Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

ناول انمول سے بےمول

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 29

کتنی دیر وہ بےآواز روتی رہی , اپنی اس توہیں پر ۔۔۔ ولید خانزادہ کے اس انداز نے اسے شدید دکھی کیا تھا ۔۔۔

وہ جو تھکن کی وجہ سے شدید نیند کی طلب محسوس کررہی تھی ایسا لگتا تھا نیند اڑہی گئی ہو آنکھوں سے جیسے ۔۔۔ یہ رات سوتے جاگتے گزری تھی اس کی ۔۔۔

اس کرب میں نیند ایسی کھو گئی

ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی

@@@@@@@@

پارٹی سے واپسی میں وہ دونوں خاموش تھے ۔۔۔ وہ جو سوچ رہی تھی سعاد شدید غصہ ہوگا یا دو چار باتیں سناۓ گا ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔۔۔

“کیا مجھے سعاد سے بات کرنی چاہیۓ کہ تیمور شاہ کی نیت سہی نہیں اس لیۓ اب مجھے کسی پارٹی میں نہ لے جاۓ ۔۔۔ رانیہ نے خود سے پوچھا ۔۔۔ وہ بیڈ پر لیٹی کروٹ پر کروٹ بدل رہی تھی جبکہ سعاد سویا ہوا تھا ۔۔۔

“نہیں نہیں اس طرح سعاد کو لگے گا , میں جاہل بےوقوف ہوں , جو اس طرح سوچ رہی ہوں ۔۔۔ رانیہ نے خود کی کہی بات کی نفی کی خود ہی ۔۔۔

رہ رہ کر رانیہ کو یاد ارہی تھیں اس گھٹیا شخص کی نظریں اس کے جسم کا ایکسرے کرتی نگاہیں اسے ذہنی اذیت سے دوچار کررہی تھیں ۔۔۔

“یہ تو امریکا تھا نہ , سعاد کے بقول سب آزاد ہیں کسی کی مرضی کے بغیر یہاں کچھ نہیں ہوتا پھر یہ شخص ایک جال کیوں بُن رہا تھا مجھے پھاسنے کو نظروں ہی نظروں میں ۔۔۔ رانیہ نے سوچا ۔۔۔

“کیا ہوگیا ہے رانیہ , نکل آؤ اس خودترسی ہے اللہ سب بہتر کرے گا , تمہاری مرضی کے بغیر کسی کی ہمت نہیں جو کچھ کرسکے ۔۔۔ اپنے اپ سے باتیں کرتی وہ ذہنی اذیت کا شکار ہورہی تھی۔۔۔

“نہیں رہنے دیتی ہوں جب کوئی ایسی بات کی صاف انکاری ہوجاؤں گی ۔۔۔ آخرکار فیصلہ کرلیا اس نے ۔۔۔

رانیہ خود سے ایک جنگ لڑرہی تھی جبکہ سعاد سکوں سے سوچکا تھا ۔۔۔ نیند نہ آئی تو اٹھ کے اسٹڈی کی طرف چل پڑی ۔۔۔

کاش وہ بےوقوف ایک دفعہ اپنے شوہر سے بات کرلیتی تو شاید اتنا ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوتی ۔۔۔ سعاد نے موقعہ نہ دیا رانیہ کو اس کو سمجھنے کا , تو , رانیہ نے بھی کبھی کوشش نہ کی ایسا کوئی موقع پیدا کرے ۔۔۔ ساری الجھنین اسی خاموشی کی پیدا کردا تھیں جسے دونوں سمجھنے سے قاصر تھے ۔۔۔۔

@@@@@@@@@

تہجد کا وقت ہوگیا تھا اس لیۓ رانیہ نے اسٹڈی میں اکر نماز پڑھی پہلے پھر ہمیشہ کی طرح کاغذ اور قلم لے کر لکھنا شروع کیا ۔۔۔

پیاری امی

پتا نہیں اپ مجھے یاد کرتی بھی ہیں یا نہیں ۔۔۔ پر مجھے اپ روز ہر لمحے شدت سے یاد اتے ہو ۔۔۔ جب بھی اپ سے بات ہوتی ہے اب ایک جھجھک محسوس ہوتی ہے اپ سے ۔۔۔ اپنے دل کی بات اپ سے کہے نہیں سکتی ۔۔۔ ایسا کیوں ہوگیا ہے جو اتنی دوریاں ہمارے بیچ اگئیں ہیں , دل ہی ہمارے ایک دوسرے سے دور ہوگۓ ہیں ۔۔۔ یہاں پر اپ لوگوں سے دور تڑپتے ہوۓ ایک سال سے زیادہ ہوگیا ہے کیا اپ سب مجھے بھول گۓ ہیں میری یاد نہیں اتی اب ۔۔۔ اپ سب تو کہتے تھے میرے ہونے سے رونق ہے گھر میں , اب تو ایسا نہیں سوچتے ہونگے اپ سب ۔۔۔اب تو جلد ہی ثوبان بھائی اور صبا آپی کے بےبیز بھی اجائیں گے ۔۔۔ گھر میں رونق اجاۓ گی ۔۔۔ اپ سب مجھے بھول گۓ ہیں پر میں کسی کو نہیں بھولی سب کو بہت یاد کرتی ہوں ۔۔۔ یہاں پردیس میں رہ کر اپنوں کا احساس ہوا ہے مجھے کتنے قیمتی رشتوں سے محروم ہوگئی ہوں میں ۔۔۔ یہاں پردیس میں اپ کی اصل رانیہ ہی کھوگئی ہے کہیں ۔۔۔پلیز امی مجھے معاف کردیں ۔۔۔ دل چاہتا ہے اپ کی جھولی میں سر رکھ کے اپنے سارے درد اپ کو سناؤں کس خاموشی سے میں ختم ہورہی ہوں ۔۔۔

آپ کی بیٹی رانیہ ۔۔۔

وہ ٹیبل پر سر رکھ کے پھوٹ پھوٹ کے روپڑی ہمیشہ کی طرح ۔۔۔

@@@@@@@@@

“ڈیڈ آۓ ڈونٹ لائیک دس ۔۔۔ وہ اپنے پیلس کے بار روم میں حرام جام پی رہے تھے ۔۔۔۔ فائز نے اچانک اکر کہا تھا ۔۔۔

“واٹ ماۓ سن ۔۔۔ انہوں نے تعجب سے پوچھا ۔۔۔ ایک گھونٹ حرام جام کا منہ کو لگایا ۔۔۔ اس کا روڈ انداز ان کو ناگوار گزرا تھا ۔۔۔

“مجھ سے بھی کم عمر شادی شدہ لڑکی سے فلرٹ کرنا اور اسے کنفیوز کرنا ۔۔ آۓ فیل بیڈ ڈیڈ , اسٹے اوے فرام ہرر ( مجھے برا لگا ہے بابا , اس سے دور رہیں) فائز نے تند لہجے میں کہا ۔۔۔

“اف آۓ ڈونٹ ڈو سو دین (اگر میں ایسا نہ کروں تو ) انہوں نے آئی برو چکا کر پوچھا ۔۔۔

“آۓ کل یو ڈیڈ (میں آپ کو ماردوں گا ) , آٹس ماۓ پرامس (یہ وعدہ ہے میرا ) … فائز نے سرد لہجے میں کہا ۔۔۔

“اف میں تو ڈر گیا ہاہاہا ۔۔۔ فائز تم تو بلکل بچے بن جاتے ہو اکثر ۔۔۔ انہوں نے حرام جام منہ کو لگایا ڈرنے کی ایکٹنگ کرنے کے بعد ۔۔۔ ان کی آنکھوں میں شرارت تھی جبکہ فائز کی آنکھوں میں شعلے ۔۔۔

“اپنی حد میں رہو تم فائز , تم نہیں میں تمہارا باپ ہوں سمجھے ۔۔۔ تیمورشاہ نے غصے سے کہا ۔۔۔ اسے اس کی اوقات یاد دلائی ۔۔۔

“پلیز ڈیڈ , وہ اچھی لڑکی ہے , اس سے اور اس کے شوہر سے دور رہیں پلیز ۔۔۔ اب کہ سنبھل کر اپنے غصے پر قابو پاکر فائز بولا تھا ۔۔۔۔

“اوکے ڈونٹ وری , ریلکس ہوجاؤ ۔۔۔ تیمور شاہ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو تسلی دی ۔۔۔

پر ان پر یقین نہ تھا فائز کو ۔۔۔ پر فی الحال وہ چلا گیا یہی بہتر لگا اسے زیادہ بحث کرنے سے ۔۔۔

@@@@@@@@@@

اگلی صبح نا صرف سعاد خاموش تھا بلکہ رانیہ کا اداس چہرہ سوجی آنکھیں رت جگے کا پتہ دے رہی تھیں ۔۔۔ سعاد کے اگے ناشتہ رکھ کے وہ جانے لگی تو ایک دم سعاد نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا ۔۔۔

“کچھ کھاکر پھر جاؤ ۔۔۔ سعاد کے لہجے میں فکر تھی اس کے لیۓ ۔۔۔ نرمی سے ہاتھ چھڑا کر بولی ۔۔۔

“مجھے دیر ہورہی ہے ۔۔۔ رانیہ نے سراسر بہانہ کیا ۔۔۔

“آۓ کین ڈراپ یو , ڈونٹ وری ۔۔۔ سعاد نے مخصوص امریکن اسٹائل میں کہا ۔۔۔

جانے کیوں وہ اس شخص کو انکار نہیں کرسکتی جو کہتا ہے مان جاتی ہے ۔۔۔ رانیہ خاموشی سے بیٹھ گئی اور ناشتہ کرنے لگی پر بےدلی سے وہ کھارہی تھی ۔۔۔

گاڑی میں وہ دونوں ساتھ بیٹھے تھے ۔۔۔ کچھ دیر کی خاموشی کو سعاد کی آواز نے توڑا اور کہا ۔۔۔

“کوئی پرابلم ہے کیا رانیہ ۔۔۔ سعاد نے نظریں سامنے مرکوز کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“کتنی پرابلمز ہیں کیا کیا بتاؤں ۔۔۔ رانیہ نے کلس کر سوچا اور کہا تو بس اتنا کہ “کچھ نہیں … اور باہر کی دیکھنے لگی ۔۔۔ آنکھوں کی نمی کو پینے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔

اوڑھ لی ہے خاموشی، گفتگو نہیں کرنی
دل کو مار دینا ہے ، آرزو نہیں کرنی

اب تمہاری راہوں میں دھول بھی نہیں ہونا
اور، تم کو پانے کی جستجو نہیں کرنی

اب یقین بھی کوئی میں نہیں دلاؤں گی
اب کوئی شکایت بھی روبرو نہیں کرنی

سعاد نے کندھے اچکاۓ ۔۔۔ کچھ دیر بعد پھر اس کی جاب اور پڑھائی مطلق سوال جواب کرتا رہا اور وہ کم سے کم لفظوں میں جواب دیتی رہی ۔۔۔

پھر اسے ڈراپ کرکے وہ چلا گیا ۔۔۔

@@@@@@@@@

“ہانیہ ولید کب تک آۓ گا ۔۔۔ یسرا بیگم نے پوچھا ۔۔۔

“امی بتایا تھا ان کو , اجائیں گے ۔۔۔ ہانیہ نے ان کو تسلی دی ۔۔۔ کوئی بھی گھر کی دعوت ہو ان کو فکر رہتی کہ پتہ نہیں ولید خانزادہ آۓ گا بھی یا نہیں ۔۔۔ پر ولید ان کو کم ہی مایوس کرتا تھا سواۓ شدید مجبوری کے کبھی انکار نہ کرتا انے سے ۔۔۔

اس رات کے بعد ولید خانزادہ نے کبھی اس کی طرف دوبارہ پیش قدمی نہ کی تھی ۔۔۔ ولید کو شدید توہیں محسوس ہوئی تھی شاید اور ہانیہ بظاہر سب نارمل کا تاثر دے کر چل رہی تھی ۔۔۔

ہانیہ اور وہ بظاہر بات کرلیتے کبھی کبھار , کوئی ضروری ایونٹ ہوتا تو ہانیہ کو لے جاتا اور ہانیہ بھی کبھی انکار نہ کرتی ۔۔۔

اس رات کو گزرے پانچ مہینے گزر چکے تھے ۔۔۔

اج ثوبان اور صبا کے انے والے بےبی کا بےبی شاور رکھا تھا سارہ اور ہانیہ نے مل کے ۔۔۔ بےبی شاور کا خالص آئیڈیا سارہ اپی کا تھا انہوں نے سرسری لہجے میں کہا “تم چاہو تو ہم مل کر بہتریں بےبی شاور دیں صبا کو اگے تمہاری مرضی ۔۔۔ ورنہ تم لوگ انوائیٹڈ ہو اس ایونٹ پر ۔۔۔

ہانیہ کو مناسب یہی لگا کہ اسے یہ بےبی شاور صبا آپی کو ضرور دینا چاہیۓ ۔۔۔ اس لیۓ اس نے ہامی بھرلی ۔۔۔

آج جب ڈائینگ پر ولید خانزادہ کو اس نے بتایا یہ سب کہ وہ اور سارہ مل کے کریں گے اور اسے بھی انا ہے رات میں ڈنر ہوگا گھر پر ۔۔۔ تو اس نے ایک ہی بات کہی کہ “میرا خیال ہے تم الگ سے یہ سب کرسکتی تھی ان کے لیۓ اور کوئی اچھا ایونٹ اورگینائیزر کروادیتا میں تمہیں …

جس پر ہانیہ نے صرف اتنا کہا کہ ۔۔۔ “اب تو سب ہوچکا ہے , بس رات میں اپ اجائیۓ گا وہاں ۔۔۔ جس کے لیۓ ولید خانزادہ نے صرف اثبات میں سرہلا کر دوبارہ ناشتے کی طرف متوجہ ہوگیا ۔۔۔

ہانیہ اچھی طرح جانتی تھی ولید خانزادہ یہ سب کرسکتا ہے اگر وہ اجازت مانگتی تو کبھی نہ انکار کرتا پر پھر وہی بات اجاتی کہ شاید ہانیہ اپنے شوہر کی دولت سے مرعوب کرنا چاہتی ہے ان لوگوں کو ۔۔۔۔

ہانیہ قطعی ہی نہیں چاہتی تھی کہ کسی پر اتنا وزن ڈالے اپنے گھروالوں پر ۔۔۔ جو ان کے لیے افورڈ کرنا آسان تھا ضروری نہیں کہ ہر کوئی آسانی سے افورڈ کر سکے اور وہ اپنے میکے والوں کے لیۓ کوئی مصیبت نہیں کھڑی کرنا چاہتی تھی ۔۔۔

اس نے اور سارہ نے مل کے لاؤنج کو خوبصورتی سے سجایا ۔۔۔ بلیو وائیٹ بیلون , ربنز سے ڈیکوریشن کی گئی تھی ۔۔۔ بےبی شاور کے ٹیگز تک بنے ہوۓ لیۓ تھے ۔۔۔ پوری وال سجادی تھی دونوں نے مل کر ۔۔۔

سب سے مزے کی بات ان کے یہاں ٹوئن بچوں کی امد کا ڈاکٹر نے بتایا تھا جس کی وجہ سے سب بےانتہا خوش تھے ۔۔۔

سجاوٹ کے علاوہ کافی بڑا کیک آرڈر کیا تھا ان لوگوں نے ۔۔۔ گھر میں ہی ڈنر بنایا گیا ۔۔۔

ساری سجاوٹ کے دوران حنان اور منان کافی ایکسائیٹیٹ ہوتے رہے ۔۔ ہانیہ بچوں کو اپنے ساتھ ہی لائی تھی ۔۔۔

صبا آپی پر بہت نکھار اگیا تھا ۔۔۔ ماں بن کر وہ اور خوبصورت ہوگئی تھی یہ ثوبان کی محبت ہی کا اثر تھا کہ صبا کافی پر اعتماد ہوگئی تھی پہلے جیسی نہ رہی تھی ۔۔۔

فیروزی لانگ فراک پہنے اپنے بھرے جسم کے ساتھ ہلکے پھلکے میک اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی صبا , جبکہ ثوبان وائیٹ شرٹ اور پینٹ میں اس کا ہاتھ تھامے بہتریں کپل لگ رہے تھے دونوں ۔۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو مکمل کررہے ہوں جیسے ۔۔۔ نازیہ بیگم نے دونوں کی نظر اتاری ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں ولید خانزادہ پہنچ گیا فیاض تو پہلے ہی اگیا تھا ۔۔۔

کیک کے وقت ثوبان اور صبا نے حنان اور منان کو بلایا ۔۔۔ وہ ان کے ساتھ کھڑے چھری تھامے ہوۓ تھے اور تالیوں کی گونج میں کیک کاٹا گیا ۔۔۔

ولید خانزادہ کافی خوش ہوا اور ہمیشہ کی طرح اس گھر کی دی محبت اور عزت کا انداز پسند ایا اسے ۔۔ جو مقام حنان اور منان کا تھا اس گھر میں یہ دیکھ کر اس کا دل خوش ہوجاتا ہمیشہ کی طرح ۔۔۔ ہانیہ ان دونوں کو خوش دیکھ خوش ہورہی تھی ۔۔۔ ثوبان اور صبا نے سب کو کیک کھلایا ۔۔۔ پھر صبا کو سب نے گفٹس دیۓ اور اسی لمحے ولید خانزادہ کا ڈرائیور ڈھیر سارے کھلونے لے ایا ۔۔۔

“یہ ہماری طرف سے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے ہانیہ کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کو تھام کر صبا کے سامنے لے ایا اور بولا تھا ۔۔۔

ہانیہ حیران ہوئی اس کے اس قدم پر ۔۔۔ سب کے سامنے وہ اس کا ہاتھ نہ جھٹک سکی جو اس کی کمر پر تھا ۔۔۔ ولید خانزادہ پرسکوں تھا جبکہ ہانیہ دانت پر دانت جماۓ اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی تھی ۔۔۔

وہ خاموش صرف اپنے گھروالوں کی وجہ سے تھی ۔۔۔ اتنے مہینوں بعد پھر کوئی قدم بڑھایا تھا ولید نے اس کی طرف ۔۔۔ ولید اس کی کیفیت خوب سمجھ رہا تھا ۔۔۔ پر جانتا تھا وہ اس لمحے اس کا ساتھ دینے کے سوا کچھ نہیں کرسکتی اور ایسا ہی ہوا صبا اور ثوبان کے “شکریہ کہنے پر دونوں نے ایک ساتھ “ویلکم کہا تھا ۔۔۔

“کیوں ان ہاتھوں کا سرد پن میرے اندر سرایت کرتا ہے,کبھی ان کی گرمی مجھے محسوس نہیں ,جو میرے اندر کے سرد جذبات کو پگھلا سکے , ایسا احساس کیوں نہیں دے سکتا یہ شخص , میں مردہ ہوں , مجھے زندہ کیوں نہیں کردیتا یہ شخص ۔۔۔ ہانیہ نے ولید کو دیکھ کر سوچا ۔۔۔ پر ضبط کیۓ کھڑی رہی جب تک اس کا ہاتھ اس کی کمر پر تھا ۔۔۔

@@@@@@@@

دو تین دن سے وہ محسوس کرتی جہاں وہ بیٹھی ہوتی اگر وہاں سے فائز شاہ کا گزر ہو رہا ہوتا تو ٹھرتا اس کی طرف بڑھتا پھر پلٹ جاتا ۔۔۔

آج بھی ایسا ہوا کینٹین میں تو بےساختہ وہ بولی ۔۔۔

“آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں ۔۔۔ رانیہ نے اج خود ہی پہل کی وہ اس کی ہچکچاہٹ اچھی طرح محسوس کی ۔۔۔

“ہمممم ۔۔۔ فائز نے کہا ۔۔۔

“تو کہے سکتے ہیں ۔۔۔ رانیہ نے کہا ۔۔۔

“کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ۔۔۔ اس نے اجازت مانگی ۔۔۔

“جی ضرور بیٹھیں ۔۔۔ رانیہ نے باخوشی دے دی ۔۔۔

“میں شرمندہ ہوں میرے ڈیڈ کی وجہ سے ۔۔۔ اس دن جس طرح وہ اپ کو حراس کررہے تھے ۔۔۔ مجھے شدید شرمندگی سے دوچار کیا ان کے اس عمل نے ۔۔۔ یقین مانیں میں ایسا نہیں ہوں ۔۔۔۔

“جانتی ہوں اپ اچھی لڑکیوں کے ساتھ اچھے ہیں ۔۔۔ رانیہ نے سکوں سے کہا ۔۔۔ فائز شاہ کے چہرے پر معصوم سی خوشی کا عنصر دیکھا رانیہ نے ۔۔۔ وہ مسکرایا تھا پر جلدی سے اسے سمیٹ لیا شاید فائز شاہ کو امید نہ تھی وہ اس کی یوں کبھی تعریف بھی کرے گی ۔۔۔

“شکریہ مجھے سمجھنے کا ۔۔۔ بسس میرے ڈیڈ سے دور رہیۓ گا اور ہوسکے اپنے شوہر کو بھی کہے دجیۓ گا مسز سعاد ۔۔۔ فائز نے کہا ۔۔۔

“ہمممم , پلیز کبھی ہمارے پیلس نہ آنا , ڈیڈ کے انویٹیشن پر بھی نہیں ۔۔۔ فائز نے ایک بار پھر تنبہی کی ۔۔۔

“غالباً مجھے لگتا ہے آپ اپنے ڈیڈ کی سرگرمیوں سے اچھی طرح واقفیت رکھتے ہیں ۔۔۔ رانیہ نے کہا ۔۔۔

“ہمممم بہت اچھی طرح ۔۔۔ مجھے چلنا چاہیۓ , اپنا خیال رکھیۓ مسز سعاد ۔۔۔ دکھ اور شرمندگی کا تاثر ابھرا اس کے چہرے پر اور اپنے احساسات کو کنٹرول کرتا وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔

رانیہ اس کو جاتا دیکھتی رہی ۔۔۔۔ افسوس ہوا کہ اس اولاد پر کیا گزرتی ہوگی جس کا باپ یہ حرکتیں کرتا پھر رہا ہو ۔۔۔

@@@@@@@@

“پلیز ماما , حنان کو اپنا اور منان کو اپنا بےبی چاہیۓ ۔۔۔ منان نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ۔۔۔ وہ ویسے بھی کافی تیز تھا اپنی ہر بات منوانے کا عادی جبکہ اس کی بنسبت حنان خاموش طبع تھا ۔۔۔

“دیکھو , صبا آپی کے یہاں جب بےبیز آئیں گے تو پھر ہم روز ملنے جائیں گے۔۔۔ ان کے دو بےبی ہونگے ایک حنان کا دوسرا منان کا ۔۔ ہانیہ نے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔

وہ پریشان ہوچکی تھی ۔۔۔ بچوں کی اس خواہش پر ۔۔۔ دونوں کی شدید خواہش اسے تکلیف دے رہی تھی ۔۔۔

“پر ماما وہ ہمارے تو نہیں ہونگے نا ۔۔۔ ہمیں ہمارے گھر پے چاہیۓ اپنے بے بی ۔۔۔ پلیز ماما ۔۔۔ منان نے ایک بار پھر اپنی کہی جبکہ حنان کی نظروں میں التجہ واضع تھی چاہے وہ کہے نہ کہے ۔۔۔

“اوکے اداس مت ہو اللہ سے دعا مانگیں گے ۔۔۔ ہانیہ نے سمجھانے کی ایک اور کوشش کی ۔۔۔

“ماما ایک بات پوچھوں ۔۔۔ منان نے کہا ۔۔۔

“ہممم پوچھو ۔۔۔ ہانیہ نے اجازت دی ۔۔

“پہلے تو اپ کی اور پاپا کی شادی ہوئی تھی نا پھر صبا خالہ کے یہاں پہلے بےبیز کیوں ارہے ہیں۔۔۔ منان کے اس سوال پر وہ دنگ رہ گئی اتنا گہرائی سے سوچنے پر ۔۔۔

“منان بسسس چپ , بہت بولنے لگے ہو ۔۔۔ سدھر جاؤ اپنی عمر سے بڑی باتیں نہ کرو ۔۔۔ دیکھو حنان میرا اچھا بچہ ہے مجھے تنگ نہیں کرتا ۔۔۔ اب کے ہانیہ نے ڈپٹا جب اس سے کوئی جواب نہ بن پڑا کیونکہ وہ لاجواب ہوگئی ۔۔۔ جسے ولید خانزادہ لاجواب نہ کرسکا کبھی اسے منان نے لاجواب کردیا تھا ۔۔۔

“اوکے ماما اب میں نہیں کہوں گا اپ سے ۔۔۔ سوری ۔۔۔ منان نے جلدی سے کہا ۔۔۔ وہ اپنی ماما کو ناراض کرنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا ۔۔۔ منان نے منہ بسورا اپنی بات کہے کر ۔۔۔

“ہاۓ میرا اچھا بچہ ۔۔۔ ہانیہ نے اسے ڈھیر سارا پیار کیا ۔۔۔

“اور میں ماما ۔۔۔ حنان نے پوچھا جو اب تک خاموش تماشائی بنا ہوا تھا ۔۔۔

“تم دونوں میرے اچھے بیٹے ہو پلیز ماما کو تنگ نہ کرو ۔۔۔ ہانیہ نے دونوں کو خود سے لگالیا ۔۔۔ دونوں نے اسے گلے لگالیا ۔۔۔

@@@@@@@@

آج ولید نے چھٹی کے دن بچوں کو بھرپور ٹائم دیا تو دونوں بہت خوش تھے ۔۔۔ ولید ہلکی پھلکی ان سے باتیں کررہا تھا لاؤنج میں بیٹھے اور وہ دونوں مزے سے جواب بھی دے رہے تھے ۔۔۔ اب بچے پہلے کی طرح اپنے باپ سے ڈرتے نہ تھے ۔۔۔ ہانیہ کی کوششوں سے بچوں کو نا صرف ماں کا پیار مل رہا تھا بلکہ باپ کا بھرہور پیار اور توجہ بھی مل رہی تھی ۔۔۔

ولید میں بچوں کے لیۓ بہت چینج اگیا تھا ۔۔۔ بچوں کی سالگراہ کے دن جو خوشی ان کے چہرے پر اس نے دیکھی تھی وہ کبھی نہیں بھول سکتا اور جس طرح ہانیہ نے اسے روکا تھا ان کا دل توڑنے سے , وہ دل ہی دل میں کتنی بار اللہ کا شکر ادا کرتا اور ہانیہ کا بھی جس نے اسے روک لیا اس دن کوئی شدید ریکشن دینے سے ۔۔۔

اب وہ سوچ چکا تھا کشف کا غم اپنی جگہ پر اپنے بچوں کی خوشیاں اس وجہ سے کبھی نظر انداز نہیں کرے گا ۔۔۔ اس لیۓ اس سال ان کی سالگراہ بہتریں انداز میں منانے کا خواہشمند تھا وہ ۔۔۔

اس وقت بھی بچوں کے ساتھ بات کرتے ہوۓ , وہ خوش اور مطئمن ہورہا تھا گھر کے اس ماحول سے ۔۔۔ جس کا سارا کریڈٹ ہانیہ کو دیا تھا ولید نے ۔۔۔

“پاپا ہمیں بھی اپنا بے بی چاہیۓ ۔۔۔ پلیز اپ ماما سے کہیں ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح یہ بات منان نے کہی ۔۔۔ منان کو اپنی بات کہنے اور منوانے کی عادت تھی ۔۔۔کچھ ہی دن وہ خاموش رہ سکے پھر اسی ٹاپک پر بات لے آۓ ۔۔۔

دونوں جڑوان بھائیوں میں یہی عادت مختلف تھی کہ حنان کم ہی اپنی بات کہے پاتا جبکہ منان اپنے دل کی ہر بات کہے دیتا ۔۔۔ اپنی منوانا بھی خوب جانتا تھا ۔۔۔

“کیوں تم لوگ خود کہو نہ اپنی ماما سے ۔۔۔ ولید نے ہانیہ کو نظروں میں لیتے ہوۓ کہا جو صوفے پر خاموش بیٹھے میگزین کے ورق پر نظر جماۓ ہوۓ تھی ۔۔۔

“ہم تو ماما کو بہت دنوں سے کہے رہے ہیں ۔۔۔ اب کے حنان بھی بولا ورنہ اکثر وہ بیک سپورٹ بن کر خاموش منان کے پیچھے کھڑا رہتا اور منان ہی اپنی بولے جاتا ۔۔۔

“تو پھر کیا کہتی ہیں تمہاری ماما ۔۔۔ ولید خانزادہ نے پوچھا ۔۔۔

ہانیہ اٹھ کر چلی گئی اس سے زیادہ اس میں سننے کی ہمت نہ تھی ۔۔۔ ہانیہ قطعی نہیں چاہتی تھی حنان اور منان کی یہ خواہش ولید خانزادہ کے کانوں تک پہنچے ۔۔۔ پر جو ہونا ہو اسے کون روک سکتا تھا ۔۔۔

اگر ہانیہ کو ذرہ اندازہ ہوتا کہ ثوبان اور صبا آپی کہ بےبی شاور اور وہاں کی باتوں سے اتنا دل پر اثر ہونا ہے بچوں کے تو وہ کبھی ان سب کا حصہ نہ بنتی ۔۔۔ہانیہ کو افسوس ہوا پر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا ۔۔ ہانیہ نے صرف صبا آپی کے لیۓ یہ کیا تھا کیونکہ ہمیشہ انہوں نے خیال رکھا تھا سب کا , ان کے لیۓ کچھ کرنا ہانیہ کو سکوں دیتا تھا ۔۔۔

پھر کتنی دیر باپ بیٹے باتیں کرتے رہے وہ منظر سے ہٹ گئی تھی ۔۔۔ پھر بچوں کو ولید نے کس طرح تسلی دی یا پھر اس کے اس بارے میں کیا خیالات ہیں ۔۔۔ ہانیہ بےخبر تھی اس سے اور نا کچھ جاننے کا تجسس تھا اس کے اندر ۔۔۔

@@@@@@@@@@

دلِ بے خبر __ ذرا حوصلہ
نہیں مُستقِل کوئی مَرحلہ

یہ جو خار ہیں تیرے پاؤں میں
یہ جو زخم ہیں تیرے ہاتھ میں
یہ جو خواب پھرتے ہیں دَر بہ دَر
یہ جو بات اُلجھی ہے بات میں

یہ جو لوگ بیٹھے ہیں جا بجا
کسی اَن بَنے سے دیار میں
سبھی ایک جیسے ہیں سر گراں
غَمِ زندگی کے فشار میں

یہ سراب یونہی سدا سے ہیں
اِسی ریگزارِ حیات میں
یہ جو رات ہے تیرے چار سُو
نہیں صرف تیری ہی گھات میں

دلِ بے خبر __ ذرا حوصلہ
نہیں مُستقِل کوئی مَرحلہ

وہ کم ہی گارڈن میں واک کرتی تھی پر جب کبھی اندر میں گھٹن بڑھنے لگتی تو کھلی فضا میں سانس لینے کو گارڈن اجاتی ۔۔۔ رات کو اس کے گارڈن میں انے پر سب گارڈز الرٹ ہوگۓ تھے گارڈن کے چاروں کونوں پر دوسری طرف منہ کرکے کھڑے تھے ۔۔۔ اتنی سکیورٹی بیزار کرتی تھی ہانیہ کو ۔۔۔ پر مجبوری تھی دنیا کے لیۓ وہ ولید خانزادہ کی بیوی تھی جس کی سیکیورٹی بھی ضروری تھی ۔۔۔

مڈل کلاس گھرانے کی لڑکی اب بیزار ہوگئی تھی امیروں کے ان چونچلوں سے جو کبھی اسے بے انتہا متاثر کرتے تھے ۔۔۔ پر اب اپنے گھر کا بڑا سا آنگن یاد ایا ہانیہ کو جہاں سکوں تو تھا شور شرابے کے باوجود ۔۔۔ وہاں رہ کر پرائیوسی کو ترستی تھی یہاں اکر تنہائی کا شکار ہونے لگی تھی ۔۔۔ پر گارڈز کا اس طرح سیکیورٹی فراہم کرنا اسے مکمل پرسکون نہ ہونے دیتا تھا اور نا مکمل پرائیوسی کا احساس ۔۔۔

