No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
سیٹھ صاحب لگتا ہے کسی نے بہت اچھی طرح آپ کی دھلائی کی ہے۔
کون ہے وہ مجھے بھی تو پتہ چلے
سیٹھ کے چہیتے آدمی نے ہنستے ہوئے پوچھا
بکواس بند کرو اپنی ملک نے مجھ سے پنگا لے کر اچھا نہیں کیا ۔
اب دیکھنا میں اس کے ساتھ کیا کرتا ہوں
سیٹھ نے غصے میں کہا ابھی تو اس سے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا
سیٹھ جی پہلے آپ خود کو ٹھیک کر لیں پھر ملک کو بھی دیکھ لینا
اور ہاں جس طوائف پر آپ کی نظر ہے پہلے سے ہی اُس کے امید وار بہت زیادہ ہیں میں نے آج ہی معلوم کروایا ہے۔
سیٹھ کے آدمی نے ہنستے ہوئے کہا
اور کون ہیں؟
سیٹھ نے حیرانگی سے پوچھا
ریان شاہ کو تو آپ جانتے ہی ہو اور ملک صاحب بھی اس طوائف کے پیچھے ہیں تو بہتری اسی میں ہے کہ آپ وہاں ہاتھ نا ڈالے ابھی تو اکیلا ملک تھا جب تینوں اکٹھے ہو گئے تو سیدھا اوپر پہنچا دے گے۔
سیٹھ کے آدمی نے ڈراتے ہوئے کہا
مہرو میری ہے اور جب تک میں اسے حاصل نہیں کر لیتا سکون سے نہیں بیٹھوں گا
سیٹھ نے غصے میں کہا
بیٹھا تو ابھی بھی آپ سے نہیں جا رہا اس آدمی نے منہ میں بڑبڑاتے ہوۓ کہا ۔
جس پر سیٹھ نے گھور کر اس کی طرف دیکھا تو اُس ادمی کے منہ کو بریک لگی ۔
جا کھانے کا انتظام کر سیٹھ نے حکمیہ لہجے میں کہا تو وہ آدمی کمرے سے باہر چلا گی
💖💖💖💖💖💖
روبینہ کہاں ہے؟
قاسم نے ملازمہ سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے پوچھا
صاحب وہ روحی کو معلوم ہے مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم
ملازمہ نے نظریں جھکا کر کہا
اچھا ٹھیک ہے گھر میں کون کون ہے؟
قاسم نے پانی کا گھونٹ پیتے ہوئے پوچھا
صاحب روحی اور میں ہوں
کھانا بن گیا ہے میں بھی اپنے کوارٹر میں جا رہی ہوں ۔
ملازمہ کی بات قاسم شاہ کی آنکھوں میں چمک لے آئی تھی
ٹھیک ہے تم جاؤ میں روحی سے روبینہ کے بارے میں پوچھ لوں گا
قاسم شاہ نے سنجیدگی سے کہا اور اُٹھ کر روحی کے کمرے کی طرف چل پڑا
ملازمہ وہاں سے چلی گئ ۔
قاسم شاہ روحی کے کمرے میں داخل ہوا تو کمرا خالی تھا
اور واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی
قاسم شاہ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لاتے ہوئے کمرے اندر آیا اور کمرے کو لاکڈ کر دیا ۔
روحی شاور لے کر باہر نکلی تو اپنے کمرے میں قاسم شاہ کو دیکھ کر ڈر گئی تھی اس نے جلدی سے بیڈ پر پڑا اپنا ڈوپٹہ اٹھایا اور خود کو کور کیا
قاسم شاہ اپنی غلیظ نظروں میں خباثت لیے روحی کو دیکھ رہا تھا ۔
آپ کو کچھ کام تھا روحی نے سنجیدگی سے پوچھا جبکہ دل اس کا بہت زوروں سے دھڑک رہا تھا
روبینہ کہاں ہے؟ قاسم شاہ نے روحی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے پوچھا
وہ اپنی فرینڈ کی طرف گئی ہیں آنے ہی والی ہو گی
راحی نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا ۔
تم ڈر کیوں رہی ہو میں تو بس تم سے بات کرنے آیا تھا
قاسم شاہ نے روحی کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔
کو کون سی بات روحی نے کپکپاتے لہجے میں پوچھا
تم اتنی خوبصورت کیوں ہو؟ قاسم شاہ نے بہکے ہوئے لہجے میں کہا اور اپنے ہاتھ سے روحی کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرنے لگا۔
اس سے پہلے قاسم شاہ کا ہاتھ روحی کے چہرے سے ٹکراتا اس نے قاسم شاہ کے ہاتھ کو زور سے جھٹک دیا تھا
کیا کر رہے ہیں آپ؟
روحی نے لہجے میں مضبوطی لاتے ہوئے کہا
بےشک ڈر سے اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھی لیکن قاسم شاہ کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی ۔
تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں بس اتنی سی خواہش ہے
پوری کر دو پھر جانے دوں گا
قاسم شاہ نے ذومعنی انداز میں کہا
شرم کریں میں آپ کی بیٹی جیسی ہوں
روحی نے قاسم شاہ کو نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا
بیٹی تو نہیں ہو نا قاسم شاہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔
اور ہاں تم مجھے اچھی لگتی ہو
تو میرے بیٹے سے دور رہا کرو اور اگر کسی کو بھی کچھ بھی بتانے کی کوشش کی تو سب سے پہلے تمھاری ماں کو اس دنیا سے رخصت کروں گا۔
اور تم جانتی ہو قاسم شاہ کیا کچھ کر سکتا ہے ۔
ابھی میں چلتا ہوں روبینہ آنے والی ہو گی اب تو ہماری بات چیت ہوتی رہے گی
اپنا خیال رکھنا
قاسم شاہ نے ہنستے ہوئے کہا اور روم سے نکل گیا۔
روحی کا دل کر رہا تھا خود کو کچھ کر لے
اگر کسی کو بتاتی بھی تو کسی نے یقین نہیں کرنا تھا اور اگر قاسم شاہ نے سچ میں اس کی ماں کو کسی قسم کا نقصان پہنچا دیا تو روحی قاسم شاہ کا کیا بگاڑ سکتی تھی۔
کافی دیر سوچنے کے بعد روحی ایک فیصلے پر پہنچی
اور اس پر عمل اس نے اپنی ایک اکلوتی دوست سے پوچھ کر کرنا تھا ۔
💖💖💖💖💖💖
اگلے دن روحی یونی میں خاموش خاموش سی تھی گھر میں بھی ایسی ہی تھی روبینہ کے علاوہ شاہ نے بھی محسوس کیا تھا اس کا چہرا بھی مرجھایا ہوا تھا ۔
روحی کیا ہوا سب ٹھیک ہے آج تم چپ چپ سی ہو
آرزو نے حیرانگی سے پوچھا
آرزو مان سے اپنی جس دوست کی بات کر رہی تھی وہ روحی ہی تھی
جو ہمیشہ بولتی رہتی تھی لیکن آج خاموش تھی
روحی خاموش رہی اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔
روحی کیا ہوا ہے کوئی ٹینشن ہے تو مجھے بتاؤ
آرزو نے روحی کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے کہا
جس کی آنکھیں برسنے کو تیار تھیں
ارے یار تم اب مجھے پریشان کر رہی ہو کیا ہوا ہے؟ آرزو نے پریشانی سے پوچھا
روحی نے کل کے واقعے کے بارے میں. سب کچھ بتا دیا
آرزو منہ پر ہاتھ رکھے روحی کو دیکھ رہی تھی ۔
میں کیا کرو آرزو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے اب ڈر لگنے لگا ہے
روحی نے روتے ہوئے کہا
تم اپنی ماما کو بتاؤ یار وہ تمہاری بات ضرور سمجھے گی
آرزو نے پریشانی سے کہا
نہیں وہ نہیں مانے گی میں کیسے ان کو کہہ سکتی ہوں
اور انکل نے مجھے دھمکی بھی دی ہے
روحی نے نظریں جھکا کر کہا
تم نے کیا سوچا ہے پھر؟
