Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

انمول سے بےمول

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 35

Last Episode Last Part

وہ شیشے کے سامنے بیٹھی تھی اپنے بال بنا رہی تھی اچانک ولید خانزادہ اس کے پیچھے آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ اس کی سنہری زلفوں کی خوشبو سونگھ کر اسے اگے کو رکھتا اس کے کندھے پر اپنے ہونٹ رکھے ۔۔۔ اپنے لمس سے وہ اسے شرمانے پر مجبور کر گیا ۔۔۔

“پلیز ولید ۔۔۔ ہانیہ نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔

“بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔ ولید نے بےساختہ کہا ۔۔۔

“اس حالت میں , چہرے کی رونق نہیں رہی , ناک بھی سوجی ہوئی ہے , ایسا بھاری بھرکم وجود اور اپ کہے رہے ہیں خوبصورت لگ رہی ہوں ۔۔۔ کیا خاک اچھی لگ رہی ہوں ۔۔۔ ہانیہ نے چڑ کر کہا ۔۔۔ اسے ولید خانزادہ کی تعریف خالص مبالغہ آرائی لگی ۔۔۔ وہ حسن کے معنی خوب سمجھتی تھی اس لیۓ پریگنینسی کی وجہ سے پہلے جیسی تو نہ رہی تھی ۔۔۔۔ سو اپنی تعریف ہضم نہ ہوئی اس سے ۔۔۔

“میرے بچے کی ماں بننے جارہی ہو مجھے تو تم دنیا کی حسین ترین عورت لگ رہی ہو ۔۔۔ ولید خانزادہ نے پینترا بدل کر بولا ہانیہ کی تسلی کے لیۓ ۔۔۔

“اب عورت بھی بن گئی ہوں میں ۔۔۔ ہانیہ نے آنکھیں دکھائیں ۔۔۔ ولید کا دیا اعتماد سرچڑھ کر بول رہا تھا ۔۔۔ ولید یہی تو چاہتا وہ بلکل ایسے ہی بولے جیسے ولید خانزادہ کی بیوی کو بولنا چاہیۓ ۔۔۔

“سچ کہوں , کمال کرتی ہو , کل خود کو خود ہی عورت کہے رہی تھی پر اگر غلطی سے میں کہے دوں تو تم آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتی ہو ۔۔۔ سچ میں کمال کرتی ہو ہانیہ ۔۔۔ ولید خانزادہ نے مزے سے اسے جتاکر کہا ۔۔۔

“مرد اور وہ بھی شوہر اگر عورت کہے تو پتا نہیں کیوں مرچی ہی لگ جاتی ہے بیوی کو , ولید ۔۔۔ ہانیہ نے سادگی سے کہا ۔۔۔

“تم حسین تو ہوہی پر اس پر تمہاری نزاکت اور تمہارا معیار کبھی نہیں بدل سکتا ہانیہ ۔۔۔ مجھے تم ایسی ہی اچھی لگتی ہو ناز نخرے کرتی ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اس کے ماتھے پر محبت کا لمس چھوڑتا ہوا بولا ۔۔۔

“آپ کے مرہوں منت ہے یہ انداز میرے ۔۔۔ ہانیہ نے ایک ادا سے کہا اور بالوں کو کیچر میں مقید کیا ۔۔۔

چھٹہ مہینہ چل رہا تھا ہانیہ کا , کافی بھاری وجود ہوگیا تھا پر پھر بھی ولید خانزادہ نے کہا ضروری پارٹی میں جانا ہے اس لیۓ لے جارہا تھا ۔۔۔

وہ ڈریسنگ سے اٹھ کر بیڈ پر بیٹھی اور سینڈل پہننے لگی ۔۔۔ سینڈل پہننے میں دقت ہورہی تھی اسے بھاری وجود کے کارن ۔۔۔

“میں تمہاری ہیلپ کروں ۔۔۔ ولید کو اس کی تکلیف کا احساس ہوا ۔۔۔ عورت مرد کی نسل بڑھانے کے لیۓ کتنا کچھ قربان کرتی ہے اپنا حسن , اپنی فگر یہاں تک کہ پیٹ نکلنے کی وجہ سے عورت جھک کر کئی کام نہیں کرپاتی ۔۔۔ ولید یہ احساس رکھتا تھا اس کے لیۓ ۔۔۔ ابھی بھی سینڈل کا اسٹیپ بند کرنے میں اسے دشواری ہورہی تھی ۔۔۔

ولید دوزانو بیٹھ کر اس کی مدد کرنا چاہی تو ہانیہ جلدی سے بولی ۔۔۔

“نہیں ولید پلیز مجھے اچھا نہیں لگے گا , ناراض ہوجاؤں گی ۔۔۔

اس نے ولید کے بڑھتے ہاتھوں کو دور کیا ۔۔۔ اور بولی تھی ۔۔۔ جس کے جواب میں ولید بولا ۔۔۔

“کشف کو تو اچھا لگتا تھا اس کنڈیشن میں ۔۔۔ بےساختہ اس کی زبان سے پھسلا وہ جملا ادھے میں روک تو گیا پر بات کا مطلب اور مفہوم نکل ہی چکا تھا ۔۔۔ دونوں چونکے , ہانیہ نے بروقت سنبھل کر سرسری لہجے میں کہا ۔۔۔

“کشف کے یہاں دو بچے تھے پر میرا معاملہ ایسا نہیں ۔۔۔ سو بےفکر ہوجائیں ۔۔۔

اس کے چہرے پر کوئی خاص قسم کا تاثر نہ تھا ۔۔۔ پر ولید شرمندہ ضرور ہوا تھا ۔۔۔

“سوری ہانیہ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیۓ تھے ۔۔۔ ناچاہتے ہوۓ بھی وہ اسے صفائی دے گیا شاید وہ اسے پریگنینسی کے دنوں میں کوئی ذہنی تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا اس لیۓ ۔۔۔

“آئیندہ اگر مجھے اپ نے اس بات کے لیۓ سوری کی یا شرمندگی کا اظہار کیا تو سچ میں ناراض ہوجاؤں گی ۔۔۔ کشف کی حقیقت سے انکار کرنا سراسر بےوقوفی ہی ہوگی اگر اپ اس سے واقعی پیار کرتے ہیں تو اپ کتنا بھی خود کو روکنا چاہیں کسی نہ کسی بات میں اس کا ذکر آنا ایک عام بات ہے ۔۔۔

ہانیہ کی بات پر وہ اسے تشکر سے دیکھنے لگا اور جب بولا تو اس کے لہجے میں سچائی تھی ۔۔

“ہانیہ مجھے تم سے بھی محبت ہے , کیا اعتبار ہے تمہیں ۔۔۔

“بلکل مجھے اعتبار ہے ولید ۔۔۔جب ایک ماں باپ کے دل میں اپنے سب بچوں کے لیۓ محبت ہوسکتی ہے , ایک اولاد کے دل میں دونوں ماں باپ کے لیۓ تو پھر ایک مرد کے دل میں اپنی دونوں بیویوں کے لیۓ عزت محبت عقیدت کیوں نہیں ہوسکتی ۔۔۔ ہانیہ نے سکون سے کہا ۔۔۔

“تم واقعی چاہے جانے کے قابل ہو ہانیہ , مجھے اور میرے بچوں کو اپنا گرویدہ کرچکی ہو …

“میرے نہیں ہمارے بچے جملا درست کرلیں ۔۔۔ ہانیہ نے جتایا ۔۔۔

“واقعی سخت استانی ہو تم ۔۔۔ جملے خوب پکڑ لیتی ہو ۔۔۔ ولید نے کہا ۔۔۔

“وہ تو ہوں ۔۔۔ ہانیہ مزے سے بولی ۔۔۔

“اچھا ایک بات پوچھوں ۔۔۔ ولید نے کچھ لمحوں کے بعد کہا ۔۔۔ اب تک وہ سینڈل پہن چکی تھی ۔۔۔ وہ اس کے پاس بیٹھا تھا بیڈ پر ۔۔۔

“پوچھیں ۔۔۔ ہانیہ نے اجازت دی ۔۔۔

“تمہیں کیا چاہیۓ بیٹا یا بیٹی ۔۔۔ ولید نے پوچھا ۔۔۔

“مجھے بیٹی چاہیۓ ولید ۔۔۔ ہانیہ کے اتنا جلدی کہنے پر ولید حیران ہوا ۔۔۔ اس کی حیرت دیکھتے ہوۓ ہانیہ پوچھے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔

“اس میں حیرانگی کی کیا بات ہے ۔۔۔ جو اپ اتنا حیران ہورہے ہیں ۔۔۔ ہانیہ نے اس کی حیرت دیکھتے ہوۓ پوچھ بیٹھی ۔۔۔

“کیونکہ تم دنیا کی پہلی لڑکی ہو جو پہلی اولاد بیٹی چاہتی ہے جب کہ زیادہ تر عورتیں سب کو پہلا بیٹا مانگتے سنا ہے ۔۔۔

“ویسے سہی سنا ہے آپ نے بلکل ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔ پر اللہ نے مجھے دو بیٹے دے دیۓ ہیں اب بس بیٹی کی کمی ہے ۔۔۔ مجھے لگتا ہے حنان منان بھی بہن کو پاکر ہی خوش ہونگے ۔۔۔

“یہ تم بلکل ٹھیک کہا ۔۔۔ اگر بیٹا ہوا تو پھر لڑ پڑیں گے اور دوسرا بھی پھر جلدی کرنا پڑے گا ۔۔۔ ولید نے مزاحیہ انداز میں کہا جس پر ہانیہ نے آنکھیں دکھائیں ۔۔۔۔

“اللہ کو مانیں , صرف پیدا نہیں کرنے پالنے بھی ہیں ۔۔۔ آئندہ مجھ سے ایسی فضول گوئی سے پرہیز کیجیۓ گا ۔۔۔ ہانیہ کے تیور دکھانے پر ولید خانزادہ ہنس ہی پڑا ۔۔۔

جانے کیوں ولید خانزادہ کو ہانیہ کی اس بات نے بےانتہا خوش کیا جب اس نے کہا اسے بیٹی چاہیۓ ۔۔۔ اگر وہ بیٹا کہتی تو ولید خانزادہ کو شاید دکھ ہوتا کہ وہ اس کے اولاد میں فرق کررہی ہے اس لیۓ بیٹے کی خواہش کررہی ہے ۔۔۔ اج ولید خانزادہ کی نظروں میں وہ اونچے تخت پر براجمان ہوگئی تھی اپنی کہی ایک بات سے ۔۔۔ یہ کہنے میں اسے کوئی عار نہ تھا ہانیہ جتنی اعلیٰ ظرف لڑکی اس نے کبھی نہ دیکھی تھی ۔۔۔ جتنا وہ اس سے امپریس ہوا تھا دنیا میں کبھی بھی کوئی بھی عورت اسے نہ کرسکی تھی ۔۔۔

ولید خانزادہ یوں تو خود کو بہت سمجھدار سمجھتا تھا پر شاید عورت کے ظرف کا وہ اندازہ نہیں کرسکا تھا ۔۔۔ عورت جب کوئی قربانی دیتی ہے تو اس میں حد نہیں رکھتی پھر جیسے ہانیہ نے اس رشتے میں ولید اور بچوں کے ساتھ ساتھ کشف کو ایک زندہ حقیقیت کی طرح قبول کرچکی تھی اس لیۓ اب کوئی بات اس کے لیۓ معنی نہیں رکھتی تھی ۔۔۔

“چلیں ولید ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔ ہانیہ کی آواز اس کی سوچ کے تسلل کو توڑچکی تھی ۔۔۔ وہ سنبھل کر جلدی سے بولا ۔۔۔

“ہمممم چلو ۔۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے ۔۔۔ باہر بچوں نے دونوں کو اس طرح اتے دیکھ کر وسل ماری یہ شرارت ہمیشہ کی طرح منان نے پہل کی تھی پھر حنان نے ۔۔۔

جھینپ کر ہانیہ نے ہاتھ چھڑانا چاہا پر ولید خانزادہ اور مضبوطی سے تھام گیا ۔۔۔ اور بولا “چھوڑنے کے لیے نہیں تھاما ہے مسز ولید خانزادہ ۔۔۔

بچے اپنے ماں باپ کے اس مکمل منظر کو دیکھ کر بےانتہا خوش ہورہے تھے ۔۔۔۔

“سدھرجاؤ تم دونوں ۔۔۔ ہانیہ نے کہا بچوں سے ۔۔۔

“یس ماما ۔۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ نعرہ لگایا ۔۔۔ جس پر وہ دونوں مسکراتے ہوۓ دروازے کی طرف بڑھے بچوں کو اللہ حافظ کہے کر ۔۔۔

@@@@@@@@@@

وہ اور سعاد , فائز کے پیلس میں بیٹھے تھے ۔۔۔ سعاد نے فائز کا شکریہ ادا کرنا چاہا تو فائز نے ان کو دعوت دے دی یہ کہے کر “اب جب کہ وہ پاکستاں جارہے ہیں ہمیشہ کے لیۓ تو کیوں نا انہہں ایک موقعہ دیں مہمانوازی کا ۔۔۔

سعاد نے رانیہ سے اس کی راۓ لی اور اس کی سنتے ہوۓ وہاں جانے پر راضی ہوگیا اور اس وقت وہ ان کے شاہی انداز کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔۔۔

ابھی وہ کھانے سے فارغ ہوکر پیلس گھوم رہے تھے فائز کے ساتھ تو اچانک تیمور شاہ آۓ ان سے ملے اور خاص کر رانیہ کر سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ سعاد کو خوشی ہوئی تیمور شاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے ایک بار پھر معافی مانگ لی ۔۔۔۔ جس پر سعاد نے کھلے دل سے معاف کیا ۔۔۔

“میں دل سے شرمندہ ہوں سعاد جو میری وجہ سے اتنی تکلیف ہوئی اپ کو یہ جاب چھوڑنی پڑی ۔۔۔ اب اگر کبھی بھی میرے لائق کوئی کام ہو تو ضرور کہیۓ گا اپ لوگوں کے کام اکر دل کو سکوں ملے گا میرے ۔۔۔ شکریہ آپ کا مسز سعاد جس کے بلند اخلاق اور کردار نے میرا بیٹا مجھے لوٹا دیا ۔۔۔ تیمور شاہ نے دل سے شرمندگی کا اظہار کیا اور آخر میں رانیہ کو سراہنا نہ بھولے ۔۔۔

“اٹز اوکے سر , واقعی میری بیوی متاثرکن صلاحیتوں کی مالک ہے ۔۔۔ سعاد نے رانیہ کی تعریف کھلے دل سے کی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ جس پر وہ آنکھیں دکھانے لگی پر سعاد ڈھیٹ بنا رہا ۔۔۔

رانیہ کے چہرے پر شرم و حیا تھی ۔۔۔ فائز نے اس کے دائمی خوشیوں کی دعا کی اور اج پہلی دفعہ اسے سہی معنوں وہ خوش لگی تھی ۔۔۔

فائز کا نظر چرانا سعاد کی گہری نظروں سے چھپ نہ سکا جبکہ رانیہ کی بےنیازی عروج پر تھی ۔۔۔ اس کے کسی انداز سے ظاہر نہ تھا کہ وہ فائز کی محبت سے اگاہی رکھتی ہے یا نہیں ۔۔۔

تیمور شاہ نے ان کو تحفے دیۓ جاتے ہوۓ تو سعاد اور رانیہ نے بھی ان کو تحائف دے کر فائز کا شکریہ ادا کیا ۔۔۔ دونوں باپ بیٹا ان دونوں کو دروازے تک چھوڑنے آۓ تھے ۔۔۔ یوں ایک خوبصورت شام کا اختام ہوا ۔۔۔

@@@@@@@@@@

“سعاد ہم اٹلی جارہے ہیں کیا ۔۔۔ رانیہ نے حیرت سے کہا ۔۔۔ اسے ایئرپوٹ پر اکر ہی پتا چلا تھا ۔۔۔

