No Download Link
Rate this Novel
Episode 44
یہ کون ہے آکف؟
روبینہ بیگم نے حیرانگی سے آکف کے ساتھ سر جھکائے ایزل کو. دیکھتے ہوئے پوچھا
ماما یہ لڑکی ہے
آکف بے شرارت بھرے لہجے میں کہا
میں جانتی ہوں یہ لڑکی ہے لیکن یہ ہے کون؟
روبینہ بیگم نے آکف کو آنکھیں دکھاتے ہوئے پوچھا۔
ماما یہ ایزل ہے ۔
جس سے میں پاگلوں کی طرح محبت کرتا ہوں ۔اور میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں
اگر آپ کو یا کسی کو بھی ایزل سے مسئلہ ہے تو مجھے ابھی بتا دیں
تاکہ میں کوئی اور بندوست کر لوں
آکف نے روبینہ بیگم کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
اپنے باپ کو بھی یہی سب بول دینا اگر انہوں نے تمھارے منہ پر ایک تھپڑ نا لگایا تو یہ کام میں کر دو گی ۔کچھ زیادہ ہی بڑے ہو گئے ہو اور لگتا ہے بات کرنے کی تمیز بھی بھول چکے ہو۔
روبینہ بیگم نے آکف کو گھورتے ہوئے کہا ۔
سوری موم لیکن
ڈیڈ کو تو آپ سنبھالیں گی
اور میں چاہتا ہوں میری شادی جلد از جلد ہو جائے وہ بھی پورے رسم رواج کے ساتھ
میں سوچ رہا ہوں آج ہی نکاح کی رسم. ادا کر لیتے ہیں اس کے بعد باقی کے سارے فنکشن کر لیں گئے
آکف نے جلد بازی میں اپنا پلان روبینہ کو بتاتے ہوئے خوشی سے کہا۔
اپنے باپ سے بات کر لینا
میں ان سے بات ہرگز نہیں کرو گی اور اگر مجھے مان کی کال نا آتی تو تمھاری اس حرکت پر تمہیں اچھے سے سبق سکھاتی تمھارے ڈیڈ آتے ہی ہونگے ان سے بات کر لینا
اور آرزو بیٹا ایزل کو کمرے میں لے جاؤ روبینہ بیگم نے آرزو کو دیکھتے ہوئے کہا
جو ایزل کو کمرے میں لے گئی
موم آپ کو ایزل کے بارے میں معلوم تھا؟
آکف نے حیرانگی سے پوچھا جس طرح اکف کی بات کو روبینہ نے نارملی لیا اس سے آکف کو یہی لگا کہ اس کی ماں ایزل کے بارے میں پہلے سے جانتی ہے۔
مان نے بتایا اور جو کچھ تم نے اس کے ساتھ کیا وہ سب کچھ بھی وہ مجھے بتا چکا ہے تمہیں زرا بھی شرم نہیں آئی ایزل کے کمرے میں جاتے وقت
اور جو تمہاری پیچھلے دنوں حالت تھی اب مجھے سمجھ آرہا وہ اس لڑکی کی وجہ سے تھی….
موم پلیز میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں
میں ایزل سے معافی مانگ چکا ہوں پلیز آپ بھی اس بات کو یہی ختم کر دیں میں اُس وقت کو یاد نہیں کرنا چاہتا۔اس وقت میں کس قدر تکلیف میں تھا میں آپ کو بتا نہیں سکتا ۔
میں سچ میں شرمندہ ہوں اور میں سب ٹھیک کر دوں گا
آکف نے روبینہ بیگم کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے سنجیدگی سے کہا جو آکف کی بات سن کر خاموش ہو گئی تھیں ۔
میں تمھارے ڈیڈ بسے بات کرتی ہوں
روبینہ بیگم نے کہا اور وہاں سے جانے لگی
موم آپ مجھ سے ناراض ہیں؟
آکف نے بےبسی سے روبینہ بیگم سے پوچھا
تم سے ناراض نہیں ہوں میں بیٹا اور کبھی ہو بھی نہیں سکتی
لیکن آج وہ لڑکی اگر اپنے گھر والوں سے دور ہے تو صرف تمھاری وجہ سے اگر اس کے کردار پر انگلی اٹھائی گئی ہے تو صرف تمھاری نادانی کی وجہ سے
میں تم سے ناراض نہیں ہوں لیکن مجھے یہ سن کر دکھ ہوا کہ میرے بیٹے کی وجہ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے میرا بیٹا کسی کے آنسو کا باعث بنا ہے
روبینہ بیگم نے شرمندگی سے سر جھکائے آکف کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
غلطی بھی تو انسان سے ہی ہوتی ہے موم مجھ بھی ہوئی ہے میرا یقین کریں میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا
آکف نے اپنی ماں سے زیادہ خود کو یقین دلاتے ہوئے کہا ۔
اچھی بات ہے اور میں امید کرتی ہوں تمھاری شادی میں ایزل کا بھائی بھی آئے گا؟
روبینہ بیگم نے اکف کو دیکھتے ہوئے پوچھا
جی انشاءاللہ آکف نے ہلکا سا مسکرا کر کہا
جس پر روبینہ بیگم بھی مسکرا پڑی تھیں اب میں ایزل کے پاس چلتی ہوں
روبینہ بیگم نے کہا اور وہاں سے چلی گئی
یہ سنبھالا ہے معارج ملک نے اس جیسے کمینمے دوست سے اچھے تو دشمن ہیں
اکف نے اپنے تصورات میں مان کا چہرہ لاتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا جس نے کہا تھا ایزل کو لے کر گھر جاؤ میں سب سنبھال لوں گا
💞💞💞💞💞💞
روحی پریشانی کے عالم میں کمرے کے چکر لگا رہی تھی۔
جب کسی نے پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا روحی ڈر کے مارے اچھل پڑی تھی اس نے ڈرتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا اور شاہ کو دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا تھا ۔
کیا ہوا؟
شاہ نے روحی کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا
کچھ بھی نہیں آج آپ نے آنے میں زیادہ دیر نہیں لگا دی؟
روحی نے شاہ سے نظریں چراتے ہوئے کہا
بیگم صاحبہ ابھی تو آٹھ بجے ہیں
اور میں عموماً نو بجے آتا ہوں
تم مجھے مس کر رہی تھی شاہ نے روحی کے چہرے پر اپنی نظریں گاڑھتے ہوئے پوچھا
میں کیوں آپ کو مس کرو گی؟
روحی نے مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا
تم نا سہی لیکن میں تمہیں بہت مس کر رہا تھا شاہ نے روحی کو اپنے بازوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا ۔
شاہ آپ کو بھوک نہیں لگی؟ روحی نے شاہ سے الگ ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
ہاں بہت لگی ہے
میں کھانا لاتی ہوں
روحی نے معصومیت سے شاہ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
مجھے بھوک ضرور لگی ہے لیکن آج میں تمہیں کھانے کا ارادہ رکھتا ہوں
شاہ نے شرارتی لہجے میں کہا
ک کیا مطلب روحی نے شاہ کو دیکھتے گھبرا کر کہا ۔
چلو بتاتا ہوں شاہ نے بنا روحی کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اسے اپنی باہوں میں بھرا تھا ۔
شاہ کیا کر رہے ہیں؟ میں گر جاؤں گی
روحی نے شاہ کا کالر پکڑتے ہوئے چلا کر کہا
فکر مت کرو جب تک میں تمھارے ساتھ ہوں کبھی تمہیں گرنے نہیں دوں گا
شاہ نے روحی کے چہرے کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے خمار آلود لہجے میں کہا ۔
شاہ کے لہجے میں ایسا کچھ ضرور تھا کہ روحی خاموش ہو گئی تھی ۔
شاہ نے کہتے ہی اپنے لب روحی کے ماتھے پر رکھ دیےاور آرام سے اسے بیڈ پر لیٹایا روحی نے آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔
شاہ نے مسکرا کر روحی کی بند آنکھوں کو دیکھا اور باری باری اپنے لب اس کی آنکھوں پر رکھے
شاہ…. روحی نے کچھ کہنا چاہا لیکن شاید نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش کر وا دیا ۔
آج میں تمھارا کسی قسم کا بہانا نہیں سنو گا اس لیے خاموش رہو ۔
شاہ نے تھوڑا سخت لہجے میں کہا اور روحی پر جھکتا چلا گیا جس نے دوبار بولنے کی غلطی نہیں کی تھی ۔
قسمت دور کھڑی اداسی سے دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔آنے والے وقت شاید دونوں کو ایک دوسرے بسے جدا کرنے والا تھا جس سے دونوں ہی لاعلم تھے
