No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
☠️☠️☠️☠️☠️☠️☠️☠️☠️
بھائی ہم کہاں جا رہے ہیں؟ صائم نے بے چینی سے پوچھا
وہ کب سے خاموش بیٹھا تھا اب اس کی ہمت جواب دے چکی تھی ۔
گھر مان نے ایک لفظ میں جواب دیا اور خاموش ہو گیا
گھر لیکن نایاب؟ صائم نے پریشانی سے پوچھا
نایاب رات تک کوٹھے پر ہوگی سہی سلامت
تم پریشان نا ہو
مان نے کہا اور گاڑی روک دی
لیکن بھائی…..
صائم نے کچھ کہنا چاہا لیکن مان کی بات نے اسے خاموش کر وا دیا تھا ۔
تم نے مجھ پر بھروسہ کیا مجھ سے مدد کے لیے کہا تو تھوڑا سا صبر مزید کر لو معارج ملک کبھی بھی اپنے بھائی کو مایوس نہیں کرے گا
مان کے لہجے کے یقین نے صائم کو بھی خاموش ہونے پر مجبور کر دیا تھا ۔
ٹھیک ہے بھائی اپنا دھیان رکھیے گا صائم نے کہا اور گاڑی سے نکل گیا ۔
. مان نے گاڑی علیدان کے فارم ہاؤس کی طرف موڑ لی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد اس کا موبائل رنگ ہوا تھا
بولو؟
مان نے سنجیدگی سے کہا
سر آپ کے بھائی فارم ہاؤس سے نکل چکے ہیں مان کے آدمی نے کہا
ٹھیک ہے جب تک میں نہیں آجاتا تم وہی رہو گئے
مان نے کہہ کر فون بند کر دیا ۔
یا اللہ مجھے صبر عطا فرما مان نے دل میں کہا علیدان جیسا بھی تھا اس کا بھائی تھا جس سے وہ بہت محبت کرتا تھا ۔
کاش بھائی آپ ان فضولیات میں نا پڑے ہوتے کاش آپ نے مہرو کی زندگی برباد نا کی ہوتی آپ ایسے تو ہرگز نہیں تھے یا شاید میں نے آپ کو پہچاننے میں دیر کر دی
مان کے دماغ میں یہی سب باتیں چل رہی تھی ۔اسی دوران وہ علیدان کے فارم پہنچ چکا تھا ۔
مان گاڑی سے باہر نکلا اور اس کے دو آدمی مان کو دیکھتے ہی بھاگ کر اس کے پاس آئے ۔
تم لوگ جاؤ مان نے اپنے گلاسسز اتارتے ہوئے حکمیہ لہجے میں کہا
اور خود فارم ہاؤس میں داخل ہوا
یقیناً نایاب کو علیدان نے اپنے روم میں رکھا ہوا ہو گا اس لیے وہ سیدھا اسی کی روم میں گیا تھا
نایاب ہوش وحواس سے بیگانہ بنا دوپٹے کے لیٹی ہوئی تھی
معارج نے اپنی نظروں کا رخ تبدل کر لیا تھا اور وہاں سے کمبل اٹھا کر کر نایاب پر ڈالا
اب اس سمجھ نہیں آہا تھا کہ کس طرح اسے جگائے
ایک دو بار آواز دینے کے بعد بھی جب نایاب نہیں اٹھی تو مان نے پاس پڑے جگ کا سارا پانی اس پر گرا دیا
نایاب ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی تھی
اور ناسمجھی سے مان کو دیکھنے لگی جس نے اپنی چادر اس کی طرف بڑھائی تھی اسے جلدی سے لو ہمیں یہاں سے نکلنا ہے ۔
مان نے سنجیدگی سے کہا
نایاب نے بنا کوئی سوال پوچھے چادر کو اوڑھا اور اٹھ کھڑی ہوئی وہ نہیں جانتی تھی اس وقت کہاں پر ہے اور کیسے یہاں آئی
لیکن مان پر وہ بھروسہ کر سکتی تھی کیونکہ تھوڑا بہت تو اسے جانتی ہی تھی کہ وہ کس طرح کا ہے ۔
گاڑی میں دونوں کے درمیان خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔مان نے دوبارہ نایاب کی طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی
مہرو کو تم اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتاؤ گی
مان نے کوٹھے کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے کہا صائم کی ہی بدولت میں تمہیں تلاش کر سکا ہوں وہ بہت پریشان تھا اگر اس کا نمبر تمھارے پاس ہے تو اس سے بات کر لینا
