No Download Link
Rate this Novel
Episode 45
علیدان نے مہرو کے بالوں کو چھوڑا اور اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوا گیا ۔
مہرو اپنے کمرے میں جاؤ شاداب ملک نے سرد لہجے میں علیدان کو دیکھتے ہوئے کہا
مہرو وہاں سے بھاگنے والے انداز میں اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھی ۔
مجھے لگا تھا تم سدھر چکے ہو گے لیکن افسوس تمھارے جیسا انسان کبھی نہیں سدھر سکتا۔
اور اب میری ایک بات کال کھول کر سن لو اگر تم نے مان اور مہرو کی زندگی میں زہر گھولنے کی کوشش کی یا ان دونوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو تمہیں اپنی جائیداد سے عاق کرنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاؤں گا ۔
اگر آج تم اس گھر میں. کھڑے ہو تو اپنی ماں کی وجہ سے اور کوشش کرنا میرے سامنے تو بلکل بھی مت آنا
شاداب ملک نے ایک ایک لفظ چبا کر تنبیہ کرتے ہوئے علیدان کو کہا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گئے۔
پیچھے کھڑی رابعہ بیگم کو بھی انہوں نے ایک نظر دیکھنا گوارا نا سمجھا
رابعہ بیگم شاداب کی ساری باتیں ان چکی تھیں ۔
علیدان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا اور اپنے ہاتھ کی مٹھی بنائے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔
بیٹا تم پریشان مت ہو ابھی وہ تھوڑا غصے میں ہیں
رابعہ بیگم نے علیدان کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ان کا بھی کچھ کرنا پڑے گا
یہ بات علیدان نے دماغ میں سوچی تھی
جانتا ہوں موم
چھوڑیں آپ ہم دونوں باتیں کرتے ہیں علیدان نے چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا ۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ اپنے باپ کے ساتھ اب کیا کرنا ہے اس لیے تھوڑا مطمئن تھا ۔ اور پھر اپنی ماں کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گیا
💞💞💞💞💞
برخوردار کیا گل کھلا کر آرہے ہو؟ عظیم نے آکف کے کندھے پر. ہاتھ رکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔
مان نے آپ کو بھی سب بتا دیا؟ آپ بھی پہلے ڈانٹ لیں میں سن رہا ہوں پھر آرام سے بات کرتے ہیں۔
آکف نے گہری سانس لیتے خود کو عظیم صاحب کی ڈانٹ کے لیے تیار کرتے کہا۔
ایسا کیا کیا تم نے جو مجھے بھی معلوم ہونا چاہے تھا؟
عظیم صاحب نے خشمگیں نظروں سے اکف کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ڈیڈ ماما نے آپ کو ایزل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا؟
آکف نے حیرانگی سے عظیم صاحب کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ایزل کی ماں روبینہ کی فرینڈ تھی ایزل کے ماں باپ کی کار ایکسیڈنٹ میں دیتھ ہو گئی تھی ایک بھائی ہے جو شادی کے بعد الگ ہو گیا ۔اس لیے تمھاری ماں ایزل کو اپنی اپنے ساتھ لے آئی کیونکہ وہ اسے اپنی بہو بنانا چاہتی ہے تمہیں کوئی اعتراض ہے؟ عظیم صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا ۔
نہ نہیں مجھے تو کوئی پرابلم نہیں ہے آکف نے جلدی بسے کہا اسکا مطلب مان یا روبینہ بیگم نے عظیم صاحب کو کچھ نہیں بتایا تھا
آکف نے شکر کا سانس لیا ۔
تمھاری ماں چاہتی ہیں جلد ہی شادی کر دی جائے تو ایک بار میں ایزل سے بھی بات کرنا چاہتا ہوں اگر وہ بھی راضی ہے تو شادی میں زیادہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے
عظیم صاحب نے مسکرا کر کہا ۔
جی جیسی آپ کی مرضی
آکف نے نظریں جھکا کر فرمانبرداری سے کہا
عظیم صاحب کے جاتے ہی آکف کو اپنی ماں پر ڈھیروں پیار آیا ۔
💞💞💞💞💞💞
مہرو مجھے ایک بات بہت پریشان کر رہی ہے جتنا میں اُس سوچ سے دور بھاگتا ہوں وہ اتنی ہی میرے قریب آتی ہے
اور پلیز مجھے غلط مت سمجھنا اپنے دماغ میں مچل رہے سوال کا صرف جواب چاہتا ہوں میرا مقصد تمہاری تکلیف دینا بلکل بھی نہیں ہے ۔
مان نے مہرو کا ہاتھ پکڑ کر اسے خود کے سامنے کھڑا کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
مہرو نے ناسمجھی سے مان کو دیکھا جیسے بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو ۔
میں نے سنا تھا کہ انسان اپنے پہلے پیار کو کبھی نہیں بھولتا کیا یہ سچ ہے؟
مان نے مہرو کے چہرے پر اپنی نظریں گاڑھتے ہوئے بےتاثر لہجے میں پوچھا
مہرو ایک سیکنڈ میں بات کی تہہ تک پہنچی تھی
جی بلکل ٹھیک سنا ہے آپ نے
مہرو نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا ۔
کیوں نہیں بھول سکتا انسان اپنے پہلے پیار کو؟
اگر پہلی محبت نے انسان کو دکھ تکلیف اور ذلت کے سوا کچھ نا دیا ہو تو کیا پھر بھی وہ شخص اسے یاد رہتا ہے؟
مان نے بے بسی سے مہرو کو دیکھتے ہوئے پوچھا
مہرو بھی مان کو پریشان دیکھ کر سنجیدہ ہو گئی تھی۔
مان میں جانتی ہوں کہ آپ کیا پوچھنا چاہ رہے ہیں محبت بےشک زندگی میں ایک بار ہوتی ہے لیکن اگر وہ انسان ایک بار دل سے اتر جائے تو پھر کتنی بھی کوشش کر لو وہ مقام حاصل نہیں کر سکتا جس پر وہ پہلے فائز تھا ۔
اور میں نے بھی یہی سنا تھا کہ انسان اپنی پہلی محبت کو نہیں بھولتا لیکن مجھے لگتا ہے یہ سراسر غلط ہے باقیوں کا تو مجھے پتہ نہیں لیکن میں ایسی محبت پر لعنت بھیجتی ہوں اگر مجھے ایسے انسان سے محبت ہوتی جو میری تکلیف کا باعث بنا ہوتا تو میں دوبارہ اسے دیکھنا بھی گوارا نا کرتی
اور ایک بات معارج ملک مہرو نے مان کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جہاں ہلکی سی نمی تیر رہی تھی ۔مان ہمیشہ ہی مہرو کے معاملے میں خود کو بےبس محسوس ہرتا تھا ۔اور اب بھی شاید وہ یہ سوال پوچھ کر خود کو مزید تکلیف میں دھکیل چکا تھا ۔لیکن اسے نہیں پتہ تھا مہرو اس کی تکلیف ہمیشہ کے لیے دور کرنے والی ہے
مجھے آپ کے بھائی سے محبت تو ہرگز نہیں تھی
اور نا ہی میں نے کبھی اس بات کو تسلیم کیا کہ میں آپ کے بھائی سے محبت کرتی ہوں ۔
محبت اور پسند میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اگر ہم کسی کو پسند کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم محبت میں بھی مبتلا ہو گئے ہیں
مہرو نے مان کو دیکھتے ہوئے کہا
تم سچ کہہ رہی ہو؟
مان نے مہرو کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے بےتابی سے پوچھا
یقیناً آپ کو علیدان نے ہی کہا ہو گا کہ میں اس سے محبت کرتی ہوں اس لیے آپ پریشان تھے؟
مہرو نے مسکرا کر پوچھا
مجھے اس کے کچھ کہنے یا نا کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا
تم اب میری بیوی ہو اور کبھی میں تمہیں خود سے الگ نہیں کروں گا
چاہیے کچھ بھی ہو جائے
لیکن یہ سوال مجھے پریشان کر رہا تھا
اس لیے پوچھ لیا اگر نا پوچھتا تو…….
