Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20


نایاب شام سے پریشان تھی۔اسے صائم کی بات تنگ کر رہی تھی ۔
کیا ہوا ہے تجھے؟
سلمیٰ نے حیرانگی سے پوچھا وہ کافی دیر سے نوٹ کر رہی تھی
کچھ نہیں سلمی بائی
نایاب نے سنجیدگی سے کہا
میری بات سن نایاب تجھے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا ۔
جو کام تو کرتی نہیں ہے پھر اس کے بارے جھوٹ کیوں بولنا
سلمیٰ نے سمجھانے والے انداز میں کہا اور منہ میں پان رکھا وہ جانتی تھی کہ نایاب کیوں اتنی پریشان ہو رہی ہے ۔
اب جو ہونا تھا وہ ہو گیا اب نجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں؟
نایاب نے سلمیٰ کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
اگر وہ لڑکا کیا نام ہے اس کا ہاں صائم سلمیٰ نے یاد کرتے ہوئے کہا
اگر وہ آتا ہے تو اسے سچ بتا دی کہ تو نے جھوٹ بولا تھا ۔
اگر تو نے آج سچ نا بتا تا تو بعد میں پچھتائے گی ۔
سلمیٰ نے نایاب کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
نایاب وہی بیٹھی آنے والے مرحلے کے بارے میں. سوچنے لگی۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
صائم جب سے گھر آیا تھا بے چین سا اپنے کمرے میں چکر لگا رہا تھا
اگر میں نے بھی اس کے ساتھ وہی کیا جو باقی مرد کرتے ہیں تو میرے اور ان میں فرق کیا رہ جائے گا ۔
صائم کے اندر سے آواز آئی تھی
کہ وہ ایک طوائف ہے اس کا کام ہی مردوں کا دل بہلانا ہے
میں کیوں اس کے بارے میں اتنا سوچ رہا ہوں
صائم نے اپنے دُکھتے سر کو پکڑتے ہوۓ تکلیف دہ لہجے میں کہا ۔
کاش تم مجھے اس دن نا ملی ہوتی کاش نایاب کاش صائم نے دل میں سوچا
اس کی آنکھوں کے کونے بھیگ چکے تھے ۔
آج صائم جیسا خوبرو مرد ایک طوائف کے لیے رو رہا تھا ۔
یہ کمبخت دل ہی تو تھا جو نایاب کا طلبگار تھا ۔اس کے پاس جاتے ہی اسے دیکھتے ہی اسے سکون مل جاتا تھا ۔
لیکن دماغ بھی اپنی ضد پر آچکا تھا کہ وہ ایک طوائف ہے ۔
اور طوائف سے گھر نہیں بساتے
صائم نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی سرخ آنکھوں میں دیکھا
تم میرے درد کی دوا ہو نایاب
تم نے غلطی کی میرے سامنے آکر تمہیں میرے سامنے نہیں آنا چاہیے تھا ۔
صائم نے خود کے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا
اور گاڑی کی چابیاں اٹھا کر گھر سے نکل گیا ۔
اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے
نایاب کو اب یقین ہو گیا تھا کہ صائم نہیں آئے گا اس لیے بے فکری سے سو رہی تھی ۔
صائم جب آیا تو اسے سلمیٰ باہر ہی مل گئ تھی ۔
نایاب کہاں ہیں؟ صائم نے سرد لہجے میں پوچھا اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر سلمیٰ بھی گھبرا گئی تھی اس نے نایاب کے کمرے کی طرف اشارہ کیا
تو صائم خاموشی سے نایاب کے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
نایاب منہ تک کمبل تانے سو رہی تھی ۔
صائم کچھ دیر کھڑا نایاب کو دیکھتا رہا سوتے ہوئے وہ ایک معصوم سی پری لگ رہی تھی ۔
صائم نے پاس پڑا پانی کا جگ پورا نایاب کے منہ پر انڈیل دیا ۔
نایاب ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور اپنے سامنے کھڑے صائم کو ناسمجھی سے دیکھنے لگی ۔
تھوڑی دیر بعد جب حواس بحال ہوئے تو صائم کی اس حرکت پر تلملا اٹھی تھی
عقل نام کی چیز ہے تمھارے پاس یا نہیں اس طرح کون اٹھاتا ہے
نایاب نے اپنے گیلے کپڑوں کو دیکھتے ہوئے غصے میں کہا
