Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41


کیا ہم بات کر سکتے ہیں؟
ایزل نے فاخر سے پوچھا جو موبائل کان سے لگائے کسی سے بات کررہا تھا۔
اور ایزل کی آواز پر چونک کر اپنے پیچھے کھڑی چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جس کا چہرہ سفید رنگ کے سٹالر میں دمک رہا تھا
جی بلکل
کیا بات کرنی ہے آپ نے؟ فاخر نے ایزل کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا
جس دن سے ایزل یہاں آئی تھی آج پہلی بار دونوں نے ایک دوسرے کو مخاطب کیا تھا ۔
ایزل نظریں جھکائے کھڑی سوچ رہی تھی کہ کہاں سے اپنی بات کا آغاز کرے
مجھے آپ کی مدد چاہیے تھی کیا آپ میری مدد کریں گئے؟ ایزل نے ہمت کرتے اپنی بات کا آغاز کیا۔
اگر میرے بس میں ہوا تو میں ضرور آپ کی مدد کروں گا
فاخر نے پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا
کیا آپ مجھ سے نکاح کریں گئے؟
ایزل نے سامنے کھڑے فاخر کے سر پر آرام سے بم پھوڑتے ہوئے کہا ۔
جو پہلے تو آرام سے کھڑا تھا لیکن ایزل کی بات نے تو اس حیران کر دیا تھا ۔
آپ کی اس بات کا میں کیا مطلب اخذ کروں
آپ اچھے سے جانتی ہیں میرا دوست میرا جگر آپ سے محبت کرتا ہے ۔
ہاں مانتا ہوں اُس سے غلطی ہوئی ہے لیکن جو آپ کہہ رہی ہے کیا وہ ٹھیک ہے؟
فاخر کے لہجے میں نا چاہتے ہوئے بھی سرد مہری حائل ہو گئی تھی۔
بہت خیال ہے آپ کو اپنے فرینڈ کا؟ اور جو کچھ وہ میرے ساتھ کر چکا ہے وہ سب آپ کی نظر میں کیا ہے؟
ایزل نے طنزیہ لہجے میں پوچھا
مس ایزل میں نے کہا نا کہ میں مانتا ہوں آکف سے غلطی ہوئی ہے
اگر دیکھا جائے تو آکف کی بھی غلطی اتنی نہیں ہے ۔اگر آپ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں تو آپ کو اچھے بسے معلوم ہو جائے گا کہ زیادہ قصوروار کون ہے؟
اور یہ مت سمجھیے گا کہ آکف میرا دوست ہے تو اُس کے عیبوں پر میں پردہ ڈال رہا ہوں
اس نے آپ کے ساتھ غلط کیا اس کی سزا وہ بھگت چکا ہے ۔
نہیں نہیں بھگت نہیں چکا بلکہ آپ سے محبت کرنے کی صورت میں بھگت رہا ہے ۔
اور آپ چاہتی ہے میں اس لڑکی سے نکاح کر لوں جس میں میرے جگر کی جان بستی ہے؟
کیا جواب دوں گا میں اسے؟
فاخر نے سنجیدگی سے کہا
ٹھیک ہے اگر آپ میری مدد نہیں کریں گئے تو پھر کوئی اور ہی سہی
لیکن جو آپ کا دوست چاہتا ہے وہ تو میں مر کر بھی نہیں کروں گی۔
ایزل نے بھی اپنا ختمی فیصلہ سناتے ہوئے کہا اور وہاں سے جانے لگی
ایک منٹ
آپ کسی سے بھی نکاح کر سکتی ہیں؟ آپ کا مقصد صرف آکف کو تکلیف دینا ہے
ٹھیک کہہ رہا ہوں؟
فاخر نے بات کی تہہ تک پہنچتے ہوئے کہا
جی بلکل ایسا ہی ہے
یہ نکاح کاغذ کی حد تک ہی رہے گا
کچھ وقت بعد میں طلاق لے لوں گی
ایزل نے اپنا طے شدہ پروگرام سامنے کھڑے فاخر کے گوش فرمایا۔
آکف کو تکلیف دینے کے چکر میں آپ خود کی زندگی کے بارے میں بھی نہیں سوچ رہیں؟
فاخر جتنا حیران ہوتا اتنا ہی کم تھا سامنے کھڑی چھوٹی سی لڑکی اسے اسے اپنی باتوں سے حیران کے ساتھ پریشان بھی کر رہی تھی
آپ میری مدد کریں گئے یا نہیں؟
ایزل نے فاخر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
جس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا کہ نکاح کے بارے میں آپ کسی سے بھی بات نہیں کریں گی میں آپ کو کل تک بتا دوں گا کہ. میں یہ نکاح کرنا چاہتا ہوں یا نہیں
