Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
ناول انمول سے بےمول
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 28
“پلیز ہانیہ بسس اور سننے کی مجھ میں ہمت نہیں ۔۔۔ سحرش نے تڑپ کر کہا ۔۔۔
“نہیں سحرش مجھے اعتراف کرنے دو , میں نے سب کے ساتھ غلط کیا اپنے غرور میں سب کو اپنے قدموں میں روندتی رہی دیکھو مجھے اور سب کو بتانا مکافاتِ عمل اٹل ہے ہر غرور کو زوال ہے ۔۔۔ یہ میرا زوال ہی ہے ۔۔۔ ہانیہ نے کرب سے کہا ۔۔۔
“ہانیہ اتنا بڑی خطاکار نہیں ہو کہ تمہیں معافی نہ ملے , سب ٹھیک ہوجاۓ گا ۔۔۔ تم دیکھنا ہانیہ ۔۔۔ سحرش نے یقین سے کہا ۔۔۔
بسس ہانیہ خاموشی سے دیکھتی رہی سحرش کو ۔۔۔ سحرش اس کے چہرے کے سنجیدہ تاثر کو جس پر زندگی کی کوئی رمق نہ تھی ۔۔۔ سحرش اور کچھ کہتی رضیہ بی نے ڈائینگ پر بلایا دونوں کو ۔۔۔ جو ملازمہ سے لنچ لگواچکی تھی ۔۔۔
“آؤ لنچ کریں ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔
“دل نہیں (تمہاری باتوں نے ماردی بھوک میری ) ۔۔۔ سحرش نے سوچا کچھ اور کہا تو بس اتنا ۔۔۔
“چلو اٹھو , کھانا کھا کر ہی جاؤ گی میرے گھر سے سمجھی , مل کے کرتے ہیں ۔۔۔ بچے بھی ارہے ہیں ۔۔۔ ہانیہ نے اچھی طرح ڈپٹا اسے ۔۔۔
حنان اور منان نے مشترکہ سلام کیا دونوں کو ۔۔۔ سحرش نے اپنی دوست کو مسکراتے دیکھا اور پیار سے جواب دیتے سنا ۔۔
کتنے محبت سے اس نے ملوایا دونوں کو سحرش سے ۔۔۔ شادی میں مل چکے تھے پر وہ ملاقات سرسری تھی ۔۔۔ اج سحرش نے محسوس کیا دونوں بچوں کو ہانیہ کتنا پیار کرتی ہے وہ اچھی ماں تھی ۔۔۔ یہ گواہی سحرش کے دل نے دی ۔۔۔
سحرش کے دل کو کچھ ڈھارس ملی کہ اس کی دوست کے مسکرانے کی وجہ تو ہے ورنہ اب تک وہ اس کے بےجان انداز سے دکھی تھی پر اس کے وجود میں زندگی کی رمق حنان اور منان کے انے سے محسوس ہوئی ۔۔۔
ہانیہ کی پوری توجہ تھی وہ دونوں سہی سے کھائیں اور سحرش تینوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔۔۔
“مسکرانے کے بجاۓ کھانے پر توجہ دو ۔۔۔ اب کے ہانیہ نے اس کی پلیٹ میں بریانی ڈالی چکن پیس رکھا اور اب پیالی میں رائتہ ڈال رہی تھی اس کے لیۓ ۔۔۔
“تم تو پکی والی امان ٹائپ کی بن گئی ہو ۔۔۔ سحرش نے اسے چھیڑا ۔۔۔ بچے بھی مسکراۓ اپنی ماؔ کی سہیلی کی بات پر ۔۔۔
“ہاں وہ تو ہے آخر دو بچوں کے بعد بھی مجھے امان ٹائپ نہیں بننا چاہیۓ ۔۔۔ ہانیہ نے حنان اور منان کو محبت سے دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔ سحرش اسے اور وہ بچوں کو بغور دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ماں کی ممتا ہانیہ کے ہر انداز میں تھی ۔۔۔ ہانیہ کی اٹھی ان پر ہر نظر پر حنان اور منان جس طرح کھل کھلا اٹھتے ۔۔۔ یہ دیکھ کر سحرش حیران ہی تھی ۔۔ اس کی دوست بچوں سے کتنا چڑتی تھی یاد تھا سحرش کو ۔۔۔ جس کے لئے وہ کہا کرتی تھی کہ “وہ کبھی اپنے بچوں کو نہیں پیار کر سکتی ۔۔۔ اور آج کسی اور کے بچوں سے اتنا پیار حیران کن تھا سحرش کے لیۓ ۔۔۔
@@@@@@@@
“کچھ لوگ مردہ لوگوں کو زندہ رکھتے ہیں اور زندہ لوگوں کو جیتے جی ماردیتے ہیں ۔۔۔ میرے ساتھ بھی ایسا کچھ ہوا ہے ۔۔۔ ہانیہ کے لفظوں بازگشت ولید خانزادہ کے کانوں میں گونجتی رہی ۔۔۔
جس کی خوبصورتی اور حسن نا اتنا چونکا سکا ولید خانزادہ کو اس کے ایک جملے نے اس کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیا , اس کی دل کی دنیا کو تھس نھس کرگیا ایک جملا ۔۔۔
