No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
تم مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتی ہو اور اگر میں انکار کر دوں تو؟
صائم نے سنبھلتے ہوئے کہا
ایک انجانی سے خوشی اسے محسوس ہوئی تھی ۔
انکار بھی کر سکتے ہو کوئی زبردستی نہیں ہے اور دوسری بات یا تو مجھ سے شادی کر لو یا پھر کوٹھے پر آنا چھوڑ دو میں نہیں جانتی کیوں لیکن مجھ سے تمھاری تکلیف نہیں دیکھی جاتی۔
اگر تمہیں ایک طوائف کے ساتھ شادی کرنے میں مسئلہ نہیں ہے لوگوں کی باتوں کو برداشت کر سکتے ہو تو ٹھیک ہے
اور پھر تم دوسری شادی بھی کر سکتے ہو میری طرف سے اجازت ہو گی
نایاب نے سنجیدگی سے صائم کو دیکھتے ہوئے کہا
کیوں نہیں دیکھ سکتی تم مجھ تکلیف میں؟ صائم نے باقی ساری باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے نایاب کا رخ خود کی طرف کرتے پوچھا
دونوں کی نظریں ایک پل کے لیے ملی تھی نایاب نے اپنی نظریں جھکا لیں وہ زیادہ دیر صائم کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتی تھی ۔
میں نہیں جانتی
لیکن مجھے جواب چاہیے اگر تمھارا جواب نا میں ہوا تو تم میرے کسی کام میں دخل اندازی نہیں کرو گئے اور دوبارہ مجھے کبھی اپنی شکل بھی نہیں دکھاؤ گئے
نایاب نے اپنی بات مکمل کی اور کمرے سے جانے لگی
جب صائم نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا
میں تیار ہوں
صائم کی سنجیدہ سی آواز نایاب کے کانوں میں پڑی تو اس کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھیلے تھے
ایک اور بات تم کبھی بھی مجھے دوسری شادی کی جازت نہیں دو گی
صائم نے چمکتی آنکھوں سے نایاب کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
صائم جتنا کچھ نایاب کو سنا چکا تھا اس میں ہمت پیدا نہیں ہو رہی تھی کہ وہ نایاب سے شادی کی بات کر سکے
اور نایاب نے خود شادی کی بات کرکے صائم کی مشکل آسان کر دی تھی اسے فرق نہیں پڑتا تھا کہ لوگ کیا کہے گئے
اس نے پہلے بھی لوگوں کی پرواہ نہیں کی تھی تو اب کیوں کرتا ۔
ابھی میں چلتا ہوں اور میرا انتظار کرنا۔ بہت جلد واپس آؤ گا ۔
صائم نے مسکراتے ہوئے کہا ناجانے آج کتنے دنوں بعد وہ دل سے مسکرایا تھا ۔
نایاب صائم کی مسکراہٹ میں کھو سی گئی تھی ۔
وہ نہیں جانتی تھی کب صائم اسکے دل کے قریب آگیا تھا ۔وہ یہ بھی جانتی تھی کہ. ادے لوگوں کی باتوں کو بھی برداشت کرنا پڑے گا لیکن وہ صائم کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی
💖💖💖💖💖💖💖
تمھاری بہن کی مہندی ہے اور تم یہاں نشے میں دھت پڑے ہوئے ہو
عمیر نے علیدان کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا
تو میرا ایک کام کرے گا
علیدان نے لڑکھڑاتی زبان میں عمیر کو دیکھتے ہوئے کہا
کیا؟ عمیر نے آبرو اچکاتے ہوئے پوچھا ۔
اس لڑکی کو کسی طرح میرے پاس لے آ
علیدان نے کہا
کونسی لڑکی؟ عمیر نے حیرانگی سے پوچھا
نایاب…
مہرو کی کمزوری ہے وہ نایاب کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جائے گی مجھے پورا یقین ہے وہ میری بات بھی مان لے گئ
اور کچھ دن ہم لوگ بھی مزے کر لیں گئے
علیدان نے خباثت سے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا اور وائن کے گلاس کو دوبارہ لبوں سے لگایا ۔
