Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

صائم ترسی ہوئی نگاہوں سے نایاب کو دیکھ رہا تھا جیسے اپنی نظروں کی پیاس بجھا رہا ہو ۔
نایاب کے چہرے پر کسی قسم تاثر نہیں تھا ۔
اس نے ایک نظر صائم پر ڈالی اور اندر چلی گئ ۔
صائم بھی اند آگیا ۔شبنم ان کا خاص خیال رکھنا کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے
نایاب کہہ شبنم کو رہی تھی لیکن دیکھ صائم کو رہی تھی ۔
شبنم نے صائم نے کندھے پر ہاتھ رکھا جیسے صائم نے غصے میں جھٹک دیا تھا
اور کچھ فاصلے پر کھڑی نایاب کا ہاتھ پکڑ کر اسے خود کی طرف کھنچا۔
تم میری خدمت کیوں نہیں کر سکتی؟ صائم نے اپنے غصے پر قابو پاتے نایاب کی براؤن آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہوچھا
جس کے لیے یہاں آیا تھا وہ اسے کسی دوسری کے پاس چھوڑ کر جا رہی تھی
صائم ان آنکھوں کو چھونا چاہتا تھا جنھوں نے اسے کافی دنوں سے پریشان کیا ہوا تھا ۔
آپ نے پہلے نہیں بتایا کہ آپ کو میری قربت کی طلب ہے ورنہ میں شبنم کو ہرگز نا کہتا
نایاب نے صائم کے قریب ہوتے ہوئے سرگوشی نما کہا ۔
جو نایاب سے الگ ہونا چاہتا تھا لیکن نہیں ہو پارہا تھا وہ تو نایاب کی حسین آنکھوں میں کھو سا گیا تھا۔
آج نایاب پارلر سے میک اپ کروا کر آئی تھی ورنہ بیوٹیشن کوٹھے پر ہی آکر یہاں کی لڑکیوں کو تیار کر دیتی تھی ۔
نایاب نے بلیو کلر کا لانگ فراک پہنا تھی
گہرا گلہ اور بڑے سے ڈوپٹے کو سر پر سیٹ کیا تھا ۔
صائم تو کچھ پل کے لیے نایاب کے خوبصورت چہرے میں کھو سا گیا تھا۔
ویسے صاحب آج رات میں تھوڑا بزی ہوں اب جس کو پہلے ٹائم دیا ہے اُس کے پاس نا گئ تو اُن صاحب کو بھی برا لگے گا
نایاب نے صائم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا
نایاب کی بات پر صائم ہوش کی دنیا میں لوٹا
دماغ نے پھر سے کہا سامنے کھڑی پری ایک طوائف ہے ۔
صائم نے نایاب سے پیچھے ہونا چاہا تو نایاب ہنسے لگی
مجھے تم جیسے مردوں کی سمجھ نہیں آتی اگر دور ہی رہنا ہے تو کوٹھے پر کیا لینے آتے ہو ۔
اب یہاں پر شریف ذادیاں تو ہوتی نہیں جو تہذیب کے دائرے میں رہ کر بات کریں۔
نایاب نے اپنے دونوں بازوں کو صائم کے گلے میں ڈال کر پرکشش انداز میں کہا ۔
صائم نے ارد گرد نظر دہرائی لیکن کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا
اور یہ سب تو یہاں کا معمول تھا
فکر مت کرو میں نے کہا نا یہ کوٹھا ہے یہاں کوئی بھی کسی کے معاملے میں دخل اندازی نہیں کرتا۔
نایاب نے صائم کی نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے کہا ۔
آج سے تم اپنی ہر رات میرے نام کرو گی۔
صائم نہیں جانتا تھا کیوں اس نے اتنی بڑی بات کہہ دی تھی شاید نایاب کا کسی اور کے ساتھ کا سن کر اس نے ایسا کہا تھا ۔
کتنے پیسے دو گئے ایک رات کے؟
نایاب نے سنجیدگی سے کہا
جتنے تم چاہو
لیکن آج کے بعد تم کسی بھی مرد کے سامنے نہیں جاؤ گی صرف میری بن کر رہو گی۔
صائم نے سنجیدگی سے کہا ۔
نایاب کچھ پل کے لیے خاموش ہو گئ تھی اس نے تو صائم کو تنگ کرنے کے لیے سب کچھ کہا تھا لیکن وہ سیریس ہو گیا تھا ۔
کیا سوچ رہی ہو؟ ایک مرد کے ساتھ رہنا مشکل ہے کیا؟ صائم نے اس کے طوائف ہونے پر چوٹ کرتے کہا ۔
