Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

آپ کافی پریشان لگ رہے ہیں اور سوچ رہے ہونگے کہ مجھے آپ کی حرکتوں کے بارے میں کیسے پتہ چلا اور دماغ میں یہ بھی چل رہا ہو گا کہی روحی نے تو نہیں بتا دیا ۔
تو بے فکر رہے اس نے مجھے کچھ نہیں بتایا بلکہ میں نے خود اپنے گناہ گار کانوں سے آپ کی ساری باتیں سنی تھی جب آپ روحی کو دھمکا رہے تھے ۔
شاہ نے اپنے باپ کے کمرے میں داخل ہوتے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
قاسم شاہ نے غصے سے ریان کو دیکھا
میری ایک بات کان کھول کر سن لو شاہ میں تمھارا باپ ہوں اور تم کبھی میرے باپ نہیں بن سکتے ۔
اب اگر تمہیں پتہ چل ہی گیا ہے تو بات کو کھل کر کرتے ہیں روحی میری ہے اور ہمیشہ میری ہی رہے گی۔
تم کب تک اسے مجھ سے بچاؤ گئے
قاسم شاہ نے خباثت سے کہا
مجھے نہیں معلوم تھا آپ اس حد تک گر سکتے ہیں اپنی بہو کے بارے میں بیہودہ بولتے ہوئے آپ کو زرا سی بھی شرم محسوس نہیں ہوئی ۔
ریان شاہ نے نفرت بھرے لہجے میں کہا
بلکل بھی نہیں اور میں قاسم شاہ ہوں کچھ بھی کر سکتا ہوں تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے؟
قاسم شاہ نے ریان کی سرخ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
آپ کیا کر سکتے ہیں مجھے فرق نہیں پڑا لیکن میری بیوی کو اگر آپ کی وجہ سے ایک خراش بھی آئی تو پھر یاد رکھیے گا ریان شاہ بھی کیا کرتا ہے ۔
وہ پھر آپ کے باپ ہونے کا لحاظ بھی نہیں کرے گا
اور آپ تو اچھے سے جانتے ہیں کہ ریان شاہ کی کوئی حد نہیں ہے
ریان شاہ وہ سب کچھ کر دکھاتا ہے جس کی کسی نے امید بھی نہیں کی ہوتی ۔
شاہ نے اپنے باپ کو دیکھتے ہوئے کہا
قاسم شاہ نے ریان کی بات کا مطلب سمجھ کر دانت پیسے تھے ۔
تم میرے بیٹے ہو اس لیے تمھارا لحاظ کررہا ہوں قاسم شاہ نے ریان کو گھورتے ہوئے کہا۔
میں بھی ڈیڈ…
ریان نے ڈیڈ پر زور دیتے ہوئے کہا اور دل جلا دینے والی مسکراہٹ قاسم شاہ کی طرف اچھالی۔
آپ اپنی حد میں رہے تو بہتر ہو گا ورنہ آپ اچھے سے جانتے ہیں میں کیا کروں گا
ریان نے نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔
اور کمرے سے نکل گیا۔
پیچھے قاسم شاہ نے زور سے دیوار پر ہاتھ مار کر غصے کو کنٹرول کیا تھا ۔
بہت انتظار کیا ہے میں نے شاہ اب اتنی آسانی سے روحی کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتا
قاسم شاہ نے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
یار یہ تو بہت اچھی بات ہے میں تمھاری لیے بہت خوش ہوں روحی نے سامنے بیٹھی آرزو کو کہا۔
آرزو نے اسے اپنی شادی کا بتایا تو روحی بہت خوش ہوئی تھی
روحی تمہیں آنا ہے اور اپنے شوہر کو بھی ساتھ لے لر آنا آرزو نے بھی ہلکا سا مسکرا کر کہا اسے روحی اپنے نکاح کا بتا چکی تھی ۔
