Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40


آرزو سفیان کے بازوں میں ہی جھول گئی تھی۔
سفیان نے ارد گرد نظریں گھمائی راستہ صاف دیکھ کر اس نے آرزو کو اپنے کندھے پر ڈالا اور وہاں سے نکلنے لگا ۔
لیکن فون پر بات کرتے عرشمان کی نظر دور سے ہی آرزو پر پڑی تو اسے پہچاننے میں ایک سیکنڈ لگا کہ یہ آرزو ہی ہے ۔وہ فون پر بات کر کچھ زیادہ ہی آگے نکل گیا تھا ۔
عرشمان بھاگتا ہوا سفیان کے قریب آیا اور اسے پیچھے گردن سے دبوچا ۔
سفیان کی آرزو پر گرفت ہلکی ہوئی اور وہ سیدھی زمین پر جا گری تھی۔
کمینمے تیری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی عرشمان نے سفیان کی ناک پر ایک زور دار گھونسا مارتے ہوئے دھاڑ کر کہا۔
اس نے سفیان کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا تھا اور اس پر تھپڑوں کی بارش برسانے لگا وہ تو اس اچانک افتاد پر بوکھلا گیا تھا آرزو زمین پر ایک طرف گری پڑی تھی۔
آس پاس کے دکان دار باہر آگئے اور عرشمان کو سفیان سے الگ کیا۔
بھائی صاحب کیا ہوا ہے؟ کیوں آپ اسے مار رہے ہیں؟
ان آدمیوں میں سے ایک نے آگے بڑھتے عرشمان سے پوچھا جو خونخوار نظروں سے سفیان کو دیکھ رہا تھا سفیان زمین پر بیٹھا اپنے ناک سے نکلتے خون کو صاف کرنے میں مصروف تھا ۔
یہ کمینہ میری بیوی کو بےہوش کرکے پتہ نہیں کہاں لے کر جا رہا تھا اس کی تو میں جان لے لوں گا۔
عرشمان نے غصے میں کہا اور دوبارہ سفیان کی طرف بڑھانے لگا ۔
لیکن وہاں کھڑے آدمیوں نے اسے روک دیا
بھائی صاحب آپ اپنی بیوی کو لے کر گھر جائے اس کو ہم سنبھال لیں گئے ایک آدمی نے عرشمان کو دیکھتے ہوئے کہا
عرشمان جلدی سے آرزو کے پاس گیا اور اسے اپنی باہوں میں بڑھ کے وہاں سے لے جانے لگا
لیکن مڑ کر سفیان کی طرف دیکھا
اور کرخت لہجے میں وہاں کھڑے آدمیوں کو کہا۔
اس کمیننے کو اتنا مارنا کہ دوبارہ کبھی کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھ سکے
عرشمان نے کہا اور آرزو کو لے کر وہاں سے چلا گیا۔
اور پھر وہاں کے موٹے دکان داروں نے مل کر سفیان کی اچھی خاصی دھلائی کی تھی اتنا تو پکا تھا کہ ایک مہینے تک وہ بیڈ سے نہیں اٹھ پائے گا۔
💗💗💗💗💗💗
کہاں سے آرہے ہو؟ اور میں نے تم سے کیا بکواس کی تھی؟
مان نے گھر میں داخل ہوتے اکف کو دیکھتے چہرے پر تیوری چڑھائے پوچھا
جو نظریں جھکائے کھڑا تھا۔جیسے کچھ سوچ رہا ہو ۔
تم کیوں نہیں میری بات سنتے؟ آخر مسئلہ کیاہے تمھارے ساتھ پہلے خود تو ٹھیک ہو جاؤ پھر محبت کے چکر میں بھی پڑ جانا ۔
مان نے دانت پیستے ہوئے کہا اسے خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس طرح وہ سامنے کھڑی مجنوں کو سمجھائے ۔
مان میں نے سوچ لیا ہے اور میں اچھے سے جانتا ہوں کہ کیسے ایزل کو ہینڈل کرنا ہے
آکف نے اپنے دماغ میں ایک پلان کو ترتیب دیتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔
مان آکف کے ایک دم بدلتے چہرے کے تاثرات دیکھ کر حیران ہوا تھا اس سے پہلے مان سامنے کھڑے اپنے کم. عقل بھائی کو عقل دیتا
