No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
معارج کیا کررہے ہو چھوڑو میرا ہاتھ مہرو نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا جو اسے کھڑکی کے پاس لے کر جا رہا تھا۔
تمھارا کام آسان کر رہا ہوں مہر جی
معارج نے دانت پیستے ہوئے کہا
مہرو کی پشت کھڑکی کی طرف تھی
مہرو آنکھیں پھاڑے معارج کو دیکھ رہی تھی جس کے ماتھے پر ایک بھی شکن تک نہیں تھی۔
معارج مہرو کی طرف بڑھا تو مہرو بنا کچھ سوچے سمجھے معارج کے سینے سے جا لگی ۔
معارج کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئ ۔
کیا ہوا جاناں؟
معارج نے مہرو کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کرتے ہوئے پوچھا ۔
معارج مجھے تم سے نکاح نہیں کرنا پلیز مجھے کوٹھے پر چھوڑ دو پلیز. مہرو نے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔
میں تمھاری بکواس سننے کے لیے تمہیں یہاں نہیں لایا۔
نکاح تو میں تم سے آج ہی کروں گا اور خود کو بھی غور سے دیکھ لو میں نے تمھارے کپڑے تبدل نہیں کیے نایاب نے کیے تھے ۔
کیونکہ جس طرح کے تم کپڑوں میں موجود تھی ان میں میں تمہیں باہر نہیں لا سکتا تھا ۔
معارج نے سنجیدگی سے کہا ۔
نایاب نے تمھاری مدد کی؟ مہرو نے حیرانگی سے پوچھا
وہ تو تیار نہیں تھی اسے بھی میں نے دھمکایا تھا معارج ملک نے فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ سنایا ۔
اس سے پہلے مہرو کچھ کہتی
اتنے میں ملک کا موبائل رنگ ہوا اس نے نمبر دیکھا تو مجبوراً اسے کال اٹینڈ کرنی پڑی لیکن مقابل کی بات نے معارج ملک کے پیروں تلے زمین نکال دی تھی ۔
میں آرہا ہوں ۔کون سے ہسپتال میں ہیں وہ؟
معارج نے پریشانی سے اپنا ماتھا مسلتے ہوئے پوچھا۔
ٹھیک ہے میں آرہا ہوں ۔
معارج نے کہا اور موبائل بند کرکے مہرو کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے میں جلدی آنے کی کوشش کروں گا کچن میں سارا سامان موجود ہے اور یہاں سے بھاگنے کی کوشش مت کرنا پہلی بات تم یہاں سے نکل نہیں سکتی اور دوسری بات میرے ادمی گھر کے باہر ہی کھڑے پہرا دے رہے ہیں
تو یہاں سے باہر جانا تمھارا ناممکن ہے
اپنا خیال رکھنا۔
معارج نے سنجیدگی سے کہا اور گھر سے نکل گیا۔
مہرو نے پورا گھر دیکھ لیا تھا اسے کوئی بھی ایسا راستہ نظر نہیں آیا جس سے باہر جا سکے معارج نے کھڑکی کو بھی لاک لگا دیا تھا جس سے وہ مہرو کو باہر پھینکنے والا تھا
مہرو تھک ہار کر صوفے پر آنکھیں موندے لیٹ گئی تھی ۔
💖 💖 💖 💖 💖
معارج ملک جب گھر سے باہر نکلا تو دور کھڑے اجنبی کے چہرے پر خوشی جھلکنے لگی
معارج اپنے آدمیوں کو کچھ ہدایت دے کر وہاں سے چلا گیا تھا ۔
اجنبی معارج کے آدمیوں سے بچتے ہوئے گھر کے پیچھے دروازے سے اندر داخل ہوا اور ہاتھ میں پکڑے پٹرول کو پورے گھر میں چھڑکنے لگا۔
مہرو اسی کمرے میں تھی جہاں اسے معارج چھوڑ کر گیا تھا
اجنبی نے مہرو کے کمرے کے باہر بھی کافی زیادہ پٹرول چھڑکا اور خود گھر سے نکلنے سے پہلے اپنا سگریٹ سلگایا اور جلتے ہوئے لیٹر کو گھر کے اندر پھنک دیا پٹرول کی وجہ سے آگ ایک دم پھیلی تھی ۔