پھر اس ایک جملے کا اثر ایک دن نہیں کئی دن جھنجھوڑنے لگا اس مضبوط ارادوں کے حامل مرد کو ۔۔۔
اب جتنا وقت وہ گھر پر ہوتا ہانیہ اس کی منظور نظر رہتی پر ہانیہ کا جذبات سے عاری انداز اس کو کچھ بھی کہنے سے روکنے لگتا اسے دیکھ کر پتھر سا گمان ہونے لگتا ولید خانزادہ کو۔۔۔ ولید خانزادہ کی مردانہ انا اسے روکتی اس کی طرف بڑھنے سے کیونکہ وہ بھی ایک مرد تھا عورت کے ریجیکشن سے ڈرتا تھا , ہانیہ کے ہر انداز میں واضع بیزاریت تھی ولید خانزادہ کے لیۓ ۔۔۔
وہ ایک بزنس ٹائیکون تھا اس کی سمجھ بوجھ بھی بہت زیادہ تھی اتنا تو وہ سمجھ چکا تھا اب وہ صرف اس کے بچوں کے لیۓ یہاں ہے وہی اس کا محور ہیں وہ صرف ماں ہی تھی اور کچھ نہیں رہی تھی ۔۔۔ ہر جذبے سے عاری عورت لگنے لگی تھی ہانیہ اس کو ۔۔۔ کیونکہ ہانیہ کے بنجر ہونٹ صرف حنان اور منان کی شرارتوں سے کھل اٹھتے ورنہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بھی اس کا انداز خشک سا ہوتا ۔۔۔
“کیا واقعی میں نے اسے اندر سے ماردیا ہے ۔۔۔ اس کے اندر سے آواز اٹھتی اور پھر جس طرح وہ ایک عورت کی نسوانیت کی توہیں کرچکا ہے اس کے بعد معافی آسان نہ تھی اس کے لیۓ یہی چیز اسے روکتی تھی اس کی طرف بڑھنے سے ۔۔۔ وہ کشمکش کا شکار ہورہا تھا پر ایک جملے نے اس کا سونا کھانا پینا اس کا بزنس سب کو متاثر کررہا تھا ۔۔۔
“کچھ لوگ مردہ لوگوں کو زندہ رکھتے ہیں اور زندہ لوگوں کو جیتے جی ماردیتے ہیں ۔۔۔
وہ تڑپ ہی اٹھتا جب اس جملے کی بازگشت گونجتی اس کے کانوں میں ۔۔۔
عنقریب اس بت کی انا کا غرور پاش پاش ہونے والا تھا جس کے بعد وہ ضرور بڑھے گا اس کے وجود میں زندگی کی رمق واپس لانے کے لیۓ ۔۔۔ وہ وقت قریب تھا پر کب اس سے ولید خانزادہ بےخبر تھا ۔۔۔
@@@@@@@@@
ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﯽ ﺩﮬﺎﺭ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ،ﺍﻭﺭ میرا یہ دُﮐﮫ
ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭمیرا یہ دُﮐﮫ
ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ اُﺳﯽ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺳﮯ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮئے ،
ﭘﮭﻮﻝﺧﻂ، ﻭﻋﺪﮮ، ﺩﻻﺳﮯ، ﺍﮎ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ میرا یہ دُﮐﮫ
اِﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍ ﮐﺮ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﺭﻭﺗﮯ ﺭﮨﮯ
ﺭﺍﺕ، ﺻﺤﺮﺍ، ﺧﺸﮏ ﭘﺘﮯ، ﺍیک ﺭﺍﻧﯽ، ﺍﻭﺭ میرا یہ دُﮐﮫ
ﺍﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ پہلی ﺳﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻧﮩﯿﮟ
ﮈﺍﻝ ﺍﺏ ﺟﮭﻮﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ میرا یہ دُﮐﮫ
ﺭﺍﺕ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ، ﺑﺎﻧﺴﺮﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﮎ ﭘﺮ
ﺭﮐﮫ ﺩﯾﮟ ﭘﮭﺮ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﭘﺮﺍﻧﯽ، ﺍﻭﺭمیرا یہ دُﮐﮫ
“مجھے یہاں بلانے کا مقصد ہانیہ نے نظریں ٹیبل کی سطع پر جماتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔
ثوبان نے بغور اس لڑکی کو دیکھا جس کا عروج پھر زوال بھی اس نے دیکھا ۔۔۔ کیا تھی وہ لڑکی سجی سنوری خود کے حسن سے آشنا مغرورانہ چال چلتی تھی کبھی وہ , فتح کا غرور اس کے ہر انداز سے چھلکتا تھا شکست کے معنی بھی دیکھ لی تھی اس نے آخر , اج شکستہ سی لگی اس کو ہانیہ ۔۔۔ ثوبان کے اندر ٹیس سی اٹھی اس کی جھکی نظر کو دیکھ کر ۔۔۔
کل ثوبان نے اسے پہلی دفعہ میسج کرکے صرف اتنا کہا “کل اسی ریسٹورینٹ میں ملو جس میں ہمیشہ اپنی منوانے کے لیۓ ملا کرتی تھی انکار نہ کرنا , تمہیں آنا ہے ۔۔۔
اس کا میسج ریڈ کرنے کے کچھ گھنٹوں کے بعد اس نے پوچھا “کس وقت ملنا ہے ۔۔۔۔
“چار بجے ٹھیک رہے گا ۔۔۔ ثوبان نے میسج کیا ۔۔۔
“دن کے بارہ بجے ٹائم ہے ورنہ جو بات کرنی ہے میرے گھر آپ اسکتے ہیں ۔۔۔ ہانیہ نے میسج کا ریپلاۓ دیا ۔۔۔
“اوکے بارہ بجے اجانا میں پہنچ جاؤں گا ۔۔۔ ثوبان نے میسج میں لکھا ۔۔۔
وہ جو ہمیشہ لیٹ آتی تھی اج ٹائم پر اگئی تھی پر ثوبان کو انے میں لیٹ ہوگئی تھی ۔۔۔ وہ معذرت کرتا اس کے سامنے اکر بیٹھا تھا دن کے اس وقت کم ہی رش ہوتا ہے ایسی جگہوں پر ۔۔۔
“جو بات کرنی ہے جلدی کریں مجھے بچوں کو اسکول سے پک کرتے ہوۓ واپس گھر جانا ہے ۔۔۔ ہانیہ جلدی میں لگی ثوبان کو ۔۔۔
“ہانیہ ہر انسان غلطی کرتا ہے اس غلطی کو زبردستی خود پر مسلط کرکے خود کو مارنا ٹھیک نہیں ۔۔۔ ثوبان نے اس کو دیکھتے ہوۓ بغور کہا تھا جس کی نظر صرف ٹیبل پر تھی ۔۔۔
“میں سمجھی نہیں اپ کی اس بات کا مطلب ۔۔۔ ہانیہ نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔ اب کے ایک نظر اسے دیکھ کر دوبارہ نظریں جھکائیں ۔۔۔
“اس طرح گھٹن بھری زندگی گزارو تم , ہم میں سے کسی کو گوارہ نہیں , مانتا ہوں تم سے غلطی ہوئی ولید خانزادہ جیسے شخص سے شادی کرکے پر اس کا مطلب یہ نہیں اس طرح کے رشتے کو خود کے گلے کا طوق سمجھ کر تاعمر نبھاؤ صرف اس لیۓ تم سے غلطی ہوئی تم نے غلط شخص کا انتخاب کیا اس لیۓ ۔۔۔ تمہیں زندہ درگو چھوڑ دیں ایسی زندہ خودکشی کے لیے , ایک عورت کو مکمل کرتا ہے مرد کا ساتھ جب وہی مرد اس کا ساتھ نہ دے سکے اسے تنہا کر دے اور ویرانی اس کی زندگی میں بھر دے تو پھر عورت کو اختیار ہے کہ وہ اس بندھن سے آزاد ہوجائے اور یقین مانو ہم تمہارا ساتھ دیں گے ۔۔۔ اس طرح تمہیں دکھی دیکھ کر ہمیں افسوس ہوتا ہے ۔۔۔ ثوبان نے اسے واضع لفظوں میں اپنے انے کا مقصد سمجھایا ۔۔
“میں نے اپنے دکھ اور تکلیف کا کبھی کوئی اشتہار نہیں لگایا ہے اس لیۓ مسٹر ثوبان آپ جو سمجھ رہے ہیں وہ غلط سمجھ رہے ہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔ جو جیسا چل رہا ہے چلنے دیں اپ اپنی قوت مجھ پر ضایع نہ کریں جائیں خوش اور مگن رہیں اپنی خوشیوں میں ۔۔۔ ہانیہ نے مضبوط لہجے میں اس کی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بات کہی تھی ۔۔۔
“میرا دماغ نہ خراب کرو ہانیہ , میں تم پر کوئی طنز نہیں کر رہا , تم غلط سمجھ رہی ہو کہ کسی کو تمہاری پرواہ نہیں تم کو بیاھ کر سب بھول بیٹھے ہیں تمہیں , اب تم بےمول ہو ہمارے لیۓ ۔۔ سب تمہاری بھول ہے , گھروالوں کے لیۓ اج بھی انمول ہو تمہاری انکھوں کی اداسی اور ویرانی ہمیں بھی اداس اور دکھی کرتی ہے ۔۔۔ اپنی قدروقیمت ہماری نظر سے دیکھو سمجھی تم انمول تھی , ہو اور رہو گی ۔۔۔۔ ثوبان نے اسے ایک اور بار سمجھانے کی کوشش کی ساتھ ہی ساتھ اس کی اہمیت بتائی ۔۔۔
