Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

روحی کہاں ہے؟ قاسم شاہ نے ملازمہ سے پوچھا۔
صاحب وہ گاؤں چلی گئی ہیں
ملازمہ نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔
گاؤں چلی گئ قاسم شاہ نے حیرانگی سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ۔
جاؤ تم یہاں سے
قاسم شاہ نے سنجیدگی سے سامنے کھڑی ملازمہ کو کہا
ایسے کیسے تم گاؤں جا سکتی ہو روحی تمہیں واپس آنا ہو گا
تم واپس آؤ گی ۔
قاسم شاہ نے غصے میں کہا ۔
اور گھر سے ہی نکل گیا
…………….
کیسے ہو ریان؟ مہرو کے ہلکا سا مسکرا کر پوچھا ۔
میں ٹھیک ہوں تمہارا زخم کیسا ہے؟
شاہ نے شرمندگی سے پوچھا
شاہ تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے
تم بتاؤ کہاں بزی تھے؟
مہرو نے شاہ کی شرمندگی کم کرتے ہوئے پوچھا
میں نے نکاح کر لیا ہے شاہ نے سنجیدگی سے کہا ۔
کیا کہا تم نے؟ تم سچ بول رہے ہو؟ مہرو نے حیرانگی اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں پوچھا ۔
شاہ تم نے بتایا کیوں نہیں اور کون ہے وہ مجھے اس کی تصویر دکھاؤ
مہرو نے خوشی سے کہا
شاہ نے موبائل نکالا اور روحی کی تصویر مہرو کو دکھائی
ماشاءاللہ شاہ تمھاری دلہن بہت خوبصورت ہے
اور تم تو چھپے رستم نکلے بتایا ہی نہیں
مہرو نے ہنستے ہوئے کہا۔
مہر روحی سے نکاح کرنے کے پیچھے ایک وجہ ہے اس کے علاوہ کچھ خاص نہیں ہے
شاہ نے بے تاثر لہجے میں کہا
لیکن تمھاری آنکھیں تو کچھ اور ہی کہہ رہی ہیں شاہ
مہرو نے سنجیدگی سے کہا ۔
وہ سب چھوڑو تم مجھے بتاو ملک تم سے کیا چاہتا ہے؟ شاہ نے بات بدلتے ہوئے پوچھا
وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے مہرو بنے لمبا سانس لیتے ہوئے کہا
مہر تمہیں میں ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں
تم معارج ملک سے نکاح کر لو اس کی آنکھوں میں تمھارے لیے عزت ہے وہ تمہیں خوش رکھے گا
شاہ نے سنجیدہ لہجے میں کہا
شاہ تم یہ سب اس لیے کہہ رہے ہو کہ میں یہاں سے چلی جاؤ
میں جانتی ہوں تم مجھے خوش دیکھنا چاہتے ہو لیکن یقین کروں میں یہاں بہت خوش ہوں
اور معارج ملک سے نکاح تم جانتے بھی ہو وہ کون ہے؟ مہرو نے طنزیہ لہجے میں کہا
مہر مجھے معارج کچھ خاص پسند نہیں ہے اور پسند نا آنے کی وجہ وہ کمینہ ملک ہے اس کے علاوہ معارج سے میری کوئی خاص دشمنی نہیں ہے ۔
لیکن وہ انسان باقیوں سے الگ ہے وہ تمھاری حفاظت اچھے سے کر سکتا ہے دنیا والوں سے تمھارے لیے لڑ سکتا ہے
ایک اور بات مجھے نہیں لگتا اب معارج ملک پیچھے ہٹے گا۔
اور مہر اگر اس معاملے میں مجھے معارج کی بھی مدد کرنی پڑی تو میں کرور کروں گا
کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تم یہاں روہو
شاہ نے سنجیدگی سے کہا ۔
شاہ تم کچھ بھی کہہ لو جتنی بھی معارج ملک کی تعریف کر لو
میں اس سے نکاح نہیں کروں گی سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں
مہرو نے سرد لہجے میں کہا
