No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
مہرو تم ٹھیک ہو؟ نایاب نے مہرو کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پریشانی کے عالم میں پوچھا… کیونکہ ملک کے جانے کے بعد مہرو بت بنی وہی کھڑی تھی ۔
آپی…. مہرو نے نایاب کو دیکھتے ہی لڑکھڑاتے لہجے میں کہا
اور ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے بہنے لگے۔
مہرو میری جان کیا ہوا ہے؟ تم مجھے پریشان کر رہی ہو ۔
نایاب نے مہرو کے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے پریشانی سے پوچھا ۔
آپی میں پوری کوشش کرتی ہوں اس سچ کو تسلیم کرنے کی پھر بھی نہیں کر پاتی کیا کروں میں؟
مہرو نے روتے ہوئے نایاب کو کہا
نایاب واحد کوٹھے پر وہ لڑکی تھی جس کے سامنے مہرو رو لیتی تھی اپنے دل کی کیفیت بیان کر لیتی تھی ۔
مہرو میری بات سنو چندہ کیا ہوا ہے؟ ملک تو چلا گیا ہے اس کا مطلب سب ٹھیک ہے اب نایاب نے مہرو کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا ۔
نہیں آپی وہ چاہتا ہے میں اس کی رکھیل بنو
مہرو نے بھاری آواز میں کہا ۔
رونے سے مہرو کا پورا چہرا سرخ ہو گیا تھا
مہرو کی بات سن کر کچھ پل کے لیے نایاب بھی خاموش ہو گئی ۔
مہرو میری جان ہم دونوں مل کر اس مسئلے کا کوئی نا کوئی حل نکال لیں گئے تم پریشان نا ہو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
پلیز میرے لیے چپ کر جاؤ نایاب نے پیار سے سمجھاتے ہوئے مہرو کو کہا ۔
چلو کمرے میں اگر تمہیں کسی لڑکی نے اس حالت میں دیکھ لیا تو سو سو باتیں کریں گی اور میں ایسا نہیں چاہتی کوئی میری جان کو کچھ کہے ۔نایاب نے مہرو کو کہا جو اثبات میں سر ہلا کر نایاب کے ساتھ چل پڑی تھی ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
رابعہ ساری تیاری ہو گئی ہے عظیم آتا ہی ہو گا شاداب نے رابعہ سے پوچھا ۔
جی بس سب کچھ ہو گیا ہے آپ پریشان نا ہوں اور آرزو تم ایسا کرو کچن میں ایک نظر دیکھ آؤ سب کچھ ٹھیک ہے؟ رابعہ نے شاداب کو مطمئن کرنے کے بعد کچھ فاصلے پر کھڑی آرزو کو کہا جو نا جانے کون سے خیالوں میں گم تھی ۔
جی ماما آرزو نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اور کچن کی طرف چلی گئی ۔
رابعہ بھی ملازموں کو باقی کی ساری تیاری دیکھنے کا کہنے لگی جب تھوڑی دیر بعد باہر سے کچھ لوگوں کے ہنسنے کی آوازیں آنے لگی رابعہ سمجھ گئی تھی کہ آپی آگئی ہیں ۔
چونکہ روبینہ رابعہ سے کچھ سال بڑی تھی تھی اس لیے رابعہ اسے آپی کہتی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد شاداب کے ساتھ عظیم اور ان کی فیملی آتے ہوئے نظر آئی رابعہ سب سے پہلے روبینہ کے گلے لگی ۔
تھوڑی دیر بعد رابعہ کی بہن کوثر نے بھی اپنی فیملی کے ساتھ آنا تھا کوثر کی شادی جس آدمی سے ہوئی وہ عمر میں اس سے بیس سال بڑا ہونے کے ساتھ امیر بھی تھا ۔
کوثر کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا سب سے بڑا بیٹا جس کا نام صائم اس کے بعد بیٹی کا نام فضا اور سب سے چھوٹی بیٹی کا نام کومل تھا فضا کی منگنی علیدان کے ساتھ ایک سال پہلے ہی ہو چکی تھی ۔
آرزو کو معلوم ہو گیا تھا کہ سببلوگ آگئے ہیں لیکن وہ کچن سے باہر نہیں آئی ۔
