Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
انمول سے بےمول
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 17
ایک اور چیخ گونجی منان اور ہانیہ کے بعد وہ تھی ولید خانزادہ کی ۔۔۔ جس میں صدمے سی کیفیت تھی ۔۔۔ وہ اپنا لیب ٹاپ موبائل سب پھینک کر اگے بڑھا اپنے بیٹے کو گرنے سے بچاسکے پر وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکا تھا جب تک وہ سیڑھیوں کے پاس پہنچا دیر ہوچکی تھی ۔۔۔
ولید خانزادہ کے قدموں کے پاس جاکر منان گرا ۔۔۔ ہانیہ کو سانپ سونگھ گیا ۔۔۔ وہ جلدی سے نیچے اتری ۔۔۔ ولید خانزادہ اپنے کل کائنات گود میں اٹھاتا باہر کی طرف بھاگا ۔۔۔ ڈرائیور جو ابھی گاڑی پارک کرکے اندر کی طرف جارہا تھا ۔۔۔۔ اپنے مالک کے ہاتھ میں بےہوش بچے کو دیکھ کر دوبارہ بیٹھ گیا ۔۔۔
“رحیم جلدی کرو ۔۔ ہاسپیٹل چلنا ہے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے بھاری لہجے میں کہا ۔۔۔ آنکھیں نم تھیں اس کی ۔۔۔۔
اسی وقت ہانیہ نے بیٹھنا چاہا جو ہانپتی ہوئی گاڑی تک پہنچی تھی ۔۔۔ ڈرائیور اپنے مالک کے حکم پر گاڑی لاک کرچکا تھا ۔۔۔ دروازہ نہ کھلا ہانیہ سے ۔۔۔
اس نے شیشا نیچے کیا بٹن سے اور کہا ۔۔۔
“تمہارے چلنے کی ضرورت نہیں , بعد میں حساب کتاب ہوگا تمہارا ۔۔۔ ڈرائیور چلو ہاسپیٹل دیر ہورہی ہے ۔۔۔۔
ہانیہ اس کے نفرت سے بھر پور لہجے کو سن کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی اور ڈرائیور مالک کے حکم پر گاڑی اگے کو بڑھایا ۔۔۔
ہانیہ ان کو جاتا دیکھتی رہی ۔۔۔۔ ولید خانزادہ کے سخت لفظوں کی بازگشت گونجی اس کے کانوں میں ۔۔۔۔
@@@@@@@@@@@
رانیہ کتنے لمحے اس معصوم بچی کو دیکھتی رہی ۔۔۔ جسے کوئی ہاسپیٹل کے باہر پھینک گیا تھا ۔۔۔
دل میں عجیب درد جاگا ۔۔۔ “ایک وہ لوگ ہیں جو اولاد کے لیۓ تڑپ رہے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں ۔۔۔ دوسرے وہ ہیں جو پھینک کر اس نعمت ناشکرا پن کررہے ہیں ۔۔۔ کرب سے سوچا رانیہ نے ۔۔۔
“سیلفش پپل ۔۔۔ اسٹاف نرس غصے سے بڑبڑارہی تھی ۔۔۔ انگلش میں کچھ یوں کہے رہی تھی ۔۔۔ “مزے کرتے وقت خیال نہیں کرتے اور جب اس کا نتیجہ سامنے اتا ہے تو پھینک دیتے ہیں بےحیا اور ظالم لوگ ۔۔۔ اس طرح کسی ہسپتال کے اگے پھینکنا کہاں کی شرافت ہے ۔۔۔ وہ مسلسل بڑبڑارہی تھی ۔۔۔ کاٹ میں رکھی بچی گلہ پھاڑ کر روئی تو نرس کو اور غصہ ارہا تھا ۔۔۔
“پولیس جلد آۓ گی دیکھتے ہیں کیا ہوتا پے ۔۔۔ نرس نے کہا ۔۔۔
رانیہ بےچین ہو اٹھی اور جلدی سے اسٹور سے دودھ کا ڈبا لیا اور فیڈر لے کر اگئی ۔۔۔ نرس حیرت سے دیکھ رہی تھی جب وہ بچی کو فیڈر پلارہی تھی اور مسلسل اس کی آنکھوں سے آنسو بہے رہے تھے ۔۔۔
