No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
شاہ مجھے گھر جانا ہے ۔روحی نے شاہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔
تو یہ کیا ہے؟
شاہ نے موبائل سے نظریں ہٹا کر روحی کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
آپ کو نہیں پتا کہ یہ گھر ہے ۔روحی نے گھورتے ہوئے کہا
ہاں تو تم گھر میں ہی ہو جان من
پھر کون سے گھر کی بات کررہی ہو؟ اور میں تمھارا شوہر ہوں جہاں میں رہوں گا وہی تمھارا گھر ہو گا ۔
شاہ نے سنجیدگی سے کہا
شاہ مجھے گاؤں جانا ہے اگر ماما کو پتہ چل گیا کہ میں گاؤں نہیں ہوں تو وہ پریشان ہو جائے گی
روحی نے اصل بات شاہ کو بتاتے ہوئے پریشانی سے کہا
اوہ تو تمہیں موم کی ٹینشن ہے تم فکر مت کرو تمھاری امی کو اور اپنی ماما کو میں سنبھال لوں گا تم بس مجھے سنبھالنے کا کام سر انجام دو
شاہ نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا ۔
آپ کیا چنے کاکے ہیں جو میں آپ کو سنبھالو
روحی نے کمر پر ہاتھ رکھتا ہوئے پوچھا
روحی کی بات پر شاہ قہقہہ بے ساختہ تھا ۔
پہلے تو مجھے تم یہ بتاؤ یہ چنا کاکا کیا ہوتا ہے؟
شاہ نے روحی کو کمر سے پکڑ کے خود کے قریب کرتے پوچھا
آپ کو چنے کاکے کا نہیں پتہ کیا فائدہ اتنی پڑھائی کا۔ لیکن میں آپ کو بلکل بھی نہیں بتاؤ گی
اب چھوڑیے مجھے
روحی نے شاہ کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔
تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جب تک میں نا چاہو تم میری گرفت سے نکل نہیں سکتی پھر کیوں کوشش کرتی ہو ۔
شاہ نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا
شاہ آپ کو ہو کیا گیا ہے؟ کیوں آپ نے مجھے میرے اپنوں سے دور رکھا ہوا ہے؟
روحی نے خود کو آذاد کروانے کی جدوجہد کو روکتے ہوئے بے بسی سے پوچھا
یقین مانو نکاح تو میں بھی تم سے نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
بس مجبوری میں کرنا پڑا اور تم میری پسند تو کبھی نہیں ہو سکتی ہو
شاہ نے سرد لہجے میں کہا ۔
تو کیوں مجھے سب سے دور یہاں گھر میں قید کرکے رکھا ہے؟ اور ایسی کون سی مجبوری ہے جس کی وجہ سے آپ کو مجھ سے نکاح کرنا پڑا؟
اور اگر میں آپ کی پسند نہیں ہوں مجبوری میں آپ نے مجھ سے نکاح کیا ہے تو میرے قریب آنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں آپ؟
مجبوری کا رشتہ مجبوری ہی کی طرح نبھائیں تو بہتر ہو گا
روحی نے شاہ کی آنکھوں میں. دیکھتے ہوئے کرخت لہجے میں کہا ۔
جس نے روحی کی بات سن کر اس کو چھوڑ دیا تھا ۔
روحی نے بھیگی آنکھوں سے شاہ کو دیکھتے اور کمرے سے نکل گئ ۔
شاہ ابھی بھی دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے روحی گئی تھی جب اس کا موبائل رنگ ہوا ۔
موم کالنگ دیکھ کر شاہ نے لمبا سانس لے کر کال اٹینڈ کی ۔
شاہ کہاں غائب رہتے ہو کچھ تو خیال کر لو میں گھر میں اکیلی ہوتی ہوں روحی بھی نہیں ہے تمھارے ڈیڈ بھی گھر پر نہیں ہوتے اور آج ہی روحی کو لے کر گھر آجاؤ
