Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
انمول سے بےمول
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 26
آدمی اور درد سے ناآشنا ۔۔۔۔۔مُمکن نہیں
عکس سے خالی ہو کوئی آںٔینہ۔۔۔۔۔مُمکن نہیں
ہانیہ کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی ۔۔۔ اسے حنان اور منان نے عجیب پریشانی میں ڈال دیا تھا ۔۔۔۔ وہ دونوں اپنی عمر سے زیادہ بڑی باتیں کرلیتے تھے وہ بھی بڑے آرام سے ۔۔ یہی بات اس کی فکر کی وجہ تھی ۔۔
ایک ہفتہ پہلے کی بات ہے ۔۔۔ جب رات کو ان کے روم میں تھی ہانیہ ۔۔۔ جب وہ دونوں کو سلارہی تھی ۔۔ ہانیہ اکثر دونوں کے بیچ لیٹا کرتی تھی اور وہ دونوں دائیں بائیں لیٹ جاتے تھے اس کے ۔۔۔ اس رات بھی اسی طرح وہ ان کے بیچ لیٹی تھی کہ اچانک منان نے پوچھا ۔۔
“ماما اپ ہمارے پاس سوتے ہو نا پاپا کے پاس نہیں ۔۔۔ اس کے اس سوال نے حیران کردیا تھا ۔۔۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ سنبھل کر بولی ۔۔۔
“ہاں مجھے اپنے بچوں کے پاس سونا اچھا لگتا ہے ۔۔۔ منان کا ماتھا چوما اس نے ۔۔۔ منان نے بھی سر اگے کیا تو اس نے مسکرا کر اس کے گال پر پیار کیا ۔۔۔
“پر ماما کو تو پاپا کے پاس سونا چاہیۓ ۔۔۔ منان نے اپنی سوچ کے حساب سے کہا ۔۔۔
“پر اپ کو ڈر نہ لگے اس وجہ سے ماما اپ کے پاس سوتی ہے ۔۔۔ ہانیہ نے ان کو بچوں کے انداز میں سمجھایا ۔۔۔ ہانیہ نے سمجھداری سے بات کو سنبھالنے کی کوشش کی ۔۔
” نہیں ماما ہم بڑے ہو گئے ہیں آپ پاپا کے پاس سویا کریں ہمیں ڈر نہیں لگے گا ۔۔۔ دونوں اس سے جڑ گۓ پر یہ بات بولی منان نے ۔۔۔
“جی مما سب کے پاپا اور مما ساتھ سوتے ہیں ۔۔۔۔ اب کے حنان بولا ۔۔۔ ہانیہ کو سہی معنیٰ میں جھٹکا لگا دونوں کی باتوں سے ۔۔۔
“یہ تم لوگوں سے کس نے کہا ۔۔ اس نے اپنی حیرت کو چھپاتے ہوئے سرسری لہجے میں پوچھا تھا تاکہ بچوں کو بات کی گہرائی کا اندازہ نہ ہو ۔۔۔
“ہمارے فرینڈز نے بتایا اور کون بتاۓ گا سب کے ممی پاپا ساتھ سوتے ہیں ۔۔۔ اپ بھی پاپا کے پاس سویا کریں ماما , ہمیں اچھا لگے گا ۔۔۔ منان نے کہا ۔۔۔ وہ اپنی بات کھل کے کہنے کا ہمیشہ سے عادی ہے ۔۔۔
“ایک سیکرٹ بتاؤں ۔۔ اب کے ہانیہ نے دونوں سے کہا ۔۔
“ہمممم ۔۔۔ جلدی بتائیں ۔۔ دونوں نے ایکسائٹ ہوکر ایک ساتھ کہا ۔۔۔
“میں آپ کے پاپا کے پاس ہی سوتی ہوں بس میں یہ انتظار کرتی ہوں کہ آپ سو جاؤ تاکہ آپ لوگوں کو رات کو ڈر نہ لگے اور تم دونوں کو تسلی ہو کے ماما پاس سوئی ہوئی ہے پر میں تو آپ کے پاپا کے پاس جاکر ہی سوتی ہوں ۔۔۔ ہانیہ نے اتنے سکوں سے کہا تاکہ دونوں کی تسلی ہوجاۓ اور دونوں ہرسکوں ہوجائیں ۔۔۔
