Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

انمول سے بےمول

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 15

اس نے شکستہ قدموں سے قدم رکھا اپنے روم میں ۔۔۔ ہانیہ نڈھال سی تھی اسے اب تک یقین نہیں ارہا تھا اپنے کانوں پر جو اس نے سنا ۔۔۔ کس طرح ولید خانزادہ رورہا تھا اپنی بیعوی کی تصویر کے سامنے ۔۔۔۔

“ایسا نہیں ہوسکتا میرا آئیڈیل کسی کا عاشق نہیں ہوسکتا ۔۔۔یہ ظلم میرے ساتھ نہیں ہوسکتا ۔۔۔ نہیں ہوسکتا نہیں ہوسکتا ۔۔۔ اس نے سب سامان ڈریسنگ کا بکھیر دیا ایک جھٹکے میں ۔۔۔ اس کی آواز میں چیخ تھی وہ روپڑی نصیب کی اس ستم ظرفی پر ۔۔۔
اب وہ اپنا ماتھا پیٹ رہی تھی ۔۔۔

“یہ مجھ سے کیا ہوگیا , یہ کیا کردیا میں نے خود کے ساتھ , نہیں چاہیۓ مجھے دولت پیسا , مجھے بس میرا شوہر چاہیۓ ۔۔۔ وہ رورہی تھی بین کررہی تھی ۔۔۔ بلک بلک کر روتے ہوۓ وہ زمیں پر بیٹھتی چلی گئی ۔۔۔ شکر تھا رات کے اس پہر گھر میں سب سوۓ تھے اور تھے کونسے اتنے لوگ جو تماشہ لگتا ۔۔۔

“یہ کیسا ظلم خود کے ساتھ میں کربیٹھی , کیوں میری عقل پر پتھر پڑگۓ جو ایک زندہ لاش کی تمنا کر بیٹھی ۔۔۔ وہ بین کررہی تھی اپنی بدنصیبی پر ۔۔۔

“ولید خانزادہ میں تمہارے ظاہر سے دھوکا کھا گئی , میری زندگی تباھ ہوگئی , اب مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔۔۔ کسی کی پرواہ نہیں مجھے یہ ذلت گوارہ نہیں ۔۔۔ میرے ساتھ تم نے بہت برا کیا ہے , تم کبھی نہیں پلٹو گے میری طرف , میں جانتی ہوں ۔۔۔ نہیں چاہیۓ مجھے ایسا ساتھ جو صرف نام کا ہو ۔۔۔ وہ خود سے بولے جارہی تھی وہ شدت غم سے پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔۔۔

“میں بکھری ہوں تم بھی بکھرو گے , اتنی ارام سے تم بَری نہیں ہوسکتے ۔۔۔ تمہیں اتنا زچ کروں گی خود نکال کر باہر کروگے تم مجھے اپنے گھر سے ۔۔۔ میں کبھی کسی پر مسلط نہیں ہوئی , مجھے خدا نے چاہے جانے کے قابل بنایا ہے میں کسی کی من چاہی بیوی بنوگی ان چاہی نہیں کبھی نہیں ۔۔۔ مجھے نہیں رہنا تمہاری ان چاہی بیوی بن کر نہیں ہے منظور یہ ذلت مجھے ۔۔۔

اس نے ایک عزم سے سوچا اور کپڑے بدلے ۔۔۔ ایک رات میں بہت لمبا سفر طے کرلیا تھا اس نے ۔۔ سب فیصلے وہ کرچکی تھی ۔۔۔

@@@@@@@

اگلی صبح ولید خانزادہ کمرے کی حالت سے اندازہ کرچکا تھا اس طرح اس کے اگنور کرنے پر یہ سب کیا ہوگا ہانیہ نے ۔۔۔

“کوئی بات نہیں وقت کے ساتھ سنبھل جاۓ گی ۔۔۔ اتنی دولت تمہارے قدموں میں ڈھیر کروں گا یہ غم تم بھول جاؤگی , بس بچوں کو تمہیں پیار دینا ہوگا ہر حال میں اس سے تم کو دستبرداری نہیں کرنے دوں گا میں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اس کے سوۓ وجود کو دیکھ کر کہا ۔۔۔

“اب واپسی میں تم سے بات ہوگی ۔۔۔ ولید خانزادہ نے سوچا ۔۔۔

کچھ دیر میں وہ تیار ہوکر ناشتہ کرکے وہ روانہ ہوا لندن کے لیۓ ۔۔۔

پیچھے ہانیہ نے بچوں کی نئی ٹیچر رکھ دی وہ مکمل ان سے لاتعلق ہوگئی تھی ۔۔۔ اس سٹرڈے کو ان کا ریسیپشن ہے ۔۔۔ جس کا بہانہ کرکے وہ گھر آئی اور شاپنگ پر لے گئی صبا کو ۔۔۔ صبا حیران تھی اس کے انداز پر ۔۔۔ شاپنگ پر لے کر تو شان سے گئی تھی پر وہاں جاکر اس نے ہر طرح سے اسے نیچا دکھایا ۔۔۔