صفیہ بیگم نے بے روخی سے کہا
سوری ماں جی شاہ نے شرمندگی سے کہا
آپ فکر مت کرے میں کچھ وقت میں روحی کے ساتھ اتا ہوں
شاہ نے سنجیدگی سے کہا
تم سچ میں اسے گھر لے آؤ گئے
صفیہ بیگم نے بے یقینی کی کیفیت میں پوچھا ۔
ماں جی آپ روحی کو مس کر رہی ہیں تو ڈیڈ کو بھی تو ان کی بہو سے ملوانا ہے
شاہ نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔
میں بہت خوش ہوں شاہ بس تم روحی کو جلدی سے لے آؤ اور تمھاری منگیتر کل کی آئی ہوئی ہے
تمھارا انتظار کر رہی ہے تو جلدی آجاؤ اور خود اسے ہینڈل کرو
صفیہ بیگم نے کہہ کر فون بند کر دیا ۔
شاہ نے اپنے نکاح کا صفیہ بیگم کو بتا دیا تھا انھیں تو کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ وہ خوش تھیں کہ روحی اب ہمیشہ ان کے پاس رہے گی
لیکن شاہ نے یہ نہیں بتایا کہ کیوں اس نے بنا کسی کو بتائے روحی سے نکاح کیا۔صفیہ بیگم نے بھی شاہ کو زیادہ فورس نہیں کیا وہ پہلے کون سا کسی کی سنتا تھا جو اب سنتا
اس مصبیت نے بھی ابھی آنا تھا کچھ کرتا ہوں تمھارا شاہ نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوۓ کہا ۔
اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖 💖
مان کوٹھے سے سیدھا اپنے گھر آیا تھا اور آتے ہی اپنے کمرے میں بند ہو گیا
دو سال پہلے مان علیدان سے ملنے اسکے فلیٹ پر آیا تھا جہاں پر اس نے ایک بچے کو دیکھا اور اسے کافی حیرانگی بھی ہوئی تھی۔
مان کے پوچھنے پر علیدان سے کوئی جواب نہیں بن پا رہا تھا
اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ مان بھی یہاں آسکتا ہے
علیدان کے منہ میں جو کچھ آیا اسے نے بول دیا
مان یہ بچہ نہیں بچی ہے اور مجھے یہ بچی کوڑے دان سے ملی ہے اور وہاں کوئی نہیں تھا میری اچانک نظر اس پر پڑی اور مجھے اس بچی کو وہاں چھوڑنا مناسب نہیں لگا اس لیے اسے اپنے ساتھ لے آیا اور میں سوچ رہا ہوں اسے کیسی یتیم خانے دے آؤ لیکن اس کا خرچہ میں خود اُٹھاؤ گا۔
علیدان نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ خود کو رحم دل ثابت کرتے ہوئے مان کو سٹوری بنا کر سنائی
مان اپنے بھائی کو محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
بھائی آپ نے بہت اچھا سوچا لوگ پتہ نہیں کیسے اپنے بچوں کو پھینک دیتے ہیں اللہ ان کو ہدایت دے۔
اور اگر میری بھی کسی قسم کی ہیلپ کی ضرورت ہو تو مجھے بتا دیجیے گا
مان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں کیوں نہیں تمہیں کچھ کام تھا مجھ سے علیدان نے جلدی سے پوچھا
ہاں لیکن اتنا بھی ضروری نہیں تھا آپ بچی کا خیال رکھیے گا
اور ہاں اگر آپ کو مناسب لگے تو اس معصوم گڑیا کا نام مروه رکھیے گا
مان نے ہلکا سا مسکرا کر کہا ۔
بہت اچھا نام ہے یہ علیدان نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے کہا
