No Download Link
Rate this Novel
Episode 48
نکاح کا فنکشن بہت اچھا گزرا تھا ۔سب لوگ خوش تھے سوائے کومل کے
مہمانوں کے جانے کے بعد فیملی کے لوگ بیٹھے باتیں کررہے تھے ۔
کومل نے کمرے میں جاتے ہی غصے سے اپنے سارے زیورات نوچ ڈالے تھے ۔کیونکہ عامر نے کہا تھا وہ ابھی چینج نا کرے وہ ایک بار اس سے ملنا چاہتا ہے ۔
عامر اپنی زندگی کی شروعات نئے سرے سے کرنا چاہتا تھا
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کومل کیا چیز ہے ۔
عامر روم میں داخل ہوا اور بیڈ پر بکھری چیزوں کو ہی دیکھ کر سب کچھ سمجھ گیا تھا اسے غصہ تو بہت آیا لیکن برداشت کر گیا ۔
واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی ۔
تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد کومل باہر نکلی لیکن عامر کو دیکھ کر بلکل بھی حیران نہیں ہوئی ۔
کومل اپنے پرانے حلیے میں موجود تھی ۔اور عامر کو اگنور کیے آئینے کے سامنے جاکھڑی ہوئی ۔
عامر چھوٹے قدم لیتا عینکومل کے پیچھے جا کھڑا ہوا لیکن وہ ابھی بھی اپنے بالوں کو برش کرنے میں مصروف تھی ۔
اس سے چھوٹے کپڑے نہیں ملے تمہیں؟ عامر نے کومل کی چھوٹی شرٹ کو دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا جو کومل کا پیٹ کور کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔
تمہیں اس سے مسئلہ نہیں ہونا چاہیے
کومل نے بتميزی سے جواب دیا ۔
عامر نے کومل کو. کندھوں سے پکڑ کر اس کا رخ خود کی طرف کیا ۔
اگر تمہیں اپنا آپ دکھانے کا اتنا ہی شوق ہے تو اسے بھی اتار دو
عامر نے سنجیدگی سے کہتے کومل کے کندھوں پر گرفت مضبوط کی ۔
تمہیں شرم آنی چاہیے ۔مجھ سے اس طرح کی گھٹیا بات کرتے ہوئے کومل نے پھنکارتے ہوئے کہا۔
۔تمہیں پہنتے ہوئے شرم نہیں آتی تو مجھے مشورہ دینے میں کیوں آئے گی ۔
عامر نے ہنستے ہوئے کہا اور کومل سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا ۔
ابھی میں تم سے بات کرنا نہیں چاہتا
یہ ماما نے کنگن دیے تھے منہ دکھائے کے لیے پہن لینا اُن کو اچھا لگے گا۔
عامر نے بیڈ ہر دو سونے کے کنگن پھینکتے ہوئے کہا اور ایک سرد نگاہ کومل پر ڈال کر وہاں سے چلا ہے اور یہ بات وہی جانتا تھا کہ کس طرح اس نے اپنے غصے پر قابو پایا ہے
عامر کے وہاں سے جاتے ہی کومل کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی۔
💞💞💞💞💞💞💞💞💞
بھابھی اب تو میں اپنی بیوی سے مل سکتا ہوں؟ آکف نے معصومیت سے ایزل کے کمرے سے نکلتی مہرو کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
ہاں تم جا سکتے ہو کس نے روکا ہے مہرو نے دروازے سے پیچھے ہٹتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔
آکف خوشی سے کمرے میں داخل ہوا
جو کھڑکی کے پاس کھڑی باہر دیکھ رہی تھی ۔
السلام علیکم
آکف نے ایزل سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوتے سلام کیا ۔
جس کا جواب ایزل نے خوشی سے مڑ کر دیا ۔ایزل تم نہیں جانتی میں آج کتنا خوش ہوں ۔
اتنا خوش کہ اگر کوئی مجھے پورے گھر کی صفائی کرنے کا بھی بول دے میں خوشی خوشی کر دوں گا ۔
آکف نے معصومیت سے سے کہا جس پر ایزل پہلے تو حیران ہوئی پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔
ٹھیک یو میری زندگی میں آنے اور اسے خوبصورت بنانے کے لیے آکف نے ایزل کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے پیار سے کہا اور اس کی انگلی میں ایک خوبصورت انگوٹھی پہنائی اور وہاں اپنے ہونٹ رکھ دیے ۔
آج تم بلکل آسمان سے اتری ہوئی پری لگ رہی تھی۔آکف نے ایزل کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے پیار سے کہا ۔
ایزل آکف کی اس حسین گستاخی ہر خود میں سمٹ سی گئی تھی ۔
کیسی ہے؟
آکف نے ٹھوڑی سے پکڑ کر ایزل کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے پوچھا ۔
بہت خوبصورت ہے ۔
ایزل نے رنگ کو دیکھتے ہوئے کہا جو سچ میں بہت خوبصورت تھی ۔
آخر پسند کس کی ہے؟
آکف نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
تم ایسا کرو جلدی سے چینج کر لو تمھارا بھائی باہر انتظار کر رہا ہے پھر انہوں نے گھر بھی جانا ہے ۔
آکف نے ایزل کا گال تھپتھپاتے ہوئے کہا
اوکے میں چینج کرکے آتی ہوں ۔
ایزل نے کہا اور چینج کرنے چلی گئی ۔
آکف صوفے پر بیٹھ کر ایزل کے نکلنے کا انتظار کرنے لگا۔زندگی اتنی حسین ہو جائے گی اس نے کبھی سوچا نہیں تھا ۔
💞💞💞💞💞💞💞
سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تھے مہرو ابھی بھی یہی تھی طلحہ بھی ایزل کو ڈھیر ساری دعائیں دے کر وہاں سے چلا گیا تھا ۔
رات کے وقت کومل اپنے معمول کے مطابق گھر سے باہر نکلی سب لوگ اپنے کمروں میں تھے وہ کلب جانا چاہتی تھی ۔اب کسی طرح اسے عامر کو یہاں بلانا تھا تا کہ وہ کومل کو کلب میں دیکھے اور غصے میں اسے طلاق دے دیں ۔
اس نے عامر کا نمبر ڈائل کیا تھوڑی دیر بعد عامر کی نیند میں ڈوبی آواز گونجی
ہیلو پیارے ہبی آپ کی بیگم اس وقت کلب میں بیٹھی بور ہو رہی ہے کیا آپ اسے کمپنی دینے آسکتے ہیں؟
کومل نے نیند میں ڈوبے عامر کو کو ہوش میں لاتے ہوئے کہا جو کلب کا نام سن کر ہی چوکس ہو گیا تھا
کون سا کلب ہے؟
عامر نے سنجیدگی سے پوچھا ۔کومل نے نام بتاتے ہی کال کاٹ دی ۔
عامر غصے میں کھولتا ہوا بیڈ سے اٹھا اور گاڑی کی چابی پکڑ کر گھر سے باہر نکل گیا ۔
کومل تھوڑی دیر بعد سٹیج کی طرف چلی گئی اور وہاں کھڑے لڑکوں کے ساتھ ڈانس کرنے میں مگن ہو گئی عامر جو پورے راستے اپنے غصے پر قابو پاتے آتا تھا کومل کو لڑکوں کے ساتھ چپک چپک کر ڈانس کرتے دیکھ اس کا غصہ پھر سے عود آیا ۔
عامر کومل کے پاس گیا اور اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹے ہوئے وہاں سے باہر لایا ۔
چھوڑو میرا ہاتھ جنگلی انسان کومل نے چیختے ہوئے کہا جبکہ دل اس کا خوشی سے جھول رہا تھا کہ اس کا پلان کامیاب ہو گیا ہے۔
میری ایک بات کان کھول کر سن لو مسز اگر اب مجھے تم کسی بھی کلب میں جاتے یا کسی غیر مرد کے ارد گرد منڈلاتی ہوئی نظر آئی تو بنا کسی کی پرواہ کیے وہی کھڑا تمہیں سخت سزا دوں گا جیسے تم برداشت نہیں کر پاؤ گی۔۔
اب شرافت کے ساتھ اپنی گاڑی میں بیٹھو ڈرائیور تمہیں گھر چھوڑ دے گا صبح ہی صائم سے رخصتی کی بات کرتا ہوں۔
عامر نے انگلی اٹھا کر کومل کو تنبیہ کرتے کہا اور اسے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر دھکیلا
جو گاڑی میں گرنے والے انداز میں بیٹھ گئ تھی۔
