Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
انمول سے بےمول
ازقلم صبا مغل
قسط 11
اج گھر میں زور وشور سے تیاریاں ہوررہی تھیں ۔۔۔ سارا بھی اگئی تھی کل ہی ۔۔۔ ہمیشہ سے صبا ہر کام میں اگے اگے ہوتی تھی ۔۔۔ آج سب نے اس کو کمرے میں بٹھایا اور کہا “آرام کرتی رہے تاکہ شام کو فریش لگے ۔۔۔ صبا کو فارغ بیٹھنے کی عادت نہ تھی اس لیۓ الجھن ہورہی تھی ۔۔۔ آج سب صبا کو پروٹوکول دے رہے تھے ۔۔۔ اج شام کو اسے تیار کرنے کی ذمیداری ہانیہ کو دی تھی ۔۔۔ جسے وہ دل سے نباہ رہی تھی ۔۔ اس کا فیشل منی پیڈی سب اس نے خود کیا ۔۔ یہ یسرا بیگم کا حکم تھا اسے ۔۔۔ ویسے بھی بیوٹیشن کا کورس اس نے کر رکھا تھا اگر انکار کرتی تو اچھی خاصی بےعزتی ہونی تھی اس کی ۔۔۔ گھر میں واحد لڑکی ہانیہ تھی جسے پڑھنے سے لے کر سجنے سنورنے اسپورٹس ہر فن مولیٰ تھی بس ایک ککنگ اور دوسرا صفائی سے اس کی جان جاتی تھی ۔۔۔ اس وقت بھی وہ ماہرانہ اسٹائل میں اس کا میک اپ کررہی تھی ۔۔۔ ایک گھنٹے کی محنت کے بعد وہ طائرانہ انداز میں جائزہ لے رہی تھی ۔۔۔
“پرفیکٹ ۔۔۔ ہانیہ یو ڈڈ اٹ ۔۔ یس ۔۔۔ صبا حیرت سے اس کی خوشی دیکھ رہی تھی ۔۔ ہانیہ نے اسے کندھوں سے تھام کر شیشے کے سامنے کھڑا کیا ۔۔۔
صبا حیران ہوئی خود کو دیکھ کر ۔۔۔ ہانیہ فخریہ انداز لیۓ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اسی وقت رانیہ آئی اور خو کو کہنے سے روک نہ پائی “واؤ صبا آپی اپ بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔
“صبا آپی کے بجاۓ مجھے کہو ہانیہ جادو تو تمہارے ہاتھوں میں ہے جو ان کے معمولی نین نقش کو اتنا حسین بنادیا ۔۔ اس نے فخریہ لہجے میں کہا ۔۔
“ہانیہ آپی اپ بھی نہ ۔۔۔ رانیہ کو افسوس ہوا اپنی بہن کی بات پر ۔۔۔
” چلو رانیہ نہیں مانتی پر صبا آپی آپ کو تو میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے اگر میں نے ثوبان کو نہیں چھوڑا ہوتا تو آپ کا نمبر کہاں لگنا تھا ۔۔۔ ورنہ ابھی تک آپ تو فیس کررہی ہوتیں ریجیکشن ہی ریجیکشن ۔۔۔ ہانیہ نے ایک ادا سے اپنے خوبصورت سنہری بالوں کو جھٹکا ۔۔۔ صبا کے چہرہ پر تاریک سایہ لہرایا ۔۔۔ اس میں کچھ کہنے کی ہمت نہ تھی ۔۔
“ہانیہ آپی خدا کے لیۓ چپ کرجائیں اس طرح کسی کا دل نہیں دکھاتے ۔۔۔ رانیہ نے چڑ کر کہا اسے سخت ناگوار گزرا تھا ہانیہ کا یہ انداز ۔۔۔
“مانو تم مجھے سکھاؤ گی چپ کر کے بیٹھو ۔۔۔ ہانیہ نے ٹوکا رانیہ کو ۔۔۔ وہ چپ ہوگئی … ” اوکے میں چلتی ہوں ۔۔۔ تم ٹھرو صبا آپی کے پاس ۔۔۔ ہانیہ کو جو اسے سنانا تھا وہ سنا چکی تھی اب وہ بالکل ریلیکس ہو کر اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی ۔۔
@@@@@@@@
“ٹیچر وئی مس یو ۔۔ حنان اور منان نے ایک ساتھ کہا ۔
” میں بھی آپ دونوں کو بہت زیادہ مس کر رہی ہو اس نے بلیشان لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔ اپنی ڈریسنگ پر موبائل سیٹ کر کے رکھنے کے بعد وہ تیار بھی ہو رہی تھی ساتھ ساتھ بچوں سے باتیں بھی کر رہی تھی کہ وہ بچوں کی ایک بھی کال مس نہیں کرتی تھی ۔۔۔
“ٹیچر آپ کہیں جارہے ہو منان نے پوچھا ۔۔ حنان کی بنسبت منان بہت زیادہ باتونی تھا ۔۔۔ سوال پر سوال اس کی عادت تھی ۔۔۔
” میں کہیں نہیں جا رہی ہمارے گھر میں مہمان آ رہا ہے نا اسی لئے آپ کی ٹیچر تیار ہو رہی ہیں۔۔۔ ہانیہ نے بتایا ۔۔۔
