No Download Link
Rate this Novel
Episode 49
اگلے دن شاہ کے جانے کے بعد سوہا صفیہ بیگم کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلی گئی تھی ۔اُس نے کہا تھا وہ شاپنگ کرنا چاہتی ہے لیکن روحی کو شاہ نے باہر جانے سے منع کیا تھا اس لیے صفیہ بیگم کو ہی ساتھ جانا پڑا ۔
روحی لاؤنج میں بیٹھی ٹی-وی دیکھ رہی تھی ۔
قاسم شاہ گھبرایا ہوا گھر میں داخل ہوا۔
بہو شاہ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اُس کی حالت بہت خراب ہے ۔
قاسم شاہ نے پریشانی سے اپنے ماتھے کا پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا ۔
کیا کہہ رہے ہیں آپ شاہ کا ایکسیڈنٹ
روحی نے گھبرائے اور بے یقینی کے عالم ہوئے میں پوچھا ۔
اگر تم نے ہسپتال جانا ہے تو میرے ساتھ آجاؤ میں بھی وہی جا رہا ہوں ۔
قاسم شاہ نے روحی کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
مجھے لے چلے ہسپتال
روحی نے روندی آواز میں کہا اور بنا کچھ سوچے سمجھے قاسم شاہ کے ساتھ چل پڑی ۔
ابھی تک ہسپتال کیوں نہیں آیا؟
روحی نے پندرہ منٹ بعد سنسان سڑک کو دیکھتے ہوئے بےتابی سے پوچھا ۔
روحی تمہیں نہیں لگتا کہ تم کچھ زیادہ ہی معصوم ہو اور جانتی ہو کبھی کبھی زیادہ معصوم ہونا بھی آپ کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔
قاسم شاہ نے سنجیدگی سے کہتے روحی کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں آنسو لیے ناسمجھی سے قاسم شاہ کو دیکھ رہی تھی ۔
نہیں سمجھی میں بتاتا ہوں
قاسم شاہ نے گاڑی سڑک کے دائیں جانب روکتے روحی کی طرف مڑتے ہوئے کہا ۔
جب میں نے تمہیں کہا کہ شاہ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے تو موبائل تمھارے پاس موجود تھا تمہیں شاہ کو پہلے کال کرنی چاہیے تھی
اور پھر بھی میری بات کا یقین نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ تم. اچھے سے جانتی ہو میں کتنا برا انسان ہوں پھر بھی تم میرے ایک بار کہنے پر دوڑی چلی آئی ۔
اب غلطی تو تمھاری ہے ۔قاسم شاہ نے خباثت سے کہتے اپنا ہاتھ روحی کے چہرے کی طرف بڑھایا جس نے زور سے ہاتھ کو جھٹکے گاڑی کا دروازہ کھولتے باہر نکل گئی ۔
اسے قاسم کی چال سمجھنے میں ایک سیکنڈ لگا تھا۔
روحی نے ارد گرد دیکھا سڑک بلکل صاف تھی ۔یہاں سے تم کہی نہیں جا سکتی اس لیے بھاگنے کا سوچنا بھی مت
قاسم شاہ کی آواز اپنے کان کے بےحد قریب سن کر روحی ڈر کے مارے ایک دم اچھل پڑی تھی ۔
روحی ڈر کے مارے تھوڑا پیچھے کھسک کر کھڑی ہو گئی ۔قاسم شاہ روح کی جانب بڑھ رہا تھا اس سے پہلے روحی وہاں سے بھاگتی قاسم نے اسے بالوں سے جا پکڑا ۔
آہ چھوڑو مجھے روحی نے کراہتے ہوئے کہا ۔خاموشی سے میرے ساتھ چلو ورنہ تمھاری وہ حالت کروں گا کہ ساری زندگی پچھتاتی رہو گی ۔
