Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

آج بھی سویرا انٹر ویو دے کر واپس گھر آرہی تھی بیگ میں پیسے تو نہیں تھے لیکن پھر بھی اس کا دل سامنے بنے بڑے اور خوبصورت سے مال میں جانے کا کیا اپنے دل کی سنتے ہوئے سویرا مال میں داخل ہوئی تھی اور ستائشی نظروں سے وہاں پڑی خوبصورت چیزوں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
سویرا نے کالا عبایہ اور ساتھ کالے ہی رنگ کا حجاب لیا ہوا تھا۔۔۔۔
مال میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنا نقاب اتار دیا اس نے سوچا یہاں کون سا اس کی امی دیکھ رہی ہیں
سویرا حسرت بھری نگاہوں سے ہر ایک چیز دیکھ رہی تھی پورے مال کا ایک چکر لگا کر اسے ایک جیولری شاپ نظر آئی جس میں بہت خوبصورت ہار پڑے ہوئے تھے۔۔۔۔
کافی دیر کھڑی سویرا جیولری کو دیکھتی رہی جب وہاں سے جانے کے لیے مڑی تو کسی کے ساتھ زور سے ٹکرائی۔۔۔۔
ٹکرانے والے نے بنا سویرا کو دیکھے وہاں سے تیز تیز قدم چلتا گیا سویرا اپنے سر کو پکڑ کر وہی کھڑی رہی کیونکہ اسے اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا جب اس نے چہرا اٹھا کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا دور ایک عبایہ پہنے عورت تیز تیز قدم چلتی جارہی تھی۔۔۔۔
لگتا ہے کوئی اندھی عورت تھی۔۔۔۔!!!
سویرا نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے غصے سے کہا اور اپنے کندھے پر ڈالے بیگ کو درست کیا۔۔۔۔
ابھی سویرا کچھ ہی قدم چلی تھی جب اسے اپنے پیچھے سے کافی ساری آوازیں سنائی دی جیسے کوئی اسے ہی بلا رہا ہو۔۔۔۔
سویرا نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دو تین آدمی اس کے پاس ہی آرہے تھے سویرا ہٹے کٹے آدمیوں کو خود کی طرف آتے دیکھ ایک دم گھبرا گئ۔۔۔۔
اے لڑکی چوری کر کے بھاگ رہی تھی۔۔۔۔؟؟؟
ان میں سے ایک آدمی نے غصے سے سویرا کو دیکھتے ہوئے کہا اس آدمی کی بات سن کر سویرا کا رنگ اڑ گیا چوری آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے۔۔۔۔
میں نے کوئی چوری نہیں کی۔۔۔۔!!! سویرا نے جلدی سے جواب دیا۔۔۔
تو پھر یہ نیکلس تمھارے بیگ میں کیا کر رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟
اس آدمی نے آدھے باہر نکلے نیکلس کو سویرا کے بیگ سے پورا باہر نکال کر سویرا کے سامنے لہراتے ہوئے پوچھا جو دیکھنے میں ہی کافی مہنگا لگ رہا تھا۔۔۔۔
یہ۔۔۔ یہ۔۔۔۔کیا ہے۔۔۔۔ یہ میرے بیگ میں کیسے آیا۔۔۔۔ میں۔۔۔ میں نے۔۔۔۔ کوئی چوری نہیں کی۔۔۔۔!!!
سویرا نے پریشانی کے عالم میں لڑکھڑاتی زبان میں کہا۔۔۔
یہ تمھارے بیگ سے نکلا ہے یہ تھوڑی دیر پہلے میری شاپ سے غائب ہوا تھا ایک عورت آئی تھی جس نے عبایہ پہنا ہوا تھا اور وہ تم ہی تھی۔۔۔۔!!! اس آدمی نے سویرا کے عبایہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ میں نہیں تھی میں آپ کی شاپ میں نہیں آئی۔۔۔۔!!! سویرا نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔۔۔
بہت ہو گیا میں تمہیں پولیس کے حوالے کرتا ہوں وہ خود ہی تم سے اگلوالیں گے۔۔۔۔!!!
