Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

شاہ چلیں….
روحی نے اپنے بالوں کو ٹھیک کرتے ہوئے آئینے میں شاہ کو دیکھ کر کہا ۔
جو روحی کو سبز رنگ کی شلوار قمیض میں دیکھ کر دھنک رہ گیا تھا اس کی نظریں پلٹنے سے انکاری ہع گئیں ۔
روحی نے ہلکا پھلکا میک کیا تھا بالوں کو کھلا چھوڑے وہ شاہ کے ہوش اڑا رہی تھی
شاہ چلیں میں لیٹ ہو رہی ہوں
روحی نے خود کو ایک بار پھر آئینے میں دیکھتے ہوئے کہا ۔
شاہ روحی کی آواز پر چونکا اور ہوش میں آتے ہی چھوٹے چھوٹے قدم لیتا عین روحی کے پیچھے جاکر کھڑا ہو گیا اگر روحی زرا سا بھی پیچھے ہٹتی تو شاہ کے سینے سے جا ٹکراتی
جان من اس طرح تیار ہو کر میرے سامنے آؤ ھی تو میرا ارادہ بدل بھی سکتا ہے
شاہ نے روحی کی گردن سے بال پیچھے کرتے اس کے کندھے پر. تھوڑی رکھتے ہوئے کہا ۔
روحی نے گھبرا کر سامنے آئینے میں دیکھا شاہ آنکھوں میں خمار لیے روحی کو ہی دیکھ رہا تھا۔
روحی نے اپنی نظریں جھکا لیں تھیں ۔اس وقت شاہ کو روحی ایک معصوم سی بچی لگ رہی تھی ۔
تو پھر کیا خیال ہے؟ شاہ نے روحی کے کان کے پاس سرگوشی نما پوچھا
اور اپنے دانتوں سے ہلکا سا روحی کے کان کی لو کو دبایا
روحی ایک دم کانپ سی گئی تھی
شا شاہ روحی نے بمشکل شاہ کو لڑکھڑاتی زبان سے پکارا
سن رہا ہوں شاہ نے نے آہستگی سے کہا اور اپنے ہونٹوں سے روحی کی گردن کو ٹچ کیا
شاہ کے تپش دیتے لمس سے روحی کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہورہی تھی ۔
اس سے پہلے شاہ مزید کوئی گستاخی کرتا سوہا بنا نوک کیے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آئی تھی اور سامنے کا منظر دیکھ کر جھل بھن گئی تھی
شاہ نے غصے میں سوہا کو دیکھا جو کھڑی روحی کو گھور رہی تھی
لگتا ہے تمہیں تمیز بھی سیکھانے پڑے گئے مس سوہا
شاہ نے طنز کرتے ہوئے کہا ۔
شاہ مجھ تم سے ضروری بات کرنی ہے
سوہا نے شاہ کی بات کو اگنور کرتے ہوئے کہا
اووو پھر تمہیں تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا ابھی میں اپنی بیوی کے ساتھ باہر جا رہا ہوں شاہ نے روحی کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ مسکرا کرکہا اور اسے لے کر کمرے سے نکل گیا۔
سوہا نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر غصے کو کنٹرول کیا تھا
کر لوں روحی تم جتنے عیش کرنا چاہتی ہو کر لو
سوہا نے غصے اور نفرت کے ملے جلے لہجے میں کہا اور کمرے سے نکل گئ ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖 💖
آرزو نے پیلے رنگ کا خوبصورت سا شرارہ زیب تن کیا ہوا تھا بنا میک اپ کے بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔
روحی بھی اس کے ساتھ ہی تھی شاہ اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا
مان اور آکف سارے انتظامات دیکھ رہے تھے ۔علیدان کا کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے
آرزو روحی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی ۔ملک ویلا میں ہی مہندی کا فنکشن رکھا گیا تھا ۔
روبینہ بیگم تو پھولے نہیں سما رہی تھی انہوں نے آرزو کو ہمیشہ اپنے چھوٹے بیٹے کے لیے سوچا تھا ۔
لیکن جب اسکی منگنی سفیان کے ساتھ ہو گئی تو روبینہ بیگم کافی مایوس ہو گئی تھیں
لیکن ان کو آرزو کی خوشی عزیز تھی
لیکن شاید آرزو ان کے بیٹے عرشمان کی قسمت میں تھی
اور اب آرزو ان کی بہو بن کر ان کے گھر انے والی تھی
سوائے عرشمان کے سب یہاں موجود تھے
خیر و عافیت کے ساتھ مہندی کا فنکشن اپنے احتتام پر پہنچ چکا تھا ۔
مہندی پر گھر کے لوگ ہی شامل تھے باہر سے کوئی نہیں آیا تھا ۔
روحی رابعہ اور روبینہ بیگم سے ملی تھی دونوں کو روحی بہت پسند آئی تھی
فضا تو علیدان کی راہ تک رہی تھی جو نا جانے کہا چلا گیا تھا ۔
کومل تو مان کو دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھر رہی تھی..