“کیوں مہمان ارہیں ہیں ٹیچر ۔۔ منان نے ایک اور سوال پوچھا اب ہانیہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا اسے کیسے سمجھایا جائے کہ بات پکی کی رسم ہے اسی لئے اس نے بات کو آسان کرتے ہوئے کچھ یوں کہا ۔۔۔
” میری دوسری بہن کی شادی ہو رہی ہے اس لیۓ ۔۔ اب وہ اپنی لپسٹک لگا رہی تھی ۔۔
” ٹیچر آپ بہت خوبصورت ہو ۔۔۔ منان نے کہا تو حنان نے بھی تائید کی ۔۔۔
“تھینک یو بچوں ۔۔۔ وہ بال بنانے لگی دونوں بچوں اسے دیکھتے رہے ۔۔۔
وہ بال بنانے کے دوران محسوس کر رہی تھی کہ منان کچھ کہنے کے لیے منہ کھولتا اور دوبارہ بند کر دیتا تو آخرکار اس نے خود ہی پوچھ لیا “کیا بات ہے منان ۔۔۔
” ٹیچر آپ کی بہنوں کی شادی ہو رہی ہے پھر آپ کی بھی شادی ہو جائے گی ۔۔۔
” ہاں میری بھی ہو جائے گی ۔۔۔ اس نے مزے سے کہا ۔۔۔
“کچھ سوچ کر منان نے دوبارہ پوچھا پھر آپ ہمیں نہیں پڑھائیں گی ۔۔۔ اس کے لہجے میں فکر تھی ۔۔۔
“نہیں بیٹا پھر ٹیچر اپنے گھر کو ٹائم دے گی ٹیچر کی اپنی مصروفیات ہونگی ۔۔۔
“پھر آپ ہمیں بھول جاؤں گی ۔۔۔ اب حنان نے پوچھا ۔۔۔
” میں آپ دونوں کو کبھی بھول نہیں سکتی اور بیٹا کچھ چیزیں ہمیں مجبوری میں بھی کرنی پڑتی ہیں آپ بھی مجھے یاد کرنا میں بھی آپ کو یاد کرتی رہوں گی … ہانیہ نے سرسری لہجے میں کہا ۔۔۔
وہ اپنے ہیئر سٹائل میں دوبارہ مصروف ہوگئی ۔۔۔ ہانیہ نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا اور بچوں کے دل پر جو گزری ہے اسے ذرا بھی احساس نہ تھا ۔۔۔۔ دونوں کی آنکھوں کی ویرانی اور اداسی اس نے محسوس بھی نہیں کی اگر محسوس بھی کی تھی تو اس نے زیادہ توجہ نہیں دی ۔۔۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد منان نے کہا ۔۔۔ “ٹیچر آپ کل آؤں گی نہ ۔۔۔
“نہیں بیٹا منڈے کے دن آؤں گی ۔۔۔ آپ کے پاپا سے میں نے چھٹی لے لی ہے ۔۔۔ ان کے روشن چہرے اترگۓ تھے پر سامنے کس کو پرواہ تھی ۔۔۔ ان کو یقین تھا ٹیچر ان کے کہنے پر مان جائیں گی ۔۔۔ پر اس کے صاف انکار پر دونوں چپ ہوگۓ ۔۔
کچھ دیر کے بعد منان اور حنان نے اللہ حافظ کہا ۔۔۔ تو اس نے بھی روکا نہیں اللہ حافظ کہہ دیا کہ اسے خود جلدی تھی باہر جانے کی ۔۔۔ سدا کی خودغرض ہانیہ نے دونوں بچوں کو جس درد سے دوچار کیا تھا اس کی ذرہ پرواہ نہ تھی اسے ۔۔۔ ہمیشہ ایسا ہوتا تھا وہ جب بھی اس سے بات کرتے تھے خوشی ہوتے تھے اگلے دن اس کے انے کا سن کر خوشی خوشی کال رکھتے تھے پر اج ایسا نہ ہوا تھا ۔۔۔
وہ اپنا دوپٹا سیٹ کرتی بےنیازی سے کمرے سے باہر نکلی اور ایک سوچ نے اسے مسکرانے پر مجبور کیا ۔۔۔ وہ سوچ یہ تھی کہ “ثوبان اج تمہارے چہرے پر حسرت ہوگی مجھے نہ پانے کی , مزہ آۓ گا ۔۔ اس کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئی ۔۔۔
@@@@@@@
توقیر صاحب کی ساری فیملی آئی تھی نایاب کے ساتھ سعاد بھی ایا تھے ۔۔۔ احمد صاحب مطئمن ہوۓ اس کے انے سے ورنہ دل کو کہیں طرح کے وسوسے تھے ۔۔۔ پر اب ان کا چہرہ خوشی سے جگمگا رہا تھا ۔۔۔ احد اور یسرا کا رویہ لیا دیا سا تھا جس کا افسوس ہوا احمد اور نازیہ کو ۔۔۔ رانیہ جو اب تک خوش تھی تھوڑی اداس ہوئی ماں باپ کے رویۓ پر ۔۔۔
“کیا امی بابا مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے ۔۔۔ اس نے دکھتے دل کے ساتھ سوچا ۔۔۔ اس کے چہرے کی جوت بجھ گئی جس کی دونوں میاں بیوی کو پرواہ نہ تھی ۔۔۔