“پلیز اپ نیو ڈریس لیں میرے ریسیپشن پر ۔۔۔ ہانیہ نے صبا سے کہا ۔۔۔اس نے ایک ریڈی میٹ گریں پسند کیا تو ہانیہ ہنس پڑی ۔۔

“صبا آپی کہاں اپ کی سانولی رنگت اور کہاں ثوبان کی سرخ سفید رنگت , اپ دونوں کا جوڑ کہاں میچ کرتا ہے ۔۔۔ دیکھیں اپ کو چاہیۓ کلر سہی چوائس کریں جس سے اپ کی سانولی رنگت میں نکھار آۓ ناکہ اور ڈل لگے ۔۔۔ صبا کو عجیب احساس کمتری نے گھیرا ہانیہ کی باتوں سے ۔۔۔

“ہمممم سہی کہا تم نے , مجھے کونسا کلر لینا چاہیۓ ہانیہ ۔۔۔ صبا نے سنبھل کر پوچھا ۔۔۔

صبا کو رہ رہ کر اپنا اور ثوبان کا خیال ایا اس بات میں کوئی شک نہ تھا ثوبان ایک حسین نوجوان بھرپور مردانہ وجاہت لیۓ مرد تھا جبکہ صبا اس کے پاسنگ بھی نہ تھی دنیاوی نظر سے پر اندر سے وہ بےانتہا خوبصورت دل کی مالک تھی جس کی پہچان وقت رہتے ثوبان کو بھی ہوچکی تھی ۔۔۔ جس سے صبا اور ہانیہ دونوں انجان تھیں ۔۔۔

“میرا خیال ہے اسکن یا گولڈن لیں ۔۔۔ ہانیہ نے مشورہ دیا ۔۔۔

ایک گولڈن کلر اسے پسند ایا تو بولی ۔۔۔ “یہ ٹھیک رہے گا نہ ہانیہ اس میں تو کچھ بہتر لگوں گی نہ میں , ثوبان کو اچھا تو لگے گا نہ ۔۔۔ صبا اس کی باتوں کے بعد خود پے اعتبار کھونے لگی اس لیۓ کمپلیس انداز میں پوچھنے لگی ۔۔۔

ہانیہ نے مسکرا کر کہا ۔۔۔ “ہاں یہ ٹھیک ہے کچھ بہتر تو لگے گا اپ کا وجود ۔۔۔ ثوبان خوش ہوگا ۔۔۔ دیکھ لجیۓ گا ۔۔۔

ہانیہ نے ایک ادا سے کہا ۔۔۔ وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ کتنے لڑکوں نے پلٹ کر اس پری پیکر کو دیکھا تھا ۔۔۔

“سہی کہے رہی ہو تم , تھینک یو ہانیہ ۔۔۔ صبا نے سادگی سے کہا ۔۔۔ شیشے میں خود سے لگاۓ وہ ڈریس دیکھ رہی تھی ایک لمحے کو صبا کی نظر اس پر پڑی تو اس کا حسن دیکھ کر دنگ رہ گئی جو بلیک کلر میں دمک رہی تھی جبکہ صبا خود کو ماسی تصور کررہی تھی اس کے سامنے ۔۔۔ صبا کے دل میں ہُوک سی اٹھی جانے کیوں ۔۔۔

پھر اسے فیشل کے لیۓ لے گئی پر اس دوران وہ اس کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح ڈال چکی تھی وہ کسی طرح ثوبان کے لائق نہیں ۔۔۔

وہ اسے مکمل احساس کمتری میں مبتلا کرچکی تھی ۔۔۔ تھوڑا بہت کانفیڈینس اسے ثوبان نے دیا تھا وہ زیرو ہوگیا تھا ۔۔

“ہانیہ تم بہت اچھی بہن ہو اج تم نے مجھے سہی باتیں سکھائیں ہیں ۔۔۔ اب میں تمہاری طرح اپنی اسکن کا خیال کروں گی ۔۔۔ صبا نے سادگی سے ایک اور کریڈٹ اسے دے دیا ۔۔۔ وہ کھل کے مسکرائی اگر پہلے والی ہانیہ ہوتی تو طنز کرتے ہوۓ بات کرتی پر اب وہ مکمل سنبھل کر ایک اور کھیل کھیلنے چلی تھی ۔۔۔ بس وقت نے بتانا تھا اس بار بھی جیت اس کے نصیب میں ہوگی یا پھر وقت کا فیصلہ کچھ اور تھا اس کے لیۓ ۔۔۔۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔۔۔

“کرنا بھی چاہیۓ اپ کو اپی , شکر کریں میں نے شادی کرلی ورنہ اپ تو جانتی ہیں ثوبان کا پہلا اور آخری کرش میں ہی ہوں ۔۔۔ ان کے دل میں میرا جو مقام ہے وہ کوئی نہیں لے سکتا ۔۔۔ ہانیہ نے ایک ادا سے کہا ۔۔۔

صبا جو اب تک خوش تھی ہانیہ کے ساتھ اس کی ریسٹورینٹ میں کہی اس بات پر اس کا نوالہ پھنس گیا ۔۔۔ عجیب گھٹن کا احساس جاگا صبا کے اندر ۔۔۔

