Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
ناول انمول سے بےمول
ازقلم صبا مغل
قسط 14
رانیہ صبح کو شیشے کے سامنے بیٹھی تھی ۔۔ اپنے بال سلجھا رہی تھی , کل رات وہ اس پر اپنا حق جتا کر جلدی سوگیا ۔۔۔ جس سھاگ رات کی تعریفیں اس نے سن رکھیں تھیں ویسا تو کچھ نہ ہوا سعاد نے ایک دفعہ تعریف کرنے بعد دوبارہ اس کے حسن کا کوئی قصیدہ نہ پڑھا ۔۔۔ کیا تھا جو دل کو کچوے لگا رہا تھا رانیہ کو سمجھ نہ ایا ۔۔۔
“مان لو رانیہ , مان باپ کی بات نہ ماننے کا نتیجہ ہے یہ , ایسا شخص تمہارے نصیب میں تم نے لکھ لیا جس سے تمہاری ذہن ہم آہنگی نہیں جو تم سے بلکل الگ ہے , تم پہلے دن پچھتارہی ہو ۔۔۔ کتنا افسوس کا مقام ہے نا ایک رات میں تم پچھتانے پر مجبور ہوگئی کیسے گزرے گی اتنی لمبی زندگی اس کے ساتھ ۔۔۔ اندر کی آواز کو دبانے کے لیۓ برش پٹخا رانیہ نے ۔۔۔
“رانیہ کیا کررہی ہو میری نیند ڈسٹرب ہورہی ہے ۔۔ سعاد نے چڑکر کروٹ بدلتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“سوری سعاد ۔۔۔ رانیہ نے بلکل ہلکی آواز میں کہا جس کا جواب نہ دیا اس نے ۔۔۔
“اب کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔۔ مجھے نبھانا پے یہ رشتہ ۔۔۔ یا میں سعاد جیسی بن جاؤں یا اسے خود جیسا بنادوں ۔۔۔ رانیہ کے اندر سے آواز آئی ۔۔۔ اسی وقت دروازہ ناک ہوا اپنی سوچوں کو جھٹک کر اس نے دروازہ کھولا سر پر دوپٹا لیتے ہوۓ ۔۔۔
سعاد اب تک سویا ہوا تھا اس نے ایک نظر اسے دیکھا تھا ۔۔۔ نایاب اور سارا دروازے پر تھیں ۔۔۔
دونوں نے اسے باہر انے کو کہا سلام دعا کے بعد , اس نے اندر کا راستہ دیا پر سعاد کی نیند ڈسٹرب نہ ہو اسے باہر بلا لیا ۔۔۔
دونوں اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے لگی جس پر اس نے اپنے تاثر نارمل رکھے پر اس کے ہر انداز سے شوخی غائب تھی جو اس کی طبیت کا حصہ تھی کبھی , نہ روڈ ہوئی نہ شرمائی , کیونکہ دونوں رویوں کے لیۓ اس کے پاس وجہ نہ تھی ۔۔۔ شرماتی اس صورت جب کل رات سعاد نے اسے سراہایا ہوتا جی بھر کے اس کی تعریفوں میں زمیں آسمان ایک کیا ہوتا ایسا تو کچھ نہ ہوا تھا سو شرمانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔۔۔ روڈ اس صورت ہوتی جب سعاد نے اس کا حق نہ دیا ہوتا تو یہ بھی رویہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔
“ویسے بدصورت بھی کسی کی بیوی ہو شوہر پہلی رات اسے بھی منہ دکھائی دیتا ہے اور اس کی تعریفوں میں زمیں آسمان ایک کرتا ہے پر سعاد نے تو حد ہی کردی , اس کی نظر میں اپنے علاوہ کسی کے احساسات معنی نہیں رکھتے ۔۔۔
رانیہ نے کلس کر سوچا۔۔۔
“کیا ہوا صبح ہی صبح منہ میں کونسی تسبیع کا ورد ہے ۔۔۔ سارہ نے رانیہ سے کہا شراعت سے ۔۔۔
“کچھ نہیں اپی ۔۔۔ رانیہ نے سنبھل کر کہا ۔۔۔ اپنے چہرے کے تاثرات بالکل نارمل کیئے ۔۔۔
