Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

ناول انمول سے بےمول

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 30

“پتا نہیں امی اس بارے میں ابھی سوچا نہیں ۔۔۔ ہانیہ کو سمجھ نہ ایا کیا جواب دے اس بات کا ۔۔۔ لہجے کو نارمل رکھنے کی پوری کوشش کی اس نے ۔۔۔

یسرا بیگم کا یوں اسے دیکھنا , ہانیہ کو نظر چرانے پر مجبور کر گیا ۔۔۔

“میں دیکھتی ہوں بچوں کو امی , صبا آپی کو بہت تنگ کررہے ہونگے ۔۔۔ ہانیہ نے جلدی جلدی کہے کر پاؤں میں سینڈل پہن کر جلدی سے جانے لگی ۔۔۔

اچانک یسرا بیگم نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔ وہ پلٹی نہیں ۔۔۔

“کیا چھپا رہی ہو مجھ سے ہانیہ ۔۔۔ ان کے لہجے میں اداسی تھی وہ ماں تھیں کیسے اپنی بیٹی کا درد نہ سمجھتیں ۔۔

“کچھ نہیں امی ہاتھ چھوڑیں پلیز ۔۔۔ وہ بغیر پلٹے بولی ۔۔۔

“رانیہ اور تم نے کونسی قسم کھائی ہے جو مجھے کچھ نہیں بتاتی , ماں ہوں بغیر دیکھے بھی جانتی ہوں میری دونوں بیٹیوں کو کوئی پریشانی ضرور ہے ۔۔۔ اپنی ماں سے نہ چھپاؤ ہانیہ ۔۔ یسرا بیگم کے لہجے میں التجا تھی ۔۔۔ ماں کا دل تھا کیا کرتیں جس کی گواہی تھی ان کی بیٹیاں خوش نہیں ۔۔۔

اب کے خود کو اچھی طرح سنبھال کر وہ پلٹی اور ان کے ہاتھ تھام کر بولی ۔۔۔

“امی کچھ نہیں چھپارہی ولید بہت اچھے ہیں ۔۔۔ سچ میں امی ۔۔۔

وہ بمشکل مسکرائی تھی اپنی بات کہتے ہوۓ ۔۔۔

ہانیہ کسی صورت اپنی ماں کو دکھ نہیں دینا چاہتی تھی اور اچھی بیٹیوں کو ایسا ہی ہونا چاہیۓ ۔۔۔

“سچ کہے رہی ہو نا تم ۔۔ انہوں نے آس سے پوچھا ۔۔۔

“سچ امی ۔۔۔ ہانیہ نے کوشش کرکے کھل کر مسکرائی اپنی ماں کو تسلی دینے کے لیۓ ۔۔۔

“بسس اللہ تمہیں اور رانیہ کو اولاد کی خوشی سے نوازے ۔۔ میری دعا ہے ۔۔۔ یسرا بیگم نے دل سے کہا ۔۔۔

“جی امی … مجھ سے زیادہ رانیہ کے لیۓ دعا کیا کریں کیونکہ اس کو بچے بہت پسند جو ہیں , میرے حساب سے اسے تو اب تک دوسرا بھی کرلینا چاہیۓ تھا , اتنی شوقین جو ہے بچوں کی ۔۔۔ آخری بات اس نے مذاقً کہی تھی یسرا بیگم کو ہسانے کے لیۓ ۔۔۔ اور وہ واقعی ہنس پڑیں ان کو اسی لمحے ہانیہ کی کہی بات یاد آئی جو وہ اکثر رانیہ کو کہتی تھی ۔۔۔ “رانیہ کی شادی ہو پھر دیکھنا نۓ سال کا کیلینڈر آۓ نہ آۓ پر ہر سال ایک بچہ ان کے گھر ضرور آۓ گا , دیکھنا سب کے سب , لکھوالو یہ بات مجھ سے ۔۔۔ ینگ تو سب ہنس پڑتے تھے پر جبھی یسرا بیگم یہ بات ہانیہ کو کہتے سنتیں تو پینٹھ پر ایک دھموکا ضرور مارتیں اور کہتیں “شرم کرو , کوں اپنی چھوٹی اور کنواری بہن کو ایسی بات کہتا ہے ۔۔۔ شرم کرو , باز اجاؤ , لڑکی ہوکر ایسے کہتی ہو ۔۔۔ پر وہ ہانیہ ہی کیا جو باز آجاۓ ۔۔۔ پھر جب بچے دیکھتی پڑوس کے تو ضرور کہتی ہانیہ ۔۔۔