“سوری صبا آپی , مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیۓ تھا ۔۔۔ ہانیہ نے سنبھل کر کہا ۔۔۔

“ارے نہیں اٹس اوکے ۔۔۔ کچھ غلط بھی نہیں کہا تم نے ۔۔۔ صبا نے تکلیف سے کہا ۔۔

“شکریہ اپی مجھے سمجھنے کے لیۓ ۔۔۔ ہانیہ نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔۔۔

وہ دونوں کھانا ختم کرتی ہوئیں باہر نکلیں ۔۔۔

@@@@@@@

آج سعاد اور رانیہ کا ڈنر تھا رانیہ کے میکے میں ۔۔۔ ٹھیک دو دن بعد امریکا کی فلائیٹ ۔۔۔

سب خوش بھی تھے پر دکھی بھی کیونکہ اس گھر کی چڑیا اتنی دور جاۓ گی کہ پھر سالوں سال ملے گی ۔۔ پر کیا کرتے اج کل کے بچوں کو اپنے ملک سے پیارا پردیس تھا ۔۔۔

فیاض کے سب گھر والے نایاب اپی اور اس کا شوہر بھی انوائٹیڈ تھے ۔۔۔ ہانیہ اکیلی آئی تھی بچوں کو گھر چھوڑ کر جس پر سب ناراض ہوۓ خاص کر احد صاحب ۔۔ پر اسے کوئی پرواہ نہ تھی ۔۔۔

سب کو تسلی کے لیۓ کہا ۔۔۔

“بچوں کے اگزامز قریب ہیں ورنہ ضرور لے کر آتی ۔۔۔

“کچھ دیر کے لیۓ اجاتے تو کیا فرق پڑتا ایک تو ان کا باپ لندن میں بیٹھا ہے اور دوسرا تم بچوں کو نوکروں کے آسرے پر چھوڑ کر آئی ہوں کتنا برا لگتا ہے ہانیہ ۔۔۔ اب تم شادی شدہ بچوں والی ہو بچی نہیں ہو ۔۔۔ یسرا بیگم نے بٹھا کر اسے خوب لتاڑا اکیلے میں کھانے کے بعد ۔۔۔

“کچھ نہیں ہوتا وہ بچے عادی ہیں فکر نہ کریں ۔۔۔ ہانیہ نے کندھے اچکا کر مزے سے کہا ۔۔۔

بحرحال وہ سواۓ ماتھا پیٹنے کے کیا کرسکتیں تھیں ہانیہ کو سمجھانا بلی کو کہنا شیر کو بلاۓ ۔۔ اس لیۓ یسرا بیگم سمجھاتیں تھیں پر ہانیہ کرتی وہی جو اس کا دل مانتا ۔۔۔ ہانیہ وہاں سے چلی گئی اٹھ کے ڈر تھا اور لیکچر نہ دینے بیٹھ جائیں ۔۔۔

اسی وقت خاموشی سے رانیہ ان کے پاس اکر بیٹھی ۔۔۔

“امی کیا اپ مجھے معاف نہیں کرسکتیں ۔۔۔ اس کے لہجے میں ایک آس تھی ۔۔۔

“تم نے کوئی غلطی نہیں کی پھر کیسی معافی ۔۔۔۔ خواہش کرنا خواب دیکھنا تمہارا حق ہے میں تمہیں اس حق سے محروم نہیں کر سکتی ۔۔۔ اگر تم نے اپنے ماں باپ کا کہنا نہیں مانا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے اگر تمہاری خواہش پوری ہوگی تو بھی تمہارے ماں باپ تمہارے لیۓ خوش ہیں ۔۔ بس اتنا کہوں گی جب من مرضی کی ہے تو اس رشتے کو نبھانا اگر کچھ مشکل پیش آۓ خندہ پیشانی سے برداش کرنا کیونکہ یہ تمہاری اپنی پسندیدہ خواہش ہے ۔۔۔ صبر کا دامن کبھی مت چھوڑنا چاہے جو حالات ہوں ۔۔۔ ہماری دعا ہے کبھی کوئی غم تمہارے پاس نہ بھٹکے پھر بھی زندگی میں سب ممکن ہے اس لیۓ شادی کے بعد ہر ماں باپ بیٹی کو صبر کی تلقیں ضرور کرتے ہیں ۔۔۔ ایک اور بات ہم سے کسی سپورٹ کی امید مت رکھنا فیصلا تمہارا ہے تو نتائج کی ذمیدار بھی تم خود ہوگی ۔۔۔ امید ہے میری بات کا مطلب تم اچھی طرح سمجھ رہی ہو , کوشش کرنا سعاد اور نایاب کو تم سے کبھی کوئی شکایت نہ ہو , جتنے مان سے ان لوگوں نے تم کو مانگا ہے وہ برقرار رکھنا نہ کبھی اپنی عزت کم ہونے دینا نہ ہماری کم کرنا کیونکہ ہماری عزت تمہارے کندھوں پر ہے ۔۔۔