“پریٹی گرل یو ارر وتھ انوسینٹ ہرٹ ۔۔۔ اسٹاف نرس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
وہ کچھ بول ہی نہ سکی بس دیکھتی رہی اس معصوم وجود کو ۔۔۔ والہانہ انداز میں پیار کرتی رہی اس معصوم وجود کو ۔۔۔
کچھ دیر بعد پولیس آئی انکواری شروع ہوگئی ۔۔۔ سی سی فوٹیج دیکھا جارہا تھا ۔۔۔ بچہ پولیس کسٹڈی میں جاچکا تھا اور وہ حسرت سے جاتا دیکھتی رہی ۔۔۔
وہ پورا دن اداس رہا اس کا ۔۔۔ نہ پڑھنے میں دل لگا نہ کوچنگ کلاس میں ۔۔۔۔ وہ تھکی ہوئی گھر پہنچی تھی اج جسمانی تھکن سے زیادہ اعصاب تھکے ہوۓ تھے ۔۔۔
وہ کچن میں کام کررہی تھی بے دھیانی میں۔۔۔۔ رہ رہ کر انکھوں میں اس معصوم کا وجود اجاتا ۔۔۔ دل بےچین ہو اٹھتا ۔۔۔
“او ماۓ گاڈ رانیہ ۔۔کیا ہوا تمہارا دھیان کدھر ہے ۔۔۔ اس کے اسٹولر نے اگ پکڑلی وہ تو اچھا ہوا بروقت سعاد اگیا ۔۔۔ سعاد نے اس کا اسٹولر اتار کر جوتے سے اگ بجھانے لگا ۔۔۔ وہ یہ سب دیکھ کر روپڑی ۔۔۔
“آر یور اوکے رانیہ ۔۔۔ سعاد نے فکر سے پوچھا اسے خود سے لگایا ۔۔۔
“ہممم اس نے اثبات میں سرہلایا ۔۔۔ اسے خود سے لگاۓ بیڈروم لایا ۔۔۔ اسے ارام کو کہا ۔۔۔ اسے دودھ کا گلاس اور سلائس دیا ۔۔۔ وہ کھاکر سوگئی ۔۔۔ اسے اندازہ تھا وہ صدمے کے زیراثر ہے اس لیۓ ۔۔۔ خود کھانا بنایا اور برتن واش کیۓ اور سوگیا ۔۔۔
@@@@@@@
اصل مسئلا صبح ہوا جب وہ بخار میں پھنک رہی تھی ۔۔۔
“اف میری ضروری میٹنگ تھی ۔۔۔ سعاد شدید پریشان ہوا ۔۔۔
پھر خود کو ریلکس کیا اس نے ۔۔۔ اسے میڈیسن کھلائی اور رانیہ کی چھٹی کا انفارم کرکے ۔۔۔ اسے ناشتہ کروایا ۔۔۔
“پلیز کوئی کام کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔ شارٹ لیوو کرکے اجاؤنگا ضرورت پڑی ڈاکٹر کے پاس چلیں گے ۔۔۔ سعاد فکر سے کہے رہا تھا ۔۔۔
“ہمممم اوکے ۔۔۔ رانیہ نے مختصر جواب دے کر انکھیں موند لیں جانتی تھی ۔۔۔ اس سے کچھ کہنا بےکار تھا۔۔۔ اپنا درد اسے اپنے اندر ہی رکھنا تھا ۔۔۔ نہ اس کے پاس سننے کا وقت تھا اور سمجھنا وہ چاہتا نہیں ۔۔۔
وہ حیرت سے اسے دیکھتا رہا سمجھ نہ ایا اسے کیا ہوا ہے ۔۔۔ سب باتیں بعد پر رکھ کر آفیس کے لیۓ روانہ ہوا ۔۔۔
@@@@@@@@@@@
ڈاکٹر کو دکھا کر وہ دونوں باہر نکلے ۔۔۔ اس وقت چھ بج رہے تھے وہ اسے ریسٹورینٹ لایا ۔۔۔
اوپن ریسٹورنٹ صبا کو پسند ایا ۔۔۔ “کیا کھاؤ گی ۔۔۔ ثوبان نے پوچھا ۔۔۔
“کچھ بھی ۔۔۔ صبا نے کہا ۔۔۔ وہ خوش تھی اس کے فکرمند انداز پر ۔۔۔
“چاٹ , پانی پوری منگوائیں ۔۔۔ پھر چاۓ پیئن گے ۔۔۔ تم کیا کہتی ہو ۔۔۔ثوبان نے پروگرام بتاکر آخر میں اس کی راۓ مانگی ۔۔۔
“ہاں یہ ٹھیک رہے گا ۔۔۔ صبا نے کہا ۔۔۔
پھر دونوں نے ساتھ کھایا اور چاۓ پی کر ریسٹورنٹ سے نکلے ۔۔۔
