No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
ماضی…….
سویرا جب بیہوش ہو گئی تھی تو اسے کوئی اٹھا کر وہاں سے لے لیا تھا۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ایک کمرے میں. پایا۔
اسے لگا کہ عمیر اسے یہاں لایا ہے لیکن دروازے سے داخل ہوتی لڑکی نے اسے کچھ بھی فضول سوچنے پر روک دیا
شکر ہے تمہیں ہوش آگیا ہے
نایاب نے سویرا نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
میں یہاں کیسے آئی؟ اور آپ کون ہو؟
سویرا نے آہستگی سے پوچھا
میرا نام نایاب ہے ۔
اور تم فکر مت کرو تم یہاں محفوظ ہو
نایاب نے مسکراتے ہوئے کہا
تمھارا نام کیا ہے؟
نایاب نے پوچھا
مہر….
مہرو نے نظریں جھکا کر کہا۔
اسے سویرا نام پسند تھا اس لیے اس نے اپنا نام سویرا ہی رکھا تھا
اور بہت کم لوگ اس کے اصل نام سے واقف تھے مہرو کو اپنے اصل نام سے ہمیشہ سے ایک چڑ سی تھی ۔
اس لیے جس سے بھی ملتی اسے اپنا نام سویرا ہی بتاتی
مہرو کے ماں باپ بھی اپنی بیٹی کی ضد کے آگے خاموش ہو گئے تھے عقیل صاحب کو مہر نام پسند تھا اس لیے انہوں نے اپنی بیٹی کا نام رکھا۔
لیکن جب مہرو تھوڑی بڑی ہوئی تو اسے اپنے نام سے بھی اعتراض تھا ۔
مہر بہت پیارا نام ہے لیکن میں تمہیں مہرو ہی کہوں گی ۔
نایاب نے مسکرا کر کہا ۔
مجھے اپنے گھر جانا یے
مہرو نے جلدی سے کہا
چلی جانا لیکن ابھی تم فریش ہو جاؤ میں خود تمہیں تمھارے گھر چھوڑ آؤں گی
اور میں کھانا لاتی ہوں
نایاب نے پیار سے کہا اور کمرے سے نکل گئ ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
سڑک کے کنارے مہرو پنکی کے کچھ ساتھی خواجہ سرا کو ملی تھی ۔
انہوں نے پنکی کو بتایا اور پنکی اسے کوٹھے پر چھوڑ کر سیٹھ کے پاس چلی گئی تھی ۔
نایاب کو مہرو بہت معصوم سی لگی تھی ۔
کھانا کھانے کے بعد مہرو اپنے گھر جانے کے لیے تیار ہو گی اس کی طبیعت ابھی بھی ٹھیک نہیں تھی نایاب اس کے ساتھ ہی تھی دونوں نے نقاب کیا ہوا تھا ۔نایاب نے مہرو کے بارے میں جاننے کی کوشش نہیں کی تھی
مہرو جب اپنی گلی میں داخل ہوئی تو بے ساختہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے ۔
لیکن حیران تو اپنے گھر کے دروازے پر لگے تالے کو دیکھ کر ہوئی تھی ۔
مہرو یہی تمھارا گھر ہے؟ نایاب نے مہرو سے پوچھا
جس نے اثبات میں سر ہلایا ۔
ٹھہرو میں سامنے کھڑی عورتوں سے پوچھتی ہوں نایاب نے کہا
نہیں آپی میں پوچھتی ہوں یہ سب مجھے جانتے ہیں
مہرو نے جلدی سے کہا
نہیں مہرو تم کچھ نہیں پوچھو گی میں پوچھو گی
نایاب کو کچھ کچھ بات کا انداز ہو گیا تھا
دونوں سامنے کھڑی عورتوں کے پاس گی
آنٹی اس گھر میں کوئی نہیں رہتا سلام کے بعد نایاب نے پوچھا مہرو تھوڑا پیچھے کھڑی تھی ۔
تم کون ہو؟ دونوں آنٹیوں نے مشکوک انداز میں پوچھا ۔
میں مہر کی سہیلی ہوں اس سے ملنے آئی تھی
اچھا تم سویرا کی بات کر رہی ہو؟