اگر تم میری نہیں ہو سکتی تو معارج ملک کی بھی تمہیں نہیں ہونے دوں گا ۔
اجنبی نے طنزیہ لہجے میں کہا
اور گھر سے نکل گیا
اس سے پہلے وہ کسی کی نظروں میں آتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔
باہر کھڑے معارج کے آدمیوں نے گھر میں لگی آگ کو دیکھا تو اندر جانے کی کوشش کرنے لگے ۔
ایک آدمی نے معارج کو کال کی لیکن وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا ۔
دو آدمیوں نے مل کر دروازہ توڑا اور گھر میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے ۔
کال رات ہی نایاب نے معارج کے کہنے پر مہرو کے کپڑے تبدیل کیے تھے اور اس کے جانے کے بعد اس نے شاہ کو فون کیا اور سب کچھ بتا دیا ۔
شاہ نے اسے حوصلہ دیا کہ وہ ملک کے ساتھ سیف رہے گی
شاہ نے اپنے دو آدمیوں کو بھی ملک کے پیچھے لگا دیا تھا جو معارج کے گھر پر نظر رکھے ہوئے تھے ۔
اور پل پل کی خبر شاہ کو دے رہے تھے
شاہ کے دونوں آدمیوں نے کسی آدمی کو گھر کی پیچھلی طرح جاتے ہوئے دیکھا تھا ۔
اس آدمی نے کالی چادر سے اپنے منہ کو ڈھانپا ہوا تھا ۔
گھر کی پیچھلی طرف جاتے ہی وہ آدمی کہی غائب ہو گیا۔
شاہ کے آدمی نے شاہ کو کال کرکے کالی چادر والے آدمی کا بتا دیا اور بھی کہا کہ ہمیں یہ انسان مشکوک لگا ہے ۔
شاہ نے کہا میں آرہا ہوں اور فون بند کر دیا ۔
💖💖💖💖💖💖💖
مہرو نے کو کچھ جلتا ہوا محسوس ہوا اس نے حیرانگی سے آنکھیں کھولی لیکن ہر طرف دھواں پھیلا ہوا تھا پہلے تو اسے کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن جیسے ہی اس کے دماغ نے کام کیا تو مہرو بھاگنے کے انداز میں کمرے سے باہر نکلی
لیکن باہر پھیلی آگ نے اس کے حواس کو بدحال کر دیا
مہرو نے پیچھے مڑ کر کمرے کا دروازہ کھولنا چاہا جو شاید اندر سے بند ہو چکا تھا ۔
مہرو نے دوسرے کمرے میں جانے کا سوچا
کیونکہ آگ پھیلتی جابرہی تھی ۔
اور اسے سانس لینے میں بھی مسئلہ ہو رہا تھا
دائیں جانب بنے کمرے کی طرف مہرو نے اپنے قدم بڑھائے اور دروازہ کھول کر اندر ایک کونے میں جاکر آنکھیں موندے کھڑی ہو گئی ۔
چونکہ اس کمرے میں بھی پٹرول چھڑکا گیا تھا تو آگ اندر تک پہنچ گئی
مہرو کو اپنا سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
سامنے پھیلی آگ کو دیکھ کر اسے لگ رہا تھا آج یہ مر جائے گی ۔
مہرو نے کھانسنا شروع کیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگی
اور بیہوش ہو کر وہی زمین پر گر گئی ۔
💖 💖 💖 💖 💖
شاہ جب وہاں پہنچا تو گھر میں لگی آگ کو دیکھ کر بوکھلا گیا تھا
آگ کافی پھیل چکی تھی۔
تم لوگ باہر کیا کر رہے ہو؟ اور یہ آگ؟ شاہ نے غصے میں دھاڑتے ہوئے سامنے کھڑے آدمیوں کو کہا اور خود گھر کے اندر جانے لگا
سر آپ اندر کیسے جائے گئے آگ چاروں طرف پھیل چکی ہے ملک کے آدمی نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا
شاہ نے اس آدمی کو خطرناک گھوری سے نوازہ اور بنا آگ کی پرواہ کیے گھر میں داخل ہوا ۔
دل شدت سے یہ دعا کر رہا تھا مہرو ٹھیک ہو
شاہ آگ سے بچتے بچاتے گھر کی مختلف جگہ پر مہرو کو دیکھ رہا تھا ۔جو اسے کہی نظر نہیں آئی۔