“سچی ماما ۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ ہوچھا ۔۔۔
“سچی مچی بچوں ۔۔۔ ہانیہ نے دونوں کی تسلی کروادی ۔۔۔
پھر دونوں خوش ہوگئے ۔۔۔
ہانیہ نے سوچا ان کی تسلی ہوگئی ہے پر وہ دونوں سونے کا نام نہیں لے رہے تھے جو انکھیں تو موند لیتے پر پلکوں کی جنبش بتارہی تھی جاگ رہے ہیں ۔۔۔ کافی دیر بعد حنان تو سوگیا پر منان اب بھی جاگ رہا تھا ۔۔۔
“کیا بات ہے منان تم سو کیوں نہیں رہے اور یہ سب کیا کررہے ہو ۔۔۔ تھک ر ہانیہ نے پوچھا جو دس زیادہ سے زیادہ گیارہ تک سوجاتے تھے آج رات کا ایک ہونے کو ایا تھا سو منان سے پوچھے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔
“میں دیکھنا چاہ رہا تھا اپ پاپا کے پاس سوجائیں تو پھر میں سکوں سے سوجاؤں ۔۔۔ منان سے اس جواب کی اسے امید نہ تھی ۔۔۔ اس کی تسلی کے لیے آخر اس نے اٹھنے کا فیصلہ کر لیا اور بولی ۔۔۔
“اوکے تم سوجاؤ ۔۔۔ میں چلتی ہوں ۔۔۔ دونوں پر ایتوں کا ورد کرتی وہ چلی گئی ۔۔۔
دوسرے روم میں اکر لیٹ گئی وہ اس رات ۔۔۔
@@@@@@@
ایک دو دن تو گزر گۓ سکوں سے پر دونوں تیز بچے تھے جلدی سمجھ گۓ وہ دوسرے کمرے میں سوتی ہے ۔۔۔
ہانیہ کو قطعی اندازہ نہ ہوتا وہ کتنا حساس ہیں اس معاملے میں اگر اتفاق سے سن نہ لیتی ان کی باتیں ۔۔۔
“حنان اب کیا ہوگا اگر یہ سب رہا تو ۔۔۔ منان نے فکرمندی سے کہا ۔۔۔
“ماما کو پاپا کے ساتھ ہونا چاہیۓ ورنہ دیکھنا ہانیہ ماما بھی چلی جائیں گی , ہم پھر سے اکیلے ہوجائیں گے ۔۔۔ حنان کے لہجے میں درد تھا یہ سب کہتے ہوۓ ۔۔۔
“نہیں ایسا نہیں ہوگا , ہم ماما پاپا کو ملائیں گے ۔۔۔ منان نے کہا ۔۔۔
“وہ کیسے ۔۔۔ حنان نے کہا ۔۔۔ اسی لمحے غلطی سے ہانیہ کا ہاتھ دروازے کو لگ گیا دونوں چونکے ۔۔۔
“ماما ارہی ہیں چپ ۔۔۔ منان نے جلدی سے کہا ۔۔۔ ہانیہ اندر اگئی کمرے میں ۔۔۔ دونوں نے اپنے چہرے نارمل کرلیۓ ۔۔۔ وہ دیکھتی رہ گئی ان دونوں معصوموں کو جن کو اتنی سی عمر میں اتنی فکروں نے گھیر لیا ہے ۔۔۔ اندر ہی اندر افسوس بھی ہوا اور دکھ بھی ہانیہ کو ۔۔۔
“حنان اور منان کی عمر میں , میں اور رانیہ کتنے بےفکرے ہوا کرتے تھے ۔۔۔ کیوں یہ دونوں پرسکوں نہیں رہ پارہے , کتنا ان کو پیار دیتی ہوں پھر بھی ان کو یقین کیوں نہیں آتا کہ میں کبھی ان کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی ۔۔۔ کیا اب تک میں ان کا اعتبار جیت نہیں پائی ہوں ۔۔۔