“ہمممم ہنی مون منانے , ویسے ہنی مون تو نہیں کہے سکتے ہیں ۔۔۔ کیونکہ جو شادی کے شروع میں ہو وہی ہنی مون کہلاتا ہے ۔۔۔۔ ہم تو کافی لیٹ ہوگۓ ہیں ۔۔۔ سعاد نے خود ہی خود کی بات کو رد کیا ۔۔۔ پر خوشی اس کے ہر انداز میں تھی ۔۔۔ اس کا بدلاؤ رانیہ کو بہت اچھا لگا ۔۔۔

وہ حیران ہورہی تھی اس کی بات سن کر ۔۔۔۔

“بس سمجھو تمہارے ساتھ گھوم کر اچھا وقت گزارنا چاہتا ہوں پھر پاکستان جاکر تم مجھے کہاں ملنے والی ہو ۔۔۔ سعاد نے ایسے کہا جیسے بڑی پتے کی بات کہی ہو ۔۔۔

“یہ تو سچ ہے وہاں جاکر میں بھول نہ جاؤں اپ کو ۔۔۔ رانیہ نے منہ بناتے ہوۓ کہا ۔۔۔ اب بمشکل ہی اس کے ہونٹوں سے ہنسی جدا ہوتی تھی ۔۔۔ رانیہ نے انکھ دبا کر شرارت سے کہا تھا ۔۔۔

“اس لیۓ سوچا ہے یہیں سے بندوبست کرکے جاؤں گا جناب مجھے نہ بھول سکے وہاں جاکر اتنے پیارے لوگوں کے بیچ ۔۔۔ سعاد نے شان بےنیازی سے کہا ۔۔۔

“کیا مطلب ۔۔۔۔ رانیہ نے حیرت سے کہا ۔۔۔

“مطلب بھی سمجھ ہی جاؤگی جب الٹیاں ہونگی ۔۔۔ سعاد نے مزے سے کہا ۔۔۔

“سعاد اپ بھی نہ ۔۔۔ رانیہ نے آنکھیں دکھائیں ۔۔۔

“جناب اب کئی ملک گھومنے جانا ہے پھر پاکستان کی سرزمیں پر قدم رکھیں گے ۔۔۔ سعاد نے مزید اس کی معلومات میں اضافہ کیا ۔۔

وہ اس کی پلاننگ سن کر حیران ہوئی ۔۔۔

وہ خوش بھی ہوئی اور ساتھ ہی فکر سے کہا ۔۔۔۔

“ہم نے امریکہ سے اتنی شاپنگ کی تھی سب کے لیۓ اتنا سارا سامان لے کر گھومنا مشکل ہوگا سعاد ۔۔۔

“سامان پاکستان جاچکا ہے جناب , ہم اٹلی کی فلائیٹ میں صرف اپنے مین بیگز کے ساتھ جارہے ہیں ۔۔۔ سعاد نے بتایا ۔۔۔

“اوہ تب ہی آپ نے اپنی زیر نگرانی میں مجھ سے پیکنگ کروائی ۔۔۔ رانیہ نے یاد آنے پر کہا ۔م۔

“جی جناب ۔۔۔ وہ شوخ ہوا ۔۔۔

“یہ کیا جناب جناب لگا رکھا ہے ۔۔۔ رانیہ نے چڑ کر کہا ۔۔۔ دونوں میں کافی بےتکلفی ہوگئی تھی جس میں زیادہ سعاد کا ہی ہاتھ تھا ۔۔۔

“مجھے مزا اتا ہے تمہیں روز نۓ نۓ انداز میں مخاطب کرنے میں ۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔

“شکر ہے یہ نہیں کہا روز روز نیا نیا چہرا چاہیۓ مجھے ۔۔۔ رانیہ نے شرارتی انداز میں کہا ۔۔۔

“لاحول پڑھو , اب ایسا بھی رنگین مذاج نہیں میرا ۔۔۔ سعاد برا مانتے ہوۓ بولا ۔۔۔ جس پر رانیہ کا قہقہ بلند ہوا ۔۔۔

ابھی ان کی فلائیٹ میں ٹائم تھا اس لیۓ دونوں ویٹنگ ایریا میں ایک سائیڈ بیٹھے تھے۔۔۔ ان کی ہنسی مذاق پر کچھ لوگ پلٹ کر اس کپل کو دیکھ لیتے اور مسکرا کر گزرجاتے ۔۔۔ سعاد اور رانیہ بغیر کسی کی پرواہ کے اپنی ہی ہانکے جارہے تھے ۔۔۔

“اچھا , پاکستان جانے دیں وہاں جاکر سب کو بتاؤں گی میرا شوہر کیا چیز ہے ویسے ہی رعب ڈالنے کے لیۓ سوبر بنتے ہیں ویسے ہیں وہ بلکل نہیں ۔۔۔ رانیہ نے دھمکایا ۔۔۔

“ہاں ہاں ضرور بتانا اور یہ بھی بتانا کتنا رومینٹک ۔۔۔ سعاد نے مزے سے کہا تو رانیہ نے جلدی اس کی بات کاٹ کر کہا ۔۔۔

“سعاد ایسے بولیں گے تو ماروں گی ۔۔۔۔ رانیہ نے کہا ہاتھ دکھایا ۔۔۔ اور وہ اس کا ہاتھ تھامتا چوم گیا ۔۔۔ جس پر وہ ڈھٹائی سے ہسنے لگا ۔۔۔ سعاد نے کہا “تمہارا یہ لمس بھی منظور ہے ڈارلنگ ۔۔۔

“سعاد یہ پبلک پلیس ہے ۔۔۔ رانیہ نے یاد دلایا ۔۔۔

“تو کیا ہوا پکا پرمٹ ہے میرے پاس کوئی کچھ کہے تو سہی , بندہ اپنی بیوی کے ساتھ بھی رومینس نہ کرے تو کس کے ساتھ کرے ۔۔۔ سعاد کے لہجے میں جوش تھا ۔۔۔

“سعاد اپ بھی نہ ۔۔۔ وہ لاجواب ہوئی ۔۔۔

یوں دونوں ایک نۓ سفر پر روانہ ہوۓ , اک ایسا سفر جس میں دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اچھا وقت گزار کر گزرے دنوں کی تھکن اتارنی تھی ۔۔۔ دونوں خوش تھے اپنی زندگی کے اس موڑ سے ۔۔۔۔ ویسے بھی سعاد نے امریکا میں اپنا سب کچھ بیچ دیا تھا جس میں اللہ نے مدد کی سب کچھ اچھے دام سے بک گیا تھا ۔۔۔ کافی ساری اس کے پاس سیونگ بھی تھی ۔۔۔ اس لیۓ اس نے سوچا جو چلا گیا وہ وقت اسے واپس تو نہیں لاسکتا پر کم ازکم آنے والا وقت حسین تریں بنانے کی کوشش میں ہلکان تھا ۔۔۔ جو وقت مصروفیات میں رانیہ کو دینا بھول گیا وہ دوبارہ دینا چاہتا تھا ۔۔۔

@@@@@@@@@@

آج سعاد اور رانیہ کی دعوت تھی گھر پر , انہیں پاکستاں آۓ تین دن ہوچکے تھے ۔۔۔ اہک مہینے سے زیادہ کے ٹرپ میں کئی ممالک سعاد اسے گھما چکا تھا ۔۔۔ آخر تھک کر رانیہ نے ہی بسسس کہا ورنہ سعاد اسے پورا یورپ گھمانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔ اور ویسے بھی ٹرپ کے لاسٹ ویک میں اسے اپنی گری گری طبیت محسوس ہورہی تھی ۔۔۔ چیک کروانے پر ڈاکٹر نے بتایا وہ ایکسپیکٹ کررہی ہے ۔۔۔ دونوں بےانتہا خوش ہوۓ ۔۔۔

پاکستان انے کے اگلے دن اس کی گری طبیت کو دیکھ کر نایاب نے شک ظاہر کیا جس پر سعاد نے بتادیا ۔۔۔ پھر تو خوشی کی لہر ہی دوڑ گئی دونوں خاندانوں میں ۔۔۔ سب بےانتہا خوش تھے ۔۔۔

آج شاندار طریقے سے سعاد اور رانیہ کو ویلکم کیا گیا پھول برسا کر ۔۔۔ سب موجود تھے ہانیہ اور ولید خانزادہ اور ان کے دونوں بچے ۔۔۔ صبا اور ہانیہ کا آخری مہینہ چل رہا تھا ۔۔۔ دونوں کے بچے اگے پیچھے ہی انے تھے ۔۔۔

دونوں نے کیک کاٹا ۔۔۔ سب دونوں کو دیکھ کر خوش ہورہے تھے ۔۔۔ رانیہ کتنی دیر یسرا بیگم کے گلے لگ کر ان سے پیار وصول کرتی رہی ۔۔۔ احد صاحب بھی بہت پیار سے ملے , دونوں کے کسی انداز سے ظاہر نہ ہورہا تھا کہ وہ کبھی رانیہ سے ناراض بھی تھے ۔۔۔ جس ناراضگی کا بوجھ وہ اپنے سینے پر لیۓ چلتی رہی تھی , ایسا کچھ بھی نہ تھا , رانیہ کو سمجھنے میں دیر لگی ماں باپ اپنی بیٹیوں سے ناراض نہیں ہوا کرتے ۔۔۔ سب اپنے اپنے انداز سے بتارہے تھے کہ رانیہ کو کب کب کس کس وقت یاد کرتے تھے ۔۔۔۔ وہ مسکرا کر سن رہی تھی ۔۔۔۔ اپنے چاہے جانے پر مسکرا رہی تھی وہ انمول تھی اپنوں کے لیۓ اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہوگی رانیہ کے لیۓ ۔۔۔

ایسا لگ رہا تھا زندگی مکمل ہوگئی ہو جیسے ۔۔۔

سعاد سے ٹھرنے کی اجازت مانگی رانیہ نے جس پر سعاد نے دل سے کہا “وہ ٹھرسکتی ہے ۔۔۔

رانیہ کے ٹھرنے کا سن کر ولید نے خود ہی ہانیہ کو کہا “وہ ٹھرنا چاہے تو ٹھر سکتی ہے رانیہ کے لیۓ ۔۔۔ سب حیران ہی ہوۓ ولید کے کیئرنگ انداز پر ۔۔۔

“سعاد سیکھیں سیکھیں ولید بھائی سے , کیسے بیوی کی کیئر کی جاتی ہے ۔۔۔ رانیہ نے لتاڑا ۔۔۔ جس پر ثوبان اور صبا مسکراۓ ۔۔۔

“جب ولید بھائی کلاسس دیں , میں لینے اجاؤں گا ۔۔۔ سعاد نے رانیہ کے انداز میں ہی جواب دیا سرخم کرتے ہوۓ ۔۔۔ ولید بھی مسکرایا اس کے انداز پر ۔۔۔ سعاد نے رانیہ کے ساتھ وقت گزار کر کافی حد تک رانیہ کے شوخیہ رنگ اس پر بھی اثر کرگۓ تھے وہ بھی اسی کے انداز میں بات مزاحیہ انداز میں کرتا ۔۔۔

“اف سعاد بھائی اپ کو دیکھ کر کون کہے سکتا یہ وہی کھڑوس سا سعاد ہے جس کی ناک پر بیزاریت رہتی تھی اپنی ہی شادی میں ۔۔۔ ہانیہ نے کہا جتاتے لہجے کے انداز میں پر چہرے پر شرارتی تاثر بھی تھا ۔۔۔

“بلکل سہی کہا تم نے ہانیہ ۔۔۔ صبا نے تصدیق کی ۔۔۔

“ویسے لیڈیز پاکستان کی شادیوں میں اج بھی میں بیزار ہی رہوں گا کیونکہ مجھے جھنجھٹ لگتی ہیں پاکستانی شادیاں ۔۔۔ سعاد نے کندھے اچکا کر اپنے دل کی بات کہی ۔۔۔ ویسے بھی کچھ عادتیں کبھی بدل نہیں سکتیں یہ بات رانیہ بھی سمجھ سکتی تھی ۔۔۔ پر سعاد نے اب تک جو عزت مان اور محبت دی تھی اس نے رانیہ کو واپسی کی طرف لانے میں کافی مدد کی تھی ۔۔۔ اج اس لمحے یہ بات محسوس کرنے والی تھی کہ ہر لڑکی کو شادی بدلتی ہے اس پر وہی رنگ روپ چڑھتا ہے جو رنگ روپ اس کا شوہر اس کے لیۓ انتخاب کرتا ہے ۔۔۔ شادی بعد لڑکی کا ہر رنگ روپ اس کے شوہر کی مرہون منت ہوتا ہے وہی اسے سنوارتا ہے وہی اسے نکھارتا ہے ۔۔۔

یوں ہانیہ اور بچے بھی ٹھرگۓ کیونکہ بچے ماں کے بغیر جانے کو راضی نہ تھے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے بخوشی اجازت دے دی ۔۔۔۔

@@@@@@@@@@

“تم کیا کررہی ہو اس وقت کچن میں ۔۔۔ ثوبان نے کہا صبا کے پیچھے اکر ۔۔۔ ویسے بھی گھر کا کام اس سے چھڑوایا ہوا تھا کیونکہ آخری مہینہ چل رہا ہے تھا اس کا ۔۔۔ اس وقت رات کا ایک بج رہا تھا اب بچے سوگۓ تھے اور گھر کے بزرگ مرد حضرات بھی ۔۔۔ صرف یہ ینگسٹر اور عورتیں ہی جاگیں ہوئیں تھیں ۔۔۔

“سب ساتھ بیٹھے ہیں اج کافی وقت بعد , خاص کر رانیہ اور ہانیہ دونوں ہیں اس لیۓ سوچا چاۓ بنالوں سب کے لیۓ تاکہ زیادہ دیر جاگ کر باتیں کریں۔۔۔ صبا نے خوشی سے کہا ۔۔۔ ثوبان بغور اسے سنتا رہا اپنے انتخاب پر فخر ہوا اسے , صبا گھر کو جوڑے رکھنے والی , خود سے زیادہ دوسروں کی پرواہ کرنے والی لڑکی تھی , اس کا حسن اس کا خوبصورت دل ہی تو تھا جس سے ثوبان کو عشق ہوا تھا ۔۔۔ جسے اس کے شوہر نے بھرپور اعتماد دے کر انمول ہونے کا احساس دیا تھا ۔۔۔

“کتنے وقت بعد یہ وقت ایا ہے سب ساتھ ہیں ۔۔۔ صبا نے ایک بار پھر کہا ۔۔۔

“ہاں یہ تو ہے , پر پھر بھی مجھے کہے دیتی میں بنالیتا ۔۔۔ تم پلیز کوئی کام نہ کیا کرو ۔۔۔ ثوبان نے اس کے ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“اوکے نہیں کروں گی اج کرلینے دیں اور جاکر بیٹھیں ورنہ سب یہاں نہ اجائیں ۔۔۔۔ صبا نے دھمکایا ۔۔

“کوئی نہیں اتا , سب خوش گپیوں میں مصروف ہونگے ہم یہاں مل کر نپٹا لیتے ہیں کام ۔۔۔ ثوبان نے جوش جذبات میں اپنی خدمات پیش کیں ۔۔۔

“پلیز جائیں کوئی اجاۓ گا اچھا نہیں لگتا کہ ۔۔۔۔ صبا ابھی اپنی بات مکمل ہی نہ کرپائی کہ رانیہ اور ہانیہ کے قہقہے نے ان دونوں کو چونکایا ۔۔۔

“ہم تو یہیں کھڑے ہیں صبا آپی , ثوبان بھائی کی زن مریدی سنی تھی اج دیکھ بھی لی میں نے ۔۔۔ سچ مزا اگیا دل ہی خوش ہوگیا ۔۔۔ رانیہ نے چہک کر کہا اور جلدی جانے لگی کچن سے ۔۔۔