یسرا بیگم نے کھل کے اسے سمجھایا وہ ان کو دیکھتی رہ گئی کس سفاکی سے انہوں نے اسے سمجھایا کہ اپنی من مرضی کرنے بعد اب ان سے کوئی امید نہ رکھے مطلب کوئی واسطہ نہ رکھے ۔۔۔ رانیہ بہت دلبرداشتہ ہوئی ان کی باتوں سے ۔۔

“کاش امی ایک دفعہ یہ بھی کہے دیتیں اگر مجھے کبھی کوئی شکایت ہو تو اپ کو بتا سکوں صرف اپنا دل ہکلہ کرنے کے لیۓ سہی اپ نے تو اتنی رعایت نہیں دی مجھے ۔۔۔ اپ لوگ میرا ساتھ دیں گے پر نہیں اپ نے ایسا کچھ نہیں کہا اور نہ کوئی ایسی امید دلائی ہے ۔۔ مطلب میرا دکھ میری تکلیف کوئی معنی نہیں رکھتا اپ کی نظر میں ۔۔۔ اگر اس راستے سے مجھے کوئی دکھ درد ملے تو اسے میں برداشت کرتی رہوں اور آپ میں سے کسی سے اس کی شکوہ شکایت نہ کروں ۔۔۔ کیوں امی میں تو اپ کی چڑیا ہوں نا , مجھ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے , کیا ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا دیتے ہیں کہ مجھ سے یوں دستبرداری اختیار کر رہے ہیں ۔۔۔ ان لوگوں کو مجھ سے کوئی تکلیف نہ ہو اس بات کی پرواہ ہے بس اپ کو ۔۔۔ ٹھیک ہے امی میرا اپ سے وعدہ ہے ہر دکھ ہر تکلیف خود پر سہے لوں گی پر اپ لوگوں سے اف نہیں کہوں گی , کبھی سعاد یا نایاب آپی کو کوئی شکایت کا موقع نہیں دوں گی ۔۔۔ وہ دل ہی دل میں خود کہتی رہی زبان سے ایک لفظ نہ کہا یسرا بیگم سے ۔۔۔ ماں نے تو گلے نہیں لگایا پر وہ خود ہی ان کے گلے لگی کچھ آنسو بھادیۓ اور ایک دم اٹھ کر چلی گئی وہاں سے ۔۔۔

سعاد نے سب کو منع کردیا تھا ایئرپوٹ کے لیۓ سب چاہیں تو گھر پر ملنے آسکتے ہیں جس دن نکلنا ہو ۔۔۔ وہ ٹائم کا تفصیل سے بتا چکا تھا تاکہ رانیہ کے گھر والے اس حساب سے اکر مل جائیں ۔۔۔ اگر ایئرپوٹ کا منع نہ کرتا تو سب اتے اور اتنا رش مناسب نہیں لگتا ایئرپوٹ پر ۔۔۔

@@@@@@@@

ہانیہ وہ رات وہیں ٹھرگئی اگلی صبح واپسی ہوئی اپنے گھر ۔۔ لاؤنج میں ولید خانزادہ کو دیکھ کر ٹھٹھکی ۔۔۔

سلام کیا اور اگے بڑھ گئی ۔۔۔

“ہانیہ رکو ۔۔۔ ولید خانزادہ نے کہا ۔۔۔

“جی کہیں ۔۔ اس نے قدم روکے پر پلٹے بغیر بولی تھی ۔۔۔

“صوفے پے اکر بیٹھیں بات روبرو ہوگی کھڑے کھڑے نہیں ۔۔۔

وہ بیزار چہرہ لیۓ اس کے سامنے بیٹھی اِدھر اُدھر دیکھنے لگی ۔۔۔ وہ ولید خانزادہ کے سوا ہر چیز کو دیکھنے کے قابل سمجھ رہی تھی ۔۔۔ ولید خانزادہ ضبط کرنے کی کوشش کرنے لگا اس کے اس ایٹیٹیوڈ کو ۔۔۔

“آپ کچھ کہیں گے یا میں جاؤں ۔۔۔ مجھے تھکن ہے , شدید نیند بھی ارہی ہے ۔۔۔ ہانیہ نے بھرپور انگڑائی لی ۔۔ وہ کلس کر رہ گیا اس کے بیزارکن انداز پر ۔۔۔

“اپ بچوں کو کیوں چھوڑ گئیں ان کو ساتھ لے کر جاتیں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے بازپرس کی ۔۔۔

“میرے گھر والوں کی دعوت تھی بچوں کا وہاں کیا کام , ان کا اسکول ہوتا ہے اور مجھے گھروالوں کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کرنا تھا ۔۔۔ مل گیا جواب اب جاؤں ۔۔۔ ہانیہ نے روڈ لہجے میں کہا تھا ۔۔

ہانیہ نے بدتمیزی کی انتہا کرتے ہوۓ آخری لفظ کہے تھے ۔۔۔ ولید خانزادہ حیران ہوا جتنا سمجھ رہا تھا وہ اس سے بھی زیادہ تیز اور بدتمیز ثابت ہورہی تھی ۔۔۔