میڈم کع گھر چھوڑنا اگر یہ کہی رکی تو تمھاری خیر نہیں عامر نے ڈرائیور کو گھورتے ہوئے کہا ۔
جی صاحب ڈرائیور نے کہتے ہی گاڑی سٹارٹ کر دی ۔
کومل پیچھے حیرانگی سے بیٹھی سوچ رہی تھی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے ۔ لیکن جب ہوش آیا تو اس نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا کہا جس نے گاڑی نہیں روکی ۔
میڈم سر نے سختی سے منع کیا ہے ۔ڈرائیور نے ڈرتے ہوئے کہا ۔
تمہیں میں عامر کے گھر کا ایڈریس بتارہی ہوں مجھے وہاں لے کر چلو ۔کہی اور نہیں جارہی نایاب نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔
جی میڈم ڈرائیور نے فرمانبرداری سے کہا۔
آخر تم چیز کیا ہو عامر
آج تو تمہیں فیصلہ کرنا ہی ہو گا اور آج ہی تمہیں مجھے طلاق دینے ہو گی
کومل نے باہر سڑک کو. دیکھتے ہوئے غصے سے کہا ۔
💞💞💞💞💞💞
عامر نے اپنے کمرے میں داخل ہوتے جگ سے پانی گلاس میں ڈالا اور ایک ہی سانس میں پی گیا اتنے میں اسے اپنے روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کومل کھڑی تھی سب اپنے کمرے میں تھے تو کومل آسانی سے یہاں آگئی تھی۔
کیونکہ پیچھلی بار جاتے وقت اس نے احتیاط کے طور پر عامر کے کمرے کے بارے میں ملازم سے پوچھ لیا تھا ۔
تم یہاں کیا کررہی ہو؟ عامر نے حیرانگی سے کومل کو. دیکھتے ہوئے پوچھا۔
مجھے ابھی اور اسی وقت طلاق چاہیے
کومل نے عامر کو. دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں کہا ۔
ابھی ہمارے نکاح کو دو دن بھی پورے نہیں ہوئے اور تم طلاق مانگ رہی ہو؟
بیگم صاحبہ دس از ناٹ فیر
عامر چلتا ہوا کومل کے قریب کھڑے ہوتے اس کے چہرے پر جھولتی لٹ کو پکڑ کر ہلکا سا کھنچتے ہوئے کہا ۔
یہ نکاح میں نے بھائی کے دباؤ میں آکر کیا ہے ۔
اور اب مجھے افسوس ہو رہا ہے غلطی مجھ سے ہوئی ہے اور میں ہی اسے ٹھیک کروں گی ۔
کومل نے بے خوف لہجے میں کہا ۔
کومل ڈارلنگ تم جانتی ہو رات کے وقت کسی مرد کے کمرے میں نہیں آنا چاہیے اور مرد بھی وہ جس کے نکاح میں آپ ہو ۔
عامر نے کومل کی بات کو اگنور کرتے اسے کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے سرگوشی نما کہا۔جس سےباس کے ہونٹ کومل کے کان سے ٹچ ہوئے تھے۔
چھوڑو مجھے میں نے کہا نا یہ زبردستی کا رشتہ ہے ۔
میں مان کو پسند کرتی ہوں کومل نے خود کو عامر کی گرفت سے آذاد کرواتے ہوئے کہا ۔
آج کے بعد اگر میں نے تمھارے منہ سے مان کا نام سنا تو تمھاری زبان کاٹ دوں گا۔
تم پیار کی زبان نہیں سمجھتی اب مجھے تمہیں تمھاری ہی زبان میں سمجھانا پڑے گا ۔
تم سے نکاح میں نے طلاق دینے کے لیے نہیں کیا تھا ۔
عامر نے کومل کے چہرہ کو اوپر کرتے ہوئے سرد لہجے میں کہا ۔
تم مجھ پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتے ۔
کومل نے عامر کے ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے بدتمیزی سے کہا ۔
نا نا میری جان یہ حق بھی تم نے ہی مجھے دیا ہے نکاح نامے پر دستخط کرکے
عامر نے کومل.کو بیڈ کے پاس لاتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا ۔جو خود کو آزاد کروانے کی کوشش میں لگی تھی۔
مجھے جانا ہے ۔کومل نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا اسے عامر کے ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے ۔
