No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
عرشمان پوری رات گھر سے باہر رہا تھا ۔
اور سگریٹ پر سگریٹ پیے جابرہا تھا ۔وہ جانتا تھا کہ اپنے اس عمل سے وہ آرزو کو بہت تکلیف دے رہا ہے لیکن اپنی انا بھی درمیان میں آرہی تھی ۔
عرشمان نے گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگائی اور آنکھیں موندے ایک سال پہلے کی واقعہ کے بارے میں سوچنے لگا۔
عرشمان کی فیملی کینیڈا جا چکی تھی لیکن اس نے جانے سے منع کر دیا تھا کہ وہ اسی یونی میں پڑھنا چاہتا ہے ۔
آرزو اور عرشمان ایک ہی یونی میں جاتے تھے
یونی ایک ہی تھی لیکن کلاسز کا فرق تھا
سفیان بھی یہی پڑھتا تھا اس کی ایک گرل فرینڈ بھی تھی جس کا نام ردا تھا ۔لیکن یہ بات کسی کو معلوم نہیں تھی
سفیان آرزو کو پسند کرتا تھا لیکن اسے عرشمان کا آرزو کو پسند کرنا ایک آنکھ بھی نہیں بہاتا تھا
سفیان ہمیشہ آرزو کے ساتھ رہنے کے بہانے ڈھونڈتا تھا
ردا نے بھی یہ بات محسوس کہ تھی ۔عرشمان وہاں آرزو کے علاوہ کسی بھی لڑکی کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا
آرزو ہمیشہ عرشمان کو اپنا بیسٹ فرینڈ مانتی تھی ۔
پھر ایک دن ردا نے سفیان سے بات کی کہ کیوں وہ اسے اگنور کرتا ہے
سفیان نے صاف صاف اسے بتا دیا کہ وہ آرزو کو پسند کرتا ہے تو بہتری اسی میں ہے کہ تم مجھ سے دور رہو۔
لیکن جب ردا نے کہا کہ وہ سفیان کے بچے کی ماں بننے والی ہے تو سفیان تو بوکھلا ہی گیا تھا ۔
اس وقت اس نے ایک پلان بنایا
دیکھو عرشمان اچھے خاندان کا ہے اور مجھے بھی معلوم ہے کہ تم بھی اسے پسند کرتی ہوں میں تمھاری آنکھوں میں اس کے لیے پسندیدگی دیکھ چکا ہوں۔
اگر تم میری بات مانو تو تمھارا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔
اور اگر تم مجھ سے اس بات کی امید رکھتی ہو کہ میں اس بچے کو اپنا نام دوں گا تو ایسا کبھی نہیں ہو گا
اور تم کسی کے پاس بھی جاؤ مجھے فرق نہیں پڑتا لیکن اگر تم میری بات مانو تو تمہیں عرشمان مل سکتا ہے اور وہ بھی تمہیں اپنانے پر مجبور ہو جائے گا
سفیان نے چمکتی آنکھوں سے ردا کو دیکھتے ہوئے کہا
ردا کو بھی معلوم تھا کہ سفیان اسے کبھی بھی نہیں اپنائے گا اور اگر اسے عرشمان مل رہا تھا تو اس میں کچھ غلط بھی نہیں تھا
ٹھیک ہے بتاؤ مجھے کیا کرنا ہو گا؟
ردا نے سفیان سے پوچھا تو وہ اسے اپنے پلان کے بارے میں بتانے لگا
اگلے دن آرزو بیٹھی رجسٹر پر کچھ لکھ رہی تھی اور ردا بھی اس کے پاس آکر بیٹھ گئ
اور باتیں کرنے لگی آرزو کو کچھ دنوں سے ردا کچھ مرجھائی سی لگی تھی ۔
عرشمان نہیں آیا؟
ردا کے اچانک سوال پر آرزو نے حیرانگی سے ردا کو دیکھا
ہاں اسے کچھ کام تھا آرزو نے کہا اور دوبارہ اپنے رجسٹر پر جھک گئ ۔
تھوڑی دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ردا وہاں سے اٹھ کر چلی گئ تھی
اگلے کچھ دن آرزو نے عرشمان اور ردا کو ایک ساتھ دیکھا
آرزو کو کافی حیرانگی بھی ہوئی تھی ۔
ناچاہتے ہوئے بھی آرزو کے اندر تجسس پیدا ہوا تھا کہ وہ پتہ تو لگائے کہ مسئلہ کیا ہے ۔