مشکل تو ہو گا طوائف جو ہوں الگ الگ مرد کی عادت سی ہو گئ ہے لیکن میں مینج کر لوں گی۔
نایاب نے بھی مسکراتے ہوئے کہا ۔
اور اس کی بات نے صائم کے غصے کو مزید ہوا دی تھی ۔
میں چلتا ہوں رات کو آؤ گا
صائم نے نایاب کو دیکھتے ہوئے کہا اسے نایاب کا گھبرانا اچھا لگ رہا تھا
صائم نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
تو نے اس سے جھوٹ کیوں بولا کہ آج رات تو بزی ہے؟ تو کب سے یہ کام کرنے لگی
سلمیٰ نے گھورتے ہوئے نایاب سے پوچھا جو اپنی ہی بات میں پھنس گئ تھی
مجھے کیا پتہ تھا وہ سنجیدہ ہو جائے گا مجھے لگتا تو نہیں تھا کہ. وہ ایسا کچھ کہے گا لیکن اس نے میری سوچ کو غلط ثابت کر دیا۔
نایاب نے نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔
اور کمرے میں چلی گئی ۔
💝💝💝💝💝
مان تمھاری ماں تم سے کچھ بات کرنا چاہتی ہیں شاداب نے مان کو کہا
ڈیڈ کس بارے میں؟ مان نے حیرانگی سے پوچھا
تمھاری شادی کے بارے میں
ڈیڈ پلیز آپ بھی جانتے ہیں میں کبھی بھی کومل سے شادی نہیں کرو گا
مان نے شاداب کو دیکھتے ہوئے کہا۔
یار میں جانتا ہوں لیکن تمھاری ماں ضد پر آ گئی ہیں
وہ کہہ رہی ہے کہ مان کی دلہن کومل ہی بن کر اس گھر میں آئے گی۔
ڈیڈ آپ بھی جانتے ہیں اور موم بھی جانتی ہیں مجھے ایموشنل بلیک میل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گ۔ا
میں وہی کروں گا جو میرا دل کرے گا۔
اور میں بہت جلد آپ لوگوں سے اپنی پسند کو ملا دوں گا
مان نے سنجیدگی سے کہا ۔
تو تم لڑکی پہلے ہی پسند کیے بیٹھے ہو کون ہے وہ لڑکی؟
شاداب نے مسکراتے ہوئے پوچھا
بہت جلد آپ کو اس سے ملاؤ گا ڈیڈ
مان نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
پھر تو مجھے اس دن کا شدت سے انتظار ہے آخر میں بھی دیکھنا چاہو گا کہ وہ لڑکی کون ہے جسے میرے بیٹے نے پسند کیا ہے ۔
شاداب نے مان کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا ۔
مان اپنے باپ کی بات سن کر ہنس پڑا اور پھر دونوں بزنس کی باتیں کرنے لگے ۔
💝💝💝💝💝💝
ماما آکف کہاں ہے آجکل نظر نہیں آتا
عرشمان نے اپنی ماں کی گود میں سر رکھتے پوچھا ۔
بیٹا اسے آفس جانے کی جلدی ہوتی ہے اس کا بس چلے تو گھر ہی نا آئے
روبینہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
پھر تو آفس میں کوئی خاص وجہ ہو گی
عرشمان نے ہنستے ہوئے کہا
بیٹا میں نے تم سے ایک بات کرنی تھی میں نے سوچا ہے کیوں نا آرزو کو اپنی بیٹی بنا لوں روبینہ بیگم نے عرشمان کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
کیا مطلب عرشمان نے ناسمجھی سے پوچھا اسے اپنی ماں کی بات کا مطلب اچھے سے سمجھ میں آگیا تھا ۔لیکن پھر بھی ناسمجھی کا مظاہرہ کر رہاتھا
میں چاہتی ہوں تمھاری اور آرزو کی شادی کر دی جائے تمہیں اگر کوئی اعتراض ہے تو بتا دو
روبینہ بیگم نے کہا۔
امی اگر میں انکار کر دوں تو؟ عرشمان نے سنجیدگی سے پوچھا ۔
تو میں تمہارے انکار کی وجہ جاننا چاہو گی اگر تمھارے انکار کی وجہ مجھے ٹھیک لگی تو میں خود اس رشتے کے لیے انکار کر دوں گی ۔
روبینہ بیگم نے کہا
مجھے اعتراض نہیں ہے لیکن میں چاہتا ہوں ایک ہفتے کے اندر میری اور آرزو کی شادی ہو جائے اگر آپ کو منظور ہے تو ٹھیک ہے۔