“شکریہ بتانے کے لیۓ شاید اب یہ سب باتیں معنی نہیں رکھتیں میرے لیۓ ۔۔۔ جو انسان بوتا ہے وہی کاٹتا ہے مجھ سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا اس کہاوت کو ۔۔۔ میں نے جیا ہے اس کہاوت کو ۔۔۔ آپ نے ایک دن کہا تھا مرجاؤ ہانیہ تم مرکیوں نہیں جاتی ۔۔۔ یاد ہے آپ کو , شاید نہیں , نہیں یاد ہوگا آپ کو , پر مجھے وہ لفظ اور ان کی شدت مجھے یاد ہے ۔۔۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہنے والوں کو احساس نہیں ہوتا , ان کا کچھ نہیں جاتا جس پر گزرتی ہے وہی جانتے ہیں ۔۔۔۔ ہانیہ کا لہجہ سرد اور مضبوط تھا پر اس کے اندر کا درد وہ بخوبی سمجھ رہا تھا ۔۔۔
“سوری ہانیہ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیۓ تھا ۔۔۔ ثوبان جیسا صاف دل کا انسان لمحوں میں اپنی غلطی مان کر معافی مانگی اس سے ۔۔۔
“نو نو نو میں یہ سب آپ کے سوری سننے کے لیے نہیں کہہ رہی , اپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں ۔۔۔ ہانیہ کق انداز نفی کررہا تھا کہ وہ اس کی معافی کی خواہشمند نہیں ۔۔
وہ حیران ہورہا اس کے سرد انداز پر ۔۔۔ وہ سمجھ ہی نہیں سکا تھا وہ کس مقام پر پہنچ چکی ہے وہ پہلے والی ہانیہ نہیں رہی تھی وہ ۔۔۔
” میں نے کہا تھا کہ کہنے والوں کا کچھ نہیں جاتا سننے والے کمال کرتے ہیں مجھے اس دن سمجھ میں آ گیا تھا اس بات کا مطلب ۔۔۔ میں اج تک صبا آپی کو سناتی آئی تھی ان کو احساس کمتری میں مبتلا کرتے رہے میرے الفاظ , کمال ان کا ہے جنہوں نے مجھے اتنا برداش کیا ۔۔۔ مجھے تاعمر افسوس رہے گا اپنے لفظوں پر , صبا آپی اور آپ خوش رہیں ہمیشہ ایک ساتھ بس یہی دعا ہے میری ۔۔۔ ہانیہ کے لہجے اور بات سے متاثر ہوۓ بغیر رہ نہ سکا وہ ۔۔۔ وہ سب کو متاثر کرنے کی صلاحیتوں سے بھرپور تھی ۔۔۔
“ہم یہاں تمہاری بات کرنے کے لیۓ ملے ہیں ہانیہ ۔۔۔ اب کے ثوبان اسے اصل بات کی طرف دوبارہ لایا تھا ۔۔۔
“میرا خیال ہے آۓ ڈن اٹ , نومور ٹو ڈسکس اباؤٹ ماۓ ریلیشن شپ ۔۔۔۔ ہانیہ نے سخت لہجے میں کہا شاید وہ اس بارے میں زیادہ بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
“ہانیہ , وہ شخص صرف اپنی پہلی بیوی کا ہے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا اس نام کے رشتے سے , تمہارا وجود صرف تھکن زدہ ہوجاۓ گا اس رشتے کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے , تم نے اتنی بڑی غلطی نہیں جس کی سزا خود کو یوں دو ۔۔۔ ثوبان نے ایک اور کوشش کی اسے سمجھانے کی ۔۔۔
غلطی تو حنان اور منان کی بھی نہیں تھی جن کو سزا دوں ولید خانزادہ سے یہ رشتہ توڑ کر ۔۔۔ کیوں ٹھیک کہے رہی ہوں نا ۔۔۔
ثوبان لاجواب نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔ کچھ لمحوں کے بعد سنبھل کر بولا تو بس اتنا کہ ۔۔۔
پر تم یوں اجڑی ویران زندگی گزارو , یہ بھی ٹھیک نہیں ہانیہ ۔۔۔