اسی وقت سعاد کی دو اور کزن آئی ان میں سے ایک نے کہا ۔۔۔
“ویسے سعاد بھائی نے منہ دکھائی میں کیا دیا اپ کو رانیہ بھابھی ۔۔۔
رانیہ کے چہرے کا رنگ بدلا ۔۔۔ ضبط کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“کچھ نہیں دیا ۔۔
“واٹ ۔۔۔ سب کے منہ حیرت سے کھلے ۔۔۔ سب سے زیادہ شرمندگی نایاب کو ہوئی جس کو افسوس ہوا خود پر , اس کے دماغ سے کیسے نکل گیا سعاد اس ٹرینڈ کو نہیں مانتا اور فالوو نہیں کرے گا وہ جانتی بھی تھی پر شادی کے مصروف دنوں میں اسے یاد نہیں رہا اپنے بھائی کو سمجھانا ۔۔۔ اب کیا ہوسکتا تھا جو ہونا تھا وہ ہوگیا ۔۔۔ صرف کاش ہی رہ گیا تھا اب کہنے کو ۔۔۔
“سعاد نہیں مانتا ایسے ٹرینڈس اور نہ فالوو کرتا تم لوگ تو جانتی ہو ۔۔۔ نایاب نے سنبھل کر کہا ۔۔۔
“ہاں سہی کہا نایاب آپی ۔۔۔ یاد ایا اس کی کزنز کو ۔۔۔ نایاب کو کام یاد ایا تو وہ اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔ اسی وقت فیاض ایا اب بھی رونمائی کا ٹاپک زیربحث تھا اور سارا کے پاس ایا اور کہا ۔۔۔
“یہ بھی خوب رہی رانیہ , چلو اچھا ہے میں نے چاندی کی تو انگوٹھی دی سارا کو , سعاد نے تو وہ بھی نہیں دی , اس بارے میں تمہاری کیا راۓ ہے ۔۔۔ فیاض کے اس مزاحیہ طنز پر اسے اپنے کہے لفظ یاد آۓ جو کبھی اس نے کہے تھے سارا آپی سے ۔۔۔ اج احساس ہوا مکافات عمل اٹل ہے اس نے سارا کا مذاق بنایا تھا اج خود کو سننا پڑا,تو اچھی طرح احساس ہوا تھا اپنی غلطی کا ۔۔۔
“رانیہ تم کہو نہ ان سے , سعاد ان فضول رسموں کو نہیں مانتا ورنہ دینے کو ڈائمنڈ سے کم گفٹ نہیں دیتا ۔۔۔۔ سارا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے کہا ۔۔۔ اس کو تسلی دینے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
وہ حیران ہوئی سارا اپی کی شرمندگی پر , اس نے اپنے شوہر کا ساتھ نہ دیا بلکہ اسے ان سوالوں کو جواب دینے کی ہمت دی کیونکہ پورے خاندان میں یہ بات نے گردش کرنا ہی تھا ۔۔۔
سب کزنز میں ہنسی مذاق شروع ہوگیا ۔۔ اب رانیہ ریلکس ہوگئی تھی کیونکہ سارا آپی جو اس کے ساتھ تھی ۔۔۔
کچھ دیر میں سعاد فریش ہوکے اگیا اور دونوں نے ساتھ ناشتہ کیا ۔۔۔ رات کو ولیمہ تھا اس لیۓ پارلر جانا تھا دن میں سارا نے اسے بتادیا تھا ۔۔۔
پارلر جانے کے لیۓ وہ اپنا پرس اٹھانے کمرے میں آئی تو سارا بھی اس کے پیچھے آئی ۔۔۔
“سوری رانیہ مجھے اندازہ نہ تھا کہ فیاض اس طرح کہیں گے تم سے پلیز دل برا نہ کرنا اپنا ہماری طرف سے ۔۔۔ سارہ کے چہرے پر بےانتہا شرمندگی تھی ۔۔۔
“ارے اپی مجھے بلکل برا نہیں لگا بلکہ مجھے میری غلطی کا انہوں نے احساس دلایا ہے ۔۔۔ بلکہ اپ مجھے معاف کریں میں نے غلط کیا تھا ۔۔۔ رانیہ نے ہاتھ جوڑے , جانے کیا ہوا , سارا اپی نے اسے کھینچ کے گلے لگالیا ۔۔۔