کیونکہ اسے عرشمان کی عادت پڑ گئ تھی اب وہ جب بھی کسی دوسری لڑکی کی طرف دیکھتا بھی تو آرزو کو برا لگتا تھا ۔
عرشمان اور ردا کو آرزو نے کلاس روم میں جاتے ہوئے دیکھا
جو خالی تھی ۔
آرزو کو اپنے پیچھے آتے ردا دیکھ چکی تھی ۔
یہی تو وہ چاہتی تھی
کیا بات کرنی تھی تم نے مجھ سے عرشمان نے سنجیدگی سے پوچھا
تھوڑے فاصلے پر کھڑی آرزو بھی ان کی باتیں سن رہی تھی عرشمان کی آرزو کی طرف پشت تھی
تم رات کیوں نہیں آئے؟ ردا نے پوچھا
تمہیں میں پہلے بھی نا آنے کی وجہ بتا چکا ہوں اور ایک بات کو بار بار دہرانے کا میں قائل نہیں ہوں میرے پاس تمھارے ساتھ ویسٹ کرنے کے لیے ٹائم نہیں ہے اس لیے جو کہنا ہے جلدی کہو
عرشمان نے کوفت سے کہا
میں آج ابوریشن کروانے والی ہوں
ردا نے سنجیدگی سے کہا
تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے ان سب میں اس معصوم کا کیا قصور ہے؟ تم ایسا کچھ نہیں کرو گی میں کچھ کرتا ہوں
عرشمان نے غصے میں کہا ۔اسے سفیان اور ردا دونوں پر غصہ آرہا تھا ۔
کچھ دن پہلے ردا نے عرشمان کو بتایا کہ وہ سفیان کے بچے کی ماں بننے والی ہے اور سفیان نے اسے اپنانے سے منع کر دیا ہے
اور وہ عرشمان کی مدد چاہتی تھی کہ وہ سفیان سے بات کرے
پہلے تو عرشمان نے منع کر دیا اس کا دل کہہ رہا تھا کہ اس معاملے سے پیچھے رہے لیکن ردا کو بے بس اور روتے ہوئے دیکھ کر اس نے ردا کی مدد کرنے کا سوچا وہ نہیں جانتا تھا اس کی مدد اس کے اپنے گلے کا پھندا بن جائے گی
آرزو نے دونوں کی باتوں کا جو مطلب اخذ کیا تھا وہ سراسر غلط ہے تھا پھر وہ وہاں رکی نہیں تھی وہاں سے چلی گئ تھی
ردا جو کرنا چاہ رہی تھی کر چکی تھی عرشمان کے لیے وہ آرزو کے دل میں بدگمانی ڈال چکی تھی ۔
اب بس زاتی طور پر اس نے آرزو سے ملنا تھا اور اسے مزید بدگمان کرنا تھا ۔
تو بتاؤ پھر کیا کروں میں سفیان میری کالز اٹینڈ نہیں کر رہا پھر کیا کرو میں؟
ردا نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے میں آج ہی سفیان سے بات کرتا ہوں عرشمان کہتے ہی کلاس روم سے نکل گیا
ردا نے اس کے جاتے ہی اپنے آنسو صاف کیے اور چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے ہنس پڑی۔
💖💖💖💖💖💖💖
آرزو کو بہت برا لگا تھا وہ غصے میں بنا عرشمان کو بتائے یونی سے نکل آئی تھی ۔
اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ عرشمان ایسا بھی کچھ کر سکتا ہے ۔
آرزو انہی سب باتوں میں الجھی ہوئی تھی جب اسے ردا کی کال آئی جو اس سے مل کر بات کرنا چاہتی تھی ۔
آرزو نے کہہ دیا کہ وہ کل مل سکتی ہے آج ممکن نہیں ہے ردا کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا ۔
ردا نے ایک ریسٹورنٹ کا نام بتایا اور فون بند کر دیا
ردا پل پل کی خبر سفیان کو دے رہی تھی ۔
سفیان کو عرشمان کی آئی جو اس سے ضروری بات کرنا چاہتا تھا
کس بارے میں؟ سفیان نے انجان بنتے پوچھا
ردا کے بارے میں عرشمان نے خشک لہجے میں کہا