“چڑیا تمہاری تو ۔۔۔ ثوبان نے اسے پکڑا اور کہا ۔۔۔

“اب تم بناؤگی چاۓ چلو ۔۔۔ اسے پکڑ کر چاۓ کی دیگچی کے پاس کھڑا کیا اور صبا کو اپنے قریب کھینچ لیا ۔۔۔ صبا انکاری ہوئی پر اس کی سننے والا کون تھا اس کی منمناتی اواز کہ “رانیہ کو بخشو وہ کوئی کام نہیں کرے گی ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اس کی سنی ہی نہیں گئی ۔۔۔

“چلو صبا آپی ہم چلتے ہیں خود ہی ہماری مانو بنالے گی چاۓ ۔۔۔ امریکا میں رہ کر ہم سب سے زیادہ سگھڑ ہوگئی ہے ہماری مانو ۔۔۔ ہانیہ جو کچن کے دروازے کے پاس کھڑی تھی اندر اکر بولی اور صبا کے ساتھ کھڑی ہوگئی ۔۔۔ ثوبان بھی مسکرایا ہانیہ کی بات پر ۔۔۔

“ہانیہ اپی اپ بھی ان کے ساتھ مل گئیں ۔۔۔ رانیہ نے آنکھیں دکھائیں ۔۔۔

“چلو شاباش ہماری چڑیا چاۓ بناکر آؤ ہم تو چلے , پتا تو چلے دوسروں کا رومینس خراب کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے ۔۔۔ ثوبان نے کہا ۔۔۔ صبا روکتی رہی پر ثوبان اور ہانیہ اسے لے کر باہر جانے لگے ۔۔۔

“اچھا فاؤل ہے یہ , میں امریکا سے آئی ہوں ایک رات ہی بندہ پروٹوکل ہی دے دے ظالموں کچھ تو رحم کرو ۔۔۔ رانیہ نے دہائی دی کسی نے خاک بھی توجہ نہ دی ۔۔۔

ابھی اس نے دیگچی کی طرف منہ ہی کیا کہ چاۓ کی سمیل سے ابکائی آئی ۔۔۔ اور وہ باہر کو بھاگی ۔۔۔ ثوبان اور ہانیہ اس کے پیچھے گۓ ۔۔۔ جبکہ صبا نے چاۓ کی طرف رخ کیا ۔۔۔

ہانیہ نے سعاد کو کال لگائی تاکہ پوچھ سکے اس کی دوائیوں کا جو شاید گاڑی میں ہی رہ گئیں تھیں ۔۔۔

سعاد اب وڈیو کال پر بات کررہا تھا اس کا حال احوال پوچھ رہا تھا ساتھ ساتھ کار ڈرائیو کرکے میڈیسن دینے آرہا تھا ۔۔۔ کچھ دیر میں صبا نے چاۓ کے مگ سب کے سامنے رکھے رانیہ نے جیسے کپ اٹھا کر منہ کو لگایا ۔۔۔ ایک بار پھر قے والا نمونہ ہوا ۔۔۔

وہ چیختی اٹھی تو سعاد کی ہنسی چھوٹی وڈیو کال پر ۔۔۔ سب ہسنے لگے ۔۔۔ تب تک سعاد بھی پہنچ گیا جب ہانیہ اسے لیموں پانی پلانے کی کوشش میں ہلکاں ہورہی تھی ۔۔۔ سعاد نے اسے خود دوائیں کھلائیں ۔۔۔ کھاکر کچھ ریلکس ہوئی تو ثوبان بول اٹھا ۔۔۔

“ہمیں زن مریدی کا طعنہ مارنے والی رانیہ , ذرہ بتائیں گی اپنے شوہر کو کیا کہیں گی , زن مریدی , سے کوئی تگڑا اور دھاسو لفظ ہوتو کہنا ورنہ کون اپنی نیند خراب کرکے اتا ہے بیوی کی صرف دوائیاں دینے ۔۔۔ ویسے سعاد تم نام ہی بتادیتے دوائیوں کے ہم یہیں سے لے لیتے پر اپ نے تو زندمریدی میں ٹاپ کرگۓ ۔۔۔ شاباش ۔۔۔ ثوبان بیک وقت دونوں سے مخاطب ہوا ۔۔۔ سب کے قہقے ابل پڑے اس کے ڈرامائی انداز میں کہی بات پر ۔۔۔۔

ثوبان کی بات پر رانیہ جی بھر کے شرمندہ ہوئی جبکہ سب کے قہقہے گونجے تھے ۔۔۔ سعاد بھی نظریں چرانے لگا اپنی شرمندگی پر واقعی اتنا دور سے ایا دوائیاں دینے بجاۓ اس کے نام بتادیتا ثوبان جاکر پاس سے ہی لے اتا اج کل ویسے بھی کئی فارمیسیز لیٹ نائیٹ کھلی جو رہتی ہیں ۔۔۔ جی بھر کے اپنی بےوقوفی پر شرمندہ ہوا سعاد ۔۔۔۔ ثوبان تو اس کی پینٹھ تھپ تھپا کر سراہتا رہا ۔۔۔ جس پر صبا اور ہانیہ کے قہقہے ہی گونج رہے تھے ۔۔۔۔

نازیہ بیگم ,یسرا بیگم , نائلہ بیگم تینوں ہنستی ہوئی اٹھیں تھیں کیونکہ رات بہت جو ہوگئی تھی ۔۔۔ یسرا بیگم رانیہ کو پیار کرتیں اسے ارام کی تلقین کرتیں ہوئیں اٹھیں تھیں ۔۔۔

@@@@@@@@@

“کیا ہوا ولید کچھ کہنا چاہتے ہیں آپ ۔۔۔ ہانیہ کافی دیر سے محسوس کررہی تھی کہ جیسے کچھ کہنا چاہتے ہوں پھر چپ ہوجاتے ۔۔۔

وہ اج صبح ہی اپنے میکے سے آئی تھی اور شام میں وہ اور ولید گارڈن میں چاۓ سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔۔۔ بچے سامنے ہی کھیل رہے تھے ۔۔۔

“ہمممم سمجھ نہیں ارہا کیسے کہوں , ان دنوں تمہیں ریلیکس رہنے کی ضرورت ہے پر میں تمہیں مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا پر ۔۔۔۔ کچھ کہتا وہ چپ ہوگیا ابھی ہانیہ کچھ کہتی وہ دوبارہ بول اٹھا ۔۔۔

“تمہیں تکلیف نہ ہو ۔۔۔ ولید کہے ہی رہا تھا دونوں بچوں نے اس کی بات اچک لی ۔۔۔

“ہماری مما کو کون تکلیف دے گا کسی کی اتنی ہمت ۔۔۔۔ اسی وقت لان میں کھیلتے حنان اور منان جو ان کی طرف ہی ارہے تھے باپ کی بات سن کر بول اٹھے تھے ۔۔۔۔

“ویسے تم نے اچھا بندوبست کیا ہوا ہے ہانیہ , خدائی فوجداروں کو لگایا ہوا ہے اپنی حفاظت کو ۔۔۔ تمہاری ماں کو بھلا کون تکلیف دے سکتا ۔۔۔ ولید خانزادہ کی ہنسی چھوٹی جو دونوں اس کے دائیں بائیں کھڑے تھے غصے والے تیور لیۓ گھور رہے اور جاننے کے لیۓ بےچین تھے ان کی مما کو کون تکلیف دے گا ۔۔۔ ولید خانزادہ بیک وقت تینوں سے مخاطب ہوا ۔۔۔

“دیکھ لیں میری ٹیم مضبوط ہے ۔۔۔۔ ہانیہ نے ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔

“ہاں بھئی سنا تھا دیکھ بھی لیا , بیٹوں کی ماں کے شانے مضبوط ہوتے ہیں , بسس اب میری بیٹی بھی اجاۓ تو کچھ میرا بھی فائدہ ہو ۔۔۔ دیکھ لینا بیٹیاں ہر حال میں باپ کا ساتھ ہی دیتیں ہیں ۔۔۔ پھر میرے دکھ کا احساس ہوگا تم کو ۔۔۔ ولید کے اس بےبسی کے انداز پر بچے ہسنے لگے ۔۔۔

“پاپا اگر بھائی ایا تو پھر ہمارے ٹیم اور اسٹرونگ ہوجانی ہے کیوں ماما ۔۔۔ منان نے کہا ۔۔۔

“ہاں وہ تو ہے ۔۔۔ ہانیہ نے کاندھے اچکاتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“دیکھنا اس بار بیٹی ہی ہوگی ہماری انمول ولید خانزادہ ۔۔. ولید خانزادہ کی بات پر ہانیہ بھی چونکی ۔۔۔

“پاپا اپ نے تو نام بھی سوچ لیا ۔۔۔ حنان منان نے حیرت سے کہا ۔۔۔

” ہاں کیونکہ اللہ سے اچھی امید لگانی چاہیۓ , پوچھ لو اپنی ماما سے ۔۔۔ ویسے میری بات پر تم دونوں نے کیا یقین کرنا ہے ۔۔۔ ولید نے دکھی شکل بناتے ہوۓ کہا جس پر اس کے دونوں بیٹوں نے تصدیق کرنے کے لیۓ ماں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔ جس پر ہانیہ کو ہنسی آئی اور کہا ۔۔۔

“بلکل اللہ سے اچھی امید لگانی چاہیۓ ۔۔۔ جاؤ فریش ہوجاؤ دونوں پھر پڑھنا بھی ہے ۔۔۔ ہانیہ کے کہنے کی دیر تھی اور وہ دونوں فریش ہونے کے لیۓ جانے لگے ۔۔۔

“جی ماما ۔۔۔ دونوں نے ساتھ کہا اور اندر کی طرف بڑھ گۓ ۔۔۔ ولید ان کو جاتے ہوۓ دیکھنے لگا ۔۔۔

“بات تو وہیں رہ گئی ۔۔۔ اپ کیا کہنے والے تھے ولید ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد ہانیہ نے پوچھا ۔۔۔

“میں مام کو یہاں لے کر ارہا ہوں ان کی طبیت اب ٹھیک نہیں رہتی , میں وہاں گیا تو مجھے تمہاری فکر رہے گی یہاں ہوں تو مام کے لیۓ پریشان رہوں گا ۔۔۔ ولید کے چہرے پر فکر نظر آئی ہانیہ کو ۔۔۔

“اس میں اتنی پریشانی کی کیا بات ہے , اپ جو چاہے فیصلہ کریں مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔ ہانیہ نے سکوں سے کہا ۔۔۔

“میں وہاں تمہیں لے جانا نہیں چاہتا , ان کے بہیور کا تم کو پتا ہے ۔۔۔ یہاں بھی وہ کچھ کہیں پلیز اگنور کرلینا , میں اس حالت میں تمہیں پریشانی دینا نہیں چاہتا ۔۔۔ ولید نے اپنی فلر کی وجہ بتائی ۔۔۔

“ولید میں ٹھیک ہوں , اپ فکرمند نہ ہوں , آۓ کین مینیج , اگر حالات خراب ہوۓ تو چلی جاؤں گی اپنے پیرینٹس کی طرف ۔۔۔ ہانیہ نے مناسب لفظوں میں اس کی فکرین دور کرنا چاہی ۔۔۔

“ایسی بات پھر کبھی مت کہنا , تمہارا گھر ہے تم کہیں نہیں جاؤگی , بس اتنا سمجھ لو وہ اپنی بھانجی کی جگہ کسی کو برداش نہیں کرسکتیں ۔۔۔ اگنور کرلینا وہ میری ماں ہے اتنا سوچ کر ۔۔۔ ولید نے مختصر لفظوں میں ماں کے رویۓ کی وجہ بتائی ۔۔۔

“ڈونٹ وری , جیسا اپ چاہتے ویسا ہی ہوگا ۔۔۔۔ ہانیہ نے خوش اخلاقی سے کہا ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اس کے ماں باپ کو اتنا مان اور عزت دی ہے ہمیشہ وہ چاہ کر بھی کبھی اس کے ماں باپ کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔

ولید خانزادہ مطئمن ہوا اس کی طرف سے ۔۔۔

یوں تو ولید خانزادہ کی ماں کو جب سے دل کا مض ظاہر ہوا تھا تب سے آہستہ آہستہ اس نے بزنس سے ہاتھ کھینچ لیا ۔۔۔ وہ گھر بیٹھنے لگیں ۔۔۔ جمیل خانزادہ کی بزنس کی مصروفیات کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہونے لگیں تھیں , اپنے بیٹے سے ضد کرنے لگیں کہ وہ یہاں اکر رہے جس پر ولید نے اپنی مجبوریاں بتاکر انہیں یہاں انے کا مشورہ دیا ۔۔۔ یوں ان کا یہاں انے کا پروگرام بن گیا ۔۔۔

@@@@@@@@@@

وہ جو اتنا آسان سمجھ رہی تھی ولید خانزادہ کی ماں کو برداش کرنا اتنا آسان نہ تھا ۔۔۔ وہ زبان سے ایسے وار کرتیں ہانیہ ان کا منہ دیکھتی رہ جاتی ۔۔۔ اتنی ایجیوکیٹیڈ عورت اور یہ انداز ہانیہ کے تصور میں بھی نہ تھا ۔۔۔

کل ہی وہ اسے ولید کے سامنے کہے رہیں تھیں کہ “ان ہی مڈل کلاس طریقوں سے میرے بیٹے اور پوتوں کو دیوانہ کیا ہوا ہے تم نے ۔۔۔

“پلیز مام ۔۔۔ ولید نے کہا ۔۔۔

“جی آنٹی سہی کہا اپ نے , اور مجھے میرے مڈل کلاس ہونے کا کوئی کامپلیکس بھی نہیں ۔۔۔ ہانیہ کی بات پر وہ تلملا اٹھیں ۔۔۔

“پلیز اپ دونوں چپ کرجائیں کھانا سکوں سے کھالینے دیں ۔۔۔ ولید نے چمچ پٹخ کر کہا ۔۔۔ بچے الگ حراسان تھے اس ماحول میں ۔۔۔

ہانیہ خاموش ہوگئی پر ولید کی ماں خاموش نہ ہوئیں ۔۔۔

ولید ضبط کرتا رہ گیا ۔۔۔

وہ بات بے بات اسے طعنے مارنا اپنا فرض اولیں سمجھنے لگیں تھیں ۔۔۔ کل کشف کی برسی تھی اس لیۓ اپنی ماں کے کہنے پر گھر پر ہی قران خوانی کا انتظام رکھ لیا تھا ولید خانزادہ نے ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اونچے پیمانے پر خیرات کا انتظام کیا تھا ولید خانزادہ نے ۔۔۔

پر ہانیہ نے ولید سے اجازت لے کر رات کو بارہ بجے ہی اپنے بیٹوں کی سالگراہ کا انتظام کرلیا تھا ۔۔۔۔ بچے بےانتہا خوش ہوۓ تھے اپنی سالگراہ کے سرپرائز ملنے پر ۔۔۔ مسز جمیل خانزادہ حیران ہی ہوئیں اس لڑکی پر جو حنان اور منان کی کسی خوشی پر کمپرومائیز کرنے پر تیار نہ تھی ۔۔۔

رات کے بارہ بجے سرپرائز کرکے ان کو جگایا ولید اور ہانیہ نے جس پر بچے حیران بھی ہوۓ اور خوش بھی ۔۔۔ پھر نیچے لے جاکر کیک کاٹا جہان ان کی دادی ان کا انتظار کررہی تھی ۔۔۔
پھر بچوں نے کیک کاٹ کر سب سے پہلے ہانیہ کو کھلایا ولید مسکرارہا تھا جبکہ اس کی ماں سلگتی نظروں سے دیکھتی رہی ہانیہ کو ۔۔۔ ان سے برداش نہ ہوا بچوں کا اتنا جھکاؤ ہانیہ کی طرف ۔۔۔

