Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

ناول ۔۔۔ انمول سے بےمول

ازقلم ۔۔۔ صبا مغل

قسط ۔۔۔ 12

“اپ نے پوچھا تھا میں زیادہ بچوں سے پیار کرتی ہوں یا وہ مجھ سے زیادہ پیار کرتے ہیں ۔۔۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بچے مجھ سے زیادہ پیار کرتے ہیں اس لیۓ مجھے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں پر ۔۔۔ ہانیہ اسے ایک اور بار حیران کرگئی ۔۔ ولید خانزادہ کو افسوس ہوا کوئی ہے جو اسے ہمیشہ چونکا دیتی ہے اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ولید خانزادہ کو یہ کہتا کہ وہ زیادہ پیار کرتی ہے بچوں سے , تاکہ ولید خانزادہ زیادہ امپریس ہو ۔۔۔

پر ہانیہ کا ہر انداز اسے ہر بار حیران ضرور کرتا تھا ۔۔۔

“پر کیا مس ہانیہ ۔۔۔۔ اس نے چونک کر پوچھا ۔۔۔

“آپ میرا رشتہ مانگیں گے اُس مان اور شان سے کہ میرے جاننے والے میرے نصیب پر رشک کریں , جس طرح کی اپ نے مجھ سے باتیں کہیں ہیں اسے سن کر کوئی والدیں اپنی بیٹی نہیں دیں گا ۔۔۔ بس اتنی گذارش ہے ۔۔۔ امید ہے اتنا اپ کرسکتے ہیں میرے لیۓ اس میں اپ کی بھی عزت ہے اور میری بھی ۔۔۔ ہانیہ کا لہجہ دوٹوک اور متوازن تھا ۔۔۔

کچھ حد تک ولید خانزادہ کو اس کی بات سہی لگی ۔۔۔

“تو پھر کب اسکتا ہوں میں اپ کے گھر , مجھے جلدی ہے تاکہ بچوں کی طرف سے میں بےفکر ہوسکوں مجھے پندرہ دن کے لیۓ لندن بھی جانا ہے ۔۔۔ اس نے پوچھا ۔۔

ایسا لگ رہا تھا کوئی بزنس ڈیل ہورہی ہو دونوں کے لہجے ایسے تھے ۔۔۔ اگر ولید خانزادہ کا انداز پروفیشنل تھا تو ہانیہ کا بھی انداز شادی کو لے کر بزنس ڈیل جیسا تھا ۔۔

“یہ ڈپینڈ کرتا ہے اپ کس طرح رشتہ مانگتے ہیں جو میرے پیرینٹس خوشی خوشی اپ کی بات مانیں گے ۔۔۔ ہانیہ نے کندھے اچکاۓ وہ حیران تھا اس لڑکی پر ۔۔۔

“میں زیادہ جھنجھٹ میں نہیں پڑتا چاہتا سمپل نکاح اور رخصتی ۔۔۔ ولید خانزادہ نے کہا ۔۔۔

“اور ولیمہ ۔۔ ہانیہ نے پوچھا وہ اس لڑکی کی جرات پر چونکے بنا نہ رہ سکا ۔۔

“وہ میرے معیار کا ہوگا ۔۔۔ بےفکر رہیں مس ہانیہ اس شادی کو اپنے سرکل میں چھپاکے رکھنے کا , میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ۔۔۔ شاندار انداز میں ہوگا ولیمہ ایک دنیا یاد رکھے گی ۔۔۔ میں اپ کو بتا چکا ہوں صاف لفظوں میں مجھے بیوی کی ضرورت نہیں پر دنیا کے لیۓ اپ میری بیوی ہوں گی اور میرے بچوں کو ماں کا پیار دیں گی بدلے میں اپ کو میرا اسٹیٹس , پیسا , گاڑی ہر چیز ملے گی ۔۔۔ ولید خانزادہ کے لہجے میں اپنے رتبے کا غرور جھلک رہا تھا ۔۔۔