تھوڑی شاپنگ بھی کروائی اسے ثوبان وہ اس کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔۔ اس دوران دونوں ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگے ۔۔
“تھک گئی ہوگی ۔۔۔ ثوبان نے پوچھا ۔۔۔
“ہاں گھر چلیں ۔۔۔ صبا نے سادگی سے کہا ۔۔۔
“اور اگر میں کہوں ۔۔۔ کچھ اور وقت تمہارے ساتھ گزارنے کے لیۓ مجھے تمہارے ساتھ آئیس کریم کھانی ہے تو ۔۔۔ ثوبان نے مسکرا کر پوچھا ۔۔۔ اس کے انداز پر وہ شرما گئی اس کا شوخ انداز دل کو بہت بھایا تھا ۔۔۔ اسے کبھی امید نہ تھی یہ شخص اسے مل سکتا ہے اور اب ملا بھی تھا تو مکمل اس کا ہوکر ملا تھا ۔۔۔ اج جس طرح ہانیہ سے اس نے اس کے حق میں بات کی وہ تو ہواؤں میں اڑنے لگی تھی ۔۔۔
“تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ثوبان ۔۔۔ صبا نے سادہ لہجے میں کہا سنبھل کر ۔۔۔
دونوں آئس کریم پارلر اگۓ اور ایک ٹیبل پر بیٹھ گۓ ۔۔۔ ویٹر اکر سروو کرگیا ۔۔۔ ثوبان اور صبا نے اپنے کپ اٹھاۓ ۔۔۔
“صبا یہ فرمائش تم کرتی تو مجھے زیادہ اچھا لگتا ۔۔۔ آئس کریم لڑکیوں کی فیوریٹ ہوتی ہے ۔۔۔ جو تمہیں کہنا چاہیۓ تھا وہ میں کہوں کتنا عجیب لگتا ہے , ہے نا ۔۔۔ اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی انکھوں میں دیکھا ۔۔۔ اہک چمچ منہ کو لگایا ۔۔۔
صبا شرمندہ ہوئی ۔۔۔ “سوری ۔۔۔۔ وہ بولی تو ثونام اس کی بات کاٹ گیا اور بولا ۔۔۔
“یار مجھے سوری نہیں سننا , صرف تم فیل کرو اپنی اہمیت میری نظر میں صبا ۔۔۔ مجھ سے احتیاط نہ برتو جو مسئلا ہو مجھے بتاؤ مجھ سے ڈسکس کرو , یقین مانو تمہاری تکلیف میری تکلیف ہے ۔۔۔ ثوبان نے اسے سمجھایا ۔۔۔
” اب بتاؤ سمجھ آئی میری بات ۔۔ ثوبان نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے پوچھا ۔۔۔
صبا نے جلدی سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور کہا ۔۔۔ “ہاں سمجھ گئی ۔۔۔
“کیا خاک سمجھی ہو ۔۔۔۔ ثوبان نے افسوس سے کہا اس کا ہاتھ ہٹانا شدت سے محسوس کیا ۔۔۔ اس کی ناراضگی کا سوچ کر صبا گھبرا گئی اور جلدی سے کہا ۔۔۔
“پلیز ناراض نہ ہوں ثوبان ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ بوکھلا گئی وہ اس کی ناراضگی کا سوچ کر ۔۔۔
دوبارہ اس کی بات کاٹ گیا ۔۔۔ “جھوٹے بہانے نہیں کرو صبا میں جانتا ہوں ہانیہ کے لفظوں کا اثر ہے یہ ۔۔۔ کاش ہانیہ کے لفظوں کا تم پر جتنا اثر ہوا ہے میری بھی کسی بات کا ہوا ہوتا تو شاید میں ہواؤں میں اڑنے لگتا اور تم تو ہمیشہ مجھے زمین سے گرا کر پاتال میں اتارنا ہے ۔۔۔ خوش نہ کرنا مجھے کبھی ۔۔۔
ثوبان کے لہجے میں ناراضگی کا اثر تھا ۔۔۔۔ ہانیہ سب پر اثرانداز تھی وہ اچھی طرح جانتا تھا ۔۔۔ وقت تو لگنا تھا صبا کو اس فیز سے نکالنے کے لیۓ ۔۔۔