علیدان ایک بار بھی مان کے سامنے نہیں آیا تھا اور یہ علیدان کے لیے ہی بہتر تھا ورنہ وہ اپنا غصہ کنٹرول نا کر پاتا۔
روحی نے جب مان کو دیکھا اور اسے آرزو نے بتایا کہ یہی اس کا بھائی ہے معارج ملک تو روحی کو کافی حیرانگی ہوئی تھی۔
لیکن اس نے سوچ لیا تھا شاہ کو ہرگز نہیں بتائے گی ورنہ وہ روحی کو بھی آنے نہیں دے گا ۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی شاہ کو پتہ چل چکا ہے کیونکہ جب وہ روحی کو چھوڑنے آیا تھا تو ملک ویلا کو دیکھ کر حیران ہوا تھا ۔
اس کی شاداب ملک کے ساتھ بھی اچھی بات چیت تھی اور کچھ دن پہلے انہوں نے بھی شاہ کو مدعو کیا تھا اب تو شاہ کا بھی شادی میں آنا ضروری تھا ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖 💖
بس کچھ وقت اور پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے جب تمھارا دلہا ہی زندہ نہیں رہے گا پھر شادی کس سے کرو گی ڈارلنگ
سفیان نشے میں دھت آرزو کی تصویر کو دیکھتے ہوئے باتیں کر رہا تھا
تو یہاں مجھے مارنے کی پلاننگ ہو رہی ہے؟ عرشمان کی آواز پر سفیان نے دھندلاتی آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے عرشمان کو دیکھا جو اسے دھندلا نظر آرہا تھا ۔
کون ہو تم؟ سفیان نے لڑکھڑاتی زبان میں پوچھا اور کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن دوبارہ صوفے پر گر گیا ۔
تجھے میں نے صرف تین دن غائب کرنا ہے تاکہ تو میری شادی میں کوئی پھڈا نا ڈالے اور پھر بعد میں میں تجھے دیکھ لوں گا تیری طرف میرے بہت سے حساب نکلتے ہیں عرشمان نے دانت پیستے ہوئے کہا
اور ہاتھ کے اشارے سے کسی کو اندر آنے کا کہا
یہ معارج کے آدمی تھے اور عرشمان یہ سب معارج کے کہنے ہر ہی کر رہا تھا
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سفیان کچھ نا کچھ ضرور کرے گا
معارج کے آدمیوں نے سفیان کو بیہوشی کیا اور وہاں سے لے گئے
چونکہ سفیان اس وقت اپنے فارم ہاؤس پر اکیلا تھا تو آسانی سے اسے یہاں سے لے جایا جا سکتا تھا ۔
💖💖💖💖💖💖💖
صائم کافی دنوں سے کوٹھے پر نہیں گیا تھا ۔
اب. بھی ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا ویسے تو مہندی کے فنکشن میں اس کا کوئی کام نہیں تھا اس لئے گھر سے نکل آیا
کافی دیر بے مقصد سڑک ہر گاڑی دوڑاتا رہا اور آخر تھک ہار کر اس نے گاڑی کوٹھے والے راستے پر ڈال دی۔
پیچھلے کافی دنوں سے اس نے خود کو نایاب سے ملنے سے روکا تھا لیکن اب ا سکا صبر جواب دے چکا تھا
وہ جانتا تھا کافی رات ہو چکی ہے لیکن کوٹھے پر اس وقت ہی تو رونق ہوتی تھی
کوٹھے کے باہر گاڑی روک کر کافی دیر صائم بیٹھا یہی سوچتا رہا تھا کہ اندر جائے یا نا جائے
آگیا تیرا دیوانہ شبنم نے نحوست سے کھڑکی سے باہر کھڑی صائم کی گاڑی کو دیکھتے ہوئے کہا
کیونکہ وہ یہاں آنے جانے والوں کی اچھے سے خبر رکھتی تھی ۔
کیا مطلب؟ نایاب نے ناسمجھی کے تاثرات چہرے پر لاتے ہوئے پوچھا
جبکہ اس کا دل زور سے دھڑکا تھا
جا خود ہی دیکھ لے شبنم نے گھورتے ہوئے کہا اور کھڑکی سے پیچھے ہٹ گئ ۔
صائم نے خود میں ہمت پیدا کی اور کوٹھے کے اندر داخل ہوا
اسے باقی کسی سے بھی کوئی غرض نہیں تھا ۔
اس لیے سیدھا نایاب کے کمرے میں گیا