“اپنا لہجہ درست کریں میں اس لہجے کا عادی نہیں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے سکون سے کہا ۔۔

“تو عادت ڈال لیں میں اسی انداز میں بات کروں گی اگر کوئی مجھ سے غلط بات کہے گا تو ۔۔۔ دوٹوک لہجہ بدتمیز انداز نڈر طریقے سے اسے دیکھتی ہوئی وہ بولی تھی ۔

” تو بتانا پسند کریں گی کہ میں نے آپ سے کونسی غلط بات کی ہے … وہ اس کی انکھوں میں دیکھتا پوچھ بیٹھا ۔۔۔

” میرے سر پر زبردستی بچوں کو مسلط کریں گے تو میں بھی اسی انداز میں بات کروں گی پھر آپ کی مرضی اسے بدتمیزی کہیں یا کچھ اور ۔۔۔ وہ اسے حیران پر حیران کررہی تھی ۔۔ وہ اس سے اتنی بدتمیزی کی امید نہیں کررہا تھا جتنی وہ کرنے لگی تھی ۔۔۔

“ہانیہ اپ حد سے گزر رہیں ہیں ۔۔۔ وہ خود پر ضبط کرتا ہوا بولا ۔۔۔

” پہلے آپ اپنی حدود کا تعین کر لیں پھر میری بات کریں ۔۔۔ ہانیہ کا لہجہ کسی بھی جذبے سے عاری تھا ۔۔۔

“چاہتی کیا ہو تم صاف کہو ۔۔۔ اس نے دوٹوک پوچھا ۔۔۔

“وہ بھی سہی وقت انے پر بتادوں گی ۔۔ فی الحال صبر کریں جیسے میں کررہی ہوں ۔۔۔ بغیر کسی مروت اور لحاظ کے وہ مسلسل بول رہی تھی وہ بھی اس شخص کے سامنے جس کے سامنے ہر کوئی بولنے سے گھبراتا تھا ۔۔۔ کمال ہانیہ کا نہیں تھا کمال تو ولید خانزادہ کا تھا جو اس لڑکی کی اتنی ہمیشہ سے سنتا آیا تھا اج برداش بھی کررہا تھا ۔۔۔

اس کے بچے اس لڑکی کو چاہتے تھے اسی لئے مجبور ً اور دوبارہ بھی وہ اس سے اچھے کی امید لیۓ اپنی اس بات پر شرمندہ تھا ورنہ ولید خانزادہ کبھی کسی کے آگے شرمندہ نہیں ہوا تھا پہلے کبھی ۔۔ وہ اس کے جذبات اور احساسات کی قدر بھی رکھتا تھا اپنے اندر ۔۔۔

” دیکھئے ہانیہ میں آپ سے اپنا تعلق خراب نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ بہتر یہی ہوگا اس رات کی بات کو بھول جائیں ۔۔۔ جو ہوا وہ غلط ہوا تھا اور میں بھی مجبور ہوں میں نے آپ کو پہلے ہی اپنے اندر کی کیفیت کا حال بتایا تھا پھر آپ کیسے مجھ سے کوئی امید رکھ سکتی ہیں وہ بھی اتنا جلدی ۔۔۔

ولید خانزادہ نے آرام سے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔

” مسٹر ولید خانزادہ اپنی غلط فہمی دور کر لیں ۔۔۔ پہلی بات تو یہ ہے اب مجھے آپ سے کوئی امید نہیں ہے اس لیے بہتر ہوگا آپ بھی مجھ سے کوئی امید نہ رکھیں ۔۔۔۔۔ اور یہ ہم دونوں کے حق میں بہتر ہوگا ۔۔ دو ٹوک لہجے میں کہہ کر وہ اٹھ کر چلی دی ۔۔۔ وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا ۔۔۔

وہ اوپر بچوں کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔ بچے تو گھر پر نہیں تھے پر وہ مکمل سکوں اور ارام کے لیۓ ان کے کمرے میں سوگئی ۔۔

نیچے لاؤنج میں ولید خانزادہ حیران پریشان تھا اس کے اس کے سرد رویہ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے پر جو بھی کر رہی تھی وہ بہت غلط کر رہی تھی ۔۔۔

@@@@@@@@

دوبارہ ولید خانزادہ اور اس کے بیچ کوئی بات چیت نہ ہوئی ۔۔۔ آج ان کا ریسیپشن تھا ۔۔۔ ولید خانزادہ کے پیرینٹس بھی آۓ ہوۓ تھے ۔۔۔ ان کا صرف ایک دن کا اسٹے تھا ۔۔۔ کل رانیہ کی فلائیٹ تھی ۔۔۔ پر اپنی بہن کا ریسیپشن وہ اپنے شوہر کے ساتھ اٹینڈ کرنے آئی تھی ۔۔۔

ولید خانزادہ کی ہانیہ کے ساتھ ناراضگی اپنی جگہ تھی پر اس کے گھروالوں کو عزت دینے میں اس نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی وہ سب سے اپنے سسرالیوں کو فخر سے ملوارہا تھا یہی اس کے اصل خاندانی ہونے کی نشانی تھی ۔۔۔

