Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
انمول سے بے مول
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 22
زندگی کی مُٹھی سے
رِیت جَب نِکل جاۓ
بھید اپنے جیون کا
تَب سمجھ میں آتا ہے
منان کی آنکھوں میں اضطراب تھا جیسے کچھ کہنا چاہا رہا ہو پھر چپ ہوجاتا ۔۔۔
شام سے اس کی کیفیت کو ہانیہ محسوس کررہی تھی ۔۔۔ پر انتظار میں تھی وہ خود کچھ کہے ۔۔۔
آخر ہانیہ کو اس پر رحم ایا اور خود ہی پوچھا ۔۔۔
“کیا بات ہے منان کچھ کہنا ہے تو کہے دو ۔۔۔
“وہ ماما پلیز اپ کل پاپا کے سامنے مت جانا ۔۔۔ اس نے انگلیاں مڑوڑتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“کیوں منان ایسا کیوں کہے رہے ہو ۔۔۔ ہانیہ حیران ہوئی اس کی بات سن کر ۔۔۔
“کل کشف ماما کی برسی ہے ہم بھی ان کو ڈسٹرب نہیں کرتے اپ بھی مت کرنا ۔۔ ورنہ پاپا بہت غصہ ہونگے ۔۔۔ منان نے ڈرتے ہوۓ بتایا ۔۔۔
“پلیز اپ پاپا سے دور رہنا ۔۔۔ وہ حیران ہوئی ان معصوم بچوں کی حساس طبیت کو سوچ کر ۔۔۔
“اس کا مطلب کل اپ دونوں کا برتھ ڈے بھی ہے رائیٹ ۔۔۔ ہانیہ نے کچھ سوچ کر پوچھا ۔۔۔
“ششششش ماما اس گھر میں ہماری برتھ ڈے کی بات نہیں ہوتی ۔۔۔ منان نے جلدی سے اسے چپ کرایا ۔۔۔
ہانیہ کا دل دکھ سے بھر گیا ۔۔۔
ہانیہ کو یاد ایا جب انہوں نے باپ کی سالگرہ کا ذکر کیا تھا تو اس نے ہی سرپرائز کا آئیڈیا دیا تھا ۔۔۔ اس وقت بھی ہانیہ نے ان دونوں کی سالگرہ کا پوچھا تھا پر دونوں ٹال گۓ تھے ۔۔
“ڈونٹ وری اب ماما ہیں نا اپ دونوں کی برتھ ڈے سیلیبریٹ ضرور کریں گی ۔۔۔ ہانیہ نے اسے خود سے لگاۓ ہوۓ کہا ۔۔۔
“نو ماما , ایسا نہ ہو ہاپا اپ کو گھر سے نکال دیں ۔۔۔ پلیز نہیں ۔۔۔ اسی وقت حنان نے اٹھ کر جلدی سے کہا ۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہوگا حنان , ماما ہے نا ۔۔۔ ہانیہ نے اسے بھی خود سے لپٹایا ۔۔۔ دونوں کو پیار سے سمجھانے لگیں ۔۔۔
@@@@@@@@
“صبا آپی اٹھیں چلیں دادی کی طبیت خراب ہورہی ہے ۔۔۔ عباس نے اسے اٹھایا ۔۔۔
وہ گھبرا کر اٹھی رات کے اس پہر پتا نہیں کیا وقت ہورہا تھا وہ چپل پہنے بغیر باہر کی طرف بھاگی لاؤنج میں اندھیرا تھا ۔۔۔
“عباس لائیٹ کو کیا ہوا ۔۔۔ صبا نے شدت سے کہا ۔۔۔
اسی وقت لائیٹ آن ہوئی اور اس پر پھولوں کی بارش ہوئی ۔۔۔ “ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ۔۔۔ ہیپی برتھ ڈے ڈیئر صبا ۔۔۔
سب کی ملی جلی آوازوں میں وہ حیران کھڑی تھا ۔۔۔ ثوبان مسکرارہا تھا ۔۔۔
سب نے اسے گلے لگا کے وش کیا ۔۔۔ گھر کے سب بڑے جاگ رہے تھے یہ آئیڈیا ثوبان کا تھا اسے اسپیشل فیل کروانے کا ۔۔۔