قاسم شاہ نے روحی کو دیکھتے ہوئے دھاڑ کر کہا ۔
روحی نے اپنا پورا زور لگا کر قاسم شاہ کو پیچھے دھکا دیا جو اپنا متوازن برقرار نہیں رکھ پایا اور سڑے کے بیچوں بیچ جا گرا اس سے پہلے قاسم وہاں سے اٹھاتا دور سے آتا ایک بڑا ہیوی ٹرک قاسم شاہ کے اوپر سے گزر گیا ۔
سامنے کا منظر دیکھ کر روحی کے منہ سے ایک چیخ نکلی وہ اب اپنے منہ پر ہاتھ رکھے بت بنی سڑک پر پھیلے خون کو دیکھ رہی تھی۔ خوف سے اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں ۔
سڑک پر ایک دم. خاموشی چھا گئی تھی ۔
قاسم شاہ کی پوری باڈی کچلی جا چکی تھی ۔روحی جب مزید برداشت نہیں کر سکی تو وہی سڑک پر بےہوش ہو کر گر گئی ۔
جس ٹرک نے قاسم کو کچلا تھا وہ موقع پر ہی بھاگ گیا ۔
💞💞💞💞💞💞
شاہ گھر آیا تو اسے روحی کہی نظر نہیں آئی ۔اس نے ملازم سے پوچھا تو انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔
شاہ اپنے کمرے میں گیا تو اسے بیڈ کے نیچے سے کچھ تصاویر باہر نکلی ہوئی نظر آئی اس نے جھک کر اُن تصاویر کو اٹھایا لیکن جب اس نے تصاویر کو دیکھا تو اس کی آنکھیں باہر کو آگئی ۔
تصویر میں موجود لڑکی روحی ہی تھی ۔
یہ جاننے میں شاہ کو ایک سیکنڈ لگا تھا ۔
کہ اس کے باپ کے ساتھ جو لڑکی ہے وہ روحی ہے لیکن وہ تصاویر انتہائی نازیبا تھیں ایک تصویر میں روحی قاسم شاہ کی گود میں بیٹھی تھی۔
باقی بیڈ پر لی گئی تھی اور ساری تصاویر میں وہ مسکرا رہی تھی ۔
شاہ اس سے پہلی کچھ سوچتا سمجھتا اس کا موبائل رنگ ہوا ۔
شاہ نے کال اٹینڈ کی۔
شاہ صاحب آپ کے والد کو ایک ٹرک نے کچل دیا ہے اور اسی وقت ان کی موت ہو گئی۔
لاش کی حالت ایسی تھی کہ زیادہ دیر رکھا نہیں جا سکتا تھا اس لیے ہم نے اُن کو دفنا دیا ہے میں آپ کو کچھ تصاویر بھیج رہا ہوں وہ دیکھ لیں اور آپ کی بیوی ہسپتال میں ہے اس کے ہوش میں آتے ہی کچھ سوال اُس سے کرنے ہیں ۔
آفیسر نے کہتے ہی فون بند کر دیا ۔
شاہ دوبارہ تصاویر کو وحشت بھری نظروں سے دیکھنے لگا ۔
ایک ہی دن میں کیا سے کیا ہو گیا؟
اس کا باپ مر گیا روحی کا اس کے باپ کے ساتھ پہلے سے آفیر چل رہا تھا یہ بات اسے آج پتہ چلی ۔
اُن تصاویر کو دیکھنے کے بعد تو شاہ اسی نتیجے پر پہنچا تھا ۔کہ روحی اسے دھوکہ دے رہی تھی ۔
شاہ نے اُن تصاویر کو الماری میں رکھا اور اپنے کمرے سے باہر نکلا ۔
شاہ روحی کہاں ہے؟ صفیہ بیگم نے شاہ کو آتے دیکھ پوچھا ۔سوہا بھی پاس ہی بیٹھی تھی ۔شاہ کے ماتھے کی رگیں پھولی ہوئی تھیں آنکھوں میں تو جیسے خون اترا ہوا تھا۔
شاہ کی حالت دیکھ کر سوہا اندر ہی اندر خوش ہو رہی تھی ۔
کیا ہوا ہے شاہ سب خیریت ہے؟
صفیہ بیگم نے آج سے پہلے شاہ کو اس قدر غصے اور پریشانی میں نہیں دیکھا تھا ۔
