Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

ناول ۔۔۔ انمول سے بےمول

ازقلم ۔۔۔۔ صبامغل

قسط ۔۔۔۔ 6

کبھی میں انمول ہوا کرتی تھی

اب بے مول ہی بے مول ہوں

اک ایسی کہانی جو دل کو چیردیتی سچائیاں لیۓ اپ کو پیش نظر کی جارہی ہے ۔۔۔ ہمارے معاشرے کی سچائیوں کو ملا کر لکھی گئی ہے ۔۔۔ کون کہتا ہے کہ خواب چھوٹے ہوتے ہیں خواب تو ہمیشہ بڑے ہوتے ہیں ہماری سوچ سے بھی پرے کے ہوتے ہیں اور جو ان کو پورا کرنے کی جستجو کرتا ہے اسے ان کی قیمت تو چکانی ہی پڑتی ہے۔۔۔۔ یہ خواب ہماری آنکھوں کی بینائی تو چھین لیتے ہیں پھر واقعی میں آنکھوں کو حقیقت نظر نہیں آتی حقیقیت کو جھٹلا کر صرف خواب کو پورا کرنے کی لگن لگی رہتی ہے ۔۔۔ اسی سفر کا نام ناول انمول سے بےمول ہے ۔۔۔ کہانی ایسی لڑکیوں کی جنہوں نے خوابوں اور خواہشوں کے پیچھے بےمول کردیا خود کو ۔۔۔ کسی نے خوب کہا ہے ” دل کی خواہشوں نے کہاں کسی کو خوش رہنے دیا ہے ۔۔۔

@@@@######@@@@@@

“مس ہانیہ اپ کو چینج کرنا چاہیۓ ۔۔۔ ولید خانزادہ نے رسانیت سے کہا ۔۔۔

“نو تھینک یو , یہ مناسب نہیں , بس واشروم کہاں ہے ۔۔۔ کچھ بہتر ہوجاؤں گی ۔۔۔ ہانیہ نے بےنیازی سے کہا ۔۔۔

آج تک ولید خانزادہ کی کسی آفر کو کسی بھی لڑکی نے انکار نہیں کیا تھا یہ پہلی لڑکی تھی جو یہ کام کرچکی تھی ۔۔۔ شاید پہلی انسان جس نے ایک ملاقات میں اسے امپریس کرچکی تھی ورنہ ولید خانزادہ کسی لڑکی سے کم ہی مخاطب ہوتا تھا پر جو پچھلی ٹیچر کے ساتھ ہوا اس کے ساتھ نہ ہو اس لیۓ ایا تھا اور اس نے بچوں کو وارن بھی کیا تھا پر اس کے وارن کرنے کے باوجود پھر وہی حرکت کی جس کا اسے بےحد افسوس تھا ۔۔۔

“رضیہ بی دوسرے کمرے میں بچوں اور ان کی ٹیچر لے جائیں اور یہاں کی صفائی کردیں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے کہا ۔۔

“جی صاحب۔۔۔ وہ سر جھکاۓ ان کے احکام سن رہی تھی ۔۔۔

“میں آفیس جارہا ہوں , ٹیچر کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو مہیا کردیجیۓ گا ۔۔۔ ان کے ناشتے کا انتظام روز ہونا چاہیۓ ۔۔۔ وہ تو اپنے خواب کے شھزادے کی آواز سانس روک کے سن رہی تھی جس کا متاثرکن لہجہ اس کے دل میں اتر رہا تھا وہ مسرور ہورہی تھی اس کے لب لہجے سے بغیر اس پے ظاہر کیۓ ۔۔۔

“جی صاحب ۔۔۔ رضیہ نے کہا ۔۔۔

اور وہ وہاں سے چلا گیا اور دوسرے روم کے واشروم میں اکر وہ حیران ہوئی ان کے اتنے بڑے واشروم جتنے ہمارے گھر کے کمرے ہیں ۔۔۔ اس نے حیرت سے سوچا ۔۔۔

“ولید خانزادہ تمہارے بچے میری سیڑھی ہیں تم تک پہچنے کی اب وہ وقت دور نہیں جب میں مسز ولید خانزادہ بن کر تمہارے پہلو میں کھڑی ہوں گی ۔۔ وہ تصور کی انکھ سے وہ لمحہ محسوس کررہی تھی اور خوش ہوکر اس نے اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ۔۔ وہ جانتی تھی وہ اسے امپریس کرہی چکی ہے ۔۔