اگر میں اپنی عقل کا استعمال کرتا تو وہ طریقہ تمہیں پسند نہیں آنا تھا ۔
صائم نے نایاب کے پاس بیٹھتے ہوئے ز
ذومعنی لہجے میں کہا
نایاب کو دیکھتے ہی اس کی بے چینی ختم ہو گئی تھی۔
کیا مطلب؟ نایاب نے صائم سے تھوڑا پیچھے کھسکتے ہوئے کہا
مطلب تم کبھی سمجھ نہیں پاؤ گی
صائم نے نایاب کے گال پر چپکے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا
صائم کا لمس اپنی گال پر محسوس کرکے نایاب خود میں سمٹ سی گئی تھی ۔
تم یہاں کیا لینے آئے ہو؟
نایاب نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے پوچھا
مجھے نہیں لگتا کہ تمہیں کچھ بتانے کی ضرورت ہے جبکہ ہماری بات ہو چکی ہے ۔
صائم نے نایاب کی براؤن آنکھوں میں دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ۔
میں ایسا ویسا کچھ نہیں کروں گی تم جاؤں یہاں سے نایاب نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا اور اور بیڈ سے اٹھ گئی
کہ اچانک صائم نے نایاب کو بازو سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا اور اس کے دائیں اور بائیں جانب اپنے ہاتھ رکھے کھڑا ہو گیا ۔
نا جانے کیوں نایاب کے انکار نے اسے خوشی دی تھی
طوائف ہو نا تم؟ اور تمھارا کیا کام ہے
ہم جیسے مردوں کا دل بہلانا اور اس کے بدلے میں تمہیں پیسے ملے گئے جتنے تم چاہو گی۔
صائم نے مزید نایاب کے قریب ہوتے ہوئے اس کے کان کے پاس سرگوشی نما کہا
اور نایاب کے بالوں کی خوشبو کو خود کے اندر اتارنے لگا ۔
صا صائم میں یہ سب کچھ نہیں کرتی پلیز
نایاب نے بھیگے لہجے میں کہا ۔میں نے جھوٹ بولا تھا
اور یہ سنتے ہی صائم کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئ تھی ۔
ویسے حیرت کی بات ہے تم ایک طوائف ہو لیکن پھر بھی رات گزارنا نہیں چاہتی یا تمھاری ڈیمانڈ بہت زیادہ ہیں؟
صائم کا لہجہ طنزیہ اور تیکھا تھا جسے محسوس کر کے نایاب کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا
اگر تمھارا مقصد مجھے میری اوقات یاد دلانا ہے تو مجھے رتی برابر بھی فرق نہیں پڑتا
ہاں میں مانتی ہوں کہ میں ایک طوائف ہوں
لیکن کیا تم دنیا والوں کے سامنے اس بات کو مان سکتے ہو کہ اپنی انا کی تسکین کے لیے تم کوٹھے پر مجھ جیسی طوائف کے پاس آتے ہو؟
نہیں مانوں گے
کم از کم میں تمھارے جیسی نہیں ہوں جو میں ہوں اور جو میں کرتی ہوں مجھے وہ کسی کے سامنے بولنے پر اعتراض نہیں ہے
نایاب نے سرد لہجے میں صائم کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
جو بنا چہرے پر کسی قسم کا تاثر لیے نایاب کو دیکھ رہا تھا
کچھ کہتا بھی کیسے سچ ہی تو وہ بول رہی تھی ۔
تمھاری ایک ایک بات سے میں متفق ہوں
میں بھی مجبور ہوں میں یہاں نہیں آنا چاہتا میں تمہیں نہیں دیکھنا چاہتا لیکن یہ دل بے چین رہتا ہے تمھارے حق میں دلیلیں پیش کرتا ہے ۔
اور مجھے اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں اگر تمھارے پاس اس کا کوئی علاج ہے تو بتا دو
میں وعدہ کرتا ہوں کبھی بھی تمھارے سامنے نہیں آؤں گا
صائم نے اس بار بےبسی سے نایاب کو کہا
جو آنکھوں میں تکلیف لیے صائم کو دیکھ رہی تھی ۔
خود کے لیے پسندیدگی تو وہ صائم کی آنکھوں میں پہلے دن ہی دیکھ چکی تھی لیکن اسے نہیں پتہ تھا کہ صائم اس سے محبت کرنے لگا ہے ۔
تمہیں محبت ہوئی بھی تو ایک طوائف سے
نایاب کی آواز میں بے یقینی تھی ۔
محبت……
صائم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوۓکہا
ہاں ہو گئی ہے تم سے محبت تمھاری ان آنکھوں سے مجھے محبت ہے صائم نے اپنی انگی کی پور سے نایاب کی آنکھوں کو پیار سے چھوتے ہوئے کہا
محبت تو بس ہوجاتی ہے نایاب وہ نہیں دیکھتی کہ سامنے والا کون ہے ۔
صائم نے آہستگی سے کہا ۔
اگر میری کچھ دیر کی قربت تمھاری تکلیف کو دور کردے گی
تو ٹھیک ہے تمھارے سامنے کھڑی ہوں جو کرنا چاہو کر سکتے ہو
نایاب نے پتھریلے لہجے میں کہا
صائم نایاب کی بات پر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا
اگر مجھے یہ سب کرنا ہوتا تو جس دن پہلی بار تم سے ملا تھا اسی دن کر لیتا اور تم مجھے روک بھی نہیں سکتی تھی ۔
لیکن تمہیں تکلیف دینے کا سوچ کر خود تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہوں
صائم نے ہلکا سا مسکرا کر کہا
صائم جاؤ یہاں سے پلیز
نایاب نے روندے لہجے میں کہا وہ مزید صائم کی باتیں نہیں سن سکتی تھی اسے صائم کی حالت پر ترس آرہا تھا ۔
صائم نایاب کے بیڈ پر اپنا سر پکڑے بیٹھ گیا تھا ۔
اوکے میں چلتا ہوں اور میں پوری کوشش کروں گا کہ تم سے دور رہ سکوں صائم نے تھوڑی دیر بعد کھڑے ہوتے سامنے کھڑی نایاب کو کہا
لیکن اپنے دل کی گارنٹی نہیں دے سکتا اور ایک اہم بات جو کچھ تم نے آج مجھے کہا اس بات پر ہمیشہ قائم رہنا مجھے تم کسی بھی مرد کے ساتھ نظر آئی تو نایاب میں نہیں جانتا کہ میں کیا کر بیٹھو گا
اس لیے اس بات کا خیال رکھنا
صائم نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا اور بنا نایاب کا جواب سنے کمرے سے نکل گیا۔
نایاب پیچھے اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی ۔
………………
معارج مہرو کو کوٹھے سے باہر لے گیا تھا ۔مہرو خود کو معارج کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش میں ہلکان ہو گی تھی ۔
کسی نے بھی آگے بھرنے کی کوشش نہیں کی نایاب کو معارج نے ہاتھ کے اشارے سےطروک دیا تھا ۔
ساری لڑکیاں کھڑی تماشا دیکھ رہی تھیں
کہاں لے جا رہے ہو مجھے؟
مہرو نے چلاتے ہوئے پوچھا
زیادہ دور نہیں وہ سامنے والے گھر میں نے صرف تمھارے لیے اسے خرید لیا ہے ۔
معارج نے رک کر مہرو کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا
اور سامنے بنے خوبصورت مگر چھوٹے سے گھر کے اندر داخل ہو گیا
مولوی صاحب پہلے سے ہی وہاں موجود تھے ۔
اور آکف اپنا پہلے والا کام سر انجان دے رہا تھا
یعنی گھوریوں سے نواز رہا تھا ۔
مولوی صاحب نکاح شروع کریں معارج نے مہرو کو اپنے پاس بیٹھاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔
تمھارا دماغ کام کرنا بند ہو گیا ہے مجھے تمھارے ساتھ نکاح نہیں کرنا تمہیں میری بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی
مہرو نے اپنا ہاتھ معارج کی گرفت سے نکالتے ہوئے دانت پیس کر کہا ۔
جس کی پکڑی میں مزید سختی آگئی تھی ۔
آرام سے مان جاؤ ورنہ مجھے اپنا طریقہ اپنانا پڑے گا
معارج نے مہرو کے کان کے پاس سرگوشی نما کہا ۔
تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں تمھاری بات مان لوں گی ۔
مہرو نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
ماننا تو تمہیں پڑے گا جاناں ورنہ پھر مجھے وہ کرنا پڑے گا جو تمہیں برا لگے گا
معارج نے مسکراتے نظریں مہرو کے چہرے پر گاڑھتے ہوئے کہا جو ناسمجھی سے معارج کو دیکھ رہی تھی
نایاب
معارج نے آہستگی سے کہا ۔
