنے فارم ہاؤس پر ملتے
مہرو کی سچائی جاننے کے بعد مان رقیہ بیگم کو ڈھونڈنے میں لگ گیا تھا وہ چاہتا تھا جلد از جلد رقیہ بیگم کو تلاش کر لے
اور مہرو سے ان کو ملا دے
لیکن جب اسے پتہ چلا کہ فاخر مہرو کا کزن ہے تو یہ بات مان کے لیے حیران کن تھی
مان نے اسی دن فاخر کو ساری سچائی بتا دی تھی
اسے دکھ بھی بہت ہوا تھا مہرو نے جانے انجانے میں جو گھر سے بھاگ کر غلطی کی تھی اس کی سزا اسے مل چکی تھی مان نے رقیہ بیگم سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی
فاخر مان کو اپنے گھر لے گیا ۔
خالہ جان چھوڑیے ان سب کاموں کو میرا فرینڈ آیا ہے میں نے آپ کو اس کا بتایا تھا نا
فاخر نے رقیہ کے ہاتھ سے پلیٹ پکڑ کر ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا جو کچن میں کھانا بنا رہی تھیں
معارج کی بات کر رہے ہو کیونکہ چوبیس گھنٹے تمھاری زبان پر اسی کا ذکر رہتا ہے
رقیہ بیگم نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا
جی وہی فاخر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا کر کہا
ٹھیک ہے تم دونوں باتیں کرو میں چائے لے کر آتی ہوں
رقیہ نے مصروف سے انداز میں کہا
فاخر نے جی اچھا کہنے پر ہی اکتفا کیا اور کچن سے باہر نکل گیا
معارج ملک رشتے میں میرا سالہ بھی لگتا ہے یہ مجھے نہیں پتہ تھا
فاخر نے مان کے مقابل رکھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے شرارتی انداز میں کہا
مان فاخر کی بات پر محض مسکرا پڑا تھا اس وقت اسے رقیہ بیگم کی فکر لاحق ہو رہی تھی نا جانے وہ اس کی بات پر یقین کرے گی
یا نہیں
مان ٹینشن نا لو سب ٹھیک ہو جائے گا
فاخر بھی مان کی پریشانی کو بھانپ گیا تھا اس لیے اس تسلی دیتے ہوئے کہا
میں بھی اچھے کی امید رکھتا ہوں فاخر
مان نے پیچھے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا
اتنے میں رقیہ بیگم بھی چائے لے کر آگئی تھیں
اسلام علیکم
کیسی ہے آپ؟
مان نے احتراماً کھڑے ہوتے پوچھا
میں بلکل ٹھیک بیٹا آپ کیسے ہو؟ پیچھلے دو سالوں سے فاخر کے منہ سے میں آپ کا ذکر سن چکی ہوں لیکن آپ ایک بار بھی گھر نہیں آئے
رقیہ بیگم نے پیار سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
آنٹی اب آگیا ہوں نا اب تو ملنا ملانا چلاتا رہے گا
آپ پلیز بیٹھیے
مان نے مسکرا کر کہا
کیوں نہیں بیٹا یہ آپ کا اپنا گھر ہے جب مرضی آجاؤ
رقیہ نے چائے کا کپ مان کی طرف بڑھاتے ہوئے شفقت بھرے لہجے میں کہا
مان نے فاخر کی طرف دیکھا جس نے گلہ کھنکھار کر بات کا آغاز کیا
خالہ جان مجھے آپ کو ایک بہت ضروری بات بتانی تھی
فاخر نے رقیہ کو خود کی طرف متوجہ کرواتے ہوئے کہا
رقیہ نے ناسمجھی سے فاخر کی طرف دیکھا
مان آپ کی بیٹی مہر کا شوہر ہے
فاخر نے مان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
جبکہ رقیہ بیگم آنکھوں میں بے یقینی لیے مان کو دیکھا
خالہ جان جب میں مان سے ملا اس وقت ایسا کچھ بھی نہیں تھا
مان نے کچھ ماہ پہلے ہی مہر سے نکاح کیا ہے مجھے اس نے اپنے نکاح کا بتایا تھا لیکن میں ملک سے باہر تھا اس لیے مان کے نکاح میں شریک نہیں ہو سکا اور مجھے نہیں پتہ تھا کہ مان مہر سے نکاح کر رہا ہے
اور مان مہر کی ماں کو تلاش کررہا تھا اور جب اسے پتہ چلا کہ میں مہر کا کزن ہوں تو میری طرح یہ خود بھی کافی حیران ہوا تھا
اور یہ آپ کو کیوں ڈھونڈ رہا تھا وہ تو مان ہی آپ کو بہتر بتا سکتا ہے
فاخر نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے آخر میں مان کی طرف دیکھا رقیہ کی زبان تو تالوں میں بند گئی تھی
وہ تو دم سادھے کبھی فاخر کو دیکھتی تو کبھی مان کو