فاخر نے اپنا ماتھا مسلتے ہوئے کہا۔
ایزل کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی اور پھر بنا کچھ کہے وہاں سے چلی گئی
پیچھے فاخر نے کچھ سوچتے اپنا موبائل نکال اور نمبر ڈائل کرنے لگا۔
💗💗💗💗💗💗
تم ؟کیا لینے آئے ہو؟ اور تمہیں کیا عادت ہے لڑکیوں کے کمرے میں گھسنے کی؟
ایک منٹ کہی تمہیں فاخر نے تو یہاں نہیں بلایا؟
ایزل جو اپنے کمرے میں داخل ہوئی تھی لیکن سامنے بیڈ پر بیٹھے آکف کو دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا اور بے یقینی کے عالم میں پوچھا
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو وہ خوش تھی فاخر سے نکاح والی بات کتکے اور اسے پورا یقین تھا کہ فاخر کا جواب ہاں میں ہو گا۔
جب تک تم. مجھے معاف نہیں کر دو گی میں اسی طرح آتا رہو گا۔
اور فاخر میری موجودگی سے لا علم ہے اس نے تو مجھے یہاں آنے سے منع کیا ہے ۔
اور میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں پلیز مجھے معاف کر دو ۔
آکف نے ایزل کے سامنے کھڑے ہوتے بےبسی سے کہا ۔
تم بھی کیا یاد کرو گئے آکف مرتضی
جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا کیونکہ آج میں بہت خوش ہوں۔
اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنے جا رہی ہوں آخر کا وہ انسان مجھے مل ہی گیا
جو. میرے لیے ایک دم پرفیکٹ ہے
جیسے جیسے ایزل اپنے طنز کے تیر سامنے کھڑے بےبس آکف پر چلاتی جا رہی تھی ویسے ہی آکف کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
آکف کافی حد تک بات کو سمجھ تو گیا تھا لیکن پھر بھی دل ایزل کی بات کو جھٹلا رہا تھا ۔
کیا ہوا مجھے لگتا ہے تمہیں سمجھ نہیں آئی تو میں صاف صاف بتا دیتی ہو
کہ میں بہت جلد نکاح کرنے والی ہوں
ایزل نے عام سے لہجے میں کہا لیکن آکف کے چہرے پر چھائی تکلیف کو دیکھ کر اسے دلی سکون ملا تھا۔
آکف نے غصے میں ایزل دونوں بازوں سے پکڑ کر خود کے سامنے کھڑے کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔
جانتی ہو؟ تمھاری محبت نے مجھے کس طرح کا بنا دیا ہے؟
ایزل جہانگیر تمھاری محبت نے مجھے در در بھٹکنے پر مجبور کر دیا۔تمھاری صورت دیکھنے کے لیے میں ترستا ہوں۔دن رات تمھارے خیالوں میں کھویا رہتا ہوں…
بےشک تم مجھ سے جتنی چاہو نفرت کرو …. میں برداشت کر لوں گا۔
لیکن تمہیں کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھنا تمھارا مجھ سے نفرت کرنے سے زیادہ تکلیف دہ ہے….
یہ دل آکف نے اپنے دل کے مقام پر انگلی رکھتے ہوئے کہا….
تم سے اب اگر کوئی ہنس کر بات بھی کر رہا ہو تو اس دل کی بےچینی بڑھ جاتی ہے اُس انسان کی جان لینے کا دل کرتا ہے اور. تم شادی کی بات کر رہی ہو شادی کرنا تو بہت دور کی بات ہے….
آکف نے پتھریلے لہجے میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا ۔
یہ آنکھیں برداشت نہیں کرسکتی تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھنا بہت خودغرض ہوں میں
اور ایک بات اچھے سے ذہن نشین کر لو ایزل جہانگیر….
بہت کر لی تم نے اپنی من مانی اب میں اپنی مرضی کروں گا….
جو مجھے درست لگے گا وہی کروں گا تم نے اب تک میری نرمی دیکھی ہے اور اب میں تمہیں برا انسان بن کر دکھاؤں گا….