وہ کمبخت تو بھاگ گئی اپنی شادی کی رات باپ کو ہارٹ اٹیک ہو گیا اور کھا گی اپنے باپ کو ماں بھی ایک رات کہی چلی گئی کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کہا گی ہے آنٹی اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی نایاب بے یقینی کے عالم میں کھڑی تھی۔
نایاب جلدی سے مہرو کے پاس آئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گئی مہرو پر اس وقت حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے۔
نایاب مہرو کو دوبارہ کوٹھے پر لے آئی تھی ۔
میرے ابو میری وجہ سے چلے گئے
مہرو نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
مہرو مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے تمھارے ساتھ اور وہ عورتیں کیا کہہ رہی تھیں
نایاب نے پیار سے پوچھا
مہرو کی طبیعت پہلے سے ہی ٹھیک نہیں تھی اب بھی اس کا رنگ سفید پڑ رہا تھا ۔
ساری میری غلطی ہے میری وجہ سے سب ہوا ہے ۔
مہرو نے روتے ہوئے کہا
مہرو مجھے اپنا مسئلہ بتاؤ گی تو میں حل کرنے کی کوشش کروں گی
تم مجھ پر یقین کر سکتی ہوں مجھے اپنی بڑی بہن سمجھو ۔
نایاب نے مہرو کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
مہرو نے اپنے بھاگنے سے لے کر عمیر کے پاس پہنچنے تک سب کچھ روتے ہوئے نایاب کو بتا دیا جو آنکھوں میں مہرو کے لیے ترس لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔
میرے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا میں نے اپنے ماں باپ کو تکلیف دی اس بازل کے لیے اور اس نے میرے ساتھ کیا کیا میری بیٹی مجھ سے چھین لی مجھے اپنے دوست کے حوالے کر دیا ۔
میرے ساتھ اس سے بھی برا ہونا چاہیے تھا میرے ابو آپی میرے ابو چلے گئے
کتنا کچھ انہوں نے برداشت کیا ہوا گا۔
مہرو نے کہتے ہی اپنوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
مہرو تم ہی سویرا ہو؟ نایاب نے یاد آنے پر پوچھا کیونکہ وہ انٹی سب کچھ سویرا کو ہی کہہ رہی تھی
میں ہی سویرا ہوں مجھے اپنا نام نہیں پسند تھا اس لیے میں نے سویرا رکھا اور سب مجھے سویرا کے نام سے جانتے ہیں
مہرو نے بھاری آواز میں کہا رونے سے آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں
مہرو میں کوشش کروں گی کہ تمھارے شوہر کو ڈھونڈ سکو تم رونا بند کرو رونے سے مسئلے حل نہیں ہوتے تمھاری طبعیت پہلے ہی خراب ہے نایاب نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
آپی میں نے بہت غلط کیا ہے اور مجھے سزا ملنی چاہیے
مہرو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو وہ سب ٹھیک کر دے گا ابھی تم یہ میڈیسن لو
نایاب نے نیند کی گولی نایاب کو دیتے ہوئے. کہا جس نے تھوڑی دیر انکار کرنے کے بعد کھا لی۔
مہرو کے سونے کے بعد نایاب نے لائٹ اوف کی اور کمرے سے نکل گئی اسے مہرو کے لیے برا لگ رہا تھا۔
چھوٹی سی عمر میں کتنا کچھ اس کے ساتھ ہو گیا تھا ۔