مان وہاں سے چلا گیا اور اس کے جاتے ہی پندرہ منٹ بعد علیدان بھی مروہ کو لے کر نکل گیا تھا ۔اسے جلد از جلد مروہ کو کسی یتیم خانے لے جانا تھا۔
اس واقعات کو یاد کر کے مان کو ایک عجیب سا احساس ہو رہا تھا
مان کی آنکھوں کے سامنے اس ننھی سی جان کا چہرہ لہرایا تھا
سوچ سوچ کر سر اس کا سر دکھنے لگ تھا
میرا بھائی اس حد تک گر سکتا ہے میرا بھائی آخر ایسا کیسے کر سکتا ہے؟
وہ اتنا گھٹیا نہیں ہو سکتا
مہرو جھوٹ بول رہی ہے میرا بھائی کسی کی زندگی خراب نہیں کر سکتا ۔
مان نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پریشانی سے کہا ۔
معارج خود کو تسلی زیادہ دے رہا تھا کہ مہرو جھوٹ بول رہی ہے ۔
لیکن کڑی سے کڑی ملتی جا رہی تھی علیدان کا کوٹھے پر جانا
فضا کو کہنا کہ وہ کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے
اور مہرو کا معارج سے نفرت کرنا سب کچھ معارج کو واضع کر وارہا تھا کہ مہرو سچ بول رہی ہے ۔
لیکن دماغ ابھی بھی اپنے بھائی کے حق میں گواہی دے رہا تھا
💖💖💖💖💖💖💖
شاہ روحی کو لے کر گھر آگیا تھا ابھی وہ سوہا سے ملنا نہیں چاہتا تھا ۔اسے اپنے ڈیڈ کا انتظار تھا ۔
آج روحی کی ماں بھی شاہ کے بلوانے پر روحی کے منگیتر کے ساتھ واپس آگئی تھی ۔
صفیہ بیگم نے روحی کے منگیتر کو بھی روک لیا تھا وہ جانتی تھیں شاہ کیا بات کرنے والا ہے۔
شاہ میں کل سے تمھارا انتظار کررہی ہوں کہاں غائب تھے تم سوہا نے لاڈ سے شاہ کا بازو پکڑتے ہوئے کہا۔
دامنے سے آتی روحی کی نظر شاہ پر پڑی تو اسے اگنور کرتی صفیہ بیگم کے کمرے کی طرف چلی گئی
شاہ کو روحی کا خود کو اگنور کرنا برا لگا تھا
مس سوہا ڈیڈ آتے ہی ہونگے مجھے آپ سب لوگوں کو ایک سرپرائز دینا ہے اس وقت تک اپنے جذبات کو قابو میں رکھو شاہ نے سوہا کے ہاتھ کو اپنے بازو سے الگ کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
سرپرائز…..
شاہ میرے لیے سرپرائز ہے سو ہا نے خوشی سے پوچھا ۔
ہاں زیادہ سرپرائز تم ہی ہو گی
شاہ نے تمسخرانہ انداز میں کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖 💖
سوہا شاہ کی کزن ہونے کے ساتھ اس کی منگیتر بھی تھی ۔
شاہ جب دس سال کا تھا تو قاسم شاہ نے اس کی منگنی اپنے چھوٹے بھائی کی بیٹی سوہا سے کر دی تھی اس وقت شاہ کو اتنا ہوش نہیں تھا
قاسم شاہ نے ریان کی منگنی سوہا سے اس لیے کی تھی کہ بزنس میں وقار جو قاسم شاہ کا چھوٹا بھائی تھا بہت زیادہ پیسے انویسٹ کت چکا تھا
اب وہ پیسے قاسم شاہ وقار کو واپس نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس لیے اس نے شاہ کی منگنی سوہا سے کی اور وقار نے پیسے بھی واپس نہیں مانگے تھے
شاہ جب تھوڑا بڑا ہوا تو اس نے منگنی کو ماننے سے انکار کر دیا۔
لیکن قاسم شاہ نے اس کی بات نہیں سنی تو شاہ نے بھی سوچ لیا ایسے تو ایسے ہی سہی اس نے کافی بار سوہا کو بھی کہا تھا کہ میں بہت چھوٹا تھا جب میری منگنی ہوئی تھی لیکن میں تمہیں پسند نہیں کرتا لیکن سوہا نے کبھی شاہ کی بات کو خاطر میں نہیں لیا