ارے نہیں یار اب تم آہی گئی ہو تو اپنے شوہر کو تھوڑا خوش کرکے واپس چلی جاؤ ۔
صبح میں خود تمہیں تمھارے گھر چھوڑ آؤں گا ۔
عامر نے کومل کے بال گردن کے پیچھے کرتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔
ویسے جس طرح کی واہیات ڈریسنگ تم نے کی ہوئی ہے کوئی بھی تمہیں دیکھ کر بہک سکتا ہے لیکن میں تو تمھارا شوہر ہوں میں تو بہک سکتا ہوں۔اور کچھ بھی کر سکتا ہوں
عامر نے کومل کی گردن کی طرف جھکتے ہوئے خمار آلود لہجے میں کہا ۔
کومل کو آج پہلی بار کسی سے خوف محسوس ہوا تھا اور وہ عامر تھا۔
عامر…
کومل نے اپنے لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے بمشکل عامر کو پکارا جس کے ہونٹوں کا لمس کومل کی جان ہلکان کر رہا تھا۔
کومل میڈم آپ نے یہاں آکر اور فضول بکواس کرکے میرے غصے کو ہوا دی ہے ۔
اتنی آسانی سے تو میں تمہیں یہاں سے جانے نہیں دوں گا اور تمھارے سر سے مان کا بھوت اتارنا بھی ضروری ہے۔
عامر نے کومل کی ڈری سہمی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا ۔
عامر تم غلط کر رہے ہو ۔
کومل نے آخری کوشش کرتے کہا اب تو سب کچھ ٹھیک کر دوں گا میری جان تم خود چل کر یہاں آئی ہو میں نے دعوت نہیں دی تھی ۔
عامر نے کومل. کو پیچھے بیڈ پر دھکا دیتے ہوئے مسکرا کر کہا اور اس سے پہلے کومل وہاں سے اٹھتی عامر کومل. کو بےبس کرتا اس پر حاوی ہوتا گیا ۔
کومل نے خود کو عامر کی گرفت سے آذاد کرنے کی بہت کوشش کی لیکن جب اسے یقین ہو گیا کہ عامر اب اسے نہیں چھوڑے گا تو
اس کے بعد کومل نے بھی اپنی کوشش ترک کرتے خود کو عامر کے حوالے کر دیا تھا وہ جانتی تھی اس نے عامر کے گھر آکر بہت بڑی غلطی کی تھی ۔
اب یا تو کومل نے سدھر جانا تھا یہ پھر مزید بگڑ جانا تھا یہ تو آنے والے وقت نے ہی بتانا تھا ۔
💞💞💞💞💞💞
شاہ روحی کو گھر واپس لے آیا تھا ۔صفیہ بیگم تو روحی کو دیکھ کر س کے صدقے واری جا رہی تھیں وہ روحی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی ۔
شاہ اور روحی اپنے کمرے میں چلے گئے تھے ۔قاسم شاہ کو بھی روحی کے واپس آنے کی خبر مل گئی تھی ۔
اور اب قاسم اور سوہا نے اپنے پلان کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا ۔
صبح ہوتے ہی سوہا روحی سے ملنے کے لیے آگئی تھی ۔اسے قاسم نے بتا دیا تھا ۔
روحی کو ملنے کے بعد سوہا قاسم کے کمرے میں گئی ۔
تصویریں تیار ہیں؟
قاسم نے سوہا سے پوچھا جی وہ ریڈی ہیں ۔
سوہا نے مسکراتے ہوئے کہا ۔کیا شاہ ان تصاویر پر یقین کر لے گا؟
سوہا نے پریشانی سے پوچھا ۔
ان تصاویر میں جو لڑکی ہے وہ سیم روحی جیسی ہے اور دیکھنا شاہ بھی دھوکا کھا جائے گا ۔
لیکن ابھی یہ تصاویر شاہ کو نہیں دکھانی پہلے مجھے کسی طرح روحی کو گھر سے باہر لے کر جانا ہے ۔
تم ایسا کرو صفیہ کو کسی بہانے کل اپنے ساتھ لے جاؤ لیکن شاہ کے جانے کے بعد
باقی سب میں سنبھال لوں گا اور پھر میرے پیچھے تم جانتی ہو یہ تصاویر کہاں رکھنی ہے اور ہاں اُس لڑکی کو اتنے پیسے دینا کہ وہ کسی کے سامنے اپنا منہ نا کھولے ۔
قاسم شاہ نے سنجیدگی سے کہا
ٹھیک ہے میں سمجھ گئی ہوں۔ اور ابھی چلتی ہوں ۔اگر شاہ نے دیکھ لیا تو مسئلہ ہو جائے گا سوہا کہتے ہی کمرے بسے نکل گئی ۔