رات کے اس پہر جب بچے سوچکے تھے اج جلدی , تو وہ گارڈن میں چہل قدمی کرنے لگی ۔۔۔ ابھی اسے چلتے ہوۓ کچھ دیر گزری ہوگی کہ اس نے اپنے ساتھ کسی اور کو قدم چلاتے ہوۓ محسوس کیا ۔۔۔

ولید خانزادہ کو دیکھ کر حیران ہوئی ۔۔۔ اس کا اس وقت یہاں انا حیرت کا باعث تھا اس کے لیۓ ۔۔۔ اب گارڈز ہٹ گۓ تھے ۔۔۔ کافی دور ہوکر کھڑے ہوگۓ کیونکہ ان صاحب اور بیگم صاحبہ اپنی بات کرسکیں ۔۔۔

وہ جو واپس جانے کے پرتول رہی تھی اس کے بولنے پر اندر جانے کا ارادہ ملتوی کردیا ۔۔۔

“میرا خیال ہے تم تو بہت اچھی ماں ہو , مجھ سے زیادہ بچوں کا سوچتی ہو ۔۔۔ ولید کے لہجے میں طنز تھا یا کچھ اور ہانیہ سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔۔

“تو ۔۔۔ ہانیہ نے آۓ برو اچکاکر اپنے نام کے شوہر کی طرف دیکھا ۔۔۔

“تمہیں بچوں کی خواہش کو پورا کرنے کا سوچنا چاہیۓ ۔۔۔ ولید خانزادہ نے سکوں سے کہا ۔۔۔ وہ حیران تھی یہ شخص بڑی سے بڑی بات کتنے سکوں سے کہے دیتا تھا کچھ تو تھا جو اسے اتنا اعتماد دیتا تھا ۔۔۔ اس کا اعتماد اس کی دولت , پیسہ , رتبہ , پرسنالٹی ہی تھا شاید ۔۔۔

ہانیہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ ولید خانزادہ کی ہر بات دوٹوک کیوں ہوتی ہے اس میں کسی قسم کا جذبہ اور احساس کیوں نہیں ہوتا ۔۔۔

وہ کہے تو اس طرح سے رہا جیسے اس کے ہامی بھرتے بچے ہونا شروع ہوجائیں گے ۔۔۔ “کیا یہ شخص کشف سے بھی ایسے ہی اپنی بات کہتا ہوگا اور وہ بھی مان لیتی ہوگی ۔۔۔ میرا دل کیوں اس کی کسی بات پر ہمکنار نہیں ہوتا ۔۔۔ یا اس کا انداز غلط ہے یا میری سننے کی سماعت میں مسئلا ہے ۔۔۔ ہانیہ نے کرب سے سوچا ۔۔۔

“میرا خیال ہے اس بارے میں بات کرنے کی تُک تو نہیں بنتی ۔۔۔ ہانیہ نے پراعتماد لہجے میں کہا ۔۔۔ اب کے خود کو سنبھال کر وہ یہ سب بولی تھی ۔۔۔

“تُک تو بنتی ہے کیونکہ میں اپنے بچوں کی ہر جائز خواہش ماننے کا خود کو پابند سمجھتا ہوں ۔۔۔ ولید نے سینے پر بازو لپیٹ کر کہا ۔۔۔

“تو میرا خیال ہے , اپ ایک اور شادی کرلیں , مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔۔۔ سکون سے ہانیہ نے کہا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ۔۔۔

“کیا بکواس کررہی ہو تم ۔۔۔ ہانیہ کا اعتماد اس کو ڈگمگا گیا ۔۔۔ ہانیہ سے یہ امید نہ تھی ولید خانزادہ کو ۔۔۔۔ اتنی آرام سے اسے ایک اور شادی کا مشورہ دے رہی ہے ۔۔۔

“سہی تو کہے رہی ہوں ۔۔۔ اب بھی ہانیہ کے سکوں میں فرق نہ ایا تھا ۔۔۔ جبکہ ولید خانزادہ کو وہ تلملانے پر مجبور کرگئی تھی ۔۔۔

“اتنی اکڑ کس بات پر ہے تمہیں ۔۔۔ میں چاہوں ابھی کے ابھی تمہارا یہ غرور توڑ سکتا ہوں سمجھی تم ۔۔۔ ولید نے تند لہجے میں کہا ۔۔۔

“یہ اکڑ اور غرور اپ کو لگتا ہے جبکہ یہ اعتماد ہے اور یہ اعتماد مجھے میرے ماں ہونے پر ہے دو بیٹوں کی ماں ہونے پر ۔۔۔ ہانیہ کے انداز میں اب بھی کوئی فرق نہ ایا تھا ۔۔۔

ولید خانزادہ کو اچھا خاصا زچ کر چکی تھی وہ اپنی باتوں سے ۔۔۔

“میں تمہیں وقت دے رہا ہوں اس کا مطلب یہ نہیں تم خود کو کوئی بڑی توپ چیز سمجھنے لگو ۔۔۔

“مجھے وقت نہیں چاہیۓ فیصلہ ہوچکا ہے کل جو میرا فیصلہ اج بھی وہی ہے ۔۔ وہی دوٹوک اور بےلچک انداز تھا ہانیہ کا ۔۔