کیونکہ اسے پورا یقین تھا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے قاسم شاہ اس کی شادی ریان سے کروا ہی دے گا لیکن ابھی وہ نہیں جانتی تھی کہ شاہ کیا چیز ہے ۔
اب ریان نے اپنے نکاح کا بتا کر قاسم شاہ اور سوہا کے سر پر بم پھوڑنا تھا ۔
💖💖💖💖💖💖💖
کیا ہوا شاہ تم نے کچھ بات کرنی تھی؟ قاسم شاہ نے حیرانگی سے پوچھا کیونکہ گھر آتے ہی ان کو پیغام ملا کہ شاہ سب سے ضروری بات کرنا چاہتا ہے
جی لیکن پہلے روحی کو آنے دیں شاہ نے سنجیدگی سے کہا
تھوڑی دیر بعد روحی کے ساتھ اس کا ماں اور منگیتر بھی روم میں داخل ہوئے تھے روحی نے ایک نظر سب کے چہروں پر ڈالی اور اپنی ماں کے پاس جا کر بیٹھنے لگی جب شاہ نے اس کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کھڑا کیا
سوہا سامنے کا منظر دیکھ کر جھل بھن کر تلملا اٹھی تھی پہلے ہی شاہ کے منہ سے روحی کا نام اسے زہر لگا تھا
قاسم شاہ کی آنکھوں میں غصہ تھا اور روحی کی ماں اور اس کا منگیتر حیرانگی سے شاہ اور روحی کی طرف دیکھ رہے تھے ۔
اگر کوئی مطمئن تھا تو وہ صفیہ بیگم تھیں
روحی کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ نظریں اٹھا کر دیکھ لے ۔
آپ سب لوگوں کے لیے میرے پاس ایک سرپرائز ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے روحی سے نکاح کر لیا ہے ۔
ریان نے اپنے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا
روحی کسی مجرم کی طرح منہ نظریں جھکائے کھڑی تھی ۔
یہ کیا بکواس کر رہے ہو؟ ریان شاہ تم اچھے سے جانتے ہو کہ تمھاری منگنی بچپن میں ہی سوہا کے ساتھ ہو گئی تھی ۔اور ایک نوکرانی کی بیٹی میری بہو نہیں ہو سکتی ہے ۔
قاسم شاہ نے دھاڑتے ہوئے کہا ریان کو غصہ تو بہت آیا لیکن اس وقت اسے ہوش سے کام لینا تھا نا چاہتے ہوئے بھی روحی کی آنکھوں میں. آنسوؤں اگئے تھے۔
شاہ چلتا ہوا قاسم شاہ کے پاس گیا اور ان کے کان کے پاس سرگوشی نما کہا
ایک نوکرانی کی بیٹی پر آپ گندی نظر رکھ سکتے ہیں ڈیڈ تو وہ میری بیوی کیوں نہیں ہو سکتی
شاہ کا لہجہ طنزیہ تھا جبکہ قاسم شاہ کے پسینے چھوٹ گئے تھے
شاہ نے مڑ کر باقی سب لوگوں کو دیکھا اور کہا
روحی میری بیوی ہے یعنی میری عزت اور یہ میری لائف ہے میں جس مرضی کے ساتھ نکاح کروں کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے پھر چاہیے میں کسی نوکرانی کی بیٹی سے ہی نکاح کیوں نا کروں
میں برداشت نہیں کروں گا کہ کوئی میری بیوی کو کچھ کہے
اور آج سے روحی ریان شاہ ہے قاسم شاہ کے وارث کی بیوی تو جتنی عزت میری کی جاتی ہے میری بیوی کی بھی اتنی ہی عزت کی جائے گی اگر کسی نے اس کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تو اس انسان کو شاہ کے قہر سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
شاہ کی باتیں قاسم شاہ کو بہت کچھ باور کروا گئ تھیں ۔