میں اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا تو بہتر یہی ہو گا تم بھی اس معاملے سے دور رہو
سفیان نے غصے میں کہا اور فون بند کر دیا ۔
عرشمان کا دل کر رہا تھا جا کر سفیان کا سر پھاڑ دے
💖💖💖💖💖💖💖
اگلے دن ردا آرزو سے ملنے اسی ریسٹورنٹ میں آئی ۔
کیا بات کرنی تھی تم نے؟ آرزو نے سنجیدگی سے پوچھا
میں بات کو گھومانا نہیں چاہتی
میں جانتی ہوں عرشمان تمھارا کزن ہے اور تم دونوں بیسٹ فرینڈ بھی ہو
لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کس طرح میں تمھیں بتاؤ
اگر تم نے میری بات پر بھروسہ نہیں کیا تو؟ ردا نے چہرے پر پریشانی کے تاثرات لاتے ہوئے بے بسی سے کہا
تم جو بھی کہنا چاہتی ہو کہو میں سن رہی ہو آرزو نے سپاٹ لہجے میں کہا
کہی نا کہی وہ جان گئ تھی کہ ردا کیا بات کرنے والی ہے
میں عرشمان کے بچے کی ماں بننے والی ہوں
لیکن وہ مجھے اپنانا نہیں چاہتا ہم نے اپنے ریلیشن کو سب سے چھپا کر رکھا تھا اور ایسا کرنے کا مجھے عرشمان نے کہا تھا
ردا نے روتے ہوئے کہا
جبکہ آرزو نے خود کو رونے سے باز رکھا تھا لیکن پھر بھی اس کی آنکھوں کے کونے بھیگ چکے تھے ۔
اگر اس نے دونوں کی باتیں نا سنی ہوتی تو کبھی یقین نا کرتی لیکن ردا نے اسے اپنی رپورٹ بھی دکھائی تھی
جو کہ نقلی تھی اور اس میں صاف لکھا تھا کہ یہ بچہ عرشمان کا ہے ۔
رپورٹ کو پڑھتے ہوئے آرزو کے ہاتھ کپکپا رہے تھے ۔
میں عرشمان سے بات کروں گی آرزو نے آہستگی سے کہا
نہیں تم اس سے کچھ نہیں کہوں گی ۔
میں کل ایک بار پھر اس سے بات کرو گی اگر وہ نا مانا تو پھر تم اس سے بات کرنا
ردا نے آپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
جبکہ آرزو نے پانی کے گلاس کو لبوں سے لگا کر ایک ہی سانس میں سارا پی لیا تھا ۔
دل ناجانے کیوں کہہ رہا تھا کہ یہ سب غلط ہے لیکن ثبوت اس کے سامنے تھا
اور کچھ دنوں سے عرشمان کا ردا کے ساتھ ہونا اسی بات کی طرف اشارہ کر رہا تھا کہ یہ سب سچ ہے
اب میں چلتی ہوں ردا نے کہا اور وہاں سے چلی گئ
آرزو کچھ دیر کے لیے وہی بیٹھی رہی تھی اس کو اپنی ٹانگوں دے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔
💖💖💖💖💖💖💖
اگلے دن عرشمان کو آرزو کچھ خاموش سی لگی تھی اس کے سوالوں کا ٹھیک سے جواب بھی نہیں دے رہی تھی ۔
عرشمان کو کچھ تو کھٹک رہا تھا اس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ. کچھ غلط ہونے والا ہے ۔
یونی میں داخل ہوتے ہی سارے سٹوڈنٹس عرشمان کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔
ایسا لگتا تو نہیں تھا دیکھو تو سہی معصوم شکل کے پیچھے ایک درندہ چھپا ہوا تھا ۔اور اب نا اپنے بچے کو اپنا رہا یے اور نا ہی ردا سے شادی کر رہا ہے۔
دو لڑکیاں ایک دوسرے سے بات کر رہی تھیں آرزو نے دونوں کی بات سن کر کڑوا گھونٹ بھرا تھا
لیکن اسے ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ پوری یونی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی
اس سے پہلے آرزو مزید کچھ اور سوچتی ردا ہاتھ میں وہی رپورٹ پکڑے عرشمان کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی تھی ۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم اس قدر گھٹیا انسان ہو
ردا نے غصے سے رپورٹ عرشمان کے منہ پر پھینکتے ہوئے کہا سارے سٹوڈنٹ ان دونوں کی طرف متوجہ تھے
آرزو نے ردا کو روکنے کی کوشش کی کیونکہ جو بھی تھا عرشمان اس کا کزن تھا اور وہ نہیں چاہتی تھی پوری یونی کے سامنے اس کی بےعزتی ہو
لیکن ردا نے آرزو کو اگنور کرتے ہوئے عرشمان کو دیکھا جو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا
یہ کیا بدتمیزی ہے عرشمان نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے پوچھا
اس میں صاف صاف لکھا ہے کہ میں تمھارے بچے کی ماں بننے والی ہوں اور جب میں نے تم سے بات کی تو تم نے ماننے سے ہی انکار کر دیا اور تم نے ہی مجھے کہا تھا ابھی ہم پڑھ رہے ہیں اس لیے اپنے افیر کے بارے میں کسی کو نہیں بتائے گئے
ردا نے روتے ہوئے کہا
سارے سٹوڈنٹس کی آنکھوں میں ردا کے لیے ہمدردی تھی
سفیان نے پہلے ہی یونی کے ایک دو ایسے سٹوڈنٹ کو ردا اور عرشمان کا بتا بتا دیا تھا جو پوری یونی میں کسی بھی خبر کو آگ کی طرح پھیلاتے تھے۔
عرشمان کے تو پیرو تلے زمین نکل گئ تھی وہ اس لڑکی کی مدد کر رہا تھا اور وہ لڑکی پوری یونی کے سامنے اس پر بیہودہ الزام لگا رہی تھی ۔
عرشمان نے غصے میں ایک زور دار طمانچہ ردا کے چہرے پر رسید کیا ۔ایک دم وہاں خاموشی چھا گئی تھی ۔
آرزو اپنے منہ ہر ہاتھ رکھے عرشمان کو دیکھ رہی تھی جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ردا کی جان لے لیں
اتنے میں پرنسپل صاحب بھی وہاں آگئے تھے
یہ کیا ہو رہا ہے؟ پرنسپل کی کرخت آواز نے عرشمان کو خود کی کی طرف متوجہ کیا
تم دونوں میرے آفس میں آؤ
پرنسپل نے کہا اور وہاں سے چلے گئے
عرشمان نے ایک نظر اپنے ارد گرد ڈالی سارے سٹوڈنٹس اسے حقارت سے دیکھ رہے تھے
عرشمان کی عزت کو اس لڑکی نے پل بھر میں مٹی میں ملا دیا تھا
ردا نے جاتے ہوئے آرزو کا ہاتھ پکڑا اور اسے بھی ساتھ لے گئ ۔
عرشمان آرزو اور ردا اس وقت پرنسپل کے آفس میں موجود تھے ردا آرزو کے ساتھ چپک کر کھڑی تھی
آپ لوگوں نے یونیورسٹی کو تماشا بنا رکھا ہے اپنے پرسنل میٹر یونی سے باہر رکھا کرے آپ لوگ یہاں پڑھنے آتے ہیں نا کہ رشتے ڈھونڈنے اور یہ کیا بیہودگی پھیلائی ہوئی ہے تم لوگ جھوٹے بچے ہو
صحیح غلط کا فرق بھول گئے ہو اور کیوں اپنے ماں باپ کی عزت کو پامال کرنا چاہتے ہو
سکول کالج اور یونیورسٹی میں یہ سب تو نہیں سیکھایا جاتا ۔
پرنسپل نے غصے سے عرشمان اور ردا کو دیکھتے ہوئے کہا
اتنے میں معارج ملک پرنسپل کے آفس میں نوک کر کے داخل ہوا تھا
چاچو یہاں نہیں ہوتے اس لیے میں ان کی جگہ یہاں آگیا ۔
معارج نے سلام کرنے کے بعد پرنسپل کے سامنے بیٹھے ہوئے سنجیدگی سے کہا
پرنسپل نے ردا کے گھر بھی فون کیا تھا لیکن اس کے والدین ملک سے باہر گئے ہوئے تھے ۔