اگر تم مجھ سے نکاح نہیں کرو گی تو میں اس سے نکاح کر لوں گا اسے میں ایک رات کے لیے پاس رکھتا ہوں یا ایک ہفتے کے لیے اس بارے میں ابھی میں نے کچھ سوچا نہیں ہے ۔
تو اب تم مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہو یا نہیں؟
معارج نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔
میں تیار ہوں نکاح کے لیے مہرو نے کپکپاتے لہجے میں کہا ۔اور تم ایک گھٹیا انسان ہو
آخری بات مہرو نے نفرت سے کہی۔
گڈ گرل اور آگے آگے تمہیں میرے بارے میں مزید بھی پتہ چل جائے گا کہ میں گھٹیا ہونے کے ساتھ اور بھی بہت کچھ ہوں۔
معارج نے مسکراتے ہوئے کہا
مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا ۔
معارج اچھے سے جانتا تھا کہ مہرو کس طرح مانے گی اس لیے اس نے نایاب کا نام لیا۔
اور وہ مان بھی گئ
نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے مہرو کے ہاتھ کانپے تھے
ایک طوائف اب بیوی بننے جا رہی تھی
نکاح نامے پر مہرو کے آنسوؤں گر رہے تھے ۔اور مہرو کی تکلیف معارج کو بھی محسوس ہو رہی تھی ۔
نکاح کے ہونے کے بعد معارج نے مہرو کو کمرے میں جانے کا کہا جو خاموشی سے اس کمرے میں چلی گئی ۔
خبر دار معارج ملک اگر تو نے کوئی فضول دلیل دی تو ۔
آکف نے پہلے ہی معارج کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا جو اس کے پاس آ کھڑا ہوا تھا۔
محبت کرتا ہوں میں اور یہ دلیل جھوٹی ہرگز نہیں ہے آکف
اور اگر تم مجھے خود غرض سمجھ رہے ہو تو کوئی مسئلہ نہیں
میں بن رہا ہوں خود غرض
اپنی محبت کی خاطر
اور میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ اگر محبت ہو جائے تو اس سے نکاح کرنے میں دیر نا کرو
معارج نے مسکراتے ہوئے کہا
یار تو جانتا ہے وہ کون ہے؟ گھر والوں کو کیا جواب دے گا؟ کتنا مسئلہ بنے گا
آکف نے پریشانی سے کہا
وہ ایک طوائف تھی اب میری بیوی ہے مسز معارج ملک ہے وہ اور کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ معارج ملک کی بیوی کو کچھ کہہ سکے پھر چاہے وہ میرے اپنے گھر والے ہی کیوں نا ہو
معارج نے سامنے دیوار کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔
چل ٹھیک ہے اگر تو نے یہ فیصلہ کیا ہے تو ٹھیک ہی ہو گا
میں تیرے لیے بہت خوش ہوں
لیکن مان آگے بہت سی مشکلات آئے گئ اور ان حالات میں تجھے اپنی بیوی کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا پڑے گا
آکف نے معارج کے گلے لگتے ہوئے کہا ۔
معارج مشکوک نظروں سے آکف کو دیکھ رہا تھا ۔
کیا ہوا؟
آکف نے ناسمجھی سے پوچھا
تیرے میں کب سے اتنی عقل آگئ معارج نے آبرو اچکاتے ہوئے پوچھا ۔
یہ تعریف تھی؟ کمینے انسان
آکف نے دانت پیستے ہوئے کہا
نہیں میرے بھائی میں کیوں تیری تعریف کروں گا ۔
یہ بےعزتی تھی. معارج نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا
کمینمے تیرے نکاح کا تو میں گھر میں بتاتا ہوں آکف نے دھمکاتے ہوئے کہا
معارج قہقہہ بے ساختہ تھا ۔
چل نکل میرے گھر سے مجھے اپنی بیوی کے پاس جانا ہے وہ میرا انتظار کر رہی ہو گی معارج نے ہنستے ہوئے کہا
میرا نہیں خیال کے وہ تمھارا انتظار کر رہی ہو گی ۔
آکف کا لہجہ طنزیہ تھا ۔
تو جا رہا ہے یا میں خود تجھے باہر پھینکوں
معارج نے دانت پیستے ہوئے کہا
جا رہا ہوں کنجوس انسان انسان منہ ہی میٹھا کروا دیتا ہے ۔
لیکن نہیں
آکف نے گھور کر کہا فکر مت کر تجھے مٹھائی کی دکان پر چھوڑ آؤں گا جتنی مرضی کھا لی
