Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

عمیر سے بات کرنے کے بعد بازل اپنے کمرے میں گیا۔
اور وہاں سے نکاح نامہ لے کر پورے ایک گھنٹے بعد سویرا والے روم میں داخل ہوا تو سویرا سامنے نظریں جھکائے بیٹھی تھی…
بازل چھوٹے چھوٹے قدم لیتا سویرا کے پاس گیا اورکچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔
مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے
سویرا نے اپنا چہرہ اٹھا کر ناسمجھی سے بازل کی طرف دیکھا..
سویرا تم آرام سے یہاں رہ سکتی ہو ۔
میں خود غرض بلکل بھی نہیں ہوں
کہ تمہیں سڑک پر تنہا چھوڑ دیتا ۔یا تمہیں اکیلی کو سٹیشن پر چھوڑ دوں۔
بازل نے سنجیدگی سے کہا ۔
لیکن میں یہاں نہیں رہ سکتی سویرا نے ہاتھ کی انگلیاں مڑوڑتے ہوئے کہا.
تو تم کہاں جانا چاہتی؟ بازل نے سویرا کے چہرے کی طرف طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
میں نہیں جانتی
سویرا نے نظریں جھکا کر جواب دیا
تم مجھ سے نکاح کر لو
بازل کی بات پر سویرا نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا ۔
میرا مطلب ہے تمہیں یہاں رہنے سے مسئلہ ہے تو تم مجھ سے نکاح کر لوں ایک مضبوط رشتے میں بند جاؤ گی پھر ہم کچھ دنوں بعد تمھارے گھر جائے گے اور تمھارے امی ابو بھی سے معافی مانگ لے گئے اور مجھے پوری امید ہے وہ تمہیں معاف کر دیں گے تم اپنی مرضی سے جہاں جانا چاہو جا سکتی ہو جو بھی کرنا چاہو کر سکتی ہو میں ہمیشہ تمھارے ساتھ رہو گا۔میں بہت جلد تمھارے گھر آنے والا تھا اور تمھارے والدین سے رشتے کی بات کرنے والا تھا ۔
میرے والدین نہیں ہے ایک دوست ہی ہے جو میرا سب کچھ ہے ۔
لکن تمھارے گھر آنے سے پہکے ہی یہ سب معاملہ ہو گیا ۔
بازل نے سنجیدگی سے کہا..
اس کا ارادہ اپنی باتوں کے جال میں سویرا کو پھنسانا تھا اعر وہ کافی حد تک کامیاب بھی یو گیا تھا…
سویرا کچھ پل سوچتی رہی پھر اس نے ہاں کر دی اور نکاح نامے پر سائن کر دیے…
بازل کی شکل میں اسے سہارا مل رہا تھا اور اس کی ساری خواہشات پوری ہونے والی تھی تو اسے اس نکاح سے کوئی مسئلہ نہیں تھا
بازل نے نکاح نامہ اس طرح رکھا تھا کہ اپنے نام کے علاوہ کسی اور کا نام نظر نہیں آرہا تھا..
سویرا بھی اس وقت پریشان تھی اس لیے بنا دیکھے اس نے دستخط کر دیے بازل نے نکاح نامہ پکڑا اور سویرا کو کہا..
تم. اب آرام کرو صبح بات کریں گئے بازل نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اور کمرے سے نکل گیا
سویرا اپنے اپنے ماں باپ کے بارے میں سوچنے لگی۔
جب امی ابو کو کو معلوم ہو گا تو کیا بیتے گی ان پر؟ سویرا یہی باتیں سوچ رہی تھی اسکا نکاح بھی ہو گیا ۔سب اتنی جلدی ہوا اسے امید نہیں تھی نکاح کی وجہ سے ہی تو اپنے گھر سے بھاگی تھی لیکن بازل سے نکاح؟
اس کے بارے میں. کچھ جانتی بھی نہیں تھی
لیکن اسے اتنا یقین تھا کہ بازل کافی امیر ہے
آگے کیا ہونے والا تھا یہ تو سویرا کو وقت نے ہی بتانا تھا ۔
💝💝💝💝💝💝
آرزو بیٹا تمھاری طبعیت ٹھیک ہے؟ رابعہ نے پریشانی سے آرزو کے مرجھائے چہرے تو دیکھتے پوچھا.