“آپ نے بتایا نہیں مس ہانیہ میں کب اسکتا ہوں اپ کے گھر ۔۔۔

“پرسوں آجائیں , تب تک میں گھر والوں سے بات کرلوں ۔۔۔

“ٹھیک ہے ۔۔۔ وہ اٹھ کر جانے لگی ۔۔۔

“ایک منٹ مس ہانیہ کچھ دیر بچوں کے پاس ٹھر جائیں پھر اپ چلی جائیۓ گا ۔۔۔ ولید خانزادہ نے کچھ سوچ کر کہا ۔۔

“جی ۔۔۔ ہانیہ نے ہا اور دروازے کی طرف بڑھی ۔۔۔

وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا ۔۔۔ ذہن میں کئیں سوچیں ارہیں تھیں کئیں جارہیں تھیں وہ سب کو جھٹک کر صرف ایک بات سوچ رہا تھا ۔۔۔ یہ شادی اس کے بچوں کی خوشی ہے اس لیۓ زیادہ سوچنے کی کوئی بات نہیں لگی اس کو ۔۔۔

@@@@@@@

احمد صاحب حیران تھے اس طرح ثوبان کے بلاوے پر ۔۔۔ دونوں ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے ۔۔۔ جہاں اس نے ولید خانزادہ کے رشتے کے بابت بتایا ۔۔۔ احمد صاحب حیران ہوۓ اس شخص کو کون نہیں جانتا تھا ۔۔۔ ثوبان کا مقصد ان کو راضی کرنا تھا جس کے لیۓ کچھ دیر پہلے ہانیہ نے اس سے یہاں ملاقات کی تھی ۔۔۔۔ ہانیہ نے کچھ یوں کہا تھا ۔۔۔

“ثوبان تم جانتے ہو امی بابا الریڈی رانیہ کے رشتے کو لے کر ناراض ہیں میں نہیں چاہتی میرے ساتھ یہی ہو , اگر تم یہ بات سنبھالو تو شاید امی بابا کو دکھ نہ ہو ۔۔۔ اس نے انگلیاں مڑوڑتے ہوۓ کہا تھا ۔۔

“دیکھو ہانیہ جہاں ہماری سوچ نہیں جاسکتی تھی تم نے وہ ممکن کیا ہے تم سب کرسکتی ہو اپنے ماں باپ کو بھی تم منا لوگی ۔۔۔ تم مناسکتی ہو ان کو خود منالو ۔۔۔ ثوبان نے سھولت سے کہا ۔۔۔

ہانیہ کو ڈھونڈنے سے بھی اس کے چہرے پر کوئی طنز نہ نظر ایا پر بات تو اس نے طنزیہ ہی کہی تھی ۔۔۔ بہت ضبط کرنے کے بعد بولی ۔۔۔

“میں اپنے ماں باپ کو دکھ نہیں دینا چاہتی , اگر ساتھ نہیں دے سکتے تو تایا ابو سے میں خود بات کرلوں گی وہی سب کو سمجھا اور مناسکتے ہیں ۔۔۔

“ہممم رہنے دو میں بات کرلوں گا ۔۔۔ ثوبان نے کہا ۔۔۔

“شکریہ یہی امید تھی تم سے ۔۔۔ اوکے اب چلتی ہوں کل آئیں گے وہ ۔۔۔ سب سنبھال لینا ۔۔۔ وہ حیران ہوا اس کی چالاکی پر اپنا کام نکلنے کے بعد کسی منظر میں وہ نہیں ٹھرتی تھی ۔۔۔

“رکو ایک منٹ ۔۔۔ اس کے کہنے پر وہ رکی اور دوبارہ بیٹھی ۔۔۔

“ہممممم۔۔۔۔ ہانیہ نے ہنکارا جیسے اسے کہے رہی ہو کہ کہو ۔۔۔

” اتنا تو میں سمجھتا ہوں تم نے بچوں کو سیڑھی بنا کر اس شخص تک پہنچی ہو اگر یہ سب کیا ہے تو ان بچوں کو توڑنا مت ۔۔۔ اپنی خواہشوں کے پورے ہونے کے بعد ان بچوں کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکالنے کی غلطی مت کرنا ۔۔۔ اگر بچوں کو ذرہ سی تکلیف دی مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔ ثوبان نے تنبہی کی ۔۔۔