پھر چار پاؤنڈ کا کیک اس نے کاٹا ۔۔۔ سب کو کھلایا ۔۔۔ سب سے پہلے دادی کو کھلایا اور شکر کیا وہ ٹھیک ہیں ۔۔۔
سب نے اسے ڈھیروں گفٹس دیۓ ۔۔۔ وہ مسکراۓ جارہی تھی یہ اس کی زندگی سب سے بہتریں سالگراہ تھی ۔۔۔
“تھینک یو ثوبان ۔۔۔ صبا نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
“یو ویلکم ۔۔۔ ثوبان نے سر خم کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔ اس کے انداز پر صبا شرما گئی ۔۔
بڑوں کے جانے کے بعد وہ برتن سمیٹنے لگی ثوبان بھی اس کا ساتھ دینے لگا ۔۔۔
“آپ رہنے دیں میں کرلوں گی ۔۔۔ صبا نے اس کے ہاتھ سے برتن لے کر کہا ۔۔۔
“آج تمہاری برتھ ڈے ہے تم بیٹھو میں کرلوں گا ۔۔۔ ثوبان نے کہا ۔۔۔
“ثوبان میں کرلوں گی میں عادی ہوں پلیز بیٹھیں میں کرلوں گی ۔۔۔
صبا نے مسکرا کر سھولت سے کہا ۔۔۔
اسی لمحے ثوبان نے اس کے ہاتھ سے برتن لے کر واپس ٹیبل پر رکھے اور اس کی کلائی تھامتا صوفے پر بٹھایا ۔۔۔
“کیا ہوا ثوبان ۔۔۔ صبا حیران ہوئی اس کے اس انداز پر ۔۔۔
“تم نے مانگا نہیں پر میں لایا ہوں ۔۔۔ ثوبان نے مبھم لہجے میں کہے کر اس کے قدموں میں بیٹھا ۔۔۔
“کیا ۔۔۔ وہ شاک ہی ہورہی تھی اس کے انداز پر ۔۔۔
“تمہاری برتھ ڈے کا گفٹ ۔۔۔ خوبصورت بریسلیٹ گولڈ کا نکالا جیب سے ۔۔۔
صبا کی انکھیں چمکیں بریسلیٹ کی چمک سے ۔۔۔ اس کی کلائی میں سجایا ثوبان نے خود ۔۔۔
ثوبان نے پہنا کر نظر اٹھائی تو اس کی انکھوں میں آنسو دیکھ کر حیران ہوا ۔۔
“یہ کیا صبا ۔۔۔ اس کا حیران ہونا بھی بجا تھا صبا کا رونا ثوبان کو حیران کرگیا ۔۔۔
“یہ خوشی کے ہیں آنسوں ثوبان , مجھ جیسی معمولی لڑکی کو تمہارے ساتھ نے انمول بنادیا ہے ۔۔۔ مجھ میں کوئی ایسی بات نہیں کہ کوئی مجھے یوں بھی چاہے ۔۔۔ میں اس قابل نہیں ۔۔۔
“تم میں جو بات ہے وہ کسی اور میں نہیں تمہارا خوبصورت دل چاہے جانے کے قابل ہے , تم بھی خوبصورت ہو یہ بات شادی کے بعد اچھی طرح سمجھاؤں گا ۔۔۔ بس کل ہی کہتا ہوں ڈیٹ فکس کا ۔۔۔ ثوبان کی باتوں پر شرما کر بوکھلاہٹ میں اسے دھکا دیتی وہ اٹھی اس کی اتنی بےباکی پر حیران ہوئی تھی وہ ۔۔۔
ثوبان ہنس پڑا وہ جو جانے لگی اس کی کلائی تھام گیا اور اس کے کان کے پاس بولا ۔۔۔
“سب سے خوبصورت ہے وہ ایسا احساس جو تمہارے سنگ مجھے محسوس ہوتا ہے تم جیسی باحیا باکردار لڑکی تمہارا شرمانا تمہارا حسن اور زیور دونوں ہے ۔۔۔ تمہاری معصومیت تمہارا شرمانا اج کل کی بےباک لڑکیوں سے تمہیں منفرد بناتا ہے صبا , تم کتنی خاص ہو مجھ سے یا میرے دل سے پوچھو ۔۔۔