“سوری ثوبان ۔۔۔ ایک اور شرمندگی والا احساس صبا کے لہجے میں تھا ۔۔۔ ثوبان کا دل چاہا کہ اپنا سر پیٹ لے ۔۔۔ ڈر ڈر کر ثوبان کے ہاتھ پر اس نے اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔ ثوبان مسکرایا اور صبا نے نظریں جھکالیں ۔۔۔ ثوبان نے اس پر ایک ہاتھ رکھ کر دبایا ۔۔۔
“جانتی ہو اللہ نے جس کو جیسا بنایا ہے وہ اس کی مرضی ۔۔۔ اللہ کی مرضی ہے کسی کو دے کر آزمایا ہے تو کسی سے لے کر آزماتا ہے ۔۔۔ کسی کو وہ بہت زیادہ حسن دے کر آزماتا ہے کسی کو کم حسن دے کر آزماتا ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ حسن والا شکرگزار ہے اور حسن جس کے پاس کم ہے وہ صبر کرتا ہے یا نہیں ۔۔۔۔ سوچو تم اپنی ازمائش میں کامیاب ہوئی ہو یا ناکام ۔۔۔ صبا یہ سوچنا ضرور ۔۔۔
وہ اپنے میٹھے لہجے اور لفظوں سے اس کے اندر چاشنی بکھیر رہا تھا وہ مسکرائی دلکشی سے ۔۔۔
ان سے دوٹیبل چھوڑ کر پانچ چھ لڑکیاں بیٹھیں تھیں ۔۔۔ جو یونی اسٹوڈنس ہو شاید ۔۔۔ کیونکہ گروپ لگ رہا تھا ان کا سب ہم عمر لگ رہیں تھیں ۔۔۔
“دیکھو تو سہی حور کے پہلو میں لنگور ۔۔۔ ایک نے اونچی آواز تبصرہ کیا جو صاف سنائی دیا ثوبان اور صبا کو ۔۔۔
“ایسے نہیں کہو , بلکہ یہ کہو , ویسے لنگور جیسی لڑکی کے پہلو میں شہزادہ ۔۔۔ دوسری اسے ٹوک کر بولی ۔۔۔
اب صبا کو لگا وہ اسی پر تبصرے کررہے ہیں ۔۔۔
“ویسے کیا دیکھا ہوگا اس ادمی نے ایسی بدصورت لڑکی میں , لگتا ہے اندھا ہوگا ۔۔۔ اب کے تیسےری بولی ۔۔۔
ثوبان کو اپنی ساری محنت رائیگان ہوتی دکھنے لگی ۔۔۔
“چلیں گھر میری طبیت عجیب ہورہی ہے ۔۔۔ صبا نے کہا ۔۔۔ آنکھیں بھیگنے جو بےتاب تھیں ۔۔۔
” اف بےچارا لڑکا ضرور گھر والوں نے زبردستی کی ہوگی ورنہ اتنا عقل کا انداھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ اب کے ایک اور نے کہا ۔۔۔
” یار کیا کر رہے ہو اتنیَے تیز کمنٹس پاس کر رہے ہو ۔۔۔ دیکھو وہ لوگ جارہے ہیں ۔۔۔ سکون سے ان کو آئس کریم کھانے دیتے ایک تو تم لوگوں کی یہ بری عادت ہے جو بلند آواز تبصرہ کرتے ہو نہ ۔۔۔ مجھے لگتا ہے جاہل ہو سب کی سب ۔۔۔ آخری لڑکی ان کو خوب لتڑانے لگی ۔۔۔
تب تک ثوبان اسے لے کر چلا گیا ۔۔۔ اسے شدید دکھ ہوا جو ہوا دنیا ہانیہ جیسی سوچ رکھنے والوں سے بھری پڑی ہے ۔۔۔ کتنوں کا منہ بند کر سکتے ہیں ۔۔۔ ثوبان نے کلس کر سوچا ۔۔۔
وہ شیشے سے باہر دیکھتی رہی آنسو بھاتی رہی ۔۔۔ ثوبان ضبط کرتا رہا ۔۔۔ اب گاڑی چلاتا یا اسے سمھھانے بیٹھ جاتا ۔۔۔ پر صبا کے کمپلیکس کا سوچ کر اسے شدید دکھ ہوا ۔۔۔ اب کچھ کہنا بےکار لگا ثوبان کو ۔۔۔
@@@@@@@@@@