وہ مغرورانہ چال چلتی واشروم سے باہر نکلی ۔۔۔

@@@@@@@

گھر میں خاموشی کا راج تھا ۔۔۔رانیہ خاموش سی بولائی پھر رہی تھی ۔۔ اندر سے دکھی بھی تھی کیونکہ اس نے اپنے ماں باپ کا دل دُکھایا تھا پر کیا کرتی وہ مجبور تھی ۔۔۔ سب بڑے بیٹھے تھے دادی کے کمرے میں جہاں رانیہ کا فیصلہ کیا جارہا تھا ۔۔

“ریلکس ہوجاؤ ۔۔۔ سب ٹھیک ہوجاۓ گا ۔۔۔ صبا نے رانیہ کو تسلی دیتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“آپی ایک اور غلطی ہوگئی ہے مجھ سے ۔۔۔ رانیہ نے انگلیاں مڑوڑتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“کیا مطلب ۔۔۔ صبا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔

صبا کے اس طرح کہنے پر اس نے اپنی نظریں چراتے ہوئے کہا ۔۔ “آپی میں نے امی کو بتا دیا کہ ثوبان ہانیہ اپی میں دلچسپی رکھتے ہیں مجھ میں نہیں ۔۔ ہانیہ آپی کو پتہ چلے گا تو پتہ نہیں وہ کیا ریئکٹ کریں گی مجھے اس بات کا بھی خوف ہے۔۔۔

“اب جو کرنا ہوگا وہ میں خود کروں گی تم نے جو کرنا تھا وہ کرلیا ۔۔۔ اچانک سے ہانیہ نے اکر کہا ۔۔۔ رانیہ اور زیادہ گھبراہٹ کا شکار ہوئی ۔۔۔ ہانیہ نے پرس ٹیبل پر رکھا ۔۔ وہ اسی وقت آئی تھی ہوم ٹیوشن سے ۔۔۔

“سوری اپی میرے منہ سے نکل گیا ۔۔۔ رانیہ نے رونے والی شکل بناکر کہا ۔۔۔

“تم نے کچھ غلط نہیں کہا ہم سب بھی اس بات کو محسوس کرسکتے ہیں اور ہمیں احساس ہے اس بات کا ۔۔۔ اب کے صبا نے کہا ۔۔۔ اس سے رانیہ کی تکلیف برداش نہیں ہورہی تھی اور ویسے بھی وہ خود اس حقیقت کو مانتی تھی ثوبان کا رجحان کبھی رانیہ کی طرف تھا ہی نہیں ہانیہ ہی اس کی منظورِ نظر تھی ہمیشہ سے ۔۔۔

“آپ کو گواہی دینے کی ضرورت نہیں , تم نے کچھ غلط نہیں کہا مانو , اب میں خود سنبھال لوں گی بات کو , بس مجھے ایک بات کا جواب دو کیا تم اس فارنر سے شادی کرنا چاہتی ہو یا نہیں ۔۔۔ ہانیہ سے برداش نہ ہوا صبا کا یوں رانیہ کی پرواہ کرنا اس لیۓ خود ہی اسے ریلکس کرنا چاہا ۔۔۔ آخر میں سوال اس نے اس کی انکھوں میں دیکھ کر پوچھا ۔۔۔

“جی اپی باہر ملک جانا میرا خواب ہے اور میری سب سے بڑی خواہش ۔۔۔۔ رانیہ نے شدت سے کہا ۔۔

“ہمممممم ۔۔۔ تم فکر نہ کرو ۔۔۔ اگر تم ایسا چاہتی ہو تو پھر ایسا ہی ہوگا ۔۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔

پھر وہ اسے تسلی دیتی رہی اور صبا اٹھ کر چلی گئی کیونکہ وہ خود کو مس فٹ محسوس کررہی تھی ان دو خوبصورت اور خوشنصیب بہنوں میں ۔۔۔