بسسس ایک لفظ اور نہیں ۔۔۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ نا میں اچھی بیٹی تھی نہ اچھی بہن تھی نہ اچھی انسان تھی , میں نے ہر رشتے کو مطلب کے لیۓ استعمال کیا جس کی سزا مجھے مل گئی اور مجھے احساس ہے کسی رشتے سے میں وفادار نہ رہی پر ایک بات واضع کردوں ہانیہ ہر رشتے میں بےوفا ہوسکتی ہے پر ایک ماں کے روپ میں کبھی بےوفا نہیں ہوسکتی , میں اس رشتے میں کبھی بےوفائی نہیں کرسکتی کبھی نہیں ۔۔۔ آئندہ اس بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرے میں خوش ہوں اپنے بچوں کے ساتھ وہی میرے زندہ رہنے کی وجہ ہیں ورنہ مر تو اسی دن جاتی جس دن مجھے مرنے کا مشورہ دیا تھا اپ نے , پر شکر ہے اس دن مجھے میرے رب نے وجہ دے دی جینے کی مجھے مقصد دے دیا اس زندگی کا ۔۔۔ میرے اوپر قرض ہے ان بچوں کا جن کے اندر ماں کا احساس جگانے کی غلطی کی تھی میں نے , اب تاعمر مجھے انہیں ماں کی محبت دینی ہے , مجھے اس آزمائش میں سرخرو ہونا ہے اور اپ کی اطلاع کے لیۓ بتادوں شاید ولید خانزادہ کے لیۓ میرا وجود کوئی معنی نہیں رکھتا پر میرے بچوں کے لیۓ میں انمول ہوں میں جانتی ہوں میری اہمیت ان کی نظروں میں ۔۔۔ اسلیۓ مجھے کوئی افسوس نہیں میری اس زندگی پر ۔۔۔ میں مطئمن ہوں اس لیۓ بےفکر ہوجائیں ۔۔۔ میرے بچوں کی چھٹی کا ٹائم ہورہا ہے مجھے جانا ہے اللہ حافظ امید ہے دوبارہ کبھی اس بارے میں بات نہ ہوگی ہمارے بیچ , آپ کو ہمیشہ بلا کر میں نے اپنی بات منوائیں ہیں اسی لئے آج آپ کے بلاوے پر آئی ہوں ۔۔۔ پر یہ آخری دفعہ ہے آئندہ پھر کبھی کہیں پر بھی اکیلے ملنے نہیں آؤں گی اس لیے نہ کبھی مجھے بلائیۓ گا ۔۔۔ اس کا انداز سرد اور دوٹوک تھا ۔۔۔
ایک بار پھر اللہ حافظ کہتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور وہ اسے جاتا دیکھتا رہا ۔۔۔
@@@@@@@
وہ اس کے پیچھے ایا جب وہ گاڑی میں بیٹھی ۔۔۔ جانے کیوں اس نے فالو کیا اس کی گاڑی کو ۔۔۔ بچوں کا اسکول اس ریسٹورنٹ کے تھوڑے فاصلے پر تھا ۔۔۔
جس طرح وہ بچوں کے اسکول کے گیٹ کے سامنے دھوپ میں کھڑی تھی وہ حیران ہوا ۔۔۔
“اف اتنی دھوپ ہے میں نہیں جارہی چھت سے کپڑے لینے میرا گورا رنگ خراب ہوجاۓ گا ۔۔۔ ہانیہ چڑ کر سارا سے یا کبھی صبا سے کہتی جب وہ صرف اسے لانے کو کہتے جبکہ وہ دونوں ہی گھر کے سارے کپڑے دھوتی تھیں رانیہ پھر بھی تھوڑی بہت ہیلپ کرتی پر ہانیہ کا ایک ہی جملا ہوتا “سرف سے میرے ہاتھ خراب ہونگے یہ کام تم لوگوں کو مبارک ہو سمجھی ۔۔۔ چاہے کتنا بھی یسرا بیگم کہتی پر وہ کہاں ماننے والی تھی بلا کی ضدی اور خودسر ہوا کرتی تھی ۔۔۔ کبھی نہیں مانتی تھی کسی کی بات ۔۔۔
ڈرائیور شاید فکرمند تھا کہ اس کا یوں دھوپ میں کھڑے ہونے پر کچھ بولا تھا اس سے , پر شاید اس نے سختی سے اسے کچھ کہا تھا وہ سائیڈ پے ہوگیا ۔۔۔
اج شدید گرمی تھی ۔۔۔ گاڑی میں اے سی کے باجود ثوبان کو شدید گرمی کا احساس ہورہا تھا ۔۔۔ ہانیہ بغیر کسی پرواہ کے کھڑی تھی ۔۔۔ جانے کیوں وہ اسے دیکھتا رہا کچھ ہی دیر میں دونوں بچے گیٹ سے باہر آۓ اسے دیکھ کر بےانتہا خوش ہوۓ اور ہانیہ نے محبت سے دونوں کو ہگ کیا اور دونوں کے بیگ اٹھالیۓ ۔۔۔ کتنا مکمل منظر تھا وہ , ماں اور بچوں کی محبت کا ۔۔۔ ڈرائیور نے بیگز تھام لیۓ اس کے ہاتھ سے اور دونوں بچے اس کے ساتھ باتیں کرتے ہوۓ گاڑی میں جا بیٹھے ۔۔۔
ثوبان کو یقین نہ ایا یہ ان کی ہانیہ ہے بچوں سے الرجک سی رہنے والی اور رانیہ جو پڑوسی بچوں کا ہجوم لگاۓ رکھا کرتی تھی گھر میں اس کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے والی ہانیہ , اتنی محبت کرنے والی ان کی ہانیہ بھی ہوسکتی ہے کسی نے سوچا نہ ہوگا ۔۔۔ ثوبان جیسے حساس شخص کی آنکھوں میں نمی سی آئی یہ سب دیکھ کر ۔۔۔