اس بات میں کوئی شک نہ تھا وہ ایک امپریسوو پرسنالٹی کا مالک تھا ۔۔۔ جو اتنا رئیس ہونے کے باوجود غرور نام کی چیز نہ تھی ۔۔۔ یہی چیز اسے ممتاز اور منفرد بناتی تھی ۔۔۔ احد صاحب اس کے رکھ رکھاؤ سے متاثر تھے ۔۔۔

مسز خانزادہ ولید کا ہاتھ تھام کر سائیڈ پر لے گئیں اور کہا ۔۔۔

“کیا ہوگیا ہے تم کو جو اتنی ویلیو دے رہے ہو ان معمولی لوگوں کو ۔۔۔ ایسے لوگوں کو حد میں رکھو ورنہ سر چڑھ کے بولتے ہیں ۔۔۔

“پلیز مام ۔۔۔ ان کے بارے میں ایسی کوئی بات میں نہیں سنو گا وہ بہت اچھے لوگ ہیں ۔۔۔ ولید نے غصے سے کہا ۔۔۔ اس کا بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر انہوں نے خود کو سنبھالا اور کہا اب کے ان کا لہجہ نرم تھا ۔۔۔

“ٹھیک ہے کچھ نہیں کہتی ۔۔۔ صرف ایک بات کا جواب دو تمہاری بیوی کا منہ کیوں بنا ہے ۔۔۔

“اپ کو کوئی اشوو ہے ۔۔۔ ولید نے سوال کیا ان کے سوال پر ۔۔۔ وہ حیران ہوئی تھیں اپنے بیٹے کے سرد انداز پر ۔۔۔

“نہیں تو ۔۔۔ انہوں نے سرسری لہجے میں کہا ۔۔۔

“مجھے بھی کوئی اشوو نہیں تو بس رہنے دیں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے کاندھے اچکاۓ اور دنیا دکھاوے کو اس کے ساتھ کھڑا ہوا ۔۔۔ ہانیہ نے ایک غلط نظر بھی اس پر نہ ڈالی یوں ولید خانزادہ کو بھی کوئی فرق نہ پڑا تھا اس کے اس انداز سے ۔۔۔

سب نے گفٹس دیۓ اس کپل کو ۔۔۔ سب نے سراہا اس جوڑی کو ۔۔۔ ولید خانزادہ کی چوائس کی سب نے تعریف کی ۔۔۔ بچے ساتھ ہی تھے پر ہانیہ ان کو مسلسل اگنور کررہی تھی ۔۔۔ ولید محسوس کررہا تھا پر اسے اب کوئی پرواہ نہ تھی نہ ڈر تھا ولید کا ۔۔۔ صبا اور رانیہ نے بچوں کو خود میں مصروف کرلیا بچوں نے ان کے ساتھ کھانا کھایا ۔۔۔ دونوں بچوں کی محرومی کا احساس ولید کے اندر جاگا ۔۔۔ اس سے پہلے وہ کچھ کر بیٹھتا صبا اور رانیہ نے ماحول سنبھال لیا ۔۔۔ وہ شکر گزار تھا ان دونوں کا جنہوں نے اس محفل میں تماشہ نہ بننے دیا ورنہ اپنی طرف سے ہانیہ نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی ۔۔۔

واپسی کے وقت ولید خانزادہ نے ایک گولڈ کا سیٹ دیا رانیہ کو ۔۔ جسے لینے میں وہ ہچکچارہی تھی پر اسے چھوٹی بہن کہے کر دیا تو اسے لینا پڑا ۔۔۔ وہ ایک اینٹک ڈیزائن کا تھا کافی مالیت کا تھا ۔۔۔ ولید خانزادہ نے دل سے معذرت کی کہ وہ کل ملنے نہیں اسکے گا اس لیۓ یہیں سے اس کا اللہ حافظ قبول کرے ۔۔۔ پر ہانیہ آۓ گی وہ اسے بتا چکا تھا ۔۔ رانیہ نے دل سے اس کا الوداع ایکسیپٹ کیا تھا ۔۔۔ یوں یہ رات بھی گزر گئی ۔۔۔

@@@@@@@

دل کی کیفیت عجیب تھی کچھ دیر میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنے گھر قدم رکھنے والی تھی ۔۔۔ رانیہ بےانتہا خوش تھی آج اپنے خوابوں کے ملک میں پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔ سعاد مسکرا رہا تھا اس کی بےخودی دیکھ کر وہ اس کا ہاتھ تھامے ہوۓ تھا کیونکہ وہ اسے ایک دفعہ کہے چکی تھی “ایسا لگتا ہے خوشی سے کہیں بےہوش نہ ہوجاؤں میں ۔۔۔

تب سے سعاد نے بھی اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ۔۔۔۔ دل کا حال عجیب سا ہورہا تھا دل چاہتا تھا ابھی فون کرکے سب کو بتاؤ اپنے دل کی کیفیت ۔۔۔

