No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
ناول ۔۔۔ انمول سے بےمول
ازقلم ۔۔۔۔ صبامغل
قسط ۔۔۔۔ 3
@@@@@@####@@@@@@@
کبھی میں انمول ہوا کرتی تھی
اب بے مول ہی بے مول ہوں
کئی لڑکیوں کی کہانی کا ایک مجموعہ , دل کو چیردیتی سچائیاں لیۓ اپ کو پیشِ نظر کیا جارہا ہے ۔۔۔ ہمارے معاشرے کی سچائیوں کو ملا کر لکھا گیا ۔۔۔
کون کہتا ہے کہ خواب چھوٹے ہوتے ہیں خواب تو ہمیشہ بڑے ہوتے ہیں ہماری سوچ سے بھی پرے کے ہوتے ہیں اور جو ان کو پورا کرنے کی جستجو کرتا ہے اسے ان کی قیمت تو چکانی ہی پڑتی ہے۔۔۔۔ یہ خواب ہماری آنکھوں کی بینائی تو چھین لیتے ہیں پھر واقعی میں آنکھوں کو حقیقت نظر نہیں آتی حقیقیت کو جھٹلا کر صرف خواب کو پورا کرنے کی لگن لگی رہتی ہے ۔۔۔ اسی سفر کا نام ناول انمول سے بےمول ہے ۔۔۔
@@@@######@@@@@@
ہانیہ نے پلٹ کر دیکھا سحرش کھڑی تھی اس کا یہ کندھے کو کھٹکانے کا انداز ہمیشہ زہر لگتا تھا پر وہ بھی ہانیہ کی سہیلی تھی جس کو سمجھانا فضول تھا اور نہ کبھی مانتی تھی ۔۔۔
” ہزار دفعہ کہا ہے ایسے مت کیا کرو اور تم سمجھتی ہی نہیں ۔۔ ہانیہ نے انکھیں دکھائیں ۔۔۔
ہانیہ کے آنکھیں دکھانے پر سحرش ڈھٹائی سے مسکرانے لگی۔۔۔
“عادت سے مجبور ہوں میری جان ۔۔۔ سحرش نے انکھ دبائی اور اسے غور سے دیکھا جو اسمانی لباس میں حور سی لگ رہی تھی ۔۔۔ “اف کیا قیامت لگ رہی ہو کوں تمہیں دیکھ کر کہے سکتا ہے کہ یہ لڑکی اپنے گھر میں ماسی کی طرح کام کرتی ہے اور یقینن ابھی بھی جھاڑو لگانے کے بعد ہی آسکی ہے یونی ۔۔۔
“تعریف کے ساتھ بےعزتی فری کیا کہنے تمہارے سحرش بیگم شکریہ قیامت کہنے کے لیۓ , واقعی جھاڑو ہی کررہی تھی گھر ۔۔۔ ہانیہ نے اس کی بات پر متعفق ہوکر کہا ۔۔۔
“بیگم ہوگئی ہے تمہاری سارہ اپی , میں ہوں لڑکی ابھی سمجھی ۔۔۔سحرش نے گھورتےہوۓ کہا ۔۔۔
“ہاں ہاں میری جاں غلطی سے کہے دیا تمہارے اس بھرے جسم کو دیکھ کر ۔۔۔
کمال کی معصومیت تھی ہانیہ کے چہرے پر یہ کہتے ہوئے ۔۔
“اف ہانیہ کی بچی چپ کرو اندر چلو کیمپس میں لیٹ ہورہی ہے سیمینار کو ۔۔۔آخر کار سحرش نے بات سمیٹی ