Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Last updated: 8 July 2025
Rate this Novel
Anmol se Bemol
By Saba Mughal
ایک اور چیخ گونجی منان اور ہانیہ کے بعد وہ تھی ولید خانزادہ کی ۔۔۔ جس میں صدمے سی کیفیت تھی ۔۔۔ وہ اپنا لیب ٹاپ موبائل سب پھینک کر اگے بڑھا اپنے بیٹے کو گرنے سے بچاسکے پر وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکا تھا جب تک وہ سیڑھیوں کے پاس پہنچا دیر ہوچکی تھی ۔۔۔
ولید خانزادہ کے قدموں کے پاس جاکر منان گرا ۔۔۔ ہانیہ کو سانپ سونگھ گیا ۔۔۔ وہ جلدی سے نیچے اتری ۔۔۔ ولید خانزادہ اپنے کل کائنات گود میں اٹھاتا باہر کی طرف بھاگا ۔۔۔ ڈرائیور جو ابھی گاڑی پارک کرکے اندر کی طرف جارہا تھا ۔۔۔۔ اپنے مالک کے ہاتھ میں بےہوش بچے کو دیکھ کر دوبارہ بیٹھ گیا ۔۔۔
"رحیم جلدی کرو ۔۔ ہاسپیٹل چلنا ہے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے بھاری لہجے میں کہا ۔۔۔ آنکھیں نم تھیں اس کی ۔۔۔۔
اسی وقت ہانیہ نے بیٹھنا چاہا جو ہانپتی ہوئی گاڑی تک پہنچی تھی ۔۔۔ ڈرائیور اپنے مالک کے حکم پر گاڑی لاک کرچکا تھا ۔۔۔ دروازہ نہ کھلا ہانیہ سے ۔۔۔
اس نے شیشا نیچے کیا بٹن سے اور کہا ۔۔۔
"تمہارے چلنے کی ضرورت نہیں , بعد میں حساب کتاب ہوگا تمہارا ۔۔۔ ڈرائیور چلو ہاسپیٹل دیر ہورہی ہے ۔۔۔۔
ہانیہ اس کے نفرت سے بھر پور لہجے کو سن کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی اور ڈرائیور مالک کے حکم پر گاڑی اگے کو بڑھایا ۔۔۔
ہانیہ ان کو جاتا دیکھتی رہی ۔۔۔۔ ولید خانزادہ کے سخت لفظوں کی بازگشت گونجی اس کے کانوں میں ۔۔۔۔
رانیہ کتنے لمحے اس معصوم بچی کو دیکھتی رہی ۔۔۔ جسے کوئی ہاسپیٹل کے باہر پھینک گیا تھا ۔۔۔
دل میں عجیب درد جاگا ۔۔۔ "ایک وہ لوگ ہیں جو اولاد کے لیۓ تڑپ رہے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں ۔۔۔ دوسرے وہ ہیں جو پھینک کر اس نعمت ناشکرا پن کررہے ہیں ۔۔۔ کرب سے سوچا رانیہ نے ۔۔۔
"سیلفش پپل ۔۔۔ اسٹاف نرس غصے سے بڑبڑارہی تھی ۔۔۔ انگلش میں کچھ یوں کہے رہی تھی ۔۔۔ "مزے کرتے وقت خیال نہیں کرتے اور جب اس کا نتیجہ سامنے اتا ہے تو پھینک دیتے ہیں بےحیا اور ظالم لوگ ۔۔۔ اس طرح کسی ہسپتال کے اگے پھینکنا کہاں کی شرافت ہے ۔۔۔ وہ مسلسل بڑبڑارہی تھی ۔۔۔ کاٹ میں رکھی بچی گلہ پھاڑ کر روئی تو نرس کو اور غصہ ارہا تھا ۔۔۔