سب اس کے سسرال اکر ملے تھے ۔۔۔۔ ایئرپوٹ صرف فیاض بھائی چلے تھے ۔۔۔ نایاب آپی کو بھی سختی سے منع کردیا تھا سعاد نے کیونکہ وہ جانتا تھا وہ ہمیشہ رو پڑتی ہیں اور سعاد خود کو کمزور محسوس کرتا تھا اپنی بہن کے رونے سے۔۔۔

سارا راستہ وہ جاگتی رہی یہ اس کا پلین کا پہلا سفر تھا ۔۔۔ بمشکل ایک گھنٹا ہی سوئی سعاد اس کی ایکسائیمینٹ دیکھتا رہا نا اسے ڈانٹا نا اور کچھ کہا ۔۔۔

وہ اسے لفٹ کے ذریعے دسویں فلور پر لایا اور فلیٹ کا دروازہ کھولا ۔۔۔

دونوں نے ایک ساتھ قدم رکھا ۔۔۔

“کیسا لگا ہمارا گھر رانیہ ۔۔۔ سعاد نے پوچھا ۔۔۔

“بہت خوبصورت سعاد ۔۔۔ رانیہ نے دل سے کہا ۔

تین کمرے جن میں سے دو کے ساتھ اٹیج باتھ تھا ۔۔۔ ایک بڑا بیڈروم اور دوسرا چھوٹا بیڈروم تھا اس کے علاوہ ایک کمرہ اسٹڈی کی طرح سیٹ تھا ۔۔۔ ایک کچن ساتھ میں اسٹور ۔۔۔ دو گیلیریز تھیں ایک سیٹ تھی دوکرسی رکھیں تھیں اور اچھا ویو تھا ۔۔۔ دوسری گیلری یونہی تھی ۔۔۔ فرنیچر وغیرہ بیڈروم کا نیو تھا ۔۔۔ اس کے دوستوں نے آرٹیفیشل فلاور سے بیڈروم سیٹ کیا تھا ۔۔۔
رانیہ گھر کو خوشی سے دیکھتی رہی ۔۔۔

کچھ دیر بعد

” آؤ کھانا گرم کردیا مل کر کھائیں پھر چاۓ بنادوں گا ۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔ جس پر شرمندہ ہوکر رانیہ نے کہا ۔۔۔

“ارے میں کردیتی اپ نے کیوں کیا سعاد یہ میرا کام ہے ۔۔۔

“ڈیئر یہ پاکستان نہیں امریکا ہے ۔۔۔ یہاں میاں بیوی مل کر کام کرتے ہیں ۔۔۔ یہاں تیرا میرا نہیں کرتے ۔۔۔ سعاد نے ہنس کر کہا ۔۔۔

“کیا مطلب سعاد ۔۔۔ رانیہ نے پوچھا ۔۔۔

“مطلب بھی سمجھادیں گے ۔۔۔ فی الحال چلیۓ ۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔

وہ اسے کھانے کی ٹیبل تک لایا کندھوں سے تھام کر اور کہا ۔۔۔ “کھانا کھائیۓ جناب ۔۔۔

وہ حیران ہوئی خوبصورتی سے سجی ٹیبل کو دیکھ کر ۔۔۔

پزا گرم کرکے رکھا تھا ساتھ میں کولڈ ڈرنک اور سیلڈ تھا ۔۔۔ پلیٹس باول چمچ ساتھ میں گلاس نیپکن سلیقے سے سجا تھا ۔۔۔

دونوں ہاتھ دھوکر بیٹھے اور کھانے لگے ۔۔۔ اس نے برتن دھونے چاہے تو سعاد نے کہا “آج تم تھکی ہوگی سارا راستہ سوئی نہیں کل بھی کام ہوگا کرلینا ۔۔۔ ٹینشن نہ لو ۔۔ وہ سعاد کو حیرت سے دیکھتی رہی جو سلیقے سے برتن دھو رہا تھا اور رکھ رہا تھا ۔۔۔ اس کا انداز سگھڑ عورتوں سا تھا ۔۔۔ وہ مسکرارہی تھی یوں اسے دیکھ کر ۔۔

“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی اور یوں مسکرا بھی رہی ہو ۔۔۔ سعاد نے پوچھا چاۓ رکھتے ہوۓ ۔۔۔

“ویسے ہی ۔۔۔ رانیہ نے اسے ٹالا ۔۔۔

“پھر بھی پتا تو چلے ۔۔۔ اب وہ برتن ٹاول سے ڈراۓ کررہا تھا اور ساتھ میں رینک پر رکھ دیۓ ۔۔۔ رانیہ پر تو حیرتوں کے پھاڑ ٹوٹ رہے تھے پاکستاں میں اتنا اکھڑ مزاج اور یہاں بلکل ویسا نہ لگا ۔۔۔

“سعاد اپ کو اتنے سلیقے سے کام کرتے دیکھ کر حیران ہورہی ہوں ۔۔۔ اس نے وجہ بتائی مسکرانے کی ۔۔