سب ایک دوسرے سے ملے جب رابعہ نے مان کا پوچھا جس کا جواب آکف کی طرف سے آیا تھا کہ وہ ایک ہفتے تک واپس آجائے گا
رابعہ یہی سن کر خوش ہو گئی ۔
باقی کے سب باتوں میں مشغول ہو گئے لیکن نا چاہتے ہوئے بھی عرشمان کی نظریں اُس دشمنِ جان کو ڈھونڈ رہی تھی۔
جو کہی نظر نہیں آئی ۔
تھوڑی دیر بعد آرزو چائے وغیرہ لے کر آئی اور عرشمان کے علاوہ سب سے ملی ۔
آرزو اس کی طرف دیکھنے سے بھی گریز کر رہی تھی ۔
عرشمان بنا آنکھیں جھپکائے پورے ایک سال بعد آرزو کو دیکھ رہا تھا جو پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی تھی یا شاید محبوب کا دیکھنا ہی ایسا ہوتا ہے اسے سب سے زیادہ حسین اپنی محبت لگتی ہے ۔
عرشمان کھوئے ہوئے انداز میں آرزو کو ہی دیکھ رہا تھا جب آکف نے ا سکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر عرشمان کی توجہ خود کی طرف کروائی۔
بھائی اس کے دو ہٹے کٹے بھائی ہے ایک کے بارے میں. تو تو اچھے سے جانتا ہے دوسرا بس آتا ہی ہو گا ۔
اس لیے اپنی آنکھوں کو کنٹرول کر ۔
آکف نے عرشمان کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا لیکن آنکھوں کی شرارت برقرار تھی ۔
عرشمان نے آکف کو گھوری سے نوازہ اور اپنا دھیان آرزو سے ہٹا کر شاداب صاحب کی طرف کر لیا۔
آرزو کا دھیان عرشمان کی طرف نہیں تھا لیکن وہ اچھے سے جانتی تھی وہ اسے ہی دیکھ رہا ہے ۔
جب عرشمان نے اپنی نظروں کا زاویہ تبدل کیا تو آرزو نے سکون کا سانس لیا
اتنے میں کوثر کے ساتھ علیدان بھی آگیا سب لوگ ایک دوسرے سے مل کر خوش گپوں میں لگ گئے آج کافی سالوں بعد ساری فیملی اکھٹی ہوئی تھی ۔
آرزو کافی دیر سے اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کر رہی تھی لیکن جب سامنے دیکھتی تو سب آپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھے عرشمان بھی علیدان کے ساتھ بات کررہا تھا۔
آرزو نے یہاں سے اٹھ جانا ہی مناسب سمجھا
آرزو کے وہاں سے اٹھ کر جانے کے بعد عرشمان ابھی بھی اس جگہ کو گھور رہا تھا جہاں آرزو بیٹھی ہوئی تھی ۔
چلی گئی وہ؟
آکف نے آہستگی سے عرشمان کو کہا
مجھے بھی نظر آرہا ہے بھائی جان عرشمان نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
تو میں نے کب کہا کہ تم اندھے ہو چھوٹے
آکف نے چھڑانے والے انداز میں کہا اس سے پہلے عرشمان مزید کچھ کہتا شاداب نے سب کی توجہ خود کی طرف کروائی ۔
میں آپ سب لوگوں سے ایک بہت اہم بات کرنا چاہتا ہوں ۔
میں نے اپنے بزنس پارٹنر کے بیٹے سفیان کے ساتھ آرزو کی شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آپ لوگ بھی آگئے ہیں کچھ دنوں تک مان بھی آجائے گا تو اس کے آتے ہی میں نے سوچا ہے دونوں بچوں کی منگنی کر دی جائے۔
جیسے جیسے شاداب اپنی بات مکمل کرتا جا رہا تھا عرشمان کے چہرے کے تاثرات پتھریلے ہوتے جا رہے تھے۔
عرشمان بنا کسی کی پرواہ کیے وہاں سے اٹھا اور کمرے سے نکل گیا ۔
سب لوگ مبارک باد دینے میں مصروف تھے اس لیے کسی نے نوٹ نہیں کیا۔
آکف نے دکھ سے عرشمان کو جاتے ہوئے دیکھا۔سب کچھ جانتے ہوئے بھی آکف اپنے بھائی کے لیے کچھ نہیں پا رہا تھا۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