یادوں کے بھنور سے نکل کر یسرا بیگم نے کہا ۔۔۔

“پہلے ایک تو ہونے دو اسے , اس کے لیۓ بہت دعائیں کرتی ہوں , امریکا میں کہاں کوئی اپنے بچوں کو ہاتھ لگانے دیتا ہوگا اس دیوانی کو , یہاں تو پھر بھی پڑوسیوں کے بچے اکٹھے کرکے بیٹھی ہوتی تھی ۔۔۔

رانیہ کی بات کرتے خوش بھی تھیں پر آنکھیں پرنم بھی ہوئیں اس کو یاد کرکے۔۔۔

“بسس اس بات سے خوش ہوں اسے امریکا پسند تھا اچھا ہوا اس کا شوق تو پورا ہوگیا ۔۔۔ اب کے آنسو پونچھ کر مسکرا کر بولیں تھیں ۔۔۔

“سچ میں امی وہ امریکا ہے سوچ کر خوشی ہوتی ہے ,پر ساتھ میں یہ بھی سوچتی ہوں رانیہ کو کیسے وہاں مزا اتا ہوگا سب اپنوں سے اتنا دور رہ کر ۔۔۔ ہانیہ نے کچھ سوچ کر کہا ۔۔۔

“خیر مزے میں تو ہوگی , اپنے مزے کے لیۓ وہاں بھی ہجوم اکٹھا کرتی ہوگی ۔۔۔ بسس ہمیں یاد کرکے کبھی کبھی شدید اداس ہوتی ہوگی ۔۔۔ یسرا بیگم نے ہنستے ہوۓ اس کی خوبیاں گنوائیں پر آخری جملے میں اداسی تھی ۔۔۔

یسرا بیگم اور ہانیہ پھر رانیہ کی باتیں کرنے لگیں ۔۔۔ رانیہ کا ٹاپک شروع ہوجاۓ تو پھر اور کوئی بات کہاں یاد رہتی ہے کسی کو , یسرا بیگم کا دھیاں ہانیہ پر سے ہٹ گیا اور پرسکوں ہوگئی تھی وہ ۔۔۔ اب وہ دونوں شدت سے رانیہ کو یاد کررہیں تھیں ۔۔۔

@@@@@@@@@

اگلا دن اتوار تھا جس دن ولید خانزادہ اپنے بچوں کے ساتھ بھرپور وقت گزارتا تھا ۔۔۔ وہ ناشتہ کرکے بچوں کو باہر لے جانے کا پروگرام بنایا ۔۔۔ اسے بھی کہا بچوں نے چلنے کو ۔۔۔ پر ہانیہ نے سھولت سے انکار کردیا اور ان کو اجازت دے دی وہ اپنے پاپا کے ساتھ گھومنے چلے جائیں ۔۔۔

دن کے کھانے کا وقت گزر گیا ان کو اتے اتے شام ہوگئی ۔۔۔

اور جب ملازمہ نے ڈھیر سارے کھلونے لاؤنج میں رکھے پھر اور چیزیں اکر رکھنے لگی ۔۔۔ تو وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی ۔۔

“یہ سب کیا ہے رضیہ بی ۔۔۔ ہانیہ نے پوچھا ۔۔۔

“بچوں کی خواہش پر ایک کمرہ سجایا جارہا ہے ۔۔۔ رضیہ بی نے بتایا ۔۔۔ جو دن سے لگی ہوئی تھی ولید خانزادہ کے بیڈروم کے پاس والا کمرہ صاف کروانے میں ۔۔۔

“کس کے لیۓ ۔۔۔ ہانیہ نے حیرت سے ہوچھا ۔۔۔

“بےبی کے لیۓ ۔۔۔۔ رضیہ بی نے آہستہ سے کہا ۔۔ وہ جہاندیدہ خاتوں تھیں دونوں میاں بیوی کی دوری سے اچھی طرح واقف تھی ۔۔۔ رضیہ بی کی نظریں جھکیں ہوئیں تھیں , شرمندگی بھرا ان کا انداز تھا ۔۔

