No Download Link
Rate this Novel
Episode 46
السلام عليكم انکل
ایزل نے نظریں جھکا کر عظیم صاحب کو سلام کیا جنہوں نے جواب دینے کے بعد ایزل کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
روبینہ بیگم بھی عظیم صاحب کے ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔
بیٹا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی
روبینہ نے آپ کو بتایا ہی ہو گا شادی کے بارے میں وہ آپ کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہیں۔
عظیم صاحب نے بات کا آغاز کرتے ہوئے مزید کہا۔
آکف بہت سلجھا ہوا لڑکا ہے ہاں تھوڑا شرارتی ضرور ہے کبھی کبھار کچھ ایسی حرکتیں کر بیٹھتا ہیں لیکن دل کا برا نہیں ہے ۔
ظاہر سی بات ہے میں باپ ہوں اپنے بیٹے کی تعریف ہی کروں گا لیکن آپ کو اتنا یقین ضرور دلا سکتا ہوں کہ اس کی وجہ سے آپ کی آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں آئے گا۔
اگر آپ کو اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے تو کیا ہم شادی کی بات فائنل کر لیں شام تک آپ کے بھائی اور بھابھی بھی آجائے گئے پھر مل کر شادی کی تاریخ رکھ لیں گئے اور آج چھوٹی سی منگنی کی رسم بھی ادا کر دے گئے ۔
عظیم صاحب نے سنجیدگی سے کہا ۔
اپنے بھائی کے ذکر پر ایزل نے روبینہ بیگم کی طرف دیکھا جنہوں نے آنکھوں سے اس حوصلے دیتے ہوئے مسکرا پڑی تھی ۔
انکل آپ اور بھائی کو جیسے بہتر لگے اور مجھے اس شادی سے کوئی اعتراض نہیں ہے
ایزل نے نظریں جھکا کر جواب دیا ۔
خوش رہو
عظیم صاحب نے ایزل کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور خود اٹھ کر وہاں سے چلے گئے۔
ایزل نے روبینہ بیگم کی طرف دیکھا جو مسکرا رہی تھیں انہوں نے پہلے ہی اپنی بنائی ہوئی سٹوری ایزل کو سنا دی تھی
بھائی کیا سچ میں آرہے ہیں؟
ایزل نے بے یقینی کے عالم میں پوچھا
ہاں بلکل تمھارا بھائی آرہا ہے آکف نے بات کر لی تھی اور ان کی ساری غلط فہمیاں بھی دور لر دی تھیں ۔
اب تم روم میں جاؤ اور اچھے سے تیار ہو جاؤ کچھ دیر تک تمھارا بھائی بھی آتا ہی گا
اور آرزو تمھاری تیار ہونے میں بھی مدد کر دے گی۔
روبینہ بیگم نے ایزل کو. دیکھتے ہوئے کہا ۔
جی ایزل نے خوشی سے کہا اور اُٹھ کر روبینہ بیگم کے گلے لگ گئی پہلے تو وہ حیران ہوئی پھر مسکرا پڑی ۔
آپ بہت اچھی ہیں
ایزل نے روبینہ کے گلے لگے ہی کہا ۔
اور مجھے تو بہوئیں بھی بہت اچھی ملی ہیں
روبینہ بیگم نے ایزل کا ماتھا چومتے ہوئے کہا جس پر ایزل آج دل سے مسکرائی تھی۔
بے شک آکف سے شادی کرنے کا فیصلہ بلکل درست تھا اور اب سب کچھ ٹھیک ہو رہا تھا۔
بیٹا آکف کو بھی معاف کر دینا میں نے اسے دیکھا کس طرح وہ تمھارے لیے رویا ہے تڑپا ہے اب اسے مزید سزا مت دینا میں جانتی ہوں اُس سے غلطی ہوئی ہے اور یقین کرو وہ سزا بھی بھگت چکا ہے ۔
اب مزید اسے سزا مت دینا روبینہ بیگم نے ایزل کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے التجا کرتے ہوئے کہا ۔