سب سے آخر میں بچوں نے اپنی دادی کو کھلایا ۔۔۔

@@@@@@@@@@

اگلی صبح گھر میں کافی رش ہوا تھا ۔۔۔ ولید بھی کافی مصروف تھا ۔۔۔ ہانیہ انے والے مہمانوں سے اچھی طرح مل رہی تھی ۔۔۔ پھر قران خوانی کا دور چلا جن لوگوں نے قرآن پڑھنا چاہا پڑھا کچھ عورتیں خوش گپیوں میں مصروف رہیں ۔۔۔ ہانیہ کے ماں باپ بھی آۓ ہوۓ تھے ۔۔۔ ہانیہ کے ماں باپ کے ساتھ بھی اس کی ساس نے سیدھے منہ بات نہ کی تھی ۔۔۔ ہانیہ کی سمجھ سے باہر آخر کس بات کی اتنی پرابلم ہے ان کو اس سے ۔۔۔

دن کے چار بجے تک سب مہمان روانہ ہوۓ ۔۔۔ اب لاؤنج میں صرف ہانیہ اور اس کی ساس رہ گئیں تھیں ۔۔۔ رضیہ گھر کی صفائی کروارہی تھی ملازموں سے ۔۔۔

ہانیہ اپنے بھاری وجود کے ساتھ ہمت کرکے اٹھنے لگی ۔۔۔ اسی لمحے اس کی ساس نے کہا ۔۔۔

“جلن تو ہوتی ہوگی یہ دیکھ کر میرا بیٹا اج بھی کشف کو نہیں بھولا ۔۔۔ کتنا بھی کچھ کرلو تم کشف کی جگہ لے بھی نہیں سکتی ۔۔۔ ایک اور فری ہاسپیٹل , اسکول کھول رہا ہے کشف کے نام سے , حسد کی اگ میں جلتی ہی رہوگی ہمیشہ پر کشف جیسا مقام نہیں حاصل کرپاؤگی ۔۔۔ ان کے لہجے میں شدید نفرت تھی اس کے لیۓ , جسے سن کر نا صرف ہانیہ حیران ہوئی بلکہ ولید کے قدم جم گۓ اس کی ماں اس حد تک گرجائیں گی اگر اس لمحے ہانیہ کو دھچکا لگ جاتا تو , وہ کتنی بار ان سے کہے چکا تھا ہانیہ نہ سہی اس کے انے والی اولاد کا ہی سوچ لیں , نفرت کی اگ میں وہ کہاں پہنچ گئیں تھیں ۔۔۔

“آنٹی مجھے کشف کی جگہ لینی بھی نہیں ولید کی زندگی میں اس کی اپنی جگہ ہے , میری اپنی جگہ ہے ان کی زندگی میں اور جہاں تک بات ہے جلن حسد کی تو ایک بات اج پر واضع کردوں کہ زندہ لوگ کم پڑگۓ ہیں جلن کے لیۓ , جو ہے ہی نہیں جسے میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے اس سے کیا جلن کیا حسد ۔۔۔ ہانیہ نے سکوں سے کہا ۔۔۔ اب وہ اپنے قدم بڑھاتی جانے لگی اسی وقت ولید خانزادہ کی آواز پر رک گئی ۔۔۔

“بس مام , اب میں برداش نہیں کروں گا اپ اس طرح کی کوئی بات کشف کو لے کر ہانیہ سے کریں اور ایک بات اج اپ کو بتادوں یہ ہانیہ ہی جس نے کشف کو لے کر میرے پیار اور احساسات کو سمجھا ہے , جو محبت میں ہانیہ سے کرتا ہوں وہ اپ نہیں سمجھ سکتیں , مجھے ہانیہ کے ساتھ ساتھ کئی اور خوبصورت رشتوں کی محبت سے فیض یاب کیا ہے اس رشتے نے , میں تاعمر ہانیہ کا شکر گزار رہوں گا جس نے مجھے اور بچوں کو اتنی خوشیاں دیں ہیں ۔۔۔ اتنے دنوں میں کبھی آپ نے غور کیا ہے میرے بچے اسے دیکھ کر سانس لیتے ہیں میرے بچوں کی سانس بستی ہے اس کی ماں میں , ایسی محبت دی ہے اس نے ۔۔۔ ہانیہ کا کسی سے کوئی مقابلہ ہی نہیں وہ اپنے اپ میں بےمثال اور لاجواب ہے ۔۔۔ وہ لمحے بھر کو رک کر دوبارہ بولا ۔۔۔

“ایک بات اپ کو بتاؤں , میں کبھی اپ کے اور بابا جیسا محل بنا کر اپنے بچوں کو نہیں دوں گا جہاں صرف تنہائی اور وحشت ہو بلکہ ایسا گھر بناؤں گا جس میں پیار محبت اپنا پن ہو جہاں ماں باپ پیسے کمانے میں مصروف ہونے کے بجاۓ اپنی اولاد کو بھرپور وقت دیں ۔۔۔ ایسا گھر دیکھنا ہے ایک بار جاکر ہانیہ کے ماں باپ کے گھر جاکر دیکھیں , جہاں رشتوں کو جیا جاتا ہے جہاں صرف محبت ہی محبت ہے ۔۔۔ ہانیہ اور میں مل کر ہی ایسا گھر بنائیں گے مام ۔۔۔ ولید کی سانس پھولنے لگی تھی جذبات میں ۔۔۔

“ولید میرے بیٹے ۔۔۔ مسز خانزادہ نے کہا ۔۔۔ ان کے لہجے میں درد تھا ۔۔۔

“پلیز مام میں یہ کبھی نہ کہتا اگر اپ ہانیہ کے ساتھ اس طرح نہ کرتیں پر اپ نے مجھے مجبور کیا اج اپنی محرومیوں کا ذکر کرنے پر ۔۔۔ ولید کا لہجہ بھاری تھا ۔۔۔

“ولید میرے بیٹے مجھے معاف کردو ۔۔۔ انہوں نے دکھ سے کہا ۔۔۔ ان کو ندامت ہوئی تھی اپنی کی گئی ہر زیادتی پر جو انہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ کیں تھیں اور ہانیہ کے ساتھ بھی جو کیا اس کا احساس ہوگیا تھا۔۔۔۔

“مام سارا وقت گذر گیا اب کیا فائدہ معافی کا ۔۔۔ رہنے دیں ۔۔۔ ولید نے آہستہ سے کہا ۔۔۔

ہانیہ صدمے کی کیفیت میں تھی , اتنے بھرپور مرد کا یہ انداز پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی , اس کے اندر اتنا درد ہے اج تک وہ محسوس کر ہی نہ سکی تھی ۔۔۔ اس نے سوچا بھی نہ تھا اتنی ساری محرومیاں بھی کبھی ولید خانزادہ نے دیکھیں ہونگی ۔۔۔

“ہانیہ تم ارام کرو صبح سے سب مہمانوں کو اٹینڈ کررہی ہو ۔۔۔ ولید نے سنبھل کر کہا ۔۔۔۔

“ہممم آپ کہیں جارہے ہیں ۔۔۔ ہانیہ نے پوچھا ۔۔۔

“ہاں قبرستان جارہا ہوں , تم آرام کرو ۔۔۔ ولید نے بتایا ۔۔۔

“آپ فکر نہ کریں , میں ارام کرلیتی ہوں , پر اپ بچوں کو بھی ساتھ لے جائیں ۔۔۔

“یہ کیا کہے رہی ہو , ان کی عمر نہیں وہاں جانے کی ۔۔۔ ولید نے حیرت سے کہا ۔۔۔۔

“ولید وہ پورے دس سال کے ہوگۓ ہیں , یہ ان کا فرض ہے ماں کی قبر پر جاکر قل بخشیں اور اس کے لیۓ دعا کریں ۔۔۔ اولاد کس لیۓ ہوتی ہے, اسی لیۓ تو ہوتی ہے , ہوسکے اپ ان کو بھی ساتھ لے جانے کی عادت ڈالیں ۔۔۔ ہانیہ کی بات پر ولید اور اس کی ماں چونکیں ۔۔۔

“رضیہ بچوں کو تیار کروادیا ۔۔۔۔ ہانیہ نے پوچھا ۔۔۔

“جی ہانیہ میڈم ۔۔۔ رضیہ نے مودب لہجے میں کہا ۔۔۔

“تو جاؤ لے کر آؤ ۔۔۔ ہانیہ نے حکم دیا ۔۔۔

کچھ دیر میں دونوں بچے سفید شلوار قمیص میں ملبوس قبرستاں جارہے تھے ۔۔۔

“ولی دیکھنا کیسی پرورش کروں گی اپنے بچوں کی , دین دنیا دونوں میں چلاؤں گی ۔۔۔ ہمارے بچے ہمارے لیۓ دعاگو رہیں گے چاہے ہم رہیں نہ رہیں , وہ اپنے والدیں کے ایصال اور ثواب کے لیۓ کام کریں گے ۔۔۔۔ کشف ہمیشہ ایسی باتیں کرتی تھی ۔۔۔ جس پر وہ حیران ہی ہوتا تھا ایسی سوچیں کہاں سے اس کے ذہن میں آتیں ہیں , وہ ان کے ہاۓ کلاس سوسائیٹی سے بلکل الگ تھی سب سے منفرد سوچ رکھنے والی ہمیشہ اپنی آخرت کی فکر میں ہلکاں رہنے والی ۔۔۔

“دیکھو کشف , جیسی تم چاہتی تھی بلکل ویسی پرورش ہورہی ہے ہمارے بچوں کی , واقعی تمہارے دعائیں رنگ لائیں ہیں , مجھے لگتا ہے ہانیہ کو اللہ نے ہی بھیجا ہے ہماری زندگی کو مکمل کرنے کے لیۓ , میری سب محرومیاں دور ہوگئیں ہیں اسے پاکر , تمہاری سب دعائیں قبول ہوگئیں ہیں کشف , تم جہاں ہوگی یقینن خوش ہوگی ۔۔۔ ولید خانزادہ قبرستاں میں اس کی قبر کے سامنے کھڑا ہوکر اس سے مخاطب ہوتا بولا تھا ۔۔۔

دونوں بچے قل پڑھ رہے تھے زیرلب ۔۔۔ “یاد ہے نا ماما نے کہا تھا تین دفعہ پڑھنا ہے ۔۔۔ منان نے حنان سے کہا ۔۔۔

“شششش , یاد ہے , اور ماما نے کہا تھا قبرستان میں باتیں نہیں کرنی ۔۔۔ حنان نے کہا ۔۔۔۔

ولید خانزادہ کو ہانیہ پر بےانتہا پیار ایا اور گھر جاکر وہ اس کا بھرپور اظہار کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔۔

@@@@@@@@@@

“ہوسکے تو مجھے معاف کردو , مجھے کشف کا غصہ نہیں بلکہ تم سے حسد تھا ہانیہ , کیونکہ میرے بیٹے کا تمہاری اتنی پرواہ کرنا برداش نہیں ہوتا تھا مجھ سے ۔۔۔ وہ اتنی تعریفیں کرتا تمہاری اور تمہارے گھروالوں کی , کہ جلن کی اگ میں , میں تمہاری اچھائی دیکھ نہ سکی اور نا میرے بیٹے کی محرومیاں سمجھ سکی ۔۔۔ اج اگر کھل کے اظہار نہ کرتا تو میں کبھی نہ سمجھ پاتی کہ اس کےطاندر کونسا درد ہے جس کی تسکین کا سامان تم نے کیا ہے ۔۔۔ وہ اتنا خودار ہے کہ اپنے دل کی بات کبھی کسی سے کہتا نہیں ہے اور مجھے یقین ہے اپنے دل کی یہ بات بتا کر اسے اندر ہی اندر دکھ ہوگا اسے اس بات کا طعنہ کبھی مت مارنا ورنہ ٹوٹ جاۓ گا وہ ۔۔۔۔ مسز خانزادہ کی انکھ میں آنسو اور لہجے میں کرب تھا ۔۔۔ وہ ہاتھ جوڑے ہانیہ سے معافی مانگ رہیں تھیں ۔۔۔۔ ہانیہ نے جلدی نے ان کے ہاتھ تھامے اور بولی ۔۔۔

“پلیز آنٹی , بھول جائیں سب , میں نے اپ کو معاف کیا , اور تسلی رکھیں میں کبھی انہیں اس بات کا طعنہ نہیں ماروں گی ۔۔۔۔

“شکریہ تمہارا , اگر اس قابل سمجھو تو ولید کی طرح مجھے مام کہو , مجھے اچھا لگے گا ۔۔۔ انہوں نے پیار سے التجا کی ۔۔۔۔

“آنٹی ایک شرط پر ۔۔۔ ہانیہ نے سیریس ہوکر کہا ۔۔۔

“کیسی شرط ۔۔۔۔ انھوں نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

“اب آپ ہمیشہ یہی پر ہمارے ساتھ رہیں گی بلکہ کوشش کریں گے کہ انکل بھی یہاں آ جائیں , اولاد کتنی بھی بڑی ہو جائے اسے ماں باپ کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے ۔۔۔ ولید کو اپ لوگوں کی ابھی بھی ضرورت ہے ۔۔۔۔ ہانیہ کے کہنے پر انہوں نے شدت سے اسے گلے لگالیا ۔۔۔

“مجھے تمہاری سب شرطیں منظور ہیں ۔۔۔ انہوں نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا ۔۔۔۔

“تھینک یو مام ۔۔۔ ہانیہ نے بھی محبت سے کہا ۔۔۔

ولید قبرستان سے واپس ایا اور دیکھا کہ , مام کے کمرے میں دونوں ساتھ بیٹھیں چاۓ پی رہیں تھیں اور ان کی باتیں زور و شور ہورہیں تھیں ۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا اپنے کمرے کی طرف گیا کپڑے بدلنے ۔۔۔۔

دل سے بوجھ سرکتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔ اج اس کی زندگی کا خوبصورت دن تھا جس دن وہ اپنے دل کو ہلکہ پھلکہ محسوس کررہا تھا ہر بوجھ سے آزاد ہوگیا تھا وہ ۔۔۔۔

@@@@@@@@@

چند دنوں کے بعد ہانیہ نے ایک بیٹی کو جنم دیا جس کا نام ولید نے انمول ولید خانزادہ رکھا تھا ۔۔۔ سب کو نام پسند ایا ۔۔۔ بچے بےانتہا خوش ہوۓ ۔۔۔ مسٹر اور مسز خانزادہ بہت خوش ہوۓ تھے ۔۔۔

ثوبان اور صبا کو اللہ نے بیٹے کی نعمت سے نوازا تھا ۔۔۔ جس کا نام فضل رکھا تھا انہوں نے ۔۔۔

یسرا بیگم ہانیہ کو کچھ دن کے لیۓ لائیں تھیں اپنے گھر تاکہ اس کا خیال کرسکیں , رانیہ بھی آئی ہوئی تھی ۔۔۔ اس کی الٹیوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری تھا ۔۔۔ ابھی بھی الٹی کرکے بیٹھے تھی کہ سعاد نے کہا ۔۔۔

“اب کیا خیال ہے ہانیہ کی بات پر عمل کریں گے یا نہیں ۔۔۔

“مجھے معاف کرو , میری تو حالت ہوگئی ہے الٹیاں کر کرکے انتڑیان منہ کو اگئیں ہیں , میری توبہ ہے , بچے دو ہی اچھے اور ہاں جنہوں نے یہ بات کہی کہ رانیہ کے گھر ہر سال بچہ آۓ چاہے نۓ سال کا کلینڈر آۓ نہ آۓ ۔۔۔۔ وہ خود پر لاگو کریں ایسے قانوں مجھے دور ہی رکھیں ایسی فضول باتوں سے , میں نے توبہ کرلی ہے ۔۔۔۔ رانیہ نے چڑ کر کہا ۔۔۔۔

ہانیہ , صبا , ثوبان اور عباس کے منہ پھاڑ قہقہوں سے گونجنے لگا گھر ۔۔۔۔ رانیہ کا بےبسی والا چہرہ دیکھ کر سعاد کی ہنسی بھی نکل گئی ۔۔۔ ایک بار پھر سب ہسنے لگے ۔۔۔۔ زندگی بھی مسکرائی ان کو دیکھ کر ۔۔۔۔