پرنسپل نے رپورٹ کو معارج کے سامنے رکھا اور اور ساری بات معارج کو بتا دی جو بنا کسی تاثر کے پرنسپل کی بات سن رہا تھا ۔
ردا اس بارے میں آپ دونوں کے علاوہ اور کون جانتا تھا؟
پرنسپل نے پوچھا ردا نے آرزو کی طرف دیکھا اور اسکا نام لیا
معارج ابھی بھی سنجیدگی سے رپورٹ کو دیکھ رہا تھا۔
آرزو
ردا جو کچھ بھی کہہ رہی ہے کیا وہ سچ ہے؟
پرنسپل نے آرزو سے پوچھا
عرشمان کو پورا یقین تھا کہ آرزو عرشمان کے حق میں گواہی دے گی لیکن آرزو کے جواب نے عرشمان کو توڑ دیا تھا ۔
سر ردا سچ بول رہی ہے اور میں نے خود دونوں کو باتیں کر تے بھی سنا تھا اوراس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ردا نے جو کچھ کہا وہ سچ ہے
آرزو نے مضبوط لہجے میں کہا اور دوبارہ عرشمان کی طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
آرزو کے جواب ہر عرشمان کے چہرے پر تلخ سی مسکراہٹ رینگی تھی ۔
مسٹر ملک میں آپ کے بھائی کو یونی سے نکال رہا ہوں مجھے ان کے فیوچر کی ٹینشن ہے اس لیے میں نے کوئی سخت فیصلہ نہیں لیا۔
لیکن اب یہ دونوں اس یونیورسٹی میں نہیں پڑھ سکتے
تھینک یو سر معارج نے سنجیدگی سے کہا اور عرشمان کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا
آرزو ردا کو وہاں سے لے گئی تھی ۔جو رونے کاکام سر انجام دے رہی تھی
جس نے بھی عرشمان اور ردا کی ویڈیو بنائی تھی پرنسپل نے ہر ایک کے موبائل سے اسے ڈیلٹ کر دیا تھا ۔
یہ کیا ہے عرشمان؟ مان نے عرشمان کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا
جو سپاٹ چہرا لیے کھڑا تھا ۔بھائی میں کسی قسم کی صفائی نہیں دینا چاہتا اور میں کل ہی انگلینڈ چلا جاؤ گا
عرشمان نے سرد لہجے میں کہا ۔
مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی مان نے کہا اور پھر وہاں سے چلا گیا ۔
عرشمان وہی پاس پڑی کرسی پر ڈھ سا گیا تھا ۔ردا کے ساتھ آرزو نے بھی اسے رسوا کیا تھا
ایک بار اگر وہ عرشمان سے بات کر لیتی تو بات اتنی آگے نا پہنچتی ردا تو قصوروار تھی ہی آرزو بھی اس میں برابر کی شریک تھی جس نے پورا سچ جاننے کی کوشش نہیں کی ۔اور عرشمان پر الزام لگا دیا
💖💖💖💖💖💖💖
مان کو پورا یقین تھا کہ عرشمان ایسی کوئی حرکت نہیں کر سکتا لیکن رپورٹ اس کے سامنے تھی اور آرزو نے بھی گواہی دی تھی
لیکن پھر بھی مان ایک بار کنفرم کرنا چاہتا تھا ۔اس لیے اسی ہسپتال گیا جہاں سے ردا نے رپورٹس بنوائی تھیں
اور مان کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑی تھی کیونکہ پیسہ سب کچھ کر وا دیتا ہے ۔
مان کو یہ جان کر خوشی ہوئی تھی کہ یہ رپورٹس نقلی ہیں ۔اور ہو سکتا ہے آرزو کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو ۔
رات کو مان نے آرزو اور عرشمان کو اپنے کمرے میں بلایا اور ان دونوں کو سچ بتایا
عرشمان آنکھوں میں محبت لیے مان کو دیکھ رہا تھا کیونکہ اسنے خود کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی تھی لیکن اس کے بھائی نے سب سنبھال کیا تھا ۔