“ثوبان وہ تمہارے بچے نہیں جو مجھے ایسا کہے رہے ۔۔ ہانیہ بھڑکی اس کی بات پر ۔۔۔

” بچے بچے ہوتے ہیں چاہے کسی کے بھی ہوں ۔۔۔ ثوبان کے لہجے میں بچوں کے لیۓ پیار تھا ۔۔۔

“اتنا بدگمان نہ ہو مجھ سے کہ اتنا گھٹیا سوچو میرے بارے میں ۔۔۔ ویسے جو کچھ تم نے کہا ہے ولید خانزادہ کہے تو سمجھ میں آتا ہے تمہارا کہنا مجھے تو آکورڈ ہی لگ رہا ہے ۔۔۔ ہانیہ نے کندھے اچکاۓ ۔۔۔۔ لمحے میں خود سنبھال کر ریلکس انداز میں بولی تھی ۔۔۔

” وہ شخص تمہارے دکھاوے کا قائل ہوگیا ہے اسی لئے اس نے ایسی کوئی تم سے بات نہیں کی ہوگی ۔۔۔ پر میرا اور تمہارا تو بچپن کا ساتھ ہے نا اور مجھ سے بہتر تمہیں کوں جانسکتا ہے ۔۔۔ ثوبان نے آخری الفاظ طنزیہ لہجے میں کہے تھے ۔۔۔

“اسی ہانیہ کو تم نے شدت سے چاہا ہے اور اج بھی تمہاری انکھوں میں پسندیدگی جھلکتی ہے تبہی تو میرے ایک بلاوے پر چلے آۓ ہو ۔۔۔ ہانیہ نے قہقہہ لگایا اور وہ بےبسی سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ گیا ۔۔۔ اس زندہ حقیقت کو جھٹلانا ناممکن ہے اج بھی اسے دیکھ کر دل زوروں سے دھڑکتا ہے , دل اس کی ایک پکار پر اس کی طرف ہمکتا ہے ۔۔۔ دل بےاختیار تھا ہانیہ کے معاملے میں ثوبان کو نفرت سی ہوئی خود سے ۔۔۔

” واقعی دھوکا حسین اور خوبصورت ہوتا ہے ۔۔۔ ثوبان نے سوچا ۔۔۔

ہانیہ اپنا بدلا لے گئی جو کچھ دیر پہلے اسے بےعزت کیا تھا لفظوں سے اب اس پر بھی وہ طنز چوٹ کرگئی ۔۔۔ ایسی ہی تھی وہ ۔۔

“سوری ثوبان میرا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا تم نے مجھ پر طنز کرکے بےاعتباری دکھائی تو میں بھی خود کو روک نہ پائی ۔۔۔ امید کرتی ہوں اتنی سی بات کا برا مان کر مدد سے انکار تو نہیں کروگے ۔۔ اس نے ایک ادا سے اچانک اپنا لہجہ بدلا تھا اب معذرت خوانہ انداز اپنایا ہوا تھا اس نے ۔۔۔ آخر میں امید سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔

“بےفکر ہوجاؤ , ایک دفعہ ہاں کرنے کے بعد اپنی بات سے نہیں پھرتا میں ۔۔۔ ثوبان نے تسلی دی اس مطلب پرست حسینہ کو ۔۔۔

“اوکے تو پھر اللہ حافظ ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔

“اللہ حافظ ۔۔۔ ثوبان کہے کر اسے جاتا ہوا دیکھنے لگا ۔۔

پھر احمد صاحب کو ہر طرح تسلی دینے لگا کہ وہ سمجھائیں گھر والوں اس رشتے کے لیۓ ۔۔۔ ولید خانزادہ میں ڈھونڈنے سے کوئی عیب نہ ملا ان کو کیونکہ اصل چیز امیر ادمی کا کردار ہوتا ہے اتنا بڑا بزنس ٹائیکوں کبھی کوئی افیئر نہیں چلایا , خاندانی بندہ تھا ۔۔۔ اگر کچھ مسئلا تھا تو شادی شدہ اور دوبچوں کا باپ ہونا ۔۔۔ پر اب احد صاحب کو منانا تھا جس کا سوچ کر احمد صاحب کو فکر ہوئی تھی ۔۔۔