آنٹی میں جانتا ہوں مہرو نے جو کچھ بھی کیا وہ سراسر غلط تھا اور یقین کریں وہ اپنے کیے کی سزا بھی بھگت چکی ہے لیکن ایسا کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ ابھی بھی اپنی غلطی کی سزا بھگت رہی ہے
مان نے کہتے ہی بازل سے لے کر اپنے نکاح تک کا سارا واقعہ رقیہ بیگم کو سنا دیا
جن کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا دل کر رہا تھا مہرو ابھی ان کے سامنے آجائے اور اسے اپنے سینے میں بھینچ لے اور کبھی خود سے دور نا کریں
لیکن یہ سب اتنا آسان بھی نا تھا
رقیہ بیگم خاموشی کے ساتھ وہاں سے اٹھی اور کمرے سے نکل گئی
فاخر نے پریشانی سے مان کی طرف دیکھا
میں بات کرتا ہوں مان نے فاخر کے چہرے پر چھائی پریشانی کو دیکھتے ہوئے تحمل سےکہا
اور خود بھی کمرے سے نکل گیا
رقیہ بیگم نظریں جھکائے سامنے صوفے پر ہی بیٹھی تھیں
مان مضبوط قدم بھرتے ہوئے رقیہ بیگم کے پاس گیا
اور کرسی کو گھسیٹ کر ان کے سامنے ہی بیٹھ گیا
کچھ وقت کی خاموشی کے بعد رقیہ بیگم کی آواز مان کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی
جانتے ہو مہر کی ضد کی وجہ سے میں نے اپنے شوہر کو کھو دیا اس لڑکی نے مجھے کہی منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا اس کی وجہ سے کاہلوں کی طرح مجھے رات کے اندھیرے میں اپنے گھر کو چھوڑ کر آنا پڑا
اور اب میں اس کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی رقیہ نے مضبوط لہجے میں اپنے دل پر پتھر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا
جبکہ ان کی آنکھیں ان کے اپنے ہی فیصلے کی نفی کر رہی تھیں
آنٹی میں آپ کو فورس نہیں کرو گا مانتا ہوں مہرو نے غلط کیا
لیکن انسان اپنی غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے اگر صبح کا بھولا بھٹکا شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے دھکے دے کر گھر سے باہر نہیں نکال دیتے اسے ایک موقع دیتے ہیں
غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہے اور جو اپنی غلطی سے سبق حاصل کر لے وہ میرے نزدیک بہترین انسان ہے
میں بس اتنا ہی کہو گا آپ ایک بار ٹھنڈے دماغ سے سوچے کیا مہرو کو مزید سزا دینا ٹھیک ہے؟
مان نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا اور پیچھے رقیہ کو بہت سے سوال سوچنے پر مجبور کر گیا تھا
اس دن کے بعد رقیہ کچھ خاموش سی ہو گئی تھی فاخر نے بھی اس بات کو بخوبی محسوس کیا تھا
مان بھی آتا تھا رقیہ بیگم مہرو کے علاوہ ارد گرد کی باتیں کر لیتی تھیں لیکن جب مہرو کی بات ہوتی تو وہاں سے اٹھ کر چلی جاتی
مان اور فاخر بھی اس معاملے میں بےبس تھے
لیکن شاید رقیہ نے بھی مہرو سے نا ملنے کی قسم کھا رکھی تھی
💗💗💗💗💗
ہیلو…
فضا کیسی ہو؟
علیدان نے میٹھے لہجے میں پوچھا
فضا نے موبائل کان سے الگ کر کے نمبر کو دوبارہ دیکھا کہی اسے غلط فہمی ناہو گئی ہو
لیکن نمبر علیدان کا ہی تھا
فضا علیدان کی کال اٹینڈ تو نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے کال اٹینڈ کر لی وہ جانتی تھی علیدان نے مہرو کے ساتھ بہت غلط کیا ہے لیکن محبت انسان کو بہت خوار کرواتی ہے
میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟
فضا نے لمبا سانس بھرتے ہوئے پوچھا
تمھیں لگتا ہے کہ میں ٹھیک ہونگا؟
لیکن ان باتوں کو چھوڑو میں تم سے ایک بار ملنا چاہتا ہوں
کیا تم مجھ سے ملنا پسند کرو گی
علیدان کے لہجے کی التجا کو فضا نے بھی محسوس کیا تھا
آج تو علیدان اپنی باتوں سے فضا کو حیران کر رہا تھا جس نے کبھی سیدھے منہ فضا سے بات نہیں کی تھی اور آج ا سکا حال چال پوچھ رہا تھا
آپ مجھے ایڈریس بھیج دیں میں آجاؤ گی
فضا نے کہتے ہی فون بند کر دیا