مہر پانچ انگلیاں ایک برابر نہیں ہوتی اور تمہیں اس طرح چھپ کر نہیں بلکہ اپنے دشمن کے سامنے جا کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے
اگر تم نے مجھے روکا نا ہوتا تو میں کب کا اُس سالے ملک کی جان لے چکا ہوتا
شاہ نے غصے میں کہا ۔
تم کچھ نہیں کرو گئے شاہ
تمھیں کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بس تھوڑا انتظار اور پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے مہرو نے شاہ کو دیکھتے ہوئے تکلیف دہ لہجے میں کہا ۔
جو خاموشی سے مہرو کو دیکھ رہا تھا ۔ہمیشہ اس کی ضد کے سامنے اسے گھٹنے ٹیکنے پڑتے تھے
…………
اکف کو جب معلوم ہوا کہ ایزل آفس سے جا چکی ہے تو اس کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا ۔غصے میں اس نے گاڑی کی چابیاں اٹھائی اور آفس سے باہر نکل گیا ۔
ایزل گھر پہنچی تو ا سکی بھابھی غصے میں کھڑی اسے گھور رہی تھی اس کی چھٹی حس نے کچھ غلط ہونے کا احساس دلایا۔
کس کے ساتھ آئی ہے تو؟ بھابھی نے نفرت بھرے لہجے میں پوچھا
کسی کے ساتھ نہیں رکشے پر آئی ہوں
ایزل نے عام سے لہجے میں کہا
جھوٹ بول رہی ہے تو اب تجھے گھر تک لڑکے چھوڑنے کے لیے آتے ہیں ۔شرم کر لے تیری تو کوئی عزت نہیں ہے لیکن تیرے بھائی کی یہاں لوگ بہت عزت کرتے ہیں ۔
جمشید نے خود تجھے دیکھا تھا کچھ دن پہلے تو کسی لڑکے کے ساتھ گاڑی میں آئی تھی ۔
بھابھی نے چلاتے ہوئے کہا
اتنے میں ایزل کا بھائی بھی آگیا.
کیا ہو گیا ہے کیوں شور مچا رہی ہو
ایزل کے بھائی نے پوچھا ۔
ارے مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو اپنی بہن سے پوچھو آج محلے والے اس کمبخت کی وجہ سے مجھے باتے سنا رہے ہیں
کہ ایزل کو کسی لڑکے کے ساتھ دیکھا ہے ۔
اب میں کیا جواب دو ۔بھابھی نے اب سارا الزام محلے والوں پر ڈال دیا اور ایزل کو گھورنے لگی ۔
جو اپنے آنسو ضبط کیے کھڑی تھی ۔
اس سے پہلے ایزل کا بھائی اس سے کچھ پوچھتا اس کا موبائل غلط وقت پر رنگ ہوا تھا.
ایزل نے اپنے بھائی کے چہرے کی طرف دیکھا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
ایزل کے بھائی نے موبائل پر نمبر دیکھا جہاں سر لکھا تھا ۔
ایزل کے بھائی نے کال اٹینڈ کرکے موبائل سپیکر پر کیا
جہاں آکف کی غصے سے بھری آواز سنائی دی تھی
مس ایزل آج ہماری بہت اہم میٹنگ تھی جسے اٹینڈ کرنا ضروری تھا ۔تو مجھے آپ بتانا پسند کریں گی آپ بنا بتائے آفس سے آنے کیوں آگئی؟
آکف نے غصے میں پوچھا تھا
ایزل نے سکون کا سانس لیا کہ آکف نے کچھ الٹا سیدھا نہیں بول دیا
ایزل کے بھائی نے موبائل اسے پکڑا یا اور خود کمرے میں چلا گیا
بھابھی کو لگا تھا کہ اس نے اپنے شوہر کو اپنی مٹھی میں کیا ہوا ہے جو وہ کہی گی اسے سچ مان لے گا لیکن اس نے تو ایزل سے کچھ نہیں پوچھا
بھابھی نے کھا جانے والی نظروں سے ایزل کو دیکھا اور وہاں سے چلی گئ
ایزل نے کانپتی آواز میں کہا کہ
میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی ایزل نے جلدی سے کہہ کر فون بند کر دیا ابھی اس کی حالت اسی نہیں تھی کہ وہ بات کر سکے ۔
…………….
