No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
سویرا تم کہاں جا رہی ہو؟ ثناء نے سویرا سے پوچھا جو اپنا نقاب ٹھیک کر رہی تھی
یہ ایک چھوٹا سا محلہ تھا گھر ساتھ ساتھ بنے ہوئے تھے کوئی بھی دوسرے کے گھت میں دیکھ سکتا تھا چھتیں ساتھ ساتھ تھی
سویرا کی سہیلی جو ساتھ والے گھر میں ہی رہتی تھی اس نے سویرا کو تیار ہوتے دیکھا تو تجسس کے مارے پوچھ بیٹھی ۔
سویرا نے ثناء کو ایک گھوری سے نوازا اور دوبارہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئ ۔
ثناء کو سویرا کے رویے پر بہت غصہ آیا
اور غصے میں وہاں سے ہٹ گئ لیکن دل میں اس نے عہد کیا اب اگر سویرا نے اس کی مدد مانگی تو کبھی نہیں کرے گی….
سویرا نے اپنا چھوٹا سا پرس پکڑا اور گھر سے باہر نکل گئ۔
سویرا کو پاس والی مارکیٹ سے کچھ سامان لانا تھا ۔
سویرا اپنے دھیان چل رہی تھی ۔جب کسی نے پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
سویرا نے ڈر کے مارے ایک دم اس شخص کا ہاتھ جھٹکا ۔
پیچھے دیکھنے پر معلوم ہوا سامنے کھڑا شخص وہی مال والا لڑکا تھا
آپ؟ سویرا نے حیرانگی سے پوچھا۔
جی میں ایکچولی آپ کا یہ بریسلٹ میری گاڑی میں رہ گیا تھا ۔
تو یہی واپس کرنے آیا ہوں مجھے لگا یہ آپ کے لیے اہم ہو گا
بازل نے مسکراتے ہوئے کہا آنکھوں پر کالی گلاسس لگائے وائٹ شرٹ کے بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے تھے
بلیو جینز میں بازل کی شخصیت مزید نکھری نکھری لگ رہی تھی ۔
سویرا نے اب گھور سے بازل کو دیکھا تھا بےشک سامنے کھڑا شخص بہت خوبصورت تھا ۔ آپ نے فضول میں زحمت کی پہلے ہی آپ بہت زیادہ میری مدد کر چکے ہیں
سویرا نے بریسلٹ کو پکڑتے ہوۓ شرمندگی سے کہا ۔
اب آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں اگر آپ کی جگہ کوئی اوربھی ہوتا تو میں اس کی بھی مدد کرتا ۔بازل نے ہلکا سا مسکرا کر سویرا کی شرمندگی کم کرتے ہوئے کہا ۔
لیکن آپ کو کیسے پتہ چلا میں یہاں رہتی ہوں سویرا نے بازل کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا کیونکہ سویرا نے اپنے گھر کا ایڈریس بازل کو نہیں بتایا تھا ۔
نکاب میں سویرا کی بڑی بڑی آنکھیں جو کاجل سے بھری ہوئی تھیں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں ۔
جب آپ رکشے میں بیٹھ گئ تھیں تو آپ کے پیچھے گھر تک آیا تھا جو کچھ مال میں ہوا اس کی وجہ سے مجھے لگا کہی راستے میں. آپ کو کوئی پریشانی نا ہو…..