میں ہر وہ کام کروں گا جس سے میں تمہیں حاصل کر سکو ۔اگر تمہیں حاصل کرنے کے لیے مجھے کسی کی جان بھی لینی پڑی تو میں پیچھے نہیں ہٹو‌ں گا جیسے جیسے آکف اپنی بات کہہ رہا تھا اس کی پکڑبھی سخت ہوتی جا رہی تھی ایزل کو لگ رہا تھا اس کے بازو کی ہڈیاں ٹوٹ جائے گیں…
آکف نے سرخ آنکھیں ایزل کی کالی گہری آنکھوں میں ڈالتے ہوئے سرد لہجے میں اپنی بات کہی….
اس کی آنکھوں میں خود کو حاصل کرنے کا جنون دیکھ کر ایزل بھی ڈر گئ تھی ۔اس وقت اسے آکف سے خوف محسوس ہو رہا تھا ۔
آکف نے ایزل کو وہی چھوڑا اور خود کمرے سے نکل گیا
ایزل ابھی بھی دم سادھے ساکت کھڑی تھی اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا تھا
نہیں آکف مرتضی اس بار نہیں اس بار میری مرضی چلے گی
ایزل نے اپنے لہجے کو مضبوط کرتے ہوئے کہا لیکن وہ نہیں جانتی تھی اس کا ایک غلط فیصلہ کتنے لوگوں کی زندگی خراب کر سکتا ہے ۔
💗💗💗💗💗💗
مان نے مہرو کو اپنے پسند کی ساری چیزیں خرید کر دی تھیں مہرو تو خاموش ہی رہی تھی مان اپنی پسند سے چیزیں خریدتا رہا تھا اسے ایک ضروری کام سے جانا تھا اس لیے مہرو کو گھر چھوڑ کر خود چلا گیا تھا۔
مہرو نے اپنے موبائل پر سلمیٰ کا میسج دیکھا تو موبائل کی سکرین کو دیکھ کر اس کی نظریں وہی منجمد ہو گئیں
میسج میں لکھا تھا کہ مہرو تمھاری ماں کا پتہ چل گیا ہے میں تمہیں گھر کا پتہ بھیج رہی ہوں تم اپنی ماں سے جا کر مل لو۔
مہرو نے آنکھوں میں آئی نمی کو پیچھے دھکیلا اور موبائل کو پکڑے الٹے قدم باہر کو بھاگی مان مروہ کو نایاب کے پاس چھوڑ گیا تھا وہ ابھی بھی اسی کے پاس تھی۔
ماں کو ملنے کی خوشی میں مہرو یہ تو بھول ہی بیٹھی تھی کہ سلمی کو تو اس نے اپنی ماں کے بارے میں کچھ بھی بھی نہیں بتایا تھا اس بارے میں تو صرف نایاب اور شاہ کو معلوم تھا ۔
لیکن اس وقت وہ سب کچھ فراموش کر بیٹھی تھی یاد تھا تو بس یہی کہ وہ اپنی ماں سے ملنے والی ہے ۔
مہرو رکشے پر آئی تھی اس نے جب رکشے والے کو پیسے دیے اور سامنے بنے چھوٹے سے گھر کی طرف اپنے قدم بڑھائے تو اسے یاد آیا کہ سلمیٰ کو تو اس نے اپنی ماں کے بارے میں کبھی کچھ بھی نہیں بتایا تھا اور نا ہی کبھی اپنی ماں کا ذکر کیا تھا۔
پھر سلمیٰ کا میسج کیسے آسکتا ہے مہرو نے پریشانی سے سوچا اس کے چلتے قدم طوہی رکے تھے مہرو نے سلمی کا نمبر ڈائل کیا جو اب بند جارہا تھا ۔
مہرو نے پریشانی سے ارد گرد نظر دہرائی اسے دور ایک رکشہ کھڑا نظر آیا
اسے لگ رہا تھا اس نے یہاں آکر غلطی کی ہے اس سے پہلے مہرو وہاں سے جاتی
پیچھے سے کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا مہرو وہی منجمد ہو گئی ۔
علیدان جو مہرو کا ہی انتظار کر رہا تھا اسے واپس جاتے دیکھ گھر سے باہر آیا تھا
تم یہاں کیا کررہی ہو؟
علیدان نے اپنے لہجے میں حیرانگی لاتے ہوئے پوچھا
مہرو علیدان کی آواز ان کر ڈر گئی تھی
اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو علیدان نے اس کاہاتھ پکڑ کر خود کی طرف کھنچا مہرو سیدھی علیدان کے سینے سے جا لگی تھی۔
مہرو نے آنکھیں پھاڑے علیدان کو دیکھا جو مسکراتی نظروں سے مہرو کو دیکھ رہا تھا۔