“پاغل ہو کیا تم ایسے معافی مانگو گی کیا , تم میری چھوٹی بہن ہو ۔۔۔ دو دن برا لگا پھر میں نے کچھ دن بعد خود ہی دل سے معاف کردیا تمہیں ۔۔۔۔ جانے کیوں رانیہ روپڑی دکھ کسی اور بات کا تھا پر بہانہ ملا تو روپڑی ۔۔۔
“ارے رو مت , کیا ہوا کوئی اور بات بری تو نہیں لگی ۔۔۔ جانے کیوں اس کا یوں سسکنا چونکا گیا سارا کو اس لیۓ پوچھ بیٹھی ۔۔۔
“ارے نہیں اپی اپ کے محبت بھرے انداز پر رونا اگیا ۔۔۔ رانیہ نے سنبھل کر کہا ۔۔۔
“اچھا یہی بات ہے نہ اور کچھ تو نہیں , میں تمہاری بڑی بہن ہوں سمجھی کوئی مسئلہ ہو بتادینا ۔۔۔
“نہیں اپی میں خوش ہوں ۔۔۔ رانیہ نے سنبھل کر کہا ۔۔۔
“رانیہ تم ہماری جان ہو تمہاری ذرہ سی تکلیف ہمیں دکھی کرتی ہے ۔۔۔ بہت پیار کرتے ہیں تم سے سب ۔۔۔ سارا نے دل سے کہا ۔۔۔ اس کا اشارہ اپنے گھروالوں کی طرف تھا ۔۔۔
“جانتی ہوں اپی ۔۔۔ رانیہ پھیکا سا ہنس کر بولی ۔۔۔
“ویسے سعاد سے بھی کوئی مسئلہ ہو نایاب اپی کو کہو گی وہ یہاں بیٹھی بیٹھی سعاد کو سیدھا کرنا جانتی ہیں , سمجھی پریشان نہ ہونا ۔۔۔ سارا نے اسے پیار سے سمجھایا ۔۔۔
“جی اپی ۔۔۔ رانیہ نے کہا ۔۔۔ سارا اور وہ دونوں پارلر کے لیۓ روانہ ہوۓ ۔۔۔
@@@@@@@@
” بیٹا منان, اپ مجھے بتاؤ اپ انٹی ہانیہ کیوں کہنے لگے ہو مس ہانیہ کو , اپ دونوں نے کہا تھا ماما بولو گے جب بابا اسے یہاں لائیں گے ۔۔۔
ولید آنزادہ نے پوچھا ۔۔۔
ولید خانزادہ نے دونوں بچوں سے پوچھا تھا ایک بار پہلے بھی پر دونوں خاموش رہے , اب دوسری دفعہ خاص کر منان سے مخاطب ہوکر پوچھ رہے تھے ۔۔۔
پچھلی بار غلطی یہ کی تھی ہانیہ کے سامنے پوچھا تھا اس بار اکیلے میں پوچھ رہا تھا ام ے کمرے میں ۔۔۔ اس وقت ہانیہ ڈائمنڈ کی جیولری سلیکٹ کررہی تھی اج رانیہ کے ولیمے کے لیۓ ۔۔۔ جیولر کئیں ڈیزائین دکھا چکا تھا پر اسے پسند نہیں ارہے تھے ۔۔۔ ایک اور جیولر کو ولید خانزادہ بُلا چکا تھا ہانیہ لاؤنج میں بیٹھی سلیکشن کررہی تھی ۔۔۔
ولید خانزادہ بچوں کے کمرے میں ان سے بازپرس کررہا تھا ۔۔۔
“میں نے اپ دونوں سے کہا تھا انہیں ماما بولو , انہوں نے بھی تو کہا تھا پھر کیا وجہ ہے ۔۔۔ اس دن تو ہانیہ نے بھی ہاں میں ہاں ملاکر کہا تھا مجھے بلائیں ماما ۔۔۔
“پھر کیا ہوا جو نہیں کہے رہے ۔۔۔۔ یہ بات غور کے قابل تھی ۔۔۔
“بابا کوئی وجہ نہیں ہے , بس ہمیں اچھا لگتا ہے یہی کہنا ۔۔۔ منان نے جلدی سے کہا ۔۔۔ جبکہ حنان تو ساکت ہوکے بیٹھا تھا کیونکہ وہ ولید خانزادہ سے ڈرتا بھی تھا اور تھوڑی شاۓ نیچر کا بھی تھا ۔۔۔
“شیور اور کوئی بات نہیں ۔۔۔ ولید خانزادہ اپنے بچوں کی رگ رگ سے واقف تھا کوئی بات ضرور ہے ۔۔۔ پر کیا ۔۔۔ وہ سوچتا رہ گیا ۔۔۔ ہر کیمرہ چیک کرچکا تھا ان پندرہ دنوں میں ایسی کوئی قابلِ گرفت بات نہ تھی ۔۔۔
“نو پاپا ۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔
وہ اٹھ کے چلاگیا ۔۔۔ دونوں نے سکوں کی سانس لی ۔۔۔
“تھینکس گاڈ تم نے بتایا نہیں ۔۔۔ منان نے حنان سے کہا ۔۔۔