روبینہ بیگم وہاں آگئی تھیں ۔
آکف کہاں رہ گئے تھے تم؟ ابھی بھی تمہیں سکون نہیں مل رہا اتنی چوٹیں لگی ہے اور تمہیں گھومنے پھرنے سے فرصت نہیں مل رہی
روبینہ بیگم آتے ہی شروع ہو گئی
ان کو پہلے ہی آکف پر بہت غصہ تھا ۔
میری پیاری ماں آپ اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہیں گاڑی میں کچھ مسئلہ ہو گیا تھا اس لیے آنے میں تھوڑا وقت لگ گیا ۔
آکف نے اپنی ماں کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
اور مان پیچھے سوچ میں پڑ گیا کہ اب آکف کیا کرنے والا ہے؟
💗💗💗💗💗💗
کس سے بات کر رہی تھی؟
شاہ نے سرسری انداز میں روحی سے پوچھا وہ پوچھنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن جس طرح روحی ہنس ہنس کر فون پر بات کر رہی تھی تو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر پوچھنا پڑا گیا کیونکہ شاہ کو اتنا یقین ضرور تھا کہ جس سے روحی بات کر رہی ہے وہ آرزو تو ہرگز نہیں ہو سکتی اور یہی بات شاہ کو کھٹک رہی تھی۔
وہ میں کزن سے بات کررہی تھی روحی نے عام سے لہجے میں کہا ۔
کون سا کزن؟ شاہ کا لہجہ پل بھر میں سرد ہوا تھا لیکن شاید روحی نے نوٹ نہیں کیا
وہی میرا ایکس روحی نے شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا لیکن شاہ کا غصے سے سرخ ہوتا چہرہ اور تنے ہوئے جبڑے دیکھ کر اس کی آدمی بات منہ میں ہی رہ گئی۔
تو پیچھلے ایک گھنٹے سے تم اپنے ایکس منگیتر سے بات کر رہی تھی
شاہ نء روحی کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے اس کے کان کے پاس غراتے ہوئے پوچھا۔
روحی پہلے تو ناسمجھی سے شاہ کو دیکھتی رہی لیکن بعد میں جب اسے معلوم ہوا کہ شاہ کیوں غصہ ہو رہا ہے تو اسے کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے۔
جی بلکل تو کیا میں اپنے کزن سے بات نہیں کر سکتی؟ روحی نے بھی شاہ کو تھوڑا تنگ کرنے کا سوچا اور سنجیدگی سے شاہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
جو اب روحی کو گھور رہا تھا لیکن شاہ کی انگلیاں جب اسے اپنی کمر میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئی تو دل نے کہا روحی غلط ٹائم پر غلط بات بول چکی ہے
اب شاہ کے غصے کو بھگت
ایسی کون سی باتیں تھی جو دونوں بہن بھائیوں میں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی شاہ نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
روحی کے چہرے پر شاہ کی بات پر پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی
تمہیں کیا میں نے کوئی لطیفہ سنایا ہے جو مسکرا رہی ہو۔
شاہ نے روحی کو مزید خود کے قریب کرتے ہوئے طیش میں کہا۔
آپ جیلس ہو رہے ہیں؟
روحی نے شاہ کے گلے میں بازوں ڈالتے ہوئے مسکرا کر پوچھا ۔
اور شاہ تو اپنی بیوی کی ہمت پر عش عش کر اٹھا تھا
واہ… شاہ نے ایک آبرو اچکاتے ہوئے روحی کو دیکھ کر کہا
آپ نے جواب نہیں دیا؟ روحی نے شاہ نے ماتھے پر بکھرے بالوں کو ہاتھے سے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔
شاہ تو آج اپنی بیوی کی دلیری پر حیران کھڑا تھا ۔
پہلے میرے سوال کا جواب دو پھر میں بھی تمہیں جواب دے دوں گا ۔
شاہ نے روحی کے ہونٹوں پر نظریں جمائے کہا
اُس کی شادی ہو گئی جسے وہ پسند کرتا تھا اور جس سے اس کی شادی ہوئی ہے وہ بھی میری کزن ہی ہے اور میں اس سے بات کر رہی تھی۔
روحی نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔
پھر تم نے ایکس کیوں کہا؟ شاہ نے روحی کو گھورتے ہوئے پوچھا
آپ نے بھی تو میری بات پوری نہیں سنی
اور ویسے بھی میں آپ کو تنگ کر رہی تھی اب پیچھے ہٹیں۔
روحی نے شاہ کی بےباک نظروں سے پیچھا چھڑواتے ہوئے کہا اور شاہ سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی جس میں ہمیشہ کی طرح ناکام ہی رہی ۔
تم خود میرے بےحد قریب آئی ہو اب میں بھی معمولی سا انسان ہوں بھٹک سکتا ہوں۔
اور تمھارا یہ خوبصورت سا چہرہ مجھے بھٹکنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
شاہ نے روحی کے چہرے کے ایک ایک نقوش کو عقیدت کے ساتھ اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے کہا۔
روحی نے جھٹ سے اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔
شاہ…. روروحی نے کپکپاتے لبوں سے شاہ کو پکارا جس کا ہاتھ روحی کی کمر پر رینگتے ہوئے اس کے گلے کی ڈوری تک پہنچ گیا تھا۔
ہممم… شاہ نے روحی کی گردن سے بال پیچھے کرتے وہاں لب رکھتے گھمبیر لہجے میں کہا ۔
شاہ آرزو آتی ہی ہو گی
روحی نے کانپتی آواز میں شاہ کو کہا جو اب روحی کی گردن پر اپنی انگلی سے لائن کھینچ رہا تھا ۔
روحی کی بات پر شاہ دل کھول کر ہنسا تھا
ابھی تو میں بھی کچھ کرنے کا رادہ نہیں رکھتا کیونکہ مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے لیکن اگر تم ایسے ہی میرے سامنے کھڑی رہی تو مشکل ہو جائے گا تمھارا مجھ سے بچ کر جانا۔
شاہ نے تھوڑا جھک کر روحی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جو لال ٹماٹر بنی کھڑی تھی ۔
جاؤ اور جب تک میں کمرے میں ہوں باہر ہی رہنا ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔
شاہ نے شرارتی لہجے میں روحی سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا اور روحی میڈم وہاں سے ایسے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ
شاہ روحی کی پھرتی دیکھ کر ہنس پڑا
اسے ابھی سیٹھ کے بارے میں پتہ لگوانا تھا کیونکہ اسے آج ہی سیٹھ کی واپسی کا علم ہوا تھا۔
💗💗💗💗💗💗
مہرو آج ہم شاپنگ پر جائے گئے میں شاور لے لوں تم بھی تیار ہو جاؤ ۔
مان نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ پر بیٹھی مہرو کو دیکھتے ہوئے کہا
جو سبز رنگ کے سوٹ میں کافی نکھری نکھری سی لگ رہی تھی۔
مہرو جانتی تھی آجکل مان بہت مصروف ہو گیا ہے اور اپنی صحت کا بھی خیال نہیں رکھتا بس دوسروں کے بارے میں سوچتا ہے۔
مان ہم پھر کبھی چلے جائے گئے میرے پاس کافی کپڑے ہیں۔
مہرو نے مان کے سامنے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوتے ہوئے کہا