ایک سیکنڈ کا کام تھا کچھ فاصلے پر کھڑا آدمی دونوں کی تصاویر لے چکا تھا جس میں مہرو اور علیدان کا آدھا چہرہ نظر آرہا تھا۔
اور تصویر اس انداز میں لی گئی تھی کہ دیکھنے والا یہی سمجھے کہ دونوں ایک دوسرے کی رضا مندی سے ایک دوسرے کے قریب کھڑے ہیں۔
مہرو نے اپنا پورا زور لگا کر علیدان کو پیچھے دھکا دیا اور اس سے کچھ فاصلے پر جا کھڑی ہوئی۔
کیا ہوا؟
اب میرے بھائی کا لمس اچھا لگنے لگا ہے؟ ہوتا ہے۔
ہو تو تم ایک طوائف ہی بھلا کہاں ایک مرد کے ساتھ رہ سکتی ہو آج مان ہے کل کوئی اور ہو گا
علیدان نے قہقہہ لگاتے ہوئے مہرو کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
جو خونخوار نظروں سے علیدان کو دیکھ طرہی تھی اسے علیدان کی نظروں سے کراہت محسوس ہو رہی تھی ۔
میں تمھاری شکل بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتی علیدان ملک
تمھارے لیے بہتر یہی ہے کہ مجھ سے دور رہو
مہرو نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گئی
پیچھے سے علیدان کی بات اس کے کانوں میں پڑی تھی
مہرو میری بھی ایک بات یاد رکھنا میں تمہیں کبھی بھی خوش نہیں رہنے روں گا
علیدان نے پیچھے سے ہانکتے ہوئے کہا مہرو کو یہاں بلانے کا مقصد پورا ہو چکا تھا اور سلمیٰ بائی کا موبائل حاصل کرنا اسبکے لیے مشکل نہیں تھا ۔
مہرو علیدان کی بات کو نظر انداز کرتے کچھ فاصلے پر کھڑے رکشے میں بیٹھ گئی تھی اب اسے علیدان کی ساری چال سمجھ میں آگئی تھی
اسے اگر کسی کے بارے میں سوچ کر پریشانی ہو رہی تھی تو وہ مان تھا
پتہ نہیں اب علیدان کیا کرنے والا تھا ۔
💗💗💗💗💗
مان تھکا ہارا گھر آیا تھا تو چوکیدار نے اسے ایک پارسل دیا۔
مان نے اسے کھول کر دیکھا جس میں کچھ تصاویر تھیں۔
اور مان کو پہچاننے میں ایک سیکنڈ لگا کہ علیدان کی بانہوں کے گھیرے میں کھڑی لڑکی مہرو ہی ہے۔
مان نے اپنے کھولتے غصے پر قابو پاتے ہوئے اس لیٹر کر پڑھنا شروع کیا جو پارسل میں ہی موجود تھا۔
مان جانتا ہوں مہرو اب تمھاری بیوی ہے
لیکن اس کی پہلی محبت تو میں ہی ہوں میں نے سنا تھا کہ عورت اپنی پہلی محبت کو کبھی نہیں بھولتی۔
یہ سب تصاویر میں نے خود لی ہے تاکہ تمہیں ثبوت کے طور پر دیکھا سکو
میں یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ مہرو غلط ہے
ہو سکتا ہے اس نے کوشش کی ہو کہ مجھے بھول جائے لیکن میں اس کی پہلی محبت ہو جسے وہ کبھی نہیں بھول سکتی
اور جتنی بار بھی میں نے مہرو کو ملنے کے لیے بلایا وہ آئی
اس لیے ایک بار خود کی خوشی نہیں بلکہ اپنی بیوی کی خوشی کے بارے میں بھی سوچوں کہ وہ کیا چاہتی ہے؟
میں جیسا بھی ہوں تم سب کے سامنے ہوں مہرو بھی سب جانتی ہے لیکن پھر بھی میرے بلانے پر آ جاتی ہے کیوں؟
جا کر اپنی بیوی سے پوچھو
مان نے بےبسی سے ہاتھ میں پکڑے لیٹر کو دیکھا
علیدان نے مان کے دماغ کو اپنی باتوں سے کچھ اس طرح الجھایا تھا کہ وہ بھی سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ ہو سکتا ہے مہرو ابھی بھی علیدان کو چاہتی ہو ۔