آنٹی میں نے پہلے سوچا تھا اسے تکلیف دوں گی لیکن جب میں نے ٹھنڈے دماغ سے سوچا تو مجھے زیادہ غلطی آکف کی لگی بھی نہیں اور میں نے اسی وقت اسے معاف کر دیا تھا شادی ہونا یا نا ہونا یہ تو قسمت کی بات تھی لیکن میں اسے پہلے ہی معاف کر چکی تھی۔ شکر ہے وقت رہتے مجھے عقل آگئ ورنہ جو میں کرنے جا رہی تھی اُس پر مجھے پچھتاوا ہونا تھا
ایزل نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے اور اب جاؤ جلدی سے تیار ہو جاؤ
روبینہ بیگم نے کہا اور یہ جان کر انہیں خوشی ہوئی تھی کہ ایزل آکف کو معاف کر چکی ہے ۔
ایزل وہاں سے اُٹھ کر چلی گئی روبینہ بیگم بھی کچن کی طرف چلی گئی تھی ایزل کے بھائی کے علاوہ شاداب صاحب اور کوثر کی کی فیملی نے بھی آنا تھا ۔
💞💞💞💞💞💞
جلدی تیار ہو جاؤ ہمیں آکف کی طرف جانا ہے
مان نے روم میں داخل ہوتے مہرو کو کہا اور نظریں موبائل کی سکرین پر مرکوز تھیں
خیریت؟
مہرو نے حیرانگی سے پوچھا
ہاں آکف کی منگنی ہے آج
اور جہاں تک مجھے لگتا یے وہ لڑکا شادی کے لیے جتنا بےتاب ہے اگلے تین دنوں تک ہی اس کی شادی ہو جانی ہے
مان نے ہنستے ہوئے کہا ۔
اچھا ٹھیک ہے آپ مروہ کے پاس بیٹھ جائے میں تیار ہو کر آتی ہوں
مہرو نے سوئی ہوئی مروہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور پھر یاد آنے پر مڑ کر دوبارہ مان کے سامنے آ کھڑی ہوئی جس کی توجہ بھی بھی موبائل پر مرکوز تھی ۔
آپ نے ڈیڈ سے بات کی؟
نہیں یار ڈیڈ ابھی گھر پر نہیں ہیں میں اُن سے بات کر لوں گا۔
اور تم ایسا کرو تھوڑا بہت سامان پیک کر لو میں تمہیں چاچو کی طرف چھوڑ دوں گا شادی تک تم وہی رہنا آرزو اور نایاب دونوں ہو گئیں تم بھی بور نہیں ہو گی۔
پھر آکف کی شادی ہوتے ہی ہم دوسرے گھر شفٹ ہو جائے گئے میں ڈیڈ سے بھی بات کر لوں گا۔
مان نے ایک سیکنڈ میں سارا پلان ترتیب دیتے ہوئے کہا
لیکن مان ابھی تو آکف کی منگنی ہو رہی ہے شادی کی ڈیٹ پتہ نہیں کب کی ڈیسائیڈ ہوتی ہے اتنے دن میں وہاں کیسے رہ سکتی ہوں
مہرو نے کچھ پریشانی سے کہا۔
میں نے کہا نا آکف کو شادی کی بہت جلدی ہے اور دوسرا حالات بھی کچھ ایسے ہیں اسی ہفتے میں اُس کی شادی ہو جانی ہے
اور تیسری بات تم جتنے مرضی دن وہاں رہ لو کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا اور اب جاؤ تیار ہو جاؤ۔
مان نے مہرو کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا جو اثبات میں سر ہلا کر تیار ہونے چلی گئی مان وہی مروہ کے پاس بیٹھ گیا تھا ۔
💞💞💞💞💞
صائم کنزہ کا کیا بنا؟
نایاب نے صائم سے پوچھا جو کافی خوش نظر آرہا تھا ۔
نایاب جیسا میں چاہتا تھا ویسا ہی ہوا کنزہ سارے پیپرز لے آئی تھی اور رات اس نے مجھے اپنے باپ سے بھی ملوایا اور بس میں اُس گھٹیا انسان کے تاثرات دیکھنا چاہتا تھا اور جانتی ہوں جب میں نے اسے سچائی بتائی تو اس کی حالت دیکھنے لائق تھی
صائم نے خوشی سے کہا ۔
لیکن صائم ان سب میں کنزہ کا تو کوئی قصور نہیں تھا ۔
نایاب نے صائم کی ساری بات سننے کے بعد کہا
ایک تو مجھے تمھاری بھی سمجھ نہیں. آتی پہلے تم ہی کنزہ سے جیلس ہو رہی تھی اب تمھارے دل میں اس کے لیے ہمدردی پیدا ہو رہی ہے؟
صائم نے سنجیدگی سے کہا
صائم وہ الگ بات ہے لیکن….