آج کافی دنوں بعد دونوں ایک دوسرے سے بات کر رہی تھیں۔
آرزو شاہ نہیں مانے گئے ویسے ہی سڑیل قسم کے ہیں میری کوئی بات نہیں مانتے روحی نے منہ پھیلاتے ہوئے کہا ۔
آرزو بے ساختہ ہنس پڑی تھی۔
تم ہنس کیوں رہی ہوں روحی نے گھورتے ہوئے پوچھا
کچھ نہیں لیکن جو بھی ہو تمہیں آنا ہے ایک تمہیں میری اکلوتی دوست ہو اگر تم نا آئی تو میں کبھی بھی تم سے بات نہیں کرو گی
آرزو نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ۔
بھلا میں کیوں نہیں آؤ گی؟ میں ضرور آؤں گی بلکہ شاہ کو بھی ساتھ لے آؤ گی
روحی نے جلدی سے کہا
ایک بات بتاؤ عرشمان کا رویہ تمھارے ساتھ کیسا ہے؟
روحی نے اس بات سنجیدگی سے پوچھا
روحی تم جانتی ہو وہ اپنی بےعزتی کا بدلا لینا چاہتا ہے
اب وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے مجھے نہیں معلوم میں بس اس کے ہاتھ کی کٹ پتلی بن گئی ہوں جیسے وہ کہتا ہے ویسے ہی میں کرتی ہوں
آرزو نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا
آرزو انشاءاللہ سب ٹھیک ہو گا تم بس اچھا سوچو
روحی نے آرزو کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے حوصلہ دیتے ہوئے کہا
اوکے اب میں چلتی ہوں ماما سے ضد کرکے ڈرائیور کے ساتھ آئی ہو
رات میں تمھارا انتظار کرو گی
آرزو نے روحی کے گلے ملتے ہوئے کہا ۔
ہاں میں ضرور آؤں گی روحی نے کہا اور آرزو کو دروازے تک چھوڑنے کے لیے چلی گئ ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
شاہ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے
روحی نے شاہ کے پاس بیڈ پر کچھ فاصلے پر بیٹھتے ہوئے کہا
جو کب سے کمرے سے باہر کھڑے اندر جانے کا سوچ رہی تھی اب ہمت کرکے روم میں داخل ہوئی آرزو کو تو کہہ دیا تھا کہ. شاہ کو بھی ساتھ لے آئے گی لیکن اب گھبرا رہی تھی ۔
ہاں کرو میں نے کب تمہیں روکا ہے شاہ نے حیرت کے مارے اپنا لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے روحی سے کہا ۔
وہ میری بیسٹ فرینڈ کی شادی ہے اور مجھے جانا ہے روحی نے جلدی سے پانا مدا بیان کیا
تو تم مجھ سے اجازت لے رہی ہو؟ شاہ نے مسکراہٹ دبا کر پوچھا
کس نے کہا میں آپ سے اجازت لے رہی ہوں میں تو ضرور جاؤ گی اور میں یہ کہہ رہی ہوں آپ بھی میرے ساتھ چلے گئے
روحی نے شاہ کو خوش فہمی کی دنیا سے واپس لاتے ہوئے جلدی سے کہا ۔
اور اگر میں تمہیں جانے کی پرمیشن نا دوں تو کیا کرو گی؟
جانِ من شاہ نے روحی کو بازو سے پکڑ کر خود کی طرف کھنچا جو شاہ کے سینے پر جا گری تھی ۔
شاہ آپ کسی قسم کی فضول حرکت نہیں کرے گئے روحی نے شاہ کو دیکھتے ہوئے تنبیہ کرنے والے انداز میں کہا ۔
شاہ روحی کی بات پر قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا تھا
دیکھو تم مجھے کتنے اچھی طرح جاننے لگی ہو ۔