اس نے سوچا اور خود سے بولی تھی ۔۔۔ اسی لمحے اندر سے آواز آئی ۔۔۔
“ہانیہ یہاں بھی تم ناکام ہوگئی ہو ۔۔۔ ایک درد جاگا اس کے اندر ۔۔ دونوں بچے فکرمندی سے اپنی ماما کو دیکھ رہی تھی جو اپنے حساب سودوزیان میں تھی ۔۔۔
“میں اپنے سارے انمول جذبات تم دونوں پر لٹا رہی ہوں پھر بھی شاید میرے جذبوں میں کوئی تو کمی رہ گئی ہے جو اتنی بے مول ہو گئی ہوں کہ تم دونوں کو اعتبار نہیں اتا کہ کبھی تم دونوں کو میں نہیں چھوڑوں گی ۔۔۔
دکھ اور تکلیف کی ملی جلی کیفیت سے گزر رہی تھی وہ ۔۔۔اس نے سوچا ضرور پر کہے نہ سکی یہ سب ۔۔۔ شدت سے احساس جاگا اس کے اندر ۔۔۔
اسی لمحے دونوں اس کے گلے لگے اور پیار کرنے لگے ۔۔۔ بسس ایک ہی بات کررہے تھے ۔۔
“ماما آۓ لوو یو آۓ کانٹ لیو وداؤٹ یو ۔۔۔ دونوں کی بات پر مسکرائی تھی وہ ۔۔۔ اس لمحے اس کے اندر نے گواہی دی کہ ۔۔
“ہانیہ وہ تم سے بےاعتبار نہیں ہوۓ , بلکہ تمہارے اور ولید خانزادہ کے اس رشتے میں ایبنارمل رویۓ نے ان کو بے اعتبار کردیا ہے , یاد کرو تم نے اپنے بچپن میں اپنے والدیں کو ساتھ محبت سے رہتے ہوۓ دیکھا تھا اس لیۓ کبھی تمہارے بچپن میں ایسی فکریں اور پریشانیاں نہ تھیں ۔۔۔ پر وہ دونوں تو ماں کی محبت کے ترسے ہوۓ ہیں , اب ملی ہے تو اسے کھونے سے ڈرتے ہیں۔۔۔ تمہارے اور ولید کے اس رویۓ کی وجہ سے وہ ایسا سوچنے پر مجبور ہوۓ ہیں ۔۔۔ وہ تمہیں کھونا نہیں چاہتے ہانیہ ۔۔۔۔ تم انمول ہو ان کے لیۓ ۔۔۔
اندر کی اس آواز پر وہ حیران ہوئی ۔۔۔ جانے کیوں آنکھیں جھلملائیں ہر وہ خوشی کے آنسو ضبط کرگئی اور خود سے ایک عزم سے بولی ۔۔۔
“میں تم دونوں کی زندگی کو کسی محرومی کا شکار نہیں ہونے دوں گی تم دونوں کی تسلی کے لیۓ ولید خانزاہ کے ساتھ اپنا روئیہ نارمل کرنے کی کوشش کروں گی ۔۔۔ ہانیہ نے یہ خود سے کہا تھا پر جب وہ بولی ان دونوں سے تو بس اتنا ۔۔
“ماما لوو یو بوتھ , آۓ السو کانٹ لوو وداؤٹ یو بوتھ ۔۔۔ اس کے لہجے میں سچائی تھی وہ دونوں مسکراۓ ۔۔۔
دونوں کو پیار کرنے لگی تھی وہ ۔۔۔ اس کا پیار ملتے ہی وہ کھل کھلا اٹھے ۔۔۔
@@@@@@@
ﮐُﻨﺞِ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭼَﻠﮯ … ﺩﺷﺖِ ﺯِﯾﺎﮞ ﺗﮏ ﻻﺋﮯ
ﮐﻮﻥ ﻻ ﺳﮑﺘﺎ ﻫﮯ ، ﻫﻢ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﻻﺋﮯ
پر بچے تو بچے نہ رہے تھے اپنی عمر سے زیادہ سمجھدار نکلے جن کو کسی طرح اندازہ ہوگیا ہانیہ دوسرے کمرے میں سوتی ہے ۔۔۔ اس لیۓ اسے پاپا کے پاس بھیجنے کے لیۓ وہ ایک اور ڈرامہ کر بیٹھے جان بوجھ کر لڑائی کی اور ضد کرکے الگ الگ کمرے میں سوۓ تاکہ ہانیہ ان کے پاپا کے روم میں جائیں ۔۔۔
ان دونوں نے اپنی جان ہلکان کردی تھی ماما او پاپا کو ملانے میں ۔۔۔ ہانیہ سب سمجھ کر خاموش تھی ۔۔۔
اسی وجہ سے وہ لاؤنج میں بیٹھی تھی اندھیرے گوشے میں تاکہ بچوں کو وہ اوپر سے نظر نہ آۓ اور وہ دونوں پرسکوں ہوکر سوجائیں پر وہ اس بات سے بےخبر تھی کہ ولید خانزادہ کشف کے روم میں پرانی یادوں کو گزارنے گیا ہے ورنہ وہ کوئی اور ٹھکانہ سوچ لیتی ۔۔۔ اب ولید خانزادہ کو اس وقت بتانے بیٹھتی تو شاید وہ اس کی مجبوری سمجھنے کے بجاۓ الٹا کوئی الزام نہ لگادے اس لیۓ اس پر کچھ ظاہر نہ کیا ۔۔۔ کوئی مناسب وقت دیکھ کر اسے یہ سب بتانے کا فیصلہ وہ کرچکی تھی ۔۔۔
جو کچھ ایک ہفتے سے ہورہا تھا اس کے بعد اج کی رات نیند انا مشکل ہی لگ رہا تھا ۔۔ وہ بےچینی سے کروٹ پر کروٹ بدلتی رہی ۔۔۔
تھک کر وہ اٹھ بیٹھی اور جاکر وضو کرکے تہجد پڑھنے لگی ۔۔ دعا کے لیۓ ہاتھ اٹھاۓ تو اپنی خالی ہتھیلیوں کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روپڑی ۔۔ سارا ضبط ٹوٹ گیا اپنی بےبسی پر روپڑی ۔۔۔ کچھ تکلیف اپنی تھی تو کچھ درد بچوں کے لیۓ تھا ۔۔۔ سب کے حق میں بہتری کی دعا مانگنے لگی ۔۔۔
تب جاکر دل کو کچھ سکوں ملا پر دوسری طرف ولید خانزادہ بےانتہا بےچین تھا اور کروٹ پر کروٹ بدل کر یہ رات گزاری تھی اس نے ۔۔۔ وہ اپنے سکوں کا سامان نہ کرسکا ۔۔۔
@@@@@@@@
سعاد گہری نیند میں سویا تھا ۔۔۔ اس طرح رونے کی آواز سن کر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔۔۔ اس کے قریب لیٹی رانیہ نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیۓ اور سوتی بن گئی ۔۔
پر سعاد اسے دیکھ چکا تھا جلدی اٹھا سائیڈ لیمپ آن کرکے اسے جھنجھوڑا اور کہا ۔۔۔
“اٹھو کیا ہوا روکیوں رہی ہو , کیا ہوا طبیت ٹھیک نہیں یا کوئی تکلیف ہے ۔۔۔ اس نے فکرمندی سے پوچھق تھا اس سے ۔۔۔
“کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ رانیہ نے ہلکے لہجے میں کہا ۔۔۔
“رانیہ میں نے خود دیکھا تم رورہی ہو ۔۔۔ کیا ہوا ہے جلدی بتاؤ ۔۔۔ اب کے سعاد نے سختی سے پوچھا ۔۔۔
“کچھ نہیں ہے ۔۔۔ اس کے لہجے میں دکھ تھا ایسا لگا جیسے کچھ چھپانا چاہ رہی ہو ۔۔۔ سعاد کو لگا شاید وہ گھر کی شادی کے دن بلکل قریب ہیں اب سب کو مسس کررہی ہے ۔۔۔