عرشمان میں شرمندہ ہوں ان چند گھنٹوں کے لیے جس میں میں نے تمہیں غلط سمجھا لیکن میرا دل کہہ رہا تھا کہ میرا چھوٹا بھائی کبھی بھی ایسی کوئی حرکت نہیں کر سکتا
لیکن پھر بھی جو کچھ ہوا اس سے تم بہت زیادہ ہرٹ ہوئے ہو اگر میری کوئی بھی بات بری لگی ہو تو بڑا بھائی سمجھ کر معاف کر دینا۔
مان نے سنجیدگی سے کہا
عرشمان مان کے گلے لگ گیا
بھائی آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ نے ہی تو مجھے اس بے قصور ثابت کیا ہے ۔
عرشمان نے کہا ۔
کل میں پرنسپل سے بات کروں گا اور ان کو حقیقت سے بھی آغا کر دوں گا
مان نے ہلکا سا مسکرا کر کہا
وہ تو ٹھیک ہے بھائی لیکن میں کل کی فلائٹ سے انگلینڈ جا رہا ہوں ماما کو بھی میں بتا چکا ہوں ۔اب میں باقی کی سٹڈی وہی مکمل کروں گا
عرشمان نے سنجیدگی سے کہا ۔
ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی
مان نے عرشمان کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا
اور کمرے سے نکل گیا کیونکہ اس کا موبائل رنگ ہوا تھا
عرشمان نے ایک نظر آرزو ہر ڈالی جو بت بنی کھڑی تھی ۔
عرشمان وہاں سے جانے لگا کہ آرزو ہوش میں آئی اور بے ساختہ اسے پکار اٹھی
ایم سوری
آرزو کی شرمندگی بھری آواز سن کر عرشمان اس کی طرف مڑا اور تمسخرانہ انداز میں بولا
مجھے اب تمھاری شکل سے بھی نفرت ہے آرزو ملک اور کوشش کرنا کہ جب تک میں یہاں ہوں مجھے اپنی شکل مت دیکھنا ورنہ میں نہیں جانتا میں کہا کر بیٹھو گا
مجھے ذلیل کرنے میں ردا کے ساتھ تم بھی برابر کی شریک ہو ۔
عرشمان نے انگلی اٹھا کر وارن کرنے والے انداز میں کہا
آرزو آنکھوں میں آنسو لیے وہی کھڑی رہی تھی وہ جانتی تھی بہت بڑی غلطی وہ کر چکی ہے لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا
اگلے دن مان نے پرنسپل کو سب کچھ بتا دیا تھا پرنسپل بھی شرمندہ تھے انہوں نے ردا کو یونی سے نکال دیا تھا
آہستہ آہستہ پوری یونی میں بھی یہ بات پھیل گئی تھی کہ ردا نے جھوٹ بولا تھا۔
ردا سفیان کے کہنے پر اپنی خالا کے پاس لندن چلی گئی تھی۔سفیان نے اسے زبردستی یہاں سے بھیجا تھا اگر وہ سچ بتا دیتی تو سفیان کے لیے مشکل پیدا کر سکتا تھا
سفیان کو اپنا پلان خراب ہونے کا افسوس ہوا تھا لیکن اسے ایک بات کی خوشی تھی کہ عرشمان یہاں سے جا چکا ہے اب اس کا راستہ صاف تھا
پھر اس نے کچھ ماہ بعد اپنے والدین سے آرزو کے مطلق بات کی اور دونوں کی منگنی ہو گئی تھی ۔
عرشمان کے خیالات میں خلل اس کے زور سے بچتے موبائل نے ڈالی تھی
اس نے آنکھیں کھول کر موبائل کو دیکھا جہاں آکف لکھا آرہا تھا
عرشمان نے لمبا سانس کھیچا اور موبائل آف کر دیا وہ جانتا تھا کہ آکف نے اسے کیوں فون کیا ہے
💖💖💖💖💖💖💖💖
روحی جب گھر پہنچی تو کافی رات ہو چکی تھی
روحی کو پانی کی طلب محسوس ہوئی تو جگ میں پانی نہیں تھا ۔
روحی کمرے سے نکلی اور کچن کی طرف چلی گئی
شاہ کو کچھ ضروری کام یاد آگیا تھا اس لیے وہ روحی کو گھر چھوڑ کر چلا گیا
روحی گلاس میں پانی ڈال رہی تھی کہ اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا
روحی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اسے لگا شاہ ہے
لیکن اپنے کان کے پاس قاسم کی آواز سن کر روحی ڈر کے مارے اچھل پڑی تھی
آپ؟ روحی نے قاسم شاہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
جو گہری نظروں سے روحی کو دیکھ رہا تھا جس نے ابھی تک چینج نہیں کیا تھا اسی ساڑھی میں ملبوس تھی ۔
ویسے خوبصورت تو تم تھی ہی لیکن ساڑھی میں تو جان لیوا لگ رہی ہو
قاسم شاہ نے بےباکی سے کہا
روحی کا چہرہ غصے اور شرمندگی سے سرخ ہو گیا تھا ۔
روحی بنا کچھ کہے وہاں سے جانے لگی جب قاسم نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا
روحی نے اس بار بنا قاسم کی عمر کی پرواہ کیے بغیر اس کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ دے مارا
قاسم کو روحی سے اس قسم کے ردعمل کی توقع نہیں تھی
روحی نے بنا کچھ بولے بہت کچھ باور کر وا دیا تھا
اس نے ایک نفرت بھری نگاہ قاسم پر ڈالی اور وہاں سے چلی گئ ۔
قاسم شاہ کا تو خون کھول اٹھا تھا
تیری اتنی مجال تو نے مجھے قاسم شاہ کو تھپڑ مارا اب دیکھ میں تیرے ساتھ کیا کرتا ہوں
قاسم نے غصے کہا۔
💖💖💖💖💖💖💖
مہرو کی آنکھ اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش کے احساس سے کھلی تھی ۔
اس نے اپنے دائیں جانب دیکھا تو معارج میٹھی نظروں سے مہرو کو دیکھ رہا تھا ۔
معارج کو دیکھتے ہی مہرو کی دلخراش چیخ پورے کمرے میں گونجی تھی ۔
جاناں ابھی میں مرنا نہیں چاہتا اور کیا اتنی ڈراؤنی شکل ہے میری کہ تم مجھے دیکھ کر ڈر گئ ۔
مان نے مہرو کو گھورتے ہوئے کہا
جو اب اپنا سانس درست کر رہی تھی جو ڈر کے مارے تیز ہو گیا تھا
تم کب آئے؟ مہرو نے اپنے ڈوپٹے کی تلاش میں ارد گرد نظریں گھماتے ہوئے پوچھا
معارج مہرو کی نظروں کا مطلب اچھی طرح سمجھ گیا تھا کہ وہ کیا تلاش ک رہی ہے
۔کیونکہ اس کا گلہ بہت گہرا تھا مان کی بار بار نظر بھٹک کر وہی جا رہی تھی
مان نے اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے دوپٹہ اس کی طرف اچھالا جسے اس نے جلدی سے اوڑھ لیا ۔
جاناں میں تو رات کا یہی ہو لیکن تمہیں ہی ہوش نہیں تھا ۔
مان نے پیار سے کہا ۔
اور جلدی سے فریش ہوکر آؤ میں نے ناشتہ بنا دیا ہے
مان نے مہرو کو کہا جو حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی
مان نے ایک آبرو اچکا کر اسے دیکھا پھر یاد آنے پر اس نے مہرو کے ماتھے پر بونٹ رکھ دیے
چلو اب جاؤ
مان نے مسکراہٹ دبا کر کہی
مہرو پھر وہاں ایک سیکنڈ بھی نہیں رکی تھی ۔مان اس کی پھرتی دیکھ کر ہنس پڑا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد مہرو شوروم سے باہر آئی مان کمرے میں موجود نہیں تھا
مہرو نے سکون کا سانس لیا اور خود کو آئینے میں. دیکھنے لگی ۔
مان کھانا لگا چکا تھا اور مہرو کو بلانے کے لیے آیا لیکن مہرو کو وائٹ کلر کی شلوار قمیض میں دیکھ کر وہی رک گیا
اسے نہیں معلوم تھا کہ سفید رنگ کسی پر اتنا بھی جچ سکتا ہے
بیوٹفل
مان نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا
اور چھوٹے چھوٹے قدم لیتا مہرو کے پیچھے کھڑا ہو گیا جو پازیب پہن رہی تھی
مان نے مہرو کے ہاتھ سے پازیب پکڑی اور سائیڈ ڈرا سے خود کی لائی ہوئی ایک نفیس سی پازیب نکالی اور بہت پیار سے مہرو کو پہنانے لگا ۔
مہرو کو وہ پازیب بہت پسند آئی تھی بے شک مان کی چوائس لاجواب تھی
مہرو خاموش نظروں سے مان کی کاروائی دیکھ رہی تھی جو پازیب پہنانے کے بعد وہاں اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا
مہرو نے گھبرا کر اپنے پاؤں پیچھے کر لیے
مان مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا اور مہرو کو اپنے سامنے کھڑا کیا
مروہ سے ملنا چاہو گی؟ مان کے سوال پر مہرو نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا
تمھاری بیٹی جس کا نام میں نے مروہ رکھا تھا
مان نے کہا
تم سچ کہہ رہے ہو؟ مہرو نے خوشی سے پوچھا
بلکل سچ کہہ رہا ہوں کل میں تمہیں گھر لے کر جا رہا ہوں اس کے بعد تم اپنی بیٹی سے بھی مل سکتی ہو انفیکٹ وہ ہمارے ساتھ ہی رہے گی ۔
مان نے باری باری مہرو کی دونوں آنکھوں پر بوسہ دیتے ہوئے کہا جو بھیگی آنکھوں سے مان کو دیکھ رہی تھی۔
اسے یقین نہیں آرہا تھا دونوں سگے بھائی اتنے مختلف کیسے ہو سکتے ہیں
اس سے پہلے مان مہرو کے ہونٹوں کی طرف جھکتا اس کا موبائل رنگ ہوا
مان بدمزہ ہوتے ہوئے مہرو سے پیچھے ہوا اور کوفت سے موبائل کو دیکھا
لیکن مقابل کی آواز اس کے چہرے پر سنجیدگی لے آئی تھی ۔
میں آرہا ہوں مان نے کہہ کر فون بند کر دیا
جاناں مجھے ضروری کام سے جانا ہے کل تم تیار رہنا کل تمہیں لینے آؤ گا اور ہاں کھانا کھا کر ضرور بتانا کیسا بنا تھا۔
مان نے پرشوق نظروں سے مہرو کو دیکھتے ہوئے کہا جو نظریں جھکائے کھڑی تھی
یا اپنے آنسوؤں کو باہر نکلنے سے روک رہی تھی۔
مان نے تھوڑی سے پکڑ کر مہرو کا چہرہ اوپر کیا جو آنسو ضبط کرنے کے چکر میں سرخ ہو رہی تھا
دوبارہ اگر میں نے تمھاری آنکھوں میں آنسو دیکھے تو بہت برا پیش آؤ گا
مان نے سنجیدگی سے مہرو کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
اور تم کہی اس لیے تو نہیں رو رہی کہ میں نے ہماری بیٹی کا نام خود ہی سوچ کے رکھ لیا ہے
مان نے سوچنے والے انداز میں کہا
اس کا جانا ضروری تھا لیکن مہرو کو روتے ہوئے بھی چھوڑ کر کیسے جا سکتا تھا ۔
نہیں میں نے ایسا تو نہیں کہا بہت اچھا نام ہے مہرو نے جلدی سے صفائی دیتے ہوئے کہا
مان مہرو کی بات پر قہقہہ لگائے ہنسنے لگا تھا
اب میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا
مان نے مہرو کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا پھر تھوڑی دیر بعد وہاں سے چلا گیا۔
مان کا مروہ کو ہماری بیٹی کہنا مہرو کو اچھا لگا تھا
مروہ مہرو نے منہ میں بڑبڑایا
کل کا سوچ کر ہی مہرو کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس سے پہلے اسے مان کی فیملی سے بھی ملنا ہے
اور وہاں علیدان بھی ہو گا ۔
اور ناجانے مہرو کو اور کتنا کچھ برداشت کرنا ہو گا ۔