اس آدمی نے غصے سے سویرا کو گھورتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے کر جانے لگا۔۔۔
چھوڑو میرا ہاتھ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟
سویرا نے چلاتے ہوئے اپنا ہاتھ جھڑواتے کی کوشش کرتے ہوئے کہا سارے لوگ سویرا کو دیکھنے لگے تھے اور وہاں جمع ہو گئے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی آگئے نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
بازل جو کب سے کھڑا سویرا اور اس شاپ والے کی گفتگو سن رہا تھا غصے میں آگے آیا اور سویرا کا ہاتھ اس آدمی سے الگ کیا۔۔۔۔
جب وہ تمہیں کہہ رہی ہے کہ اس نے نیکلس چوری نہیں کیا تو کیوں تم اس کی بات نہیں سن رہے۔۔۔۔؟؟؟ بازل نے غصے میں اس آدمی کو کہا۔۔۔
سر یہ میڈم میری شاپ پر آئی تھیں اور مجھ سے پانی مانگا جب میں لینے گیا تو میری شاپ سے یہ نیکس لے کر غائب ہو گئی اب جب میں اس عورت کا پیچھا کرتے ہوئے آیا تو ان کے بیگ سے میرا یہ نیکس لٹک رہا تھا۔۔۔۔!!!
تو کیا ابھی بھی آپ کو لگتا ہے یہ سچ بول رہی ہیں۔۔۔۔؟؟؟ اس آدمی نے ساری کہانی بازل کو سناتے ہوئے کہا۔۔۔۔
بازل نے سویرا کی طرف دیکھا جس کی حالت دیکھ کر لگ رہا تھا ابھی بے ہوش ہو جائے گی آنکھوں سے لگاتار آنسوؤں بہہ رہے تھے۔۔۔۔
کتنے کا ہے نیکلس۔۔۔۔؟؟؟
بازل نے اُس آدمی سے پوچھا آدمی نے قیمت بتائی جب بازل نے کہا۔۔۔۔
میں تمہیں تین گنا زیادہ دوں گا لیکن تم اس لڑکی کو پولیس کے حوالے نہیں کرو گے۔۔۔۔؟؟؟
اس آدمی کا منہ حیرت کے مارے کھولا کا کھولا رہ گیا آدمی کو تین گنا زیادہ پیسے مل رہے تھے اس میں اس کا خو دکا ہی فائدہ تھا اس لیے اُس آدمی نے پیسے لینے کی حامی بھر لی۔۔۔۔۔
بازل نے آدمی کو پیسے دیے اور بت بنی سویرا کا ہاتھ پکڑ کر مال سے باہر لے گیا اور اپنی گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر سویرا کو اندر بیٹھا۔۔۔۔
سویرا ابھی تک صدمے کی حالت میں تھی اس لیے خاموشی سے بیٹھ گئ۔۔۔۔
باذل نے پانی کی بوتل سویرا کی طرف بڑھائی
جیسے سویرا نے پکڑ ضرور لیا لیکن پیا نہیں تھا۔۔۔۔
وہ آدمی جھوٹ بول رہا تھا۔۔۔۔ میں نے کوئی چوری نہیں کی۔۔۔۔ میں نہیں جانتی کہ وہ نیکلس میرے بیگ میں کیسے آیا۔۔۔۔!!!
سویرا کو جب ہوش آیا تو اس نےبازل کو دیکھتے ہوئے کہا جو خاموشی نظروں سے سویرا کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
پہلے آپ رونا بند کرے ہو سکتا ہے کسی نے آپ کے ساتھ شرارت کی ہو اب سب کچھ ٹھیک ہے آپ پلیز رونا بند کریں۔۔۔۔!!!
بازل نے ٹشو سویرا کی طرف بڑھاتے ہوئے تحمل سے کہا سویرا نے ٹشو پکڑا اور اپنے آنسو صاف کرنے لگی۔۔۔۔
مجھے اب گھر جانا چاہیے آپ کا بہت بہت شکریہ۔۔۔۔!!!