“دیکھو بچوں یہ ہمارا سیکرٹ ہے کسی کو بتانا نہیں ہے اوکے ۔۔۔ ماما کہوگے تو کتنا عجیب لگتا ہے سب ایسی عجیب نظروں سے دیکھیں گے مجھ پر ہنسیں گے , اس لیۓ ہانیہ آنٹی ٹھیک رہے گا ۔۔۔ آپ کی ماما تو اللہ کے پاس چلی گئیں ہیں میں اپ کی ماما نہیں ہوں , صرف آنٹی ہوں اوکے ۔۔۔ اس نے پڑھائی کے دوران ان دونوں کو سمجھایا ۔۔۔ بظاہر ایسا لگے جیسے وہ پڑھا رہی ہو حقیقت میں کچھ اور ہو ۔۔۔ رضیہ اسے کیمرہ کا بتا چکی تھی اس لیۓ احتیاط بھی ضروری تھی ۔۔۔
وہ یہ سب باہر بھی کہے سکتی تھی پر رضیہ بی ہر وقت ساتھ ہوتی تھیں اس لیۓ رسک نہیں لینا چاہتی تھی ۔۔۔۔صرف پڑھائی کے وقت ان کے سر پر رضیہ سوار نہیں ہوتی تھی ۔۔۔
ان دونوں کو بتاچکی تھی “اگر اپ میرے بارے میں کچھ بھی برا کہوگے اپنے پاپا سے , اپ کے پاپا مجھے میرے گھر واپس بھیج دیں گے اور خود دوبارہ مصروف ہوکر بھول جائیں گے اپ دونوں کو ۔۔۔ وہ ان کو اچھی طرح ڈرا چکی تھی ۔۔۔
وہ دونوں حیران تھے کہ ” ان کی ٹیچر پہلے جیسی نہیں رہیں پر ڈر لگتا تھا اگر بابا کو بتادیا تو ہمیں چھوڑ جائیں گی ۔۔۔ اسی ڈر سے دونوں خاموش تھے ۔۔۔۔
ولید خانزادہ جب کبھی پوچھتا ہانیہ کے بارے میں دونوں بچوں سے , دونوں اس کی تعریف کرتے , پر باپ کا دل کچھ گڑبڑ کا احساس دلاتا رہتا ۔۔۔ پر وہ بغیر وجہ کے ہانیہ کو کچھ کہنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
کہیں نہ کہیں وہ خود محسوس کرچکا تھا جیسا وہ سمجھتا تھا ہانیہ کو وہ ویسی بلکل نہیں ۔۔۔ پر بغیر ثبوت کے کچھ کہنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
اگلے ہفتے ریسپشن تھا ان کا , جس کے لیۓ لاکھوں کی مالیت کا گاؤں تھا اس کے علاوہ ڈائمنڈ کا سیٹ جیلوری سب فارن سے منگوایا تھا مہنگے سلون میں بکنگ تھی اس کی ۔۔۔ ولیمہ رسیپشن فائیوو اسٹار ہوٹل میں تھا ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اسے اپنے سرکل میں انٹروڈیوس کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا ۔۔۔ یہ سب وہ صرف اپنے بچوں کے لیۓ کررہا تھا اب اچانک بچوں کا یہ رویہ اسے پریشان کررہا تھا ۔۔۔ اب ریسپشن کینسل بھی نہیں کرسکتا تھا یہ اس کی عزت کا سوال تھا ورنہ وہ کچھ حد تک مایوس ہوچکا تھا ہانیہ سے ۔۔۔
اب تک جو وہ چاہ رہی وہ اسے دے رہا تھا بدلے میں صرف بچوں کی خوشی اس کی ڈیمانڈ تھی جسے بھی ہانیہ فارگرانٹیڈ لے رہی تھی ۔۔۔ “
بچے خوش نہیں تھے یہ تو طے ہے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے سوچا ان کے کمرے سے نکلتے وقت ۔۔۔
@@@@@@@@@@
“کوئی سیٹ ڈن ہوجاۓ تو دے دجیۓ گا پےمینٹ پہنچ جاۓ گی ۔۔۔ ولید خانزادہ نے جیولر سے کہا اور ایک نظر ہانیہ کو دیکھا جو محو تھی سلیکشن کرنے میں ۔۔۔
“ہانیہ ۔۔۔ ولید نے بلایا ۔۔۔
“جی ۔۔۔ ہانیہ نے چونک کر سوالیہ انداز میں دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کیا کہنا ہے کہیں ۔۔۔