مان نے غور سے مہرو کی طرف دیکھا جو اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو مڑوڑ رہی تھی
مت کیا کرو ان پر اتنا ظلم
مان نے مہرو کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا ۔
اور آج جانے میں کیا برائی ہے؟ مان نے ہلکا سا مسکرا کر پوچھا اور مہرو کے دائیں ہاتھ کی پشت کو اپنے انگوٹھے سے سہلانے لگا
ویسے ہی آپ آرام کر لیں
مہرو نے نظریں جھکا کر کہا۔
شکر ہے میرے بیگم کو میرا تھوڑا بہت خیال تو ہے ورنہ میں سوچ رہا. تھا آج اچھی طرح اپنی بیوی کو شوہر کے حقوق سمجھا دوں
مان نے شرارتی انداز میں مہرو کے ہاتھ کی ہتھیلی پر لپ رکھتے ہوئے کہا جو اس کی گستاخی پر خود میں سمٹ گئی تھی ۔
جس طرح تم نے اس دن یہاں بوسہ دے کر میری ساری تھکن دور کر دی تھی آج بھی کر دو۔
مان نے مہرو کے ہاتھ اپنے دونوں کندھوں پر رکھتے ہوئے کہا جو ششدر کھڑی مان کو دیکھ رہی تھی۔
بیگم صاحبہ میں جاگ رہا تھا اب اتنا حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے شوہر ہوں تمھارا پورا حق رکھتی ہو تم
مان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
میں نے آپ کو آرام کرنے کا کہا ہے لیکن آپ چھچھوڑا پن دکھانے لگے ہیں
مہرو نے مان کو گھورتے ہوئے کہا۔
جب تک تم میری بات نہیں مانو گی تو دونوں اسی جگہ کھڑے رہے گئے اور اگر مروہ رونے لگی تو پھر اس کے پاس کیسے جاؤ گی؟ مان نے سوچنے والے انداز میں کہا۔
آپ کو پتہ ہے آپ بہت برے ہیں مہرو نے مان کو کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا
ہاں جانتا ہوں یار یہ بھی کوئی نئی بات ہے؟
مان نے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر کہا۔
جلدی کرو پھر ہمیں مارکیٹ بھی جانا ہے مان نے کنفیوز سی کھڑی مہرو کو دیکھتے ہوئے کہا
پہلے آپ آنکھیں بند کرو
مہرو نے اپنے لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے مان کو دیکھتے کہا جس نے جھٹ سے آنکھیں بند کر لیں ۔
مہرو نے ایڑیوں کے بل اونچا ہوتے اپنے دونوں ہاتھوں سے مان کے سر کو تھوڑا سا نیچے جھکایا اور اپنے کپکپاتے ہونٹ مان کے ماتھے پر رکھ دیے
مان مہرو کے ہونٹوں کا نرم لمس محسوس کر کے مسکرا پڑا تھا۔
مہرو ایک سیکنڈ کے اندر مان سے پیچھے ہٹی اور چینجنگ روم میں جا گھسی اسکا دل ایک سو بیس کی رفتار سے دھڑک رہا تھا ۔
مان نء آنکھیں کھولی تو سامنے مہرو کو نا دیکھ کر پہلے حیران ہوا پھر ہنس پڑا ۔
ایک کس کرنے پر میڈم کی یہ حالت ہورہی ہے پتہ نہیں مان آگے تیرا کیا ہو گا
مان نے سرد آہ بھرتے ہوئے خود سے کہا اور فریش ہونے چلا گیا ۔
💗💗💗💗💗💗
ایزل میرے مرنے کے بعد ہی تم آزاد ہو سکتی ہو جب تک میری سانس چل رہی ہیں میں تمہیں کسی اور کا ہونے نہیں دوں گا ۔
آکف نے اپنے تصورات میں ایزل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
کیونکہ وہ سوچ چکا تھا کہ اب اسے کیا کرنا ہے لیکن وہ نہیں جانتا تھا اس بار ایزل اس سے دو قدم آگے ہیں جو کچھ ایزل کے دماغ میں چل رہا تھا اگر آکف کو پتہ چل جاتا تو یقیناً صدمے سے بے ہوش ہو جاتا
💗💗💗💗💗