بازل نے صفائی سے جھوٹ بولتے ہوئے سویرا کو مطمئن کیا اور سویرا نے بازل کی بات پر یقین بھی کر لیا ۔
آپ نے میری بہت مدد کی ہے اس کے لیے میں آپ کی شکر گزار ہوں ۔
اب میں چلتی ہوں سویرا نے بازل کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گئ ۔جب اچانک کچھ یاد آنے پر پلٹی بازل کھڑا پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سویرا کو ہی دیکھ رہا تھا ۔
ویسے آپ کا نام کیا ہے؟ سویرا نے پوچھا؟
لیکن جلد ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ۔ایم سوری سویرا نے آہستہ آواز میں کہا اور وہاں سے جانے لگی
بازل میرا نام بازل ہے
بازل نے سویرا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔
اووو بہت اچھا نام ہے سویرا سے جب کوئی بات نہیں بنا تو جلدی سے کہہ کر وہاں سے بھاگنے والے انداز میں چلنے لگی ۔
بازل سویرا کی پھرتی دیکھ کر ہنس پڑا تھا ۔
💖————💖
عرشمان بیٹا تمھاری پیکنگ ہو گئی یا ہیلپ کی ضرورت ہے روبینہ بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اپنے چھوٹے بیٹے سے پوچھا
جو فون پر کسی سے بات کر رہا تھا
میں بعد میں بات کرتا ہوں
عرشمان نے مقابل کو کہا اور فون بند کر کے اپنی ماں سے مخاطب ہوا
ماما پیکنگ تو میری ساری ہو گئی ہے
آپ بھائی سے پوچھ لیں یقیناً انہوں نے پیکنگ نہیں کی ہو گی عرشمان نے ہنستے ہوئے اپنی ماں کو کہا اور روبینہ بیگم کو بیڈ پر بیٹھا کر ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا ۔
کیا ہوا بیٹا؟ تم مجھے کچھ پریشان لگ رہے ہو؟ روبینہ بیگم نے عرشمان کے بالوں میں انگلیاں چلاتے پوچھا
جو انکھیوں موندے لیٹا تھا ۔
ماما میں پریشان نہیں ہو بس یہی سوچ رہا تھا ہم پاکستان میں الگ گھر لے کر بھی تو رہ سکتے ہیں تایا ابو کے گھر میں رہنا ضروری تو نہیں ہے
عرشمان نے دھیمے لہجے میں کہا
بیٹا ہمارا گھر بن رہا ہے جو کچھ وقت میں مکمل ہو جائے گا
تمھارے ڈیڈ کا ارادہ بھی کسی ہوٹل وغیرہ میں رہنے کا تھا لیکن جب بھائی صاحب کو معلوم ہوا تو انہوں نے صاف صاف منع کر دیا
لیکن تمہیں اُس گھر میں رہنے سے کیا مسئلہ ہے؟ روبینہ بیگم نے ساری تفصیل بتاتے ہوئے آخری بات حیرانگی سے پوچھی
ماما مسئلہ نہیں ہے میرا بچپن اُس گھر میں گزرا ہے بس دماغ میں سوال چل رہا تھا اس لیے پوچھ لیا
عرشمان نے اُٹھ کر اپنی ماں کے ہاتھوں پر بوسہ دیتے ہوئے کہا ۔
عرشمان کی بات نے زیادہ تو نہیں لیکن تھوڑا بہت روبینہ بیگم کو مطمئن کر دیا تھا ۔
تم کہتے ہو تو مان لیتی ہوں لیکن اگر تمہیں کوئی مسئلہ ہو تو مجھے بتا سکتے ہو
روبینہ بیگم نے پیار سے کہا
یس ماما عرشمان نے مسکراتے ہوئے کہا
میں تمھارے بھائی سے بھی پوچھ لیتی ہوں پتہ نہیں وہ جاگا بھی ہے یا ابھی تک سو رہا ہے روبینہ بیگم نے عرشمان کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا اور کمرے سے باہر چلی گئ…
روبینہ بیگم کے جاتے ہی عرشمان اپنے کمرے کے ٹریس کی طرف چلا گیا..