“بولو جو پوچھا ہے بتاؤ ۔۔۔ اب کے لہجہ کافی سخت تھا ۔۔۔
“میاؤں مرگیا میرا بلی کا بچہ مرگیا ۔۔۔ وہ اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روپڑی ۔۔۔ اور وہ جو کسی بڑی انہونی کی امید کررہا تھا یہ سن کر دنگ رہ گیا ۔۔ اس بیوقوفی کی امید نہ تھی اسے ۔۔۔
وہ جو اسے ڈانٹنے کے لیۓ لفظ سوچ رہا تھا اس کی اگلی بات سن کر شاک ہی رہ گیا ۔۔
“وہ اپنوں سے دور ہوکر مرگئی ایک جانور کو بھی اپنوں سے دوری ماردیتی ہے ۔۔۔ میں اسے دوائی خوراک سب کا خیال کررہی تھی پھر بھی مرگئی ۔۔۔ وہ اور شدت سے رونے لگی ۔۔۔
سعاد سوچتا رہ گیا اب کس لفظوں میں اسے تسلی دے جس سے وہ ریلکس ہو ۔۔۔ وہ بس اس کی پینٹھ سہلانے لگا ۔۔۔
آج رانیہ کے لفظوں نے اسے عجیب احساس سے دوچار کیا تھا ۔۔۔ سعاد کو اپنے لفظ گم ہوتے لگے ۔۔۔
پھر اسے وہ چپ کرواکر اور سونے کا کہا ۔۔۔ وہ اس کے گلے لگ کر ہی سوگئی تھی ۔۔۔ وہ تو سوگئی اپنا دل ہلکہ کرکے پر وہ کافی دیر اس کا معصوم چہرہ دیکھتا رہ گیا وہ معصوم اور حسین لڑکی تھی خود سے اعتراف کیا سعاد نے ۔۔۔
@@@@@@@@@
پہلے صبا کی مایوں کی رسم کی گئی ۔۔۔ اج اسے بہت خوبصورتی سے تیار کروایا تھا ہانیہ نے ۔۔۔ ساری گجرے کی جیولری پہنے اس پر پھول سے گمان ہورہا تھا ۔۔۔ ہانیہ کی تیاری کو سب نے سراہا ۔۔۔ وہ شام میں ہی اگئی تھی بچوں کو لے کر ۔۔۔ ولید سے اجازت مانگ کر ہی وہ آئی تھی ۔۔۔
ولید کو گھر والوں نے دعوت دی تھی پر عورتوں کا فنکشن کہے کر اس نے معذرت کرنا چاہی تو احد صاحب نے بتایا وہ گھر کا فرد ہے گھر کا داماد بیٹے جیسا ہوتا ہے اسے انا چاہیۓ اور یہیں آکر سب کے ساتھ ڈنر کرے ۔۔۔ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد ولید نے ہامی بھری اور کہا کوشش کرے گا ۔۔۔ پر ہانیہ نے جاتے وقت اس سے اس کے انے کا نہ پوچھا کیونکہ اسے اندازہ لیڈیز فنکشن میں وہ نہیں آۓ گا ۔۔
صبا کی تعریف سب کررہے تھے جب کوئی اسے کریڈٹ دینے لگتا وہ صرف ہلکہ مسکرا دیتی ۔۔۔ وہ مسکراہٹ بناوٹی تھی ۔۔۔ وہ خالی دل خالی نظروں سے اس محفل کا حصہ بنی رہی وہ جو ہمیشہ سے ہر محفل میں نمایان ہوتی تھی اج سفید اور پیچ جوڑا پہنے بلکل سادگی کا پیکر لگ رہی تھی ۔۔۔ سب نے اسے پیلا جوڑا پہننے کو کہا پر اس نے نہ پہنا ۔۔
“ہانیہ تم نے پیلا جوڑا کیوں نہیں پہنا اج مایوں میں اچھا لگتا ۔۔۔ اور یہ اتنی سادہ کیوں تیار ہوئی ہو ۔۔۔سارہ نے اس سے ایک ساتھ کئی سوال ہوچھ ڈالے ۔۔۔ وہ فکرمندی سے پوچھ رہیں تھیں ۔۔