سویرا نے پہلی بات خود سے اور آخری بات بازل کو دیکھتے ہوئے کہی جو پہلے ہی سویرا کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا سویرا نے ہڑبڑا کر اپنی نظریں اپنے بیگ پر ٹکا دی بازل کو سویرا کی اس حرکت نے ہنسنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔
مجھے اپنے گھر کا ایڈریس بتائیے میں آپ کو گھر چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔۔!!! بازل نے سامنے سڑک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
نہیں میں چلی جاؤ گی۔۔۔۔!!! سویرا نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
جیسی آپ کی مرضی۔۔۔۔!!! بازل نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
سویرا نے ایک بار پھر بازل کا شکریہ ادا کیا اور گاڑی سے باہر نکل گئی بازل کی نظریں سویرا پر ہی ٹکی ہوئی تھیں جو سامنے رکشے میں بیٹھ رہی تھی بازل نے سویرا کے جانے کے بعد گاڑی سٹارٹ کی اور اور رکشے کے پیچھے ڈال دی جس کام کے لیے آیا تھا وہ بھول چکا تھا۔۔۔۔
💖————💖
سویرا نے رکشے میں بیٹھ کر جلدی سے نقاب کیا اور مال میں ہوئے سارے معاملے کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔۔۔۔
اگر وہ انسان فرشتہ بن کر نا آتا تو اس وقت سویرا پولیس سٹیشن میں ہوتی یہ سوچ آتے ہی سویرا پوری کانپ سی گئ۔۔۔۔
کون تھا وہ شخص جس نے میری مدد کی میں نے نام تو پوچھا نہیں۔۔۔۔!!!
جب سویرا کا خوف کم ہوا تو اسے بازل کا خیال آیا بےشک وہ انسان دیکھنے میں بہت خوبصورت تھا آج سویرا نے اس بات کو دل سے تسلیم کیا کہ آج بھی کچھ لوگ دنیا میں ایسے موجود ہے جو بنا کسی غرض کے لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور سویرا کا یہ خیال بازل کے بارے میں بہت جلد غلط ثابت ہونے والا تھا۔۔۔۔
سویرا ابھی بھی اپنے خیالوں میں گم تھی جب رکشہ ڈرائیور کی آواز اسے ہوش کی دنیا میں لائی
باجی آپ کا گھر آگیا ہے ڈرائیور نے کہا تو سویرا نے کرایہ دیا اور اپنی گلی میں داخل ہو گئی۔۔۔۔
💖————💖
السلام علیکم امی۔۔۔۔!!!
سویرا نے گھر میں داخل ہوتے سامنے تختے پر بیٹھی اپنی ماں کو سلام کیا۔۔۔
بیٹا میں پریشان ہو گئ تھی کہاں رہ گئی تھی تم۔۔۔۔؟؟؟
رقیہ بیگم نے سلام کا جواب دینے کے بعد پریشانی سے پوچھا۔۔۔
کچھ نہیں امی ٹریفک میں پھنس گئی تھی۔۔۔۔!!!
سویرا نے اپنے حجاب کو اتارتے ہوئے عام سے لہجے کہا اور فریش ہونے چلی گئی۔۔۔
جاب کا کیا بنا۔۔۔۔؟؟ رقیہ بیگم نے پوچھا۔۔۔
کیا بننا ہے امی آج بھی انٹرویو دے آئی ہوں سب کو میری پڑھائی کم لگتی ہے۔۔۔۔!!! سویرا نے ٹاول سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔
بیٹا کیا ضرورت ہے تمھارے پاپا اتنا تو کما ہی لیتے ہیں کہ گھر کا دال دلیہ چل رہا ہے پھر تمہیں کیا ضرورت ہے جاب کرنے کی۔۔۔۔؟؟؟ رقیہ بیگم نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔
امی میں نئے کپڑے لینا چاہتی ہوں۔۔۔۔ مجھے نئ چیزیں لینی ہیں۔۔۔۔ جو بابا کی تنخواہ میں نہیں آسکتیں۔۔۔۔ بابا کی تنخواہ سے گھر کا خرچہ بہت مشکل سے چلتا ہے۔۔۔۔ تو جو چیزیں میں نے لینی ہوتی ہے آپ دونوں ہمیشہ مجھے یہ کہہ کر ٹال دیتے ہو۔۔۔۔۔ اگلی بار لے لینا اور آپ لوگوں کی اگلی بار کبھی نہیں آتی۔۔۔۔ میں اپنی زندگی اچھی طرح جینا چاہتی ہوں۔۔۔۔ میں چاہتی ہوں میرے پاس ساری وہ چیزیں ہوں جو میری سہیلیوں کے پاس ہیں۔۔۔۔ کتنی بار یہ بات میں آپ کو بتا چکی ہوں۔۔۔۔ لیکن آپ کو میری بات سمجھ میں نہیں آتی۔۔۔۔!!!