“میرا خیال ہے دو تیں لے لیں , مسئلا حل ہوجاۓ گا ۔۔۔۔ ولید خانزادہ نے اس کی مشکل دور کردی تھی کیونکہ وہ اندازہ کرچکا تھا کسی ایک پر دل نہیں مان رہا تھا اس کا اس لیۓ اتنا ٹائم لےرہی ہے ۔۔۔
“واقعی میں لے لوں ۔۔۔ ہانیہ نے چہک کر پوچھا ۔۔۔ وہ بےانتہا خوش ہوئی تھی اس کی بات پر ۔۔۔
“ہممم لے لیں ۔۔۔ ایک ادھ بچوں سے سلیکٹ کروالیں دونوں خوش ہوجائیں گے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اپنی طرف سے ترپ کا پتہ پھینکا تھا ۔۔۔۔ ہانیہ اپنے خیال میں تھی اس کا دھیاں نہیں گیا اور بےساختہ بولی ۔۔۔
“پہننا مجھے ہے بچوں کو نہیں تو سلیکشن بھی میری ہوگی ۔۔۔ ولید خانزادہ اسے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔ جو اسے سمجھنا تھا وہ اچھی طرح سمجھ چکا تھا ۔۔۔ ملامت سے دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔ “اوکے ایز یور وش ۔۔۔
وہ لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا ۔۔۔
“ارے میں نے پوچھا ہی نہیں ولیمہ کے ٹائم تک تو اجائیں گے ۔۔۔ ہانیہ نے سوچا پر دوبارہ مصروف ہوگئی سیٹ سلیکشن میں ۔۔۔ سیڑھیوں پر کھڑے دونوں بچے اسے دیکھ رہے تھے محبت سے ۔۔۔۔
@@@@@@@@@
رانیہ بینکیوٹ پہنچ گئی تھی پر سعاد تھوڑا لیٹ ہوگیا تھا کیونکہ اس کے دوستوں کے ساتھ مصروف رہا تھا شام سے ۔۔۔ سب حیران ہوۓ دلہن ریڈی ہے دلہا پہنچا ہی نہیں ۔۔۔ یہ الریڈی ڈیسائیڈیڈ تھا دونوں کی ساتھ انٹری ہوگی اور ویسے بھی یہ کمبائن فنکشن تھا ۔۔۔
فوٹو شوٹ ہونے لگا رانیہ کا کچھ دیر میں پہنچ گیا سعاد اور دونوں کی ساتھ انٹری ہوئی ۔۔۔ وہ وائیٹ میکسی میں شہزادی لگ رہی تھی جبکہ وہ بلیک کمپلیٹ میں اکافی ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔۔ کافی شور شرابہ میوزک لائیٹنگ کا ردبدل پھولوں کی برسات ہوئی ان دونوں پر پھر فوگ سسٹم ۔۔۔ کافی رومینٹک سسٹم تھا سب بےانتہا تعریف کررہے تھے کپل کی ۔۔۔ فوگ سسٹم کی وجہ سے کچھ گیلا پن ہوگیا تھا فلور جیسا کہ آرٹیفشل ٹرانسپیرینٹ سا بنا فلور تھا اس لیۓ رانیہ کا پاؤں پھسلنے لگا تھا اگر بروقت سعاد نہ تھامتا تو وہ گرپڑتی پھر بھی تھوڑا عجیب ہوگیا ماحول کہیں ہنسی تو کہیں افسوس کا سماں بندھ گیا تھا ۔۔ ہاۓ ہیل کی وجہ سے سنبھلنا مشکل تھا ورنہ خود کو سنبھال لیتی رانیہ خود ہی ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا نہ گرکر بھی وہ گری ہو جیسے ۔۔۔
کچھ دیر بعد سب نارمل ہوگیا پر رانیہ نے محسوس کیا سعاد کے تاثرات سرد سے تھے ۔۔۔۔ رانیہ کو فکر پریشانی ہوئی اس کے موڈ کی ۔۔۔
دوسری طرف صبا جو جلدی میں اسٹیج کی طرف جارہی تھی اسے ثوبان نے روکا ۔۔۔
“صبا ۔۔۔ اس کی پکار پر پلٹی ۔۔۔
“دھیاں سے یار , میں تمہارے ساتھ نہیں گر نہ جاؤ کہیں ۔۔۔ ثوبان نے پیار سے کہا ۔۔۔