ماما سر میں درد ہے ۔آرزو نے بنا اپنی ماں سے نظریں ملائے کہا ۔
بیٹا میں ملازمہ کے ہاتھ میڈیسن بھیج دیتی ہوں لیکن سفیان آیا تھا وہ تمہیں شاپنگ پر لے کر جانا چاہتا تھا
رابعہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا ۔
ماما میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ پلیز منع کر دے
آرزو نے اپنے آنسوؤں کو اندر دھکیلتے ہوئے کہا ۔اس وقت جو آرزو پر گز رہی تھی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا ۔
آرزو تم تو اچھی بھلی یونیورسٹی گئی تھی پھر اچانک یہ سب کیا ہو گیا؟ تمھاری طبعیت کیسے خراب ہو گئی
عرشمان بتا رہا تھا تم گاڑی سے نکلتے ہی بے ہوش ہو گئ
رابعہ بیگم نے ناسمجھی سے پوچھا..
ماما میں نے کھانا نہیں کھایا تھا شاید اس وجہ سے آرزو نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے کہا..
۔آج عرشمان کی وجہ سے اسے اپنی ماں سے بھی جھوٹ بولنا پڑ رہا تھا ۔
ٹھیک ہے میں سفیان کو منع کر دیتی ہوں اور تم آرام کرو.
اور ہاں سفیان چاہتا ہے منگنی کی جگہ نکاح کر لیا جائے تمہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟
رابعہ بیگم نے چہرے پر نرم مسکراہٹ لاتے پوچھا.
نکاح….
نکاح کا سنتے ہی آرزو کو اپنی روح نکلتی ہوئی محسوس ہوئی.
ماما نکاح اتنی جلدی آرزو نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا.
بیٹا اس میں مسئلہ ہی کیا ہے اچھی بات ہے نا تم دونوں کا نکاح ہو جائے گا لیکن رخصتی جب تم چاہو
رابعہ نے مسکراتے ہوئے کہا
ماما بھائی کب آرہے ہیں
آرزو نے بات بدلتے ہوئے پوچھا
مان آج ہی آرہا ہے رابعہ بیگم نے خوشی سے کہا ۔
اور تم ابھی میڈیسن کھا کر آرام کرو شام میں تمھارا بھائی آراہا ہے تمہیں اس حالت میں دیکھ کر ہم پر غصہ کرے گا کہ ہم نے اس کی بہن کا خیال نہیں رکھا
رابعہ بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا.
اپنے بھائی کے ذکر پر آرزو کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی ۔
میں کچھ کھانے کو بھیجتی ہوں رابعہ نے کہا اور روم سے نکل گئی ۔
آرزو نے وہی بیڈ سے ٹیک لگائے آنکھیں موند لی تھیں.
💝💝💝💝💝💝
روحی تمھاری یونیورسٹی میں سب ٹھیک ہے؟ کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟
صفیہ بیگم نے روحی سے پوچھا جو شاہ حویلی کے اندر بنے بڑے سے گارڈن میں بیٹھی پھولوں کو دیکھ رہی تھی ۔
جی سب ٹھیک ہے روحی نے مسکراتے ہوئے کہا
کسی چیز کی ضرورت ہو تو ضرور بتانا ۔
صفیہ بیگم نے روحی کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا
جی بیگم صاحبہ جلدی میں کہتے ہی روحی نے زبان دانتوں تلے دبائی
سوری میرا مطلب ہے ماما روحی نے جلدی سے اپنے الفاظ کی درستگی کرتے ہوئے کہا
بہت بدمعاش ہو گئی ہو تم روحی
صفیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
روحی بھی صفیہ بیگم کی بات پر کھلکھلا کر ہنسنے لگی ماما لڑکیاں بھی بدمعاش ہوتی ہیں روحی نے ہنستے ہوئے پوچھا…
ہاں ہوتی ہیں نا اب تم خود کو ہی دیکھ لو صفیہ بیگم بھی کہتے ہنسنے لگی
ریان شاہ اپنی گاڑی سے اتر کر حویلی کے اندر جا رہا تھا جب اس کے کانوں میں روحی کے ہنسنے کی آواز پڑی ۔
شاہ نے اپنے دائیں جانب دیکھا تو اس کی ماں بھی وہاں کھڑی تھی شاہ اند جانے کی بجائے اپنی ماں کی طرف چلا گیا اس کے قدم خود بخود ہی اس طرف بڑھ گئے تھے ۔
صفیہ بیگم نے روحی کو اپنی بیٹی بنایا تھا اس لیے انہوں سختی سے کہا تھا کہ تم مجھے ماما کہو گی لیکن یہ بات شاہ کو ہرگز پسند نہیں تھی
لیکن اپنی ماں کے سامنے خاموش رہتا ۔
ماں جی مجھے آپ سے بات کرنی ہے شاہ نے اپنی نظروں سے روحی کا ایکسرے کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا..