کیسے گزرے گئے یہ کچھ دن اس گھر میں
تمھاری شکل بھی اب میں دیکھنا پسند نہیں کرتا
لیکن اب مجھے تمھاری شکل روز دیکھنی پڑے گی اور برداشت کرنا پڑے گا
عرشمان نے اُس دشمنِ جان کا چہرہ اپنی نظروں کے سامنے لاتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
اُس کے بارے میں. سوچتے ہی ایک سال پہلے کا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا اور اُس تکلیف دہ منظر میں کھو گیا ۔
💖————💖
مان بیٹا آکف کہاں ہے؟ اس کی پیکنگ مکمل ہو گی ؟ روبینہ بیگم نے آکف کے روم سے باہر نکلتے مان سے پوچھا ۔
چچی جان وہ تو ابھی تک سو رہا ہے
مان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
اچھا میں دیکھتی ہوں اسے مجھے معلوم تھا آکف ابھی تک سو رہا ہو گا اور مان مجھے تم سے بھی بات کرنی تھی تم بھی ہمارے ساتھ ہی چلتے تو زیادہ اچھا ہوتا
روبینہ بیگم نے مان کو دیکھتے ہوئے کہا
چچی جان آپ پریشان نا ہو دو دن کا کام ہے مجھے یہاں پر وہ ہوتے ہی میں آجاؤ گا
مان نے سنجیدگی سے کہا اب چہرے پر پہلےوالی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی ۔
ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی روبینہ بیگم نے ہلکا سا مسکرا کر کہا ۔
اور آکف کے کمرے میں کی طرف چلی گئی ۔
مان نے گہرا سانس لیا اور گھر سے باہر نکل گیا
💖————💖
اگلے دن معارج کوٹھے پر موجود سلمیٰ بائی کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا آج اس نے فل بلیک شلوار قمیض ساتھ کندھے پر سکن کلر کی شال رکھے ہوئے نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہا تھا اس کا وجیہہ چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے پاک تھا سلمیٰ پریشان سی معارج کے پاس کھڑی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کس طرح بات کا آغاز کرے..
سلمیٰ بائی تم اچھی طرح جانتی ہو اگر میں چاہو تو ایک دن کے اندر اندر تمھارا کوٹھا خالی کروا سکتا ہوں تمہیں سڑک پر لا سکتا ہوں
معارج نے تیکھی نظروں سے سلمیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
ملک صاحب میں اچھے سے جانتی ہو آپ کیا کچھ کر سکتے ہیں
لیکن میری بات کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں میں نے مہرو سے بات کی تھی وہ نہیں مانی اسے پیسوں سے غرض نہیں ہے
سلمیٰ بائی نے پریشانی سے کہا وہ معارج کی بات کا مطلب اچھے سے سمجھ گئی تھی ۔
سلمیٰ بائی مہرو کیا چاہتی ہے کیا نہیں وہ معنی نہیں رکھتا اگر معنی رکھتی ہے تو وہ میری بات ہے ۔
پہلی طوائف دیکھی ہے جو سو سو نخرے کر رہی ہے معارج نے تمسخرانہ انداز میں کہا جب جواب سلمیٰ بائی کی بجائے مخالف وجود سے آیا جس نے جواب کے بدلے سوال پوچھا
مہرو کا سوال سن کر معارج کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا ۔
کتنی طوائفوں سے آپ کا پالا پڑ چکا ہے ملک صاحب؟
مہرو نے سیمپل پرنٹڈ وائٹ سوٹ پہنا تھا گلے میں ڈوپٹہ نا ہونے کے برابر تھا بنا میک اپ کے مہرو کا سادہ سا چہرہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا جتنی وہ میک اپ میں خوبصورت لگتی تھی بنا میک اپ کے زیادہ حسین تھی
معارج کی ساری توجہ کا مرکز اب سامنے کھڑی مہرو پر تھا ۔جو سینے پر ہاتھ باندھے ملک کو سنجیدگی سے دیکھ رہی تھی اور جواب کی طلبگار تھی ۔
تم پہلی اور آخری ہو