سویرا نے بدتمیزی سے اپنی ماں کو جواب دیتے ہوئے کہا اور غصے میں کمرے میں جا کر بند ہو گئی پیچھے رقیہ بیگم نے اپنے آنسوؤں کو نکلنے سے روکا دروازے پر کھڑے عقیل صاحب نے بھی سویرا کی ساری باتیں سن لی۔۔۔۔
دونوں پوری کوشش کرتے تھے کہ سویرا کو کسی چیز کی کمی نا ہو لیکن سویرا ہمیشہ اپنی باتوں سے دونوں کا دل دکھا دیتی تھی۔۔۔۔
آپ کب آئے۔۔۔۔؟؟؟ سویرا کی ماں نے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے سامنے کھڑے اپنے شوہر سے پوچھا۔۔۔
بس ابھی آیا میں کمرے میں آرام کرنے جا رہا ہوں مجھے پانی لا دو۔۔۔۔!!!
عقیل صاحب نے سنجیدگی سے کہا اور اپنے کمرے میں چلے گئے رقیہ بیگم جانتی تھی کہ عقیل صاحب سویرا کی ساری باتیں سن چکے ہیں بہت کوشش کے باوجود بھی رقیہ بیگم اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پائی تھی۔۔۔۔
رقیہ بیگم نے اپنے ڈوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو صاف کیے اور کچن میں پانی لینے چلی گئی۔۔۔۔
💖————💖
بازل میاں آپ تو ہم سے ملنے والے تھے اور آئے کیوں نہیں ہم لوگ پاگلوں کی طرح تمھارا انتظار کر رہے تھے سوری ہم نہیں صرف میں کیونکہ عمیر بھی شاپنگ کرنے چلا گیا تھا۔۔۔۔!!! عامر نے دانت پستے ہوئے کہا۔۔۔۔
یار تو نے اسے بتایا نہیں میں بزی ہو گیا۔۔۔۔!!!
بازل نے عمیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو بازل کی بات سن کر ہنس پڑا تھا۔۔۔
کہاں بزی ہو گئے تھے۔۔۔۔؟؟؟ عامر نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
یار تو چھوڑ چل کہی چلتے ہیں کھانا بھی کھا لیں گے۔۔۔۔!!!
بازل نے ہنستے ہوئے عامر کو کہا جو اپنی گھوریوں سے بازل کو نواز رہا تھا۔۔۔۔
تم دونوں کیا کھچڑی پکا رہے ہو مجھے بتانا پسند کرو گے۔۔۔۔؟؟؟
عامر نے عمیر اور بازل کے چہروں کی کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
یار ایسا کچھ بھی نہیں ہے چل مجھے تو بہت بھوک لگی ہے کسی ریسٹورنٹ میں چلتے ہیں۔۔۔۔!!!