معارج نے ہنستے ہوئے کہا
مجھے راستہ معلوم ہے میں خود چلا جاؤ گا اکف نے اور معارج سے مل کر گھر سے نکل گیا۔
معارج نے اُس کمرے کی طرف قدم بڑھائے جس کے اندر سے چیزیں ٹوٹنے کی آوازیں آرہی تھیں
معارج کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی
وہ اسی چیز کی توقع کر رہا تھا ۔
معارج نے کمرے کا. دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔
مہرو معارج کو دیکھتے ہی جنگلی بلی کی طرح اس کی طرف بڑھی
لیکن زمین پر گرے کانچ کے ٹکروں نے مہرو کے پاؤں کو زخمی کر دیا ۔
آہ مہرو کراہ کر وہی زمین پر بیٹھ گئ ۔
معارج جلدی سے آگے آیا اور مہرو کو اپنی بانہوں میں بھر کر بیڈ پر بیٹھایا۔
اگر تم نے ان بےجان چیزوں پر اپنا غصہ نا نکالا ہوتا تو یہ سب نا ہوتا ۔
معارج نے نرم لہجے میں مہرو کے پاؤں کا معائنہ کرتے ہوئے کہا اور سائیڈ ڈرا سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا
مہرو اپنی سسکیوں کو دبائے بیٹھی تھی آنسو روانگی سے بہہ رہے تھے ۔
زیادہ درد ہو رہا ہے؟
معارج نے پریشانی سے پوچھا
مہرو نے اثبات میں سر ہلایا ۔
تھوڑا درد تو ہو گا پھر ٹھیک ہو جائے گا
معارج نے پیار سے کہا اور انگوٹھے سے مہرو کے آنسوؤں کو صاف کیا
مہرو نے بھیگی آنکھوں سے معارج کو دیکھا تو اس نے اسی وقت مہرو کے پاؤں میں لگے کانچ کو کھنچ کر نکال دیا
مہرو کی دل خراش چیخ کمرے میں گونجی تھی اس نے زور سے معارج کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
معارج نے دوسرے ہاتھ سے زخم کو صاف کیا اور پھر پٹی کرنے لگا ۔
میری طرف دیکھو ۔
معارج نے ٹھوڑی سے پکڑ کر مہرو کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے کہا ۔
تمھارا نام بےشک مہر ہے لیکن میرے لیے تم ہمیشہ مہرو ہی رہو گی ۔
اور مجھے دکھ ہے کہ میں تمھارے بھائی کو نکاح میں بلا نہیں سکا لیکن تم فکر مت کرو
جب اسے نکاح کا پتہ چلے گا تو دوڑتا ہوا آئے گا ہمیں مبارکباد دینے
معارج نے مہرو کے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے مسکراہٹ دبا کر کہا ۔
معارج ملک جب تمہیں پتہ چلے گا کہ میں کون ہوں تو تمہیں پچھتاوا ہو گا کہ کیوں تم نے مجھ سے نکاح کیا
مہرو نے معارج کی بات کو اگنور کرتے ہوئے پتھریلے لہجے میں کہا
معارج ملک جو بھی فیصلہ کرتا ہے دل سے کرتا ہے اور دل کے فیصلے مجھے کبھی مایوس نہیں کرتے ۔
معارج نے دھیمے لہجے میں کہا اور بنا مہرو کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اس کے بال گردن سے پیچھے کرتے وہاں اپنے ہونٹ رکھ دیے
معارج کی گرم سانسوں نے مہرو کو کپکپانے پر مجبور کر دیا تھا ۔
معارج
مہرو نے معارج کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا
جی جانِ معارج
معارج نے پیار سے کہا ۔
اور مہرو کی تھوڑی پر ہونٹ رکھ دیے اور پیچھے ہٹ گیا۔
آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے جاؤ اپنا حلیہ درست کرو ۔گفٹ لانے کا ٹائم نہیں ملا لیکن کل لا دوں گا
اور تمھاری ضرورت کی ہر چیز یہاں موجود ہے
لیکن اب تم کوٹھے کا رخ نہیں کروں گی نایاب تمھارے پاس آجایا کرے گی لیکن تم اب وہاں نہیں جاؤ گی ۔
میں بہت جلد تمہیں یہاں سے لے جاؤ گا
مان نے سنجیدگی سے کہا اور مہرو کے ماتھے پر بوسہ دے کر حیران بیٹھی مہرو کمرے میں چھوڑ کر چلا گیا ۔
میں بھی دیکھتی ہوں کیسے روکتے ہو تم مجھے میں کوٹھے پر جاؤ گی
مہرو نے دروازے کو گھورتے ہوئے کہا۔