جسے وہ ان بہنوں کی خوشنصیبی سمجھ رہی تھی کیا حقیقتً ان کی خوشنصیبی تھی بھی یا نہیں اور اس سوال کا جواب تو وقت نے ہی دینا تھا ۔۔۔ اور وہ تینوں بےخبر تھیں وقت کے کھیل سے ۔۔۔ کس کا نصیب کیسا ہے یہ فیصلہ وقت نے ہی کرنا تھا ۔۔۔۔

@@@@@@@

“احمد بھائی ہم شرمندہ ہیں ہماری بیٹی کی خواہش یہی ہے ۔۔۔ ہم مجبور ہیں ۔۔ ہم اپنی بیٹی کے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے ۔۔۔ یہ لفظ کس طرح احد صاحب نے ہاتھ جوڑ کر اپنے بڑے بھائی احمد صاحب سے کہے صرف وہی جانتے تھے کتنا دکھ ہورہا تھا ان کو کتنے مان سے ان لوگون نے مانگا تھا رانیہ کو اور سب کتنا چاہتے تھے اسے اور ان کی بیٹی کو کسی کی خوشی سے سروکار نہ تھا ۔۔۔ وہ اپنے ایک خواب کے لیۓ اتنے انمول لوگوں کا دل دکھا رہی تھی جن کی جان بستی تھی اس لڑکی میں جسے وہ گھر کی چڑیا کہتے تھے پیار سے ۔۔۔

“کوئی بھی خواب ان محبتوں سے بڑھ کر نا تھا پر وہ اپنی بیٹی کو سمجھانے میں ناکام ہوگئیں تھیں ۔۔۔ یسرا بیگم نے سوچا ۔۔۔ اپنے شوہر کے جڑے ہاتھ ان کو بھی تکلیف دے رہے تھے اس تکلیف اور اذیت کو شاید کبھی نہ بھلا سکیں وہ دونوں میاں بیوی ۔۔۔

“پاغل ہوگۓ ہو کیا احد ۔۔۔ احمد صاحب نے کہا اس کے ہاتھ کھولے اور محبت سے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر کہا ۔۔۔ تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے رانیہ تمہاری بیٹی ہی نہیں ہماری بھی بیٹی ہے اور اس کی خواہش ہوری کرنا ہمارا بھی فرض ہے ۔۔۔۔ تم بےفکر ہوجاؤ ۔۔۔ خوشی سے بیٹی کی شادی کرواؤ اس کے من پسند جگہ پر ۔۔۔

احمد صاحب نے احد کو گلے لگا لیا ۔۔۔ نازیہ نے شرمندہ کھڑی یسرا کو اگے بڑھ کر گلے لگا کر تسلی دی ۔۔۔ سب کی انکھیں نم ہوئیں ۔۔۔

“پر ثوبان بیٹے ۔۔۔۔۔ احد نے کہا پر اس کی بات کاٹ کر احمد نے کہا ۔۔۔۔

“اس کی تم فکر نہ کرو میرا بیٹا ہے اسے سمجھانا میرا کام ہے ۔۔۔ بےفکر ہوجاؤ تم ثوبان کی طرف سے ۔۔۔ احمد نے اپنے چھوٹے بھائی کو تسلی دی ۔۔۔

“پر بھائی ۔۔۔

“بس احد ۔۔۔ توقیر ( فراز کے بابا ) سے تم بات کروگے یا میں کروں ۔۔۔ احمد نے سادگی سے کہا ۔۔ احد صاحب اپنے بڑے بھائی کے بَڑپن کے قائل ہوگۓ جنہوں نے بلکل برا نہ مانا تھا انکار کا ۔۔۔

“جیسا اپ کو ٹھیک لگے بھائی ۔۔۔ احد صاحب نے نظر چراتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“تم رہنے دو , میں خود بات کرلوں گا ان سے ۔۔۔ احد کو اس شرمندگی سے نکالنے کے لیۓ احمد نے کہا ان سے اپنے بھائی کی تکلیف برداش نہ تھی ۔۔۔ احد نے ان کے ظرف کو دیکھ کر دوبارہ گلے لگا لیا جس شدت سے انہوں نے گلے لگایا احمد صاحب نے اپنے اپ کو ضبط کیا اور چھوٹے بھائی کے انسو صاف کیۓ ۔۔۔