پہلے صبا کو بٹھا کر رسم کی گئی ۔۔۔ نازیہ بیگم نے اسے لال دوپٹا اوڑاھایا ایک سونے کا کنگن پہنا کر بات پکی کی ۔۔۔ پھر سب نے مٹھائی کھلائی اسے ۔۔۔ ہانیہ حیران ہوئی نازیہ بیگم کی اتنی تیاری پر , ابھی اس رسم پر انہوں نے اچھے خاصے گفٹس بناۓ تھے صبا کے لیۓ ۔۔۔ جانے کیوں اسے جلن کا احساس ہوا ۔۔۔ یسرا نے صبا کو پیار کیا اور اس کے بعد اکر ہانیہ ماتھا چوما وہ حیران ہوئی ۔۔۔ “تم نے میرا مان رکھا اتنا اچھا تیار کروایا صبا کو مجھے بہت خوشی ہوئی ۔۔۔ پہلی دفعہ یسرا بیگم نے کسی بات اسے سراہا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت خوش ہوئی ورنہ اس کی ماں کو تو سدا ہر خوبی صرف صبا میں نظر اتی تھی ۔۔۔ ہانیہ کے اندر جو جلن کا احساس ابھرا تھا وہ کم ہوتا ہوا محسوس ہوا اور اس کے پاس جاکر بیٹھی کچھ پکس بنوائی سب نے ۔۔۔ سارا بےانتہا خوش تھی کہ اس کے بھائی نے بہتریں لڑکی کا انتخاب کیا اپنے لیۓ ہمسفر کے طور پر ۔۔۔ پر کچھ کچھ حیران بھی تھی کہ کیسے اس کے بھائی کے سر سے ہانیہ کا بھوت اترا یہ بات بھی قابلِ غور تھی ۔۔۔
“صبا کو اب اندر لے جاؤ ۔۔۔ نازیہ بیگم نےکہا ۔۔۔ رانیہ اور سارا ادے اندر لے گئیں ۔۔۔ اب ثوبان کو بٹھا کر رسم کی گئی ۔۔۔ صمد صاحب نے اسے مردانہ شال پہنائی اور مٹھائی کھلائی ۔۔۔پھر سب نے باری باری میٹھا کھلا کر مبارک باد دی ۔۔۔ اس سب کے دوران سعاد بیزار سا بیٹھا رہا جبکہ دوسری طرف سارا اور فیاض کی مستیاں عروج پر تھیں ۔۔۔ رانیہ جو ہمیشہ سے ہر جگہ شرارت میں آگے رہتی تھی آج خاموشی تھی شاید سعاد کی خاموشی اور بیزاریت کا اس پر اثر تھا ۔۔۔ وہ چاہ کر بھی ویسی خوش اور مطئمن نہ لگی جیسے سارا اور فیاض تھے کچھ اداسی کی وجہ ماں باپ کا رویہ بھی تھا ۔۔۔
بحرحال پھر کھانے کا دور شروع ہوا ۔۔۔ کھانے کے بعد چاۓ کافی کا دور چلتا اس سے پہلے نایاب نے معذرت کی اور دونوں کے جانے کا عندیہ دیا ۔۔۔ وہ اور سعاد گھر کے لیۓ روانہ ہوۓ ۔۔۔ سلام دعا سے زیادہ رانیہ اور سعاد کی بات نہ ہوسکی ۔۔۔
یہیں احمد صاحب نے اناؤنس کیا کہ رانیہ کی مہندی کی رات ثوبان اور صبا کی باقاعدہ مگنی کی رسم بھی ہوگی ۔۔۔
جس پر سب نے خوشی کا اظہار کیا ۔۔۔۔
ویسے بھی مہندی کا فنکشن ان لوگوں نے کسی بینکیوٹ کے بجاۓ اپنے گھر کے انگن میں رکھا تھا ۔۔۔
احمد صاحب والے روایتی قسم کے لوگ تھے اس لیۓ اپنے گھر کی بیٹی کو اپنے انگن سے رخصت کرنے کا فیصلا کرچکے تھے ۔۔۔ توقیر صاحب نے کہا تھا بینکیوٹ کے لیۓ وہ سب مینیج کرلیں گے پر اس بار احمد صاحب نے سھولت سےانکار کیا اور کہا “ولیمہ ان کا فنکشن ہے وہ جہاں رکھیں پر مہندی اور شادی لڑکی والوں کا فنکشن ہے اور وہ اپنے انگن میں رکھیں گے ۔۔۔ ان دوٹوک انداز پر توقیر صاحب کو ماننا پڑا ۔۔۔
نایاب اور سعاد کے ساتھ توقیر صاحب بھی اٹھے جانے کے لیۓ جبکہ سارا اور فیاض کا ابھی اور بیٹھنے کا ارادہ تھا ۔۔۔
@@@@@@@@@
یسرا اور احد صاحب اپنے کمرے میں تھے ۔۔۔ بہت رات ہوگئی تھی اب ارام کا ارادہ تھا ان کا ۔۔۔ اسی وقت دروازے پر ناک ہوئی ۔۔۔ دروازہ یسرا بیگم نے کھولا سامنے احمد صاحب اور نازیہ کو دیکھ کر حیران ہوۓ ۔۔۔
“اتنی رات کو آپ لوگ یہاں خیریت تو ہے ۔۔۔ احد صاحب کے لہجے میں حیرت تھی اپنے بھائی بھابھی کو دیکھ کر ۔۔۔
“کچھ باتوں کو کہنے کیلیے وقت نہیں دیکھنا چاہیے ۔۔۔ جانتے ہیں بہت رات ہو گئی ہے اور بات بھی ضروری تھی اور کرنا بھی لازمی ہے ۔۔۔ احمد صاحب نے کہا ۔۔۔
“جی بھائی کہیں ۔۔ دونوں اکر صوفے پر بیٹھے جبکہ یسرا اور احد بیڈ پر بیٹھ گۓ ۔۔۔