“اب منان کیسا ہے ۔۔۔ ولید خانزادہ گھر ایا تھا ۔۔۔ لاؤنج میں بیٹھی ہانیہ نے پوچھا ۔۔۔
“پلیز ہانیہ میں آپ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا بہتر ہوگا آپ اپنا چہرہ مجھے نہ دکھائیں ۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ میں غصے میں کچھ غلط کر بیٹھوں میری نظر سے دور ہوجائیں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے غصے اور نفرت سے کہا ۔۔۔
وہ حیران تھی اس شخص کے اس روکھے انداز پر ۔۔۔
” مجھے صرف منان کے بارے میں جاننا ہے یا مجھے ہاسپیٹل لے چلیں ۔۔۔ ہانیہ نے دو ٹوک انداز میں کہا اور اپنی ازلی ہٹ دھرمی سے بولی تھی وہ ۔۔۔
اب تو ولید خانزادہ اس کی ڈھٹائی پر بھی حیران ہونا چھوڑ دیا تھا وہ جانتا تھا کہ وہ انتہا کی ڈھیٹ لڑکی ہے ۔۔۔
” میری بات کو غور سے سن لیں مس ہانیہ میں اپنے بچوں کو اب آپ کی ذمہ داری پر نہیں چھوڑ سکتا پہلی بات ۔۔۔ اور دوسری بات آپ نے جو باتیں مجھے کہیں دونوں میں مانوں گا نہیں ۔۔۔ نا اپ کو منان کے بارے میں کچھ جاننے کا حق رکھتی ہیں اور نہ میں آپ کو ہسپتال لے کر چلوں گا آپ یہی گھر پر رہیں گی جیسے رہنا چاہیں رہیں , جو کرنا چاہیے کرے مجھے کوئی اعتراض نہیں پر میرے سامنے مت آئیے گا میں آپ کی شکل دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا فی الحال ۔۔۔
ولید خانزادہ کے اس لہجے پر وہ سلگ کر رہ گئی اس کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا اور بولی ۔۔۔
” تو ٹھیک ہے میرا یہاں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اپ کی ایسی گفتگو سننے کے بعد ۔۔۔ میں اپنے پیرنٹس کے گھر جا رہی ہوں ۔۔۔ ہانیہ نے اکڑ کر کہا ۔۔۔ اس نے تیر پھینکا اپنا ۔۔۔
“آپ کی مرضی جو کریں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے سرد لہجے میں کہا اور اگے بڑھ گیا ۔۔۔
وہ فریش ہو کر باہر آیا کیونکہ اسے دوبارہ ہاسپیٹل جانا تھا ۔۔۔ ہانیہ غصے میں اپنی پیکینگ کررہی تھی ۔۔۔
“میں جارہی ہوں ہمیشہ کے لیۓ ۔۔۔ ہانیہ نے غصے سے اسے سنایا ۔۔۔
” اول تو میں نے آپ کو نکالا نہیں ہے اور اپ اپنی مرضی سے جارہی ہیں اگر آنا چاہیں تو بھی اپنی مرضی سے آئیۓ گا ۔۔۔ مجھ سے امید کوئی مت رکھیئے گا کہ میں آپ کو منانے آؤں گا یا لینے بھی آوں گا ۔۔۔ جو اپنی مرضی سے جاتے ہیں وہ آتے بھی اپنی مرضی سے ہیں ۔۔۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا جو کرنا ہے کرو ۔۔۔ ولید خانزادہ کے روکھے انداز پر سلگ کر رہ گئی اور تن فن کرتی چلی گئی ۔۔۔
رات کے اس پہر ٹیکسی کا سوچ کر اسے خوف محسوس ہوا اس لیۓ ڈرائیور کے ساتھ گئی ۔۔۔
رات کو گھر انے پر سب حیران ہوۓ پر وہ سب سے مل کر اپنے روم میں بند ہوگئی ۔۔۔۔