وہ شرماگئی ۔۔۔ “جی … بس اتنا کہے سکی ۔۔
“کچھ دیر میں فلور صاف ہوجاۓ گا ڈونٹ وری ۔۔۔ ثوبان نے بتایا ۔۔۔
“جی خیال کروں گی ۔۔۔ صبا نے کہا ۔۔۔
“گفٹس ساتھ دیں گے رانیہ اور سعاد کو , میں ارہاہوں لے کر اسٹیج پر ۔۔۔ ثوبان نے یاد دلایا ۔۔۔
“اوکے اپ جلدی اجائیں ۔۔۔ صبا نے کہا ۔۔
کچھ دیر میں ثوبان جاکر گفٹس لایا اور دونوں نے مل کر رانیہ اور سعاد کو دیئے اس کے علاوہ انہوں نے بھی فوٹو کھینچ وائی ان کے ساتھ ۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
ہانیہ خوبصورت میکسی پہن کر آئی تھی ڈائمنڈ کا سیٹ نمایاں تھا بلیک میکسی پر ۔۔ ولید خانزادہ کو دیکھ کر محفل کا دوسرا سمان بندھ گیا ۔۔۔ سب کا بڑھ بڑھ کر ملنا ولید سے ہانیہ کو اور مغرور کرنے لگا تھا ۔۔۔ بچے اسے دیکھ کر خوش ہورہے تھے ان کو اپنی حسین ماما پسند تھی ۔۔۔
ولید خانزادہ صرف احد صاحب کے اسرار پر اس محفل کا حصہ بنے تھے ورنہ اگلی صبح کی لندن کی فلائیٹ تھی ۔۔۔ جانا تو نہیں چاہتے تھے پر مجبوری تھی ۔۔۔
ہانیہ بچوں کو پہلے سمجھا چکی تھی ” سارا وقت میرے اگے پیچھے پھرنے کی ضرورت نہیں دعوت میں رضیہ بی کے ساتھ رہنا ہے اپ دونوں کو ۔۔۔
جبکہ ولید خانزادہ نے اعتراض کیا ہانیہ نے بچوں کا نام لیا کہ وہ چاہتے ہیں ۔۔۔ جب اس نے پوچھا تو بچوں نے خود کہا رضیہ بی چلیں اس لیۓ بچے رضیہ بی کے ساتھ ہی تھے دعوت میں ۔۔۔
کئیں لوگ اس سے مل رہے تھے پر اس کی توجہ کا مرکز اپنے بچے تھے جانے کیوں ہانیہ کو آپنے گھر میں لانے کے بعد وہ زیادہ احتیاط پسند ہو گیا تھا حالانکہ ایسا ہونا چاہئے تھا کہ ریلکس ہو جاتا وہ , پر یہاں قصہ الٹ تھا کیونکہ بچوں کے انداز عجیب و غریب تھے جو اسے مطئمن نہیں ہونے دے رہے تھے ۔۔۔
ولید خانزادہ کو ہانیہ کے گھر والے بہت پسند آۓ تھے جن کا ہر انداز پُرخلوص تھا اج جس طرح ثوبان اور صبا نے ہانیہ کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیۓ گفٹس لاۓ تھے اسے خوشی ہوئی کیونکہ اسے چیزوں کی مالیت سے زیادہ دینے والوں کا خلوص امپریس کرتا تھا ۔۔۔دونوں بچوں کو پیار کیا سب گھروالوں نے ایون دلہن بنی رانیہ نے جس طرح جھک کر دونوں سے ملی وہ متاثر کرگیا ولید کو ورنہ ان کی سرکل کی برائیڈس تو بچوں کو اگنور کرتی ہیں اور بچوں برائیڈس بہت پسند ہوتیں ہیں ۔۔۔
مہندی کی رات بھی دونوں بچوں کی ضد تھی ہم بھی مہندی لگائیں گے گھروالوں نے دونوں کو پروٹوکول دیا دونوں نے رانیہ کو مہندی لگائی تو لگائی پر ضد کرکے صبا کو بھی لگائی کیونکہ وہ بھی برائیڈ لگی تھی دونوں کو , سب مسکرا اٹھے دونوں کی خواہش پر صبا اور ثوبان دونوں کی ہتھیلی پر بھی لگادی مہندی ۔۔۔ کسی نے برا نہ مانا ۔۔۔ بلکہ سب دونوں کو پیار دے رہے تھے ۔۔۔ یسرا بیگم نانو امی بن گئیں تھیں جبکہ احد صاحب نانو بابا تھے بچوں کے ۔۔۔ بھلا دو معصوم بچوں سے کسی کو کیا پرابلم ہوسکتا ہے ۔۔۔