“کس نے کہا ہے ۔۔۔ ہانیہ کا لہجہ شاکنگ تھا ۔۔

“ولید صاحب نے کہا ہے ۔۔۔ رضیہ بی نے آہستہ سے کہا ۔۔۔

اس سے پہلے وہ ولید خانزادہ سے اس سے مطلق پوچھتی وہ خود ارہا تھا دونوں بچوں کے ساتھ ۔۔۔

“ماما دیکھیں پاپا نے بے بی کے لیۓ ہمیں شاپنگ کروائی ہے ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح منان نے کہا ۔۔۔ دونوں کے چہرے کی ایکسائیٹمینٹ دیکھ کر ہانیہ نے اپنے لب بھینچ لیۓ ۔۔۔ وہ ولید خانزادہ سے کچھ بھی کہے سکتی تھی پر بچوں کو تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔

“دیکھیں ماما اپ کے اور پاپا کے کمرے کے پاس والا روم سیٹ کریں گے نیو بےبی کے لیۓ ۔۔۔ کیسا لگا میرا آئیڈیا ۔۔۔ منان نے کہا ۔۔۔

وہ صرف ذرہ سا مسکرائی جس سے لگے کہ وہ بھی خوش ہے جو سب ہورہا ہے ۔۔۔ صرف وہی جانتی تھی کس طرح ضبط کررہی تھی وہ ۔۔۔ شدید غصے کی لہر اندر اٹھ رہی تھی پر برداش سے کام لے رہی تھی ۔۔۔

@@@@@@@

“یہ جو اپ کررہے ہیں غلط کررہے ہیں ۔۔۔ ہانیہ بغیر ناک کے اسٹڈی میں آئی اور سیدھا ولید خانزادہ کے سر پر کھڑی تیز لہجے میں بولی ۔۔۔ اج اس کے انداز میں کوئی لحاظ نہ تھا ۔۔۔

ولید خانزادہ جو کتاب پڑھ رہا تھا اس میں بک مارک رکھ کے کتاب بند کی اور ٹیبل پر رکھی پہلے اور اس کے بعد سینے پر بازو لپیٹے اس نے آۓ برو اچکا کر پوچھا ۔۔۔

“اچھا کیا غلط کیا ہے میں نے ۔۔۔

“میرے بچوں کو کیوں غلط آس اور امید دلارہے ہیں ۔۔۔
دانت پیس کر ہانیہ بولی ۔۔۔ اس کی ڈھٹائی پر حیران ہی تھی وہ ۔۔۔

“جائز خواہش کی ہے میرے بچوں نے ۔۔۔ کہ وہ بےبی کے لیۓ روم سیٹ کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔ انہوں نے بےبی کی ڈیمانڈ تو نہیں کی ابھی تو ۔۔۔ ولید خانزادہ نے سکون سے کہا ۔۔۔

وہ مسلسل گھور رہی تھی جس کا خاطر خواہ ولید پر کوئی اثر نہ تھا ۔۔۔

“ہم نے صرف کمرہ سجایا ہے اور کچھ نہیں ۔۔۔ اتنا بڑا گھر ہے ہمارا , کل ثوبان کے کمرے میں سیٹنگ دیکھ آۓ ہیں , مجھ سے خواہش کی تو بسس اس لیۓ ۔۔۔ ولید خانزادہ جو کم ہی بولا کرتا تھا جانے کیوں اسے وضاحت دینے بیٹھ گیا ۔۔۔

“اور اپ ان کی یہ فضول بات مان کر غلط کررہے ہیں اور کچھ نہیں ۔۔۔ اس کی صفائی دینے کے باوجود ہانیہ کا لہجہ تند تھا ۔۔۔

“اس میں کچھ غلط نہیں ہے , سمجھی تم ۔۔۔ ولید اس کے لہجے اور انداز کو اگنور کر گیا اور جب بولا تو لہجہ پرسکوں لیۓ ہوۓ تھا ۔۔۔