اس نے سوچ لیا تھا آج مہرو سے اس بارے میں ضرور بات کرے گا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ علیدان اس کا بڑا بھائی ہے اور وہ اچھے سے جانتا ہے کس طرح مان کے دماغ کو اپنی باتوں سے الجھانا ہے۔
مان جسے پہلے تصاویر کو دیکھ کر غصہ آیا تھا اب اسے تکلیف ہو رہی تھی
مہرو کو خود سے دور کرنے کا احساس ہی اس کے لیے جان لیوا تھا۔
مان بھاری قدم اٹھاتا اپنے کمرے میں داخل ہوا مہرو پہلے ہی بےچینی سے کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی۔
مہرو مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے
مان مہرو کی طرف دیکھے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔
مہرو مان کی سرخ آنکھیں دیکھ کر ایک پل کے لیے ڈر گئی تھی
کیا بات کرنی ہے؟
مہرو نے مان سے پوچھا
تم ابھی بھی علیدان سے محبت کرتی ہو؟ کیا ابھی بھی تمھارے دل میں اس کے لیے نرم گوشہ موجود ہے؟
اگر ایسا ہے تو میں تمہیں کبھی نہیں روکو گا تم مجھے چھوڑ کر جانا چاہو تو جا سکتی ہو
کیونکہ ابھی بھی مجھ میں غیرت موجود ہے اور میں اپنی بیوی کو کسی دوسرے مرد کی بانہوں میں نہیں دیکھ سکتا۔ لیکن اگر میں تم سے الگ بھی ہو جاتا ہوں تو تمہیں طلاق کبھی نہیں دون گا تم میرے اور علیدان دونوں زندگی سے بہت دور چلی جاؤ گی
مان نے دو ٹوک انداز میں کہا
آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں معارج
مہرو نے بھیگے لہجے میں کہا
الزام نہیں لگا رہا حقیقت بتا رہا ہوں
تم مجھے یہ بتا دو کیا چاہتی ہو تم؟ علیدان کی بانہوں میں کیا کر رہی…….
بس معارج ملک بس
اب ایک لفظ بھی اور نہیں
آپ دونوں بھائیوں کے لیے میں کھلونا ہوں نا جسکا دل کیا کھیل لیا اور جس کا دل کیا توڑ دیا۔۔۔۔!!!
مہرو نے اس بار اپنے آنسوؤں کو باہر نکلنے سے نہیں روکا تھا۔
مہرو میری بات سنو میرا مقصد تمہیں تکلیف دینا بلکل بھی نہیں تھا۔۔۔۔ یہ سب کچھ میں نے تمھاری خوشی کے لیے کہا ۔۔۔!!
معارج نے بےبسی سے کہا۔۔۔
آپ میری خوشی چاہتے ہیں معارج صاحب۔۔۔۔ ابھی تک آپ یہ بات نہیں جان سکے کہ مہرو کی خوشی کس میں ہے۔۔۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے میں چاہتی ہوں آپ ابھی اور اسی وقت مجھے آزاد کر دیں میں اس قید سے رہائی چاہتی ہوں۔۔۔۔!!!
مہرو نے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے سرد لہجے میں کہا۔۔۔۔ اس کے حلق میں آنسوؤں کو پھندا اٹکا ہوا تھا جس سے اسے بولنے میں بھی دشواری ہو رہی تھی۔۔۔۔
خود سے مہرو کو الگ کرنے کا سوچ کر ہی معارج کو لگا کسی نے اس کی سانسیں مانگ لی ہوں۔۔۔۔
مہرو کی بات سن کر معارج کی آنکھیں غصے کی زیادتی کی وجہ سے مزید سرخ ہو گئ تھیں۔۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے تم مجھ سے رہائی مانگو گی اور میں خوشی خوشی تمہیں دے دوں گا۔۔۔۔؟؟؟
نا میری جان یہ کام تو میں مر کر بھی نہیں کروں گا
اگر تم میری نہیں ہو سکتی تو میں اس گھٹیا انسان کے پاس بھی تمہیں جانے نہیں دوں گا ۔
تم کہی دوبارہ اس کوٹھے پر جانا تو نہیں چاہتی ۔۔۔۔
اس لیے یہ سب تماشا رہی ہو کیوں علیدان سے ملنے جاتی ہو؟