@@@@@@@@
ثوبان حیران تھا ہانیہ کی آمد پر ۔۔۔ سب گھروالے پوچھ کر تھک گۓ اس نے ایک ہی بات کہی کہ ۔۔۔
“ولید باہر ملک گیا ہے ۔۔۔ بچے مصروف ہیں اپنی پڑھائی میں ۔۔۔ اس طرح بات کرکے وہ سب کو چپ کروا دیتی ۔۔۔
سب حیران تھے اسے آۓ ہفتہ ہوگیا ۔۔۔ اس بار وہ چپ تھی ۔۔۔ جانے کیا چل رہا تھا اس کے ذہن میں ۔۔۔
دوسرا ہفتہ بھی ختم ہونے والا تھا ۔۔۔ یسرا بیگم اور احد صاحب حیران پریشان تھے اس کے رویۓ پر ۔۔۔ اس کی چپ نہ ٹوٹی ۔۔۔
رات کے دس بجے سب اپنے کمروں میں چلے گۓ تھے اس وقت وہ ٹیرس پر بیٹھی تھی ۔۔۔
” آخر کب جا رہی ہو اپنے گھر ۔ ۔ ثوبان نے اچانک اکر کہا ۔۔۔
“اپ پر بھاری نہیں , اپنے کام سے کام رکھیں ۔۔۔ ہانیہ نے دوٹوک کہا ۔۔۔
” اب جانے کیا چل رہا ہے اس سر پھری کے دماغ میں ۔۔۔ ثوبان نے سوچا ۔۔
“یہ بھی میرا کام ہے ۔۔۔ شادی شدہ لڑکیاں اپنے گھر اچھی لگتیں ہیں سامان باندھو اور اپنے گھر جاؤ ۔۔۔ ثوبان نے دوٹوک کہا ۔۔۔
“اب کبھی نہیں جاؤں گی جاکر بتادو سب کو ۔۔۔ ہانیہ نے بھی دوٹوک کہا ۔۔۔
وہ اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔ وہ اسے ہکا بکا ہوکر اسے دیکھتا رہا جاتے ہوۓ ۔۔۔
@@@@@@@
آج سب گھروالے گۓ تھے کسی رشتیدار کی شادی پر ۔۔۔ سب نے ہانیہ سے کہا پر وہ صدا کی ضدی مانی نہیں ۔۔۔ اس لیۓ مجبورً سب چلے گۓ ۔۔۔ وہ گھر پر اکیلی تھی ۔۔۔
ثوبان تیار ہونے گھر ایا تو اسے دیکھ کر شاک ہوا ۔۔۔
“تم گئی نہیں ۔۔۔۔
“بابا اجائیں گے گھر کچھ دیر میں میرا موڈ نہیں تھا ۔۔۔ ہانیہ نے سکوں سے بتایا ۔۔۔ کل کی بنسبت آج اسے فریش لگی ہانیہ ۔۔۔
“تم جارہے ہو شادی پر ۔۔۔ ہانیہ نے پوچھا ۔۔
“ہان ریڈی ہوکر نکلنے لگا ہوں ۔۔۔ ثوبان نے بتایا ۔۔۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔
“ہممم کہو ۔۔
“مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے ۔۔۔ میں نے ولید خانزادہ سے علیحدگی کا سوچ لیا ہے ۔۔ میں چاہتی ہوں تم صبا سے اپنی مگنی توڑدو وہ تمہارے لائق نہیں ۔۔۔ ہانیہ کی بات پر شاک یوا ۔۔۔ ایسی بات کی وہ امید بھی نہیں لگاسکتا تھا وہ کہے گی ۔۔۔۔ پر کتنا ارام سے کہے گئی تھی ۔۔۔
” اس سے مگنی توڑ کرکے کس سے کروں پھر وہ بھی بتادو ۔۔۔ اس نے سینے پر دونوں بازو فولڈ کرکے پوچھا ۔۔ اب فرصت سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا تھا وہ ۔۔۔
ایک ادا سے بال جھٹک کر وہ بولی ” افکورس مجھ سے ثوبان , میں جانتی ہوں میں تمہاری پہلی محبت ہوں ۔۔۔ میری جگہ کوئی نہیں لے سکتا ۔۔۔ غرور ہی غرور تھا اس کے لہجے میں ۔۔۔