مان نے صائم کا نام جان بوجھ کر لیا تھا تاکہ نایاب کے دل میں اس کے لیے تھوڑی بہت ہمدردی پیدا ہو سکے کیونکہ وہ صائم کی آنکھوں میں نایاب کے لیے دیوانگی دیکھ چکا تھا
لیکن صائم کا اور آپ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ نایاب نے حیرانگی سے پوچھا
وہ میرا بھائی ہے
مان نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا
یہ بات نایاب کے لیے حیران کن تھی
لیکن اس نے مزید سوال نہیں پوچھا
اور مان کا شکریہ ادا کرکے گاڑی سے نکل گئی تھی ۔
مان کا ارادہ مہرو کے پاس جانے تھا کیونکہ وہ آج ہی مہرو کو گھر لے کر جانا چاہتا تھا
💗💗💗💗💗💗💗
آرزو کے بےہوش ہونے پر آکف ایک دم گھبرا گیا تھا ۔اسے کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو آرزو کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر اپنی گاڑی تک لے آیا
اس نے آرزو کی گال کو تھپتھپایا ۔اور پانی کے چھینٹے اس کے منہ پر مارے جس پر ایزل نے اپنی مندی مندی آنکھیں کھول کر آکف کو دیکھا جو پریشانی سے ایزل کو دیکھ رہا تھا ۔
لیکن جیسے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ دیر پہلے والا واقعہ گھما تو فوراً سیدھی ہوکر بیٹھ گئی ۔
تم ٹھیک ہو؟ آکف نے پوچھا ۔
مجھے گھر جانا ہے ایزل نے آکف کی بات کو اگنور کرتے ہوئے کہا اور گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی ۔
کہاں جا رہی ہو؟ میں چھوڑ دیتا ہوں
آکف نے جلدی سے کہا اور گاڑی سٹارٹ کر دی
گاڑی روکو
ایزل نے غصے میں کہا پہلے ہی آکف اس کے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی کر چکا تھا
خاموشی سے بیٹھی رہو
آکف نے سنجیدگی سے کہا ۔
ایزل کو رونا آرہا تھا وہ جانتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے آج اتنے دنوں بعد اس کے بھائی نے اس سے پیار سے بات کی تھی اور شاپنگ کروانے لایا تھا اس کی بھابی بھی ساتھ ہی تھی جو منہ بنائے چل پھر رہی تھی آج ایزل بہت خوش تھی لیکن آکف نے سب کچھ بگاڑ دیا تھا ۔
ایزل کا موبائل رنگ ہوا تو آفس سے کال تھی ایزل نے اپنے بھائی سے کہا وہ بات کرکے کے آتی ہے لیکن وہاں آکف آگیا اور جو کچھ اس نے بولا تھا یقیناً اس کا بھائی سن چکا تھا
آکف نے ایزل کے گھر کے پاس روکی ایزل نے جلدی سے دروازہ کھولا اور گاڑی سے نکلی
آکف اس کو دیکھتا ہی رہ گیا تھا ۔
دیکھا کہتی تھی نا اس لڑکی کی چال چلن ٹھیک نہیں ہے لیکن آپ کہاں میری بات سنتے ہیں
آج آپ نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سن بھی لیا ابھی بھی آپ کو یقین نہیں آرہا اور دیکھوں کتنی بےشرم ہے اسی لڑکے کے ساتھ گاڑی میں آئی ہے اسے ہماری عزت کی پرواہ ہی نہیں ہے
بھابھی سے جہاں تک ہو سکا تھا اس نے اپنے شوہر کو اس کی بہن کے خلاف بھڑکا دیا تھا
ایزل گھر میں داخل ہوئی جبکہ اس کا دل سوکھے پتے کی مانند کانپ برہا تھا ۔اس کا بھائی اسے گاڑی سے نکلتے ہوئے دیکھ چکا تھا وہ کھڑی کے پاس ہی کھڑا تھا ۔
ایزل اپنے کمرے میں چلی گئ تھی اسے پورا یقین تھا کہ اس کا بھائی ضرور اس پر غصہ کرے گا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا
پورے گھر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی شاید یہ طوفان آنے سے پہلے کی خاموشی تھی
حیرانگی تو ایزل کی بھابھی کو بھی بہت ہوئی تھی کہ اس کے شوہر نے ایزل کو کچھ کہا کیوں نہیں ۔
لیکن یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا کہ کہ ایزل کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔
💗💗💗💗💗💗
معارج نے صائم کو بتا دیا تھا کہ نایاب بلکل ٹھیک ہے اور وہ کوٹھے پر ہیں
صائم جو پہلے ہی مان کی کال کا انتظار کررہا تھا فوراً نایاب سے ملنے کے لیے نکل پڑا تھا
مان رات ہونے سے پہلے ہی نایاب کو واپس لے آیا تھا
تو کہاں چلی گئ تھی جانتی ہے میں کتنا پریشانی ہو گی تھی ۔سلمی نے نایاب کو گلے لگاتے ہوئے کہا
تو نایاب نے سلمی کو سب کچھ بتا دیا جو اب عمیر کے ساتھ علیدان کو بھی بدعائے دے رہی تھی لیکن نایاب نے سلمیٰ کو بھی کہہ دیا تھا کہ یہ بات کسی اور کو پتہ نہیں چلنی چاہیے اور مہرو کو تو ہرگز نہیں
نایاب نے سنجیدگی سے کہا
آج کا رقص تو کرے گی یا کسی اور کو کہہ دوں؟ سلمیٰ نے نایاب سے پوچھا
میں ہی کرو گی
نایاب نے کہا
اور پھر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔
تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد پارلر والی اسے میک اپ کرنے کے لیے آگئی تھی
میک اپ کے بعد نایاب آئینے کے سامنے کھڑی اپنے فراک کے بیک کی ڈوریوں کو بندکرنے کی کوشش کر رہی تھی
جب خود سے نہیں ہوا تو اس نے باہر سے کسی لڑکی کو بلوانے کا سوچا
لیکن پیچھے مڑتے ہی نایاب کسی دیوار کے ساتھ جا ٹکرائی تھی ۔
سر تو اس کا پہلے سے درد کر رہا تھا ۔نایاب نے غصے سے ٹکرانے والے کی طرف دیکھا تو صائم کو دیکھ کر تو اس کا غصہ کہی غائب ہو گیا تھا ۔
صائم نے نایاب کے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لیا ہوا تھا
صائم نے بے خودی کے عالم میں نایاب کے چہرے کو اپنے ہاتھ سے چھوا ۔جو بنا آنکھیں جھپکائے صائم کو دیکھ رہی تھی ۔
تم ٹھیک ہو؟ صائم کی آواز نایاب کے کانوں میں پڑی تو وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی
نایاب نے سر اثبات ہلا دیا۔
تم جانتی ہو جب مجھے تمھارے غائب ہونے کا پتہ چلا تو میں کتنا گھبرا گیا تھا اگر مان بھائی میری مدد نا کرتے تو میں کبھی بھی تمہیں دوبارہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ نا پاتا ۔
صائم نے نایاب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔
مجھے جانا ہے نایاب نے صائم کی نظروں سے گھبرا کر کہا اور اپنا رخ آئینے کی طرف کر لیا ۔
صائم کی نظر ان ڈوریوں پر پڑی تھی جو کھلی ہوئی تھیں ۔
صائم ہلکا سا مسکرا کر ان ڈوریوں کو باندھنے لگا ۔نایاب وہی بت کر کھڑی ہو گئی تھی ۔
ڈوریوں کو باندھنے کے بعد نایاب کی بیک کافی حد تک کور ہو گئی تھی ۔
صائم نے سامنے آئینے میں نایاب کو دیکھا جو بلیک کلر کے فراک میں سیدھی صائم کے دل میں اتر رہی تھی ۔
ہمارا آج ہی نکاح ہوگا صائم نے نایاب کے کان کے پاس سرگوشی نما کہا
صائم کی بات پر نایاب نے اس کی طرف دیکھا جو میٹھی نظروں سے نایاب کو ہی دیکھ رہا تھا ۔