ثوبان جو بے یقین تھا کہ وہ صرف بہانہ کررہی ہے کہ وہ اس رشتے کو صرف بچوں کے لیۓ نبھانا چاہتی ہے ۔۔۔ وہ حقیقت لگا واقعی وہ بچوں کو بلکل ماں کی محبت دے رہی ہے ۔۔۔
“واقعی ہانیہ تم بہت بدل گئی ہو ہوسکے مجھے معاف کردینا , میں نے بہت تکلیف دہ لفظ کہے تم سے , یقین مانو میں تمہاری بھلائی چاہتا تھا پر اج تمہیں اس حال میں دیکھ کر میں بہت دکھی ہوں , میری دعا ہے اللہ تمہیں ہر رشتے میں خوشی دے ناصرف تم اچھی ماں ہو بلکہ اچھی بیٹی اور اچھی انسان بھی ہو ۔۔۔ میری دعا ہے ولید خانزادہ کو تم سے محبت ہوجاۓ جیسی تم ڈیزروو کرتی ہو ۔۔۔
@@@@@@@@
رانیہ حیران تھی اج اس کا شوہر اس کو بزنس پارٹی میں لے کر جارہا ہے ۔۔۔ شادی کے بعد پہلی بار امریکا میں وہ کسی پارٹی پر جارہے تھے ۔۔۔ وہ مطئمن تھی ۔۔۔ بلیک ساڑی اس نے پہنی تھی سعاد کے کہنے پر ۔۔۔ سعاد کے اعتراض پر اس نے اسکارف نہ پہنا تھا ۔۔۔
“یا اللہ مجھے معاف کردے , میں نے اپنے شوہر کی خواہش پر اسکارف نہ لے سکی ہوں , پر میں کیا کروں شادی کے بعد پہلی دفعہ کہیں باہر جارہی ہوں اس کو ناراض نہیں کرنا چاہ رہی ۔۔۔
وہ جاب اور یونی کی وجہ سے اسکارف کی عادی ہوگئی تھی اس لیۓ اب بغیر اسکارف کے باہر جانا اسے مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔ وہ مکمل عادی ہوگئی تھی اسکارف لینے کی , بغیر اسکارف کے خود کو ادھورا محسوس کررہی تھی ۔۔۔
پارٹی بڑے پیمانے پر تھی ۔۔۔ ہر طرف روشنی اور عورتوں کی بےحیائی کے نظارے تھے سب دوسروں کی بیویوں سے گلے مل رہے تھے ہاتھ ملارہے تھی ۔۔۔ ایک مرد نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا رانیہ نے اگنور کیا ۔۔۔ سعاد کو شرمندگی سی محسوس ہوئی ۔۔۔ اس لیۓ وہ اسے سائیڈ ٹیبل کرسی لگی تھی وہاں پر بٹھایا اور کہا ۔۔۔
“میں جاکر سب سے مل لوں تم نے مجھے ویسے بھی شرمندہ کروانا ہے یہاں ۔۔۔ سعاد نے مختصر لفظوں میں اسے بےعزت کیا ۔۔۔
رانیہ نے سرجھکالیا افسوس ہوا اسے یہاں آنے پر ۔۔۔
“کاش میں اسکارف لے لیتی تو کسی کی ہمت نہ ہوتی اس طرح ہاتھ ملانے کے لیۓ ہاتھ بڑھانے کی ۔۔۔ رانیہ نے سوچا ۔۔۔
اس نے نا چاہتے ہوۓ بھی سعاد کو ناراض کردیا تھا ۔۔۔
ہمیں احساس نہیں ہوتا ہمارے کچھ عمل سے ہم خود کو بچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جیسے اسکارف لینا اور اپنا روایتی لباس پہننا ہمیں دوسروں سے الگ منفرد ظاہر کرتا ہے ۔۔۔ جس کی وجہ سے لوگ محتاط ہوجاتے ہیں ۔۔۔
ابھی سعاد پلٹ کر وہاں سے چلا جاتا اسی لمحے تیمور شاہ کو دیکھ کر حیران ہوا اور ان سے گرمجوشی سے ملا ۔۔۔
“اس بیوٹی کوئین سے ہمارا تعارف نہیں کرواؤگے کیا ۔۔۔ تیمور شاہ نے رانیہ کو بغور دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔ بلیک کلر میں وہ کسی قیامت سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔ اپنے حسن کی بجلیاں بکھیر رہی تھی وہ ۔۔۔
“یہ ہماری کمپنی کے سب سے بڑے انویسٹر ہیں تیمور شاہ اور یہ میری وائف رانیہ سعاد ۔۔۔ سعاد نے جلدی سے تعارف کروایا ۔۔۔
رانیہ نے بیٹھے بیٹھے سلام کیا اور نظریں جھکی رہیں سعاد اشارے کرتا رہا کہطوہ کھڑی ہوکر ملے پر رانیہ نے ایک نظر میں اس شخص کی ہوس بھری نظریں خود پر محسوس کرلیں تھیں اب کھڑے ہوکر اس کو اپنے جسم کی نمائش کروانا مناسب نہ لگا اسے ۔۔۔ اس لیے رانیہ نے کھڑے ہونے کی بھی زحمت نہ کی اپنے شوہر کے اشاروں کے باوجود بھی ۔۔۔