ختم شدانمول سے بےمول

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 35

Last Episode Last Part

وہ شیشے کے سامنے بیٹھی تھی اپنے بال بنا رہی تھی اچانک ولید خانزادہ اس کے پیچھے آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ اس کی سنہری زلفوں کی خوشبو سونگھ کر اسے اگے کو رکھتا اس کے کندھے پر اپنے ہونٹ رکھے ۔۔۔ اپنے لمس سے وہ اسے شرمانے پر مجبور کر گیا ۔۔۔

“پلیز ولید ۔۔۔ ہانیہ نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔

“بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔ ولید نے بےساختہ کہا ۔۔۔

“اس حالت میں , چہرے کی رونق نہیں رہی , ناک بھی سوجی ہوئی ہے , ایسا بھاری بھرکم وجود اور اپ کہے رہے ہیں خوبصورت لگ رہی ہوں ۔۔۔ کیا خاک اچھی لگ رہی ہوں ۔۔۔ ہانیہ نے چڑ کر کہا ۔۔۔ اسے ولید خانزادہ کی تعریف خالص مبالغہ آرائی لگی ۔۔۔ وہ حسن کے معنی خوب سمجھتی تھی اس لیۓ پریگنینسی کی وجہ سے پہلے جیسی تو نہ رہی تھی ۔۔۔۔ سو اپنی تعریف ہضم نہ ہوئی اس سے ۔۔۔

“میرے بچے کی ماں بننے جارہی ہو مجھے تو تم دنیا کی حسین ترین عورت لگ رہی ہو ۔۔۔ ولید خانزادہ نے پینترا بدل کر بولا ہانیہ کی تسلی کے لیۓ ۔۔۔

“اب عورت بھی بن گئی ہوں میں ۔۔۔ ہانیہ نے آنکھیں دکھائیں ۔۔۔ ولید کا دیا اعتماد سرچڑھ کر بول رہا تھا ۔۔۔ ولید یہی تو چاہتا وہ بلکل ایسے ہی بولے جیسے ولید خانزادہ کی بیوی کو بولنا چاہیۓ ۔۔۔

“سچ کہوں , کمال کرتی ہو , کل خود کو خود ہی عورت کہے رہی تھی پر اگر غلطی سے میں کہے دوں تو تم آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتی ہو ۔۔۔ سچ میں کمال کرتی ہو ہانیہ ۔۔۔ ولید خانزادہ نے مزے سے اسے جتاکر کہا ۔۔۔

“مرد اور وہ بھی شوہر اگر عورت کہے تو پتا نہیں کیوں مرچی ہی لگ جاتی ہے بیوی کو , ولید ۔۔۔ ہانیہ نے سادگی سے کہا ۔۔۔

“تم حسین تو ہوہی پر اس پر تمہاری نزاکت اور تمہارا معیار کبھی نہیں بدل سکتا ہانیہ ۔۔۔ مجھے تم ایسی ہی اچھی لگتی ہو ناز نخرے کرتی ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اس کے ماتھے پر محبت کا لمس چھوڑتا ہوا بولا ۔۔۔

“آپ کے مرہوں منت ہے یہ انداز میرے ۔۔۔ ہانیہ نے ایک ادا سے کہا اور بالوں کو کیچر میں مقید کیا ۔۔۔

چھٹہ مہینہ چل رہا تھا ہانیہ کا , کافی بھاری وجود ہوگیا تھا پر پھر بھی ولید خانزادہ نے کہا ضروری پارٹی میں جانا ہے اس لیۓ لے جارہا تھا ۔۔۔

وہ ڈریسنگ سے اٹھ کر بیڈ پر بیٹھی اور سینڈل پہننے لگی ۔۔۔ سینڈل پہننے میں دقت ہورہی تھی اسے بھاری وجود کے کارن ۔۔۔

“میں تمہاری ہیلپ کروں ۔۔۔ ولید کو اس کی تکلیف کا احساس ہوا ۔۔۔ عورت مرد کی نسل بڑھانے کے لیۓ کتنا کچھ قربان کرتی ہے اپنا حسن , اپنی فگر یہاں تک کہ پیٹ نکلنے کی وجہ سے عورت جھک کر کئی کام نہیں کرپاتی ۔۔۔ ولید یہ احساس رکھتا تھا اس کے لیۓ ۔۔۔ ابھی بھی سینڈل کا اسٹیپ بند کرنے میں اسے دشواری ہورہی تھی ۔۔۔

ولید دوزانو بیٹھ کر اس کی مدد کرنا چاہی تو ہانیہ جلدی سے بولی ۔۔۔

“نہیں ولید پلیز مجھے اچھا نہیں لگے گا , ناراض ہوجاؤں گی ۔۔۔

اس نے ولید کے بڑھتے ہاتھوں کو دور کیا ۔۔۔ اور بولی تھی ۔۔۔ جس کے جواب میں ولید بولا ۔۔۔

“کشف کو تو اچھا لگتا تھا اس کنڈیشن میں ۔۔۔ بےساختہ اس کی زبان سے پھسلا وہ جملا ادھے میں روک تو گیا پر بات کا مطلب اور مفہوم نکل ہی چکا تھا ۔۔۔ دونوں چونکے , ہانیہ نے بروقت سنبھل کر سرسری لہجے میں کہا ۔۔۔

“کشف کے یہاں دو بچے تھے پر میرا معاملہ ایسا نہیں ۔۔۔ سو بےفکر ہوجائیں ۔۔۔

اس کے چہرے پر کوئی خاص قسم کا تاثر نہ تھا ۔۔۔ پر ولید شرمندہ ضرور ہوا تھا ۔۔۔

“سوری ہانیہ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیۓ تھے ۔۔۔ ناچاہتے ہوۓ بھی وہ اسے صفائی دے گیا شاید وہ اسے پریگنینسی کے دنوں میں کوئی ذہنی تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا اس لیۓ ۔۔۔

“آئیندہ اگر مجھے اپ نے اس بات کے لیۓ سوری کی یا شرمندگی کا اظہار کیا تو سچ میں ناراض ہوجاؤں گی ۔۔۔ کشف کی حقیقت سے انکار کرنا سراسر بےوقوفی ہی ہوگی اگر اپ اس سے واقعی پیار کرتے ہیں تو اپ کتنا بھی خود کو روکنا چاہیں کسی نہ کسی بات میں اس کا ذکر آنا ایک عام بات ہے ۔۔۔

ہانیہ کی بات پر وہ اسے تشکر سے دیکھنے لگا اور جب بولا تو اس کے لہجے میں سچائی تھی ۔۔

“ہانیہ مجھے تم سے بھی محبت ہے , کیا اعتبار ہے تمہیں ۔۔۔

“بلکل مجھے اعتبار ہے ولید ۔۔۔جب ایک ماں باپ کے دل میں اپنے سب بچوں کے لیۓ محبت ہوسکتی ہے , ایک اولاد کے دل میں دونوں ماں باپ کے لیۓ تو پھر ایک مرد کے دل میں اپنی دونوں بیویوں کے لیۓ عزت محبت عقیدت کیوں نہیں ہوسکتی ۔۔۔ ہانیہ نے سکون سے کہا ۔۔۔

“تم واقعی چاہے جانے کے قابل ہو ہانیہ , مجھے اور میرے بچوں کو اپنا گرویدہ کرچکی ہو …

“میرے نہیں ہمارے بچے جملا درست کرلیں ۔۔۔ ہانیہ نے جتایا ۔۔۔

“واقعی سخت استانی ہو تم ۔۔۔ جملے خوب پکڑ لیتی ہو ۔۔۔ ولید نے کہا ۔۔۔

“وہ تو ہوں ۔۔۔ ہانیہ مزے سے بولی ۔۔۔

“اچھا ایک بات پوچھوں ۔۔۔ ولید نے کچھ لمحوں کے بعد کہا ۔۔۔ اب تک وہ سینڈل پہن چکی تھی ۔۔۔ وہ اس کے پاس بیٹھا تھا بیڈ پر ۔۔۔

“پوچھیں ۔۔۔ ہانیہ نے اجازت دی ۔۔۔

“تمہیں کیا چاہیۓ بیٹا یا بیٹی ۔۔۔ ولید نے پوچھا ۔۔۔

“مجھے بیٹی چاہیۓ ولید ۔۔۔ ہانیہ کے اتنا جلدی کہنے پر ولید حیران ہوا ۔۔۔ اس کی حیرت دیکھتے ہوۓ ہانیہ پوچھے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔

“اس میں حیرانگی کی کیا بات ہے ۔۔۔ جو اپ اتنا حیران ہورہے ہیں ۔۔۔ ہانیہ نے اس کی حیرت دیکھتے ہوۓ پوچھ بیٹھی ۔۔۔

“کیونکہ تم دنیا کی پہلی لڑکی ہو جو پہلی اولاد بیٹی چاہتی ہے جب کہ زیادہ تر عورتیں سب کو پہلا بیٹا مانگتے سنا ہے ۔۔۔

“ویسے سہی سنا ہے آپ نے بلکل ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔ پر اللہ نے مجھے دو بیٹے دے دیۓ ہیں اب بس بیٹی کی کمی ہے ۔۔۔ مجھے لگتا ہے حنان منان بھی بہن کو پاکر ہی خوش ہونگے ۔۔۔

“یہ تم بلکل ٹھیک کہا ۔۔۔ اگر بیٹا ہوا تو پھر لڑ پڑیں گے اور دوسرا بھی پھر جلدی کرنا پڑے گا ۔۔۔ ولید نے مزاحیہ انداز میں کہا جس پر ہانیہ نے آنکھیں دکھائیں ۔۔۔۔

“اللہ کو مانیں , صرف پیدا نہیں کرنے پالنے بھی ہیں ۔۔۔ آئندہ مجھ سے ایسی فضول گوئی سے پرہیز کیجیۓ گا ۔۔۔ ہانیہ کے تیور دکھانے پر ولید خانزادہ ہنس ہی پڑا ۔۔۔

جانے کیوں ولید خانزادہ کو ہانیہ کی اس بات نے بےانتہا خوش کیا جب اس نے کہا اسے بیٹی چاہیۓ ۔۔۔ اگر وہ بیٹا کہتی تو ولید خانزادہ کو شاید دکھ ہوتا کہ وہ اس کے اولاد میں فرق کررہی ہے اس لیۓ بیٹے کی خواہش کررہی ہے ۔۔۔ اج ولید خانزادہ کی نظروں میں وہ اونچے تخت پر براجمان ہوگئی تھی اپنی کہی ایک بات سے ۔۔۔ یہ کہنے میں اسے کوئی عار نہ تھا ہانیہ جتنی اعلیٰ ظرف لڑکی اس نے کبھی نہ دیکھی تھی ۔۔۔ جتنا وہ اس سے امپریس ہوا تھا دنیا میں کبھی بھی کوئی بھی عورت اسے نہ کرسکی تھی ۔۔۔

ولید خانزادہ یوں تو خود کو بہت سمجھدار سمجھتا تھا پر شاید عورت کے ظرف کا وہ اندازہ نہیں کرسکا تھا ۔۔۔ عورت جب کوئی قربانی دیتی ہے تو اس میں حد نہیں رکھتی پھر جیسے ہانیہ نے اس رشتے میں ولید اور بچوں کے ساتھ ساتھ کشف کو ایک زندہ حقیقیت کی طرح قبول کرچکی تھی اس لیۓ اب کوئی بات اس کے لیۓ معنی نہیں رکھتی تھی ۔۔۔

“چلیں ولید ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔ ہانیہ کی آواز اس کی سوچ کے تسلل کو توڑچکی تھی ۔۔۔ وہ سنبھل کر جلدی سے بولا ۔۔۔

“ہمممم چلو ۔۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے ۔۔۔ باہر بچوں نے دونوں کو اس طرح اتے دیکھ کر وسل ماری یہ شرارت ہمیشہ کی طرح منان نے پہل کی تھی پھر حنان نے ۔۔۔

جھینپ کر ہانیہ نے ہاتھ چھڑانا چاہا پر ولید خانزادہ اور مضبوطی سے تھام گیا ۔۔۔ اور بولا “چھوڑنے کے لیے نہیں تھاما ہے مسز ولید خانزادہ ۔۔۔

بچے اپنے ماں باپ کے اس مکمل منظر کو دیکھ کر بےانتہا خوش ہورہے تھے ۔۔۔۔

“سدھرجاؤ تم دونوں ۔۔۔ ہانیہ نے کہا بچوں سے ۔۔۔

“یس ماما ۔۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ نعرہ لگایا ۔۔۔ جس پر وہ دونوں مسکراتے ہوۓ دروازے کی طرف بڑھے بچوں کو اللہ حافظ کہے کر ۔۔۔

@@@@@@@@@@

وہ اور سعاد , فائز کے پیلس میں بیٹھے تھے ۔۔۔ سعاد نے فائز کا شکریہ ادا کرنا چاہا تو فائز نے ان کو دعوت دے دی یہ کہے کر “اب جب کہ وہ پاکستاں جارہے ہیں ہمیشہ کے لیۓ تو کیوں نا انہہں ایک موقعہ دیں مہمانوازی کا ۔۔۔

سعاد نے رانیہ سے اس کی راۓ لی اور اس کی سنتے ہوۓ وہاں جانے پر راضی ہوگیا اور اس وقت وہ ان کے شاہی انداز کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔۔۔

ابھی وہ کھانے سے فارغ ہوکر پیلس گھوم رہے تھے فائز کے ساتھ تو اچانک تیمور شاہ آۓ ان سے ملے اور خاص کر رانیہ کر سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ سعاد کو خوشی ہوئی تیمور شاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے ایک بار پھر معافی مانگ لی ۔۔۔۔ جس پر سعاد نے کھلے دل سے معاف کیا ۔۔۔

“میں دل سے شرمندہ ہوں سعاد جو میری وجہ سے اتنی تکلیف ہوئی اپ کو یہ جاب چھوڑنی پڑی ۔۔۔ اب اگر کبھی بھی میرے لائق کوئی کام ہو تو ضرور کہیۓ گا اپ لوگوں کے کام اکر دل کو سکوں ملے گا میرے ۔۔۔ شکریہ آپ کا مسز سعاد جس کے بلند اخلاق اور کردار نے میرا بیٹا مجھے لوٹا دیا ۔۔۔ تیمور شاہ نے دل سے شرمندگی کا اظہار کیا اور آخر میں رانیہ کو سراہنا نہ بھولے ۔۔۔

“اٹز اوکے سر , واقعی میری بیوی متاثرکن صلاحیتوں کی مالک ہے ۔۔۔ سعاد نے رانیہ کی تعریف کھلے دل سے کی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ جس پر وہ آنکھیں دکھانے لگی پر سعاد ڈھیٹ بنا رہا ۔۔۔

رانیہ کے چہرے پر شرم و حیا تھی ۔۔۔ فائز نے اس کے دائمی خوشیوں کی دعا کی اور اج پہلی دفعہ اسے سہی معنوں وہ خوش لگی تھی ۔۔۔

فائز کا نظر چرانا سعاد کی گہری نظروں سے چھپ نہ سکا جبکہ رانیہ کی بےنیازی عروج پر تھی ۔۔۔ اس کے کسی انداز سے ظاہر نہ تھا کہ وہ فائز کی محبت سے اگاہی رکھتی ہے یا نہیں ۔۔۔

تیمور شاہ نے ان کو تحفے دیۓ جاتے ہوۓ تو سعاد اور رانیہ نے بھی ان کو تحائف دے کر فائز کا شکریہ ادا کیا ۔۔۔ دونوں باپ بیٹا ان دونوں کو دروازے تک چھوڑنے آۓ تھے ۔۔۔ یوں ایک خوبصورت شام کا اختام ہوا ۔۔۔

@@@@@@@@@@

“سعاد ہم اٹلی جارہے ہیں کیا ۔۔۔ رانیہ نے حیرت سے کہا ۔۔۔ اسے ایئرپوٹ پر اکر ہی پتا چلا تھا ۔۔۔