ابھی دونوں اس بات سے ناواقف تھیں کہ بازل تو مہرو کا شوہر بھی نہیں ہے ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
کیا ہوا کون ہے وہ لڑکی؟ سلمیٰ بائی نے پوچھا
اب سے وہ یہی رہے گی جب تک اس کا شوہر نہیں آجاتا
نایاب نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلی گئی ۔
سلمیٰ بائی نے کندھے آچکا ئے اور دوسرے کمرے میں چلی گئی
مہرو کو جب ہوش آیا تو اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا ۔
مہرو کمرے سے نکل کر باہر آئی اور باہر پڑے موسیقی آلات کو دیکھنے لگی
پہلے تو اس نے دھیان نہیں دیا تھا لیکن اب سب چیزوں کو غور سے دیکھ رہی تھی
مہرو تم اُٹھ گئی تمہیں بھوک لگی ہو گی
میں کھانا لاتی ہوں
نایاب نے کہا اور کھانا لانے جانے لگی جب مہرو نے ا سکا ہاتھ پکڑ کر روکا
آپی یہ کون سی جگہ ہے؟ مہرو نے سنجیدگی سے پوچھا
کوٹھا ہے یہ اور تم فکر مت کرو میں بہت جلد تمھاری کچھ نا کچھ انتظام کر دو گی پھر تم یہاں سے چلی جانا لیکن کچھ دنوں کے لیے یہاں رک جاؤ
نایاب نے جلدی سے کہا
آپی آپ کو میرے لیے مزید تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے
میں ٹھیک ہوں یہی پر
مہرو نے کہا اور دوبارہ اپنے کمرے میں چلی گئی
نایاب بے بسی سے مہرو کی پشت دیکھ رہی تھی ۔
💖💖💖💖💖💖
سال ایسے ہی گز گیا تھا مہرو کوٹھے پر رہتی ضرور تھی لیکن رقص نہیں کرتی تھی
وہ نایاب کو رقص کرتے دیکھتی تھی ۔
اور زیادہ ترخاموش ہی رہتی ۔اپنی بیٹی کے بچھڑنے کا غم اسے اندر ہی اندر کھائی جا رہی تھا اور کہی یہ بھی امید تھی ہو سکتا ہے بازل کو عقل آجائے اور وہ دوبارہ اس کے پاس لوٹ آئے کیونکہ سویرا کو تو یہی لگتا تھا کہ وہ ابھی بھی بازل کی بیوی ہے ۔
ایک دن مارکیٹ میں اسے عامر نظر آیا
نایاب مہرو کو اپنے ساتھ زبردستی مارکیٹ لے کر گئی تھی ۔
عامر کو دیکھ کر مہرو کو ایک امید کی کرن نظر آئی
آپی وہ عامر ہے بازل کا دوست مہرو نے خوشی سے نایاب کی توجہ عامر کی طرف کرواتے ہوئے کہا
اور عامر کی طرف اپنے قدم بڑھائے
السلام علیکم
مہرو نے عامر کے پاس جاتے ہی کہا ۔
جی آپ کون عامر نے سلام کو جواب دینے کے بعد پوچھا ۔
سویرا بازل کی وائف مہرو نے جلدی سے کہا
آپ؟ عامر نے حیران کن لہجے میں کہا
جیسے وہ پیچھلے کافی دنوں سے ڈھونڈ رہا تھا وہ آج خود چل کر اس کے پاس آئی تھی
ہم کہی بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں؟
عامر نے سنجیدگی سے کہا تو تینوں پاس والے ریسٹورنٹ میں چلے گئے
سویرا میں تمہیں کافی دنوں سے ڈھونڈ رہا تھا
تمہیں کچھ بتانا چاہتا تھا
عامر نے بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا
نایاب اور مہرو غور سے عامر کی بات سن رہی تھیں
بازل کا اصل نام علیدان ملک ہے
میں نے عمیر اور علیدان کی باتیں سنی ہے
اور علیدان نے جو بازل بن کر آپ سے نکاح کیا تھا وہ بھی نقلی تھا
وہ صرف اپنی ہوس پوری کر رہا تھا