عمیر نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا عامر بھی خاموش ہو گیا اس نے دوبارہ اس بارے میں بات نہیں کی۔۔۔۔
بازل خوبصورتی میں اپنی مثال خود تھا گرے آنکھیں ہلکی سی ڈاڑھی بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے سفید شرٹ اور بلیو جینز میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا بازل کے دو دوست تھے جو ہمیشہ اس کے ساتھ ہی ہوتے تھے ایک کا نام عامر اور دوسرے کا نام عمیر تھا۔۔۔۔
بازل ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتا تھا اس کا خوف کا بزنس تھا۔۔۔۔
💖————💖
یہ کون تھا جو میرے کمرے میں آیا تھا اور کیا بکواس کر رہا تھا۔۔۔۔؟؟؟
معارج کے جاتے ہی مہرو غصے میں تن فن کرتی سلمیٰ کے پاس آئی جو خود پریشان سی بیٹھی ہوئی تھی پاس ہی اس کے ظفر کھڑا تھا اور ایک لڑکی سلمیٰ کے پیر دبا رہی تھی۔۔۔۔
جاؤ تم دونوں یہاں سے۔۔۔۔!!!
سلمیٰ نے پہلے لڑکی اور اور پھر ظفر کو دیکھتے ہوئے کہا جو سلمیٰ کی بات سن کر وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔
وہ معارج ملک ہے۔۔۔۔!!! سلمیٰ نے مہرو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
تو میں کیا کروں وہ میرے کمرے میں کیا کر ریا تھا اس بات کا مجھے جواب چاہیے۔۔۔۔!!! مہرو نے کرخت لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
دیکھو مہرو وہ بہت بڑے لوگ ہیں۔۔۔۔!!!
سلمیٰ بائی وہ میرے کمرے میں کیا کر رہا تھا۔۔۔۔؟؟؟
مہرو نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اپنی بات کو دہراتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
ملک تمہیں چاہتا ہے میرا مطلب ہے ایک رات کے لیے تمہیں چاہتا ہے۔۔۔۔!!! رقیہ نے جلدی سے مہرو کو بتا دیا۔۔۔۔
مہرو تھوڑی دیر سنجیدگی سے سلمیٰ کا چہرہ دیکھتے رہی اور پھر تمسخرانہ انداز میں ہنسنے لگی۔۔۔۔
اس کے بدلے وہ ملک مجھے کیا دے سکتا ہے۔۔۔۔؟؟؟
مہرو نے تیکھے مگر عام سے لہجے میں اپنے بالوں کی لٹو کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے ایک ادا سے پوچھا سلمیٰ بائی مہرو کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر حیران ہوئی۔۔۔۔
مہرو تم جتنے پیسے مانگو گی وہ تمہیں دے گا۔۔۔۔!!!
سلمیٰ نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے کہا آج اسے جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے تھے۔۔۔۔
مجھے پیسے نہیں چاہیے سلمیٰ بیگم وہ پیسوں کے علاوہ مجھے کیا دے سکتا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟ مہرو نے اس بار سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔
مہرو کیا کہنا چاہ رہی ہو مجھے تمھاری بات سمجھ میں نہیں آرہی۔۔۔۔؟؟؟ سلمیٰ نے جھنجھلا کر پوچھا۔۔۔۔۔
سلمیٰ بیگم آپ اچھے سے جانتی ہیں میں یہ سب کام نہیں کرتی۔۔۔۔ پھر ملک کا میرے کمرے میں آنے کا کیا مطلب ہے۔۔۔۔ چاہے وہ کتنا ہی بڑا آدمی ہو۔۔۔۔ مجھے کتنے ہی پیسے کیوں نا دے دیں۔۔۔۔ جو وہ کہہ رہا ہے وہ میں ہرگز نہیں کر سکتی۔۔۔۔ اور جو میں چاہتی ہوں وہ مجھے ملک نہیں دے سکتا۔۔۔۔ آپ اچھے سے جانتی ہیں۔۔۔۔ اور اس نے جو بھی کرنا ہے کر لے۔۔۔۔ جو بھی سمجھنا ہیں سمجھ لے۔۔۔۔ مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔!!!
طوائف ضرور ہوں لیکن اس کے باپ کی نوکر نہیں ہوں اگر رقص کرتی ہوتو خود کا پیٹ پالنے کے لیے کرتی ہوں مجھے پیسے کے لیے راتیں گزارنے کا شوق نہیں ہے۔۔۔۔!!!