” جو نصیب میں لکھا ہوتا ہے وہ ہوکر ہی رہتا ہے ۔۔۔ نصیب سے کم یا زیادہ کبھی کسی کو ملا نہیں ہے میرے بھائی ۔۔۔ رانیہ بیٹی کو الزام دینا چھوڑ دو ثوبان کے نصیب میں صبا تھی اور رانیہ کے نصیب میں سعاد ۔۔۔ اس زندہ حقیقت کو تسلیم کرو اپنی بیٹی کو اتنا دکھ اور تکلیف مت دو اسے خوشی خوشی وداع کرو ۔۔۔ کیسے چڑیا جیسی چہچاہتی تھی ہماری رانیہ , تم دونوں کی لاڈلی بیٹی ہے , تم دونوں کی بےپرواہی نے اسے مرجھا کے رکھ دیا ہے احد ذرہ غور کرو اس بات پر ۔۔۔
“بھائی اپ کو جیسا لگتا ہے ایسا کچھ نہیں اب تو دونوں کا نکاح ہوگیا ہے ہم تو چپ ہیں مطئمن ہیں وہ اپنی خوشی حاصل کرچکی ہے ۔۔۔۔ احد صاحب نے نارمل لہجے میں کہا ۔۔۔
“اسے پیار کرو بہت محبت دو اتنی دور پردیس میں جارہی ہے ہماری چڑیا ۔۔ جتنا ہوسکے اسے ٹائم دواپنا ۔۔ یہی تو لمحے ہیں جو اس کی خوبصورت یاد میں رہیں گے ۔۔۔ احمد صاحب نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا ۔۔۔
” یہ پردیس اس نے خود اپنے لئے چنا ہے اور اسے ہماری دی یادوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔ وہاں جا کر دیکھنے کے لئے اپنی خوشیوں کے لئے جارہی ہے , وہاں جاکر یہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنی دوسری دنیا بسائے گی اور اپنے خوابوں کو جیۓ گی ۔۔۔ کیا یہ کم ہے جو ماں باپ نے اس کے لئے کیا ہے ۔۔۔ اپنے خواب پورے ہونے کا جشن کریں گی آپ فکر نہ کریں وہ بہت خوش ہے اپنی منمانی کرکے ۔۔۔ آپ خود کو اس کی فکر میں ہلکان نہ کریں اسے اپنی خوشی میں ہمارا اداس ہونا کہاں نظر اتا ہوگا , رہنے دیں اسے اپنے خوابوں اور خواہشوں میں مگن ۔۔۔۔ احد صاحب کی کہی بار پر احمد صاحب کتنی دیر شاک ہوکر دیکھتے رہے ان کی باتوں نے احمد صاحب کے حواس سلب کردیۓ ۔۔۔ ان کی تلخ بات پر ان کو افسوس ہوا ۔۔۔ کہنے کے لیۓ کتنا کچھ تھا پر ایسے لگ رہا تھا کہ الفاظ کہیں گم ہوگئے ہیں ۔۔۔ شاید کبھی کبھی کہنا اور سننا دونوں رائیگان چلا جاتا ہے اس لیۓ اب کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا دونوں میاں بیوی جس مان سے آۓ واپسی میں مایوس تھے ۔۔۔ وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوۓ جن کو احد صاحب نے نہ روکا ۔۔۔ احمد صاحب نے کہا تو بس اتنا کہ “بہت رات ہو گئی ہے مجھے لگتا ہے تم دونوں کو آرام کرنا چاہیۓ اور ہمیں بھی آرام کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ احد صاحب اور یسرا نے بھی کچھ نا کہا ان کو کمرے سے جاتا ہوا دیکھنے لگے ۔۔۔
کمرے سے باہر نکل کر ان کی نظر رانیہ پر پڑی جس کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ سب کچھ سن چکی ہے ۔۔۔۔ اپنے باپ کی زبان کے کہۓ تلخ الفاظ نے اسے اندر ہی اندر توڑ دیا تھا پر لب خاموش تھے ۔۔۔ اداس چہرا لیئے پلٹ کر چلی گئی رانیہ , وہ دونوں چاہ کر بھی اسے روک نہ سکے کیونکہ ان کے پاس دینے کے لیے کوئی تسلی کا ایک لفظ بھی نہ تھا رانیہ کے لئے ۔۔۔۔ وہ خود کو بے بسی کی انتہا پر محسوس کر رہے تھے ۔۔۔۔
@@@@@@@
وہ گم صم کھڑا ڈاکٹر کی بات سن رہا تھا ۔۔۔ یہ دوسری دفعہ ہوا ولید خانزادہ بےبسی کی انتہا پر کھڑا تھا ۔۔۔ اس کے دونوں بچے بیمار بستر پر پڑے تھے دو دن سے پیڈیز ڈاکٹرز کی ٹیم ان کا کیس گھر پر دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“مجھے لگتا ہے اپ ان کو ہاسپٹل میں ایڈمٹ کریں ۔۔۔ وہاں زیادہ اچھی دیکھ بھال ہوسکتی ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سلمان نے کچھ سوچ کر کہا ۔۔۔