@@@@@@@

اسی رات کو احمد صاحب اور ثوبان نے مل کر احد صاحب کو بتایا اور ان کو سمجھاتے رہے ۔۔۔ آخرکار بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو راضی کرلیا کہ کل ولید خانزادہ آۓ گا رشتہ مانگنے کے لیۓ ۔۔۔

اگلا دن خاموشی سے شروع ہوا جس وقت ولید خانزادہ اور اس کی خالہ آۓ تھے ان کا پروٹوکول دیکھ کر پڑوسیوں کی منہ میں انگلیاں آگئیں ۔۔۔ تیں چار گاڑیاں آئیں تھیں ۔۔۔ گارڈز نے ڈھیر سارا سامان اتار کر رکھا صحن میں اچھی خاصی جگہ بھرگئی تھی ۔۔۔ ہر فروٹ کی ایک ٹوکری لاۓ تھے اس کے علاوہ ڈراۓ فروٹ مٹھایاں ۔۔۔۔ ہانیہ نے کھڑکی سے دیکھا تو حیران رہ گئی ۔۔۔۔

“ولید خانزادہ کا یہ معیار ہے ۔۔۔ وہ حیران ہی ہوئی تھی سوچ کر ۔۔۔

جس محبت سے ولید خانزادہ کی خالہ نے رشتا مانگا تھا وہ قابلِ تعریف تھا ۔۔۔ ولید خانزادہ کا ملنے کا انداز اور ہر ایک سے بات کرنے کا انداز احد صاحب کو مطئمن کرگیا ۔۔۔ وہ شخص ناصرف چھا جانے کی پرسنلٹی رکھتا تھا آج پتہ چلا کہ وہ لوگوں کو امپریس کرنا بھی خوب جانتا تھا ۔۔۔

ہانیہ جس کو ڈاؤٹ تھا یہ مغرور شخص اپنے مغرورانہ انداز میں ایا تو مشکل ہی ہوگی منانے میں امی بابا کو ۔۔۔ پر ولید خانزادہ نے اس کے سارے شک وشبے دور کردیۓ ۔۔۔ ہانیہ جانتی تھی اس کے ماں باپ سادہ مزاج لوگ ہیں جن کو دولت اور دولت کی ریل پیل اپِیل نہیں کرتی بلکہ اخلاق اور خوشمذاجی کرتی ہے ۔۔۔ بچے بھی ساتھ تھے ان کی خوشی بھی دیکھنے لائق تھی ۔۔۔۔

احد صاحب اور یسرا مطئمن ہوۓ تھے ۔۔۔ ان کی خالہ نے اجازت مانگ کر ہیرے کی انگوٹھی پہنا کر رشتہ پکا کیا ۔۔۔
اگلے دن اپنے گھر کے لیۓ ولید خانزادہ نے سب کو مدعو کیا تاکہ اس کا رہن سہن دیکھ کر گھر کے بڑے تسلی کرلیں ۔۔۔ جس پر بڑوں نے منع کیا پر اس کے محبت بھرے انداز پر منع نہ کرسکے ۔۔۔

اس کے ماں باپ کا بتایا کہ وہ فارن میں ہیں پر شادی تک اجائیں گے ۔۔۔ پھر اس نے اپنے بزنس کی باتیں کیں ۔۔

@@@@@@@@@

اگلے دن ولید خانزاہ کے گھر دیکھنے کے بعد وہ بےانتہا خوش اور مطئمن ہوۓ ۔۔۔ کہیں پر بھی ولید خانزادہ نے یہ ظاہر نہ کیا کہ ہانیہ اس سے انوالوڈ ہے بلکہ اس کا تاثر یہی تھا اس کے بچوں کی پسند ہے ہانیہ جس کو انہوں نے اپنی پسند بنایا ہے ۔۔

ہانیہ دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کی ذات پر کوئی بات نہ بنی ۔۔۔ سب حیران ہوۓ اس کی خوشنصیبی پر ۔۔۔ ثوبان حیران ہوا کس طرح خدا نے ہانیہ کے سب کام بنادیۓ ۔۔۔ ایک طرف رانیہ سے ناراض تھے ماں باپ جبکہ دوسری طرف ہانیہ پر خوش اور مطئمن , ثوبان کو دکھ تھا رانیہ کے لیۓ اس اچھی لڑکی کے ساتھ اتنا برا کیوں ہورہا ہے ۔۔۔ وہ سہی سے اپنی خوشی انجواۓ نہیں کرپارہی ۔۔۔