پر تیمور شاہ محفوظ ہوا اس کے احتیاطی انداز پر اور ڈھٹائی سے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ملانے کو ۔۔۔
رانیہ کے سہی معنیٰ میں چھکے چھوٹ گۓ ۔۔۔
“کم آن ڈیڈ یہ ہاتھ نہیں ملائیں گی ۔۔۔ اسی لمحے کسی نے اکر کہا تھا تیمور شاہ سے ۔۔۔
بےساختہ رانیہ نے نظر اٹھاکر دیکھا اور فائز شاہ کو اپنے روبرو دیکھ کر حیران ہوئی ۔۔۔ سعاد خاموش تماشائی تھا اور دل میں شکر کیا فائز کے انے پر ۔۔۔ سعاد کو اب شدید افسوس ہوا رانیہ کو لانے پر ۔۔ وہ لانے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا تھا صرف کلیگز کے کہنے پر لایا تھا اور ویسے بھی یہ کپلز ٹائیپ پارٹی تھی ۔۔۔
“تم جانتے ہو اسے ۔۔۔ تیمور شاہ نے پوچھا ۔۔۔ وہ دونوں باپ بیٹا کم بھائی زیادہ لگ رہے تھے ۔۔۔ تیمور شاہ نے خود کو کافی مینٹین کیا ہوا تھا ۔۔۔
“جی یونی فیلو ہے ۔۔۔ فائز شاہ نے کہا ۔۔۔ رانیہ کو جزبز ہونا اور اس کی باپ کا یوں دیکھنا اسے زہر لگ رہا تھا ۔۔۔
“یہ میرا اکلوتا بیٹا فائز شاہ ہے ۔۔۔ تیمور شاہ نے اس کا تعارف کروایا سعاد سے ۔۔۔ سعاد اور فائز گرمجوشی سے ملے ۔۔۔ سعاد حیران ہوا تیمور شاہ کے اتنے بڑے بیٹے کے ہونے پر ۔۔۔
پھر کافی دیر تیمور شاہ بےوجہ سعاد سے باتیں کررہے تھے تاکہ اس حسن کا بھرپور نظارہ کرتے رہیں جبکہ فائز کو ناگوار گزر رہا تھا اپنے باپ کا یہ انداز ۔۔۔ وہ جانے کیوں شرمندگی محسوس کعرہا تھا رانیہ سے ۔۔۔
“تم بھی کیا سوچتی ہوگی بیٹا ایسا تھا تو باپ کیا کم ہوگا ۔۔۔ فائز نے سوچا ۔۔۔ رانیہ نے اس کی شرمندگی کو خوب محسوس کیا اور حیران بھی ہورہی تھی بیٹے کے انداز پر جو باپ کو وہاں لے جانے کے بہانے کررہا تھا مسلسل ۔۔۔
“چلیں ڈیڈ , اپ نے کہا تھا مسٹر مورن سے ملوائیں گے اس پارٹی میں ۔۔۔ فائز کا یہ بہانہ کام کرگیا تیمور شاہ چلنے کو مان گۓ ۔۔۔
“اوکے چلو ۔۔۔ تیمور شاہ نے کہا ۔۔۔
“”مسٹر سعاد کبھی میرے گھر بھی آئیں اپنی مسز کو لے کر ۔۔۔ ہمارے رائل پیلس کو دیکھ کر ان کی بیزاریت دور ہوجاۓ گی ۔۔۔ تیمور شاہ نے فخریہ لہجے میں کہا ۔۔۔
فائز کو افسوس ہوا جاتے جاتے اس کا باپ اپنے اگلے شکار کو دانہ ڈالنا نہ بھولا تھا ۔۔۔
“جی سر اٹز اے آنر فار می اینڈ ماۓ وائف ۔۔۔ سعاد نے سینے پر ہاتھ رکھ کر یہ لفظ کہے تھے یہ بھی ایک انداز تھا اپنی خوشی کے اظہار کا ۔۔۔ فائز نے تاسف سے دیکھا رانیہ کو جس کا شوہر خوش ہورہا تھا تیمور شاہ کی آفر پر ۔۔۔
سعاد اور رانیہ دونوں باپ بیٹے کو جاتا دیکھتے رہے ۔۔۔ رانیہ کا دل اچاٹ ہوگیا سعاد کی بات سن کر ۔۔۔ وہ دل ہی دل میں فیصلہ کرچکی تھی کبھی اس کے رائل پیلس نہیں جاۓ گی ۔۔۔ چاہے کچھ بھی ہوجاۓ ۔۔۔
@@@@@@@@
وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی بچے دونوں سوچکے تھے اب وہ مطئمن تھے کہ ان کی ماں ان کے پاپا کے پاس سوتی ہے اور ہانیہ نے اپنا روٹین بنالیا تھا کہ وہ فجر نماز کے بعد قطعی نہیں سوتی تھی جس کی وجہ سے بچوں کو یقین دلاچکی تھی کہ ان کے ماں باپ نارمل کپل کی طرح ہیں ۔۔۔
ابھی وہ بچوں کو چیک کرکے اپنے روم میں سونے کے ارادہ سے آئی تھی ۔۔۔ وہ چینج کرکے لیٹنے کے ارادے سے بیڈ کی طرف بڑھی ہی تھی کہ کمرہ کے دروازے پر ناک کرکے دروازہ کی ناب گھماکر دروازہ کھلا ۔۔۔
وہ حیران ہوئی اتنی لیٹ ناک پر اور پھر دروازہ کھلنے پر ۔۔۔ سامنے ولید خانزادہ کو دیکھ حیران ہوئی ۔۔۔