“یہاں جو فیسلٹی کہیں گے وہ اویلیبل میں کروالوں گا اپ صرف حکم کریں ۔۔۔۔ مجھے وحشت ہوتی ہے ہاسپیٹل کے ماحول سے ۔۔۔ اس نے بےبسی سے کہا ۔۔۔
وہ مضطرب تھا , اتنا شاندار مرد اپنے اپ سے لاپرواہ بکھرے بال شکن زدہ کپڑے سمپل بلیک ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس کھڑا تھا ۔۔۔ بچوں کی فکر میں گھل ریا تھا ۔۔۔ جس کی پرسنالٹی کو دیکھ کر ایک دنیا رشک کرتی تھی اج وہ قابلِ رحم لگ رہا تھا ۔۔۔
وہ جو سب کو حکم دیا کرتا تھا آج ان کے حکم کا منتظر تھا کہ شاید اس سے ان کا کوئی حکم بجا لا کر اپنے بچوں کی طبیعت ٹھیک کر سکے , دو دن نے اسے پریشان کرکے رکھ دیا ۔۔۔
“ٹھیک ہے , جیسا اپ کہیں دو دن اور دیکھتے ہیں , آج تقریباً سب ضروری بلڈ ٹیسٹ کروالیتے ہیں شاید کچھ اندازہ ہوسکے کیوں فیور نہیں اترہا اور اوپر سے اتنی شدید کمزوری حیرت کی بات ہے ۔۔۔ ڈاکٹر نے تشویش کا اظہار کیا ۔۔ ٹیم میں سب سے بڑے کنسلٹنٹ نے ولید خانزادہ کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے گرمجوشی سے ولید خانزادہ نے ملایا ۔۔۔
“تھیک یو ڈاکٹر ۔۔۔ ولید خانزادہ نے کہا ۔۔۔
دونرسز دونوں بچوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ابھی ولید ان کے کمرے کی طرف گیا حنان جاگ رہا تھا پر گھٹ گھٹ کے رورہا تھا ۔۔۔ جبکہ منان سویا ہوا تھا ۔۔۔ ولید نے پوچھا بھی پھر بھی وہ کچھ نہ بولا تھوڑی دیر روکر پھر خاموش ہوگیا ۔۔۔ اس کا دل تڑپ اٹھا اپنے بیٹے کی اس حالت پر ۔۔۔ وہ پوچھتا رہا کیا ہوا ہے کہیں درد تو نہیں وغیرہ پر وہ کچھ بھی ہی سے جواب نہیں دے رہا تھا ویسے بھی حنان کم بولنے کا عادی تھا اس لیۓ باپ سے کچھ کہے نہ سکا ۔۔۔
ولید خانزادہ کو افسوس ہوا پرسوں رات دونوں نے کہا تھا “ٹیچر ہانیہ کو کہیں یہاں آئیں ہم ان کو مس کررہے ہیں ان کے انے سے اچھا لگتا ہے ہمیں ۔۔۔
اس پر اسے شدید غصہ ایا اور دونوں کو ڈانٹا پہلے ۔۔۔ پھر پیار سے سمجھایا دونوں کو کہ ” وہ اپنی بہن کی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہیں ان کے پاس ٹائم نہیں وہ نہیں آئیں گی ۔۔۔
“آپ کہیں گے وہ ضرور آئیں گی ۔۔۔ منان نے ضدی لہجے میں کہا ۔۔۔ وہ ویسے بھی اپنی بات کہنے کا عادی تھا جبکہ حنان خاموش ہوجاتا تھا ان کے ذرہ ڈاٹنے پر ۔۔۔
“بسس وہ نہیں آئیں گی اگر اب اپ لوگ ایسے ضد کی تو ان کو منع کردوں گا وہ یہاں نہ آئیں پھر کبھی ۔۔۔ کافی سمجھانے پر جب وہ نا مانے تو انہوں نے دھمکی دی دونوں کو ۔۔۔
اگلے دن صبح کو پہلے حنان بیمار ہوا شام تک منان کو بھی بخار نے جکڑ لیا ۔۔۔ اب دونوں کو بیمار دیکھ کر باپ کا دل خون کے آنسو رورہا تھا ۔۔۔
حنان کو چپ کرواکر وہ باہر ایا اسی وقت ایک نرس اس کے پیچھے آئی ۔۔۔ یہ وہی نرس تھی جو رات کو ان کے پاس ڈیوٹی دے رہی تھی ۔۔۔ رات کے آٹھ بجے سے صبح آٹھ بجے تک وہی ہوتی تھی بچوں کے ساتھ ۔۔۔
“سر ۔۔۔ کیا اپ دو منٹ رک کر میری بات سن سکتے ہیں ۔۔۔ نرس جلدی سے بولی ۔۔۔ وہ جو اپنے دھیان میں جارہا تھا ان کی آواز پر رکا اور حیرت سے مڑا اس طرح ان کے بلانے پر ۔۔۔
اگر وہ پریشان نہ ہوتا اپنے بچوں کے لیۓ تو شاید وہ کسی نرس کو اپنا قیمتی وقت کا دیتا ۔۔۔ اس وقت کوئی بزنس ٹائیکوں نہیں ایک بےبس باپ کھڑا تھا ۔۔۔
“جی کہیں ۔۔۔
“سر مجھے لگتا ہے اپ کے بچوں کو کوئی بات نے اتنا پریشان کیا ہوا جو وہ شاید اپ کے ڈر سے کہے نہیں رہے اس لیۓ گھٹن کا شکار ہیں ۔۔۔ ابھی اپ نے دیکھا نا کیسے اپ کا بیٹا گُھٹ گُھٹ کے رورہا تھا پچھلی دو راتوں سے ان کو ایسے دیکھ رہی ہوں ۔۔۔ اپ پلیز ان کو اعتماد میں لے کر معلوم کریں کہ کونسی بات ان کو کچوے لگا رہی ہے اندر ہی اندر ۔۔۔ نرس نے جلدی جلدی اپنی بات کہی کیونکہ وہ جانتی تھی یہ بڑے لوگ ہیں ان کا ایک ایک منٹ قیمتی ہے ۔۔۔ نرس گھبرائی ہوئی بھی تھی ۔۔۔