مہرو کو ایسا لگا جیسے کوئی اس کے کمرے میں آیا ہے اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی لیکن نا کام رہی
مہرو مقابل کی آہٹ سے ہی پہچان گئی تھی کہ معارج ملک اس کے کمرے میں موجود ہے۔
معارج رات کو مہرو کے کمرے میں آیا
اور اس رومال کو جس پر بے ہوشی کی دعا لگی تھی مہرو کے ناک کے پاس رکھا
جب اسے یقین ہو گیا کہ مہرو بےہوش ہو چکی ہے تو اس کے ساتھ لیٹنے والے انداز میں بیٹھ گیا ۔
کھڑکی سے آتی چاند کی روشی میں مہرو کا خوبصورت سا چہرہ مزید دھمک رہا تھا
دیکھو تم نے میری بات نہیں مانی اور مجھے یہ سب کچھ کرنا پڑ رہا ہے
اگر تم میری بات آرام سے مان لیتی تو زیادہ اچھا ہوتا
معارج نے مہرو کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
اور پیار سے مہرو کے بے ہوش وجود کو اپنی بانہوں میں بھرا اور کمرے سے نکل گیا
……………
اگلے دن مہرو کی آنکھ اپنے بالوں میں حرکت کرتے کسی اجنبی کے ہاتھ کی وجہ سے کھلی ۔مہرو آنکھیں کھولتے ہی چھت پر لگے پنکھے کو گھورنے لگی لیکن جیسے ہی اسے کل رات کا سارا کا واقعہ یاد آیا تو فوراً اُٹھ بیٹھ کر گئی ۔
اپنے قریب بیٹھے معارج ملک سے ابھی بھی بے خبر تھی جو بڑے غور سے مہرو کی حرکات اور تاثرات کو دیکھ رہا تھا ۔
ڈارلنگ کسے ڈھونڈ رہی ہو مقابل کی کرخت آواز نے مہرو کو اچھلنے پر مجبور کر دیا ۔
ملک… مہرو نے آہستگی سے کہا اس آواز کو تو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی ۔
جبکہ پاس بیٹھا ملک مہرو کی سرگوشی کو بھی سن چکا تھا
جی جانِ ملک
معارج نے مہرو کے بالوں کو گردن سے پیچھے کرتے ہوئے اس کے تل پر انگلی پھیرتے ہوئے بہکے لہجے میں کہا۔
ملک کی انگلیوں کا لمس مہرو کو کسی تپتے ہوئے کوئلے کی مانند لگا رہا تھا
خود میں ہمت پیدا کرتی مہرو جلدی سے اٹھی اور بیڈ سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوگئی اور اپنی منتشر ہوئی سانسوں کو درست کرنے لگی
ملک مہرو کی حرکت پر ہنس پڑا ۔
اور اپنا بازو اپنے سر کے پیچھے رکھے بیڈ سے ٹیک لگا کر آرام سے بیٹھ گیا ۔
اور مسکراتی نظروں سے مہرو کو دیکھنے لگا۔
اس کی نظروں میں جو چمک تھی مہرو زہر سے بھی بری لگ رہی تھی ۔
ویسے میرے لائے ہوئے ڈریس میں تم اور بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو۔سویٹی
معارج نے اپنی گہری نظریں مہرو کے وجود پر گاڑھتے ہوئے کہا
جو بنا ڈوپٹے کے کھڑی ملک کا امتحان لے رہی تھی ۔
تم.. تمھاری ہمت اس سے پہلے مہرو لڑکھڑاتی زبان میں اپنی بات کو مکمل کرتی ملک ایک سیکنڈ سے بھی پہلے مہرو کے پاس پہنچا تھا ۔
معارج نے مہرو کو بالوں سے پکڑ کر اس کا چہرا اوپر کیا….