رانیہ اپنی بہن کے لیۓ خوش تھی ۔۔۔ اس طرح قسمت جاگے گی کسی نے سوچا نہ تھا ۔۔

@@@@@@@@@

دو دن گھر میں ولید خانزادہ کا ذکر ہوتا رہا ۔۔۔ ہانیہ نے اپنے بابا کے کہنے پر ٹیوشن چھوڑدیا تھا کیونکہ بہت جلد اسے اس گھر جانا تھا ۔۔۔

آج جمعے کر روز ولید خانزادہ اچانک ایا تھا گھر , وہ پہلے ہی ثوبان سے معلوم کرچکا تھا فون پر “احد صاحب گھر پر ہیں یا نہیں ۔۔۔

جس پر اسے ثوبان نے بتایا وہ گھر پے ہونگے سب مرد کیونکہ جمعے کے روز ان کی دکانیں بند ہوتی ہیں ۔۔۔ ” کیا اپ انے کا ارادہ رکھتے ہیں گھر پر۔۔۔ جواب میں ولید خانزادہ نے کہا ۔۔ “نہیں بس ایسے ہی پوچھا تھا ۔۔۔ وہ بات کو ٹال گۓ تو ثوبان نے بھی کسی سے ذکر نہ کیا اس کال کا ۔۔۔

اب اسے گھر دیکھ کر بوکھلاۓ کیونکہ ان لوگوں کے گھر سادہ کھانا بنا تھا ان کے گھر کوئی خاص تیاری بھی نہ تھی ۔۔۔ بچے اتے ہی ہانیہ کی کمرے کی طرف چلے گۓ ۔۔۔

سلام دعا کے بعد ولید خانزادہ نے ان کے پوچھنے پر کہا “انہوں نے اس لیۓ ہی نہیں بتایا تاکہ وہ تکلف نہ کریں وہ ان کے ساتھ سادہ کھانا کھانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔۔۔

اس کے سادگی بھرے انداز پر احد صاحب نہال ہوۓ ۔۔۔ یوں ان کے ساتھ بیٹھ کر سادہ دال چاول اور سویاں کھائیں جس کی تعریف کی دل سے ولید خانزادہ نے ۔۔۔

سب اس کی سادگی کے دیوانے ہوگۓ تھے ۔۔۔ ہانیہ حیران تھی یہ شخص کوئی جادوگر ہے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی جادو کردیتا ہے سب پر ہر کوئی اس کی بات مانتا ۔۔۔

آج ان کے سامنے بیٹھ کر جس طرح ولید خانزادہ نے احد صاحب سے کہا کہ ۔۔۔ “انکل اج میں اپ سے شادی کی تاریخ لینے ایا ہوں میرا گھر عورت کے وجود محروم ہے , میرے پاس اللہ دیا سب ہے مجھے صرف اپ کی بیٹی چاہیۓ اور کچھ نہیں , اگلے جمعے کو سادگی سے نکاح اور رخصتی چاہتا ہوں ۔۔۔۔ اپ سے امید کرتا ہوں میری مجبوری سمجھیں گے انکار نہیں کریں گے ۔۔۔ اپ کی تسلی ہو تو میری بات مانیں , نا ہو تو انکار کرسکتے ہیں اتنی جلدی کرنے پر ۔۔ بحرحال انکار کرنے کا اپ کو حق ہے اپ بیٹی کے باپ ہیں اپ کو سارے حق حاصل ہیں ۔۔۔۔ میں اپ کا بیٹا ہوں میری مجبوری بھی سمجھیۓ گا ۔۔۔ جس عاجزانہ انداز سے وہ کہے رہا تھا کسی کے انکار کی ہمت ہی نہ ہو احمد , صمد اور احد کو رشک ہوا ہانیہ کے لیۓ ۔۔۔