جس نے کالی گھٹنوں تک آتی فراک اور ساتھ ٹخنوں سے تھوڑی اونچی کیپری پہنی ہوئی تھی..
دھوپ میں کھڑی ہونے کی وجہ سے اس کا چہرا سرخ ہو رہا تھا.
شاہ نے اپنی نظروں کا زاویہ تبدل کر لیا لیکن بار بار بھٹک کر اس کی نگاہ روحی کے چہرے پر پڑ رہی تھی ۔
مجھے امی نے بلایا تھا میں چلتی ہوں روحی نے صفیہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا اور جانے سے پہلے شاہ کو اپنی گھوری سے نوازہ اور وہاں سے چلی گئی..
شاہ کو روحی کا یہاں سے جانا اچھا نہیں لگا پھر اس نے اپنا سر جھٹکا اور اپنی ماں کی طرف متوجہ ہو گیا…
💝💝💝💝💝💝
تھوڑی دیر بعد شاہ اور صفیہ بیگم حویلی میں باتیں کرتے داخل ہوئے ۔قاسم شاہ سامنے پڑے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے سگریٹ کے کش لے رہا تھا ۔
صفیہ بیگم کچن کی طرف چلی گئی اور شاہ اپنے باپ کے دائیں جانب رکھے صوفے پر آکر بیٹھ گیا..
ڈیڈ آپ کب سے آفس آرہے ہیں ریان نے سنجیدگی سے پوچھا ۔تو قاسم شاہ اسے اپنی مصروفیت بتانے کے ساتھ یہ بھی بتانے لگے کہ وہ کب آفس آئے گئے…
لیکن بات کرتے قاسم کی نظر سامنے سے آتی روحی پر جم گی جو کسی ملازمہ کو کچھ ہدایات دے رہی تھی ۔
قاسم شاہ کی آنکھوں میں آئی چمک کو دیکھ کر شاہ نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا لیکن وہاں روحی کو دیکھ کر شاہ کا خون کھول اٹھا تھا..
جتنا ریان اپنے باپ کی حرکتوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتا
لیکن قاسم شاہ ایسا ضرور کر دیتا کہ شاہ کا غصہ نئے سرے سے تازہ ہو جاتا…
شاہ اپنے باپ کی اصلیت سے اچھی طرح واقف تھا خاموش صرف اپنی ماں کی وجہ سے تھا..
ڈیڈ شاہ نے اپنے غصے پر قابو پاتے بمشکل اپنی آواز کو نارمل رکھتے ہوئے کہا
لیکن قاسم شاہ کا دھیان سامنے کھڑی روحی پر تھا
شاہ میں جلد ہی چکر لگاؤں گا
قاسم شاہ نے اٹھتے ہوئے کہا اور شاہ کے پاس سے گزرتے ہوئے روحی کے پاس جا کر رک گیا..
روحی بیٹا مجھے فریش لیمن جوس لا دو..
میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں قاسم شاہ نے کہا اور اپنے کمرے میں چلا گیا..
ریان شاہ اس قدر غصے میں تھا کہ اگر اس کے باپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کب کی جان لے چکا ہوتا ۔
جس نے اس کے گھر کی عزت پر نظر رکھی تھی.