ایسے کیسے تم مجھے چیٹ کر سکتے ہو شاہ میں تمھاری منگیتر ہوں بچپن سے تمھارے لیے بیٹھی ہوں اور اس نوکرانی سے نکاح کرکے مجھے ٹھکرا رہے ہو ۔
سوہا نے نفرت بھرے لہجے میں روحی کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
شاہ ایک سیکنڈ سے پہلے سوہا کے سامنے آیا اور سختی سے اس کے جبڑے کو دبوچتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا کر کہا
میں نے ابھی کیا بکواس کی ہے اگر میری بیوی کے بارے میں کسی نے بھی کچھ بھی غلط بولا تو اس کی جان لینے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاؤ گا
اور دوسری بات میں نے تمہیں ہمیشہ ایک ہی بات کہی تھی کہ میں اس منگنی کو نہیں مانتا تو تم کیسے کہہ سکتی ہو میں نے تمہیں چیٹ کیا
کیا میں نے تم سے کبھی شادی کا وعدہ کیا یا میں نے کہا کہ میرا انتظار کرنا؟
نہیں نا تو اس میں تمھاری اور میرے باپ کی غلطی ہے جو تم دونوں آپس میں سلجھا لینا ۔
شاہ نے غصے سے سوہا کو چھوڑتے ہوئے کہا جو لڑکھڑا کر دو قدم شاہ سے پیچھے جا کھڑی ہوئی
شاہ نے ایک نظر وہاں کھڑے نفوس پر ڈالی اور روحی کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے لے گیا
خالہ یہ سب کیا ہے؟
روحی کے منگیتر نے پوچھا
اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی صفیہ بیگم ان کے پاس آگئی تھیں
بیٹا میں بہت شرمندہ ہوں مجھے معلوم ہے روحی آپ کی منگیتر تھی
لیکن اب تو نکاح ہو چکا ہے
صفیہ بیگم نے شرمندگی سے کہا
آنٹی شاید روحی میری قسمت میں نہیں تھی
اب اس کا نکاح ہو چکا ہے تو میں دعا کرو گا کہ وہ آپ کے بیٹے کے ساتھ ہمیشہ خوش رہے
اور بےشک وہ میری منگیتر تھی لیکن میں اپنی کزن کو پسند کرتا ہوں اور آپ کے بیٹے نے روحی سے نکاح کرکے میرا مسئلہ حل کر دیا اس لڑکے نے مسکرا کر کہا ۔
صفیہ بیگم کے دل سے بہت برا بوجھ اتر گیا تھا ورنہ انہیں لگ رہا تھا اس لڑکے کے ساتھ غلط ہوا ہے ۔
تم اپنی بیٹی کے لیے خوش ہو؟
صفیہ بیگم نے روحی کی ماں سے پوچھا
جی مجھے کیا اعتراض ہو گا اور روحی کو مجھ سے زیادہ آپ نے پیار دیا ہے
اور مجھے پورا یقین ہے کہ شاہ میری بیٹی کا بہت اچھے سے خیال رکھے گا
اور مجھے آپ سے بات کرنی تھی میں اب گاؤں اپنی امی کے پاس جانا چاہتی ہوں
ان کے طبعیت ٹھیک نہیں ہے
میں تو شاہ کے کہنے پر آئی تھی لیکن اب مجھے جانا ہے
روحی کی ماں نے کہا
ٹھیک تم صبح چلی جانا آج رات رک جاؤ روحی سے بھی اچھے سے مل لینا ۔
صفیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
جی بہتر روحی کی ماں نے بھی مسکرا کر کہا
وہ اچھے سے جانتی تھی کہ صفیہ بیگم روحی کو اپنی بیٹی مانتی ہے اور وہ یہاں شاہ کے ساتھ خوش رہے گی ۔
اور ویسے بھی روحی اپنی ماں سے زیادہ صفیہ بیگم سے اٹیچ تھی ۔
قاسم شاہ اور سوہا غصے میں روم سے نکل گئے تھے ۔
💖💖💖💖💖💖💖
شاہ روحی کو اپنے کمرے میں لے آیا تھا جو بیڈ پر بیٹھی رونے کا کام سرانجام دے رہی تھی ۔