“مجھے لگا تم وقت کے ساتھ سنبھل جاؤگی اور ان فاصلوں کو دور کرنے میں میرا ساتھ دوگی پر تم تو ۔۔۔ ولید خانزادہ کو ہی مفاہمت سے کام لینا پڑرہا تھا کیونکہ ہانیہ کے انداز میں ایسا کچھ نہ تھا ۔۔۔ ہانیہ کے ہر انداز میں بےرخی تھی ۔۔۔

“یہ فاصلے تاعمر ختم نہ ہونگے نہ ابھی نہ کبھی ۔۔۔ میری یہ بات ذہن نشین کرلیں ۔۔۔ وہی دوٹوک لہجہ تھا ہانیہ کا ۔۔۔

“تم غلطی پر ہو اب ۔۔۔ ولید خانزادہ نے تیز لہجے میں کہا ۔۔۔

“اپ کے انداز غلط ہیں مسٹر ولید خانزادہ ۔۔۔ ہانیہ نے اسی ٹون میں کہا جس طرح وہ بول رہا تھا ۔۔۔ کہیں بھی وہ دب نہ سکی اس شخص کے اگے ۔۔۔ نا ولید خانزادہ اسے دبا سکا ۔۔۔

بحث دوبدو جاری تھی ۔۔۔ ولید خانزادہ اس کی زبان درازی پر حیران تھا کہ کس طرح بغیر ہچکچاہٹ کے جواب دے رہی تھی ہر بات کا ۔۔۔ جسے وہ مظلوم سجھ رہا تھا وہ اچھی خاصی خرانٹ قسم کی خاتوں لگ رہی تھی ولید خانزادہ کو ۔۔۔

اتنا کہے کر وہ چلی گئی ولید اسے جاتا دیکھتا رہا ۔۔ وہ جتنا آسان سمجھ رہا تھا ہانیہ اس کے لیۓ اتنی مشکل ثابت ہورہی تھی ۔۔

ایک طرف بچوں سے اتنی محبت اور دوسری طرف ان کو اتنا تڑپا رہی تھی اتنی سی خواہش کے لیۓ ۔۔ ولید کو سمجھ نہیں ارہا تھا کس طرح اس لڑکی کو سمجھاۓ ۔۔۔

@@@@@@@@

ولید خانزادہ کو کافی غصہ تھا ہانیہ پر , جو بلکل ہی اس کی کوئی بات ماننے کو تیار نہ تھی ۔۔۔ ولید نے سب کرکے دیکھ لیا پر وہ اپنی بات سے ہٹنے کو تیار نہ تھی ۔۔۔

کل ویکینڈ تھا یسرا بیگم کے بلانے پر وہ میکے گئی تھی ۔۔۔ بچوں نے ضد کی ساتھ چلنے کی ورنہ لے جانا کا کوئی ارادہ نہ تھا اس کا ۔۔۔

وہاں وہ دونوں صبا کے ارگرد ہی منڈلا رہے تھے ۔۔۔ نۓ بے بیز کے مطلق سوال کررہے جن کے جواب وہ خوش اسلوبی سے دے رہی تھی ۔۔۔ ویسے بھی وہ ریسٹ پر تھی اب ۔۔۔ اتنے بھاری وجود کے ساتھ کام کرنا ناممکن تھا اس کے لیۓ ۔۔

ان دونوں کی ایکسائیٹمینٹ دیکھ کر صبا ان کو اپنے کمرے میں لے گئی جہاں ایک کورنر بچوں کے لیۓ سیٹ کیا تھا ۔۔۔

جیسا کہ یہ گھر پرانے وقتوں کا تھا اس لیۓ یہاں کمرے بھی کافی بڑے بنے ہوۓ تھے ۔۔۔ اور ویسے بھی گھر کا سب سے بڑا کمرا ثوبان اور صبا کو دیا گیا تھا ۔۔۔

کمرے میں نیو والپیپر لگوایا تھا ۔۔۔ بےبی کاٹ اور کھلونے خوبصورتی سے سجاۓ گۓ اس سائیڈ ۔۔۔ بے بیز کارنر حنان اور منان کو بہت پسند ایا تھا ۔۔۔

صبا خوش ہورہی تھی بچوں کے اس انداز پر ۔۔۔

اللہ سے ایسے ہی دو جڑوان بچوں کی دعا کرتی تھی وہ ۔۔۔ صبا اور ثوبان دونوں کو حنان اور منان بہت پسند تھے ۔۔۔

“میرا خیال ہے اب تمہیں بھی بچوں کا سوچنا چاہیۓ , حنان اور منان کو دیکھا ہے یہاں اتے ہی صبا کے ارگرد منڈلاتے رہتے ہیں جس کا صاف مطلب ہے ان کو شدید خواہش نۓ مہمان کی ۔۔۔ یسرا بیگم نے اپنے اندازے سے کہا ۔۔۔

“جی امی ۔۔۔ ہانیہ نے سادہ لہجے میں کہا ۔۔۔ یہ کوئی چھپانے کی بات نہ تھی , جو تھا صاف نظر ارہا تھا ۔۔۔ حنان اور منان کا ہر وقت بےبی کی بات کرنا اور ہانیہ کا پہلو بدلنا یسرا بیگم کی نظروں سے چھپا نہ رہ سکا ۔۔۔

“ولید بیٹا کیا کہتا ہے اس بارے میں ۔۔۔ یسرا بیگم نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ایک اور سوال پوچھا ۔۔۔

ان کے سوال پر ہانیہ ان کا منہ دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔ کچھ کہنے کو الفاظ ڈھونڈنے لگی ۔۔۔ کچھ سمجھ نہ ارہا تھا کیا جواب دے جبکہ یسرا بیگم منتظر نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