اوکے اب مجھے چھوڑیے روحی نے کہا۔
چھوڑ دوں گا لیکن اسے سے پہلے تمہیں میرا ایک کام کرنا ہو گا ۔
شاہ نے شرارتی لہجے میں کہا
اچھا ٹھیک ہے جلدی بولیے کیا کرنا ہے روحی نے جان جھڑوانے والے انداز میں کہا ۔
ِکس می شاہ نے روحی کی خوبصورت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
کییییییا روحی کو لگا اس نے شاید غلط سنا ہے اس لیے آنکھیں پھاڑے شاہ کو دیکھتے کیا کو لمبا کرتے ہوئے کہا
میں نے کہا ِکس می
اس بار شاہ نے کس پر زور دیتے ہوئے کہا
شاہ آپ تو بے شرم ہے لیکن میں ہرگز نہیں ہوں
چھوڑیے مجھے
روحی نے شاہ سے الگ ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔
جب تک ےم میری بات نہیں مانو میں تمہیں خود سے الگ نہیں کرو گا
شاہ نے مزے سے کہا
شاہ پلیز مجھے جانا ہے روحی نے معصومیت سے کہا
شاہ کو بھی اس کی شکل دیکھ کر ترس آگیا اور اور اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرکے اس نے روحی کو چھوڑ دیا جو کمرے سے بھاگنے کے چکروں میں تھی
سنو تمہیں چھوڑنے اور واپسی پر لینے بھی میں ہی آؤ گا تم کسی کے ساتھ بھی واپس نہیں آؤ گی
شاہ نے سنجیدگی سے کہا روحی نے اثبات میں سر ہلا اور روم سے باہر چلی گئی ۔
💖 💖 💖 💖 💖
مہرو کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟ نایاب نے پریشانی سے پوچھا
آپی آپ کو کیا لگتا ہے کیا معارج میری بات پر یقین کرے گا
مہرو نے بے تاثر نظروں سے نایاب کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
مہرو وہ تم سے محبت کرتا ہے بھلا کیوں نہیں کرے گا وہ تم پر بھروسہ؟
نایاب نےکہا
آپی یہاں بات اسے کے بھائی کی ہے جو اسے بہت عزیز ہے مہرو نے سرد لہجے میں کہا
مہرو مجھے معارج علیدان سے بہت مختلف لگا ہے بےشک وہ دونوں سگے بھائی ہے لیکن دونوں کی نیچر میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔
تم نے بہت صبر کیا ہے تھوڑا سا صبر اور کر لو اللہ پر بھروسہ رکھو وہ بہتر کرے گا۔
اور میری شاہ سے بھی بات ہوئی تھی اس نے بھی تمہیں منع کیا ہے کہ دوبارہ کوٹھے پر مت جانا ۔
اس میں تمھاری ہی بہتری ہے
اور اگر تم میری رائے لو تو میں بھی تمہیں منع کروں گی کہ اب تم معارج سے پوچھے بغیر کوٹھے پر مت جانا ۔
نایاب نے سنجیدگی سے کہا
آپی میں کیوں معارج کی بات مانو جبکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ بھی اپنے بھائی کو ہی سچا سمجھے گا ۔تو کیوں میں ا سکی بات مانو؟
مہرو نے غصے میں کہا سب اسے ملک کی بات ماننے کو کہہ رہے تھے جس پر اسے غصہ آرہا تھا ۔
مہرو تم نے جہاں اتنا صبر کیا ہے وہاں تھوڑا اور سہی تم نے معارج کو علیدان کی ساری حقیقت بتا دی ہے اب اسے واپس آنے دو اور دیکھو وہ کیا کہتا ہے
اگر تو اس نے کہا کہ میرا بھائی ہی ٹھیک کہہ رہا ہے تو پھر جو تمھارا دل کرے وہ کرنا پھر نا تو میں تمہیں روکو گی اور نا ہی شاہ تمہیں روکے گا