نازیہ بھی تسلی دے رہیں تھیں اپنی بہن کو ۔۔۔

یہی اصل اور حقیقی محبت تھی جو اس گھر کے لوگوں کی اپس میں تھی ایک دوسرے کے دل میں ایک دوسرے کا مقام ۔۔۔ رشتوں کو مان دینا اس گھر کا اصول تھا ۔۔۔

@@@@@@@

وہ اس وقت ریسٹورینٹ میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا ایسا پہلی بار ہوا تھا اس نے بلایا تھا ۔۔

اس کی منتظر نظریں گیٹ کی طرف تھیں ۔۔۔آج وہ بےانتہا خوش تھا شاید محبت کی خوشی ایسی ہی ہوتی ہے ۔۔

ثوبان خود کو ہواؤن میں اڑتا محسوس کرہا تھا اس کے ہر انداز میں بے صبری تھی۔۔ تقریباً پندرہ منٹ کے بعد وہ اسے آتی ہوئی نظر آئی ۔۔۔ ہانیہ کی سج دھج نرالی تھی ۔۔۔

“شاید وہ بھی میری طرح خوش ہے کیونکہ اس تعلق سے اب ہم دونوں آزاد جو ہوگۓ ہیں ۔۔۔ ثوبان نے سوچا ۔۔۔

کل رات جب اسے رانیہ کا پتا چلا اپنے مان باپ سے تو اس کا دل چاہا بھنگڑا ڈالے پر ان کے اداس چہروں نے اس چپ لگادی ورنہ وہ اسی وقت کہے دیتا “مجھے تو ویسے بھی ہانیہ پسند ہے ہمیشہ سے وہی میرے دل میں ہے , کبھی رانیہ کے لیۓ ایسا کوئی خیال نہ ایا تھا میرے دل میں ۔۔۔ وہ اپنے ماں باپ کے چہرے کی اداسی دیکھ کر فلحال چپ تو ہو گیا تھا ورنہ کہنے کو بہت کچھ تھا ۔۔۔ وہ کچھ دیر اور بیٹھتے تو وہ ہانیہ کا نام بھی لےلیتا پر ان کے الفاظ نے اسے روک لیا۔۔۔
اس کے باپ نے کہا ۔۔۔

“ہم سب کی جان بستی ہے رانیہ میں وہ اس گھر کی چھوٹی بیٹی ہے اور تم گھر کے بڑے بیٹے ہم چاہتے تھے کہ یہ خاندان جڑ جاتا اپس میں ۔۔۔ اس گھر کو جوڑے رکھتے تم دونوں ۔۔۔ مجھے تم سے بہت امیدیں ہیں ثوبان اس نسل میں بھی وہی پیار رہے جو ہم بھائیوں میں تھا پر یہ کمال صرف ہم بھائیوں کا نہ تھا بلکہ ہماری بیویوں کا بھی تھا جو بہترین شریک حیات ہیں جنہوں نے بھی اس گھر کو جوڑے رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔۔۔۔ نازیہ اور یسرا تو بہنیں تھیں پر نائلہ نے بھی بہت ساتھ دیا ہے اس گھر کو جوڑنے میں ۔۔۔ اب یہی امید تم سے اور تمہاری شریک حیات سے ہے ہم سب کو ہے ۔۔۔

احمد صاحب کی اس بات نے ثوبان کو بھی اداس کردیا اس لیۓ وہ ہانیہ کے لیۓ بات نہ کرسکا پر وہ بہت جلد ان کو بتانے کا ارادہ کر چکا تھا ۔۔۔ پر جب صبح میں اس نے ہانیہ کا میسج دیکھا اپنی موبائل پر تو کافی حیران اور خوش ہوا ۔۔۔ ہانیہ نے اسے یونی کے قریب ایک ریسوٹیرنٹ میں بلایا تھا 12 بجے ۔۔۔ اس لیۓ پچھلے پندرہ منٹ سے وہ اس کا منتظر تھا ۔۔
وہ اس کے سامنے آکر بیٹھی ۔۔۔ ثوبان اسے منتظر نظروں سے دیکھنے لگا پر وہ مسلسل اپنی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی ۔۔۔ ہانیہ کے ہر انداز سے اس کے اندر کی کشمکش کا اندازہ ہو رہا تھا ۔۔۔ تھوڑا حیران ہوا کہ کون سی بات اسے پریشان اور مضطرب کر رہی ہے ۔۔۔ ہانیہ کی بے چینی اسے بھی بے چین کر رہی تھی ۔۔۔