صحیح کہتے ہیں لوگ طوائف کبھی بھی گھر نہیں بسا سکتی۔۔۔۔ کیونکہ اسے باہر کے مردوں کا چسکا جو لگ جاتا ہے۔۔۔۔ پھر وہ کیسے ایک گھر میں ایک مرد کے ساتھ رہ سکتی ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
تمھارے ساتھ میں نے نکاح کیا اپنی عزت بنایا اور تم ابھی بھی میرے بھائی سے چھپ چھپ کر ملتی ہو ۔
معارج کے منہ میں جو بھی آرہا تھا بکتا جارہا تھا۔۔۔۔ کیونکہ اس وقت معارج ملک کا دماغ کام نہیں کر رہا تھا اور یقیناً بعد میں اسے پچھتاوا ہونے والا تھا۔
مہرو نے اپنا بازو معارج کی گرفت سے آذاد کیا جسے وہ غصے میں پکڑ چکا تھا۔۔۔۔
مہرو کی آنکھوں میں بے یقینی تھی اسے لگا تھا معارج ملک باقی مردوں کی طرح کا نہیں ہے۔۔۔۔ لیکن آج مہرو کو احساس ہو گیا تھا کہ وہ پہلے بھی غلط سوچ رکھتی تھی۔۔۔۔ اور آج بھی اس کی سوچ غلط ہی تھی ۔۔۔۔۔ اس نے معارج پر یقین کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔۔۔۔
مہرو نے غصے کی کیفیت میں ایک زور دار طمانچہ معارج کے منہ پر دے مارا تھا۔۔۔۔
کمرے میں کچھ پل کے لیے خاموشی چھا گئ تھی۔۔۔۔
معارج ملک کو مہرو سے اس بات کی توقع بلکل بھی نہیں تھی ۔۔۔۔
دیکھا دی نا آپ نے بھی اپنی اوقات۔۔۔۔ آج مجھے خود سے نفرت محسوس ہو رہی ہے کہ میں آپ جیسے نیچ سوچ والے انسان کی بیوی ہوں۔۔۔۔ اور آپ یہ بات ہرگز مت بھولیے گا ملک صاحب۔۔۔۔ اگر آج میں طوائف ہوں تو آپ کے گھٹیا بھائی کی وجہ سے وہ اس سب کا ذمہ دار ہے۔۔۔۔!!!
اور صحیح کہا آپ نے اور آج میں بھی یہی کہتی ہوں۔۔۔۔ طوائف سے گھر نہیں بسایا جاتا۔۔۔۔ اور اب میں بھی دیکھتی ہوں کب تک آپ مجھ جیسی طوائف کو اس قید میں رکھتے ہو۔۔۔۔ طوائف کو تو باہر کے مردوں کا چسکا پڑ جاتا ہے نا۔۔۔۔ تو ٹھیک ہے اب میں آپ کو ویسی بن کر دکھاؤں گی۔۔۔۔!!!
اور دیکھتی ہوں کب تک مجھ جیسی طوائف کو آپ جیسا عزت دار ملک اپنے گھر میں رکھتا ہے۔۔۔۔!!!
مہرو نے نفرت سے اپنے سامنے کھڑے معارج کو ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔۔۔۔ جو شعلہ برساتی آنکھوں سے مہرو کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔۔۔۔
!!!
مان کیا بات کرنی ہے آپ نے؟
مہرو نے مان کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو مہرو کی بات پر ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا تھا
ابھی میں نے تمہیں کیا کہا؟
مان نے مہرو کو دیکھتے ہوئے پوچھا
آپ نے کہا کہ مہرو مجھے تم سے بات کرنی ہے اس کے بعد آپ اپنے خیالات میں گم ہو گئے ب
مہرو نے گھورتے ہوئے کہا
اس کا مطلب یہ سب میری سوچ تھی؟
مان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے کہا
مہرو شکر ہے وہ سب میری سوچ تھی اگر حقیقت ہوتی تو کبھی بھی میں خود سے نظریں ملانے کے قابل رہتا اور تھپڑ بھی پڑ جانا تھا
مان نے مہرو کو سینے میں بھینچتے ہوئے کہا
مان کیا ہوا ہے کون سا تھپڑ مہرو نے ناسمجھی سے پوچھا
کچھ نہیں لیکن جو بھی اچھا ہوا اور علیدان کو تو میں بعد میں دیکھ لوں گا آخری بات مان نے دل میں کہی تھی۔
مان مجھے آپ کو کچھ بتایا ہے
مہرو نے سوچ لیا تھا کہ آج جو کچھ بھی ہوا سب مان کو بتا دے گی
💗💗💗💗💗💗💗