“تھینک یو سسٹر فار یور کنسنرڈ ۔۔۔ ولید خانزادہ لمبے ڈگ بھرتا ہوا چلا گیا ۔۔۔۔
@@@@@@@@@
اگلے دن ولید خانزادہ نے گاڑی بھیج کر مس ہانیہ کو بلوایا ۔۔۔ انہوں نے خود کال کرکے بلایا جس پر وہ حیران ہوتی اگئی تھی ۔۔۔
بچوں کو بیمار دیکھ کر وہ خو پریشان ہوگئی ۔۔۔ اسے یقین نہیں ایا دو تین دنوں میں کیا ہوا جو اتنا بیمار ہوگۓ ۔۔۔ اسے اپنی لاپرواہی پر رہ رہ کر غصہ ایا ۔۔۔
تین راتوں سے انہوں کال نہ کی تھی تو اس نے بھی ایک دفعہ نا کال کی تھی ۔۔۔ ویسے بھی وہ بچے خود اسے کال کرتے تھے وہ انہیں نہیں کرتی تھی کیونکہ اس کی اپنی اتنی مصروفیات تھیں ۔۔۔
ویسے بھی رانیہ کے ساتھ ساتھ اب صبا کے لیۓ بھی نازیہ بیگم نے شاپنگ کی ذمیداری ہانیہ اور سارا پر لگائی تھی کیونکہ ان دونوں کی چوائس بہتریں تھی ۔۔۔
یوں تو ہانیہ نے کبھی خود سے بچوں کو کال کا نہ کہا تھا بلکہ بچوں نے خود اس سے اجازت مانگی تھی کہ وہ اس سے بات کریں گی اگر وہ کال کریں تو اس نے بھی اجازت دے دی تھی ۔۔۔
اس نے گھر فون کرکے کہے دیا ” اسے انے میں لیٹ ہوگی اور ولید خانزادہ اسے بتا کر گیا اسے آفیس میں ضروری کام ہے اس لیۓ جارہا ہے پر جب تک وہ نہ آۓ تب تک وہ گھر نہ جائے ۔۔۔
آج جب ولید خانزادہ یہ سب کہے رہا تھا اس کے انداز میں عاجزی تھی کوئی غرور نام کی چیز نہ تھی اس کے لہجے میں اج ۔۔ ہانیہ شاک ہوئ تھی اس کے اس انداز پر ۔۔۔۔۔۔
اتنا جلدی کرنے کے باوجود تین چار گھنٹے لگ گۓ تھے اسے کیونکہ کام اتنا پینڈنگ تھا اب اسے ہانیہ کا سوچ کر شرمندگی ہورہی تھی وہ سوچ چکا تھا اس سے معذرت کرے گا اتنا لیٹ کرنے پر۔۔
وہ گھر ایا تو ڈاکٹر سلمان پیڈز اسپیشلسٹ بیٹھے تھے ۔۔۔ رضیہ نے کہا “ڈاکٹر اپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔ وہ اور زیادہ شرمندگی محسوس کرنے لگا اتنے بڑے ڈاکٹر کو ویٹ کرنا پڑا ۔۔۔
“سوری ڈاکٹر آپ کو ویٹ کرنا پڑا ۔۔ انہوں نے کہا ۔۔۔
“اٹز اوکے مسٹر ولید خانزادہ ۔۔۔ ڈاکٹر نے مسکراکر فارمل انداز میں کہا ۔۔۔
“سب خیریت تو ہے رپوٹس میں کیا ایا ہے بچوں کے ۔۔۔ اب کے وہ تھوڑا فکرمند بھی ہوا کہ ضرور کچھ غلط ہوگا جو ڈاکٹر ان کا ویٹ کرنے پر مجبور ہوا ۔۔۔
“رپوٹس سب نارمل آئیں ہیں ۔۔۔ ولید خانزادہ کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں ان کو بتایا
“تو پھر ۔۔۔
“آئیۓ میرے ساتھ ۔۔۔۔ ڈاکٹر نے کہا ۔۔
وہ اور ڈاکٹر بچوں کے کمرے کی طرف بڑھے ۔۔۔” بچوں کا علاج یہ ہے ۔۔۔ ڈاکٹر نے کہا ۔۔۔
دروازے کی چوکھٹ پر کھڑا وہ شاک ہی ہوگیا ۔۔۔ دونوں بچے کھل کھلا رہے تھے ہانیہ کے پاس بیٹھے سامنے لڈو پر ان کی گیم چل رہی تھی ۔۔۔ نرس فروٹ کی پلیٹ پکڑے ہوۓ تھی جس میں سے فورک کی مدد سے دونوں کو فروٹ باری باری کھلا رہی تھی ہانیہ ۔۔۔ وہ بھی مزے لے کر کھا رہے تھے ۔۔۔
“ایک منٹ اس طرف آئیں مسٹر ولید خانزادہ ۔۔۔
ڈاکٹر کے کہنے پر وہ چونک کر ان کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔ وہ دوسرے کمرے میں اکر بیٹھے تھے ۔۔۔ گرم چاۓ کی اڑتی بھانپ کو وہ بغور دیکھ رہا تھا جو ابھی ملازمہ نے رکھی تھی ڈاکٹر سلمان اور اس کے سامنے ۔۔۔