اتنا کہے کر ثوبان نے اس کی کلائی چھوڑدی ۔۔ صبا کے چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ تھی ثوبان کے اس خوبصورت اظہار پر ۔۔۔ محبت کے رنگوں سے صبا کا چہرہ روشن تھا وہ کمرے کی طرف بھاگ گئی ۔۔۔ جبکہ ثوبان برتن سمیٹنے لگا وہ کھڑکی سے اسے یہ سب کرتے دیکھتی رہی اور اپنے نصیب پر سرشار ہوتی رہی ۔۔۔
دل میں جیسے ہی خیال ایا اسی وقت اس نے وضو کیا اور اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیۓ شکرانے کے نفل کی نیت کی ۔۔۔
اج وہ بہت خوش تھی , خوشی میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے سے خوشیان بڑھتیں ہیں ۔۔۔ یہ بات اسے اس کی دادی نے سکھائی تھی ۔۔۔
@@@@@@@@
اگلی صبح ہانیہ نے بچوں کو اسکول بھیجا پر ولید خانزادہ اب تک کہاں تھا ہانیہ اس بات سے بے خبر تھی ۔۔۔
بچوں کے جانے بعد , کافی دیر بعد ہانیہ نے اسے اس کمرے سے نکلتے ہوۓ دیکھا جو اکثر لاک رہتا تھا ۔۔۔
ولید خانزادہ کا چہرہ غم کی تصویر بنا ہوا تھا وہ جانتی تھی وہ دکھی ہے ۔۔۔ شکستہ قدموں سے وہ بیڈروم کی طرف بڑھا ۔۔۔
ہانیہ کی چاہ کر بھی ہمت نہ ہوئی اسے مخاطب کرنے کی ۔۔۔
بس وہ اسے جاتا ہوا دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
وہ شلوار قمیص پہنے کمرے سے باہر نکلا ۔۔۔
“مطلب اج آفیس نہیں جارہے ۔۔۔ ہانیہ نے سوچا ۔۔۔
ناشتہ سجا تھا ٹیبل پر وہ بغیر کھاۓ نکل گیا ۔۔۔
“میم اپ ناشتہ کرلیں ۔۔۔ رضیہ بی نے کہا ۔۔۔
“یہ کہاں جارہے ہیں ۔۔۔ ہانیہ نے ولید کا پوچھا رضیہ بی سے ۔۔۔
“پہلے قبرستاں جائیں گے پھر پورا دن کشف میم کے ثواب کے لیۓ خیر خیرات خود کرتے رہیں گے ۔۔۔ شام یا رات کو گھر آئیں گے ۔۔۔
“واقعی اب گھر نہیں آئیں گے ولید شام سے پہلے ۔۔۔ ہانیہ نے پوچھا جیسے یقین کرنا چاہا ۔۔۔
“ہمممم نہیں آئیں گے ۔۔۔ رضیہ بی نے کہا ۔۔۔
ایک عزم سے ہانیہ اٹھی تھی رضیہ بی نے تعجب سے دیکھا ۔۔۔
@@@@@@@@@
اسکول سے وہ دونوں آۓ ۔۔ اج دونوں اداس تھے کلاس میں سب نے ان کو وش کیا برتھ ڈے پر ۔۔۔ ان کا اسکول شہر کا سب سے مہنگا پرائیوٹ اسکول تھا جہاں ہر بچے کی برتھ ڈے سلیبریٹ کی جاتی اگر پیرینٹس کہتے ورنہ دوسری صورت کلاس ٹیچر جس بچے کی سالگراہ ہوتی اس کو کارڈ بناکر لازمی وش کرتی تھی ۔۔۔ سب کلاس کے بچے بھی وش کرتے تھے ۔۔۔ یہاں ہر دن منایا جاتا تھا پھر چاہے برتھ ڈے ہو مدر ڈے ہو یا فادر ڈے یا کلچر ڈے وغیرہ ۔۔۔
حنان اور منان کو برتھ ڈے اور مدر ڈے شدید دکھ سے دوچار کردیتے تھے ۔۔۔ اج تک ولید خانزادہ بےخبر تھا اپنے بچوں کے اس دکھ سے ۔۔۔