ٹھیک ہے
نایاب نے تحمل سے مہرو کو سمجھاتے ہوئے کہا جو شاید سمجھ بھی گئی تھی
اوکے لیکن ابھی میرا دل کہی باہر جانے کو کررہا ہے کہی باہر چلے یہاں میرا دم گھٹ رہا ہے خود سے باتیں کرکے اکتا گئی ہوں میں
مہرو نے بات کو بدلتے ہوئے کہا
جس پر نایاب ہنس پڑی ٹھیک ہے چلو ہم دونوں چلتے ہیں اور ڈھیر ساری شاپنگ بھی کریں گئے ۔اور خوب ہلہ گلہ کرکے واپس آئے گئے نایاب نے بھی خوشی سے کہا کیونکہ آج پہلی بار مہرو نے خود کہی باہر جانے کی بات کی تھی ۔
💖💖💖💖💖💖
چاچو جان یہ سب کیا تماشا لگا رکھا ہے شاہ صرف میرا ہے وہ کیسے اس نوکرانی کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے ۔
سوہا نے غصے سے ٹہلتے ہوئے کہا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ روحی کی جان لے لیں
صبر کرو بیٹا شاہ پہلے بھی تمھارا تھا اب بھی تمھارا ہی رہے گا
اگر ہم روحی کو اس کی زندگی سے دور کر دیں تو پھر وہ تمھارے پاس ہی آئے گا
قاسم شاہ نے کمینگی سے کہا
اس وقت بھی وہ خود کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔اس طرح روحی کو حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ۔
کیا مطلب؟ سوہا نے ناسمجھی سے قاسم شاہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ہمیں بس روحی کو شاہ سے الگ کرنا ہے اور شاہ کے دل میں روحی کے لیے نفرت پیدا کرنی ہے پھر وہ خود ہی روحی کو چھوڑ دے گا
قاسم شاہ نے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا
لیکن ہمیں کرنا کیا ہو گا؟
سوہا نے قاسم شاہ کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
روحی کے کریکٹر کو شاہ کے سامنے مشکوک بنانا ہو گا پھر دیکھنا شاہ کیا کرتا ہے وہ میرا بیٹا یے اور مجھے اچھے سے معلوم ہے کہ کس طرح روحی کے لیے شاہ کے دل میں نفرت ڈالنی ہے ۔
قاسم شاہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا اور آگے کا پلان سوہا کو بتانے لگا۔
💖💖💖💖💖💖💖
مہرو نے کافی شاپنگ کی تھی اور آج ہر چیز اپنی پسند کی لی تھی ۔
معارج کے آدمی نے بتا دیا تھا کہ مہرو کسی لڑکی کے ساتھ گئی ہے معارج کے وہاں پہنچے تک مہرو واپس آچکی تھی
نایاب دوبارہ کوٹھے پر جا چکی تھی ۔
کہاں گئ تھی تم۔۔۔۔؟؟؟
مان کی سرد سی آواز نے ایک پل کے لیے مہرو کو ڈرا دیا تھا
وہ پوچھ توعام سے لہجے میں رہا تھا لیکن مہرو اچھے سے جانتی تھی معارج ملک کا لہجہ عام ہرگز نہ تھا۔۔۔۔
تم. کیا جن کی طرح اچانک نازل ہوجاتے ہو؟
مہرو نے مان کی بات کو اگنور کرتے ہوئے کہا
میں نے کچھ پوچھا ہے مہرو ڈارلنگ
معارج نے مہرو کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے کہا
مجھے کچھ ضروری کام تھا اور میں آپ کو بتانا بہتر نہیں سمجھتی۔۔۔۔!!!