“خود کتنا پرسکوں بیٹھا ہے جبکہ میرا سکوں تباھ کرکے ۔۔۔ ہانیہ نے اس گھورتے ہوۓ سوچا پر کہا نہیں ۔۔۔

ایک نئی بحث شروع ہوگئی دونوں میں , ایک سیر تو دوسرا سواسیر ۔۔۔ دوبدو ایک دوسرے کو جواب دیتے , ایک دوسرے پر الزام لگاتے ٹپیکل میاں بیوی لگ رہے تھے دونوں۔۔۔

“جب کمرا سجے گا تو ان کی خواہش بھی بڑھے گی اور ان کے احساسات بھی اس حوالے سے بڑھیں گے ۔۔۔اتنی سی بات اپ کے سمجھ میں نہیں ارہی ۔۔۔

“اچھا اتنی سی بات ہے یہ , اگر اتنی سی ہی بات ہے تو میں بھی یہ تم سے کہتا ہوں تو کیا اتنی سی بات تمہارے سمجھ میں نہیں ارہی ۔۔۔ اج جانے کیوں ولید خانزادہ بات کو لمبی کھینچ رہا تھا جبکہ عموماً کم ہی ایسا ہوتا تھا , وہ مختصر بات کرنے کا عادی تھا ۔۔۔

“ہاں مجھے نہیں سمجھ ارہی , پر اپ تو سمجھدار ہیں نا , پھر ان کے احساسات کیوں مجروع کررہے ہیں ۔۔۔ ہانیہ نے لڑاکا بیوی کی طرح کمر پر ہاتھ ٹکا کر بولی ۔۔۔

“ان کے احساسات کو مجروع تم کررہی ہو میں نہیں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے دوٹوک کہا ۔۔۔

“اچھا اگر میں کررہی ہوں تو پھر ٹھیک ہے ۔۔۔ پھر ایک بچہ ایڈاپٹ کرلیتے ہیں ۔۔۔ یہی حل ہے اس مسئلے کا ۔۔۔ اب کے پہلو بدل کر وہ بولی تھی ۔۔۔

“بسس ایک لفظ اور نہیں , آئندہ یہ بات مجھ سے نہ کہنا ۔۔۔ سوچنا بھی مت ۔۔۔ ولید خانزادہ نے تیز لہجے میں کہا ۔۔۔

“میں نہیں کہوں گی , اپ بھی ایسا کچھ نہ کہیں ۔۔ آپ سے التجا ہے میری مجھے بخش دیں خود بھی سکوں سے رہیں مجھے بھی رہنے دیں ۔۔۔ شاید اپ بھول گۓ ہیں تو یاد دلادوں کہ اس شادی سے پہلے ہی اپ نے مجھ پر اپنی پہلی بیوی کی حیثیت واضع کی تھی اور میری حیثیت کیا ہوگی یہ بھی واضع کی تھی ۔۔۔

اب کہ وہ بولی تو لہجہ میں التجا تھی ۔۔۔۔ اور اسے پرانی بات کا حوالہ دیا ۔۔۔

“جو تم کہے رہی ہو , میں اس سے انکاری نہیں , پر , لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔ اتنی سی بات تمہارے سمجھ میں نہیں ارہی ہانیہ , یوں تو تم بہت سمجھدار بنتی ہو پھر مجھ پر اکر تم کیوں ایسی بن جاتی ہے ۔۔۔ اب کے وہ کھڑا ہوا اور روبرو ہوکر اس کے , دونوں بازو بازو تھام کر وہ بولا تھا ۔۔۔ وہ جو نظر پھیر گئی تھی اس کے اٹھنے سے ۔۔۔ ولید خانزادہ کے اس قدم پر اس کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔ وہ کبھی اس کو , کبھی اس کی گرفت میں اپنے بازو کو دیکھتے ہوۓ بولی ۔۔۔

“یہ بات اپ خود سے پوچھیۓ گا اپ کے معاملے میں ایسی کیوں ہوں , میں کچھ بھی کہے کر خود کو بےمول نہیں کروں گی , بہت بڑے بزنس ٹائیکوں ہیں نا اپ اتنا نہیں سمجھتے ۔۔۔