یہ تو ہے وہ بھی کمال کی آئٹم ہے ۔عمیر نے بھی قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔اسے علیدان کی بات سمجھ میں آگئی تھی ۔
تو فکر مت کر کل ہی میں کچھ کرتا ہوں
عمیر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔
اگر عامر بھی ہمارے ساتھ ہوتا تو اسے بھی عیش کرواتے لیکن اسے تو نیک بننے کا بھوت سوار تھا
عمیر نے نحوست سے کہا
چھوڑ دے اس کو وہ ہم دونوں سے الگ ہے اور ہمیشہ روک ٹوک کرتا رہتا تھا
علیدان نے بھی بمشکل اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے لڑکھڑاتی زبان میں کہا ۔
عامر ان دونوں سے دوستی ختم کر چکا تھا ۔
اس نے بہت کوشش کی کہ دونوں سیدھے راستے پر چل پڑے لیکن شاید ان دونوں کا سدھرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس لیے خاموشی سے پچھے ہٹ گیا تھا
💖💖💖💖💖💖💖
مان کہاں ہوتے ہو تم آجکل نظر نہیں آتے علیدان نے مان سے پوچھا جو اسے دیکھ کر گزرنے لگا تھا لیکن علیدان کے مخاطب کرنے پر رک گیا
میں یا آپ بھائی جان کل ہماری بہن کی مہندی تھی لیکن اسکا بڑا بھائی پوری رات نا جانے کہاں غائب تھا ۔
مان نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا
علیدان کو آج مان کی ٹون کچھ لگ ہی لگی تھی ۔
وہ میرے فرینڈ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا تو جانا ضروری تھا علیدان نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا
اووو عمیر کا ہوا ہے یا عامر کا وہ ٹھیک تو ہے
مان نے ہمدردی جتاتے ہوئے پوچھا جبکہ وہ جانتا تھا کہ علیدان جھوٹ بول رہا ہے ۔
نا عمیر کا ہوا یے نا عامر کا میرے اُس فرینڈ کے بارے میں تم نہیں جانتے
علیدان نے سنجیدگی سے کہا
مجھے کچھ ضروری کام ہے تو میں چلتا ہوں علیدان نے جلدی سے کہا اور ایک سیکنڈ سے پہلے وہاں سے چلا گیا
بہت پچھتانے والے ہیں آپ بہت زیادہ مان نے علیدان کی پشت کو گھورتے ہوئے کہا۔
بس اسے آرزو کی شادی ختم ہونے کا انتظار تھا ایک بار وہ مہرو کو اس گھر میں لے آتا پھر علیدان سے بھی نپٹ لیتا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا اس کی بہن کی شادی میں کسی قسم کی بدمزگی پیدا ہو
💖💖💖💖💖💖💖💖
آج بارات تھی ۔آرزو نے سرخ رنگ کا لانگ فراک زیب تن کیا ہوا تھا جس پر گولڈن کام ہوا تھا
بیوٹیشن نے اپنی ہاتھوں کے جادو سے آرزو کو مزید خوبصورت بنا دیا تھا
ہر ایک کی نظر آرزو پر آکر ٹھہر رہی تھی
دونوں کا نکاح ظہر کے وقت ہی ہو چکا تھا چونکہ گھر والوں کو ان کے نکاح کا معلوم نہیں تھا اس لیے دوبارہ ان دونوں کا نکاح ہوا تھا ۔
عرشمان بھی اپنی پوری وجاہت کے ساتھ آرزو کے ساتھ بیٹھا کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔جس نے سکن شلوار قمیض اور ساتھ سکن ہی واسکٹ پہنی ہوئی تھی
آرزو نے گھونگھٹ نکالا ہوا تھا جو بھی آتا وہ اس کا گھونگھٹ اٹھا کر دیکھتا تھا یہ بھی عرشمان کا حکم تھا
جسے آرزو نے ماننا تھا
آکف اور صائم نے براؤن رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی آستین کو فولڈ کیے آکف بہت پیارا لگ رہا تھا ۔
معارج نے کالے رنگ کی شلوار قمیض پہنی تھی
یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ شاہ نے بھی کالے رنگ کی شلوار قمیض پہنی تھی شاہ اور معارج دونوں نے چادر بھی کندھے پر رکھی تھی
لیکن ابھی دونوں کی ملاقات نہیں ہوئی تھی