اور جو آپ کی بیٹی ہے وہ علیدان کے لیے مسئلہ پیدا کر سکتی تھی اس لیے اس نے آپ سے اسے دور کر دیا ۔
عامر نے بات جتم. کرکے نظریں جھکا لیں
مہرو کے ساتھ نایاب بھی دم سادِھے عامر کی بات سن رہی تھی
مہرو کو تو اپنی سانس بند ہوتی ہوئی محسوس ہونے لگی. اور لمبے لمبے سانس لینے لگی۔
مہرو تم ٹھیک ہو؟
نایاب نے پریشانی سے کہا اور پانی کا گلاس اس کے لبوں سے لگایا
عامر کی آنکھوں میں سویرا کے لیے افسردگی تھی اس کے دل میں علیدان کے لیے مزید نفرت بڑھ گئی تھی ۔
میں ٹھیک ہوں مہرو نے آہستگی سے کہا ۔اس کا دل کر رہا تھا پھوٹ پھوٹ کر روئے جیسے وہ اپنا شوہر سمجھ رہی تھی
وہ اس کا شوہر تھا ہی نہیں
آپ کو معلوم ہے مہرو کی بیٹی کہاں ہیں؟ نایاب نے عامر سے پوچھا
نہیں میں نے بہت کوشش کی لیکن میں پتہ نہیں لگا سکا ۔
عامر نے مایوسی سے کہا ۔
آپ کا بہت بہت شکریہ نایاب نے کہا اور مہرو کا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہو گئی
یہ میرا کارڈ ہے آپ کو کسی قسم کا بھی کام ہو آپ مجھے بتا سکتی ہیں ۔
عامر نے اپنا کارڈ نایاب کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جیسے نایاب نے تھام لیا اور مہرو کو وہاں سے کے کر چلی گئی ۔
💖 💖 💖 💖 💖
مہرو نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا اس نے کہا تھا مجھے خود کو سنبھلنے کے لیے کچھ وقت چاہیے ۔
نایاب مہرو کے لیے بہت پریشان تھا بےشک اس کے ساتھ بہت برا ہوا تھا نایاب ہی جانتی تھی کہ پیچھلے ایک سال سے کس طرح مہرو اپنا غم چھپاتی تھی ۔
مہرو میں بہت حوصلہ تھا کہ اس نے اپنی بیٹی کی ایک بار بھی شکل نہیں دیکھی تھی ۔
نایاب انہی باتوں کے بارے میں سوچ رہی تھی جب چھن چھن گھنگھرو کی آواز نے اسے متوجہ کیا ۔
نایاب نے مہرو کی طرف دیکھا تو اس کی پوری کی پوری آنکھیں کھل گئیں آج دو دن بعد مہرو کمرے سے باہر آئی بھی تھی تو اس حالت میں
مہرو یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے تم نے جاؤ چینج کر کے آؤ
نایاب نے دبے دبے غصے میں کہا
آپی علیدان ملک مجھے طوائف تو بنا ہی چکا ہے تو رقص کرنے میں کیا برائی ہے مہرو نے پتھریلے لہجے میں کہا
اور آپ کے پاؤں میں موج آئی ہے تو میں آپ کی جگہ رقص کروں گی
مہرو نے سرد لہجے میں کہا اور بنا نایاب کا جواب سنے وہاں سے چلی گئی ۔
مہرو ایک خوبصورت لڑکی تھی اس کا رقص دیکھنے کے لیے کافی لوگ آنے لگے
سلمیٰ بائی تو بہت خوش تھی ۔
ایک دن عمیر کوٹھے پر آیا اور اس نے مہرو کو دیکھا اور علیدان کو اس کا بتایا جو پہلے سے ہی مہرو کو تلاش کر رہا تھا بقول اس کے کہ وہ مہرو سے محبت کرنے لگا تھا ۔
اگلے دن علیدان مہرو سے ملنے آیا تھا مہرو تو علیدان کو دیکھ کر حیران تھی اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا وہ یہاں آئے گا ۔
کیسے ہیں آپ بازل صاحب؟ سو سوری علیدان ملک