آرزو کو ڈر تھا تو صرف ایک بات کا کہ منگنی کی بات سن کر عرشمان کا کیا ردعمل ہو گا ۔آرزو پریشانی سے اپنے روم میں چکر کاٹ رہی تھی ۔
جب کلک کی آواز سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی آرزو نے مڑ ک دیکھا تو عرشمان آنکھوں میں سب کچھ بھسم کر دینے والے تاثرات لیے کھڑا آرزو کو گھور رہا تھا۔
عرشمان کو دیکھ کر آرزو کو اپنی ٹانگوں میں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
لیکن ہمت کر کے کھڑی رہی ۔
تم میرے کمرے میں کیوں آئے ہو؟
آرزو نے اپنے ڈر پر قابو پاتے ہوئے لڑکھڑاتی زبان میں پوچھا جان تو اس کی تب نکلی جب اس نے عرشمان کو دروازہ لوکڈ کرتے ہوئے دیکھا ۔
یہ ک کیا کر رہے ہو تم دروازہ کیوں لوکڈ کیا؟
آرزو نے گھبراتے ہوئے پوچھا ۔
تاکہ ہمیں کوئی تنگ نا کر سکے ۔
تو تم اُس لنگور سے منگنی کرنے والی ہو
گڈ ۔
جیسی تم خود ہو تمھیں سفیان جیسا لڑکا ہی ملنا چاہیے ۔
عرشمان نے کرخت لہجے میں آرزو کو دیکھتے ہوئے تمسخرانہ انداز میں کہا ۔
جانتی ہو سفیان کو اپنے ہونے والے منگیتر کو یقیناً مل بھی چکی ہو گی تنہائی میں عرشمان نے مزید ایک قدم آرزو کی طرف بڑھاتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا۔
جبکہ عرشمان کی باتیں آرزو کو اپنی عزت نفس پر کاری ضرب کی طرح لگتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
لیکن اس وقت کچھ بھی بولنے سے قاصر تھی
اس لیے آنکھوں میں آنسو لیے آرزو عرشمان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
آرزو کے آنسوؤں کو دیکھ کر عرشمان نے نظریں چرائی تھیں ۔آرزو کے آنسو عرشمان کو خود کے دل پر گرتے ہوئے محسوس ہوئے ۔
جان ابھی نہیں ابھی ان آنسوؤں کو سنبھال کر رکھو ابھی تو میں نے تمہیں کچھ کہا بھی نہیں ہے ابھی مجھے اپنی بےعزتی کا بدلہ بھی لینا ہے عرشمان نے آرزو کے چہرے کہ طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے مزید کہا۔
میری طرف سے تم جہنم میں جاؤ یا جس مرضی سے منگنی کرو مجھے فرق نہیں پڑتا مجھے اپنے بدلے سے مطلب ہے بےقصور ہوتے ہوئے بھی تم نے مجھے سب کے سامنے مجرم بنا دیا۔
تو اتنی آسانی سے تو میں بھی تمہیں معاف نہیں کروں گا آرزو ملک
عرشمان نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا ۔
اور جیسے آیا تھا ویسے ہی کمرے سے نکل گیا
آرزو وہی زمین پر بیٹھے رونے لگی تھی ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
سویرا جب سے گھر آئی تھی اپنے بریسلٹ کو ہاتھ میں لیے بازل کے بارے میں سوچتی جا رہی تھی۔
اسے بازل پہلی ملاقات میں ہی بہت اچھا لگا تھا ۔
اس کے بات کرنے کا انداز سب کچھ سویرا کو بہت اچھا لگا ۔
سویرا بیٹا کھانا بن گیا ہے آجاؤ رقیہ بیگم نے سویرا کو آواز دیتے ہوئے کہا ۔
سویرا اہنے کمرے سے باہر آئی اور رقیہ بیگم سے پوچھا
امی کھانے میں کیا بنا ہے؟
سویرا نے تحتے پر بیٹھتے ہوئے کہا
بیٹا چنے کی دال بنی ہے اور میں نے تمھارے لیے ساتھ چاول بھی بنائے ہیں ۔
رقیہ بیگم نے خوشی سے کہا جبکہ دال کا سن کر سویرا کا منہ اتر گیا تھا اور وہاں سے اٹھ کر جانے لگی جب رقیہ بیگم نے پوچھا کہا جا رہی ہو؟
تو سویرا نے روکھے لہجے میں جواب دیا
مجھے بھوک نہیں ہے میں اپنے کمرے میں. جا رہی ہوں۔