کیا مسئلہ ہے؟ تمھارے ساتھ کیوں رو رہی ہو؟
شاہ نے آخر کار اکتا کر پوچھا جو کب سے کھڑا روحی کو روتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔
روحی نے ایک نظر شاہ لو دیکھا اور پھر رونے لگی ۔
روحی اگر تم خاموش نہیں ہوئی تو میں اپنے طریقے سے خاموش کرواؤ گا
شاہ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا جسے خاطر میں لائے بغیر روحی رونے کے شغل میں مصروف رہی۔
ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی شاہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور روحی کو بازو سے پکڑ کر خود کے سامنے کھڑا کیا
اور بنا اسے سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اپنے لبوں سے آنسوؤں کو چننے لگا
شاہ کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے روحی رونا بھول کر دم سادھے کھڑی شا کع دیکھنے لگی ۔
اب خاموش کیوں ہو گئ؟
شاہ نے شرارتی انداز میں پوچھا
جو شرم کے مارے نظریں جھکا گئی تھی ۔
میری بات دھیان سے سنو روحی تم میرے ڈیڈ اور سوہا سے دور رہو گی چاہے کچھ بھی ہو جائے تم ان دونوں کی بات نہیں مانوں گی
اگر میں نے تمہیں ان دونوں کے ساتھ باتیں کرتے دیکھ لیا تو تم اچھے سے جانتی ہو تمھارا شاہ تمھارے ساتھ کیا کرے گا
شاہ کا لہجہ دھمکی آمیز تھا ۔
آپ میرے کب سے ہو گئے؟ روحی نے سو سو کرتے حیرانگی سے پوچھا
باقی باتوں کو نظر انداز کرکے اس کی سوئی میرے شاہ پر اٹک گئی تھی ۔
جب سے ہمارا نکاح ہوا ہے شاہ نے لبوں پر قاتلانہ مسکراہٹ لاتے کہا
آج پہلی بار روحی شاہ کو بے حد قریب سے دیکھ رہی تھی ۔
مسز ایسے دیکھو گی تو کام خراب ہو جائے گا
شاہ نے روحی کے کالر بون پر اپنا انگوٹھا پھیرتے ہوئے بھاری لہجے میں کہا ۔
شاہ آپ پل میں تولہ اور پل میں ماشا ہوتے ہیں مجھے آپ کی سمجھ نہیں آتی
باہر سب کے سامنے آپ نے کہا کہ میں آپ کی عزت ہوں اور اکیلے میں آپ مجھے میری اوقات یاد دلاتے ہیں
کیوں؟
روحی نے شاہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بھیگے لہجے میں کہا
جانتا ہوں میں غصے میں اکثر ایسی باتیں بول دیتا ہوں جو تمھارے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہے لیکن آئندہ میں پوری کوشش کرو گا کہ تمہیں کسی قسم کی تکلیف نا دو
اور اگر تم میری بات مانتی رہو گی تو تمھارے لیے بھی بہتر ہو گا
لیکن اگر تم نے میری بات نا مانی تو میں نہیں جانتا پھر میں تمھارے ساتھ کیا کروں گا ۔
شاہ نے سنجیدگی سے روحی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
اور اگر کوئی ایسی بات ہے جو تمہیں پریشان کرتی ہے تو تم مجھے بتا سکتی ہو
شاہ نے روحی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
روحی کو لگ رہا تھا شاہ کی آنکھیں اس کے اندر تک جھانک رہی ہیں
اس نے پہلے سوچا قاسم شاہ کا بتا دے لیکن شاہ کے غصہ کرنے کے ڈر سے اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا ۔