صائم نے نایاب کا رخ خود طرف کیا جو نظریں جھکا گئی تھی ۔
ان چند گھنٹوں میں جب مجھے تم نظر نہیں آئی تو مجھے لگا میں نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز کو کھو دیا ہے ۔
پہلے میرا ارادہ اپنی فیملی سے بات کرنے تھا لیکن اب میں مزید دیر نہیں کرنا چاہتا
صائم نے تھوڑی سے پکڑ کر نایاب کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے کہا ۔
کیا تم ہمیشہ مجھ سے ایسے ہی محبت کرتے رہو گے؟ نایاب نے سنجیدگی سے پوچھا
جس پر صائم ہلکا سا مسکرا پڑا تھا ۔
میری محبت میں کبھی کمی نہیں آئے گی اگر آزمانا چاہو تو ازما سکتی ہو
صائم نے مسکرا کر کہا ۔
میں نکاح کا انتظام کرکے آتا ہوں اور تم رقص نہیں کروں گی ۔
صائم نے حکمیہ لہجے میں کہا اور کمرے سے نکل گیا ۔
اس نے مان کو فون کیا اور نکاح کا بتایا مان نے اسے نایاب کو اس گھر میں لانے کا کہا جہاں مہرو تھی ۔
💗💗💗💗💗💗💗
شاہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے روحی نے سرد لہجے میں کہا جو فون پر کسی سے بات کر رہا تھا ۔
روحی کے لہجے کے سرد پن کو شاہ نے بھی محسوس کیا تھا۔
میں بعد میں بات کرتا ہوں شاہ نے کہا موبائل بند کر دیا اور اب اس کی ساری توجہ کا مرکز روحی تھی
جو سنجیدگی سے شاہ کو دیکھ رہی تھی ۔
کیا بات کرنی ہے؟ شاہ نے بھی سنجیدگی سے پوچھا
مجھے آپ کے ڈیڈ کے بارے میں بات کرنی ہے
روحی نے ہمت پیدا کرتے ہوئے کہا
وہ جانتی تھی شاہ اس پر غصہ کرے گا اور اس پر یقین بھی نہیں کرے گا لیکن پھر وہ بتانا چاہتی تھی
ڈیڈ….
ریان نے کہا اور روحی کو بازو سے کھنچ کر خود کے قریب کھڑا کیا۔
شاہ وہ میں
روحی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کس طرح بات کا آغاز کرے
میں سن رہا ہوں
شاہ نے روحی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جہاں پر ڈر صاف نظر آرہا تھا ۔
💗💗💗💗💗💗💗
مان مہرو کے پاس گیا تھا جو شاید کچن میں کچھ بنانے کی کوشش کر رہی تھی گھر میں بیٹھی بور ہو رہی تھی اس لیے اس نے کچھ بنانے کا سوچا ۔
مان نے پورے گھر میں مہرو کو تلاش کیا جب وہ اسے کہی نظر نہیں تو کچن کی طرف آیا جہاں سے برتنوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔
مان سینے پر ہاتھ باندھے دروازے پر ہی کھڑا ہو گیا اور مہرو کو دیکھنے لگا جو اپنی بنائی ہوئی ڈش کو عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
کیا ہوا جاناں؟ ایسا کیا بنا لیا ہے جسے تم اتنا گھور کر دیکھ رہی ہو؟
کاش اس ڈش کی جگہ میں ہوتا
مان نے مہرو کو پیچھے سے اپنی بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا
تم مجھے ڈرا دیتے ہو معارج مہرو نے غصے میں میں کہا اور مان سے تھوڑا پیچھے کھسک کر کھڑی ہو گئی ۔
مان تم مجھے پیار سے مان بھی کہہ سکتی ہوں جاناں
اور مجھ سے دور ہونے کی کوشش نا کیا کرو ورنہ میں اور قریب آؤ گا
مان نے تھوڑا سرد لہجے میں کہتے ہوئے مہرو کو بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کیا
جو سیدھا مان کے سینے سے جا ٹکرائی تھی ۔
صائم نایاب سے نکاح کرنا چاہتا ہے وہ میرا بھائی ہے نایاب کو بہت چاہتا ہے