مہرو نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا اور غصے میں وہاں سے چلی گئ مہرو کے پیروں میں پہنے گھنگھرو کی آواز پورے ہال میں گونجنے لگی۔۔۔۔
سلمیٰ بائی مہرو کی پشت کو گھور رہی تھی وہ اچھے جانتی تھی چاہیے کچھ بھی ہو جائے مہرو کبھی بھی نہیں مانے گی اور وہی ہوا لیکن اب معارج ملک کو کیا جواب دینا تھا اس بات کی ٹیشن سلمی کو کھائی جا رہی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا سلمیٰ بیگم آپ اتنی پریشان کیوں ہیں۔۔۔۔!!! نایاب نے سلمیٰ کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
اس سے پہلے سلمیٰ کوئی جواب دیتی پنکی بھی وہاں آگئی تھی پنکی ایک خواجہ سرا تھا جو لڑکیوں کو کوٹھے پر لانے کا کام سرانجام دیتا۔۔۔۔
سلمیٰ تو نے مجھے اتنی جلدی میں کیو بلایا۔۔۔۔؟؟؟
پنکی نے سلمیٰ کو دیکھتے ہوئے پوچھا جس نے رنگ برنگے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور چہرے پر ڈھیر سارا میک اپ کیا تھا۔۔۔۔
سلمیٰ نے سنجیدگی سے ساری بات نایاب اور پنکی کو بتا دی۔۔۔۔
نایاب تو بات کر مہرو سے تیری تو ساری باتیں وہ مان لیتی ہے۔۔۔۔!!! سلمیٰ نے نایاب کو دیکھتے ہوئے آس سے کہا۔۔۔
سلمیٰ بیگم یہ مشکل ہے اور جہاں تک مجھے لگتا ہے اس معاملے میں مہرو میری بات بھی نہیں مانے گی اور آپ اچھے سے جانتی ہے وہ کتنی ضدی ہے ملک جیسا چاہتا ہے ویسا ہرگز نہیں ہو سکتا آپ ملک سے بات کریں مہرو کے علاوہ باقی ساری لڑکیاں خوشی خوشی اس کام کو کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔۔۔۔!!!
نایاب نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے سلمیٰ کو مشورہ دیا۔۔۔۔
یہی تو مصیبت ہے ملک کو مہرو چاہیے پیچھلے دو ماہ سے مہرو کا رقص دیکھنے کے لیے آتا تھا
مجھے تو لگتا ہے اس لڑکی کی ضد ہمیں سڑک پر لے آئے گی۔۔۔۔!!!! سلمیٰ نے پریشانی سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
سلمیٰ تو پریشان نا ہو کوئی نا کوئی راستہ نکل آئے گا۔۔۔۔!!! پنکی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔۔۔
کیسے نکل آئے گا پنکی کل ملک نے آنا ہے میں کیا جواب دوں گی۔۔۔۔؟؟؟ سلمیٰ نے کہا۔۔۔۔
میں تیار ہوں آپ ملک سے میرے لیے بات کر لیں۔۔۔۔!!! نایاب نے لمبا سانس لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
نایاب میری بچی معارج ملک نے مہرو کا مطالبہ کیا ہے اسے میں نے شبنم بھی دکھائی لیکن اس نے مہرو کو ہی مانگا ہے اس معاملے میں ہم میں سے کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتے اگر کوئی کچھ کر سکتا ہے تو وہ مہرو ہی ہے۔۔۔۔!!
سلمیٰ بائی نے پیار سے نایاب کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
پنکی تو پتہ کر ملک صاحب اور معارج ملک کا آپس میں کیا رشتہ ہے۔۔۔۔!!! سلمیٰ نے پنکی کو کہا۔۔۔
ٹھیک ہے میں ملک کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتی ہوں۔۔۔۔!!!