مہرو نے اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا اور معارج کے دائیں جانب سے نکلنے لگی
جب معارج نے مہرو کو کمر سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا مہرو نے معارج کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خود کو گرنے سے بچایا تھا دونوں کی نظریں کچھ پل کے لیے ملی مہرو نے فوراً اپنی نظریں جھکا لیں۔۔۔۔
مجھے ہرگز پسند نہیں ہے کہ کوئی بھی میری بات کو نظر انداز کرے میں نے پوچھا تم کہاں گئ تھی تو جواب دینا تم پر فرض ہے مسز معارج ملک۔۔۔۔!!!
اس بار ملک نے سخت لہجے میں کہا مہرو کو ملک کی انگلیاں اپنی کمر میں دھنستی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔۔
ملک مہرو کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا جہاں خوف کے ساتھ پریشانی بھی واضح تھی مہرو کی حالت دیکھ کر ملک کا شک اب یقین میں بدل گیا تھا دونوں میں فاصلہ نا ہونے کے برابر تھا۔۔۔۔
میں آپ کو بتانا پسند نہیں کرتی مسٹر ملک۔۔۔۔!!!
مہرو نے خود میں حوصلہ پیدا کرتے ہوئے اپنی نظریں ملک کے چہرے پر گاڑھتے ہوئے کہا جبکہ مہرو کی بات سن کر معارج ملک کے ہونٹ ہلکی سی مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔۔۔۔
میرے دل کی دھڑکن تم پسند کرو یا نا کرو جواب تو پھر بھی تمہیں مجھے دینا ہو گا چاہے تمھاری مرضی ہو یا نا ہو مجھے فرق نہیں پڑتا اور تمھاری جان میں اس وقت تک نہیں چھوڑو گا جب تک تم میرے سوال کا جواب نہیں دے دیتی اور تم اچھے سے جانتی ہو کہ تمھارا شوہر کتنا ضدی ہے۔۔۔۔!!!
ملک نے مہرو کی آنکھوں میں خود کے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا ملک کی بے باک نظروں نے مہرو کو اپنی آنکھیں جھکانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔
مہرو ڈارلنگ اگر تم چاہتی ہو کہ اسی طرح میں پورا دن تمہیں اپنی بانہوں میں بھر کر کھڑا رہوں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن تمہیں ضرور ہو گا۔۔۔۔!!!
ملک نے مہرو کے کان کے پاس سرگوشی میں کہا جس سے اس کے ہونٹ ہلکے سے مہرو کے کان سے ٹکرائے تھے مہرو ایک دم کانپ سی گئ تھی۔۔۔۔
وہ میں۔۔۔۔!!!
مہرو نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بات کا آغاز کیا کیونکہ وہ جانتی تھی ملک جو کہہ رہا ہے وہ سو فیصد درست ہے اس لیے سچ بتانے میں ہی بہتری ہے ملک کی نظر مہرو کے ہونٹوں پر آ ٹھہری تھیں جیسے محسوس کرتے ہوئے مہرو مزید گھبراہٹ کا شکار ہو رہی تھی ملک کی قربت ہمیشہ مہرو کو کنفیوز کر دیتی تھی۔۔۔
ہاں تم۔۔۔۔!!!
ملک نے مہرو کے ہونٹ کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
وہ۔۔۔۔!!!
اس سے پہلے مہرو اپنی بات مکمل کرتی کسی نے اتنی زور سے دروازہ نوک کیا جیسے باہر والے کے پیچھے کسی نے کتے چھوڑ دیے ہوں ملک نے غصے سے دروازے کو دیکھا اور مہرو کو چھوڑ کر کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا مہرو نے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔
یہ مت سمجھنا تم مجھ سے بچ گئی ہو بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔۔!!!