“ہمممم ہنی مون منانے , ویسے ہنی مون تو نہیں کہے سکتے ہیں ۔۔۔ کیونکہ جو شادی کے شروع میں ہو وہی ہنی مون کہلاتا ہے ۔۔۔۔ ہم تو کافی لیٹ ہوگۓ ہیں ۔۔۔ سعاد نے خود ہی خود کی بات کو رد کیا ۔۔۔ پر خوشی اس کے ہر انداز میں تھی ۔۔۔ اس کا بدلاؤ رانیہ کو بہت اچھا لگا ۔۔۔

وہ حیران ہورہی تھی اس کی بات سن کر ۔۔۔۔

“بس سمجھو تمہارے ساتھ گھوم کر اچھا وقت گزارنا چاہتا ہوں پھر پاکستان جاکر تم مجھے کہاں ملنے والی ہو ۔۔۔ سعاد نے ایسے کہا جیسے بڑی پتے کی بات کہی ہو ۔۔۔

“یہ تو سچ ہے وہاں جاکر میں بھول نہ جاؤں اپ کو ۔۔۔ رانیہ نے منہ بناتے ہوۓ کہا ۔۔۔ اب بمشکل ہی اس کے ہونٹوں سے ہنسی جدا ہوتی تھی ۔۔۔ رانیہ نے انکھ دبا کر شرارت سے کہا تھا ۔۔۔

“اس لیۓ سوچا ہے یہیں سے بندوبست کرکے جاؤں گا جناب مجھے نہ بھول سکے وہاں جاکر اتنے پیارے لوگوں کے بیچ ۔۔۔ سعاد نے شان بےنیازی سے کہا ۔۔۔

“کیا مطلب ۔۔۔۔ رانیہ نے حیرت سے کہا ۔۔۔

“مطلب بھی سمجھ ہی جاؤگی جب الٹیاں ہونگی ۔۔۔ سعاد نے مزے سے کہا ۔۔۔

“سعاد اپ بھی نہ ۔۔۔ رانیہ نے آنکھیں دکھائیں ۔۔۔

“جناب اب کئی ملک گھومنے جانا ہے پھر پاکستان کی سرزمیں پر قدم رکھیں گے ۔۔۔ سعاد نے مزید اس کی معلومات میں اضافہ کیا ۔۔

وہ اس کی پلاننگ سن کر حیران ہوئی ۔۔۔

وہ خوش بھی ہوئی اور ساتھ ہی فکر سے کہا ۔۔۔۔

“ہم نے امریکہ سے اتنی شاپنگ کی تھی سب کے لیۓ اتنا سارا سامان لے کر گھومنا مشکل ہوگا سعاد ۔۔۔

“سامان پاکستان جاچکا ہے جناب , ہم اٹلی کی فلائیٹ میں صرف اپنے مین بیگز کے ساتھ جارہے ہیں ۔۔۔ سعاد نے بتایا ۔۔۔

“اوہ تب ہی آپ نے اپنی زیر نگرانی میں مجھ سے پیکنگ کروائی ۔۔۔ رانیہ نے یاد آنے پر کہا ۔م۔

“جی جناب ۔۔۔ وہ شوخ ہوا ۔۔۔

“یہ کیا جناب جناب لگا رکھا ہے ۔۔۔ رانیہ نے چڑ کر کہا ۔۔۔ دونوں میں کافی بےتکلفی ہوگئی تھی جس میں زیادہ سعاد کا ہی ہاتھ تھا ۔۔۔

“مجھے مزا اتا ہے تمہیں روز نۓ نۓ انداز میں مخاطب کرنے میں ۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔

“شکر ہے یہ نہیں کہا روز روز نیا نیا چہرا چاہیۓ مجھے ۔۔۔ رانیہ نے شرارتی انداز میں کہا ۔۔۔

“لاحول پڑھو , اب ایسا بھی رنگین مذاج نہیں میرا ۔۔۔ سعاد برا مانتے ہوۓ بولا ۔۔۔ جس پر رانیہ کا قہقہ بلند ہوا ۔۔۔

ابھی ان کی فلائیٹ میں ٹائم تھا اس لیۓ دونوں ویٹنگ ایریا میں ایک سائیڈ بیٹھے تھے۔۔۔ ان کی ہنسی مذاق پر کچھ لوگ پلٹ کر اس کپل کو دیکھ لیتے اور مسکرا کر گزرجاتے ۔۔۔ سعاد اور رانیہ بغیر کسی کی پرواہ کے اپنی ہی ہانکے جارہے تھے ۔۔۔

“اچھا , پاکستان جانے دیں وہاں جاکر سب کو بتاؤں گی میرا شوہر کیا چیز ہے ویسے ہی رعب ڈالنے کے لیۓ سوبر بنتے ہیں ویسے ہیں وہ بلکل نہیں ۔۔۔ رانیہ نے دھمکایا ۔۔۔

“ہاں ہاں ضرور بتانا اور یہ بھی بتانا کتنا رومینٹک ۔۔۔ سعاد نے مزے سے کہا تو رانیہ نے جلدی اس کی بات کاٹ کر کہا ۔۔۔

“سعاد ایسے بولیں گے تو ماروں گی ۔۔۔۔ رانیہ نے کہا ہاتھ دکھایا ۔۔۔ اور وہ اس کا ہاتھ تھامتا چوم گیا ۔۔۔ جس پر وہ ڈھٹائی سے ہسنے لگا ۔۔۔ سعاد نے کہا “تمہارا یہ لمس بھی منظور ہے ڈارلنگ ۔۔۔

“سعاد یہ پبلک پلیس ہے ۔۔۔ رانیہ نے یاد دلایا ۔۔۔

“تو کیا ہوا پکا پرمٹ ہے میرے پاس کوئی کچھ کہے تو سہی , بندہ اپنی بیوی کے ساتھ بھی رومینس نہ کرے تو کس کے ساتھ کرے ۔۔۔ سعاد کے لہجے میں جوش تھا ۔۔۔

“سعاد اپ بھی نہ ۔۔۔ وہ لاجواب ہوئی ۔۔۔

یوں دونوں ایک نۓ سفر پر روانہ ہوۓ , اک ایسا سفر جس میں دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اچھا وقت گزار کر گزرے دنوں کی تھکن اتارنی تھی ۔۔۔ دونوں خوش تھے اپنی زندگی کے اس موڑ سے ۔۔۔۔ ویسے بھی سعاد نے امریکا میں اپنا سب کچھ بیچ دیا تھا جس میں اللہ نے مدد کی سب کچھ اچھے دام سے بک گیا تھا ۔۔۔ کافی ساری اس کے پاس سیونگ بھی تھی ۔۔۔ اس لیۓ اس نے سوچا جو چلا گیا وہ وقت اسے واپس تو نہیں لاسکتا پر کم ازکم آنے والا وقت حسین تریں بنانے کی کوشش میں ہلکان تھا ۔۔۔ جو وقت مصروفیات میں رانیہ کو دینا بھول گیا وہ دوبارہ دینا چاہتا تھا ۔۔۔

@@@@@@@@@@

آج سعاد اور رانیہ کی دعوت تھی گھر پر , انہیں پاکستاں آۓ تین دن ہوچکے تھے ۔۔۔ اہک مہینے سے زیادہ کے ٹرپ میں کئی ممالک سعاد اسے گھما چکا تھا ۔۔۔ آخر تھک کر رانیہ نے ہی بسسس کہا ورنہ سعاد اسے پورا یورپ گھمانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔ اور ویسے بھی ٹرپ کے لاسٹ ویک میں اسے اپنی گری گری طبیت محسوس ہورہی تھی ۔۔۔ چیک کروانے پر ڈاکٹر نے بتایا وہ ایکسپیکٹ کررہی ہے ۔۔۔ دونوں بےانتہا خوش ہوۓ ۔۔۔

پاکستان انے کے اگلے دن اس کی گری طبیت کو دیکھ کر نایاب نے شک ظاہر کیا جس پر سعاد نے بتادیا ۔۔۔ پھر تو خوشی کی لہر ہی دوڑ گئی دونوں خاندانوں میں ۔۔۔ سب بےانتہا خوش تھے ۔۔۔

آج شاندار طریقے سے سعاد اور رانیہ کو ویلکم کیا گیا پھول برسا کر ۔۔۔ سب موجود تھے ہانیہ اور ولید خانزادہ اور ان کے دونوں بچے ۔۔۔ صبا اور ہانیہ کا آخری مہینہ چل رہا تھا ۔۔۔ دونوں کے بچے اگے پیچھے ہی انے تھے ۔۔۔

دونوں نے کیک کاٹا ۔۔۔ سب دونوں کو دیکھ کر خوش ہورہے تھے ۔۔۔ رانیہ کتنی دیر یسرا بیگم کے گلے لگ کر ان سے پیار وصول کرتی رہی ۔۔۔ احد صاحب بھی بہت پیار سے ملے , دونوں کے کسی انداز سے ظاہر نہ ہورہا تھا کہ وہ کبھی رانیہ سے ناراض بھی تھے ۔۔۔ جس ناراضگی کا بوجھ وہ اپنے سینے پر لیۓ چلتی رہی تھی , ایسا کچھ بھی نہ تھا , رانیہ کو سمجھنے میں دیر لگی ماں باپ اپنی بیٹیوں سے ناراض نہیں ہوا کرتے ۔۔۔ سب اپنے اپنے انداز سے بتارہے تھے کہ رانیہ کو کب کب کس کس وقت یاد کرتے تھے ۔۔۔۔ وہ مسکرا کر سن رہی تھی ۔۔۔۔ اپنے چاہے جانے پر مسکرا رہی تھی وہ انمول تھی اپنوں کے لیۓ اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہوگی رانیہ کے لیۓ ۔۔۔

ایسا لگ رہا تھا زندگی مکمل ہوگئی ہو جیسے ۔۔۔

سعاد سے ٹھرنے کی اجازت مانگی رانیہ نے جس پر سعاد نے دل سے کہا “وہ ٹھرسکتی ہے ۔۔۔

رانیہ کے ٹھرنے کا سن کر ولید نے خود ہی ہانیہ کو کہا “وہ ٹھرنا چاہے تو ٹھر سکتی ہے رانیہ کے لیۓ ۔۔۔ سب حیران ہی ہوۓ ولید کے کیئرنگ انداز پر ۔۔۔

“سعاد سیکھیں سیکھیں ولید بھائی سے , کیسے بیوی کی کیئر کی جاتی ہے ۔۔۔ رانیہ نے لتاڑا ۔۔۔ جس پر ثوبان اور صبا مسکراۓ ۔۔۔

“جب ولید بھائی کلاسس دیں , میں لینے اجاؤں گا ۔۔۔ سعاد نے رانیہ کے انداز میں ہی جواب دیا سرخم کرتے ہوۓ ۔۔۔ ولید بھی مسکرایا اس کے انداز پر ۔۔۔ سعاد نے رانیہ کے ساتھ وقت گزار کر کافی حد تک رانیہ کے شوخیہ رنگ اس پر بھی اثر کرگۓ تھے وہ بھی اسی کے انداز میں بات مزاحیہ انداز میں کرتا ۔۔۔

“اف سعاد بھائی اپ کو دیکھ کر کون کہے سکتا یہ وہی کھڑوس سا سعاد ہے جس کی ناک پر بیزاریت رہتی تھی اپنی ہی شادی میں ۔۔۔ ہانیہ نے کہا جتاتے لہجے کے انداز میں پر چہرے پر شرارتی تاثر بھی تھا ۔۔۔

“بلکل سہی کہا تم نے ہانیہ ۔۔۔ صبا نے تصدیق کی ۔۔۔

“ویسے لیڈیز پاکستان کی شادیوں میں اج بھی میں بیزار ہی رہوں گا کیونکہ مجھے جھنجھٹ لگتی ہیں پاکستانی شادیاں ۔۔۔ سعاد نے کندھے اچکا کر اپنے دل کی بات کہی ۔۔۔ ویسے بھی کچھ عادتیں کبھی بدل نہیں سکتیں یہ بات رانیہ بھی سمجھ سکتی تھی ۔۔۔ پر سعاد نے اب تک جو عزت مان اور محبت دی تھی اس نے رانیہ کو واپسی کی طرف لانے میں کافی مدد کی تھی ۔۔۔ اج اس لمحے یہ بات محسوس کرنے والی تھی کہ ہر لڑکی کو شادی بدلتی ہے اس پر وہی رنگ روپ چڑھتا ہے جو رنگ روپ اس کا شوہر اس کے لیۓ انتخاب کرتا ہے ۔۔۔ شادی بعد لڑکی کا ہر رنگ روپ اس کے شوہر کی مرہون منت ہوتا ہے وہی اسے سنوارتا ہے وہی اسے نکھارتا ہے ۔۔۔

یوں ہانیہ اور بچے بھی ٹھرگۓ کیونکہ بچے ماں کے بغیر جانے کو راضی نہ تھے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے بخوشی اجازت دے دی ۔۔۔۔

@@@@@@@@@@

“تم کیا کررہی ہو اس وقت کچن میں ۔۔۔ ثوبان نے کہا صبا کے پیچھے اکر ۔۔۔ ویسے بھی گھر کا کام اس سے چھڑوایا ہوا تھا کیونکہ آخری مہینہ چل رہا ہے تھا اس کا ۔۔۔ اس وقت رات کا ایک بج رہا تھا اب بچے سوگۓ تھے اور گھر کے بزرگ مرد حضرات بھی ۔۔۔ صرف یہ ینگسٹر اور عورتیں ہی جاگیں ہوئیں تھیں ۔۔۔

“سب ساتھ بیٹھے ہیں اج کافی وقت بعد , خاص کر رانیہ اور ہانیہ دونوں ہیں اس لیۓ سوچا چاۓ بنالوں سب کے لیۓ تاکہ زیادہ دیر جاگ کر باتیں کریں۔۔۔ صبا نے خوشی سے کہا ۔۔۔ ثوبان بغور اسے سنتا رہا اپنے انتخاب پر فخر ہوا اسے , صبا گھر کو جوڑے رکھنے والی , خود سے زیادہ دوسروں کی پرواہ کرنے والی لڑکی تھی , اس کا حسن اس کا خوبصورت دل ہی تو تھا جس سے ثوبان کو عشق ہوا تھا ۔۔۔ جسے اس کے شوہر نے بھرپور اعتماد دے کر انمول ہونے کا احساس دیا تھا ۔۔۔

“کتنے وقت بعد یہ وقت ایا ہے سب ساتھ ہیں ۔۔۔ صبا نے ایک بار پھر کہا ۔۔۔

“ہاں یہ تو ہے , پر پھر بھی مجھے کہے دیتی میں بنالیتا ۔۔۔ تم پلیز کوئی کام نہ کیا کرو ۔۔۔ ثوبان نے اس کے ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“اوکے نہیں کروں گی اج کرلینے دیں اور جاکر بیٹھیں ورنہ سب یہاں نہ اجائیں ۔۔۔۔ صبا نے دھمکایا ۔۔

“کوئی نہیں اتا , سب خوش گپیوں میں مصروف ہونگے ہم یہاں مل کر نپٹا لیتے ہیں کام ۔۔۔ ثوبان نے جوش جذبات میں اپنی خدمات پیش کیں ۔۔۔

“پلیز جائیں کوئی اجاۓ گا اچھا نہیں لگتا کہ ۔۔۔۔ صبا ابھی اپنی بات مکمل ہی نہ کرپائی کہ رانیہ اور ہانیہ کے قہقہے نے ان دونوں کو چونکایا ۔۔۔

“ہم تو یہیں کھڑے ہیں صبا آپی , ثوبان بھائی کی زن مریدی سنی تھی اج دیکھ بھی لی میں نے ۔۔۔ سچ مزا اگیا دل ہی خوش ہوگیا ۔۔۔ رانیہ نے چہک کر کہا اور جلدی جانے لگی کچن سے ۔۔۔