“سارہ آپی , پیلا جوڑا صرف دلہن پہنے اور اس سے بہتر کوئی نہ لگے میں نے بس اتنی سی کوشش کی یے ۔۔۔ اور کوئی وجہ نہیں ۔۔۔ ہانیہ نے آہستہ لہجے میں اعتراف کیا ۔۔۔
سارہ دیکھتی رہ گئی وہ لڑکی جو خود سے بہتر کسی کو نہیں برداش کرسکتی تھی اج صبا اس محفل میں سب سے بہتر لگے اس کا سوچ رہی تھی ۔۔۔ سارہ حیران تھی یہ ہانیہ تو اسے نہ لگی جو ان کی مغرور سی نک چڑھی سی ہانیہ ہوا کرتی تھی ۔۔ دل کو عجیب چوٹ لگی تھی اس کی ایسی بات کہنے پر ۔۔۔
“پلیز صبا آپی سے ایسا کچھ مت کہیۓ گا اور کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں , اب تک سب کو ٹالتی آئی ہوں جانے کیسے آپ کے سامبے زبان پھسل گئی سوری سارہ آپی ۔۔۔ پلیز کسی کو نہیں بتائیں گی آپ , شاید بچے بلارہے ہیں ۔۔۔ میں چلتی ہوں ۔۔ وہ جلدی وہاں سے کھسکی تھی ۔۔۔ کیوں اس نے ایسی بات بولی اسے افسوس ہوا “کاش اتنا کہے دیتی کہ ولید کو یہ پسند تھا کونسا کسی نے ان سے پوچھنا تھا ۔۔۔ ہانیہ نے سوچا پر افسوس ہوا سچ کیوں بتایا ۔۔۔ وہ ایسا بھی نہیں چاہتی تھی کہ کوئی اس کے اندر کی تبدیلی کو محسوس نہ کرپاۓ ۔۔۔ اس کے لاکھ جتن کے باوجود ہر کوئی محسوس کر رہا تھا اس کے اندر کی تبدیلی کو ۔۔۔
“اور جس دن ہانیہ آپی تیار ہونا سجنا سنورنا چھوڑ دیں تو سمجھ لیں کچھ گڑبڑ ہے ورنہ ہانیہ آپی اور تیار نہ ہوں ناممکن ہر محفل کی جان ہے سب کو اپنے حسن سے چونکا دینا تو ان کا فیورٹ کام ہے ۔۔ رانیہ نے ایک دفعہ ہنستے ہوۓ کہا تھا سب کے بیچ تب ہانیہ نے جواب میں کہا تھا ۔۔۔
“تو سمجھ لینا ہانیہ زندہ نہیں مرگئی ہے مجھے مردہ سمجھنا جب کسی محفل میں ہانیہ سنج سنور کر نہ آۓ ۔۔۔ سمجھے ۔۔۔ ہانیہ نے ایک ادا سے کہا تھا ۔۔۔
سارہ آپی کے دل کو کچھ ہوا ۔۔۔ پھر پوری محفل میں اس کا گم صم رہنا سارہ کو تکلیف دیتا رہا ۔۔۔
ہانیہ جو خود کو بےمول سمجھنے لگی تھی کاش دیکھ لیتی یا سمجھنے کی کرتی تو اس کو پتا چلتا اس گھر کے ہر فرد کے لیۓ وہ کل بھی انمول تھی اج بھی ہے ۔۔۔ وہ جیسی تھی ان کو ویسی اچھی لگتی تھی ۔۔۔
@@@@@@@@@
پہلے ہانیہ نے صبا کی مایوں کی رسم کی اور پھر اسے مٹھائی کھلائی ۔۔۔ پھر حنان اور منان دونوں نے رسم کی ۔۔۔ دونوں چہک رہے تھے رسم کرتے ہوۓ ۔۔۔ یہاں ان دونوں کی ہر بات مانی جاتی تھی ۔۔۔ اسی لمحے ولید خانزادہ نے اندر قدم رکھا ۔۔۔ وہ بغور دیکھ رہا تھا کس طرح اس کے بچوں کو ویلیو دی جاتی ہے اس گھر میں ۔۔۔ ایک باپ کے دل میں ڈھیروں سکوں اترا ۔۔۔ اسی وقت فوٹوگرافر نے کہا ۔۔۔ “بیٹھ جائیں فیملی پک ہوجاۓ ۔۔۔