تمہیں دیکھنے کے بعد کسی دوسری کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی
ملک نے مہرو کے سامنے کھڑے مہرو کی خوبصورت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دلکشی سے کہا۔
سلمیٰ جاؤ یہاں سے معارج نے بنا مڑے سلمیٰ کو کہا جو دونوں کو اکیلا چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی ۔
جانتی ہو تمھارے بارے میں میں پوری رات سوچتا رہا ۔تم مجھے ایک مشکل سی پہیلی کی طرح کی لگی ہو اور مجھے مشکل پہلیاں سلجھانے کا بہت شوق ہے۔
معارج نے مہرو کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دلکشی سے کہا ۔
اور جانتے ہو ملک جی مجھے صرف وہی سلجھا سکتا ہے جیسے میں سلجھانے اجازت دوں مہرو نے بھی معارج کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دوبدو جواب دیا ۔
انٹرسٹنگ مجھے بہادر عورتیں پسند ہے ۔
معارج نے مہرو کے ہونٹ کے کنارے پر انگوٹھا پھیرتے ہوئے کہا ۔دونوں اتنے قریب کھڑے تھے کہ فاصلہ نا ہونے کے برابر تھا
معارج کے ہاتھ لگانے پر مہرو کو اپنے جسم میں کرنٹ سا دوڑتا ہوا محسوس ہوا اس سے پہلے مہرو ملک سے پیچھے ہوتی معارج نے دوسرے ہاتھ سے مہرو کے بازو کو پکڑ کر خود کے قریب کیا ۔
معارج کی حرکت پر مہرو معارج کے سینے سے ٹکراتی اس نے معارج کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دونوں کے درمیاں فاصلہ قائم کیا جو نا ہونے کے برابر ہی تھا ۔
مہرو نے غصے سے سرخ ہوتی آنکھیں. معارج ملک کی آنکھوں گاڑھتے ہوئے غرائی۔
یہ کیا بدتمیزی ہے ہاتھ چھوڑو میرا
مہرو نے کہا
مجھ سے پوچھوں گی نہیں پوری رات تمہیں سوچنے کے علاوہ میں نے فیصلہ کیا
تمھارے لیے میں نے ایک بہت اہم فیصلہ کیا
ویسے تو تمھاری مرضی بلکل بھی نہیں چلے گی جاناں…
لیکن پھر بھی میں تمہیں بتا دیتا ہوں ملک نے مہرو کے چہرے پر ماتھے سے لے کر ٹھوڑی تک اپنی انگلی سے لائن کھینچے ہوئے بہکے لہجے میں کہا اس سے پہلے معارج کی انگلی گردن سے نیچھے جاتی مہرو نے معارج کا ہاتھ پکڑ لیا
کیا سوچا؟
مہرو نے دھڑکتے دل سے معارج کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
معارج نے پہلے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا جو مہرو کی گرفت میں تھا پھر مہرو کی شکل دیکھ کر ہنس پڑا ۔
جاناں میں نے تمھارے ساتھ رات گزرانے کا ارادہ ترک کر دیا ہے ۔
معارج نے مہرو کے چہرے پر اپنی نظریں گاڑھتے ہوئے کہا جہاں مسکراہٹ کی جگہ سردمہری نے لے لی تھی ۔
اب میں تمہیں پوری زندگی کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔
مہرو ابھی معارج کی پہلی بات پر تھوڑی پرسکون ہوئی جب اس کی دوسری بات پر اس نے ملک کو اس طرح دیکھا جیسے ملک کا دماغ پھیر گیا ہو۔
ملک صاحب آپ کو اپنے دماغ کا علاج کروانا چاہیے مہرو اپنا پورا زور لگاتے ہوئے ملک سے الگ ہوئی
جاناں تمھارا ماننا یا نا ماننا اہم نہیں ہے
تو میری بات غور سے سنو تم معارج ملک کے دل کو بہا گئی ہو ۔اور معارج ملک تمہیں اپنی رکھیل بنانا چاہتا ہے ۔
معارج نے سرد اور پتھریلے لہجے میں مہرو کو دیکھتے ہوئے کہا جو آنکھیں پھاڑے معارج کو دیکھ رہی تھی….
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔💞💞
خبر دار اگر کسی نے شارٹ کا شر مچایا کیونکہ میرا ارادہ آج ایپی دینے کا نہیں تھا ۔
بس مجھے اپنے ان ریڈرز کا خیال ہے جو لائیک اور کمنٹس کرتے ہیں یہ ایپی ان کے لیے ہے اپنی رائے ضرور دیں 😇