“دیکھیں مسٹر ولید خانزادہ , مجھے پہلے ہی میری اسٹاف نرس نے کہا تھا کسی خاص بات کو لے کر بچے پریشانی کا شکار ہوۓ ہیں جس وجہ سے اتنا بیمار ہوگۓ کہ کوئی دوا اثر نہیں کررہی تھی میری بات ایک یاد رکھیے گا دوا بھی تب تک اثر نہیں کرتی جب تک کہ انسان خود فائدہ نہیں چاہتا اس سے ۔۔۔ اور مجھے لگتا ہے وجہ یہی ہوں گی , بچے معصوم ہوتے ہیں وہ مشکل سے کسی کے ساتھ اٹیج ہوتے ہیں اور اگر ہوجائیں تو پھر ان سے دوری کرنا بچوں کو بیمار کردیتا ہے ۔۔۔ باقی اپ سمجھدار ہیں امید ہے اپ میری بات کا مطلب سمجھ گۓ ہونگے ۔۔۔
ڈاکٹر کو خاموشی سے بغور سنتا رہا پر کچھ کہے نہ سکا ۔۔۔ وہ دکھی تھا کاش مس ہانیہ سے بچوں کی تربیت کا نہ کہتا نا وہ زیادہ ٹائم دیتی نہ بچے اس کے عادی ہوتی ۔۔۔ اب بچوں کے جذبات کو روکنا ناممکن تھا یہ اسے اچھی طرح اندازہ ہوچکا تھا ۔۔۔ جو منظر وہ کچھ دیر پہلے دیکھ ایا تھا اس کے بعد شک کی کوئی گنجائش نہ تھی وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکا تھا بچوں کو روکنا ان کی زندگی خطرے میں ڈال سکتا ہے اور وہ اپنے بچوں کے معاملے میں لاپرواہی نہیں برت سکتا ۔۔۔
اس کی چپ کو دیکھ کر ڈاکٹر نے دوبارہ کہا ۔۔۔
“طاقت کی کچھ میڈیسن لکھ دیں ہیں میں نے ۔۔۔ فی الحال فیور بھی نہیں ہے اگر آۓ تو دوا دے دجیۓ گا ۔۔۔ ایک دو دن اسٹاف کو رہنے دیتے ہیں یہاں ۔۔ میری ضرورت ہو تو بلا لجیۓ گا ۔۔۔ امید کرتا ہوں اب مجھے بلانے کی نوبت نہیں آۓ گی پھر بھی تیسرے دن دکھائیۓ گا بچوں کو مجھے ۔۔۔
“جی بلکل ۔۔۔ ولید خانزادہ نے مختصر جواب دیا اور چاۓ کا کپ ہونٹوں سے لگایا ۔۔۔۔
کچھ دیر میں چاۓ پی کر ڈاکٹر چلے گۓ ولید خانزادہ خود ان کو دروازے تک چھوڑنے گۓ تھے ۔۔۔
پھر ولید خانزادہ نے ہانیہ کا شکریہ ادا کیا جس نے اپنا اتنا وقت دیا ۔۔۔
اس کے بعد ہانیہ کو رات اٹھ بجے ڈنر کروایا جس میں بچوں نے اسے بھرپور کمپنی دی ۔۔۔ ولید خانزادہ پر اج ایک دن میں حیرتوں کے کئی پہاڑ ٹوٹے تھے ۔۔۔۔ اس کے کانوں میں اپنی خالہ کے کہے لفظ گونجے ۔۔۔۔
“جہاں سے میں دیکھ رہی ہوں وہ وقت دور نہیں تمہارے بچے خود تم سے کہیں گے جو میں نے کہا ہے ۔۔۔
اس کے اندر کرب جاگا ۔۔۔
“کشف کی جگہ کسی کو دینا ناممکن تھا ۔۔۔ پر شاید یہ زہر کا گھونٹ بھی پینا مجھے پڑے گا ۔۔۔ ولید خانزادہ نے سوچا ۔۔۔
پھر ہانیہ کو ڈرائیور اور رضیہ بی گھر چھوڑنے گۓ تھے ۔۔۔
@@@@@@@@
اگلا دن جمعے کا تھا ۔۔۔ یہ دن وہ قبرستان ضرور جاتا تھا اپنی کشف کے پاس ۔۔۔ کتنی دیر وہ چپ چاپ بیٹھا رہا اج اس کی انکھیں نم ہوئیں جیسے کل کی بات ہو جب وہ اور کشف جدا ہوۓ ہوں ۔۔۔
“مجھے معاف کرنا کشف , جو میں کرنے جارہاں ہوں وہ ہمارے بچوں کے لیۓ ضروری ہے اور تمہیں کھونے کے بعد بچوں کو کھونے کی ہمت نہیں ۔۔۔ تاعمر تم سے محبت کرتا رہوں گا تمہاری جگہ میرے دل میں ہے جسے کوئی نہیں بدل سکتا ۔۔۔ زندگی میں کوئی بھی اجاۓ پر میری روح کی مکین تم ہو اور رہوگی ۔۔۔۔
پھر کتنی دیر اس سے گفتگو کرتا رہا اور پھر چلا گیا کیونکہ چار بجے اس نے ہانیہ کو ٹائم دے رکھا تھا ملاقات کا ۔۔۔ اج اس سے بات جو کرنی تھی ۔۔۔
@@@@@@@@
اس وقت وہ اسٹڈی میں بیٹھا مس ہانیہ کا شدت سے انتظار کرہا تھا ۔۔۔ کل رات جب اس نے بچوں سے پوچھا تھا “کونسی بات سے پریشان ہیں دونوں ۔۔۔ ولید خانزادہ کے فورس کرنے پر منان نے ڈرتے ہوۓ کہا ۔۔۔ “پاپا مس ہانیہ کو ہمیشہ کے لیۓ یہاں لے کر اجائیں ورنہ ان کی سسٹر کی طرح وہ بھی شادی کرکے چلی جائیں گی ہم سے دور ۔۔۔