مہرو نے علیدان کے سامنے بیٹھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
سویرا میں تمہیں سب کچھ بتا دوں گا
پہلے میری بات سن لو
علیدان نے جلدی سے صفائی دینی چاہیے
مہرو کو دیکھ کر وہ بھی حیران ہوا تھا وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی تھی ۔
مہر میرا نام مہر ہے اگر تم نے نقلی نکاح نامے کو غور سے دیکھا ہوتا تو معلوم ہو جاتا کہ میرا کیا نام ہے
مہرو نے سرد لہجے میں کہا
مہرو کی بات سن کر کچھ دیر کے لیے علیدان بھی خاموش ہو گیا ۔
میں شرمندہ ہوں مہر میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں تم سے محبت کرتا ہوں پلیز مجھے معاف کر دو
علیدان نے مہرو کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
محبت… مہرو نے بھی علیدان کے سامنے کھڑے ہوتا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے تمسخرانہ انداز میں کہا
لعنت بھیجتی ہوں میں ایسی محبت پر جسے تم محبت کہہ رہے ہو میرے نزدیک وہ تمھارا اپنی ہوس پوری کرنے کا ایک ذریعہ تھا جو محبت کی م سے بھی واقف نا ہو وہ محبت خاک کرے گا ۔
میری بدعا ہے علیدان ملک اللہ کرے تم مر جاؤ لیکن تم جیسے گھٹیا لوگوں کو تو موت بھی قبول نہیں کرتی مہرو نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
علیدان آنکھیں پھاڑے مہرو کو دیکھ رہا تھا اسے مہرو سے اس جواب توقع نہیں تھی ۔
تمہیں اپنی بچی کی بھی پرواہ نہیں ہے؟
علیدان نے اپنی حیرانگی پر قابو پاتے کہا
اپنا اور اپنی بچی کا معاملہ میں نے اپنے اللہ پر چھوڑ دیا وہ بہتر انصاف کرنے والا ہے ۔
اور جو کچھ تم نے میرے ساتھ کیا اس کے لیے میں تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی ۔ اور تمھاری اس خوبصورت شکل سے مجھے شدید نفرت ہے ۔
مہرو نے ایک ایک ایک لفظ چبا کر کہا ۔اور وہاں سے چلی گئی
مہرو تمہیں دوبارہ میرا ہونا پڑے گا چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔
علیدان نے غصے سے مہرو کی پشت کو گھورتے ہوئے کہا ۔
اس کے بعد علیدان روزانہ کوٹھے پر آنے لگا لیکن مہرو اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی تھی
فضا کو صاف صاف اس نے بتا دیا تھا کہ. وہ کسی اور کو پسند کرتا ہے اور اسی سے شادی کرے گا
فضا نے مان کو سب کچھ بتا دیا کیونکہ وہ فضا کا بہت اچھا دوست بھی تھا
مان کینیڈا سے بہت پہلے ہی واپس آگیا تھا اور یہاں اکر اس نے علیدان پر نظر رکھی تھی پھر اسے معلوم ہوا کہ علیدان کسی طوائف میں دلچسپی لے رہا ہے
معارج نے بھی کوٹھے پر جانا شروع کر دیا تھا وہ مہرو کو اپنے پاس صرف علیدان کی وجہ سے رکھنا چاہتا تھا اور اسے مہرو پر بھی غصہ بھی تھا کہ اس کی وجہ سے فضا تکلیف میں ہے اور مان کے لیے فضا بہت اہم تھی اسے لگ رہا تھا مہرو نے علیدان کو اپنے پیار کے جال میں پھنسایا ہے ۔
لیکن مہرو سے ملنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ مہرو خود علیدان سے دور رہتی ہے وہ ہی اس کے پاس آنے کی کوشش کرتا ہے۔