مان نے بات کو ادھورا چھوڑتے ہوئے کہا اور آج اسے یہ جان کر دلی خوشی ہوئی تھی کہ مہرو علیدان سے محبت نہیں کرتی ۔ورنہ وہ یہی سمجھتا آیا تھا کہ مہرو علیدان سے محبت کرتی تھی ۔
مجھے برا بلکل بھی نہیں لگا اور یہ تو اچھی بات ہے جو بات آپ کو پریشان کر رہی تھی وہ آپ نے مجھ سے ڈسکس کی
مہرو نے مسکراتے ہوئے کہا
تو ابھی تک تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہوئی
مان نے شرارتی انداز میں مہرو کے چہرے پر آتے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے پوچھا ۔
نہیں
مہرو نے کھلکھلاتے ہوئے کہا اور وہاں سے جانے لگی۔
مان نے اسے بازو سے پکڑ کر روکتے اس کا رخ خود کی طرف کیا ۔
جب بھی کرنا مجھ سے ہی کرنا اور دیکھ لینا میں تمہیں خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دوں گا اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب تم اپنے خوبصورت ہونٹوں سے اظہارِ محبت کروں گی۔
مان نے مہرو کے ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے سلاتے خمار آلود لہجے میں کہا ۔
مان وہ علیدان واپس آگیا ہے ۔
مہرو نے پریشانی سے کہا ۔
جانتا ہوں آج میں ڈیڈ سے بات کرتا ہوں ہم لوگ کل ہی اس گھر سے چلے جائے گئے ۔
مان نے کہتے ہی مہرو کے بالوں میں منہ چھپا لیا ۔
مان
مہرو نے مان کو پکارا
ہممم مان نے مہرو کی گردن پر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑتے بہکے انداز میں کہا ۔
مروہ اُٹھ گئی ہے
مہرو نے بیڈ پر لیٹی مروہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو ابھی بھی سو رہی تھی
سیریسلی؟
مان نے مہرو سے الگ ہوتے ایک آبرو اچکاتے ہوئے پوچھا
ہاں وہ اُٹھی تھی لیکن اب پھر سے سو گئی مہرو نے جلدی سے صفائی دیتے ہوئے اپنے خشک ہونٹوں کو تر کرتے ہوئے کہا
مان کی نظر مہرو کے ہونٹوں پر ٹھہر گئی تھی
مان مہرو نے مان کی نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے کچھ کہنا چاہا لیکن مان نے اپنے طریقے سے مہرو کی بولتی بند کروائی تھی ۔
مہرو نے زور سے اپنی آنکھیں میچ لیں تھیں ۔
تھوڑی دیر بعد مان خود ہی مہرو کی حالت پر ترس کھاتے ہوئے اس سے الگ ہوا جو سرخ چہرہ لیے گہرے سانس لے رہی تھی۔
تم تو بہت ٹیسٹی ہو ۔مان نے مہرو کے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے شرارتی لہجے میں کہا۔
مہرو نے شرم اور خفت کے مارے مان کے سینے میں منہ چھپا لیا ۔
مان کا قہقہہ بےساختہ کمرے میں گونجا تھا
مہرو نے مان کو گھور کر دیکھا اور ایک نظر پیچھے لیٹی مروہ پر بھی لاڈلی جو زرا سا کسمکا کر پھر سے سو گئی تھی ۔
سوری مان نے مہرو کے کان کے پاس کہا اور اس کی کمر پر اپنی گرفت مزید سخت کرتے اسے سینے میں بھینچ لیا ۔
مہرو نے مان کے کندھے پر سر رکھے سکون سے آنکھیں موند لیں تھیں
💕💕💕💕💕
تمہیں کیا ہوا؟ قاسم شاہ نے سوہا کو دیکھتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا
آپ کے بیٹے کی کرم نوازی ہے