ان مخلص لوگوں کے رویۓ دیکھ کر وہ اپنے بچوں کو روکنا نہیں چاہتا تھا ان کے گھر جانے سے ۔۔۔ اب ہانیہ کا بدلہ انداز اسے چبھ رہا تھا پر احد صاحب کا لحاظ کرتے ہوۓ چپ تھا جب تک کچھ ٹھوس وجوہات نہیں ملتیں ہانیہ کے رویۓ کی ۔۔۔ وہ خاموشی اختیار کیۓ ہوۓ تھا ۔۔۔
دونوں گھر اگۓ تھے بچوں کو لے کر ۔۔۔ بچے تھکے تھے ان کو رضیہ کو چینج کرنے کا کہے کر ہانیہ بیڈروم میں اگئی ۔۔۔
ولید خانزادہ ضروری کال سننے کے لیۓ باہر ٹھرگیا ۔۔۔ ادھے گھنٹے کے بعد روم میں ایا تو ہانیہ کو بلیک سلک کی نائیٹی میں دیکھ کر چونکا ۔۔۔ اس کے جسم کی سب رعنائیاں نمایاں تھیں ۔۔۔ پچھلی کئیں راتوں سے وہ یہ سب کررہی تھی پر وہ اپنے دل کا کیا کرتا جس میں کشف ہی کشف تھی اسے افسوس ہوا اس لڑکی کے لیۓ لمحے بھر کے لیۓ دماغ میں ایا اسے اس کا حق دے دے پر دل کا کیا کرتا جو رضامند نہ تھا ۔۔۔
“ہانیہ میں اسٹڈی میں جارہا ہوں کچھ کام ہے صبح سویرے فلائیٹ ہے اپ کے اٹھنے کی ضرورت نہیں اوکے ابھی کہے دیتا ہوں اللہ حافظ ۔۔۔ اپنا اور بچوں کا خیال رکھنا ۔۔۔
اتنا کہے کر ٹھرا نہیں اور ایک بھی غلط نظر ڈالے بغیر روم سے چلا گیا ۔۔۔ وہ اسے جاتا دیکھتی رہی ۔۔۔
شیشے کے سامنے کھڑی پوچھ رہی تھی ۔۔۔ ” بتاؤ میں خوبصورت نہیں بتاؤ ۔۔۔ شیشہ چیخ چیخ کر اس کے حسن کی تعریف کررہا تھا ۔۔۔
“کیا کمی ہے مجھ میں پچھلی پانچ راتوں میں ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہیں ڈالتا یہ شخص مجھ پر کیوں ۔۔۔ کیوں ۔۔۔ کیوں ۔۔۔ وہ پاغلوں کی طرح خود سے پوچھتی رہی ۔۔۔ اتنے سال ہوگۓ اس کی بیوی کو گزرے پھر کیوں نہیں دیکھتا مجھے ۔۔۔
“ایسے نہیں چلے گا ابھی جاکر پوچھتی ہوں ۔۔۔ سلیولیس گھٹنوں تک نائیٹی کسی مومن کا ایمان ڈگمگادے پر ولید خانزادہ پر فرق نہ پڑا تھا اسے دیکھ کر اس کا غصہ ساتویں آسمان پر پہچنے لگا تھا یہ سوچ سوچ کر ۔۔۔
گاؤں پہن کر خود کو ڈھانپا اور کس کر ڈوریان باندھی تھیں ۔۔۔ روم سے نکل آئی ۔۔۔ اسٹڈی گئی وہاں نہ پاکر ولید خانزادہ کو حیران ہوئی ۔۔۔ اس لیۓ دوسرے کمروں میں جھانکا کہیں نہ ملا اسے ۔۔۔
ایک کمرہ جس کو اکثر لاک لگا رہتا تھا اج کھلا دیکھ کر حیران ہوئی اس سے پہلے اندر اندر چلی جاتی ولید خانزادہ کی آواز پر چونکی ۔۔۔۔
“مجھے معاف کردو کشف , تمہاری جگہ کسی کو دینے کا خطاکار ہوا ہوں , پر یہ سب ہمارے بچوں کے لیۓ کیا ہے میں نے , تم ناراض تو نہیں ہونا , نہیں تم ناراض نہیں ہوسکتی تمہیں اپنے ولید سے ناراض ہونا نہیں اتا میں جانتا ہوں ۔۔۔