آرزو نے روحی کے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا
میں گاؤں چلی جاؤ گی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روحی نے اپنا فیصلہ سنایا
روحی یار وہاں جانے سے مسئلہ حل نہیں ہو جائے گا تمہیں یہی رہ کر کچھ نا کچھ کرنا ہو گا۔
آرزو نے سمجھاتے ہوئے کہا
میں یہاں نہیں رکنا چاہتی انکل کی نظریں مجھے ڈراتی ہیں یار میں کیا کرو
روحی نے بےبسی سے کہا
تم ایسا کرو ریان شاہ سے بات کرو
آرزو نے ایک اور حل بتاتے ہوئے کہا
ریان شاہ کو میں کہوں گی کہ اس کے باپ نے اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی پر گندھی نظر رکھی ہوئی ہے تو تمہیں کیا لگتا ہے وہ میری بات مان لے گئے
روحی نے روکھے لہجے میں کہا
کب جاو گی تم گاؤں؟ آرزو نے مایوسی سے پوچھا
میں آج ہی ماما سے بات کرو گی اور تم پریشان نا ہو ہم دونوں ملتے رہے گئے
روحی نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
اگر تم نا بھی ملنے آئی تو میں خود تمھارے گاؤں آجاؤ گی
آرزو نے ہنستے ہوئے کہا ۔
تمھارا مسئلہ حل ہو گیا؟
روحی نے یاد آنے پر پوچھا
ہاں میرے بھائی نے سب سنبھال لیا
آرزو نے خوشی سے کہا ۔
اور تم نے اپنے نکاح کا اپنے بھائی کو بتایا روحی نے پوچھا
نہیں میں نکاح کے بارے میں بھائی کو نہیں بتا سکی
لیکن میں جلد ہی ان کو سب کچھ بتا دوں گی
آرزو نے لمبا سانس لیتے ہوئے کہا
آرزو مجھے لگتا ہے عرشمان تم سے محبت کرتا ہے ۔
روحی نے اپنے اندازے کے مطابق کہا
لیکن روحی کی بات پر آرزو ہنسنے لگی تھی اور اس کی آنکھوں میں ہنسنے سے پانی بھی تیرنے لگا
محبت اور مجھ سے
اس نے مجھ سے اپنی انسلٹ کا بدلہ لینے کے لیے نکاح کیا ہے وہ مجھے بس تکلیف دینا چاہتا ہے وہ مجھ سے کبھی محبت نہیں کر سکتا ۔
آرزو نے تکلیف سے کہا
روحی کے پاس حوصلہ دینے کے لیے الفاظ ختم ہو گئے تھے اس لیے خاموش ہو گئ
دونوں اپنے اپنے مسئلوں میں الجھی ہوئی تھیں ۔
💖💖💖💖💖💖
ایسے کیسے وہ لوگ انکار کرسکتے ہیں
میرا نکاح آرزو کے ساتھ ہی ہو گا چاہے کچھ بھی ہو جائے…
سفیان کو جب سے پتہ چلا تھا کہ آرزو کے گھر والوں نے رشتہ ختم کر دیا ہے اس وقت سے سکون سے نہیں بیٹھا تھا
اپنی حرکتوں کو ٹھیک کر لو تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا پتہ نہیں کہاں ہماری پرورش میں کمی رہ گئ جو تم الٹے کاموں میں پڑ گئے ہو سفیان کے باپ نے بھی غصے سے کہا۔
آج اپنے لاڈلے کی وجہ سے ان کو اپنے دوست کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا تھا۔
ڈیڈ میں شادی کروں گا تو آرزو سے ہی کروں گا اگر وہ لوگ نہیں مان رہے تو پھر زبردستی ہی سہی لیکن میری شادی آرزو سے ہی ہو گی ۔
سفیان نے بھی اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا
اگر تم نے کوئی فضول حرکت کی تو اس کے بھائی تمھاری جان لینے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لائے گئے
اس لیے خبردار اگر تم نے کچھ الٹا کام کرنے کی کوشش کی تو
سفیان کے باپ نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا ۔
