Bad Naam Muhabat By Rimsha Hayat Readelle50136

Bad Naam Muhabat By Rimsha Hayat Readelle50136 Last updated: 4 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Naam Muhabbat

By Rimsha Hayat

تم ؟کیا لینے آئے ہو؟ اور تمہیں کیا عادت ہے لڑکیوں کے کمرے میں گھسنے کی؟
ایک منٹ کہی تمہیں فاخر نے تو یہاں نہیں بلایا؟
ایزل جو اپنے کمرے میں داخل ہوئی تھی لیکن سامنے بیڈ پر بیٹھے آکف کو دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا اور بے یقینی کے عالم میں پوچھا
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو وہ خوش تھی فاخر سے نکاح والی بات کتکے اور اسے پورا یقین تھا کہ فاخر کا جواب ہاں میں ہو گا۔
جب تک تم. مجھے معاف نہیں کر دو گی میں اسی طرح آتا رہو گا۔
اور فاخر میری موجودگی سے لا علم ہے اس نے تو مجھے یہاں آنے سے منع کیا ہے ۔
اور میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں پلیز مجھے معاف کر دو ۔
آکف نے ایزل کے سامنے کھڑے ہوتے بےبسی سے کہا ۔
تم بھی کیا یاد کرو گئے آکف مرتضی
جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا کیونکہ آج میں بہت خوش ہوں۔
اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنے جا رہی ہوں آخر کا وہ انسان مجھے مل ہی گیا
جو. میرے لیے ایک دم پرفیکٹ ہے
جیسے جیسے ایزل اپنے طنز کے تیر سامنے کھڑے بےبس آکف پر چلاتی جا رہی تھی ویسے ہی آکف کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
آکف کافی حد تک بات کو سمجھ تو گیا تھا لیکن پھر بھی دل ایزل کی بات کو جھٹلا رہا تھا ۔
کیا ہوا مجھے لگتا ہے تمہیں سمجھ نہیں آئی تو میں صاف صاف بتا دیتی ہو
کہ میں بہت جلد نکاح کرنے والی ہوں
ایزل نے عام سے لہجے میں کہا لیکن آکف کے چہرے پر چھائی تکلیف کو دیکھ کر اسے دلی سکون ملا تھا۔
آکف نے غصے میں ایزل دونوں بازوں سے پکڑ کر خود کے سامنے کھڑے کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔
جانتی ہو؟ تمھاری محبت نے مجھے کس طرح کا بنا دیا ہے؟
ایزل جہانگیر تمھاری محبت نے مجھے در در بھٹکنے پر مجبور کر دیا۔تمھاری صورت دیکھنے کے لیے میں ترستا ہوں۔دن رات تمھارے خیالوں میں کھویا رہتا ہوں…
بےشک تم مجھ سے جتنی چاہو نفرت کرو …. میں برداشت کر لوں گا۔
لیکن تمہیں کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھنا تمھارا مجھ سے نفرت کرنے سے زیادہ تکلیف دہ ہے….
یہ دل آکف نے اپنے دل کے مقام پر انگلی رکھتے ہوئے کہا….
تم سے اب اگر کوئی ہنس کر بات بھی کر رہا ہو تو اس دل کی بےچینی بڑھ جاتی ہے اُس انسان کی جان لینے کا دل کرتا ہے اور. تم شادی کی بات کر رہی ہو شادی کرنا تو بہت دور کی بات ہے….
آکف نے پتھریلے لہجے میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا ۔
یہ آنکھیں برداشت نہیں کرسکتی تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھنا بہت خودغرض ہوں میں
اور ایک بات اچھے سے ذہن نشین کر لو ایزل جہانگیر….
بہت کر لی تم نے اپنی من مانی اب میں اپنی مرضی کروں گا….
جو مجھے درست لگے گا وہی کروں گا تم نے اب تک میری نرمی دیکھی ہے اور اب میں تمہیں برا انسان بن کر دکھاؤں گا….
میں ہر وہ کام کروں گا جس سے میں تمہیں حاصل کر سکو ۔اگر تمہیں حاصل کرنے کے لیے مجھے کسی کی جان بھی لینی پڑی تو میں پیچھے نہیں ہٹو‌ں گا جیسے جیسے آکف اپنی بات کہہ رہا تھا اس کی پکڑبھی سخت ہوتی جا رہی تھی ایزل کو لگ رہا تھا اس کے بازو کی ہڈیاں ٹوٹ جائے گیں…
آکف نے سرخ آنکھیں ایزل کی کالی گہری آنکھوں میں ڈالتے ہوئے سرد لہجے میں اپنی بات کہی….
اس کی آنکھوں میں خود کو حاصل کرنے کا جنون دیکھ کر ایزل بھی ڈر گئ تھی ۔اس وقت اسے آکف سے خوف محسوس ہو رہا تھا ۔
آکف نے ایزل کو وہی چھوڑا اور خود کمرے سے نکل گیا
ایزل ابھی بھی دم سادھے ساکت کھڑی تھی اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا تھا
نہیں آکف مرتضی اس بار نہیں اس بار میری مرضی چلے گی
ایزل نے اپنے لہجے کو مضبوط کرتے ہوئے کہا لیکن وہ نہیں جانتی تھی اس کا ایک غلط فیصلہ کتنے لوگوں کی زندگی خراب کر سکتا ہے ۔
💗💗💗💗💗💗