نایاب نے بات ادھوری چھوڑتے ہوئے کہا
بیگم صاحبہ آپ پریشان نا ہوں میں نے کنزہ کے بارے میں سب معلوم کیا تھا میرے آنے سے پہلے اُس کے دو بوئے فرینڈز بھی رہ چکے ہیں ۔
اور وہ لڑکی اتنی بھی سیدھی نہیں ہے جتنا تم اسے سمجھ رہی ہو اُس کے دونوں بوائے فرینڈ سے میں مل چکا ہوں۔
اور یہ سب جاننے کے بعد ہی میں نے اسے استعمال کیا لیکن کبھی بھی اس کا غلط فائدہ نہیں اٹھایا ۔
اور کل رات اس کے باپ کے سامنے میں سب کچھ کلئیر کر چکا ہوں اور جانتی ہو کل کنزہ نے مجھے کیا کہا صائم نے نایاب کو دیکھتے ہوئے کہا جو بے یقینی سے صائم کو دیکھ رہی تھی ۔
کنزہ میڈم مجھے کہتی اگر تم مجھے چھوڑ بھی دو تو مجھے فرق نہیں پڑتا تم سے زیادہ ہینڈسم لڑکے کو اپنا بوائے فرینڈ بناؤ گئی۔
ایسی لڑکی کبھی بھی کسی ایک مرد سے محبت نہیں کر سکتی صائم نے حقارت بھرے لہجے میں کہا،
نایاب تو خاموش ہو گئی تھی مزید کچھ بولنے کے لیے تھا ہی نہیں
تم ان سب باتوں کو چھوڑو
ماما نے تمھیں بتایا آج آکف کی منگنی ہے وہاں جانا ہے ۔
صائم نے نایاب کا دھیان منگنی کی طرف کرواتے ہوئے کہا
جی بتا دیا تھا صائم مجھے کومل کے بارے میں بھی بات کرنی تھی
نایاب نے اپنی ہاتھ کی انگلیوں کو مڑوڑتے ہوئے کہا ۔
ہاں کہو
صائم نے نایاب کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔آپ کو نہیں لگتا کہ آپ لوگ کومل کے ساتھ غلط کر رہے ہو ۔میرا مطلب ہے ابھی پہلا رشتہ آیا آور آپ نے ہاں بھی کر دی جب کومل کو پتہ چلے گا تو وہ کیا طوفان کھڑا کرے گئی
نایاب نے آہستگی سے اپنے دماغ میں چلتی بات صائم کو کہی۔
مجھے اچھا لگا جس طرح تم سب کے بارے میں سوچ رہی ہو ۔
لیکن جانتی ہو میں نے اتنی جلدی ہاں کیوں کر دی؟
صائم نے نایاب کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کرتے ہوئے کہا
عامر کی فیملی کے بارے میں میں نے سب کچھ معلوم کروا لیا تھا جس دن وہ کومل کو گھر تک چھوڑنے آیا تھا اُس کے اگلے دن نے میں نے سب معلوم کر وا لیا تھا ۔
عامر اچھا لڑکا ہے مان بھائی سے بھی میں نے بات کی اگر عامر کے گھر والے رشتہ نا لاتے تو میں نے کومل کے لیے خود اُس سے بات کرنی تھی اور مان بھائی نے بھی کہا کہ عامر اچھا لڑکا ہے اس کا مطلب وہ اچھا ہی ہے کیونکہ مان بھائی کو سب پتہ ہوتا ہے ۔
اور جہاں تک بات ہے کومل کی تو وہ عامر کیا کیسی اور کے لیے بھی کبھی ہاں نہیں کرے گی کیونکہ اُس کے سر پر مان بھائی کا بھوت سوار ہے اس لیے ہمیں ہی اب کچھ کرنا پڑے گا
صائم نے سنجیدگی سے کہا اور الماری سے اپنا سوٹ نکالتے نایاب کو تیار ہونے کا کہہ کر خود بھی چینج کرنے چلا گیا ۔
نایاب کو بھی صائم کی بات ٹھیک ہی لگی تھی ۔
کومل جو صائم سے گاڑی کی چابی لینے کے لیے آرہی تھی ۔اپنے رشتے کا سن کر وہی رک گئی ۔اور اب اس کا رخ اپنی ماں کے کمرے کی طرف تھا کومل غصے سے کھولتی ہوئی اپنی ماں کے کمرے کی طرف چلی گئی تھی