ہانیہ نے سخت لفظ استعمال ضرور کیۓ پر نرمی سے اپنے دونوں بازو اس کی گرفت سے آزاد کرکے دروازہ عبور کرگئی ۔۔۔

“ڈیم اٹ کیا سمجھتی ہے خود کو ۔۔۔ ولید خانزادہ نے غصے سے کہا ۔۔۔ وہ اچھا خاصا اسے اریٹیٹ کرگئی تھی ۔۔۔

@@@@@@@@@

آخرکار وہ دن بھی اگیا جس کا سب کو بےصبری سے انتظار تھا ۔۔۔ ثوبان اور صبا پر اللہ نے اپنی رحمت اور نعمت دونوں کی تھی ۔۔۔ بیٹے اور بیٹی کی خوشی سے نواز کر ۔۔۔

پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی ۔۔۔ سی سیکشن سے ڈلیوری ہوئی تھی اس لیۓ دو دن اسپتال میں رہ کر صبا گھر آئی تھی ۔۔۔

بیٹے کا نام عالیان اور بیٹی کا نام علینہ رکھا گیا ۔۔۔ جو سب کو پسند ایا ۔۔۔

رانیہ اور ہانیہ نے بھی بےانتہا خوشی کا اظہار کیا ۔۔۔ حنان اور منان روز دیکھنے جانے لگے تھے دونوں بچوں کو , ناصبا نے اعتراض کیا نا ثوبان نے , بلکہ روز ان دونوں کو وارم ویلکم کیا جاتا ۔۔۔ ایک دن وہ نہ آۓ تو صبا نے فون کرکے استفار کیا ۔۔۔ جس سے ہانیہ اور ولید دونوں کو بےانتہا خوشی ہوئی ۔۔۔ ولید خانزادہ جس کو کبھی کسی نے امپریس نہ کیا تھا اس کو اس گھر کی محبتوں نے ناصرف امپریس کیا بلکہ وہ خود کو ان کا مقروض سمجھنے لگا تھا ۔۔۔ اس گھر اور یہاں کے لوگوں نے اسے اصل رشتون سے روشناس کروایا تھا ۔۔۔ وہ کسی سے کہتا نہیں تھا پر دل ہی دل میں اعتراف ضرور کرتا تھا ۔۔۔

آج بچوں کا عقیقہ تھا ۔۔۔ دونوں بچوں کو نازیہ بیگم تیار کرواکر گئی تھی اور صبا کے کپڑے رکھے اور اسے تیار ہونے کا حکم دیا ۔۔۔

وہ تیار ہوکر شیشے کے سامنے بیٹھی تھی اور اچانک ثوبان اس کے پیچھے ایا وہ مسکرائی ۔۔۔ اسے چین پہنانے لگا ۔۔۔

“صبا تم نے مجھے بہت بڑا تحفہ دیا ہے ۔۔۔ بہت شکریہ میری جان ۔۔۔ یہ چھوٹا سا تحفہ قبول کرو اس خوشی میں ۔۔۔ وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے دل کو دھڑکا رہا تھا ۔۔۔

“شکریہ ثوبان ۔۔۔ صبا نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔ چین پہنا کر اسے کندھوں سے تھام کر اپنے روبرو کیا اور گلے لگالیا ۔۔۔

“ٹم نے مجھے دنیا کی سب سے بڑی خوشی دی ہے جتنا تمہارا شکریہ ادا کروں وہ کم ہے ۔۔۔ وہ شدت جذبات سے بول رہا تھا ۔۔۔ وہ خوشی سے نہال ہورہی تھی ۔۔۔

دونوں ایک دوسرے کی بانہوں میں کھڑے تھے اسی لمحے اچانک سارہ اگئی اور کہا ۔۔۔

“بسس بھی کرو لوو برڈز ۔۔۔ رات میں دروازہ بند کرکے جتنے چاہو شکریہ ادا کرتے رہو ایک دوسرے کا ۔۔۔ سارہ ہنسی اور پیچھے کھڑی ہانیہ کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ تھی ۔۔۔