بےشک روحی ریان شاہ کے نزدیک ایک ملازمہ کی بیٹی کی حیثیت رکھتی تھی لیکن صفیہ بیگم نے اسے اپنی بیٹی بنایا تھا ۔اور اس حساب سے روحی بھی شاہ فیملی کا حصّہ تھی۔
روحی کچھ دیر بعد ہاتھ میں جوس لیے قاسم شاہ کے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب ریان نے اسے کلائی سے پکڑا اور دوسرے ملازم کو جوس لے جانے کا کہا..
شاہ نے روحی کو کلائی سے پکڑتے ہوئے اسے اپنے کمرے میں. لے گیا اس کے سختی سے تنے ہوئے جبڑے روحی کو پریشان میں ڈال رہے تھے..
یااللہ اس جلاد کو کیا ہو گیا؟ اب تو میں نے کچھ نہیں کیا یااللہ مجھے اس جلاد کے قہر سے بچا لے..
روحی دل میں دعائیں مانگ رہی تھی ۔
آج کے بعد تم گھر کا کوئی بھی کام نہیں کرو گی چاہے پھر وہ کام میرے باپ کا ہی کیوں نا ہو ۔
نا تم اس طرح کے واہیات کپڑے پہنو گی شاہ کا اشارہ اس کے ٹخنوں کی طرف تھا اس کی کیپری کافی اونچی تھی جس سے اس کے ٹخنے کافی حد تک نمایا ہو رہی تھے اگر کسی نے نا بھی دیکھنا ہوتا تو اس کی نظر ان پر پڑ جاتی..
اور تیسری بات آج کے بعد یہ ڈوپٹہ مجھے تمہارے گلے میں نہیں بلکہ
تمھارے سر پر نظر آئے
شاہ نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا ۔
روحی آنکھوں میں حیرانگی لیے ریان شاہ کو دیکھ رہی تھی ۔
اور یہ سب باتیں میں کیوں مانو گی؟
روحی نے اپنی کلائی شاہ کی گرفت سے آزاد کراتے ہوئے کہا.
جس کی پکڑ اب ڈھیلی ہو گی تھی ۔
کیونکہ میں کہہ رہا ہوں روحی میڈم اگر تم نے میری ان تینوں باتوں کو نا مانا تو تمہیں میرے قہر سے کوئی نہیں بچا سکے گا ۔
شاہ نے تھوڑا فاصلے پر کھڑے ہوتے طنزیہ لہجے میں کہا
آپ کا مسئلہ کیا ہے شاہ؟
روحی نے غصے میں پوچھا
شاہ؟ ریان نے آبرو اچکاتے ہوئے کہا ۔
اب آپ شاہ ہے تو شاہ ہی کہوں گی نا
اگر آپ کہتے ہیں تو بھائی کہہ دیتی ہوں
روحی نے بھی دوبدو جواب دیتے ہوئے کہا ۔
یہ لڑکی ہمیشہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی تھی.. اور یہی بات شاہ کو روحی کی متاثر کرتی تھی ۔
مجھے تمہیں اپنی بہن بنانے میں زرا سا بھی دلچسپی نہیں ہے ایک ملازمہ کو میں اپنی بہن ہرگز نہیں بناؤ گا.
ریان چاہ نے تمسخرانہ انداز میں کہا ۔
آپ بہت برے ہیں شاہ
روحی نے کچھ دیر شاہ کے چہرے کو دیکھتے ہوئے تکلیف دہ لہجے میں کہا اور بنا شاہ کی طرف دیکھے کمرے سے نکل گئ..
ہر بار کی طرح آج پھر شاہ نے اپنی باتوں سے روحی کو تکلیف پہنچا دی تھی ۔
کیوں دوسروں کا غصہ میں تم پر نکال دیتا ہوں..
شاہ نے دیوار پر زور سے مکا مارتے ہوئے خود کلامی کرتے کہا.
روحی کے چہرے کی تکلیف اس نے بھی محسوس کی تھی.
شاہ کے ہاتھ سے خون کی کچھ بوندیں زمین پر گری لیکن اسے پرواہ نہیں تھی
💝💝💝💝💝💝
ایزل گھر میں داخل ہوئی تو ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی..
ایزل اپنے کمرے میں گئی تو اس کا بھتیجا اس کے پاس آیا جو چار سال کا تھا اور اپنی پھپھو کے ساتھ کھیلنا اسے پسند تھا.