مہر کہاں ہو تم؟
شاہ نے تیز آواز میں پوچھا
کھانستے ہوئے شاہ ایک کمرے میں. پہنچا جہاں ہر طرف دھواں ہی دھواں پھیلا ہوا تھا ۔
اسے کمرے کے ایک کونے میں آگ چلتی ہوئی نظر آئی اور غور کرنے پر معلوم کہ وہاں پر ایک انسانی وجود بھی بےہوش پڑا تھا ۔
مہر… شاہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور جلدی سے اس کے پاس گیا۔جو بیہوش پڑی تھی ۔
مہرو کے ایک بازو کو ابھی آگ نے چھوا ہی تھا
شاہ پہلی بار اتنا پریشان ہوا تھا
شاہ نے اپنے ہاتھ سے مہرو کے بازو پر لگی آگ کو اپنے ہاتھ سے بجھانے کی کوشش کی جس سے اس کا ہاتھ بھی جل گیا تھا۔
لیکن شاہ کو اپنی تکلیف کی پرواہ نہیں تھی صحیح وقت پر شاہ کمرے میں آگیا تھا اگر تھوڑا سا لیٹ ہو جاتا تو آگ مہرو کو بھی راکھ بنا دیتی۔
شاہ نے اپنی چادر کو مہرو پر ڈالا اور آگ سے بچتے بچاتے اسے گھر سے لے کر نکل گیا۔
اس نے جلدی سے مہرو کو اپنی گاڑی کی پیچھلی سیٹ پر لیٹایا
اور اسے ہسپتال لے گیا ۔
💖 💖 💖 💖 💖
کیا ہوا ہے ڈیڈ کو؟ وہ ٹھیک ہیں؟ معارج نے پریشانی کے عالم میں پوچھا
بھائی وہ ٹھیک ہے اور ان نے سر پر ہلکی سی چوٹ لگی ہے ۔
ڈیڈ نے تو علیدان بھائی کو منع کیا تھا کہ آپ کو کچھ نا بتائے پھر؟
آرزو نے حیرانگی سے پوچھا
میرے ڈیڈ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ مجھے ہی بتانے سے منع کر ہے ہیں؟
عارج نے آرزو کو گھورتے ہوئے کہا
بھائی ڈیڈ کی بات کا مطلب تھا کہ ان کو کچھ نہیں ہوا وہ ٹھیک ہیں اور آپ فضول میں پریشان ہوتے ہیں
آرزو نے صفائی دیتے ہوئے کہا۔
وہ دیکھیے ڈیڈ آبھی گئے ہیں آرزو نے سامنے سے آتے شاداب ملک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ڈیڈ آپ ٹھیک ہیں زیادہ چوٹ تو نہیں لگی؟ معارج نے فکر مندی سے پوچھا ۔
مان یار میں ٹھیک ہوں بس چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اب میں ٹھیک ہوں دیکھو تمھارے سامنے ہی ہوں شاداب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ان سب کے دوران علیدان خاموش کھڑا تھا
بھائی آپ آرزو اور ڈیڈ کو گھر لے جائے مجھے ضروری کام سے جانا ہے معارج نے اپنے باپ کی بات سے مطمئن ہونے کے بعد کہا جو سچ میں ٹھیک تھے
ٹھیک ہے علیدان نے کہا
اور شاداب اور آرزو کو وہاں سےچلے گیا
علیدان نے جس انداز میں فون پر شاداب کے ایکسیڈنٹ کا بتایا تھا معارج سچ میں گھبرا گیا تھا ۔
اس نے اپنا موبائل نکالا جو بند تھا اون کرنے پر اس کے آدمی کی کافی کالز آئی ہوئی تھیں معارج نے ہسپتال سے باہر نکلتے ہوئے اپنی آدمی کو فون کیا اور گاڑی میں جا بیٹھا
لیکن جیسے جیسے اس کا آدمی بتاتا جا رہا تھا معارج کوبلگ رہا تھا کسی نے اس کا دل اپنی مٹھی میں لے لیا ہو ۔
آگ لگ گئی لیکن کیسے؟
معارج نے اپنے ماتھے کو مسلتے ہوئے پریشانی سوچا ۔
اس نے شاہ کو کال کی جو شاید اس کی کال کا ہی منتظر تھا ۔
مہرو کو میں نے دوبارہ کوٹھے پر چھوڑ دیا ہے وہ تمھارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی
اور اب اگر تم نے زبردستی کرنے کی کوشش کی یا اُس کے آس پاس بھی نظر آئے تو بہت برا ہو گا