“سب خیریت ۔۔۔ ہانیہ نے چونک کر کہا ۔۔۔ وہ اپنی جگہ فریز ہی ہوگئی تھی ۔۔۔ اس وقت اس کی آمد پر ۔۔۔
“ہمممم سب خیریت ہی ہے ۔۔۔ ولید خانزادہ مدہم لہجے میں کہتا اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔ ہانیہ کے روبرو کھڑا ہوا ۔۔۔
“مجھے لمبی چوڑی بات کرنا نہیں اتی اس لیۓ ۔۔۔ ولید خانزادہ لمحے بھر کو خاموش ہوا اور ہانیہ نے حیرت سے اسے دیکھا کہ کیا کہنے کو وہ تمہید باندہ رہا ہے ۔۔۔
ہانیہ منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی اور دل ہی دل میں اس کے جلدی جانے کی دعا کی کیونکہ اسے شدید نیند ارہی تھی ۔۔۔
ولید خانزاہ ہانیہ کو دیکھ رہا تھا جبکہ ہانیہ کی نظر اپنے بیڈ پر تھی ۔۔۔ وہ اتنی پراعتماد تھی کہ اسے دو ٹوک کہے سکتی تھی کہ جلدی بات کریں مجھے آرام بھی کرنا ہے پر شاید وہ اسے ٹوک کر اس کی بات کا ردہم خراب کرنا نہیں چاہتی تھی اسی لیے خاموش سوالیہ نظروں دیکھ رہی تھی اسے ۔۔۔
“مجھے احساس ہے ہمارے زندگی ایب نارمل روٹ پر چل رہی ہے جسے اب میں نارمل کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ جس میں تمہارا ساتھ درکار ہے ۔۔۔
وہ حیرت سے اس شخص کو سن رہی تھی ۔۔۔۔ جو مختصر لفظوں میں اتنی بڑی بات کہے گیا ۔۔۔
“اور اپ کی کشف ۔۔۔ ہانیہ نے جان بوجھ کر ادھورا جملہ کہا ۔۔۔
“کشف ایک زندہ حقیقت ہے وہ میری پہلی بیوی میری پہلی محبت ہے جس نے مجھے مکمل کیا ہے ۔۔۔ اس سے کبھی انکاری نہیں ہوسکتا میں … ولید خانزادہ نے سکوں سے کہا ۔۔۔ وہ اس شخص کو حیرت سے دیکھ رہی تھی جو کتنے ارام سے سب کہے گیا ۔۔۔ بظاہر ہانیہ کو ولید پرسکوں لگ رہا تھا حقیقت اس سے مختلف تھی ہانیہ کے ہر انداز میں سردمہری اسے اندر ہی اندر بےچین بھی کررہی تھی ۔۔۔
“تو پھر چلیں اپنے کمرے میں ۔۔ ولید خانزادہ نے ہاتھ بڑھایا اور منتظر نظروں سے دیکھنے لگا اسے ۔۔۔ ہانیہ نے ایک نظر اسے اور پھر اس کے ہاتھ کو دیکھا , اور اس کے پاس سے ہوکر نکل گئی ۔۔۔ وہ حیران ہوا ہانیہ کے اس انداز پر جو کھڑکی کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی اور ولید خانزادہ نے اپنا ہاتھ نیچے گرالیا۔۔۔
“مجھے نہیں لگتا اس سب کی ضرورت ہے ۔۔۔ نا مجھے شوہر کی ضرورت ہے کیونکہ عورت کی تکمیل ماں بننے سے ہوتی ہے اللہ کا شکر ہے میں دو بچوں کی ماں ہوں ۔۔۔ جہاں سے میں دیکھ رہی ہوں اپ کو بھی بیوی کی ضرورت نہیں کیونکہ کشف اپ کو مکمل کرچکی ہے ۔۔۔ اس لیۓ اپ جاسکتے ہیں بہت رات ہوچکی ہے مجھے ارام کرنا صبح بچوں کو اسکول بھی بھیجنا ہے ۔۔۔
ہانیہ کے لفظوں کے سردپن کو شدت سے ولید نے محسوس کیا ۔۔۔ اس کے دوٹوک انداز کو دیکھ کر وہ پلٹ گیا ۔۔۔
وہ اسے جاتا دیکھتی رہی ۔۔۔۔
“کاش تم نے کبھی عورت کو سمجھا ہوتا تو اس طرح نہ بلاتے ۔۔۔ عورت اتنی تو عزت ڈیزروو کرتی ہے جب اس کی طرف ہاتھ بڑھاۓ اس کا شوہر تو محبت جیسا کوئی احساس تو تھماۓ یا پھر کوئی امید یا آس ہو کہ اس رشتے میں پیار , عزت , محبت جیسا کچھ ہوگا پر تم آۓ تو کس انداز میں جیسے کوئی ڈیل کررہے ہو ۔۔۔ مجھے اپنی توہیں منظور نہیں ولید خانزادہ , کسی صورت بھی نہیں ۔۔۔
“آج ایک بار پھر تم نے مجھے ذہنی اذیت سے دوچار کیا ہے ولید خانزادہ ۔۔۔ ہانیہ نے کرب سے سوچا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