اس نے بتایا کے آج ماموں آئے ہیں اور ماما ان کے ساتھ باہر گئی ہے..
گھر میں صرف پاپا ہے
ایزل کو اب گھر میں خاموشی کی وجہ سمجھ میں آئی تھوڑی دیر اپنے بھتیجے سے کھیلنے کے بعد ایزل سونے کے لیے لیٹ گئ
آج اسے اپنے ماں باپ کی بہت یاد آرہی تھی
بھوک تو پہلے ہی اس کی مر چکی تھی اس لیے بنا کچھ کھائے لیٹ گئی تھی ۔
کوئی بھی اس کے پاس ایسا نہیں نہیں جس کے کندھے پر سر رکھ کر اپنا مسئلہ بتا سکتی آج جو کچھ ہوا اس کے بارے میں بتا سکتی ۔
آج کے واقعہ کے بارے میں سوچتے ہوئے اسے آکف کا خیال آیا جس کا اس نے شکریہ بھی ادا نہیں کیا تھا..
اگر وہ نا آتا تو اس سے آگے کا سوچ کر ہی ایزل نے جھرجھری لی تھی ۔
میں بھی کتنی بھلکڑ ہوں شکریہ بھی ادا نہیں کیا..
کوئی بات نہیں صبح کر دو گی ۔ایزل نے کہا اور وضو کرنے چلی گئ کیونکہ اسے ابھی یاد آیا کہ اس نے ابھی عشاء پڑھنی تھی شاید اس لیے وہ بےچین ہو رہی تھی ۔
اب اپنے اللہ کو اس نے اپنے دل کا حال بتانا تھا جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہماری سنتا ہے ۔اور ہمارے دل کو سکون عطا فرماتا ہے
💝💝💝💝💝💝
شاہ مہرو سے ملنے آیا تھا مہرو سامنے سے چلتی آرہی تھی اس نے ہیل پہنی ہوئی تھی اس کی ہیل لمبے فراک میں الجھی اس سے پہلے مہرو زمین بوس ہوتی
شاہ نے اسے کمر سے پکڑ کر گرنے سے بچایا تھا
۔مہر تم ٹھیک ہو؟ شاہ نے بےتابی سے پوچھا
ہاں میں ٹھیک مہرو نے سنبھل کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا لیکن شاہ کے پیچھے کچھ فاصلے پر کھڑے معارج ملک کو دیکھ کر اس کے آدھے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے.
معارج ملک اپنی براؤن آنکھوں سے شعلے برسا رہا تھا ۔
دل نے کہا مہرو آج تو تو گئی
سب ٹھیک ہے شاہ نے حیرانگی سے پوچھا
اور پیچھے مڑ کر دیکھا جس کو دیکھ مہرو شوکڈ ہوئی تھی ۔
شاہ نے پہچھے دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا ملک وہاں سے چلا گیا
ہاں سب ٹھیک ہے وہ مجھے لگا کوئی آیا ہے لیکن میرا وہم تھا شاید مہرو نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا ۔
مہر مجھے تم سے کچھ پوچھنا تھا ۔
شاہ نے سنجیدگی سے کہا
ہاں پوچھو
مہرو نے کہا
کیا قاسم شاہ یہاں آتے ہیں ۔
میں چاہتا تو اپنے آدمیوں سے بھی یہ کام کروا سکتا تھا لیکن بات میرے باپ کی عزت کی ہے ۔
ریان شاہ نے سرد لہجے میں پوچھا نا چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ سرد ہو گیا تھا ۔
قاسم شاہ یہاں آتا ہے اور سلمیٰ بائی کو کافی پیسے بھی دے کر جاتا ہے ۔
ایک بار اس نے میرا اور نایاب کا مطالبہ بھی کیا تھا مہرو نے بنا کسی تاثرات کے شاہ کو بتایا ۔
جس کے چہرے پر شرمندگی کے ساتھ غصہ بھی تھا۔
مہر… شاہ اپنی بات پوری کرتا اس سے پہلے ہی مہرو نے مڑ کر ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا تھا ۔
شاہ تمہیں شرمندہ ہونے کی یا معزرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہاں جو کوئی بھی آتا ہے اس کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کیونکہ یہ کوٹھا ہے۔
یہاں کسی کے آنے کا مقصد یا تو اپنی ہوس پوری کرنا ہے یا رقص سے لطف اندوز ہونا ہے ۔تو تمھارا باپ بھی اسی لیے آتا ہے اگر اس نے میرا یا نایاب کا مطالبہ کیا بھی ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے..