“پہلی محبت نہیں پہلی پسند کہو ہانیہ ۔۔۔ تم صرف پسند تھی میری , جب سمجھ ایا تو پتا چلا تمہاری جگہ نظروں میں بھی رہی نہیں , تمہاری جگہ ہممممم اللہ نہ کرے کسی لڑکی کی ہو میری نظر میں کیونکہ اتنا پستی میں گری ہوئی خودپرست بدتمیز مغرور لڑکی ہو تم , جو دل سے اترگئی پر میری نظر سے بھی گرگئی ہے ۔۔ ثوبان نے بےعزت کیا اسے اپنے لفظوں سے ۔۔۔
“جھوٹ بول رہے ہو تم , میں نے خود تمہیں فدا ہوتے دیکھا ہے مجھ پر ۔۔۔ ہانیہ نے صدمے کے زیراثر کہا ۔۔۔
“صبا جیسی بدصورت لڑکی میرے مقابل کبھی جیت نہیں سکتی ۔۔۔ صبا غرور کرے تمہاری ہمراہی پر ناممکن ہے یہ , یہ غرور میرے نصیب میں ہے ۔۔۔ کیونکہ اتنی خوبصورت حسین ہوں یونی کی ٹاپر ہوں ہر ایکٹیویٹیز میں کامیاب رہی ہوں ۔۔۔ میرا اور صبا کا کوئی کمپیئریشن نہیں وہ معمولی شکل کی نا اتنی پڑھی لکھی جسٹ انٹر پاس , میرے پاسنگ بھی نہیں ۔۔۔ ثوبان وہ ۔۔۔ ہانیہ نے مغرور لہجے میں کہا ۔۔۔
“غرور کس بات کا غرور , یہ شکل یہ دماغ سب اللہ نے دیا ہے تمہارا کوئی کمال نہیں , تم اتنی خودمختیار اور بےاختیار ہو جب چاہو جس کے ساتھ چاہو جوڑدو , توڑدو پھر موڑدو , سمجھ کیا رکھا ہے تم نے خود کو اور دوسروں کو , ہوکیا چیز تم , میری نظر میں تمہاری کوئی اوقات نہیں ایک کوڑی کی بھی نہیں ۔۔۔ جس سے تم خود کو برتر سمجھ رہی ہو نہ اس کی پاؤں کی جوتی کے برابر نہیں تم ۔۔۔ ثوبان نے نفرت امیز لہجے میں کہا ۔۔۔
وہ ساکت ہوگئی اس شخص کے منہ سے اپنے لیۓ ایسے الفاظ سن کر ۔۔۔ ایک نظر اس نے خود کو لاؤنج کے شیشے میں دیکھا ۔۔۔ وہ اس وقت بھی حسین لگ رہی تھی ۔۔۔ کسی کا بھی دل دھڑکا دے ۔۔۔ ثوبان اس سے اتنی نفرت امیز لہجے میں بات کررہا تھا ۔۔۔
“توڑدو وہ شیشہ جو کہتا ہے تم خوبصورت حسین تریں لڑکی ہو اس دنیا کی ۔۔۔۔ خوبصورت چہرے پر مکروہ دل لیۓ دنیا کی بدصورت تریں لڑکی ہو تم ہانیہ ۔۔۔ تھوکتا ہوں میں اس منہ پر جس کے منہ سے صرف غرور کے الفاظ نکلتے ہیں اپنے لیۓ اور دوسروں کے لیۓ ذلت اور توہیں آمیز الفاظ ۔۔۔ کتنے کھیل کھیلو گی , تھکتی نہیں تم ۔۔۔ ڈوب مرو چلو بھر پانی میں ۔۔۔ مرجاؤ تم تب بھی فرق نہیں پڑے گا مجھے اتنی نفرت کرتا ہوں تم سے ۔۔۔ وہ اس کا بازو تھامتا اسے اسی شیشے کے سامنے لایا ۔۔۔
وہ اس کے سامنے وہی شیشہ توڑگیا ۔۔۔ تھوکا تھا زمیں پر , پر ہانیہ کو لگا وہ اس پر تھوکا ہو جیسے ۔۔۔۔
“دیکھو اپنی مکروہ شکل ہانیہ کتنی بدصورت ہو تم ۔۔۔ نفرت کرتا ہوں شدید نفرت , ذرہ سی شرم باقی ہو تو نکلو اس گھر سے جاؤ جاکر اپنا گھر بساؤ ۔۔۔
ثوبان بغیر کسی لحاظ کے اسے آئینہ دکھا رہا تھا ۔۔۔ اج وہ کڑوہ سچ اسے بتا رہا تھا ۔۔۔ کوئی مروت نہ رکھی اس نے ۔۔۔۔
ایک لمبی سانس کھینچ کر وہ دوبارہ گویا ہوا ۔۔۔