“چڑیا تمہاری تو ۔۔۔ ثوبان نے اسے پکڑا اور کہا ۔۔۔

“اب تم بناؤگی چاۓ چلو ۔۔۔ اسے پکڑ کر چاۓ کی دیگچی کے پاس کھڑا کیا اور صبا کو اپنے قریب کھینچ لیا ۔۔۔ صبا انکاری ہوئی پر اس کی سننے والا کون تھا اس کی منمناتی اواز کہ “رانیہ کو بخشو وہ کوئی کام نہیں کرے گی ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اس کی سنی ہی نہیں گئی ۔۔۔

“چلو صبا آپی ہم چلتے ہیں خود ہی ہماری مانو بنالے گی چاۓ ۔۔۔ امریکا میں رہ کر ہم سب سے زیادہ سگھڑ ہوگئی ہے ہماری مانو ۔۔۔ ہانیہ جو کچن کے دروازے کے پاس کھڑی تھی اندر اکر بولی اور صبا کے ساتھ کھڑی ہوگئی ۔۔۔ ثوبان بھی مسکرایا ہانیہ کی بات پر ۔۔۔

“ہانیہ اپی اپ بھی ان کے ساتھ مل گئیں ۔۔۔ رانیہ نے آنکھیں دکھائیں ۔۔۔

“چلو شاباش ہماری چڑیا چاۓ بناکر آؤ ہم تو چلے , پتا تو چلے دوسروں کا رومینس خراب کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے ۔۔۔ ثوبان نے کہا ۔۔۔ صبا روکتی رہی پر ثوبان اور ہانیہ اسے لے کر باہر جانے لگے ۔۔۔

“اچھا فاؤل ہے یہ , میں امریکا سے آئی ہوں ایک رات ہی بندہ پروٹوکل ہی دے دے ظالموں کچھ تو رحم کرو ۔۔۔ رانیہ نے دہائی دی کسی نے خاک بھی توجہ نہ دی ۔۔۔

ابھی اس نے دیگچی کی طرف منہ ہی کیا کہ چاۓ کی سمیل سے ابکائی آئی ۔۔۔ اور وہ باہر کو بھاگی ۔۔۔ ثوبان اور ہانیہ اس کے پیچھے گۓ ۔۔۔ جبکہ صبا نے چاۓ کی طرف رخ کیا ۔۔۔

ہانیہ نے سعاد کو کال لگائی تاکہ پوچھ سکے اس کی دوائیوں کا جو شاید گاڑی میں ہی رہ گئیں تھیں ۔۔۔

سعاد اب وڈیو کال پر بات کررہا تھا اس کا حال احوال پوچھ رہا تھا ساتھ ساتھ کار ڈرائیو کرکے میڈیسن دینے آرہا تھا ۔۔۔ کچھ دیر میں صبا نے چاۓ کے مگ سب کے سامنے رکھے رانیہ نے جیسے کپ اٹھا کر منہ کو لگایا ۔۔۔ ایک بار پھر قے والا نمونہ ہوا ۔۔۔

وہ چیختی اٹھی تو سعاد کی ہنسی چھوٹی وڈیو کال پر ۔۔۔ سب ہسنے لگے ۔۔۔ تب تک سعاد بھی پہنچ گیا جب ہانیہ اسے لیموں پانی پلانے کی کوشش میں ہلکاں ہورہی تھی ۔۔۔ سعاد نے اسے خود دوائیں کھلائیں ۔۔۔ کھاکر کچھ ریلکس ہوئی تو ثوبان بول اٹھا ۔۔۔

“ہمیں زن مریدی کا طعنہ مارنے والی رانیہ , ذرہ بتائیں گی اپنے شوہر کو کیا کہیں گی , زن مریدی , سے کوئی تگڑا اور دھاسو لفظ ہوتو کہنا ورنہ کون اپنی نیند خراب کرکے اتا ہے بیوی کی صرف دوائیاں دینے ۔۔۔ ویسے سعاد تم نام ہی بتادیتے دوائیوں کے ہم یہیں سے لے لیتے پر اپ نے تو زندمریدی میں ٹاپ کرگۓ ۔۔۔ شاباش ۔۔۔ ثوبان بیک وقت دونوں سے مخاطب ہوا ۔۔۔ سب کے قہقے ابل پڑے اس کے ڈرامائی انداز میں کہی بات پر ۔۔۔۔

ثوبان کی بات پر رانیہ جی بھر کے شرمندہ ہوئی جبکہ سب کے قہقہے گونجے تھے ۔۔۔ سعاد بھی نظریں چرانے لگا اپنی شرمندگی پر واقعی اتنا دور سے ایا دوائیاں دینے بجاۓ اس کے نام بتادیتا ثوبان جاکر پاس سے ہی لے اتا اج کل ویسے بھی کئی فارمیسیز لیٹ نائیٹ کھلی جو رہتی ہیں ۔۔۔ جی بھر کے اپنی بےوقوفی پر شرمندہ ہوا سعاد ۔۔۔۔ ثوبان تو اس کی پینٹھ تھپ تھپا کر سراہتا رہا ۔۔۔ جس پر صبا اور ہانیہ کے قہقہے ہی گونج رہے تھے ۔۔۔۔

نازیہ بیگم ,یسرا بیگم , نائلہ بیگم تینوں ہنستی ہوئی اٹھیں تھیں کیونکہ رات بہت جو ہوگئی تھی ۔۔۔ یسرا بیگم رانیہ کو پیار کرتیں اسے ارام کی تلقین کرتیں ہوئیں اٹھیں تھیں ۔۔۔

@@@@@@@@@

“کیا ہوا ولید کچھ کہنا چاہتے ہیں آپ ۔۔۔ ہانیہ کافی دیر سے محسوس کررہی تھی کہ جیسے کچھ کہنا چاہتے ہوں پھر چپ ہوجاتے ۔۔۔

وہ اج صبح ہی اپنے میکے سے آئی تھی اور شام میں وہ اور ولید گارڈن میں چاۓ سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔۔۔ بچے سامنے ہی کھیل رہے تھے ۔۔۔

“ہمممم سمجھ نہیں ارہا کیسے کہوں , ان دنوں تمہیں ریلیکس رہنے کی ضرورت ہے پر میں تمہیں مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا پر ۔۔۔۔ کچھ کہتا وہ چپ ہوگیا ابھی ہانیہ کچھ کہتی وہ دوبارہ بول اٹھا ۔۔۔

“تمہیں تکلیف نہ ہو ۔۔۔ ولید کہے ہی رہا تھا دونوں بچوں نے اس کی بات اچک لی ۔۔۔

“ہماری مما کو کون تکلیف دے گا کسی کی اتنی ہمت ۔۔۔۔ اسی وقت لان میں کھیلتے حنان اور منان جو ان کی طرف ہی ارہے تھے باپ کی بات سن کر بول اٹھے تھے ۔۔۔۔

“ویسے تم نے اچھا بندوبست کیا ہوا ہے ہانیہ , خدائی فوجداروں کو لگایا ہوا ہے اپنی حفاظت کو ۔۔۔ تمہاری ماں کو بھلا کون تکلیف دے سکتا ۔۔۔ ولید خانزادہ کی ہنسی چھوٹی جو دونوں اس کے دائیں بائیں کھڑے تھے غصے والے تیور لیۓ گھور رہے اور جاننے کے لیۓ بےچین تھے ان کی مما کو کون تکلیف دے گا ۔۔۔ ولید خانزادہ بیک وقت تینوں سے مخاطب ہوا ۔۔۔

“دیکھ لیں میری ٹیم مضبوط ہے ۔۔۔۔ ہانیہ نے ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔

“ہاں بھئی سنا تھا دیکھ بھی لیا , بیٹوں کی ماں کے شانے مضبوط ہوتے ہیں , بسس اب میری بیٹی بھی اجاۓ تو کچھ میرا بھی فائدہ ہو ۔۔۔ دیکھ لینا بیٹیاں ہر حال میں باپ کا ساتھ ہی دیتیں ہیں ۔۔۔ پھر میرے دکھ کا احساس ہوگا تم کو ۔۔۔ ولید کے اس بےبسی کے انداز پر بچے ہسنے لگے ۔۔۔

“پاپا اگر بھائی ایا تو پھر ہمارے ٹیم اور اسٹرونگ ہوجانی ہے کیوں ماما ۔۔۔ منان نے کہا ۔۔۔

“ہاں وہ تو ہے ۔۔۔ ہانیہ نے کاندھے اچکاتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“دیکھنا اس بار بیٹی ہی ہوگی ہماری انمول ولید خانزادہ ۔۔. ولید خانزادہ کی بات پر ہانیہ بھی چونکی ۔۔۔

“پاپا اپ نے تو نام بھی سوچ لیا ۔۔۔ حنان منان نے حیرت سے کہا ۔۔۔

” ہاں کیونکہ اللہ سے اچھی امید لگانی چاہیۓ , پوچھ لو اپنی ماما سے ۔۔۔ ویسے میری بات پر تم دونوں نے کیا یقین کرنا ہے ۔۔۔ ولید نے دکھی شکل بناتے ہوۓ کہا جس پر اس کے دونوں بیٹوں نے تصدیق کرنے کے لیۓ ماں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔ جس پر ہانیہ کو ہنسی آئی اور کہا ۔۔۔

“بلکل اللہ سے اچھی امید لگانی چاہیۓ ۔۔۔ جاؤ فریش ہوجاؤ دونوں پھر پڑھنا بھی ہے ۔۔۔ ہانیہ کے کہنے کی دیر تھی اور وہ دونوں فریش ہونے کے لیۓ جانے لگے ۔۔۔

“جی ماما ۔۔۔ دونوں نے ساتھ کہا اور اندر کی طرف بڑھ گۓ ۔۔۔ ولید ان کو جاتے ہوۓ دیکھنے لگا ۔۔۔

“بات تو وہیں رہ گئی ۔۔۔ اپ کیا کہنے والے تھے ولید ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد ہانیہ نے پوچھا ۔۔۔

“میں مام کو یہاں لے کر ارہا ہوں ان کی طبیت اب ٹھیک نہیں رہتی , میں وہاں گیا تو مجھے تمہاری فکر رہے گی یہاں ہوں تو مام کے لیۓ پریشان رہوں گا ۔۔۔ ولید کے چہرے پر فکر نظر آئی ہانیہ کو ۔۔۔

“اس میں اتنی پریشانی کی کیا بات ہے , اپ جو چاہے فیصلہ کریں مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔ ہانیہ نے سکوں سے کہا ۔۔۔

“میں وہاں تمہیں لے جانا نہیں چاہتا , ان کے بہیور کا تم کو پتا ہے ۔۔۔ یہاں بھی وہ کچھ کہیں پلیز اگنور کرلینا , میں اس حالت میں تمہیں پریشانی دینا نہیں چاہتا ۔۔۔ ولید نے اپنی فلر کی وجہ بتائی ۔۔۔

“ولید میں ٹھیک ہوں , اپ فکرمند نہ ہوں , آۓ کین مینیج , اگر حالات خراب ہوۓ تو چلی جاؤں گی اپنے پیرینٹس کی طرف ۔۔۔ ہانیہ نے مناسب لفظوں میں اس کی فکرین دور کرنا چاہی ۔۔۔

“ایسی بات پھر کبھی مت کہنا , تمہارا گھر ہے تم کہیں نہیں جاؤگی , بس اتنا سمجھ لو وہ اپنی بھانجی کی جگہ کسی کو برداش نہیں کرسکتیں ۔۔۔ اگنور کرلینا وہ میری ماں ہے اتنا سوچ کر ۔۔۔ ولید نے مختصر لفظوں میں ماں کے رویۓ کی وجہ بتائی ۔۔۔

“ڈونٹ وری , جیسا اپ چاہتے ویسا ہی ہوگا ۔۔۔۔ ہانیہ نے خوش اخلاقی سے کہا ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اس کے ماں باپ کو اتنا مان اور عزت دی ہے ہمیشہ وہ چاہ کر بھی کبھی اس کے ماں باپ کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔

ولید خانزادہ مطئمن ہوا اس کی طرف سے ۔۔۔

یوں تو ولید خانزادہ کی ماں کو جب سے دل کا مض ظاہر ہوا تھا تب سے آہستہ آہستہ اس نے بزنس سے ہاتھ کھینچ لیا ۔۔۔ وہ گھر بیٹھنے لگیں ۔۔۔ جمیل خانزادہ کی بزنس کی مصروفیات کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہونے لگیں تھیں , اپنے بیٹے سے ضد کرنے لگیں کہ وہ یہاں اکر رہے جس پر ولید نے اپنی مجبوریاں بتاکر انہیں یہاں انے کا مشورہ دیا ۔۔۔ یوں ان کا یہاں انے کا پروگرام بن گیا ۔۔۔

@@@@@@@@@@

وہ جو اتنا آسان سمجھ رہی تھی ولید خانزادہ کی ماں کو برداش کرنا اتنا آسان نہ تھا ۔۔۔ وہ زبان سے ایسے وار کرتیں ہانیہ ان کا منہ دیکھتی رہ جاتی ۔۔۔ اتنی ایجیوکیٹیڈ عورت اور یہ انداز ہانیہ کے تصور میں بھی نہ تھا ۔۔۔

کل ہی وہ اسے ولید کے سامنے کہے رہیں تھیں کہ “ان ہی مڈل کلاس طریقوں سے میرے بیٹے اور پوتوں کو دیوانہ کیا ہوا ہے تم نے ۔۔۔

“پلیز مام ۔۔۔ ولید نے کہا ۔۔۔

“جی آنٹی سہی کہا اپ نے , اور مجھے میرے مڈل کلاس ہونے کا کوئی کامپلیکس بھی نہیں ۔۔۔ ہانیہ کی بات پر وہ تلملا اٹھیں ۔۔۔

“پلیز اپ دونوں چپ کرجائیں کھانا سکوں سے کھالینے دیں ۔۔۔ ولید نے چمچ پٹخ کر کہا ۔۔۔ بچے الگ حراسان تھے اس ماحول میں ۔۔۔

ہانیہ خاموش ہوگئی پر ولید کی ماں خاموش نہ ہوئیں ۔۔۔

ولید ضبط کرتا رہ گیا ۔۔۔

وہ بات بے بات اسے طعنے مارنا اپنا فرض اولیں سمجھنے لگیں تھیں ۔۔۔ کل کشف کی برسی تھی اس لیۓ اپنی ماں کے کہنے پر گھر پر ہی قران خوانی کا انتظام رکھ لیا تھا ولید خانزادہ نے ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اونچے پیمانے پر خیرات کا انتظام کیا تھا ولید خانزادہ نے ۔۔۔

پر ہانیہ نے ولید سے اجازت لے کر رات کو بارہ بجے ہی اپنے بیٹوں کی سالگراہ کا انتظام کرلیا تھا ۔۔۔۔ بچے بےانتہا خوش ہوۓ تھے اپنی سالگراہ کے سرپرائز ملنے پر ۔۔۔ مسز جمیل خانزادہ حیران ہی ہوئیں اس لڑکی پر جو حنان اور منان کی کسی خوشی پر کمپرومائیز کرنے پر تیار نہ تھی ۔۔۔

رات کے بارہ بجے سرپرائز کرکے ان کو جگایا ولید اور ہانیہ نے جس پر بچے حیران بھی ہوۓ اور خوش بھی ۔۔۔ پھر نیچے لے جاکر کیک کاٹا جہان ان کی دادی ان کا انتظار کررہی تھی ۔۔۔
پھر بچوں نے کیک کاٹ کر سب سے پہلے ہانیہ کو کھلایا ولید مسکرارہا تھا جبکہ اس کی ماں سلگتی نظروں سے دیکھتی رہی ہانیہ کو ۔۔۔ ان سے برداش نہ ہوا بچوں کا اتنا جھکاؤ ہانیہ کی طرف ۔۔۔