آخرکار اس چپ کو ثوبان نے ہی توڑا اور کہا ۔۔۔

” کیا بات ہے ہانیہ ۔۔۔

“رانیہ کی طرف سے ایسکیوز کرنا تھا ۔۔۔ ثوبان نے اسے آۓبرو اچکاکر دیکھا کیونکہ وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو کسی اور کی غلطی کی معافی مانگے بلکہ وہ ان میں سے تھی جو اپنی غلطی پر بھی کبھی شرمندہ نہیں ہوتی تھی ۔۔ وہ اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ وہ کوئی بڑی بات کہنے کے لیے تمہید باندھہ رہی تھی رانیہ کی طرف سے ایکسیوز تو بس بہانہ تھا ۔۔۔

“کھل کے کہو جو کہنا چاہتی ہو ۔۔۔ ثوبان نے دوٹوک کہا ۔۔۔

“میں نہیں چاہتی جو شرمندگی رانیہ کی وجہ سے اٹھانی پڑی وہ دوبارہ میرے پیرینٹس کو اٹھانی پڑے ۔۔۔ یہ سب شاید دوبارہ ان کی برداش سے باہر ہوگا ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔

تو کیا تمہیں بھی انکار ہے اگر تمہارے لیۓ میرے پیرینٹس بات کریں تو ۔۔۔ ثوبان نے بغیر لگے لپٹے سیدھا سوال کیا اس کی انکھوں میں جھانک کر ۔۔۔ ثوبان کے دل میں ٹیس سی اٹھی اس کی انکھوں میں کوئی جذبہ نہ تھا اس کے لیۓ ۔۔۔

“جی مجھے انکار ہے ۔۔۔ ہانیہ نے نظر چرا کر کہا ۔۔۔

“وجہ پوچھ سکتا ہوں ۔۔۔ جانے کس آس پر وہ پوچھ بیٹھا ۔۔

“مجھے میرا آئیڈیل مل چکا ہے , اپ میری پسند نہ کبھی ہوسکتے ہیں نہ کبھی تھے ۔۔۔ ہانیہ نے بغیر اس کی پرواہ کیۓ دوٹوک کہا ۔

“محبت ایسے ہی بےمول کرتی ہے ثوبان نے سوچا ۔۔۔۔ خود کو بہت مشکل سے سنبھال کر ثوبان نے کہا ۔۔۔

“بےفکر ہوجاؤ میں یا میرے پیرینٹس کبھی تمہارے لیۓ یا تمہارے پیرنٹس کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بنیں گے ۔۔۔

وہ اپنی محبت سے مکمل دستبردار ہوگیا محبت میں زبردستی کا قائل نہ تھا وہ ورنہ چاہتا تو اسے حاصل کرسکتا تھا ۔۔۔
“پھر میں چلتی ہوں میری کلاس ہے ۔۔۔ ہانیہ بغیر شکریہ کے اٹھی اور چلتی بنی … وہ اسے جاتا دیکھتا رہا ۔۔۔ وہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی بےمروت قسم کی لڑکی ۔۔۔ اپنے مطلب کی بات کہنا اور اپنے مطلب کا جواب سننے کے بعد وہ کسی منظر میں ٹھہرتی نہیں تھی ۔۔۔

@@@@@@@@@

پھر کس طرح احمد صاحب نے بات کی فراز کے پیرینٹس سے احد صاحب کو کوئی دلچسپی نہ تھی اس سب میں ۔۔۔ رانیہ نے کئی بار بات کرنا چاہی پر احد اور یسرا کے سرد تاثرات اور بےلچک رویۓ نے اسے دکھی ضرور کیا پر اپنی خواہش پوری ہونی کی خوشی اپنی جگہ تھی ۔۔۔ احمد صاحب اور نازیہ نے بڑھ چڑھ کے حصہ لے رہی تھے جبکہ ثوبان کا رویہ نارمل سا تھا ۔۔۔ ثوبان کے چہرے کو دیکھ کر احد اور یسرا دکھی ہورہے تھے دونوں کو بہت پیارا تھا ثوبان ۔۔۔ شاید یہی وجہ تھی احد اور یسرا اپنی بیٹی کے لیۓ سہی معنی میں خوش بھی نہیں ہوپارہے تھے ۔۔۔