لیکن سویرا بیٹا کھانا؟ رقیہ بیگم مزید کچھ کہتی جب سویرا نے ان کی بات کو ٹوک دیا
امی میں نے ایک بار کہہ دیا ہے کہ مجھے بھوک نہیں ہے تو نہیں ہے روز تو آپ دال بنا لیتی ہے میں دال کھا کھا کر پک گئی ہوں اگر کچھ کہہ دوں تو آپ کہتی ہے نا شکری نہیں کرنی چاہیے اس لیے منہ بند کر کے جا رہی ہوں ۔
سویرا نے روکھے لہجے میں جواب دیا اور بنا اپنی ماں کا جواب سنے اپنے کمرے میں چلی گی ۔
رقیہ بیگم جنہوں نے خود ابھی کھانا نہیں کھایا تھا۔
خود بھی کھانا وہی چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔ان کی بیٹی بھوکی تھی وہ خود کھانا کیسے کھا سکتی تھیں
💖 💖 💖 💖 💖 💖
علیدان بھائی کب سے آفس جانا ہے؟ رات سب کھانا کھانے کے بعد اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے آج کا دن بہت تھکا دینے والا تھا ۔
ہال میں علیدان بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا جب آکف نے علیدان کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔
واہ بھئی واہ کیا بات ہے آتے ہی کام کرنا شروع
علیدان نے لیپ ٹاپ بند کرتے مسکراہٹ دبا کر کہا۔
وہ بھائی ایک ہفتے تک مان نے بھی آجانا ہے تو میں نے سوچا ایک ہفتہ آفس چلا جاتا ہوں پھر میں نے بزی ہو جانا ہے ۔
آکف نے سنجیدگی سے کہا
علیدان نے حیرت سے آکف کی طرف ناسمجھی سے دیکھا۔
پھر جب بات سمجھ میں آئی تو نفی میں سر ہلایا ایک ہفتہ بھی آپ آفس میں آکر احسان نا کریں شہزادے صاحب
علیدان نے ہنستے ہوئے کہا۔
نہیں بھائی اب آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں
آکف نے بھی ہنستے ہوئے کہا ۔
تم دونوں کا کچھ نہیں ہو سکتا تمھاری مرضی ہے صبح سے ہی آجاؤ تمھارا اپنا آفس ہے اور مجھے ابھی بیت سارا کام کرنا ہے تو میں روم میں چلتا ہوں صبح آفس میں. ملے گے کیونکہ مجھے پتہ یے تم صبح تو اٹھنے دے رہے۔
علیدان نے کھڑے ہوتے ہوئے. کہا
جی بلکل بھائی کتنا جانتے ہیں آپ مجھے
آکف نے ہنستے ہوئے کہا اور وہی صوفے پر نیم دراز ہو گیا ۔
علیدان نے مسکراتی نظروں سے آکف کی طرف دیکھا اور وہاں سے چلا گیا
آکف نے ٹی-وی اون کیا اور دیکھنے لگا۔
💖 💖 💖 💖 💖
سلمیٰ مہرو کو بلاؤ مجھے اس سے بات کرنی ہے معارج نے سنجیدگی سے سلمیٰ بائی کو کہا
ملک صاحب ابھی وہ رقص کررہی ہے ابھی وہ نہیں آسکتی۔
سلمیٰ نے ملک کو دیکھتے ہوئے کہا
چلو پھر اج سب کے سامنے ہی بات کر لیتے ہیں معارج نے کمینگی سے کہا اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا کوئی بھی نہیں جانتا تھا ۔
کیا مطلب؟
سلمیٰ نے حیرانگی سے پوچھا اسے کچھ غلط ہونے کا شدید احساس ہوا
تمہیں تھوڑی دیر تک معلوم ہو جائے گا سلمیٰ بائی معارج نے کہا اور اُس ہال کی طرف چلا گیا جہاں مہرو رقص کررہی تھی۔
ملک صاحب میری بات سنیں
سلمیٰ ملک کے پیچھے لپکی
لیکن معارج سلمیٰ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے ہال میں داخل ہوا۔
جہاں مہرو کالی لمبی فراک پہنے لوگوں پر بجلیاں گراتی رقص کرنے میں مصروف تھی ۔
ملک نے مہرو کو سر سے لے کر پاؤں تک دیکھا بےشک مہرو کالے لباس میں. بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔
ملک نے مہرو کا ہا تھ پکڑا اور اسے کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا ۔