"پولیس جلد آۓ گی دیکھتے ہیں کیا ہوتا پے ۔۔۔ نرس نے کہا ۔۔۔
رانیہ بےچین ہو اٹھی اور جلدی سے اسٹور سے دودھ کا ڈبا لیا اور فیڈر لے کر اگئی ۔۔۔ نرس حیرت سے دیکھ رہی تھی جب وہ بچی کو فیڈر پلارہی تھی اور مسلسل اس کی آنکھوں سے آنسو بہے رہے تھے ۔۔۔
"پریٹی گرل یو ارر وتھ انوسینٹ ہرٹ ۔۔۔ اسٹاف نرس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
وہ کچھ بول ہی نہ سکی بس دیکھتی رہی اس معصوم وجود کو ۔۔۔ والہانہ انداز میں پیار کرتی رہی اس معصوم وجود کو ۔۔۔
کچھ دیر بعد پولیس آئی انکواری شروع ہوگئی ۔۔۔ سی سی فوٹیج دیکھا جارہا تھا ۔۔۔ بچہ پولیس کسٹڈی میں جاچکا تھا اور وہ حسرت سے جاتا دیکھتی رہی ۔۔۔
وہ پورا دن اداس رہا اس کا ۔۔۔ نہ پڑھنے میں دل لگا نہ کوچنگ کلاس میں ۔۔۔۔ وہ تھکی ہوئی گھر پہنچی تھی اج جسمانی تھکن سے زیادہ اعصاب تھکے ہوۓ تھے ۔۔۔
وہ کچن میں کام کررہی تھی بےتا ۔۔۔ دل بےچین ہو اٹھتا ۔۔۔
"او ماۓ گاڈ رانیہ ۔۔کیا ہوا تمہارا دھیان کدھر ہے ۔۔۔ اس کے اسٹولر نے اگ پکڑلی وہ تو اچھا ہوا بروقت سعاد اگیا ۔۔۔ سعاد نے اس کا اسٹولر اتار کر جوتے سے اگ بجھانے لگا ۔۔۔ وہ یہ سب دیکھ کر روپڑی ۔۔۔
"آر یور اوکے رانیہ ۔۔۔ سعاد نے فکر سے پوچھا اسے خود سے لگایا ۔۔۔
"ہممم اس نے اثبات میں سرہلایا ۔۔۔ اسے خود سے لگاۓ بیڈروم لایا ۔۔۔ اسے ارام کو کہا ۔۔۔ اسے دودھ کا گلاس اور سلائس دیا ۔۔۔ وہ کھاکر سوگئی ۔۔۔ اسے اندازہ تھا وہ صدمے کے زیراثر ہے اس لیۓ ۔۔۔ خود کھانا بنایا اور برتن واش کیۓ اور سوگیا ۔۔۔
دھیانی میں۔۔۔۔ رہ رہ کر انکھوں میں اس معصوم کا وجود اجا
اصل مسئلا صبح ہوا جب وہ بخار میں پھنک رہی تھی ۔۔۔
"اف میری ضروری میٹنگ تھی ۔۔۔ سعاد شدید پریشان ہوا ۔۔۔
پھر خود کو ریلکس کیا اس نے ۔۔۔ اسے میڈیسن کھلائی اور رانیہ کی چھٹی کا انفارم کرکے ۔۔۔ اسے ناشتہ کروایا ۔۔۔
"پلیز کوئی کام کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔ شارٹ لیوو کرکے اجاؤنگا ضرورت پڑی ڈاکٹر کے پاس چلیں گے ۔۔۔ سعاد فکر سے کہے رہا تھا ۔۔۔
"ہمممم اوکے ۔۔۔ رانیہ نے مختصر جواب دے کر انکھیں موند لیں جانتی تھی ۔۔۔ اس سے کچھ کہنا بےکار تھا۔۔۔ اپنا درد اسے اپنے اندر ہی رکھنا تھا ۔۔۔ نہ اس کے پاس سننے کا وقت تھا اور سمجھنا وہ چاہتا نہیں ۔۔۔
وہ حیرت سے اسے دیکھتا رہا سمجھ نہ ایا اسے کیا ہوا ہے ۔۔۔ سب باتیں بعد پر رکھ کر آفیس کے لیۓ روانہ ہوا ۔۔۔