مجھے پرواہ نہیں ہے جو میرا دل کرے گا میں وہی کرو گا
سفیان نے اپنے باپ کو دیکھتے بدتمیزی سے کہا ہوئے اور وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے دونوں میاں بیوی بےبسی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
ان کے بیٹے کی ضد اب پتہ نہیں اسے کہاں پہچانے والی تھی ۔
💖💖💖💖💖💖
مان تم مجھ سے دور دور کیوں رہنے لگے ہو؟ کومل نے مان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے پوچھا
مان نے پہلے اپنے کندھے کو دیکھا پھر سنجیدگی سے کومل کو دیکھا
جس نے مان کی نظروں کا مطلب سمجھتے ہی اپنا ہاتھ اس کے کندھے سے پیچھے کر لیا ۔
مین پہلے بھی تم سے دور ہی رہتا تھا کومل
مان نے سنجیدگی سے کہا
اب تو ہماری شادی ہونے والی ہے لیکن تم تو مجھ سے ایسے دور بھاگتے ہو جیسے میں تمہیں کھا جاؤں گی
کومل نے شادی والی بات جان بوجھ کر کی تھی ۔
کیا کہا تم نے ہماری شادی؟ تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے؟
میں کیوں تم سے شادی کرو گا؟
مان نے گھورتے ہوئے پوچھا
کومل تو منہ کھولے مان کو دیکھ رہی تھی ۔جو اس کے منہ پر ہی اس کے بےعزتی کررہا تھا
اور تم کیوں مجھ سے شادی نہیں کر سکتے کیا کمی ہے مجھ میں کیا خوبصورت نہیں ہوں؟
ہوش میں آتے ہی کومل نے بھی غصے میں پوچھا مان اس کے بچپن کا پیار تھا
تم میرے ٹائپ کی نہیں ہو
اور نا ہی کبھی میں نے تمہارے بارے میں ایسا کچھ سوچا ہے اور جس لڑکی سے میں محبت کروں گا اسی سے شادی کروں گا
اور وہ لڑکی تم ہرگز نہیں ہو
اور میری بات کو اچھی طرح اپنے دماغ میں بیٹھا لو تو بہتر ہو گا
مان نے ایک ایک لفظ چب اکر کہا
مان تمھاری شادی تو مجھ سے ہی ہو گی چاہے پھر زبردستی ہی کیوں نا ہو ۔
کومل نے طنزیہ لہجے میں کہا
آج تک کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا جو میرے ساتھ مان ملک کے ساتھ زبردستی کر سکے
چاہے پھر وہ میرے اپنے گھر والے ہی کیوں نا ہو
مان نے تمسخرانہ انداز میں اپنے سینے پر انگلی رکھتے ہوئےکہا
اور وہاں سے چلا گیا
کومل غصے میں پیر پٹخ کر رابعہ کے کمرے کی طرف چلی گئی ۔
💖💖💖💖💖💖
آپی آپ نے ایزل سے شادی کی بات کی ؟
جمشید نے اپنی بہن سے پوچھا
وہ تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی لیکن تم فکر مت کرو میں سنبھال لوں گی
بہت غرور ہے نا اسے اپنے کردار پر اب دیکھنا کیسے میں اسے ذلیل کرواتی ہوں
بھابھی نے نفرت بھرے لہجے میں. کہا
آپی آپ کیا کرنے والی ہیں؟
جمشید نے حیرانگی سے پوچھا
وہ تمہیں کچھ دنوں تک پتہ چل جائے گا
لیکن تمہیں ایزل کا کچھ دنوں تک پیچھا کرنا ہے اور اس کے پل پل کی خبر تم نے مجھے دینی ہے
بھابھی نے کہا
ٹھیک ہے جمشید نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔
💖💖💖💖💖💖💖
مہرو کی آنکھ کھلی تو ملک اس کے پاس ہی بیٹھا تھا ۔
کتنا سوتی ہو تم یار
معارج نے ہنستے ہوئے کہا
مہرو انجان نظروں سے معارج کو دیکھ رہی تھی اور یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا تھا
آہستہ آہستہ اسے سب یاد آنے لگا
وہ سیٹھ….