معارج کی اس حرکت پر ہال میں ایک دم خاموشی چھا گئی وہاں بیٹھے تمام لوگ حیرانگی سے معارج ملک کو دیکھنے لگے تھے ۔
حیران تو مہرو بھی ہوئی اور معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔
آج میں ایک بہت اہم بات کرنے یہاں آیا ہوں سو میری بات ول سارے غور سے سنے گے اگر کسی نے درمیان میں بولنے کی کوشش کی تو آج اس کی زندگی کا آخری دن ہو گا۔
معارج نے وہاں بیٹھے سب لوگوں کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے تنبیہ کرتے کہا ۔
آج سے ابھی سے مہرو میری رکھیل ہیں آج سے یہ رقص نہیں کرے گی جو بھی کرے گی بند کمرے میں میرے لیے کرے گی چاہے وہ رقص ہی کیوں نا ہو ۔
معارج نے مہرو کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا کر بےباکی سے کہا ۔
معارج کی بات سن کر مہرو کا دل کیا اس وقت زمین پھٹے اور وہ اُس میں سما جائے
آج تک کسی نے بھی مہرو کی اتنی تذلیل نہیں کی جتنی آج معارج نے کی تھی۔
یہاں پر آیا ہر مرد اس بات سے اچھی طرح واقف تھا کہ مہرو نے آج تک کسی کے ساتھ رات نہیں گزاری اگر کوئی ایسا سوچتا بھی تو مہرو اُن سب کی اگلی پیچھلی نسلیں یاد کروا دیتی لیکن ملک کچھ زیادہ ہی ضدی انسان تھا۔
مہرو کے چہرے پر جو قرب اور تکلیف اس وقت موجود تھی نا چاہتے ہوئے بھی معارج کے دل نے اسے کوسا کہ کیوں اس نے مہرو کو تکلیف دی۔
لیکن پھر کسی کا روتا ہوا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آیا اور دوبارہ اپنے خول میں آگیا۔
چلیں یہاں سے جاناں معارج نے مہرو کی طرف دیکھتے ہوئے تمسخرانہ انداز میں پوچھا ۔
معارج کی بات سنتے ہی مہرو ہوش میں آتے ہی اس نے بنا وہاں کسی کی پرواہ کیے ایک زوردار طمانچہ معارج کے گال پر رسید کیا
پورے ہال میں مہرو کے طمانچہ کی آواز گونجی۔
سلمیٰ بائی کی آنکھیں حیرت کے مارے پھٹی کی پھٹی رہ گئی یہی اور باقی سب کا حال بھی ایسا ہی تھا۔
اگر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی تو وہ نایاب تھی
معارج ملک میری بات کان کھول کر سن لو تم میرے ساتھ زبردستی ہرگز نہیں کرسکتے
میں اُن عورتوں میں سے نہیں ہوں جو تمھارے اگلے پیچھے منڈلاتی پھیرتی ہیں میں مہرو ہوں۔
میری اپنی زندگی ہے اور میں اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزاروں کسی کے اشاروں پر چل کر تو ہر گز نہیں بہت سن لی میں نے تمھاری بکواس۔
اب مزید نہیں مہرو نے غراتے ہوئے ایک ایک لفظ معارج کو باور کروایا کہ وہ دوسری لڑکیوں کی طرح کی نہیں ہے۔
معارج خونخوار نظروں سے مہرو کو دیکھ رہا تھا ۔جس نے ملک پر ہاتھ اٹھا کر بہت بڑی غلطی کی تھی وہ بھی سب کے سامنے
تم بھی میری بات غور سے سنو
آج تم نے جو غلطی کی ہے اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی جاناں
اور پھر تمہیں پچھتاوا ہو گا لیکن اس وقت تم صرف اور صرف میرے رحمُ کرم پر ہو گی
اب سزا کے لیے تیار رہنا ۔کیونکہ معارج ملک کسی پر ادھار نہیں رکھتا۔
معارج نے شعلہ برساتی آنکھیں مہرو کے چہرے پر گاڑھتے ہوئے کہا
اور مہرو کا ہاتھ غصے میں جھٹکا جسے وہ پکڑے کھڑا تھا اور وہاں سے نکل گیا…..
مہرو نے اپنا بازو دیکھا جہاں ابھی بھی معارج کی انگلیوں کے نشان موجود تھے……
جاری ہے….. 💖💖💖