ماما ڈیڈ کی دیتھ ہو گئی ہے کسی ٹرک نے انہیں کچل ڈالا لاش کی حالت بہت بری تھی اس لیے جلدی دفنا دیا گیا مجھے پولیس افسر کی کال آئی تھی ۔میں پولیس سٹیشن جا رہا ہوں
شاہ نے سرد لہجے میں کہا ۔
یااللہ یہ کیا ہو گیا شاہ ہو سکتا ہے تمہیں غلط فہمی ہوئی ہو صفیہ بیگم نے کمزور سے لہجے میں کہا ۔
سوہا نے ان کو آکر پکڑا تھا ورنہ وہ زمین بوس ہو چکی ہوتی ۔
پولیس سٹیشن کے بعد میں ہسپتال جا رہا ہوں روحی وہی پر ہے۔شاہ نے اپنی ماں سے نظریں چراتے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
شوکڈ تو سوہا بھی تھی ۔
دونوں نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا تھا ۔سوہا اس وقت خود کو حوصلہ دیتی یا صفیہ بیگم کو دونوں ابھی بے یقینی کی کیفیت میں بیٹھی تھیں ۔
💞💞💞💞💞💞
شاہ ہسپتال پہچا تو روحی کو ہوش آچکا تھا ۔ہم نے آپ کی بیوی کی بیوی سے کچھ سوال کر لیے ہیں اب آپ انہیں گھر لے کر جا سکتے ہیں ۔پولیس آفیسر نے کہا ۔
شاہ نے روحی پر ایک غلط نظر ڈالنا بھی گوارا نا کیا ۔
روحی کو شاہ کے رویے پر رونا آرہا تھا ۔اسے اس وقت شاہ کی ضرورت تھی لیکن وہ چہرے پر پتھریلے تاثرات لیے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔
شاہ نے گھر کے سامنے گاڑی رکی اور خود گاڑی سے نکل کر گھر کے اندر چلا گیا روحی کو اس نے نہیں بلایا تھا ۔
روحی بوجھل قدموں سے کے ساتھ گاڑی سے باہر نکلی اور گھر میں داخل ہوئی اس کا سر ابھی بھی گھوم رہا تھا ۔
صفیہ بیگم اور سوہا ابھی بھی ویسے ہی بیٹھی تھیں قاسم شاہ کے قریبی لوگ افسوس کے لیے آنا شروع ہو گئے تھے،
شاہ اپنے کمرے میں چلا گیا روحی نے بھی اپنے کمرے کا رخ کیا ۔
روحی ابھی کمرے سے باہر چلی جاؤ
شاہ کی کرخت آواز کمرے میں گونجی ۔
جو اپنا سر اپنے ہاتھوں میں لیے بیٹھا تھا ۔
میں کیوں جاؤ باہر؟ یہ میرا بھی کمرا ہے ۔
روحی نے اپنے آنسوؤں پر بند باندھتے کہا جو باہر نکلنے کو بےتاب تھے ۔
میرے باپ کی قاتل تم ہو پہلے خود ہی تم نے انہیں اپنے قریب آنے دیا ۔
تم نے ہی میرے باپ کی جان لی ہے تم ہو میرے باپ کی قاتل وہ جیسا بھی تھا میرا باپ تھا
کیوں کیا تم نے ایسا؟
تمھاری وجہ سے میرے باپ کی جان گئی ہے تمھاری وجہ سے میری ماں دکھی ہے تم نے مجھے بھی تکلیف پہنچائی ہے روحی کیوں کیا تم نے؟
شاہ نے روحی کو بازوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے کہا ۔
جو آنکھوں میں بے یقینی لیے شاہ کو دیکھ رہی تھی۔
جو کچھ بھی ہوا جانے ناجانے میں ہوا اور میں نے جو بھی کیا اپنی عزت کو بچانے کے لیے کیا
آپ کا باپ ایک انتہائی گھٹیا اور نیچ انسان تھا۔
روحی نے بھی پوری قوت سے چلاتے ہوئے کہا ۔جس کا غصے میں ہاتھ اٹھا اور روحی کے گال پر نشان چھوڑ گیا.