💞💞💞💞💞💞
ماما میں نے فیصلہ کر لیا ہے
فضا نے کوثر بیگم کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔
کیا؟
کوثر اپنی بیٹی کے کیے گئے فیصلے سے اچھی طرح واقف تھیں لیکن پھر بھی وہ فضا کے منہ سے سننا چاہتی تھیں ۔
میں علیدان سے شادی نہیں کرنا چاہتی
کیونکہ مجھے معلوم ہو گیا ہے محبت کسی کو پا لینے کا نام نہیں ہے محبت میں خود کی خوشی سے زیادہ اپنے محبوب کی خوشی کو ترجیح دی جاتی ہے محبت میں زبردستی نہیں کی جاتی
بے شک میں علیدان سے بہت محبت کرتی ہوں لیکن جب اُس کے دل میں ہی کوئی دوسری رہ رہی ہو تو میں وہاں کیسے رہ سکتی ہوں
اگر علیدان فضا کی یہ ساری باتیں ان لیتا تو یہ بات لازمی کہتا کتنی بھولی ہو تم فضا تمہیں ابھی بھی لگتا ہے کہ میں مہرو سے محبت کرتا ہوں۔
لیکن فضا میڈم کچھ زیادہ ہی بھولی تھیں
جو یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ علیدان مہرو سے محبت کرتا ہے ۔
اس لیے آپ خالہ جان سے بات کر کے اس زبردستی کے رشتے کو ختم کر دیں فضا نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا اس سے پہلے کوثر کوئی جواب دیتی
کومل غصے سے دروازہ کھولے کمرے میں داخل ہوئی
یہ کیا بدتمیزی ہے کومل؟ فضا نے تھوڑا سخت لہجے میں پوچھا ۔
میری بدتمیزی آپ کو نظر آرہی ہے اور خود کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میرا رشتہ مجھ سے ہی پوچھے بغیر فائنل کر دیا ۔
نا میں نے کبھی اس لڑکے کو دیکھا
میں تو اسے جانتی تک نہیں آپ لوگ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟
یہ میری لائف ہے اسے میں اپنے مطابق گزاروں گی اور آپ لوگ ہوتے کون ہو میری زندگی کا فیصلہ کرنے والے؟
کومل نے جاہلانہ انداز میں چیختے ہوئے کہا
تمھاری زندگی؟ایک منٹ مس کومل
کب روکا تمہیں کسی چیز سے؟ بتاؤ مجھے فضا نے کومل کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
وہ ہمیشہ کومل کی بدتمیزی برداشت کرتی آئی تھی لیکن آج تو اس نے حد ہی کر دی تھی ۔
۔تمہیں ہر چیز لاکر دی جو چیز تم نے مانگی تمہیں دی ۔
جانتی ہو ڈیڈ کی دیتھ کے بعد ہمیں کتنی مصیبتوں سے گزرنا پڑا میں اور صائم بھائی سرکاری سکول جانے لگے لیکن تم نے کہا تم اسی سکول میں پڑھنا چاہتی ہو تمھاری یہ ضد بھی پوری کر دی اور جانتی یمہو نا پرائیویٹ سکول کی کتنی فیس ہوتی ہے ماما نے بھری۔
تمھاری ساری خواحشات کو انہوں نے پورا کیا اگر پیسے نا بھی ہوتے تو بھی بھائی جگہ جگہ جاب کے لیے جاتے صرف تمھاری وجہ سے کہ انکو نوکری مل جائے اور تمھاری ساری خواہشات کو پورا کر سکے ۔
آج جو تم بنگلے میں رہتی ہو گاڑی میں آتی جاتی ہو نوکر چاکر ہیں اس میں اگر کسی کی محنت شامل ہے تو وہ موم اور بھائی کی ہے ۔
ماما نے تو اپنی سگی بہن تک سے بھی مدد لینے سے انکار کر دیا جانتی ہو کس لیے؟ صرف اس لیے کہ کل کو ان کے بچوں کو کوئی یہ طعنہ نا دے۔ کہ ماں نے دوسروں کے در پر اپنے بچوں کو چھوڑ دیا