سب سے آخر میں بچوں نے اپنی دادی کو کھلایا ۔۔۔

@@@@@@@@@@

اگلی صبح گھر میں کافی رش ہوا تھا ۔۔۔ ولید بھی کافی مصروف تھا ۔۔۔ ہانیہ انے والے مہمانوں سے اچھی طرح مل رہی تھی ۔۔۔ پھر قران خوانی کا دور چلا جن لوگوں نے قرآن پڑھنا چاہا پڑھا کچھ عورتیں خوش گپیوں میں مصروف رہیں ۔۔۔ ہانیہ کے ماں باپ بھی آۓ ہوۓ تھے ۔۔۔ ہانیہ کے ماں باپ کے ساتھ بھی اس کی ساس نے سیدھے منہ بات نہ کی تھی ۔۔۔ ہانیہ کی سمجھ سے باہر آخر کس بات کی اتنی پرابلم ہے ان کو اس سے ۔۔۔

دن کے چار بجے تک سب مہمان روانہ ہوۓ ۔۔۔ اب لاؤنج میں صرف ہانیہ اور اس کی ساس رہ گئیں تھیں ۔۔۔ رضیہ گھر کی صفائی کروارہی تھی ملازموں سے ۔۔۔

ہانیہ اپنے بھاری وجود کے ساتھ ہمت کرکے اٹھنے لگی ۔۔۔ اسی لمحے اس کی ساس نے کہا ۔۔۔

“جلن تو ہوتی ہوگی یہ دیکھ کر میرا بیٹا اج بھی کشف کو نہیں بھولا ۔۔۔ کتنا بھی کچھ کرلو تم کشف کی جگہ لے بھی نہیں سکتی ۔۔۔ ایک اور فری ہاسپیٹل , اسکول کھول رہا ہے کشف کے نام سے , حسد کی اگ میں جلتی ہی رہوگی ہمیشہ پر کشف جیسا مقام نہیں حاصل کرپاؤگی ۔۔۔ ان کے لہجے میں شدید نفرت تھی اس کے لیۓ , جسے سن کر نا صرف ہانیہ حیران ہوئی بلکہ ولید کے قدم جم گۓ اس کی ماں اس حد تک گرجائیں گی اگر اس لمحے ہانیہ کو دھچکا لگ جاتا تو , وہ کتنی بار ان سے کہے چکا تھا ہانیہ نہ سہی اس کے انے والی اولاد کا ہی سوچ لیں , نفرت کی اگ میں وہ کہاں پہنچ گئیں تھیں ۔۔۔

“آنٹی مجھے کشف کی جگہ لینی بھی نہیں ولید کی زندگی میں اس کی اپنی جگہ ہے , میری اپنی جگہ ہے ان کی زندگی میں اور جہاں تک بات ہے جلن حسد کی تو ایک بات اج پر واضع کردوں کہ زندہ لوگ کم پڑگۓ ہیں جلن کے لیۓ , جو ہے ہی نہیں جسے میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے اس سے کیا جلن کیا حسد ۔۔۔ ہانیہ نے سکوں سے کہا ۔۔۔ اب وہ اپنے قدم بڑھاتی جانے لگی اسی وقت ولید خانزادہ کی آواز پر رک گئی ۔۔۔

“بس مام , اب میں برداش نہیں کروں گا اپ اس طرح کی کوئی بات کشف کو لے کر ہانیہ سے کریں اور ایک بات اج اپ کو بتادوں یہ ہانیہ ہی جس نے کشف کو لے کر میرے پیار اور احساسات کو سمجھا ہے , جو محبت میں ہانیہ سے کرتا ہوں وہ اپ نہیں سمجھ سکتیں , مجھے ہانیہ کے ساتھ ساتھ کئی اور خوبصورت رشتوں کی محبت سے فیض یاب کیا ہے اس رشتے نے , میں تاعمر ہانیہ کا شکر گزار رہوں گا جس نے مجھے اور بچوں کو اتنی خوشیاں دیں ہیں ۔۔۔ اتنے دنوں میں کبھی آپ نے غور کیا ہے میرے بچے اسے دیکھ کر سانس لیتے ہیں میرے بچوں کی سانس بستی ہے اس کی ماں میں , ایسی محبت دی ہے اس نے ۔۔۔ ہانیہ کا کسی سے کوئی مقابلہ ہی نہیں وہ اپنے اپ میں بےمثال اور لاجواب ہے ۔۔۔ وہ لمحے بھر کو رک کر دوبارہ بولا ۔۔۔

“ایک بات اپ کو بتاؤں , میں کبھی اپ کے اور بابا جیسا محل بنا کر اپنے بچوں کو نہیں دوں گا جہاں صرف تنہائی اور وحشت ہو بلکہ ایسا گھر بناؤں گا جس میں پیار محبت اپنا پن ہو جہاں ماں باپ پیسے کمانے میں مصروف ہونے کے بجاۓ اپنی اولاد کو بھرپور وقت دیں ۔۔۔ ایسا گھر دیکھنا ہے ایک بار جاکر ہانیہ کے ماں باپ کے گھر جاکر دیکھیں , جہاں رشتوں کو جیا جاتا ہے جہاں صرف محبت ہی محبت ہے ۔۔۔ ہانیہ اور میں مل کر ہی ایسا گھر بنائیں گے مام ۔۔۔ ولید کی سانس پھولنے لگی تھی جذبات میں ۔۔۔

“ولید میرے بیٹے ۔۔۔ مسز خانزادہ نے کہا ۔۔۔ ان کے لہجے میں درد تھا ۔۔۔

“پلیز مام میں یہ کبھی نہ کہتا اگر اپ ہانیہ کے ساتھ اس طرح نہ کرتیں پر اپ نے مجھے مجبور کیا اج اپنی محرومیوں کا ذکر کرنے پر ۔۔۔ ولید کا لہجہ بھاری تھا ۔۔۔

“ولید میرے بیٹے مجھے معاف کردو ۔۔۔ انہوں نے دکھ سے کہا ۔۔۔ ان کو ندامت ہوئی تھی اپنی کی گئی ہر زیادتی پر جو انہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ کیں تھیں اور ہانیہ کے ساتھ بھی جو کیا اس کا احساس ہوگیا تھا۔۔۔۔

“مام سارا وقت گذر گیا اب کیا فائدہ معافی کا ۔۔۔ رہنے دیں ۔۔۔ ولید نے آہستہ سے کہا ۔۔۔

ہانیہ صدمے کی کیفیت میں تھی , اتنے بھرپور مرد کا یہ انداز پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی , اس کے اندر اتنا درد ہے اج تک وہ محسوس کر ہی نہ سکی تھی ۔۔۔ اس نے سوچا بھی نہ تھا اتنی ساری محرومیاں بھی کبھی ولید خانزادہ نے دیکھیں ہونگی ۔۔۔

“ہانیہ تم ارام کرو صبح سے سب مہمانوں کو اٹینڈ کررہی ہو ۔۔۔ ولید نے سنبھل کر کہا ۔۔۔۔

“ہممم آپ کہیں جارہے ہیں ۔۔۔ ہانیہ نے پوچھا ۔۔۔

“ہاں قبرستان جارہا ہوں , تم آرام کرو ۔۔۔ ولید نے بتایا ۔۔۔

“آپ فکر نہ کریں , میں ارام کرلیتی ہوں , پر اپ بچوں کو بھی ساتھ لے جائیں ۔۔۔

“یہ کیا کہے رہی ہو , ان کی عمر نہیں وہاں جانے کی ۔۔۔ ولید نے حیرت سے کہا ۔۔۔۔

“ولید وہ پورے دس سال کے ہوگۓ ہیں , یہ ان کا فرض ہے ماں کی قبر پر جاکر قل بخشیں اور اس کے لیۓ دعا کریں ۔۔۔ اولاد کس لیۓ ہوتی ہے, اسی لیۓ تو ہوتی ہے , ہوسکے اپ ان کو بھی ساتھ لے جانے کی عادت ڈالیں ۔۔۔ ہانیہ کی بات پر ولید اور اس کی ماں چونکیں ۔۔۔

“رضیہ بچوں کو تیار کروادیا ۔۔۔۔ ہانیہ نے پوچھا ۔۔۔

“جی ہانیہ میڈم ۔۔۔ رضیہ نے مودب لہجے میں کہا ۔۔۔

“تو جاؤ لے کر آؤ ۔۔۔ ہانیہ نے حکم دیا ۔۔۔

کچھ دیر میں دونوں بچے سفید شلوار قمیص میں ملبوس قبرستاں جارہے تھے ۔۔۔

“ولی دیکھنا کیسی پرورش کروں گی اپنے بچوں کی , دین دنیا دونوں میں چلاؤں گی ۔۔۔ ہمارے بچے ہمارے لیۓ دعاگو رہیں گے چاہے ہم رہیں نہ رہیں , وہ اپنے والدیں کے ایصال اور ثواب کے لیۓ کام کریں گے ۔۔۔۔ کشف ہمیشہ ایسی باتیں کرتی تھی ۔۔۔ جس پر وہ حیران ہی ہوتا تھا ایسی سوچیں کہاں سے اس کے ذہن میں آتیں ہیں , وہ ان کے ہاۓ کلاس سوسائیٹی سے بلکل الگ تھی سب سے منفرد سوچ رکھنے والی ہمیشہ اپنی آخرت کی فکر میں ہلکاں رہنے والی ۔۔۔

“دیکھو کشف , جیسی تم چاہتی تھی بلکل ویسی پرورش ہورہی ہے ہمارے بچوں کی , واقعی تمہارے دعائیں رنگ لائیں ہیں , مجھے لگتا ہے ہانیہ کو اللہ نے ہی بھیجا ہے ہماری زندگی کو مکمل کرنے کے لیۓ , میری سب محرومیاں دور ہوگئیں ہیں اسے پاکر , تمہاری سب دعائیں قبول ہوگئیں ہیں کشف , تم جہاں ہوگی یقینن خوش ہوگی ۔۔۔ ولید خانزادہ قبرستاں میں اس کی قبر کے سامنے کھڑا ہوکر اس سے مخاطب ہوتا بولا تھا ۔۔۔

دونوں بچے قل پڑھ رہے تھے زیرلب ۔۔۔ “یاد ہے نا ماما نے کہا تھا تین دفعہ پڑھنا ہے ۔۔۔ منان نے حنان سے کہا ۔۔۔

“شششش , یاد ہے , اور ماما نے کہا تھا قبرستان میں باتیں نہیں کرنی ۔۔۔ حنان نے کہا ۔۔۔۔

ولید خانزادہ کو ہانیہ پر بےانتہا پیار ایا اور گھر جاکر وہ اس کا بھرپور اظہار کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔۔

@@@@@@@@@@

“ہوسکے تو مجھے معاف کردو , مجھے کشف کا غصہ نہیں بلکہ تم سے حسد تھا ہانیہ , کیونکہ میرے بیٹے کا تمہاری اتنی پرواہ کرنا برداش نہیں ہوتا تھا مجھ سے ۔۔۔ وہ اتنی تعریفیں کرتا تمہاری اور تمہارے گھروالوں کی , کہ جلن کی اگ میں , میں تمہاری اچھائی دیکھ نہ سکی اور نا میرے بیٹے کی محرومیاں سمجھ سکی ۔۔۔ اج اگر کھل کے اظہار نہ کرتا تو میں کبھی نہ سمجھ پاتی کہ اس کےطاندر کونسا درد ہے جس کی تسکین کا سامان تم نے کیا ہے ۔۔۔ وہ اتنا خودار ہے کہ اپنے دل کی بات کبھی کسی سے کہتا نہیں ہے اور مجھے یقین ہے اپنے دل کی یہ بات بتا کر اسے اندر ہی اندر دکھ ہوگا اسے اس بات کا طعنہ کبھی مت مارنا ورنہ ٹوٹ جاۓ گا وہ ۔۔۔۔ مسز خانزادہ کی انکھ میں آنسو اور لہجے میں کرب تھا ۔۔۔ وہ ہاتھ جوڑے ہانیہ سے معافی مانگ رہیں تھیں ۔۔۔۔ ہانیہ نے جلدی نے ان کے ہاتھ تھامے اور بولی ۔۔۔

“پلیز آنٹی , بھول جائیں سب , میں نے اپ کو معاف کیا , اور تسلی رکھیں میں کبھی انہیں اس بات کا طعنہ نہیں ماروں گی ۔۔۔۔

“شکریہ تمہارا , اگر اس قابل سمجھو تو ولید کی طرح مجھے مام کہو , مجھے اچھا لگے گا ۔۔۔ انہوں نے پیار سے التجا کی ۔۔۔۔

“آنٹی ایک شرط پر ۔۔۔ ہانیہ نے سیریس ہوکر کہا ۔۔۔

“کیسی شرط ۔۔۔۔ انھوں نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

“اب آپ ہمیشہ یہی پر ہمارے ساتھ رہیں گی بلکہ کوشش کریں گے کہ انکل بھی یہاں آ جائیں , اولاد کتنی بھی بڑی ہو جائے اسے ماں باپ کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے ۔۔۔ ولید کو اپ لوگوں کی ابھی بھی ضرورت ہے ۔۔۔۔ ہانیہ کے کہنے پر انہوں نے شدت سے اسے گلے لگالیا ۔۔۔

“مجھے تمہاری سب شرطیں منظور ہیں ۔۔۔ انہوں نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا ۔۔۔۔

“تھینک یو مام ۔۔۔ ہانیہ نے بھی محبت سے کہا ۔۔۔

ولید قبرستان سے واپس ایا اور دیکھا کہ , مام کے کمرے میں دونوں ساتھ بیٹھیں چاۓ پی رہیں تھیں اور ان کی باتیں زور و شور ہورہیں تھیں ۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا اپنے کمرے کی طرف گیا کپڑے بدلنے ۔۔۔۔

دل سے بوجھ سرکتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔ اج اس کی زندگی کا خوبصورت دن تھا جس دن وہ اپنے دل کو ہلکہ پھلکہ محسوس کررہا تھا ہر بوجھ سے آزاد ہوگیا تھا وہ ۔۔۔۔

@@@@@@@@@

چند دنوں کے بعد ہانیہ نے ایک بیٹی کو جنم دیا جس کا نام ولید نے انمول ولید خانزادہ رکھا تھا ۔۔۔ سب کو نام پسند ایا ۔۔۔ بچے بےانتہا خوش ہوۓ ۔۔۔ مسٹر اور مسز خانزادہ بہت خوش ہوۓ تھے ۔۔۔

ثوبان اور صبا کو اللہ نے بیٹے کی نعمت سے نوازا تھا ۔۔۔ جس کا نام فضل رکھا تھا انہوں نے ۔۔۔

یسرا بیگم ہانیہ کو کچھ دن کے لیۓ لائیں تھیں اپنے گھر تاکہ اس کا خیال کرسکیں , رانیہ بھی آئی ہوئی تھی ۔۔۔ اس کی الٹیوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری تھا ۔۔۔ ابھی بھی الٹی کرکے بیٹھے تھی کہ سعاد نے کہا ۔۔۔

“اب کیا خیال ہے ہانیہ کی بات پر عمل کریں گے یا نہیں ۔۔۔

“مجھے معاف کرو , میری تو حالت ہوگئی ہے الٹیاں کر کرکے انتڑیان منہ کو اگئیں ہیں , میری توبہ ہے , بچے دو ہی اچھے اور ہاں جنہوں نے یہ بات کہی کہ رانیہ کے گھر ہر سال بچہ آۓ چاہے نۓ سال کا کلینڈر آۓ نہ آۓ ۔۔۔۔ وہ خود پر لاگو کریں ایسے قانوں مجھے دور ہی رکھیں ایسی فضول باتوں سے , میں نے توبہ کرلی ہے ۔۔۔۔ رانیہ نے چڑ کر کہا ۔۔۔۔

ہانیہ , صبا , ثوبان اور عباس کے منہ پھاڑ قہقہوں سے گونجنے لگا گھر ۔۔۔۔ رانیہ کا بےبسی والا چہرہ دیکھ کر سعاد کی ہنسی بھی نکل گئی ۔۔۔ ایک بار پھر سب ہسنے لگے ۔۔۔۔ زندگی بھی مسکرائی ان کو دیکھ کر ۔۔۔۔

ختم شد