وہیں کھڑی نازیہ بیگم نے کہا ۔۔۔ “ایک منٹ ۔۔۔ اور ولید خانزادہ کو بلایا اور اسے اسٹیج پر لے آئیں اور کہا ۔۔۔ “اب ہوگی فیملی پک ۔۔۔ ہانیہ کے چہرے پر کوئی تاثر نہ ایا نہ خوشی کا نہ غمی وہ سرد انداز میں بیٹھی رہی ۔۔ فوٹوگرافر نے کئی پکس کلک کیں ان کی ۔۔۔ نازیہ بیگم کے کہنے پر ۔۔۔ وہ دونوں اسٹیج سے اتر آۓ بچوں سمیت ۔۔۔
پھر کھانا لگایا گیا ۔۔ کھانے کے بعد ثوبان کی رسم ہونی تھی ۔۔۔
کچھ دیر بعد ثوبان کو لایا گیا رسم کے لیۓ اس وقت تک ہانیہ اور ولید خانزادہ جاچکے تھے کیونکہ بچوں کا اسکول تھا ۔۔
@@@@@@@
آج مہندی کا دن تھا رات کو رسم ہونی تھی اور اسے ہی صبا کو تیار کروانا تھا ۔۔۔ کل شادی کے دن صبا کی پارلر کی بکنگ تھی ۔۔۔ مہندی کی رسم ساتھ ہونا قرار پائی تھی ۔۔۔
اسے شام کو ہی بچوں کو لے کر جانا تھا گھر ۔۔۔ وہ ابھی نماز پڑھ کر فارغ ہی ہوئی تھی کہ ملازم نے کہا “صاحب آپ کو نیچے بلارہے ہیں ۔۔۔
وہ ولید خانزادہ کے بلاوے پر حیران سی ہوتی نیچے آئی ۔۔۔ لاؤنج کا منظر حیران کن تھا کافی سارے ڈیزائینر ڈریسز رکھے جارہے تھے ۔۔۔
“جی آپ نے بلایا ۔۔۔ ہانیہ نے سنبھل کر کہا ۔۔
“ڈریسز اور جیلوری سب ان میں سے لے لو دونوں فنکشنز کے لیۓ ۔۔۔ ولید خانزادہ نے سادہ لہجے میں کہا ۔۔
“پر میرے ڈریسز تو ریڈی ہیں اس نے جاتی ہوئی ملازمہ کو روکا جو استری کرکے اس کے ڈریس اوپر روم میں لے جارہی تھی اور اسے دکھاۓ ۔۔۔
اسی لمحے ولید خانزادہ نے ہینگر کیۓ ڈریسز اس کے ہاتھ سے لیۓ اور کہا ۔۔
“رحیمہ یہ تمہاری بیٹی کی شادی کے لیۓ لے جاؤ ۔۔۔ اس نے رحیمہ کو بلاکر اس کے حوالے کردیۓ ۔۔۔ وہ دکھ اور صدمے سے دیکھتی رہی غصے سے چہرہ لال ہوا پر ضبط کرگئی ۔۔۔ جبکہ رحیمہ خوشی خوشی دیکھنے لگی ۔۔۔ غریب عورت اتنے مہنگے ڈریس لے کر بےانتہا خوش تھی ۔۔۔
“کھڑے کیا دیکھ رہی ہو جاؤ اور تم ۔۔۔ اب کے ہانیہ کی طرف مڑا اور کہا ۔۔۔
“تم مسز ولید خانزادہ اپنے اسٹینڈرڈ کے کپڑے لو ۔۔۔ اس کے سخت لہجے میں دیۓ حکم پر خاموشی سے کپڑے لیۓ اور جیولری بھی لی وہ وہیں بیٹھا لیب ٹاپ پر کام کرتا رہا ۔۔۔ وہ جزبز ہوتی رہی اور وہ بےپرواہ بنا رہا ۔۔۔
“میڈم کس وقت تک فنکشن میں جانا ہے پارلر والی یہاں آۓ یا آپ پارلر جائیں گی ۔۔۔ سر نے کہا ہے آپ سے پوچھ لوں ۔۔۔ ایک لڑکی نے پروفیشنل انداز میں پوچھا ۔۔۔
اس کے اگلے حکم پر ہکابکا ہوکر دیکھنے لگی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