شاہ نے بنا معارج کی بات سنے اپنی بات کہی اور موبائل بند کر دیا
شاہ کے بات کرنے کے انداز سے اسے پتہ چل گیا تھا کہ مہرو ٹھیک ہے لیکن سب سے پہلے اسے یہ معلوم کرنا تھا کہ آگ کیسے لگی اس نے گاڑی اس گھر کی طرف گھمائی جہاں مہرو کو رکھا تھا ۔
💖💖💖💖💖
معارج کو سب لوگ پیار سے مان کہتے تھے ۔
جس کی اپنے باپ سے زیادہ بنتی تھی ۔لیکن ضدی بھی بہت تھا۔
آفس کا کام زیادہ تر علیدان سنبھالتا تھا۔لیکن جب معارج آفس جاتا تو آفس والے اس کے دوبارہ آفس نا آنے کی دعا کرتے کام کے معاملے میں معارج بہت سخت تھا ۔
💖💖💖💖💖
معارج گھر کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا گھر پورا جل چکا تھا ۔
اگر شاہ نا آتا تو مہرو کا کیا ہوتا؟یہ سوچ ہی معارج کے لیے جان لیوا تھی ۔
شاہ نے مہرو سے ملنے کو منع کیا تھا لیکن شاہ نے کبھی اپنے گھر والوں کی بات نہیں مانی تو شاہ کی کیسے مان لیتا
دل مہرو کو دیکھنے کے لیے بےچین ہو رہا تھا پہلے اس کا ارادہ پتہ لگوانے کا تھا کہ آگ کیسے لگی لیکن پہلے اسے ایک اہم کام سرانجام دینا تھا۔
معارج ملک کوٹھے کے اندر داخل ہوا تو نایاب اسے سامنے ہی نظر آگئی تھی
تم نے شاہ کو اطلاع دی تھی کہ میں مہرو کو اپنے ساتھ لے گیا ہوں؟ معارج نے سنجیدگی سے پوچھا
ہاں نایاب نے ایک لفظ میں جواب میں کہا ۔
بہت اچھا کیا ۔معارج نے کہا اور مہرو کے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
جو سوچ رہی تھی معارج ملک غصہ کرے گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا تھا ۔
مہرو کا ہاتھ جلا تھا اور اب کافی بہتر تھی جب اسے ہوش آیا تو اس نے کوٹھے پر جانے کی ضد کی جبکہ شاہ کہہ رہا تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر جائے گا لیکن وہ نہیں مانی اور شاہ کو مہرو کی بات ماننی پڑی۔
معارج کمرے میں داخل. ہوا تو مہرو کھڑکی کے پاس کھڑی باہر کا نظارہ دیکھ رہی تھی ۔
معارج ملک چھوٹے چھوٹے قدم لیتا مہرو کے پیچھے کھڑا ہو گیا
مہرو نے معارج کی موجودگی کو محسوس کر لیا تھا ۔
لیکن بنا کوئی تاثر دیے کھڑی رہی
گھر میں آگ کیسے لگی؟ معارج کی سنجیدہ آواز کمرے میں گونجی
مجھے نہیں معلوم
مہرو نے عام سے لہجے میں کہا ۔
معارج نے مہرو کا رخ خود کی طرف کیا لیکن جیسے ہی اس کی نظر مہرو کے ہاتھ پر پڑی اس نے فکر مندی سے مہرو کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔
مہرو کھڑی معارج کے پریشان چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔
تم ٹھیک ہو؟ معارج نے بےتابی سے پوچھا
مہرو بنا پلکیں جھپکائے معارج کو دیکھ رہی تھی
مہرو میں تم سے نکاح کرنا چاہتا تھا جو اُس گھر میں نہیں ہو سکا
لیکن اب اور اسی وقت ہو گا
تھوڑی دیر تک مولوی صاحب آتے ہونگے
پھر ہمارا نکاح ہو جائے گا
پھر جتنی مرضی دیر اپنی ان پیاری پیاری آنکھوں سے مجھے دیکھتی رہنا
معارج نے پہلی بات سنجیدگی اور آخری بات مسکرا کر کہی
نا میں پہلے تم سے نکاح کرنا چاہتی تھی اور نا اب نکاح کرنا چاہتی ہوں
کاش کہ میں اس آگ میں جل کر مر جاتی کم از اکم تم سے تو چھٹکارا ملتا