وہ دونوں اج بھی دکھی تھے ہمیشہ کی طرح پہلے تو وہ برتھ ڈے کی ضد کرلیا کرتے تھے جس پر ولید خانزادہ بری طرح ٹوک دیتا تھا اب ان دونوں نے صبر کرلیا تھا سمجھوتا کرلیا تھا یہ دن سیلیبریٹ کرنا ان کے نصیب میں نہیں ۔۔۔
دونوں نے لاؤنج میں قدم رکھا اچانک پھولوں کی بارش ہوئی ۔۔۔۔ دونوں شاک ہوگۓ ۔۔۔ پھر چمکیلی پتیوں کی بارش کردی ان پر ۔۔۔
“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو بوتھ حنان منان ۔۔۔ میوزک شروع ہوگیا ۔۔۔ سب ملازموں نے ان کو پھول پیش کیا ۔۔۔ ہانیہ نے مسکرا کر دونوں کو بکے دیا ۔۔۔
“ماما یہ سب ۔۔۔ دونوں نے شاک لہجے میں کہا ۔۔۔
“میرے بچوں کی برتھ ڈے سیلیبریشن اور کیا ۔۔۔ دونوں اس کے گلے لگ گۓ ۔۔۔ ہانیہ نے اپنے انسو جلدی سے صاف کیۓ ۔۔۔
ان دونوں کو خوبصورت کیپ پہنا کر ٹیبل تک لائی ۔۔۔ جہاں بہت سارے گفٹس پیک پڑے تھے ۔۔۔
حنان کا سوپر مین والا کیک اور منان کا بین ٹین والا کیک ۔۔۔ ہزاروں کی مالیت یہ کیک ان دونوں کی خوشی سے مہنگے نہ تھے ۔۔۔
“تھینک یو ماما ۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کاٹا ۔۔۔ رضیہ بی پکس کلک کررہی تھیں ۔۔۔۔
دونوں بے انتہا خوش تھے اور ہانیہ ان کی خوشی میں ۔۔۔
“چلو پزا ٹائم ۔۔۔ ہانیہ نے بچوں کو سروو کیا ۔۔۔ پھر سب ملازموں کو دینے لگی ۔۔۔
“رضیہ بی جلدی کھانا کھالیں پھر مل کر سب سمیٹنا بھی ہے ۔۔۔ ہانیہ نے جلدی سے گھڑی دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“تھینک یو ہانیہ میم اپ نے بہت بڑا کام کیا بچوں کو یہ خوشی دے کر ۔۔۔ رضیہ بی نے نم انکھوں سے کہا ۔۔۔
“شکریہ اپ سب کا جنہوں نے میرا ساتھ دیا آپ سب کے بغیر یہ ناممکن تھا میرے اکیلے کے لیے۔۔۔ ہانیہ نے ان کے ہاتھ تھام کر کہا ۔۔۔
رضیہ بی حیران تھیں کتنی بدل گئی تھی وہ جو ملازموں کچھ نہیں سمجھتی تھی اج رضیہ بی کے ہاتھ تھام کر شکریہ بولی تھی ۔۔۔
رضیہ بی کچن میں گئی کھانے کے لیۓ اور باقی ملازم اپنی اپنی جگہ ۔۔۔ ابھی پہلا نوالا ہانیہ نے منہ میں ڈالا سامنے سے ولید خانزادہ کو دیکھ کر اس کی روح فنا ہوگئی ۔۔۔
بچوں کے ہاتھ سے فورک گر گیا ڈر کے مارے ۔۔۔۔
ہانیہ جلدی سے ولید خانزادہ کی طرف بڑھی اس سے پہلے وہ بچوں تک پہنچتا ۔۔۔
ہانیہ کو کچھ سمجھ نہ ایا تو ان کا بازو تھام لیا ۔۔۔ جیسے ڈر ہو بچوں کو کچھ کر ہی نہ دیں وہ ۔۔۔
آہستہ سے ان کے قریب ہوکر کہا ۔۔۔
“پلیز بچوں کو نہیں , جو کہنا ہے مجھے کہیں اکیلے میں ۔۔۔ پلیز پلیز ۔۔۔
اس نے التجائی لہجے میں کہا ولید خانزادہ اس کی جرات پر شاک تھا کبھی اس کا چہرہ دیکھتا کبھی اپنے بازو پر رکھا ہانیہ کا نرم گرم لمس والا ہاتھ ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