آہ… مہرو کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اسے لگا اس کے بال اتر کر ملک کے ہاتھ میں آجائے گے
بے بسی کے مارے مہرو کی آنکھوں میں آنسو آگے ۔
ہمت کی تو بات ہی نا کرو ڈارلنگ ہمت دیکھانے پر آیا تو تم بھی مجھے روک نہیں سکو گی
لیکن نکاح سے پہلے میں خود بھی ہمت دیکھانا نہیں چاہتا ۔ میرے صبر کا تم نے بہت امتحان لے لیا ہے پیار سے مان جاتی تو یہ سب کچھ کرنا نہیں پڑتا لیکن تم بہت ضدی ہو۔ لیکن مجھے تمھاری ضد بھی بھلی لگتی ہے۔
ملک نے مہرو کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ذومعنی مگر ٹھنڈے لہجے میں کہا ۔
تکلیف کی وجہ سے نا چاہتے ہوئے بھی مہرو کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔
نا نا میری جان ابھی ان قیمتی آنسوؤں کو ضائع نا کرو
ملک نے انگوٹھے سے لڑکی کے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے مزید کہا
آگے بھی ان کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
معارج نے مہرو کے کان کے پاس سرگوشی نما کہا ۔
جو کانپتی ٹانگوں سے معارج کے سہارے ہی کھڑی تھی….
تم کیوں مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو؟ جانتے بھی ہو میں ایک طوائف ہوں ۔
پھر بھی تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو کیوں؟
مہرو نے بےبسی سے معارج کو دیکھتے ہوئے پوچھا
یہ جو دل سینے میں دھڑکتا ہے نا اسے تم پسند آگئی ہو دل کے تو اصول ہی کچھ الگ ہوتے ہیں وہ یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے والی طوائف ہے یا نہیں
اور تم. میرے دل. میں آ بسی ہو اور میرے دل کی قید سے نکلنا بہت مشکل ہے ۔
معارج نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
مہرو کو معارج اس وقت ایک سر پھیرا انسان لگ رہا تھا ۔
معارج ملک تم کچھ بھی کر لو میں تمھارے ساتھ نکاح نہیں کروں گی ۔
اپنی جان دے دوں گی لیکن تم جیسے انسان سے شادی نہیں کروں گی ۔
ماضی کی کچھ یادوں نے مہرو کو زہر اگلنے پر مجبور کر دیا تھا
معارج جو آرام سے کھڑا تھا مہرو کی باتیں سن رہا تھا اس کی آخری بات پر اس نے بازو سے پکڑتے ہوۓ اسے اپنے سامنے کھڑا کیا
میرے جیسا؟
کیا کیا ہے میں نے تمھارے ساتھ؟ جواب دو مجھے؟
تمھارے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی؟
یا تم نے مجھے کسی لڑکی کے ساتھ کچھ غلط کرتے دیکھ لیا؟
کیا کیا ہے میں نے تمھارے ساتھ جواب دو مجھے؟
معارج ملک نے غصے میں دھاڑتے ہوئے کہا۔
مہرو آنکھوں میں خوف لیے
معارج کو دیکھ رہی تھی آج اسے سچ میں ملک سے خوف آرہا تھا ۔
اور تم مجھ سے نکاح کرنے سے زیادہ موت کو ترجیح دے رہی ہو تو ٹھیک ہے یہ نیک کام میں اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتا ہوں ۔
معارج غصے میں کہتا ہوا مہرو کو گھسیٹے ہوئے کھڑکی کے پاس لے کر گیا