مہرو نے نفرت بھرے لہجے میں کہا وہ خود نہیں جانتی تھی کہ کیوں وہ معارج پر اتنا غصہ کر رہی ہے
تمہیں زیادہ شوق نہیں مرنے کا جاناں فکر مت کرو میں خود تمھاری زندگی جہنم بنا دوں گا لیکن تمہیں میرے مرنے کے بعد ہی چھٹکارا ملے گا آئندہ اگر مرنے کی بات کی تو زبان کاٹ دو گا ۔
معارج نے مہرو کو بالوں سے پکڑتے اس کا چہرہ خود کے قریب کرتے ایک ایک لفظ چبا کر کہا ۔
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی تو معارج مہرو کو گھورتا ہوا کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا
سر مولوی صاحب آگئے ہیں
معارج کے آدمی نے کہا اور وہاں سے چلا گیا
نکاح تو میں آج ہی کروں گا ۔اگر اپنے بھائی کو بلانا چاہتی ہو تو بلا سکتی ہو معارج کا اشارہ شاہ کی طرف تھا
اس نے مہرو کو بازو سے پکڑتے ہوئے کہا اور اسے گھسیٹنے والے انداز میں کمرے سے باہر لے گیا ۔
💖 💖 💖 💖 💖
شاہ مہرو کو کوٹھے پر چھوڑنے کے بعد اس گھر میں آیا تھا جس میں اس نے روحی کو رکھا تھا ۔
شاہ کی متلاشی نظریں روحی کو ڈھونڈ رہی تھیں جو شاید کمرے میں تھی۔
شاہ کمرے میں داخل ہوا تو روحی ریان کو دیکھ کر کمرے سے باہر جانے لگی۔
جب شاہ نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود کے قریب کیا ۔
شوہر تھکا ہارا آیا ہے ایک نظر اسے دیکھ ہی لو ۔شاہ کا اشارہ اپنے جلے ہوئے ہاتھ کی طرف تھا۔
روحی کی جب نظر ہاتھ پر پڑی تو اسے تکلیف کا احساس ہوا تھا۔
شاہ کا ہاتھ زیادہ جلا ہوا تھا ۔
آپ کے ہاتھ کو کیا ہوا؟ یقیناً پھر کسی سے جھگڑا کیا ہو گا۔
اور ہاتھ جل گیا روحی اپنی رو میں بولتی جا رہی تھی جب شاہ نے اس کی بولتی اپنے انداز میں بند کی ۔
روحی شاہ کی اس حرکت پر بوکھلا گئی تھی اس نے زور سے شاہ کا کالر پکڑ لیا تھا۔
شاہ نے روحی کو کمر سے پکڑ کر خود کے مزید قریب کیا
تھوڑی دیر بعد شاہ پیچھے ہوا اور روحی کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھنے لگا ۔جو نظریں چرا رہی تھی ۔
روحی کو شاہ کی نظروں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھی اس نے نظریں جھکا ۔
شاہ بے خودی کے عالم میں آگے بڑھا اور باری باری روحی کی دونوں آنکھوں پر پیار سے بوسہ دیا ۔
روحی اب ہلکے ہلکے کانپنے لگی تھی ۔
تو تم کیا کہہ رہی تھی؟ شاہ نے روحی کے بالوں کی لٹ کو کھنچتے ہوئے کہا.
اس وقت وہ بھول چکا تھا کہ اس نے مہرو کو کہا تھا کہ کسی مقصد کے تحت اس نے روحی سے نکاح کیا ہے ۔
اس وقت اگر اسے کچھ یاد تھا تو صرف یہی کہ سامنے کھڑی لڑکی اس کی بیوی ہے اس کے نکاح میں ہے ۔جس سے شاہ محبت کرتا ہے لیکن تسلیم نہیں کرتا
می میں کچھ بھی نہیں ۔
روحی نے اٹکتے ہوئے کہا ۔
میرا ہاتھ جل گیا تھا اس پر کچھ لگا دو
شاہ نے اپنا جلا ہوا ہاتھ روحی کے سامنے کرتے ہوئے کہا ۔
میں فارغ نہیں ہوں مجھے بھوک لگی یے میں کھانا کھانے جا رہی ہوں روحی نے جلدی سے کہا اور کمرے سے باہر بھاگ گئی۔
مزید ایک سیکنڈ بھی وہ شاہ کے سامنے روکنا نہیں چاہتی تھی نا ہی شاہ سے نظریں ملانے کی اس میں سکت تھی۔
شاہ نے اسے باہر جاتے دیکھا اور ہلکا سا مسکرا پڑا اور خود شاور لینے چلا گیا