💞💞💞💞💞💞
ماما کو معلوم ہے؟ نایاب نے گھر میں داخل ہوتے ہی صائم سے پوچھا
نہیں صائم نے سنجیدگی سے کہا نایاب نے سکون کا سانس لیا
صائم اپنے کمرے میں چلا گیا تھا اور نایاب بھی اس کے پیچھے ہی تھی ۔
صائم نے نایاب کو دیکھا جو اس ہی دیکھ رہی تھی صائم نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا جو اس کے سامنے ہی بیٹھ گئی تھی
صائم نے ایک گہری سانس لیتے اپنی بات کا آغاز کیا
میرے ڈیڈ کا قتل ہوا تھا ۔
ان کی موت حادثاتی بلکل بھی نہیں تھی بلکہ ان کا ایکسیڈنٹ کروایا گیا تھا ۔
نایاب دم سادھے صائم. کو دیکھ اور سن رہی تھی۔
ان کے پارٹنر ریاض نے ان کا ایکسیڈنٹ کروایا تھا تاکہ وہ پوری کمپنی کا اکیلا مالک بن سکے ریاض اور ڈیڈ کا کسی بات کو لے کر جھگڑا ہو گیا لیکن اس سے پہلے وہ ڈیڈ سے دھوکے کے ساتھ کچھ پیپرز پر سائن کروا چکا تھا میں اس وقت گیارہ سال کا تھا ۔ڈیڈ کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے ریاض کو پولیس کی دھمکی دی اور عدالت میں لے جانے کا کہا پولیس کے ڈر سے ریاض نے ڈیڈ کا ایکسیڈنٹ کروا دیا۔
کنزہ ڈیڈ کے پارٹنر ریاض کی بیٹی ہے جس کے نام پر اب میرے ڈیڈ کی کمپنی ہے ۔
خالو جان نے ماما کو بہت سمجھایا کہ ہم پولیس کے پاس جاتے ہیں ریاض پر کیس کرتے ہیں لیکن ناجانے کیوں ماما ہمیشہ منع ہی کرتی آئی شاید ان کو ڈر تھا کہ ریاض ان کے بچوں کو کوئی نقصان نا پہنچا دے
اس لیے خاموش تھیں لیکن میں نے ڈیڈ کی ڈائری پڑھی تھی جس میں انہوں نے سب کچھ لکھا تھا اور میں نے اسی وقت سوچ لیا تھا کہ اپنے ڈیڈ کی کمپنی کو میں واپس لے کر رہو گا۔
اور میرا کام ریاض کی بیٹی کنزہ نے آسان کر دیا اس نے مجھے کسی پارٹی میں دیکھا تھا اور میری دیوانی ہو گئی اور میں نے بھی اس بات کا فائدہ اٹھایا۔
اب میں اپنے مقصد کے بہت قریب ہوں نایاب کل مجھے کنزہ کمپنی کے سارے پیپرز لادے گی اور ایک بار وہ مجھے پیپرز لا دے اس کے بعد میں کنزہ کے باپ کو بھی دیکھ لوں گا
وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہے جس کی ہامی میں نے بھی بھر لی تھی نکاح کی ڈیٹ آج سے تین دن بعد کی ہے لیکن میرا کل کام ہوجائے گا ۔
میں تم سے محبت کرتا ہوں نایاب اور تمہیں دھوکا دینے کا تو سوچ بھی نہیں سکتا
مجھے کمپنی کا لالچی نہیں ہے اللہ نے مجھے میری محنت کا پھل دیا ہے میں بہت خوش ہوں لیکن وہ کمپنی میرے ڈیڈ کی ہے جس پر اس گھٹیا آدمی نے زبردستی قبضہ کیا اب میں بھی اس کے ساتھ وہی کروں گا جو اس نے میرے ڈیڈ کے ساتھ کیا۔
صائم نے نایاب کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے غصے سے کہا
کیا آپ بھی اس کا ایکسیڈنٹ کر وا دیں گئے؟
نایاب نے بے یقینی سے صائم کو دیکھتے ہوئے پوچھا جس پر ناچاہتے ہوئے بھی صائم مسکرا پڑا تھا ۔
نہیں میری جان میں اس آدمی سے صرف کمپنی واپس لینا چاہتا ہوں اور اس گھٹیا انسان کی جان لینے کا میرا کوئی ارادہ نہیں
میرے ڈیڈ نے کمپنی کو زمین سے اٹھا کر آسماں تک پہچا دیا تھا اور ریاض جس کے کمپنی میں دس پرسنٹ شئیرز تھے پوری کمپنی پر قبضہ جما کر بیٹھ گیا
لیکن اب میں اپنے ڈیڈ کی کمپنی واپس لے کر ہی سکون سے بیٹھوں گا
صائم نے پر عزم لہجے میں کہا ۔
ایم سوری صائم
نایاب نے صائم کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے شرمندگی سے کہا