اس کے لفظ لفظ میں درد تڑپ تھی ۔۔۔ اس کے خوابوں کا شہزادہ کسی اور کا ماتم کررہا تھا ۔۔۔ وہ ہکا بکا ہوکر دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“وہ لڑکی تمہاری جگہ لینا چاہتی ہے پر وہ بےوقوف ہے زندہ لوگ اپنی زندگی میں کسی کو جگہ دیتے ہیں میں تو تمہارے ساتھ ہی مر چکا ہوں کشف ۔۔۔ وہ بےوقوف نہیں سمجھتی ۔۔۔ کم عمر ہے نہ اس لیۓ ایسی حرکتیں کررہی ہے ۔۔۔ سمجھدار ہوتی کب کی سمجھ جاتی میری زندگی میں اس کی جگہ نہیں ہے , میں اسے سب بتا چکا تھا شاید وہ سمجھی نہیں میرے جذبات تمہارے لیۓ , اس لیۓ مان گئی شادی کے لیۓ , ورنہ اس کی زندگی کبھی خراب نہیں کرنا چاہتا تھا میں ۔۔۔ اب مجھے اس کی فکر ہو رہی ہے کہ اس کی زندگی خراب کرنے کا میں ذمہ دار تو نہیں اس لئے سوچا اس کا حق ادا کر دوں گا کیا کروں اس دل کا جو تمہاری جگہ کسی کو دینے کو تیار نہیں , ان آنکھوں کا کیا کروں جو تمہارے سوا کچھ نہیں دیکھتیں ۔۔۔ میں مجبور ہوں کشف میں نہیں ادا کرسکتا اس کاحق ۔۔۔۔
اس سے زیادہ سننے کی ہمت نہ تھی ہانیہ میں , وہ اپنے انسو پونچھتی وہاں سے چپ چاپ پلٹ آئی ۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
“مجھے اپ سے اس بےوقوفی کی امید نہ تھی رانیہ ۔۔ ہیل نہیں پہنی جاتی تو پہنی کیوں ۔۔۔ کتنا شرمندہ ہونا پڑا مجھے ۔۔۔ سعاد نے کمرے میں اتے ہی اسے اس کی بےوقوفی پر لتاڑا ۔۔۔
“پر سعاد وہ سب فوگ کی وجہ سے ہوا ۔۔۔۔ رانیہ نے صفائی دینا چاہی پر وہ اس کی بات کاٹ گیا اور کہا ۔۔۔
“تو مجھے بتاتی میں صاف کروادیتا جلدی کیا تھی تمہیں اسٹیج پر پہچنے کی ۔۔۔
” سعاد یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے جو اپ اتنا غصہ ہورہے ہیں ۔۔۔ رانیہ کی برداش جواب دے گئی اس لیۓ دوبدو بولی ۔۔۔۔
” تمہیں نہیں سمجھ آرہا کہ مجھے کس بات پر غصہ آرہا ہے ۔۔۔ سعاد نے دانت پیس کر پوچھا ۔۔۔
“نہیں مجھے نہیں سمجھ میں آرہا ہے آخر کس بات پر اتنا غصہ آ رہا ہے اپ کو ۔۔۔ رانیہ نے چڑ کر کہا ۔۔
“اف ۔۔ جانتی ہو جب بھی کوئی شادی ہوگی گھر خاندان میں تو ہر جگہ یہ بات ہوگی وہ ہمیشہ ہم لوگوں کو سننا پڑے گا کہ سعاد اور رانیہ کے ولیمے پر دلہن گرتے گرتے بچی پھر نصیحت اور تلقین شروع ہوجائیں گی سب کی ۔۔۔ اب ہمارے بچے ہو جائیں گے ان کو بھی یہ سنا کر ہمارا مذاق اڑایا کریں گے سب ۔۔۔ یہ سوچ کر مجھے الجھن ہو رہی ہے میں تو خاندان کی کوئی شادی اٹینڈ نہیں کروں گا اب سے ۔۔۔۔ سعاد نے اپنی بھڑاس نکالی ۔۔۔
وہ حیران ہوئی اس کی اتنی گہری بات پر وہ سچ ہی کہے رہا تھا ۔۔۔ جو نقشہ اس نے فیوچر کا کھینچا تھا وہ بھی کچھ حد تک سہی تھا ۔۔۔ وہ اس کی نیچر کو سمجھ رہی تھی اس کی برداش نہ تھی لوگوں کے کمنٹس اور جوکس برداش کرسکے ۔۔۔ اب جو ہونا تھا ہوگیا رانیہ کربھی کیا سکتی تھی سواۓ افسوس کے ۔۔۔
“اوکے چھوڑو جی بھرکے دیکھنے دو میرا فیوریٹ ڈریس جو پہنا ہے تم نے ۔۔۔ سعاد نے لہجہ بدل کر کہا ۔۔۔ اس کا حسن اسے بہکا رہا تھا ۔۔۔ موقع بھی تھا دستور بھی تھا اس لیۓ سب فکریں بھلا کر اس کی طرف بڑھا ۔۔۔۔
اج وہ بھرپور انداز میں اس پر اپنی شدتیں لٹانے لگا ۔۔۔ وہ سمٹتی رہ گئی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