روحی نے بلیک کلر کی ساڑھی پہنی تھی جس میں وہ شاہ کو بہت خوبصورت لگ رہی تھی
ساڑھی صفیہ بیگم نے اسے گفٹ کی تھی جو اس پر کافی جچ رہی تھی
روحی آتے ہی آرزو کے پاس چلی گئ
شاداب شاہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے دونوں باتیں کر رہے تھے شاداب نے معارج کو آتے ہوئے دیکھا تو دونوں کو باتیں کرنے کا کہہ کر وہاں سے چلے گئے مان ریان کو یہاں دیکھ کر حیران ضرور ہوا تھا
آج تو بڑے بڑے لوگ ہمارے گھر تشریف لائے ہیں ویسے مجھے امید تو نہیں تھی کہ آپ یہاں تشریف لائے گئے لیکن آپ نے یہاں آکر میری سوچ کو غلط ثابت کر دیا ۔
مان نے مسکراتے ہوئے ریان کو کہا جو معارج کی بات سن کر خود بھی ہنس پڑا تھا ۔
اب کیا کرے زندگی میں بہت سے ایسے کام کمرے پڑتے ہیں. جس. کے بارے میں. انسان نے کبھی سوچا نہیں ہوتا
اب مجھے بھی آنا پڑا انکل کو میں انکار نہیں کر سکا ریان نے کہا ۔
دونوں بلیک کلر کی شلوار قمیض میں ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہے تھے دونوں کی پرسنیلٹی کسی کو بھی متاثر کر سکتی تھی ۔
اس سے پہلے معارج کوئی جواب دیتا صائم نے مان کو مخاطب کیا خالو جان بلا رہے ہیں
اوکے صائم شاہ صاحب کے احتمام میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے ۔اچھے سے دھیان رکھنا
مان نے ریان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
مان کے جاتے ہی ریان کی نظر علیدان پر پڑی تھی اس کا دل کیا تھا ابھی جاکر اس کی جان لے لیں
کسی معصوم کی زندگی تباہ لر کے کتنے سکون سے اپنی زندگی گزار رہا تھا ۔
لیکن اب اسے صبر کرنا تھا جو کام وہ خود نہیں کر سکا تھا اسے پوری امید تھی کہ وہ کام اب مان ضرور کرے گا ۔
ریان نے علیدان سے نظریں ہٹا کر روحی پر ٹکا دی تھی جو کسی بات پر ہنس رہی تھی
تمہیں تو آج میں بخشنے والا نہیں ہوں ریان نے مسکراتے ہوئے سوچا اور صائم سے باتوں میں مصروف ہو گیا ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖 💖 💖
آرزو کو عرشمان کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا روحی بھی اس کے ساتھ ہی تھی باقی سارے باہر جا چکے تھے آرزو نے تھوڑی دیر کے لیے روحی کو اپنے پاس روک لیا تھا
روحی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے
آرزو نے پریشانی سے سے روحی کو کہا
یار سب ٹھیک ہو گیا تو اتنی ٹینشن کیوں لے رہی ہے
روحی نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا
روحی یہ نارمل شادی نہیں ہے یار مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے
آرزو نے بے چارگی سے روحی کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
یار وہ تمہیں پسند کرتا ہے میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا ہے
اور اب مجھے چلنا چاہیے عرشمان آتا ہی ہو گا
تم اپنا خیال رکھنا
روحی نے پیار سے آرزو کے گلے لگتے ہوئے کہا
اور کمرے سے نکل گئ
شاہ روحی کا ہی انتظار کر رہا تھا
اپنی فرینڈ کے سامنے اپنے شوہر کو تو تم بھول ہی جاتی ہو
شاہ نے دانت پیستے ہوئے غصے سے کہا
سوری شاہ چلیں اب آپ ہی باتیں کرکے ٹائم ویسٹ کر رہے ہیں روحی نے مسکرا کر کہا
کیا؟ میں ٹائم ویسٹ کر رہا ہوں تمھاری وجہ سے مجھے ملک کے گھر آنا پڑا ہے اور اس جاہل کی شکل بار بار دیکھ کر میرا خون کھول رہا تھا۔