بچے معصوم ہوتے ہیں ۔۔۔ کبھی کبھی جو بات ہم سر سری لہجے میں کہتے ہیں بچے ان کو دل پر لے لیتے ہیں ۔۔۔ ایسا ہی کچھ دونوں کے ساتھ ہوا تھا ایک طرف ہانیہ نے جب اپنی شادی کے لیے کہا تھا تو ڈر گئے تھے اور اوپر سے ان کے پاپا کا سختی سے منع کرنا ان کو بیمار کرگیا ۔۔۔ ولید خانزادہ سوچوں کے بھنور میں پھنسا تھا ۔۔۔
“میں نہیں رہ سکتا ان کے بغیر پلیز پاپا ۔۔۔ منان نے پھر کہا ۔۔۔ منت بھرا انداز تھا اس کا ۔۔۔
“میں بھی نہیں رہ سکتا پاپا ۔۔۔ حنان نے ڈرتے ہوۓ کہا اور اس کے سینے سے لگ گیا ۔۔۔ دونوں بچوں کی بےبسی سے کہی بات پر وہ ایک فیصلہ کرچکا تھا ۔۔۔ اس سے زیادہ ان دونوں کو تکلیف دینے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔
“بےفکر ہوجاؤ پاپا پوری کوشش کریں گے اپ کی ٹیچر کو ہمیشہ کے لیۓ اپ کے پاس لے آئیں ۔۔۔ ولید خانزادہ کی بات پر دونوں کے چہرے کھل اٹھے ۔۔۔
“تھینک یو پاپا یو آر گریٹ ۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہے کر اسے گلے لگا لیا ۔۔۔ ان دونوں کی مسکراہٹ پر وہ بےانتہا خوش ہوا تھا ۔۔۔
اسی وقت مس ہانیہ ناک کرتی ہوئی اس کے اسٹڈی میں آئی ۔۔۔
سلام دعا کے بعد وہ صوفے پر بیٹھی تھی ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اس کا چہرہ بغور دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
” مجھے نہیں پتہ کہ میرے بچے زیادہ آپ کو چاہتے ہیں یا آپ نے میرے بچوں کو زیادہ پیار دیا ہے ۔۔۔ وہ الریڈی حیران تھی اس کے اس طرح بلانے پر ۔۔۔ اب ان کی بات سن کر شاک ہوئی ۔۔۔
“جی سر میں اپ کی بات کا مطلب نہیں سمجھی ۔۔۔۔ اس نے جس انداز میں کہا تھا وہ ہانیہ کے لئے حیرت کا باعث تھا ۔۔۔
“کیا مجھ سے شادی کریں گی میرے بچوں کی خاطر ۔۔۔ ولید خانزادہ نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔۔
“واٹ وہ حیران ہوئی اتنا جلدی یہ سب ہوگا وہ سوچ نہیں سکتی تھی ۔۔۔ اتنا مغرور شخص اس عاجزی کے ساتھ پرپوز کرے گا ہانیہ نے سوچا نہ تھا ۔۔۔ اس کے کان سائیں سائیں کررہے تھے ۔۔۔
” میں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ یہ شادی صرف میں اپنے بچوں کے لئے کر رہا ہوں ۔۔۔ میری دنیا میری کل کائنات میری بیوی کشف ہے , میں محبت کے معاملے میں ذرہ شدت پسند واقع ہوا ہوں اس لیۓ اتنے سال شادی نہیں کی کیونکہ مجھے کبھی بیوی کی کمی ہی نہ محسوس ہوئی اور اج بھی مجھے بیوی کی ضرورت نہیں پر میرے بچوں کے اگے مجبور ہوکر اپ کو پرپوز کررہا ہوں ۔۔۔ اپ کو یہاں دنیا بھر کی آسائش مہیا کروں گا دنیا کی ہر چیز اپ کے قدموں میں ہوگی ۔۔۔ سواۓ میرے مجھے اپ خود سے کوسوں دور پائیں گی , میرے علاوہ سب اپ کا ہوگا پیسا بینک بیلنس ان میں کسی بھی چیز کے لیۓ کبھی میں انکار نہیں کروں گا بس مجھے اس دائرے سے دور رکھیۓ گا ۔۔۔ میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوں ۔۔۔ چاہتا تو اپ کو دھوکا دے کر پرپوز کرسکتا تھا اگر کرتا تو یہ زیادتی ہوگی اس لیۓ سب سچائی سے بتا کر اپ سے پوچھتا ہوں کیا سب جان کر بھی اپ مجھ سے شادی کرنا چاہیں گی ۔۔۔ آخری فیصلا اپ کا ہوگا ۔۔۔۔ ولید خانزادہ کی اتنی لمبی تقریر سننے کے بعد بھی وہ وہیں بیٹھی رہی ۔۔۔ وہ اسے منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
“پھر اپ کا کیا خیال ہے اس پرپوزل کے بارے میں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے پوچھا ۔۔
وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی حیرت سے ۔۔۔