مہرو نے کہنا چاہا کہ معارج نے مہرو کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروادیا
مہرو کا چہرہ معارج کی طرف تھا دونوں ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوئے تھے
ششششش مر جائے گا وہ تم فکر مت کرو
معارج نے مہرو کے ہونٹوں کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہا
کیا مطلب ہے؟
مہرو نے حیرانگی سے پوچھا
مرنے کا مطلب کہ اس کا اوپر کا ٹکٹ کٹ چکا ہے اس کے پاس کچھ ہی گھنٹے ہے جب تک میں تمھارے پاس ہوں وہ زندہ رہے گا
لیکن جب میں یہاں سے نکلا تو سب سے پہلے اس کمینمے کا کام تمام کروں گا۔
ملک عام سے لہجے میں کہہ رہا تھا جیسے
قتل کی نہیں بلکہ کسی کی شادی میں جانے کی بات کر رہا ہو
تم اسے جان سے مار دو گئے؟ مہرو نے بے یقینی کے عالم میں پوچھا
بلکل اس نے ملک کی جان کو ہاتھ لگانے کی غلطی کی ہے تو سزا اسے ضرور ملے گی ۔
تم ایسا کچھ نہیں کرو گئے مہرو نے آنکھوں میں خوف لیے کہا۔
تمہیں میری فکر ہو رہی ہے؟
معارج نے مہرو کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسے خود کے سینے پر گراتے پوچھا ۔
نہیں بلکل بھی نہیں مہرو نے معارج سے پیچھے ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا لیکن معارج کی گرفت اس کی کمر پر مضبوط تھی
مہرو کے دونوں ہاتھ معارج کے سینے میں تھے ۔
میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں مہرو؟
پلیز مان جاؤ ورنہ پھر جو میں کروں گا وہ تمہیں پسند نہیں آئے گا۔
معارج نے مہرو کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔
مجھ جیسی طوائف دوسرے مردوں کے لیے تسکین کا باعث ہو سکتی ہے لیکن کسی کی بیوی نہیں ہو سکتی
طوائفوں کی زندگی میں گھر بسانا نہیں ہوتا ان کا کام اپنی اداؤں سے مردوں کا دل بہلانا ہوتا ہے ۔اور میں اپنے کام سے خوش ہوں مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے میں اکیلی ہی خود کے لیے کافی ہوں
اور تم ایک رات گزارنا چاہتے تھے نا میں تیار ہوں لیکن اس کے بعد تم میرا پیچھا چھوڑ دو گئے
مہرو نے اپنی بےتاثر آنکھیں معارج ملک کی سرخ ہوتی آنکھوں میں گاڑھتے ہوئے کہا۔
معارج نے مہرو کو بالوں سے پکڑتے ہوۓ اس کا چہرہ مزید خود کے قریب کیا ۔
اگر یہ آفر تم مجھے پہلے کرتی تو میں خوشی خوشی مان جاتا لیکن میرا ارادہ تبدل ہو گیا ہے
میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اور تم خود بھی مجھے روک نہیں سکتی ۔
جس طرح تم مجھے بھی خود کے قریب نہیں آنے دیتی اسی طرح کسی بھی مرد کو اپنے قریب مت آنے دینا مہرو اگر میں میں نے کسی کو بھی تمھارے قریب آتے یا تمہیں چھوتے دیکھ لیا تو وہ شخص تو جان سے جائے گا ہی لیکن تمہیں پھر میرے قہر سے کوئی نہیں بچا سکے گا ۔
معارج نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا
رات کو آؤں گا میرا انتظار کرنا معارج نے پیار سے کہا ۔
اور مہرو کا ہاتھ پکڑ کر اس کی پشت پر اپنے ہونٹ رکھ کر وہاں سے اٹھ گیا اور کمرے سے نکل گیا ۔