شاہ غصے میں مزید کچھ کہتا جب روحی نے شاہ کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
کیا ہو گیا ہے شاہ آپ اتنا غصہ کیوں کر رہے ہیں اور مان بھائی تو اتنے اچھے ہیں ان سے آپ کو کیا مسئلہ ہے؟
روحی نے حیرانگی سے پوچھا
شاہ نے پہلے روحی کے اپنے سینے پر رکھے ہاتھ کو دیکھا پھر اس کے چہرے کو دیکھ کر ہنس پڑا۔
میں تمھارے مان بھائی کی بات بھی نہیں کر رہا ڈارلنگ اب چلو یہاں سے
شاہ نے سنجیدگی سے کہا اور روحی کو وہاں سے لے گیا ۔
پہلے شاداب ملک شاہ کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے تھے لیکن ان کو بھی ایک ضروری کام یاد آگیا اور وہ شاہ سے معذرت کرتے وہاں سے چلے گئے۔
شاہ روحی کی ضد پر مان کے گھر آیا تھا
شاہ یہاں بیٹھا بور ہو رہا تھا اور روحی آنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور علیدان کی شکل دیکھ کر اد کے غصے میں مزید اضافہ ہو رہا تھا
مان پتہ نہیں کہاں غائب ہو گیا تھا شاہ کو وہ ہال میں ہی نظر آیا تھا اس کے بعد وہ اسے کہی نظر نہیں آیا
💖💖💖💖💖💖💖💖
مان سیدھا مہرو کے پاس گیا تھا ۔مہرو سو چکی تھی ۔سوتے ہوئے بہت معصوم لگ رہی تھی ۔
مان نے پیار سے مہرو کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اس کا سر اپبے سینے پر رکھ کر لیٹ گیا ۔
اور آگے کیا کرنا ہے اس کے بارے میں سوچنے لگا
مہرو تھوڑا کسمسائی تھی لیکن گہری نیند میں ہونے کی وجہ مان کی موجودگی کو محسوس نہیں کر سکی ۔
مان نے مسکرا مہرو کو دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا بوسہ دے کر خود بھی آنکھیں موندے سونے کی کوشش کرنے لگا ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖 💖
عرشمان کے کمرے کو سرخ گلاب سے سجایا گیا تھا آرزو پوری رات عرشمان کا انتظار کرتی رہی تھی لیکن وہ کمرے میں نہیں آیا تھا
آخر تھک ہار کر آرزو نے اپنا زیور اتارا اور بیڈ سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے لیٹ گئ
آنکھوں کے کونوں سے آنسو نکل کر اس کے رخسار پر بہہ رہے تھے
اسے نہیں معلوم تھا اس کی چھوٹی سی غلطی کی اسے اتنی بڑی سزا ملے گی
آگے زندگی کیسی گزرنے والی تھی آرزو کو معلوم نہیں تھا
💖💖💖💖💖💖💖
اگلے دن نایاب اکیلی مارکیٹ گئی تھی اظہر بھی کسی کام کے سلسلے میں باہر گیا ہوا تھا ۔
نایاب رکشے میں بیٹھی تو رکشہ آدھے راستے میں جا کر رک گیا تھا ۔
کیا ہوا بھائی رکشہ کیوں روک دیا
نایاب نے حیرانگی سے پوچھا
باجی لگتا ہے ٹائیر میں کوئی مسئلہ ہو گیا ہے ۔
آپ بھی زرا باہر نکل آئے میں چیک کر لوں
رکشے والے نے کہا تو نایاب رکشے سے باہر نکل آئی ۔
اتنے میں اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اس سے پہلے نایاب پیچھے مڑ کر دیکھتی کسی نے اس کی ناک پر رول رکھا دیا اور کچھ ہی سیکنڈ میں نایاب عمیر کی بازوں میں جھول گئ
بہت خوب یہ رہے تمھارے پیسے اور کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے کچھ دنوں کے لیے تم کوٹھے کے پاس نظر نہیں آؤ گے
عمیر نے رکشے والے کو کہا
جو پیسے لے کر وہاں سے چلا گیا
اسے عمیر نے ہی وہاں کھڑا کیا تھا اس نے سوچا تھا کچھ دن انتظار کرنا پڑے گا پتہ نہیں کب نایاب کوٹھے سے باہر نکلتی ہے لیکن اس نے آج ہی باہر نکل کر عمیر کا مسئلہ حل کر دیا تھا