میں ایک طوائف ہوں اور میرا کام لوگوں کے دلوں کو لبھانا ہے..
مہرو نے شاہ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا ۔
مہروتم باقی سب کے جیسی نہیں ہو تم مختلف ہو سب سے مختلف
اور تمھارا انداز ہی تمہیں باقی طوائف سے الگ بناتا ہے.
تمہارے آگے پوری زندگی پڑی ہے ان سب فضولیات کو چھوڑ دو جن میں ذلت کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
شاہ نے لمبا سانس کھینچ کر مہرو کو سمجھاتے ہوئے کہا ۔
ذلت… ریان شاہ ذلت کو میں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنا مقدر بنایا ہے..
مہرو کا انداز تمسخرانہ تھا
ٹھیک ہے میں چھوڑ دیتی ہوں سب کچھ لیکن جو مجھ پر طوائف کا ٹیگ لگ چکا ہے کیا وہ اتر جائے گا کیا لوگ مجھے سکون کی زندگی گزارنے دے گئے کبھی نہیں ریان شاہ
دنیا بہت ظالم ہے ہر کسی سے تم میرے لیے نہیں لڑ سکتے ۔
مجھے اپنی زندگی اپنے مطابق گزارنی ہے
مجھے اب اس کوٹھے سے کہی نہیں جانا مہرو نے اپنا رح موڑ کر لڑکھڑاتی زبان میں کہا اس کا آنسوؤں سے تر چہرہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ وہ اس وقت کس قدر تکلیف میں ہے…
اپنا خیال رکھنا میں بعد میں آؤں گا
شاہ نے مہرو کو اس وقت چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا وہ مزید اسے تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا اس کا مقصد اپنی باتوں سے مہرو کو سمجھانا تھا نا کہ مزید درد سے دوچار کرنا لیکن پھر بھی وہ مہرو کو ہرٹ کر چکا تھا ۔
شاہ وہاں سے نکل گیا ۔
مہرو اپنے کمرے میں چلی گئ اسے اپنا میک ٹھیک کر کے رقص کرنا تھا ۔
ملک جب یہاں آیا تھا تو اس نے مہرو کو ریان شاہ کی بانہوں میں دیکھا تو اس کا خون کھول اٹھا تھا..
اور غصے میں وہاں سے نکل گیا..
لیکن پھر اس کے دماغ نے کہا کہ وہ کیوں غصے میں وہاں سے آگیا اسے مہرو سے پوچھنا چاہے کہ اب شاہ کی بانہوں میں کیا کر رہی تھی ۔
ملک نے گاڑی واپس گھمائی اور کوٹھے والے راستے پر ڈال دی….
مہرو آئینے کے سامنے کھڑی اپنا میک ٹھیک کر رہی تھی جو رونے سے خراب ہو چکا تھا..
ملک بنا کسی کی پرواہ کیے طوفان کی طرح جارحانہ تیور لیے مہرو کے کمرے میں داخل ہوا
اس نے مہرو کا رخ خود کی طرف کرتے دہاڑتے ہوئے کہا..
شاہ کی ہمت بھی کیسے ہوئی تمہیں چھونے کی؟ معارج نے مہرو کے جبڑے کو سختی سے دبوچتے ہوئے کرخت لہجے میں کہا اس کی آنکھیں لہو رنگ کی ہو رہی تھیں ۔
ملک چھوڑو مجھے تکلیف ہو رہی ہے مہرو نے کراہتے ہوئے کہا..
آج تو چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مہرو بی بی معارج نے مہرو کی بھیگی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا۔
چھوڑو اسے….
اس سے پہلے معارج اپنی حد پار کرتا مقابل کی آواز نے اسے خود کی طرف متوجہ کیا..
ملک نے سامنے دیکھا تو شاہ کے تیور بھی معارج ملک سے کم نہیں تھے….