“صبا آپی آپ اور ثوبان دونوں ڈیزروو کرتے ہو ایک دوسرے کا ساتھ اللہ اپ دونوں کو یونہی خوش رکھے ایک دوسرے کے ساتھ ۔۔۔ اللہ نظر بد سے بچاۓ اپ دونوں کی محبت کو ۔۔۔ آمین ۔۔۔ ہانیہ نے دل ہی دل میں کہا ۔۔۔

دونوں جلدی سے الگ ہوۓ صبا شرمندہ ہوئی جبکہ ثوبان بالوں میں ہاتھ پھیرتا کمرے سے نکل گیا ۔۔۔

@@@@@@@@faraq

“منان یہ کیا طریقہ ہے اس طرح کیوں اسے لے جارہے ہو ۔۔۔ مناں بازو سے پکڑے کھینچتے ہوۓ حنان کو لے جارہا تھا جس کے چیخنے چلانے پر ہانیہ کمرے سے نکل آئی ۔۔۔ لاؤنج میں بیٹھا ولید خانزادہ بھی متوجہ ہوا ۔۔۔ پر جب ہانیہ ان کے بیچ اگئی تھی تو وہ خاموشی سے دیکھنے لگا ۔۔۔

ایسا کم ہی ہوتا تھا جب دونوں بھائی آپس میں لڑتے تھے ۔۔۔

“ماما میرا کھیلنے کا موڈ ہے اور یہ نہیں چل رہا اس لیۓ ایسے لے جارہا ہوں ۔۔۔ منان نے ضدی لہجے میں کہا ۔۔۔

جبکہ حنان رورہا تھا اس کے گھسیٹنے پر ۔۔۔

“حنان بیٹا چپ ہوجاؤ ۔۔۔ میری جان , رو مت ماما کو بتاؤ بھائی کے ساتھ کھیل کیوں نہیں رہے ۔۔۔ ہانیہ نے اس کے لباس کو درست کیا اور پیار کرتے ہوۓ پوچھا تھا ۔۔۔

“ماما مجھے نہیں کھیلنا میرا موڈ نہیں ۔۔۔ حنان نے روتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“مجھے تو کھیلنا ہے نا تمہارے ساتھ تم میرے بھائی ہو تمہارے ساتھ نہیں کھیلوں گا تو کس کے ساتھ کھیلوں گا ۔۔۔ منان تیز لہجے میں بولا ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح منوانے والا لہجہ تھا اس کا ۔۔۔

ولید خانزادہ بھی بغور سن رہا تھا سب ۔۔۔

“حنان بیٹا , منان تمہارا بھائی ہے , دونوں ہمیشہ ساتھ کھیلتے ہو , پھر اج کیا ہوا ہے ۔۔۔ ہانیہ نے سمجھایا حنان کو ۔۔۔

“ماما میں اس سے ناراض بھی ہوں ۔۔۔ اب کے حنان نے اعتراف کیا اصل وجہ کا ۔۔۔

“وہ کیوں ہانیہ نے حیرت سے پوچھا جبکہ منان نے نظریں چرائیں جسکا مطلب واضع تھا کہ وہ جانتا ہے حنان اس سے ناراض ہے ۔۔۔

“اسکول میں یہ اپنے دوست عمر کے ساتھ کھیلتا رہا جبکہ ایک کلاس فیلو نے میرا لنچ چھین کر گرادیا , اپ نے کہا تھا ہم دونوں ایک ہیں , ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑیں , پھر اس نے مجھے مارا تب بھی نہیں ایا , میں نے بلایا بھی پھر بھی نہیں ایا ۔۔۔ یہ ہمیشہ ایسے کرتا ہے میرے ساتھ اسکول میں ۔۔۔ حنان نے منہ بسورتے ہوۓ سب کہے سنایا ۔۔۔ جس پر منان نظریں چراتا رہا ۔۔۔

“منان یہ آپ نے غلط کیا بھائی کے ساتھ ۔۔۔ ہانیہ نے شرمندہ کیا منان کو ۔۔۔

“پر مما , اس لیۓ تو اسے منارہا تھا تاکہ کھیلنے سے اس کی ناراضگی دور ہوجاۓ گی ۔۔۔ منان ایک تیز بچہ تھا بنسبت حنان کے ۔۔۔ اس لیۓ ہمیشہ اپنی منوانا جانتا تھا ۔۔۔ پر اس بار حنان نے شدید ریکشن دیا تھا ۔۔۔