عمیر نے نایاب کو اپنی گاڑی کی پیچھلی سیٹ پر لیٹا یا اور اسے وہاں سے لے گیا
💖💖💖💖💖💖
نایاب کی جب آنکھ کھلی تو اس نے خود کو زمین پر پایا اس کا سر بہت دکھ رہا تھا آہستہ آہستہ اسے سب یاد آنے لگا نایاب نے سامنے بیٹھے سگریٹ پیتے عمیر کو دیکھا
کون ہو تم؟ نایاب نے اپنے گھومتے سر اور بمشکل اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے پوچھا
پہچانا مجھے؟
عمیر نے خباثت سے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔
نایاب نے اپنے دماغ پر زور ڈالا تو اسے یاد آیا کہ یہ علیدان کا دوست ہے۔جو اکثر کوٹھے پر آتا تھا
کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟ نایاب نے اس بار پوری آنکھیں کھولتے ہوئے پوچھا
ارادے تو میرے بہت نیک ہے ڈارلنگ اگر تم سننا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے
عمیر نے کہا اور گھنٹوں کے بل نایاب کے پاس بیٹھ گیا جو کھسک کر تھوڑا پیچھے ہٹی تھی
لیکن پیچھے دیوار ہونے کی وجہ سے وہی رک گئ ۔
نایاب کو وہ وقت یاد آگیا تھا جب وہ اپنے گھر سے بھاگی تھی
اُس وقت بھی اپنی عزت کو بچانے کے لیے بھاگنا پڑا تھا لیکن اب تو اسے بھاگنے کا کوئی راستہ بھی نظر نہیں آرہا تھا ۔
تم وہ واحد بندی ہو جسے مہرو دل و جان سے چاہتی ہے اگر تم ہمارے پاس ہو گی تو ہم اس سے کچھ بھی کر وا سکتے ہیں
اور جب تک تم. ہمارے پاس رہو گی ہم بھی تم سے فائدہ اٹھائے گئے
عمیر نے کمینگی سے کہا
نایاب کو عمیر کے ارادوں سے اب ڈر لگ رہا تھا ۔
تم بہت پچھتاؤ گئے
نایاب نے نفرت بھرے لہجے میں کہا
تمھارے جیسی لڑکی کے لیے تو میں ساری عمر پچھتانے کے لیے تیار ہوں مہرو تو میرے ہاتھ سے نکل گئی لیکن تم میری مرضی کے بغیر یہاں سے کہی نہیں جا سکتی
عمیر نے اپنا ہاتھ نایاب کے چہرے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جیسے نایاب نے غصے میں جھٹک دیا تھا
اگر مجھے چھونے کی کوشش کی تو تمھاری جا لے لوں گی
نایاب نے غصے سے کہا اور وہاں اٹھنے لگی
کہاں بھاگ رہی ہے تو عمیر نے نایاب کا بازو پکڑتے ہوئے کہا
جس نے دوسرے ہاتھ سے عمیر کو ایک زوردار تھپڑ رسید کیا ۔
کمینی تیری اتنی ہمت تو نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا اب دیکھ میں تیرے ساتھ کیا کرتا ہوں
عمیر نے غصے میں کہا
اور نایاب کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے بیڈ تک لایا ۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
صائم کا دل صبح بسے بے چین. تھا اس نے سوچا تھا آرزو کی شادی ہو جائے پھر کوثر بیگم سے نایاب سے شادی کی بات کرے گا اور پھر ہی کوٹھے پر جائے گا
لیکن دل کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی
اس لیے اس نے نایاب سے ملنے کا سوچا
کوٹھے پر پہنچتے ہی اسے سلمیٰ بائی نے بتایا کہ نایاب مارکیٹ گئ تھی اور ابھی تک واپس نہیں آئی
کیا مطلب ؟کہاں گئ ہے وہ؟ تین گھنٹوں سے وہ لاپتہ ہے اور تم لوگوں نے اسے دھونڈنے کی کوشش نہیں کی
صائم نے غصے سے کھولتے ہوئے کہا
پنکی کو بھیجا ہے میں نے وہ بہت جلد معلوم کرکے بتا دے گی
اور جس رکشے میں اکثر وہ مارکیٹ جاتی ہے وہ رکشے والا بھی غائب ہے ورنہ وہ یہی کوٹھے کے باہر کھڑا ہوتا ہے ۔
سلمیٰ بائی نے جلدی سے کہا ۔
صائم نے غصے سے سلمیٰ بائی کو دیکھا اور کوٹھے سے نکل گیا