علیدان کے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ نے ڈیرا جما لیا تھا
مہرو کو تو میں کبھی نہیں چھوڑو گا معارج ملک اور فضا تمہیں بہت عزیز ہے نا اب دیکھنا میں اس کے ساتھ کیا کرتا ہوں
علیدان نے اپنے تصور میں مان کا چہرہ لاتے ہوئے نفرت بھرے لہجے میں کہا
اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا کوئی نہیں جانتا تھا
لیکن زیادہ نقصان اس بار فضا کا ہونے والا تھا
💗💗💗💗💗
عامر نے آج ہی اپنا نیا موبائل لیا تھا موبائل کو اون کرتے ہی اسے مال والا واقعہ یاد آگیا
اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی
جس سے وہ خود بھی انجان تھا
مس کریلی ناجانے کیوں مجھے ایسی فیلنگ آرہی ہے جیسے آگے جا کر تم میری زندگی کا ایک اہم حصہ بننے والی ہو
عامر نے موبائل کو سینے پر رکھتے آنکھیں موندے خود کلامی کرتے ہوئے کہا
عامر تجھے نمبر لے لینا چاہیے تھا
اب عامر نے افسوس سے کہا
لیکن کوئی بات نہیں میری چھٹی حس کہہ رہی ہے کہ ہم بہت جلد ملے گئے
عامر نے مسکراتے ہوئے سوچا
عامر ابھی کومل کے خیالوں میں ہی کھویا ہوا تھا کہ دروازے پر ہوتی دستک نے اس کے خیالات میں خلل ڈالی
صاحب بڑے صاحب آپ کو نیچے بلا رہے ہیں
ملازم نے مودبانہ انداز میں کہا
اوکے میں آرہا ہوں
عامر نے پیروں میں سلیپر پہنتے ہوئے سامنے کھڑے ملازم کو کہا
اور کمرے سے نکل گیا۔
💗💗💗💗💗
نایاب آج اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی اس کا ارادہ آج گھر دیکھنے کا تھا صائم نے اسے کہا تھا کہ کمرے سے باہر نکلا کرو ماما سے باتیں کیا کرو
نایاب کو بھی صائم کی بات ٹھیک لگی تھی اس لیے گھر کو دیکھ رہی تھی ب اس کی نظر اپنی بدتمیز نند پر پڑی
کومل جو مارکیٹ جانے کا ارادہ رکھتی تھی
اور گھر سے باہر جا رہی تھی
نایاب کو دیکھ کر اس کا غصہ پھر سے عود آیا تھا
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟
نایاب نے خشمگن نظروں سے نایاب کو دیکھتے ہوئے پوچھا
کیا مطلب؟ میں سمجھی نہیں
نایاب نے ناسمجھی سے پوچھا
میرے سامنے اتنی بھولی بننے کی ضرورت نہیں ہے اچھی طرح جانتی ہو تم جیسی لڑکیوں کو پہلے اپنے پیار کے جال میں امیر لڑکوں کو پھانستی ہو اور بعد میں اسے ظاہر کرتی ہو جیسے بہت معصوم ہو
میری ایک بات یاد رکھنا اپنے بھائی کے لیے ہم اپنے سٹینڈرڈ کے مطابق اپنی بھابھی کو لے کر آئے گے تمھارے جیسی جاہل گوار میری بھابی نہیں ہو سکتی
پتہ نہیں بھائی کہاں سے تمہیں اٹھا لائے ہیں
یقیناً تم ان کو سڑک پر بھیگ…..
کومل اس سے پہلے مزید اپنی زبان کے جوہر دکھاتی اس کے چہرے پر پڑنے والے تھپڑ نے اسے روک دیا تھا۔
نایاب اور کومل دونوں نے آنکھیں پھاڑے مقابل کو بے یقینی سے دیکھا
💗💗💗💗💗
عرشمان آرزو کو ایک ریسٹورنٹ میں لے کر آیا تھا ۔آرزو آج بہت خوش تھی اور خوشی اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی
عرشمان نے کرسی کو تھوڑا خود کی طرف کھینچا اور آرزو کو بیٹھنے کا اشارہ کیا
اور خود اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا
اس سے کہ عرشمان بات کا آغاز کرتا موبائل کی رنگ ٹون نے اسے بدمزہ کیا تھا
نمبر انجان تھا
عرشمان نے موبائل کان سے لگایا لیکن مقابل کی بات نے اسے کے پیروں تلے زمین نکال دی تھی
کون سے ہسپتال میں ہے وہ؟
عرشمان نے لڑکھڑتی زبان میں پوچھا آرزو بھی عرشمان کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی
کیا ہوا؟
آرزو نے عرشمان کو
موبائل رکھتے دیکھ بےتابی سے پوچھا
اکف کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ہمیں ابھی ہسپتال جانا ہے
عرشمان نے آرزو کو کہتے ہی اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ریسٹورنٹ سے لے کر نکل گیا
💗💗💗💗💗