معارج ملک نہیں جانتا کہ وہ کب مہرو کو اپنا دل دے بیٹھا تھا۔
۔
مہرو کو علیدان نے ہی بتایا تھا کہ معارج ملک اس کا چھوٹا بھائی ہے تاکہ مہرو معارج سے نفرت کرے اور اس سے دور رہے تو مہرو کو علیدان کے ساتھ معارج سے بھی نفرت ہونے لگی
لیکن جب علیدان کو پتہ چلا کہ مان مہرو میں دلچسپی لینے لگا ہے اور اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس نے خود اس گھر میں گھس کر آگ لگا دی جس میں مان نے مہرو کو رکھا تھا ۔
شاداب ملک کا ایکسیڈنٹ بھی علیدان نے کروایا تھا اور وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اگر بات ڈیڈ کی ہو گی تو معارج مہرو کو چھوڑ کر آئے گا اور ایسا ہی ہوا ۔
علیدان کو گھر کے سارے راستے کے بارے میں پتہ تھا اسے لیے آگ لگا کر آرام سے باہر نکل آیا
💖💖💖💖💖
شاہ کو کوٹھے پر آتے کافی عرصہ ہو گیا تھا اس کی ہلکی پھلکی مہرو سے بات بھی ہو جاتی تھی وقت گزرتا گیا اور ایک سال گزر گیا
لیکن شاہ نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے مہرو کو لگا ہو کہ شاہ بھی باقی مردوں کی طرح ہے
شاہ نے نایاب سے پوچھا کہ مہرو کے ساتھ کیا ہوا تھا اور وہ یہاں کیسے آئی پہلے تو نایاب نے منع کر دیا پھر شاہ کے بار بار پوچھنے پر بتا دیا
شاہ کو سن کر بہت غصہ تو آیا اور اس کا دل کیا کہ علیدان ملک کا منہ تھوڑ دے
شاہ نے مہرو سے بات کی تو مہرو نایاب سے ناراض ہو گئی کہ اسنے شاہ کو کیوں بتایا
لیکن نایاب نے مہرو کو منا لیا تھا وہ خود بھی زیادہ دیر تک نایاب سے ناراض نہیں رہ سکتی تھی ۔
اس کے بعد شاہ اور مہرو ایک دوسرے کے اچھے دوست بن گئے تھے ۔
شاہ نے مہرو کو کہا تھا کہ وہ اس کی بیٹی اور ماں کو تلاش کرنے میں مدد کرے گا
💖💖💖💖
حال……
کہاں جارہی ہو؟ معارج نے مہرو کو بازو سے پکڑتے ہوئے غصیلی لہجے میں پوچھا کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ مہرو کہاں جا رہی ہے۔
اپنی اصل جگہ پر کیونکہ مجھے معلوم ہے میرا اصل ٹھکانہ وہی ہے تو پہلے ہی وہاں جارہی ہوں۔
مہرو نے عام سے لہجے میں کہا
اگر تمہیں میں نے اسی جگہ دوبارہ بھیجنا ہوتا تو تم سے نکاح کیوں کرتا ۔
اور کیوں تم مجھ پر بھروسہ نہیں کرتی
معارج نے مہرو کو خود کے سامنے کھڑا کرتے ہوئے پوچھا
کیسے کر لوں بھروسہ جس کے بھائی نے میرے ساتھ غلط کیا ہو کیسے اس انسان پر بھروسہ کر لو بتاؤ مجھے معارج ملک
آج اگر میں طوائف ہوں تو آپ کے شریف بھائی کی وجہ سے ہوں
اس نے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے مجھے استعمال کیا
مہرو نے ملک کا کالر پکڑتے ہوۓ اس کی آنکھوں میں دیکھتے چلا کر کہا۔۔۔
جبکہ ملک نے مہرو کو پیچھے دھکیلا اور اس کے منہ پر اپنے وزنی ہاتھ کا نشان چھوڑ دیا۔۔۔۔
تم جھوٹ بول رہی ہو میرا بھائی کبھی بھی کوئی ایسا کام نہیں کر سکتا۔۔۔!!