اگر تمہیں ان دونوں کے رشتے سے کوئی مسئلہ ہے بھی تو بھی میں انکا نکاح کروا دوں گا
اس لیے اگر تم ان دونوں کے رشتے کے لیے راضی نہیں بھی ہو تو ہو جاؤ
مان نے سنجیدگی سے کہا جبکہ آنکھوں میں اس کے شرارت ناچ رہی تھی
یہ حکم تھا؟ مہرو نے دانت پیستے ہوئے پوچھا
بلکل میرے دل کی دھڑکن یہ حکم ہی تھا
مان مہرو کی ٹھوڑی کو تھوڑا اونچا کرتے وہاں اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے کہا ۔
چھوڑو مجھے تم کہی بھی شروع ہو جاتے ہو
مہرو نے بوکھلاہٹ میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا لیکن مان سے پیچھے ہونے کی کوشش اس نے نہیں کی تھی
جاناں تمہیں میری ساری بدتمیزوں کو برداشت کرنا ہو گا ۔
کیونکہ میں تو باز نہیں آؤں گا تو تمہیں ہی برداشت کرنا ہو گا
مان نے مسکراتے ہوئے کہا
ہم لوگ آج ہی جائے گئے اپنے گھر
مان نے مہرو کی خوبصورت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
لیکن تم نے تو کہا تھا کل جانا ہے
مہرو نے حیرانگی سے کہا
ہاں کہا تھا لیکن اب میرا ارادہ تبدل ہو گیا ہے صائم اور نایاب کا نکاح کروا کر ہم لوگ یہاں سے چلے جائے گئے
مان نے مہرو کے ہونٹوں کو فوکس میں رکھتے ہوئے کہا
اس سے پہلے وہ مہرو کے ہونٹوں پر جھکتا ڈور بل کی آواز نے اس کے ارادوں پر ڈھیروں پانی پھیر دیا تھا ۔
اس وقت مان کو صائم بہت برا لگا تھا
سب لوگوں کو اسی وقت آنا ہوتا ہے جب بھی میں تمھارے قریب ہوتا ہوں مان نے غصے میں کہا اور دروازہ کھولنے چلا گیا
ناچاہتے ہوئے بھی مہرو کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی ۔
مان نے دروازہ کھولا تو صائم کے ساتھ نایاب بھی کھڑی تھی ۔
مان نے دونوں کو اندر آنے کا کہا مہرو نایاب سے ملی تو صائم مہرو کو مان کے ساتھ دیکھ کر حیران ہوا ۔
اور اس نے ناسمجھی سے مان کی طرف دیکھا
بھابھی ہے تمھاری
مان نے صائم کی نظروں کا مطلب سمجھ کر کہا
صائم مہرو کو بھی جانتا تھا ایک بار اسے رقص کر تے بھی دیکھ چکا تھا لیکن اسے نہیں پتہ تھا اس کا بھائی مہرو سے نکاح کر چکا تھا ۔
بھائی گھر والوں کو معلوم ہے آپ کے نکاح کا؟
صائم نے مان سے پوچھا
نہیں لیکن آج سب کو پتہ چل جائے گا
میں مہرو کا یہاں سے لے جا رہا ہوں تم نایاب کے ساتھ یہی رہنا اور پھر جب بھی گھر آنا چاہو نایاب کے ساتھ آجانا میں تمھارے ساتھ ہوں
مان نے مسکرا کر کہا ۔
صائم نے اثبات میں سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔
صائم اور نایاب کا نکاح کروانے کے بعد مان مہرو کو لے کر وہاں سے نکل گیا تھا
مہرو نایاب کے لیے بہت جوش تھی صائم اسے پسند کرتا تھا اور وہ مان کا بھائی بھی تھا
نایاب کو بھی نکاح سے کوئی مسئلہ نہیں تھا
مہرو نایاب سے ملی اور اسے اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر چلی گئ جبکہ خود اس کے دل میں خوف جمع تھا کہ پتہ نہیں مان کے گھر والوں کا کیا ردعمل ہو گا
اور جب ان کو پتہ چلے گا کہ وہ ایک طوائف ہے تو…. اس سے آگے کا سوچ کر ہی اس کی جان نکل رہی تھی ۔
💗💗💗💗💗