اور خود سکون سے بیٹھی اپنی زندگی گزار رہی ہے ۔
اور اب تم کہہ رہی ہو یہ کون ہوتی ہیں تمھاری زندگی کا فیصلہ کرنے والی؟
فضا نے کوثر بیگم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جن کی آنکھیں بھر آئی تھیں ۔
ہاں مانتی ہوں تمہیں بتانا چاہیے تھا لیکن میں نے ہی منع کیا تھا میں تمہیں خود آرام سے. سمجھانا چاہتی تھی ۔
لیکن تمھاری سوچ پر آج مجھے بہت دکھ ہوا ۔تم ایک خود غرض لڑکی ہو جو صرف اپنے بارے میں سوچتی ہے
اور اپنے دل و دماغ سے مان کا خیال نکال دوں نا تو وہ پہلے تمھارا تھا اور نا اب وہ تمھارا ہے
وہ مہرو کو پاگلوں کی طرح چاہتا ہے ۔
مہرو کے آنے سے پہلے بھی وہ تمہیں نہیں چاہتا تھا اور اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے بہتر یہی ہے اپنے نکاح کی تیاری کر لو بہت چھوٹ دے دی تمہیں اور بہت فائدہ اٹھا لیا تم نے ہماری محبت کا اب ایسا نہیں ہو گا
فضا نے انگلی اٹھاتے کومل کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا جو بت بنی کھڑی تھی۔
اس نے تو کبھی فضا کو اونچی آواز میں بتا کرتے بھی نہیں دیکھا تھا ۔
ماما آپ تیار ہو جائے پھر ہمیں نکلنا بھی ہے فضا نے اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے نرم لہجے میں کہا ۔اور کمرے سے نکل گئی ۔
فضا کے جاتے ہی کومل بھی کمرے سے چلی گئی تھی ۔
کوثر بیگم دونوں کے جاتے ہی بیڈ پر ڈھے سی گئی تھیں ۔
💞💞💞💞💞
مہرو نے پرپل اور وائٹ کلر کی لانگ فراک زیب تن کی تھی بالوں کی ڈھیلی سی چُٹیا بنائے اور ہلکے پھلکے میک اپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔
مان سفید شلوار قمیض اور ساتھ کندھے پر کالی چادر رکھے قمیض کے آستین کو فولڈ کیے نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا ۔
اس کی روبدار پرسنیلٹی ایسی تھی کہ لوگ بات کرنے سے پہلے سو بار سوچتے تھے لیکن آج تو مان کچھ الگ ہی لگ رہا تھا ۔
مان مہرو کو آکف کے گھر چھوڑ کر ضروری کام کا کہہ کر چلا گیا تھا۔
کوثر کی فیملی بھی بھی آچکی تھی ۔
آرزو نے ایزل کو تیار کر دیا تھا
جو پنک کلر کی شلوار قمیض میں باربی ڈول لگ رہی تھی ۔
یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ نایاب نے بھی پرپل اور وائٹ کلر کا سوٹ پہنا تھا۔
روبینہ بیگم نایاب اور مہرو کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھیں اس وقت نایاب، ایزل اور مہرو آرزو کے کمرے میں موجود تھیں اور ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں ۔
ایزل بھی اب خود کو کافی حد تک ایڈجسٹ کر چکی تھی ۔
نایاب اور مہرو کو بھی ایزل اچھی لگی تھی ۔
ایزل کو اب اپنے بھائی کا انتظار تھا ۔
اور اندر سے تھوڑا گھبرا بھی رہی تھی ۔
آرزو نے عرشمان کے کہنے پر گرین کلر کا سوٹ پہنا تھا جس میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔
💞💞💞💞💞💞