سوہا نے غصے سے کہا
شکر کرو تمھارا باپ یہاں نہیں ہے ورنہ اسے کیا جواب دیتی؟
قاسم شاہ نے سنجیدگی سے کہا
میں نے سوچ لیا ہے اس بار میں روحی کو نہیں چھوڑوں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے
میری حالت کی ذمہ دار صرف اور صرف وہ دو ٹکے کی نوکرانی ہے
سوہا نے نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔
تم فکر مت کرو اس بار میں نے ایسا پلان بنایا ہے کہ شاہ خود روحی کو طلاق دے گا
اور اس بار میرا پلان برباد نہیں ہو گا اس بات کا مجھے پورا یقین ہے
قاسم شاہ نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا
آپ کچھ بھی کر لیں
شاہ کبھی بھی روحی کو طلاق نہیں دے گا
سوہا نے طنزیہ لہجے میں کہا
شاہ میرا بیٹا ہے کبھی بھی اس لڑکی کے ساتھ نہیں رہے گا جس نے اس کے باپ کا قتل کیا ہو
قاسم شاہ نے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھتے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے عام سے لہجے میں کہا
کیا مطلب؟ سوہا نے آنکھیں پھاڑے پوچھا
تو قاسم شاہ اپنا پلان سوہا کو بتانے لگا جسے سن کر اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی تھی ۔
💞💞💞💞💞💞
صبح جب شاہ کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے پہلو میں لیٹی روحی کو دیکھا
جو. شاہ کی شرٹ میں اس کے سینے پر سر رکھے پورے حق سے نیند کے مزے لوٹ رہی تھی ۔
شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ ۔
روحی
شاہ نے روحی کے چہرے سے بال پیچھے کرتے اس کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے اس پکارا ۔
روحی یار آج ہم. نے گھر جانا ہے تمہیں بتایا تھا نا اب اُٹھ جاؤ
شاہ نے روحی کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے پیار سے کہا
لیکن روحی میڈم زرا سا کسمکا کر پھر سے سو گئی
شاہ کو شرارت سوجھی اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا پانی کا جگ اٹھا اور پورا روحی پر انڈیل دیا ۔
روحی ایک بدم ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی تھی
کیا ہوا؟
روحی نے بوکھلائے ہوئے انداز میں پوچھا
ہوا تو کچھ نہیں لیکن بارش شروع ہو گئی ہے
شاہ نے اس قدر سنجیدگی سے کہا کہ روحی اپنے ارد گرد دیکھنے پر مجبور ہو گئی۔
لیکن شاہ میں تو کمرے میں ہوں اور یہاں بارش کیسے ہو سکتی ہے؟ روحی نے ناسمجھی سے پوچھا لیکن جب اس نے شاہ کو مسکراتے ہوئے دیکھا تو اسے پوری بات سمجھ میں. آگئی ۔
شاہ آپ بہت برے ہیں روحی نے اپنی بھیگی شرٹ کو دیکھتے منہ بسوڑتے ہوئے کہا
ہاں جانتا ہوں
اب جلدی سے اٹھ جاؤ اور تیار ہو جاؤ
شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور واشروم کی طرف چلا گیا ۔
روحی ابھی بھی منہ پھلائے بیٹھی تھی اور سوچ رہی تھی شاہ سے بدلہ کیسے لیا جائے ۔کیونکہ سکون سے وہ بیٹھنے والی تھی نہیں اور شاہ نے اس پر پانی گرا کر اپنے گلے مصیبت ڈال لی تھی ۔
💞💞💞💞💞💞