ویسے بھی کل ہم اپنے گھر شفٹ ہو رہے ہیں تو ایک ہفتہ کافی ہے
عرشمان نے اُٹھتے ہوئے کہا
بیٹا شادی کی تیاری کرنے میں وقت لگے گا ایک ہفتہ کم ہے روبینہ بیگم نے پریشانی سے کہا۔
ماما آپ لوگ اچھے سے سوچ لیں اگر ایک ہفتے کے اندر شادی نا ہوئی تو میری طرف سے انکار سمجھے
عرشمان نے اپنی بات کہی اور وہاں سے چلا گیا ۔
جہاں روبینہ بیگم کو خوشی ہوئی تھی وہی عرشمان کی ضد نے انہیں پریشان کر دیا تھا ۔
💝💝💝💝💝💝
آج ہماری ایک بہت ضروری میٹنگ ہے وہ لوگ آفس نہیں آئے گئے
اور تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے
آکف نے ایزل کو کہا جو باہر جانے کا سن کر گھبرا گئی تھی
سوری سر میں آپ کے ساتھ باہر نہیں جا سکتی۔
ایزل نے اپنی انگلیاں مڑوڑتے ہوئے کہا ۔
کوئی جاص وجہ؟ اور تم میرے ساتھ کیوں نہیں جا سکتی؟
آکف نے تھوڑا غصے میں پوچھا
اسے ایزل کا انکار کرنا بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا ۔
سر میں نہیں جا سکتی سوری
ایزل نے نظریں جھکا کر کہا ۔
چار بجے میٹنگ ہے مس ایزل آپ تیار رہیے گا
آکف نے اپنی بات مکمل کی اور اپنے موبائل میں بزی ہو گیا
لیکن سر؟ ایزل نے کچھ کہنا چاہا جب الف نے اسے ٹوک دیا
مس ایزل آپ جا سکتی ہے ۔
آکف کے سنجیدہ سے لہجے کے سامنے ایزل بھی خاموش ہو گئی اور روم سے چلی گئ ۔
آکف نے یہ میٹنگ باہر اس لیے ارینج کی تھی تاکہ ایزل کے ساتھ کچھ وقت گزار سکے
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اگے کیا طوفان آنے والا ہے۔
💝💝💝💝💝💝
شاہ روحی کو کمرے میں. لایا اور اسے بیڈ پر پھنک دیا
آپ نہایت ہی بدتمیز انسان ہے
روحی نے شاہ کو گھورتے ہوئے کہا
یہ میں جانتا ہوں ۔شاہ نے سائیڈ ڈرا سے کچھ تلاش کرتے ہوئے کہا۔
اور مطلوبہ چیز ملنے پر روحی کے سامنے آکر بیٹھ گیا جو پیچھے کھسکنے کے چکروں میں تھی ۔
کھا نہیں جاؤ گا تمہیں یہی بیٹھی رہو شاہ نے سنجیدگی سے کہا ۔
اور ہاتھ میں پکڑی کریم کو روحی کے گال پر لگانے لگا جہاں ابھی تک نشان موجود تھا ۔
شاہ اب اپنی انگلی کی پور سے ہونٹ کے پاس والے زخم کو چھو رہا تھا
روحی آنکھیں بند کیے دھڑکتے دل کے ساتھ شاہ کے لمس کو محسوس کو رہی تھی ۔
شاہ نے آگے بڑھ کر پیار سے اس جہاں اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے جہاں پر زخم موجود تھا۔
روحی نے حیرت سے آنکھیں کھول کر شاہ کو دیکھا جو مسکراتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
شاہ آپ کا سچ میں دماغ گھوم چکا ہے آپ کو علاج کی ضرورت ہے
اگر اپ کے اپنا علاج نہیں کروایا تو مجھے کروانا پڑے گا ۔
روحی نے شاہ کو مشورہ دیتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
جو آبرو اچکائے روحی کو ہی دیکھ رہا تھا
شاہ کی گہری نظروں نے روحی کو وہاں سے اٹھنے پر مجبور کر دیا ۔
مجھے بھوک لگی روحی نے نظریں چراتے ہوئے کہا اور وہاں سے بھاگنے لگی جب شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا
چلو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ چیزیں کہاں کہاں پڑی ہے شاہ نے ہلکا سا ہنس کر کہا اور روحی کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے باہر لے گیا۔