پنکی نے سلمیٰ کے پاس پڑے پان میں سے ایک پان پکڑ کر منہ میں رکھتے ہوئے کہا نایاب وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی۔۔۔۔
💖————💖
علیدان بیٹا کہاں غائب رہتے ہو تم۔۔۔۔؟؟؟
رابعہ نے کھانا کھا تے ہوئے علیدان سے پوچھا جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے آیا تھا۔۔۔۔
ماما بس آجکل کام بہت زیادہ ہو گیا ہے کچھ دنوں کی بات ہے ایک بار سیٹ ہو جائے پھر سب ٹھیک ہو جائے گا اور آکف بھی تو آرہا ہے وہ بھی میرے ساتھ ہی ہو گا۔۔۔۔!!! علیدان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
شاداب ملک کے تینوں بچوں نے حسن اپنی ماں سے چرایا تھا تینوں ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔۔۔۔۔
بیٹا وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن تمہیں کیا لگتا ہے آکف تمھارے ساتھ آفس جائے گا وہ بھی اپنے مان کی طرح کا ہے جب دل کیا تو کام کر لیا۔۔۔۔!!!
رابعہ نے ہنستے ہوئے علیدان کو کہا جو اپنی ماں کی بات سن کر خود بھی مسکرا پڑا۔۔۔۔
کوئی بات نہیں ماما آکف بھی میرے لیے مان کی طرح کا ہے جب اس کا دل کرے گا آجاۓ گا آفس۔۔۔۔!!! علیدان نے پانی کے گلاس کو پکڑتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
السلام علیکم ماما۔۔۔۔!!!
آرزو نے بیٹھے ہوئے اپنی ماں کو سلام کیا۔۔۔
آرزو بیٹا آپ کے امتحان کب ہیں۔۔۔۔؟؟؟ رابعہ نے سلام کا جواب دینے کے بعد پوچھا۔۔۔۔
ماما ابھی تھوڑا وقت ہے۔۔۔۔!!! آرزو نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔
ماما بھائی واپس کب آرہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟ آرزو نے رابعہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
بیٹا اللہ جانے تمھارے باپ کے لاڈ پیار کا نتیجہ ہے اب وہ کسی کی سنتا نہیں ہے اب عظیم بھائی بھی اپنی فیملی کے ساتھ یہاں آرہی ہے جو کچھ ماہ یہاں ہی رہے گئے لیکن میرے پیارے بیٹے مان کو کوئی پرواہ نہیں ہے وہ کینڈا ہی رہنا چاہتا ہے جب دل کرے گا آجائے گا۔۔۔۔!!!
رابعہ نے غصے میں کہا جبکہ اپنے چاچو کی فیملی کے آنے کا سن کر آرزو کے چہرے پر ایک سایہ سا کر گزرا تھا۔۔۔۔
ماما آپ فکر مت کریں ابھی اسے انجوائے کرنے دیں۔۔۔۔!!! علیدان نے مسکراہٹ دبا کر کہا وہ جانتا تھا اس کی ماں کا جواب کیا ہو گا۔۔۔
تم تو کہو گے تمھارا ہاتھ بھی تو ہے ان سب میں تم دونوں باپ بیٹےنے میرے مان کو خراب کر دیا ہے۔۔۔۔!!! رابعہ نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
خدا کا خوف کریں ماما آپ کا لاڈلا تو پہلے سے ہی خراب تھا میں نے اور ڈیڈ نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔!!!
علیدان نے ہنستے ہوئے کہا علیدان کی بات سن کر آرزو بھی اپنے خیالات سے باہر آئی اور اپنے بھائی کی بات سن کر ہنسنے لگی رابعہ نے آرزو کو گھور کر دیکھا تو اس کی ہنسی کو بریک لگی۔۔۔۔
تم دونوں کو معلوم نہیں ہے کھانا کھاتے وقت باتیں نہیں کرتے اس لیے خاموشی سے کھانا کھاؤ۔۔۔۔!!!
رابعہ نے دونوں کو گھورتے ہوئے کہا اور اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہو گی۔۔۔۔
آرزو اور علیدان نے مسکراتے نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور کھانا کھانے لگے۔۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔💞💞