کمرے میں خاموشی چھاگئی ۔۔۔ صبا قہوہ لائی جو اس گھر کا دستور تھا کھانے کے بعد ۔۔۔ اس نے سب کو سروو کیا ولید خانزادہ نے بھی ایک کپ اٹھالیا ۔۔۔

صبا نے حیرت سے ولید خانزادہ کو دیکھا جسے دیکھ کر جو مردانہ وجاہت کا پیکر تھا کوئی بھی لڑکی رشک کرسکتی تھی اس کے ساتھ پر ۔۔۔ وہ شخص نا صرف حسین تھا بلکہ کردار اور اخلاق میں بھی بےمثال تھا ۔۔۔

“واقعی ہانیہ تم قسمت کی دھنی نکلی ۔۔۔ ہانیہ تمہاری قسمت خدا نے سونے کے قلم سے لکھی ہے اس ملک کا امیرتریں شخص تمہارا ہاتھ کس عاجزی اور محبت سے مانگ رہا ہے اج شادی کی تاریخ مانگتے وقت اس کا انداز کتنا سادہ اور محبت بھرا تھا ۔۔۔ وہ ولید خانزادہ اور ہانیہ کو ایک ساتھ سوچ کر خوش ہوئی دل سے تعریف کی, دل ہی دل میں ۔۔۔

اب ولید خانزادہ منتظر نظروں سے دیکھنے لگا احد صاحب کو ۔۔۔

“بیٹا تم نے جس محبت سے مجھ سے التجا کی ہے میرا دل نہیں چاہتا انکار کو , پر بیٹا جس سادگی سے تم نکاح اور رخصتی کی بات کررہے ہو اس کا فیصلہ میں اکیلے نہیں کرسکتا ہے اپنے بڑے بھائیوں سے مشورہ کروں گا اور اگر ہانیہ کو اعتراض نہ ہوا تو انشاء اللہ کل ہی بتائیں گے ۔۔۔
انہوں نے پیار سے کہا ۔۔۔

” انکل جو بھی آپ کا فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہوگا اور ایک بات یاد رکھیئے گا آپ جو اپنی بیٹی کو دے رہے ہیں وہی میرے لیے قیمتی ہے اس کے علاوہ میں کچھ بھی نہیں لونگا اس گھر سے , اللہ کا دیا سب کچھ ہے آپ کے بیٹے کے پاس اسی لیے میں خالی ہاتھ آپ سے آپ کی بیٹی لونگا ۔۔۔ جہیز لینا سودا کرنے جیسا ہے ہم بیٹیوں کا سودا کرنے پر یقیں نہیں رکھتے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے بھاری لہجے میں کہا ۔۔۔

“اب جازت چاہوں گا میری ضروری میٹنگ ہے ۔۔۔ اس کے نفیس لب و لہجہ کسی کو بھی اسیر کرنے کی طاقت رکھتا تھا ۔۔۔ وہ خوش ہوۓ ہانیہ کے لیۓ ۔۔۔ یسرا بیگم بھی بہت خوش تھیں ہانیہ کے لیۓ ۔۔۔

“بیٹا بچوں کو رہنے دو یہیں ۔۔۔ احد صاحب نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا ۔۔۔

“ٹھیک ہے ایک گھنٹے بعد ڈرائیور اور رضیہ بی لینے اجائیں گے مجھے اجازت دیں انکل ۔۔۔ اس نے مودبانہ طریقے سے کہا ۔۔۔ وہ جھک کع ان سے ملا ۔۔۔۔

“ٹھیک ہے بیٹا اللہ حافظ ۔۔۔ احد صاحب نے کہا ۔۔ وہ سب مردوں سے ملتا باہر نکلا ۔۔۔
“اللہ حافظ ۔۔۔

وہ اسے جاتا دیکھتے رہے ۔۔۔ ان کو اپنی بیٹی کے نصیب پر رشک ہوا ۔۔۔ ان کو مپریس ولید خانزادہ کے اسٹیٹس اور دولت گاڑیوں نے نہیں کیا تھا بلکہ اس کی عاجزی اور انکساری نے سب کا دل جیتا تھا ۔۔۔