معارج نے سنجیدگی سے مہرو کو دیکھتے ہوئے کہا اور دروازے کی طرف اپنے قدم بڑھا دئے۔۔۔۔
تم یہاں کیا کررہے ہو؟ ملک نے دانت پیستے ہوئے سامنے کھڑے شاہ کو کہا جو چہرے پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ لیے کھڑا تھا۔
اب میری بہن کا نکاح ہو گیا ہے تو تمہیں کیا لگتا ہے میں اس سے ملنے بھی نہیں آؤں گا
شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا
اور روم میں داخل ہوا
مہرو شاہ کو. دیکھ کر خوش ہوئی تھی
کیسے ہو شاہ؟
مہرو نے شاہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو سب ٹھیک ہے تمہیں یہاں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے
اگر یہ تمہیں تنگ کرتا ہے تو مجھے ابھی بتا دو تمھارے سامنے اس کا منہ توڑ دوں گا
شاہ نے آتے ہی سوالوں کی بوچھاڑ کرتے سنجیدگی سے کہا
اس سے پہلے مہرو کوئی جواب دیتی
معارج کی آواز نے دونوں کو خودکی طرف متوجہ کیا
واہ کیا ہی کہنے آپ کے شاہ صاحب میرے ہی گھر میں کھڑے ہوکر آپ میرا منہ توڑنے کی بات کر رہے ہیں واہ
معارج نے شاہ کو گھورتے ہوئے کہا
اسے شاہ کا مہرو کو اپنی بہن کہنا اچھا لگا تھا اسے کو لگتا تھا کہ شاہ مہرو کو پسند کرتا ہے لیکن اب سب کلیر ہو گیا تھا ۔
ملک صاحب جو میں کہہ رہا ہوں وہ کر بھی سکتا ہوں پھر چاہے میں تمھارے گھر ہی کیوں نا کھڑا ہوں شاہ نے طنزیہ انداز میں کہا ۔
سو شاہ صاحب اب آپ کا اپنی بہن سے ملنے کا وقت ختم ہو گیا ہے مجھے ابھی بیوی سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے سو نیکسٹ ٹائم اگر آپ کو اپنی بہن سے ملنا ہو تو ملک ویلا کا رخ کر لیجیے گا
کیونکہ دو دنوں بعد میں مہرو کو اپنے گھر لے کر جا رہا ہوں ۔
معارج نے عام سے لہجے میں کہا شاہ کو اتنی حیرت نہیں ہوئی تھی جتنی مہرو کو ہوئی تھی جو آنکھیں پھاڑے مان کو دیکھ رہی تھی ۔میں ضرور آؤ گا معارج ملک
شاہ نے چمکتی آنکھوں سے مان کو دیکھتے ہوئے کہا
مہرو اپنا خیال رکھنا شاہ نے مہرو کو دیکھتے ہوئے کہا جس نے ہلکا سا مسکرا کر اثبات میں ہلایا جو ابھی بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھی ۔
شاہ جو دیکھنے آیا تھا وہ دیکھ چکا تھا اور مطمئن بھی تھا ۔
شاہ کے جاتے ہی مان مہرو کی طرف مڑا تھا ۔
اب مجھے بتاؤ کہاں گئی تھی؟ معارج نے پھر سے اپنا سوال دہرایا
میں نایاب کے ساتھ مارکیٹ گئی تھی
اور میں تمھارے ساتھ تمھارے گھر ہرگز نہیں جاؤ گی
مہرو نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا
اوکے جیسی تمھاری مرضی اور اگر مارکیٹ ہی گئ تھی تو بیگم صاحبہ آرام سے بتا دیتی
مان نے گھورتے ہوئے کہا
اور ہاں اگر تم آرام سے نا مانی تو پھر میں تمہیں زبردست لے جاؤں گا ۔
معارج نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
تم جانتے ہو نا کہ تمھارے بھائی نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ اور اگر تمہیں میری بات پر یقین نہیں ہے تو……
اس سے پہلے مہرو اپنی بات مکمل کرتی مان نے مہرو کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مزید کچھ بھی کہنے سے روکا تھا