جو اپنے کمرے سے نکلنے کے چکر میں تھی اور جلد بازی میں صائم کے سینے سے جا ٹکرائی
صائم نے اسے کمر سے پکڑ کر گرنے سے بچایا ۔
نایاب نے ہڑبڑا کر صائم کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں محبت کے جلتے دیے لیے نایاب کو یک ٹک دیکھ رہا تھا ۔
نایاب کے دل کو کچھ ہوا تھا اس سے صائم کی تکلیف نہیں دیکھی جارہی تھی آج اس بات کا بھی انکشاف اس پر ہوا تھا۔
اسی وقت اس نے ایک فیصلہ کیا تھا۔
صائم ابھی بھی کھوئے ہوئے انداز میں نایاب کو دیکھ رہا تھا نایاب نے صائم کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے پیچھے دھکیلا تو صائم ہوش کی دینا میں لوٹا
کیسی ہو؟ صائم نے نایاب. کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ایک دم فٹ
تم کافی دنوں بعد کوٹھے پر آئے ہو
مجھے تم سے ایک بات کرنی تھی ۔
نایاب نے اپنا رخ تبدل کرتے ہوئے کہا
وہ نہیں جانتی تھی کہ جو وہ بات کہنے جا رہی ہے اس پر صائم کا کیا ردعمل ہو گا
صائم نا سمجھی سے نایاب کو دیکھ رہا تھا
نایاب مڑی اور صائم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
کیا تم مجھ سے شادی کرو گئے؟
نایاب کے سوال پر صائم کی پوری آنکھیں کھل گئی تھیں
💖💖💖💖💖💖💖
مان مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی اگر تم فری ہو تو؟
شاداب ملک نے معارج کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو ٹیرس پرکھڑا مہرو کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا
ڈیڈ یہ بھی پوچھنے والی بات ہے انفیکٹ مجھے بھی آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی ۔
مان نے سنجیدگی سے کہا ۔
ٹھیک ہے لیکن پہلے مجھے یہ بتاؤ تمھارے اور علیدان کے بیچ سب ٹھیک ہے؟
شاداب ملک نے مان کو دیکھتے ہوئے پوچھا
نہیں ڈیڈ میرے اور علیدان ملک کے درمیان کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے مان نے لمبا سانس لیتے ہوئے کہا
آج پہلی بار مان نے بھائی کہنے کی بجائے علیدان کہا تھا جس پر شاداب کو کافی حیرانگی ہوئی تھی ۔
کیا مطلب؟
شاداب ملک نے پریشانی سے پوچھا
کیونکہ ان کو اتنا تو معلوم ہو گیا تھا کہ ضرور کوئی بڑا مسئلہ ہے
ڈیڈ آپ کو مجھ پر بھروسہ ہے؟
مان نے سوال کے بدلے سوال پوچھا
بلکل ہے بیٹا شاداب نے کہا
کیا آپ میرا ہمیشہ ساتھ دیں گئے؟ مان کے دوسرے سوال پر شاداب نے سنجیدگی سے اسے دیکھا
اگر تم رائٹ پر ہوئے تو میں تمھارا ساتھ ضرور دوں گا پھر چاہے مجھے اپنی فیملی کے خلاف ہی کیوں ناکھڑا ہونا پڑے
میں ہمیشہ سے یہی کوشش کرتا آیا ہوں میری یا میری فیملی کی وجہ سے کسی کو کوئی مسئلہ پریشانی نا ہو
اور میں ہمیشہ حق اور سچ بات کا ساتھ دیتا ہوں ۔
شاداب ملک نے سنجیدگی سے کہا
آئی نو ڈیڈ مجھے معلوم تھا آپ یہی کہے گئے لیکن ابھی آپ کسی سے بھی کسی قسم کی بات نہیں کرے گئے
علیدان ملک سے بھی نہیں
وقت آنے پر میں آپ کو سب کچھ بتا دو گا
مان نے سڑک پر چلتی گاڑی دیکھتے ہوئے کہا۔
میں انتظار کرو گا شاداب ملک نے مسکراتے ہوئے کہا
ڈیڈ آئی لو یو
مان نے شاداب کے گلے لگتے ہوئے کہا
لو یو ٹو مائی سن شاداب نے مان کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا ۔
💖💖💖💖💖💖