طلاق تو تمہیں روحی کو دینی ہی پڑے گی ریان شاہ
قاسم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ۔
💞💞💞💞💞💞
آپ واپس کب آئے؟
فضا نے حیرانگی سے علیدان کو اپنے کمرے میں دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
کچھ دن ہی ہوئے ہیں ۔
تم کیسی ہو؟
علیدان نے فضا کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا ۔
میں ٹھیک ہوں آپ باہر بیٹھیے میں ابھی آتی ہوں فضا نے سنجیدگی سے کہا ۔اسے علیدان کا روم میں آنا اچھا نہیں لگا تھا ۔
لیکن مجھے تم سے بات کرنی ہے وہ خالہ کے سامنے نہیں کر سکتا ۔
علیدان نے فضا کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا ۔
جی کیا بات کرنی ہے؟
فضا نے پوچھا ۔
تم نے شادی سے انکار کیوں کر دیا؟
ماما مجھے بتا رہی تھی خالہ نے منع کر دیا ہے۔کیا اس میں تمھاری رضامندی شامل ہے؟
علیدان کا لہجہ ایک سیکنڈ میں سرد ہوا تھا۔
جی بلکل میں نے ہی ماما کو منع کرنے کے لیے کہا تھا ۔
میں اب آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی ۔فضا نے اپنا آخری فیصلہ سناتے ہوئے کہا ۔
کیوں؟ اب تمھارا پیار کہاں گیا؟
بس ختم ہو گئی تمھاری محبت علیدان غصے میں ایک دم فضا کی طرف بڑھتے اسے بازو سے پکڑ کر تلخ لہجے میں پوچھا ۔
میری محبت کیسی تھی یہ مجھے آپ جیسے انسان کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔
آپ سے محبت کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔پہلے مجھے لگا تھا آپ صرف مہرو سے محبت کرتے ہیں کتنی پاگل تھی میں آپ جیسا انسان سوائے خود کے کسی سے محبت نہیں کر سکتا ۔
فضا نے اپنا بازو علیدان کے گرفت سے آذاد کرواتے ہوئے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
پہلے تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن اب میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں تم میری ضد بن چکی ہو ۔
یا ایسا کرو ایک رات کے لیے میری بن جاؤ اُس کے بعد میں تمھارے پیچھے نہیں آؤں گا
یہ شادی سے زیادہ بہتر آپشن ہے ۔
علیدان نے فضا کو سر سے لے کر پاؤں تک گھورتے ہوئے کہا ۔
جو بے یقینی کے عالم میں کھڑی علیدان کا مکار چہرہ دیکھ برہی تھی ۔
تم گھٹیا تو تھے ہی لیکن آج تم نے ثابت کر دیا کہ علیدان ملک ایک بےغیرت انسان بھی ہے جو عورتوں کی عزت کرنا بلکل بھی نہیں جانتا ابھی کے ابھی میرے کمرے سے نکل جاؤ ورنہ شور مچا دوں گی ۔
فضا نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غصے سے کہا۔
جا رہا ہوں ۔لیکن اب میری نظر تم پر رہے گی مجھ سے زرا بچ کر رہنا
علیدان نے خباثت سے مسکراتے ہوئے کہا اور کمرے سے نکل گیا ۔
فضا وہی بیڈ پر ڈھے گئی تھی ۔
یہ تھی اس کی محبت علیدان جیسے انسان سے اس نے محبت کی جو تھوڑی دیر پہلے اپنے غلیظ الفاظ سے فضا کی محبت کی توہین کرکے گیا تھا ۔
مجھے مان کو بتا دینا چاہیے اس سے پہلے کچھ برا ہو جائے فضا نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا لیکن وہ نہیں جانتی تھی معارج کے علاوہ اس کے خود کے ساتھ بھی برا ہونے والا ہے….
سیٹھ ٹائم آگیا ہے تیار ہو جاؤ
علیدان نے کوثر کے گھر سے نکلتے سیٹھ کو فون کرتے کہا اور اپنے گاڑی میں جا بیٹھا ۔
💞💞💞💞💞