مہرو ابھی بھی خاموش نظروں سے اسی جگہ کو دیکھ رہی تھی جہاں معارج بیٹھا ہوا تھا اس کے پرفیوم کی خوشبو ابھی بھی مہرو کو خود کے قریب محسوس ہو رہی تھی ۔
💖💖💖💖💖💖
بازل یار کیا سوچا ہے تو نے اپنی نقلی بیوی کے بارے میں؟ کیسی ہے وہ؟ عمیر نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔
یار میں تو چار ماہ سے گھر نہیں گیا ۔
سامان وغیرہ بھجوا دیتا ہوں اور ٹھیک ہی ہو گی بازل نے لا پروائی سے کہا ۔
تو نے سوچا کیا ہے اس کے بارے میں یا ہمیشہ اسے وہی رکھنے کا ارادہ ہے ۔
عمیر نے اس بار تھوڑا سنجیدگی سے کہا ۔
کرنا کیا ہے بس اس کا کام ختم نکال باہر پھنکوں گا اسے
بازل نے کہا
یار وہ تیرے بچے کی ماں بننے والی ہے اور یہ بچہ تمھارے لیے مسئلہ بن سکتا ہے
اس لیے تو ابھی صبر کر کچھ ماہ اور جب بچہ اس دنیا میں آجائے گا تو اسے تو اٹھوا لی اور پھر تیری نقلی بیوی کو کیسے سنبھالنا ہے وہ میں دیکھ لوں گا عمیر نے خباثت سے کہا ۔
لیکن میں اس بچے کا کیا کروں گا؟ بازل نے حیرانگی سے پوچھا
بچے کو کسی بھی یتیم خانے میں دے دی ۔
عمیر نے آسان حل بتایا ۔
چل ٹھیک ہے بازل نے عام سے لہجے میں کہا
💖💖💖💖💖💖
شاہ صاحب پہلی بار ہمارے گھر آئے ہیں اوئے جا چائے پانی لے کر آ
سیٹھ نے اپنے پاس کھڑے آدمی کو کہا ۔
شاہ نے جب نایاب کی کافی کالز دیکھی تو پریشانی اسے کال کر کے ساری صورتحال معلوم کی
نایاب نےاسے سب کچھ بتا دیا تھا
اور اب ریان شاہ سیٹھ کے اڈے پر موجود تھا
تیری حالت دیکھ کر تو لگ رہا ہے ملک نے اچھی خاصی تیری دھلائی کی ہے
شاہ نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے کہا
ملک نے میرے ساتھ غلط کیا ہے اسے تو سزا ملے گی مہرو میری ہے
سیٹھ نے شاہ کو گھورتے ہوئے کہا
شاہ نے آگے بڑھ کر سیٹھ کا گریبان پکڑا اور اس کے ماتھے پر اپنی پسٹل رکھ دی
یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ شاہ نے سیٹھ کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا
تو اگر مجھے مہرو کے آس پاس بھی نظر آیا تو ملک نے تو تیری کچھ ہڈیاں توڑی ہے میں سب سے پہلے تیری گردن کی ہڈی کو توڑوں گا
اور میری بات کو اپنے دماغ میں اچھی طرح بیٹھا لے کیونکہ شاہ اپنی بات دہراتا نہیں ہے
ریان نے سرد لہجے میں کہا
اور سیٹھ کو چھوڑ کر پیچھے کھڑا ہو گیا
اس وقت تم میرے اڈے پر موجود ہے اگر میں چاہو تو اسی وقت تمہیں ختم کر سکتا ہوں
سیٹھ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا
جس پر شاہ قہقہہ لگا کر ہنسے لگا
چل تو آج مجھے اپنی ہمت دکھا ہی دی تیرے سامنے کھڑا ہوں مار مجھے
شاہ نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
سیٹھ کھا جانے والی نظروں سے شاہ کو دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا اگر شاہ یہاں آیا ہے تو یقیناً اس کے آدمی بھی اس کے ساتھ ہونگے اور سیٹھ ابھی اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ شاہ سے لڑ سکتا
اس لیے خاموش ہی رہا تھا
سمجھدار ہے تو
شاہ نے طنزیہ لہجے میں کہا اور لمبے لمبے ڈھاگ بڑھتا وہاں سے چلا گیا ۔