اور آئندہ کسی بھی مرد کا گریبان پکڑنے سے پہلے سو بار سوچ لینا۔۔۔ نتائج بہت برے بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔!!!
آج کے بعد اگر تم مجھے اس قسم کے بےہودہ لباس میں نظر آئی تو اپنے ہاتھوں سے تمھارا گلہ دبا دوں گا۔۔۔۔!! مان نے غصے سے دھاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
اس کے ماتھے کی رگیں پھول چکی تھیں۔۔۔
آپ ہوتے کون ہے میری زندگی کا فیصلہ کرنے والے۔۔۔۔؟اور ہاتھ اٹھا کر میری آواز کو نہیں دبا سکتے
میرا جو دل چاہے گا میں وہ کروں گی اور آپ جانتے بھی ہے میں کون ہوں۔۔۔۔؟
میں ایک طوائف ہوں۔۔۔!!! اور طوائف کو کوئی اپنے گھر کی عزت نہیں بناتا۔۔۔۔ بلکہ شریف اور عزت دار لوگ طوائف کو اپنے بستر تک ہی رکھنا پسند کرتے ہیں۔۔۔۔
مہرو نے آنسو سے تر چہرہ لیےچلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اور مہرو کی بات پر ملک کا صبر جواب دے گیا تھا۔۔۔۔
ملک مہرو کے قریب آیا تھا اور اس کے دونوں بازوں کو پیچھے کمر کے ساتھ لگایا تھا۔۔۔۔
محبت کرتا ہوں تم سے اسی لیے نکاح کیا ہے چاہے زبردستی ہی سہی
لیکن تمہیں اپنی عزت بنایا ہے
اس کے علاوہ کیا چاہتی ہو؟ اور میرے بھائی پر الزام کیوں لگا رہی ہو؟
ملک نے مہرو کی خوبصورت آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ سرد لہجے میں پوچھا۔۔۔
میک اپ سے مہرو کی آنکھیں مزید خوبصورت لگ رہی تھیں۔۔۔
ملک کے ایک دم قریب آنے سے مہرو کی سانس منتشر ہوئی تھیں۔۔۔۔ جو مہرو کے بےحد قریب کھڑا تھا
جس انسان کے بھائی نے میرے ساتھ غلط کیا ہو میں کیسے یقین کر لوں کہ اس کا بھائی اس کے جیسا نہیں ہو گا۔۔۔۔؟؟؟
اور میں الزام نہیں لگا رہی
تمہیں زیادہ یقین ہے نا اپنے بھائی پر تو جاؤ اور پوچھو کیوں اس نے میرے ساتھ جھوٹا نکاح کیا؟ کیوں میری بچی کو مجھ سے دور کیا؟ کیوں اس گھٹیا انسان نے مجھے اپنے آوارہ دوست کے حوالے کیا؟
مہرو نے روتے ہوئے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔۔۔
چیخنے سے اسکا گلہ بھی بیٹھ گیا تھا
ملک ایک دم مہرو سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔
آج اس پر نئے انکشافات کھل رہے تھے اس کا بھائی اتنا کیسے گر سکتا ہے اسے تو لگا تھا کہ اس کا بھائی مہرو میں دلچسپی لے رہا یے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا
وہ بچی تمھاری ہے۔۔۔؟؟
مان نے آنکھوں میں بے یقینی لیے اپنے سامنے کھڑی بےبس لاچار مہرو کی طرف دیکھتے ہوۓ آہستہ آواز میں کہا۔۔۔۔
اسے دو سال پہلے کا وقت یاد آگیا جب اس نے علیدان کے پاس ایک بچی کو دیکھا تھا ۔