“سلام ہے ولید خانزادہ جیسے عظیم شخص پر جس نے ایک حرف شکایت نہ کی تمہاری جب دو دن پہلے اس سے ملنے گۓ تھے ۔۔۔ میں اور احد انکل ۔۔۔ تمہارے گھٹیا پن کا ثبوت دیکھ کر آیا ہوں اس گھر کی ملازمہ رضیہ بی نے مجھے بتایا کہ منان کو گرانے والی تم تھیں سیڑھیوں سے ۔۔۔ ولید خانزادہ کے پاس پورا موقع تھا کہ وہ بتا سکتا تھا تمہاری شکایت لگا سکتا تھا پر اس نے ایک لفظ نہیں کہا تمہارے خلاف ۔۔۔
وہ ساکت ہوکر سن رہی تھی اسے ۔۔۔ وہ کیسا آئینہ دکھا رہا ۔۔۔ اس کا ایک ایک لفظ ہانیہ کے دل پر لگ رہا تھا ۔۔۔
“شرم کرو شرم اگر تھوڑی سی بھی ہو تمہارے اندر ۔۔۔ ماں باپ کی راتوں کی نیند حرام کر کے اور خود دوسرے سپنے سجانے لگی ہو شرم نہیں آتی تمہیں ۔۔۔ سب نے تم کو بہت برداش کیا ہے اس گھر میں اب تو بخش دو ہمیں , او بی بی معاف کرو دفع ہوجاؤ اپنی منحوس شکل لے کر ۔۔۔ اب کے وہ ہاتھ جوڑ کر بولا تھا ۔۔۔
“کتنے لوگوں کا دل دکھایا ہے تم نے ہر کسی کو اپنے لفظوں کے زہر سے ڈستی آئی ہو اج ذرہ تم بھی سن لو ہمارے اندر بھی کوئی امرت نہیں تمہارے لیۓ ۔۔۔۔ جتنا زہر تم نے ہم پر انڈیلا ہے نا وہی تمہیں ملے گا کیوں کہ جو جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے سمجھیں تم ۔۔۔
” ہمارے اندر تمہارے لیے کوئی پیار محبت کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ تم بچوں سے اتنی نفرت کر سکتی ہو یہ نہیں سوچا تھا تمہیں میں نے کہا تھا نا اپنے کھیل میں بچوں کو مت استعمال کرنا تم نے تو ان کو بھی نہیں بخشا ڈائن ہو تم ۔۔۔ نہیں تم اس ڈائن سے بھی بد تر ہو کیونکہ ڈائن بھی سات گھر چھوڑ کر وار کرتی ہے کہ تم تو اپنے گھر میں اپنوں پر وار کرتی ہوں تم نے کبھی کسی اپنے کو نہیں بخشا ۔۔۔ بچوں کو بھی نہیں بخشا تم نے ۔۔۔ بہت ظالم ہو چُلو بھر پانی میں ڈوب مرو تم ۔۔۔ مرجاؤ تم ہانیہ ۔۔۔ آئندہ سے کبھی میری یا صبا کی زندگی میں دخل دیا تو تمہارے مان باپ کو ساری اصلیت بتادوں گا تمہاری ۔۔۔ تمہاری عزت اسی میں ہے کل ہی چپ چاپ چلی جانا اس گھر سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر ۔۔۔ سمجھی ۔۔۔ اب کوئی ایسا بہانہ مت کرنا کہ ولید خانزادہ لینے آئے تو جاؤں گی ۔۔۔ ایک بات تم پر واضح کر دوں وہ شخص کبھی تمہیں لینے نہیں آئے گا کیونکہ تم اس لائق ہو ہی نہیں , جو بویا ہے اس کے بعد وہ تمہیں لینے کبھی نہیں آۓ گا ۔۔۔ تمہاری بہتری اسی میں ہے خود چلی جانا سمجھی ۔۔۔ کل واپس آفیس سے آؤں یہاں نظر نہ انا سمجھی ۔۔۔
وہ ساکت ہوکر اسے سنتی رہی تھی ۔۔۔۔ آج ساری عمر کی بھڑاس اس پر نکال چکا تھا ۔۔۔ وہ اس کا کچا چٹھا کھول کر اس کے سامنے رکھ گیا ۔۔۔ ذلت کیا ہوتی ہے اج ہانیہ کو پتا چلا تھا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