یسرا تو صاف لفظوں میں کہہ چکی تھی رانیہ سے کہ ” اب تو تم خوش ہوگی نہ کہ ہم نے اپنی محبت کا ثبوت دے دیا ہے بہتر ہوگا اس سے زیادہ ہم سے امید نہ رکھنا ۔۔۔
وہ ان کا منہ دیکھتی رہی ۔۔۔

رانیہ اس بات سے بےخبر تھی کہ جو لڑکیاں اپنے ماں باپ کا دل دکھا کر خوشی حاصل کرتی ہیں ان کو وہ کبھی خوشی راس نہیں آتی ۔۔۔ پر رانیہ اپنی خوشی میں مگن اپنے خوابوں کی دنیا سجا رہی تھی ۔۔۔ آج اسے سعاد کے گھر والے رنگ پہنا کر گۓ تھے ۔۔۔ نیکسٹ ویک وہ خود ارہا تھا شادی کے لیۓ شادی کی تاریخ ایک مہینے بعد کی تھی پر نکاح اس جمعے کو تھا تاکہ کاغذی کاروائی وہ شروع کردے اور رخصتی کے بعد وہ اس کے ساتھ امریکا چلی جاۓ ۔۔۔ رانیہ بےانتہا خوش تھی ۔۔۔ اس خوشی میں وہ اپنے مان باپ کا سرد رویہ بلکل اگنور کرچکی تھی ۔۔۔

دوسری طرف ہانیہ نے بچوں دو بجاۓ تین گھنٹے ٹیوشن کردی تھی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ ان کے نزدیک ہوسکے ۔۔۔ اسے رانیہ کی خوشی تھی پر وہ اس کی شادی میں مصروف ہوکر اپنا ٹارگٹ نہیں چھوڑ سکتی تھی ۔۔۔ وہ روز ادھا گھنٹا ان کو بریک دیتی جس میں وہ لان میں ان کے ساتھ کھیلا کرتی اس طرح بچوں کا رجحان پڑھائی کی طرف اور بڑھ گیا تھا ۔۔ وہ بچے جو ماں سے تو محروم ہی تھے پر باپ کی بےتوجی کا شکار تھے ان کو اتنا چاہنے والا کوئی مل جاۓ تو وہ نکھر ہی جاتے ہیں ۔۔ بچے تو پھول مانند ہوتے ہیں ان کو ذرا سی توجہ اور محبت ملتی ہے تو وہ کھلنے لگ جاتے ہیں ۔۔۔ ایسا ہی یہاں ہوا تھا ۔۔۔ محبتوں کو ترسے بچے اپنی محرومیوں کا بدلہ شرارت کر کے لے رہے تھے جب ان کی وہ محرومیاں دور ہو رہی تھیں تو ان بچوں نے شرارتیں بھی کم کردی تھیں ۔۔۔ بچوں میں آئی تبدیلی کو سب نے محسوس کیا تھا اب گھر کے ملازم بھی خوش اور مطئمن تھے کیونکہ ان کو بہت تنگ کیا ہوا تھا بچوں نے ۔۔۔ ولید خانزادہ مطئمن تھے ہانیہ کی طرف سے ۔۔۔

رضیہ بی سے اس نے کہا تھا “اسے ولید خانزادہ سے ملنا ہے اج ۔۔۔

شام پانج بجے اسے اسٹڈی میں بلایا تھا ولید خانزادہ نے ۔۔۔ رضیہ بی اسے روم کے سامنے چھوڑ کر جاچکی تھی ۔۔۔ وہ اج مکمل حسن کا شاہکار لگ رہی تھی ڈریسنگ پرفیکٹ تھی اج اس کی سج دھج ایسی تھی وہ کسی مومن کا بھی ایمان ڈگمگا دے , وہ ہتھیار سے لیس ہوکر اس کے سامنے روبرو ہونے لگی تھی دل کی دھڑکنیں بڑھنی ہی تھیں ۔۔۔ دل کو تھام کر اس نے ناک کیا ۔۔۔اور منتظر نظروں سے دیکھنے لگی دروازے کو ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