“اوہ تو یہ بات ہے , یار یہاں میڈ سسٹم نہیں ہے یہاں پر ہاور کے حساب سی میڈ چارج کرتی ہے اس لیۓ سب کام خود کرنے پڑتے ہیں ۔۔۔ سعاد نے سکوں سے بتایا اور چاۓ مگ میں ڈالی ۔۔۔ اسی وقت دیگچی دھوکر لائیٹ آف کرتا لاؤنج میں اگیا ٹرے اور اسے ساتھ لیتا ہوا ۔۔۔ پھر دونوں نے ساتھ بیٹھ کر چاۓ پی ۔۔۔ تھوڑی دیر میں وہ کپ دھوکر کچن میں رکھے تب تک رانیہ چینج کرنے کے لیۓ واشروم گئی ۔۔۔ ادھے گھنٹے بعد وہ فریش ہوکر باہر نکلی ۔۔

“رانیہ یہاں کوئی ماسی نہیں پلیز واشروم سے آئیں وائپر کرکے خود انا پڑتا ہے ۔۔۔ میں بھی خود کرتا ہوں ۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔

وہ سوری کرتی واپس گئی واشروم اور سعاد نے سکھایا یہاں کس طرح صاف کرتے ہیں ۔۔۔ وہ اسے تفصیل سے سکھا رہا تھا ۔۔۔

“باقی کل سمجھاؤں گا , باتیں ذہن نشین کرلجیۓ گا بار بار دہرانے کی مجھے عادت نہیں ۔۔۔۔ سعاد نے صاف دوٹوک لہجے میں کہا ۔۔۔ رانیہ حیراں ہوتی رہی اس کے انداز پر ۔۔۔

@@@@@@@@

سعاد اسے رات ہی بتا چکا تھا یہ اس کا لاسٹ ہولی ڈے کل ہے ۔۔۔ اس کے بعد اس کی آفیس شروع ہوجاۓ گی ۔۔۔

ان دونوں نے ساتھ گروسری کی ۔۔۔ پھر گھر کی صفائی کی کچھ کپڑے دھوۓ ۔۔۔ پورا دن کاموں میں گذر گیا ۔۔۔ رات کھانا بنا کر اس نے ٹیبل پر لگایا اور سعاد کو بلایا ۔۔۔ پھر دونوں نے مل کر کھایا ۔۔۔

” آج بہت تھک گئی ہوگی تم ۔۔۔ سعاد نے پوچھا ۔۔

“ہاں سعاد پاکستاں میں اتنا کام کرنے کی عادت نہیں ۔۔۔ رانیہ نے سچائی سے کہا ۔۔۔

“مجھے بھی اندازہ ہے اس بات کا ۔۔۔ سعا نے کہا ۔۔۔

“کل کتنے بجے جائیں گے اپ آفیس اور مجھے کیا کرنا ہوگا اپ بتادیں ۔۔ آۓ مین کب تک جگانا ہوگا اپ کو وغیرہ ۔۔۔ رانیہ کے ہوتے ہوۓ اس کا پہلا دن ہوگا کل اس لیۓ پوچھنا ضروری سمجھا رانیہ نے ۔۔۔
سفلعاد اس کی بات پر مسکرایا اور پھر بولا ۔۔۔

“ڈیئر میں عادی ہوں خود جاگنے کا , سمپل سا ناشتہ خود بناؤں گا ۔۔ تم اس بات کی فکر نہ کرو اور ویسے بھی نیکسٹ ویک سے تم بھی جاب کروگی اور پڑھائی بھی ۔۔۔ جسٹ بی ایس سی نہیں ماسٹرز بھی کرنا ہے تمہیں ۔۔۔ یہاں پاکستاں کا سسٹم نہیں چلتا رانیہ , جہان صرف شوہر کماۓ اور بیوی گھر بیٹھ کر سارا دن گھر کے کچھ کام کرنے کے بعد گھر والوں سے فون پر گوسپ کرے یا پھر شوہر کے محنت کی کماۓ کے پیسوں کو اڑانے کی نئی ترکیبین کرے ۔۔۔ یہاں میاں بیوی گاڑی کے دو پہیۓ سمجھے جاتے ہیں دونوں مل کر کماتے ہیں اور کھاتے ہیں اور تم جانتی ہو میں امریکن سوچ کو فالوو کرتا ہوں ۔۔۔

وہ ہکا بکا ہوکر اس کی سوچ سن رہی تھی ۔۔۔۔ نا گھومنے پھرنے کی بات نا کوئی ہنی مون کا ذکر ڈائیریکٹ پریکٹیکل زندگی کی بات ۔۔۔ وہ رانیہ جو پڑھائی سے کوسوں دور بھاگتی تھی اس سے اس کا شوہر پڑھنے کی بات کررہا تھا ۔۔۔ جاب پڑھائی ایک ساتھ یہ کیا کہے رہا تھا اس کا شوہر ۔۔۔ جس بات کا وہ تصور نہیں کر سکتی تھی وہ بات سعاد اس سے کہے گیا ۔۔۔۔ وہ دکھ اور صدمے کی کیفیت سے اسے دیکھتی رہی جبکہ وہ مزے سے کھانا کھاتا رہا بغیر اس کے احساس کی پرواہ کیۓ ۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