کس نے کہا کہ مجھے تم پر بھروسہ نہیں ہے
تمھاری کہی ایک ایک پر پر مجھے یقین ہے
تمھارے ساتھ علیدان ملک نے غلط کیا
اسے سزا ضرور ملے گی لیکن تمہیں بھی میرا ساتھ دینا ہو گا ۔
مان نے سنجیدگی سے کہا جبکہ مہرو حیرانگی سے معارج کو دیکھ رہی تھی ۔
تمہیں اپنے بھائی سے زیادہ مجھ پر یقین ہے؟ کیوں؟
مہرو نے حیرانگی سے پوچھا
دل تو پہلے ہی تمھارے حق میں گواہی دے رہا تھا لیکن میں بنا کسی ثبوت کے کسی پر الزام نہیں لگا سکتا تھا اس لیے میں نے عامر سے بات کی اس نے مجھے سارے سچ سے آگاہ کیا
مہرو میں وعدہ کرتا ہوں بہت جلد تمھاری بیٹی کع تمھارے پاس لے آؤ گا ۔
بس مجھ پر بھروسہ رکھنا میری بہن کی شادی ہے اگر تم آنا چاہو تو آسکتی ہو
اگر نہیں تو دو دن بعد میں تمہیں لینے آؤ گا اپنے سسرال میں جانے کے لیے تیار رہنا
معارج نے مہرو کے ماتھے پر عقیدت بھرا بوسہ دیتے ہوئے کہا ۔
مہرو نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی آج معارج نے اسے غلط ثابت کر دیا تھا شاہ ٹھیک کہہ رہا تھا کہ دونوں بھائی ایک جیسے نہیں ہے
دل خوشی سے بھی جھوم رہا تھا کہ اب وہ اپنی بیٹی سے ملے گی
مہرو معارج پر بھروسہ نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن دل مطمئن تھا ۔
اپنا خیال رکھنا جاناں
مان نے پیار سے کہا اور وہاں سے جانے لگا
اگر تم بھی اپنے بھائی کی طرح نکلے تو؟ مہرو کی آواز نے مان کے چلتے قدموں کو روکا تھا
آج اپنے بھائی کی وجہ سے مان مہرو سے نظریں بھی نہیں ملا پا رہا تھا یہ بات وہی جانتا تھا کہ کس طرح دوبارہ مہرو کے سامنے آنے کی اس نے ہمت کی تھی
جب اسے عامر نے ساری سچائی بتائی تھی علیدان سے پہلے معارج نے عمیر کی دھلائی کرنے کا سوچا تھا ۔
مان چلتا ہوا مہرو کے سامنے کھڑا ہوا اور اس کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولا
اس ہاتھ کا استعمال کرنا
میرا چہرہ ہمیشہ حاضر رہے گا اور میں کبھی بھی تمہیں نہیں روکوں گا ۔
لیکن مجھ سے الگ ہونے کی بات مت کرنا تمہیں چھوڑنے کا تو اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
مان نے مہرو کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جو دھندلاتی آنکھوں سے مان کو دیکھ رہی تھی ۔
تم چاہتی ہو میں ابھی تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤ؟ مان نے مہرو کے آنسو کو صاف کرتے ایک آبرو اچکاتے ہوئے پوچھا
مہرو نے جلدی سے نفی میں سرہلایا
معارج مہرو کی شکل دیکھ کر ہنس پڑا تھا اس نے مہرو کو سینے سے لگایا اور اس کے بالوں پر اپنے لب رکھ دیے ۔
چلتا ہوں میں اپنا بہت سارا خیال رکھنا اور ہاں یاد کر سکتا ہوں اس پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔
مان نے شرارتی لہجے میں کہا مہرو کے گھورنے پر مان ہنسنے لگا اور وہاں سے چلا گیا
دونوں ابھی اس بات سے واقف نہیں تھے کہ علیدان دونوں کی زندگی میں کیا زہر گھولنے والا ہے۔
اگر وہ مہرو کی جان لینے کے لیے گھر میں آگ لگا سکتا ہے تو وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ۔