مجھے تمھاری سوری نہیں چاہیے بیگم صاحبہ
صائم نے سنجیدگی سے کہا
تو کیا چاہیے؟ نایاب نے صائم کو دیکھتے ہوئے ناسمجھی پوچھا
۔
جو مجھے چاہیے میں خود ہی لے لوں گا
تم بس اپنی آنکھیں بند کر لو صائم نے نایاب کے ہونٹوں پر اپنی نظریں مرکوز کرتے ہوئے خمار آلود لہجے میں کہا ۔
نایاب ابھی بھی نا سمجھی سے صائم کو دیکھ رہی تھی صائم نے نایاب کی آنکھوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور نایاب کے رخسار پر اپنے لب رکھ دیے ۔
نایاب صائم کے لمس سے ایک دم کانپ سی گئی تھی ۔
یہی عمل صائم نے نایاب کی دوسری گال ہر دہرایا اور اس کی آنکھوں سے ہاتھ پیچھے کر کر لیا جو ابھی بھی اپنی آنکھیں زور سے بند کیے بیٹھی تھی۔
صائم نایاب کے سرخ ہوتے گال دیکھ کر قہقہہ لگائے ہنسنے لگا تھا ۔
نایاب نے اپنی آنکھیں کھولی اور بنا صائم کے چہرے کو دیکھے اس کے سینے میں منہ چھپا لیا ۔
صائم نے پیار سے نایاب کے بالوں پر لب رکھے اور ان میں اپنی انگلیاں چلانے کے ساتھ کل کے بارے میں بھی سوچنے لگا ۔
💞💞💞💞💞💞
علیدان گھر واپس آگیا تھا اور اس کی واپسی کا صرف رابعہ کو ہی علم تھا ۔
شاداب ملک سے باہر گئے تھے اور معارج بھی گھر پر موجود نہیں تھا ۔
رابعہ تو علیدان کو اتنے دنوں بعد دیکھ کر خوشی سے پاگل ہونے کو تھی ۔
ماما گھر میں اتنی خاموشی کیوں ہے؟
علیدان نے ارد گرد دیکھتے ہوئے پوچھا
تمھارے جانے کے بعد اسی طرح گھر میں خاموشی رہتی ہے
تم بیٹھو میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں پھر دونوں ڈھیر ساری باتیں کریں گئے
رابعہ بیگم نے علیدان کو. دیکھتے ہوئے پیار سے کہا اور کچن میں کی طرف چلی گئی۔
مہرو جو مروہ کے لیے دودھ لینے کچن کی طرف جارہی تھی علیدان ملک کو دیکھ کر شوکڈ ہوئی وہی علیدان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی ۔
کیسی ہو ڈارلنگ؟ علیدان نے مہرو کو دیکھتے ہوئے لوفرانہ انداز میں پوچھا
لیکن مہرو خاموشی سے علیدان کو گھور رہی تھی
ویسے ماننا پڑے گا
تمھارا شوہر سچ میں قابل تعریف ہے ۔ایک طوائف پر اس قدر بھروسہ کرتا ہے
علیدان نے اپنی پیچھلی بات کا حوالہ دیتے ہوئے متاثرکن لہجے میں کہا اسے پوری امید تھی کہ اس بار مان اور مہرو میں ضرور لڑائی ہو گی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا
علیدان کو کافی حیرت بھی ہوئی تھی ۔
مہرو علیدان کی بات کو اگنور کیے وہاں سے جانے لگی کہ علیدان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اس بار مہرو غصے میں مڑی اپنا ہاتھ علیدان کے ہاتھ سے جھٹک کر ایک زور دار تھپڑ اسے دے مارا ۔ابھی علیدان پہلے تھپڑ سے ہی نہیں سنبھلا تھا کہ مہرو نے دوسرا تھپڑ بھی اسے دے مارا ۔
یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ علیدان کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا ۔
علیدان نے خونخوار نظروں سے مہرو کو دیکھا جو آنکھوں میں نفرت لیے علیدان کو دیکھ رہی تھی ۔
آئندہ اگر مجھے اپنے ناپاک ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو تمھارے ہاتھ توڑ دوں گی۔
مہرو نے حقارت سے علیدان کو دیکھتے ہوئے تنبیہ کرتے کہا ۔
تمھاری اتنی ہمت علیدان نے کہتے ہی مہرو کو بالوں سے دبوچا اس کی پکڑ اتنی سخت تھیں کہ مہرو چیخ پڑی تھی ۔
یہ کیا ہو رہا ہے؟
مقابل کی کرخت آواز نے علیدان کو گھبرانے پر مجبور کر دیا تھا…..
💞💞💞💞💞💞