روحی نے اپنے گال پر ہاتھ رکھے بےیقینی سے شاہ کو دیکھا جو روحی کو بھسم کر دینے والی نظروں سے گھور رہا تھا ۔
آپ بھی اپنے باپ جیسے ہی ہیں جو ایک عورت پر ہاتھ اٹھا کر خود کر طاقتور ظاہر کرنا چاہ رہے ہیں بنا پوری بات جانے آپ کیسے مجھ پر الزام لگا سکتے ہیں؟
مجھے کچھ جاننا بھی نہیں ہے ۔تم بس میری نظروں سے دور ہو جاؤ شاہ کو شاید زیادہ تکلیف اُن تصاویر نے دی تھی وہ اپنے باپ کی خصلت سے اچھی طرح واقف تھا ۔
وہ جانتا تھا کہ قاسم شاہ نے کیا کیا ہو گا ۔جس کی وجہ سے روحی نے یہ سب کچھ کیا لیکن ابھی شاہ غصے میں اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو کھو چکا تھا ۔
میں نہیں جانتی کہ آپ کو کیا ہوا ہے لیکن جو الزام آپ نے مجھ پر لگایا ہے وہ سراسر غلط ہے اور میں ایسا بلکل بھی برداشت نہیں کروں گئی ۔
الزام تو میں نے پر ابھی لگایا بھی نہیں ہے اگر تم میری نظروں کے سامنے رہی تو ایک سیکنڈ میں تمھاری جان لے لوں گا ۔
شاہ نے روحی کو جبڑوں سے پکڑتے ہوئے تیکھے لہجے میں کہا ۔
اسکی گال پر ابھی بھی شاہ کی انگلیوں کے نشان موجود تھے ۔
کیا تمھارے میرے باپ کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے؟
شاہ کی بات نے روحی کے سر پر بم پھوڑا تھا ۔روحی نے خود کو شاہ کی گرفت سے آذاد کروایا اور ایک زوردار تھپڑ شاہ کے چہرے پر دے مارا۔
آپ کی سوچ اتنی گندی ہو گی مجھے معلوم نہیں تھا اب تو مجھے بھی آپ کی شکل نہیں دیکھنی۔
اور نا ہی آپ جیسے انسان کے ساتھ ایک سیکنڈ بھی رہنا۔آج آپ نے بھی اپنی اصلیت دیکھا دی۔
روحی نے اپنے آنسوؤں کو اندر دھکلتے ہوئے بھاری آواز میں کہا ۔
تو ٹھیک ہے اگر تم جانا ہی چاہتی ہو تو اس رشتے کو ختم کرکے ہی جاؤ۔مجھے بھی تمھاری جیسی لڑکی کے ساتھ رہنے کا شوق نہیں ہے تم نے مجھے توڑنے میں زرا سی بھی کسر نہیں چھوڑی
تمہیں میں کبھی معاف نہیں کروں گا۔اور نا ہی دوبارہ تمھاری شکل دیکھنا چاہتا ہوں
اور میں ریان شاہ اپنے پورے ہوش حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔
شاہ نے نفرت بھرے لہجے میں دروازے کی طرف جاتی روحی کو دیکھتے کہا روحی شاہ کی آواز سن کر وہی پتھر کی بن گئی ۔
اسے لگا کسی نے اس کے کانوں میں پگلا ہوا سیسہ ڈال ڈال دیا ہو۔
سر تو پہلے ہی گھوم رہا تھا لیکن اب ہمت جواب دے گئی تھی اس اپنا دماغ ماؤف ہوتا ہوا محسوس ہوا اور وہی جھول کر زمین بوس ہو گئی ۔
💞💞💞💞💞💞