“واقعی ہم دور سے دیکھ کر سوچتے ہیں جبکہ پاس انے پر پتا چلتا ہے کوں کتنا سادہ ہے , ہانیہ تم واقعی بہت خوشنصیب ہو ۔۔۔ جو اتنی چاہت سے تمہیں مانگا جارہا ہے ۔۔۔ ثوبان نے سوچا ۔۔۔

@@@@@@

گھر والوں کا فیصلہ تھا ولید خانزادہ کی بات مانی جاۓ ۔۔ اس نے جس مان سے کہا تھا اس سے احد صاحب اس کے گرویدہ ہوگۓ تھے , ان کے دونوں بڑے بھائی بھی راضی تھے ۔۔۔ پھر بھی ہانیہ سے پوچھا تھا اسے سادگی پر اعتراض تو نہیں ۔۔۔ اس کے ہامی بھرنے پر اگلے جمعے کو ان کا نکاح رکھا گیا ۔۔۔ سب حیران تھے کہاں رانیہ کی شادی کی تیاریوں میں ثوبان اور صبا کی بات پکی اور اب اچانک ہانیہ کی بات ۔۔۔ بحرحال خوشی کا موقع تھا توقیر صاحب اور سب گھروالے اکر ان کو مبارکباد دےگۓ ۔۔۔سعاد اور نایاب کچھ دیر اکر ہوکر گۓ تھے ۔۔۔ نکاح کی دعوت قریبی رشتیداروں کو فوں پر دی گئی ۔۔

ایک ہفتہ کیسے گزرا پتا ہی نہیں چلا ۔۔ اپنے حساب سے احد صاحب نے تھوڑی بہت کپڑے اور زیور بنوایا تھا ۔۔۔ جس پر بھی ولید خانزادہ نے پیار بھرا اعتراض کیا ۔۔۔ جس پر انہوں نے پیار سے سمجھایا بیٹی کے استعمال کی چیزیں ہیں صرف ۔۔۔

“اب اپ کی بیٹی میری ذمیداری ہے انکل ۔۔۔ ولید خانزادہ نے کہا ۔۔۔ سب رشتیدار حیران تھے سسر داماد کے پیار پر ۔۔۔

خیریت سے نکاح ہوگیا ۔۔۔ رخصتی کا وقت اگیا ۔۔۔ ولید خانزادہ کے ماں باپ بھی شریک تھے جن کا سرد انداز محسوس کیا جاسکتا تھا پر ولید خانزادہ کی خوشمزاجی ہر چیز پر بھاری رہی ۔۔۔

ملک کے سب سے مہنگے ڈیزائنر سوٹ میں ملبوس ہانیہ حسین لگ رہی تھی دلہن بنی ۔۔۔ ولید خانزادہ سفید شلوار قمیص سادگی میں بھی بھرپور مردانہ وجاہت لیۓ کھڑا تھا ہانیہ کے ساتھ ۔۔۔ دونوں بچے بلیک شیروانی میں ملبوس ننھے ننھے شہزادے لگ رہے تھے ۔۔۔

رخصت ہوکر ہانیہ نے ولید خانزادہ کے ساتھ محل نما گھر میں قدم رکھا ۔۔۔ گھر پر خاموشی تھی اسے ولید خانزادہ کے کمرے میں بٹھا کر ۔۔۔ ہانیہ کی ساس نے کہا “کچھ بھی چاہیۓ انٹرکام پر کہے دینا یا رضیہ کو بھیجتی ہوں کل صبح ہماری فلائیٹ ہے بزنس کے سلسلے میں اٹلی جانا ہے ۔۔۔ میرے بیٹے اور اس کے بچوں کا خیال رکھنا ۔۔۔ اللہ حافظ ۔۔۔

ہانیہ حیران ہوئی اپنی ساس کی بات پر جن کا سرد انداز اس کی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔ یہاں تک اس کا کوئی جواب سنے بغیر وہ عورت چلی گئی وہ اسے جاتا دیکھتی رہی ۔۔۔ محبتوں کے رشتوں میں پلی ہانیہ کے لیۓ یہ پہلا جھٹکا تھا ۔۔۔