“منان غلط بات , پہلے مجھے بتاؤ تمہیں احساس ہے کہ تم نے غلط کیا ہے ۔۔ ہانیہ نے اس سے پوچھا ۔۔۔

“جی ماما , میں نے غلط کیا ہے ۔۔۔ منان نے اعتراف کیا ۔۔۔

“تو آپ نے سوری کی , پہلے سوری کرتے ہیں اپنی غلطی ماننے پر ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔ اس کا لہجہ نرمی لیۓ ہوۓ تھا ۔۔۔

ولید خانزادہ نے اعتراف کیا وہ واقعی بہت اچھی ماں ہے ۔۔۔ دل ہی دل میں وہ اس کی خوبیوں کا ہمیشہ اعتراف کرتا تھا ۔۔۔

“اوکے ماما , سوری حنان ۔۔۔ منان نے کہا ۔۔۔ حنان ویسے ہی رہا منہ بنا کر ۔۔۔

“میں نہیں معاف کروں گا ۔۔۔ حنان نے کہا ۔۔۔ ہانیہ مسکرائی اس کے روٹھنے پر ۔۔۔

“مجھے پتا تھا تم ایسا کرو گے , اٹھو چلو کھیلتے ہیں پھر بھول جاؤگے تم سب ۔۔۔ اب کے منان نے حنان کا ہاتھ دوبارہ تھام لیا اور اسے کھینچ کے اٹھانے لگا ۔۔۔

“اس لیۓ اس کو سوری نہیں کہتا میں , یہ جلدی مانتا ہی نہیں ۔۔۔ منان نے ہانیہ کو سنایا اور ولید خانزادہ حیران ہوتا رہا دونوں کی اس عجیب و غریب نوک جھونک پر ۔۔۔

“غلط بات ایسے نہیں کہتے منان , چھوڑو اس کا ہاتھ ۔۔۔ ہانیہ کے کہنے پر منان نے اس کا ہاتھ چھوڑا تو وہ دوبارہ منہ بسور کر بیٹھ گیا ۔۔۔

“جب تک تم مناؤگے نہیں , میں نہیں ماننے والا ۔۔۔ اب کے حنان بولا ۔۔۔

“ماما دیکھیں اسے ۔۔۔ کہیں نا اپ , یہ چلے اور کھیلے میرے ساتھ ۔۔۔ منان نے ہانیہ سے کہا ۔۔۔

اب کے ہانیہ نے دونوں کو دیکھا اور منان کا ہاتھ تھام کر اسے نیچے لے آئی ۔۔۔ اسے ذرہ اندازہ نہ تھا ولید خانزادہ کی سب سماعتیں ان پر ہیں تھیں جو بظاہر لیب ٹاپ پر مصروف نظر ارہا تھا ۔۔۔

“دیکھو میری جان , حنان ناراض ہے نا تو اسے مناؤ تم , وہ خوش ہوجاۓ گا اور پھر کبھی ناراض بھی نہیں ہوگا ۔۔۔ ہانیہ نے پیار سے سجھایا ۔۔۔

“ماما وہ جلدی نہیں مانے گا , میں ابھی اسے ٹھیک کردیتا ہوں اپنے طریقے سے ۔۔۔ منان نے تیز لہجے میں کہا ۔۔۔

“دیکھو منان , ایسے مسئلے حل نہیں ہوتے , محبت اس مان سے ساتھ روٹھتی ہے اسے منایا جاۓ گا ۔۔۔ ہانیہ اس کے ہاتھ تھامتے ہوۓ پیار سے بولی ۔۔۔

“کیا مطلب ماما ۔۔۔ منان کو کچھ سمجھ ایا کچھ نہیں ۔۔۔

“حنان کو مناؤ , اسپیشل فیل کرواؤ وہ مان جاۓ گا ایسے زبردستی گھسیٹ کر لے جانا اور کھیل میں مصروف کرنے سے , حنان کا دل اپ سے خراب ہوجاۓ گا ۔۔۔ ہانیہ نے کھل کے اسے اس کے رویۓ مطلق سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔

“پر میں تو ہمیشہ ایسے ہی کرتا ہوں ۔۔۔ منان نے بتایا ۔۔۔

“تو غلط کرتے ہونا میری جان , اب جاؤ دل سے معافی مانگو کیونکہ سچ میں اپ نے غلط کیا کلاس میں جو بھی کیا ۔۔۔ ہانیہ کا ایک ایک لفظ منان تو غور سے سن رہا تھا پر ولید خانزادہ کے دل کو چھورہے تھے اس کے کہے لفظ ۔۔۔

پھر واقعی اس نے اب کے دل سے معافی مانگی پر پھر بھی وہ نہ مانا ۔۔۔ ہانیہ مسکرائی ایک سیر تو دوسرا سواسیر لگا اسے ۔۔۔

منان نے منہ بسور کر کہا ۔۔۔ “کیا کروں جو تم مانو گے مجھے تمہارے بغیر مزا نہیں آۓ گا حنان ۔۔۔

منان کے لہجے میں بےپناھ محبت تھی حنان کے لیۓ ۔۔۔ ہانیہ مسکرائی اس کے اس انداز پر ۔۔۔

“تو پھر مناؤ مجھے ۔۔۔ ماما کوئی اس کی ہیلپ نہ کرے ۔۔۔ حنان کے اس آرڈر پر ہانیہ مسکرائی دور بیٹھا ولید خانزادہ بھی مسکرایا ۔۔۔

منان دوڑتا ہوا نیچے گیا ۔۔۔

“کیا کروں کیسے مناؤں ۔۔۔ خود سے بول رہا تھا ۔۔۔ ولید خانزادہ اس کی معصومیت دیکھ کر مسکرایا ۔۔۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد جلدی سے کچن کی طرف گیا اور رضیہ بی سے کہا “مجھے ٹینگ جوس کا ساشے دیں ۔۔۔

“میں بنادیتی ہوں منان بیٹے ۔۔۔

“نہیں میں خود بناؤں گا حنان کے لیۓ ۔۔۔

رضیہ بی اسے پانی کا گلاس اور چمچ دیا وہ خود بنانے لگا ۔۔۔

ولید خانزادہ حیران ہی ہوتا رہا اس کاروائی پر ۔۔۔ لاؤنج میں صوفے پر مغرور انداز میں حنان بیٹھا تھا ۔۔۔

“دیکھو میں تمہارے لیۓ تمہارا فیورٹ جوس اپنے ہاتھوں سے بنا کے لایا ہوں اب تو معاف کردو , مان جاؤ نا پلیز , آۓ پرومس آئندہ ایسے نہیں ہوگا ۔۔۔ منان نے التجہ کی اور اپنے ہاتھوں سے پلانے کی کوشش کی ۔۔۔

منان کی شکل رونے جیسی ہونے لگی ۔۔۔

“بسس حنان , اب معاف کردو , دیکھو کتنا پریشان ہے بھائی ۔۔۔ اب ہانیہ کو لگا حنان کو سمجھانے کی ضرورت ہے ۔۔

“جی ماما اور دونوں گلے لگ گۓ ۔۔۔ ہانیہ مسکرائی ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح حنان نے مان رکھا اس کی بات کا ۔۔۔ یوں وہ دونوں مان گۓ جوس پی کر کھیلنے لگے ۔۔۔ ہانیہ نماز پڑھنے کے لیۓ کمرے کی طرف چلی گئی ۔۔۔

کتنے لمحے ساکت ہی رہ گیا وہ یہ سب دیکھ کر ۔۔۔ اج اسے سمجھ اگیا کہاں غلطی پر تھا وہ جو ہانیہ مان نہیں رہی تھی اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی ۔۔۔ ولید خانزادہ کو منان خود جیسا اور حنان ہانیہ جیسا لگا ۔۔۔

“محبت اس مان سے روٹھتی ہے اسے منایا جاۓ گا ۔۔۔ یہ جملہ ولید خانزادہ نے زیرلب کہا ۔۔۔۔ ہانیہ کے اس جملے نے اسے ہلہ کے رکھ دیا تھا اندر سے ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