مان اور مہرو کے جانے کے بعد صائم نایاب کے پاس آیا تھا جو اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی جب وہ گھر سے بھاگی تھی تو اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ وہ کبھی کسی سے نکاح بھی کرے گی
ایک طوائف کو بھی کوئی اپنے گھر کی عزت بنا سکتا ہے؟
لیکن صائم نے اس کی سوچ کو غلط ثابت کیا تھا ۔
نایاب انہی سوچوں میں گم بیٹھی تھی جب صائم نے اس کے سامنے اپنا ہاتھ لہرایا تو وہ ہوش میں آئی
نکاح مبارک ہو مسز صائم
صائم نے مسکراتے ہوئے کہا اس کے چہرے پر جو خوشی تھی وہ نایاب سے بھی مخفی نہیں تھی ۔
میں تمھاری منہ دکھائی کے لیے کچھ نہیں لایا لیکن میں نے سوچا ہے کہ تم اپنی مرضی سے جو چاہو وہ لے سکتی ہو تو ہم. دونوں شاپنگ کرنے چلتے ہیں
اور اسی بہانے شاپنگ بھی ہوجائے گی
صائم نے خود ہی سارا پلان ترتیب دیتے ہوئے نایاب کو کہا
صائم مجھے کچھ نہیں چاہیے میرے پاس سب کچھ ہے نایاب نے جلدی سے کہا
میں چاہتا ہوں اب سے تم میری لائی ہوئی چیزوں کو استعمال کرو
تو آج میں اپنی مسز کو شاپنگ کرواؤں گا صائم نے نایاب کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا۔ تم جانتی ہو نا تمھارے بھوری آنکھوں سے مجھے عشق ہے صائم نے کہتے ہی نایاب کی دونوں آنکھوں پر باری باری بوسہ دیا
چلیں پھر نایاب نے کمزور سی آواز میں کہا
صائم کی نظروں کی تپش سے اسکا دل فل سپیڈ میں دھڑک رہا تھا ۔
ہاں چلو صائم نے نایاب کے ہاتھ کو چھوڑتے ہوئے کہا جو کمرے سے باہر نکل گئ تھی ۔
صائم جانتا تھا جب اس کی ماں اور بہنوں کو پتہ چلے گا تو وہ بہت ناراض ہونگے
لیکن صائم کو لگا تھا کہ وہ اپنی ماں اور بہنوں کو منا لے گا لیکن یہ اس کی سب سے بڑی بھول تھی ۔
💗💗💗💗💗💗
مان نے اپنے گھر کے پورچ میں گاڑی روکی اور اور مہرو کی طرف دیکھا جو کافی پریشان لگ رہی تھی ۔
اندر جو کچھ بھی ہوگا ہے وہ میرا اور میری فیملی طکا معاملہ ہے تم خاموش رہو گی
اور میں تمھارے ساتھ ہوں اور ہمیشہ رہو گا
معارج نے مہرو لو حوصلہ دیتے ہوئے کہا
اور گاڑی سے باہر نکل گیا
مہرو نے معارج کو بازو سے پکڑ لیا تھا ۔
مان نے ایک نظر مہرو کے ہاتھ کو دیکھا اور اس کےکان کے پاس سرگوشی نما بولا
اگر ایسے ہی میرے ساتھ چپکو گی تو میں تمہیں سیدھا اپنے بیڈ روم میں لے جاؤ گا
مان نے شرارتی انداز میں کہا مہرو نے اس کی بات کو نظر انداز کیا تھا اس کی جان پر بنی تھی لیکن مان بلکل ہی بے فکر تھا
مان نے ساری فیملی کو گھر بلایا تھا کہ. ایک ضروری بات کرنی ہے اور اس وقت مان کی فیملی کے علاوہ عظیم اور کوثر کی فیملی بھی موجود تھی ۔
معارج مہرو کے ساتھ گھر میں داخل ہوا سب سے پہلے ان دونوں پر علیدان کی نظر پڑی
اور وہی منجمد ہو گیا ۔معارج کو اس نے کچھ زیادہ ہی ہلکے میں لے لیا تھا
مان نے اونچی آواز میں سب کو مشترکہ سلام کیا مہرو ابھی بھی مان کا بازو پکڑے کھڑی تھی
شاداب مان کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھ کر پوری بات سمجھ گیا تھا
لیکن باقی ابھی حیرانگی سے مان کو دیکھ طرہے تھے ۔
اور معارج ملک پوری شان و شوکت کے ساتھ اپنے باپ کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا تھا مہرو بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھی تھی