@@@@@@@

دو گھنٹے مسلسل انتظار کے بعد اس کی کمر درد کرنے لگی پر ولید خانزادہ نہ ایا ۔۔۔ بچے آۓ تھے اسے پیار کرکے چلے گۓ رضیہ ان کو لے گئی ورنہ شاید یہیں بیٹھے رہتے ۔۔۔ رضیہ نے کھانے کا پوچھا اس نے صرف جوس کہا ۔۔۔ وہ جوس پیۓ اسے ایک گھنٹا گزر چکا تھا ۔۔۔ اس سے پہلے وہ اٹھتی اسی وقت دروازہ کھلا ولید خانزادہ داخل ہوا اسے روایتی انداز میں دلہن بن کر بیٹھنا اور اس کا انتظار کرنا حیران کرگیا ۔۔۔

” میرے خیال سے مس ہانیہ میں آپ پر واضح کر چکا تھا اس شادی کی اہمیت میری نظر میں پھر آپ کا اس طرح بیٹھنا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔۔۔ اپ جیسی سمجھدار لڑکی سے اس بیوقوفی کی امید نہ تھی مجھے ۔۔۔ وہ حیران ہوئی اس کے بولنے کے انداز پر ۔۔۔

اس کے حسن کی کتنی تعریف کی تھی سب نے آج , ولید خانزادہ نے دیکھا پر ذرہ نہ چونکا نہ اس کی انکھوں کی کوئی جوت جلی نہ کوئی انوکھا احساس تھا اس کے چہرے پر , اس کی انکھیں لال اس کے درد اور ضبط کی انتہا بتارہیں تھیں ۔۔۔ جہاں سے وہ گزرتی تھی یونی میں ہر کوئی پلٹ کر دیکھتا تھا کتنے لڑکوں نے اسے پرپوز کیا جن کو وہ ٹکا جواب دیتی تھی ۔۔۔ وہ حیران سی تھی ۔۔

“آپ حیران کیوں ہورہیں ہیں الٹا خوش ہونا چاہیۓ , میں نے اپ کے خاندان کے سامنے اتنے مان سے رشتہ مانگا پھر اپ کے بابا کی اتنی آؤ بگھت کرکے راضی کیا جلدی شادی پر , دیکھا تھا کیسے ایک ایک بندہ اپ کی قسمت پر رشک کررہا تھا , جیسا اپ چاہتی تھیں وہی سب کرکے اپ کو یہاں لایا ہوں ۔۔۔ اب اپ بھی وہی کریں جو میں چاہتا ہوں یعنی میرے بچوں کو پیار دیں اور کوشش کریں مجھے اپ سے شکایت نہ ہو کیونکہ ولید خانزادہ اپنے بچوں کے معاملے میں بہت سخت انسان ثابت ہوگا یہ بات میری یاد رکھیۓ گا ۔۔۔ کل امی بابا چلیں جائیں گے اپ کسی اور کمرے میں شفٹ ہونا چاہیں یا اسی کمرے میں رہیں اپ کی مرضی , مجھ سے کوئی امید مت لگائیۓ گا ۔۔۔ جتنا کرسکتا تھا اتنا کرچکا ہوں اپ اور اپ کے گھروالوں کے لیۓ ۔۔۔ اب جتنے اچھے طریقے سے ان کو دکانوں سے فائدہ ہوگا اپ کے گھروالوں کو میرا نام جڑنے سے دیکھ لجیۓ گا ۔۔۔ اس سے زیادہ مجھ سے امید مت لگانا , اب اپ کی باری ہے میری امیدوں پر پورا اترنے کی , مجھے مایوس مت کرنا ۔۔۔ مغرور لہجے میں کہتا وہ ہانیہ کو اس کی اوقات بتا گیا ۔۔۔

یہ کیسا شخص تھا جس نے ایک دفعہ دیکھنے کے بعد دوسری نظر نہ ڈالی تھی اس حسن کی دیوی پر ۔۔۔ ہانیہ کا دل چھناک سے ٹوٹا , آنکھوں میں چبھن کا احساس ہوا ۔۔۔ غرور کے بت پر یہ پہلا پتھر پڑا تھا ۔۔۔

کیا یہ آخری پتھر تھا یا قسمت کے اور وار ہونے باقی تھے ۔۔۔اگلی قسط جمعے کے روز آۓ گی وہ رانیہ اور سعاد اسپیشل ہوگی ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