روحی ایک بات یاد رکھنا میں تم پر بہت بھروسہ کرتا ہوں اور اب تم میری بیوی ہو اور ہمیشہ میں تمھارے ساتھ کھڑا رہوں گا
ایک بار اپنے شوہر پر یقین کرکے دیکھنا وہ تمہیں کبھی مایوس نہیں کرے گا ۔
شاہ نے عقیدت بھرا لمس روحی کے ماتھے پر چھوڑتے ہوئے کہا ۔
روحی کو شاہ کی باتوں کا مطلب تو سمجھ میں نہیں آرہا تھا لیکن اسے شاہ کا خود کے لیے پرواہ کرنا اچھا لگ رہا تھا
شاہ کا موبائل رنگ ہوا تو روحی سے تھوڑا فاصلے پر کھڑے ہو کر اس نے کال اٹینڈ کی اور پھر ایک نظر روحی پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔
روحی ابھی بھی ویسے ہی کھڑی تھی ۔
💖💖💖💖💖💖💖
مس ایزل آپ سنگل ہیں؟ آکف کے اچانک پوچھے گئے سوال نے ایک پل کے لیے ایزل کو خاموش کروا دیا تھا ۔
سر میں اپنی پرسنل اور آفیشل لائف کو الگ رکھتی ہوں
ایزل نے سرد لہجے میں کہا
گڈ مجھے آپ کی بات پسند آئی
پھر کہی باہر کا پروگرام بنا لیتے ہیں آرام سے آپ کی پرسنل لائف کے بارے میں بات کر لیں گئے ۔
آکف نے ڈھیٹ پن کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا۔
ایزل نے پہلے تو حیرانگی سے آکف کی طرف دیکھا پھر بولی
سر آپ اس فائل پر سائن کر دیجیے گا
ایزل نے دانت پیستے ہوئے کہا
اور روم سے نکل گئ
عجیب لڑکی ہے
میں نے کون سا ڈیٹ پر چلنے کا کہہ دیا تھا ۔
ویسے ڈیٹ پر میں اسے لے جا سکتا ہوں اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے ۔
آکف نے سوچتے ہوئے خود سے کہا۔
اور اپنے پلان کو ترتیب دینے لگا ۔
💖💖💖💖💖💖
آرزو کی کل مہندی تھی سب تیاریوں میں مصروف تھے اگر کوئی غائب تھا تو وہ مان تھا ۔
بیگم صاحبہ آپ کا لاڈلہ کہاں ہے اس کی بہن کی شادی ہے اور وہ غائب ہے شاداب ملک نے کہا
شاداب میں نے صبح مان کو دیکھا تھا وہ مجھے بہت ڈسٹرب لگا ہے اور اب بھی غائب ہے
آپ اس سے بات کریں کہ کیا مسئلہ ہے؟
رابعہ نے پریشانی سے کہا۔
رابعہ تم فکر مت کرو وہ ٹھیک ہو گا پھر بھی تمھاری تسلی کے لیے میں. مان سے بات کرتا ہوں شاداب نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلے گئے ۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
مان صبح کا گھر سے نکلا ہوا تھا اور اب اپنی گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگائے سگریٹ کے کش لے رہا تھا
اس نہیں معلوم تھا کہ اس نے کتنے سگریٹ پیے ہیں ۔
بار بار مہرو کا بے نس سا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا
بھائی اگر آپ سچ میں مہرو کے مجرم نکلے تو اپنے ہاتھوں سے آپ کو سزا دوں گا اور اگر مہرو جھوٹ بو رہی ہوئی تو اس کی سزا بھی بہت بھیانک ہو گی مان نے کہتے ہی فون پر ایک نمبر ڈائل کرکے کان سے لگایا
رات تک مجھے علیدان ملک کے دونوں دوست عامر اور عمیر کے بارے میں معلومات چاہیے
یہ کہتے ہی اس نے فون بند کر دیا ۔
اسے اب گھر جانا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے آرزو پریشانی ہو ۔
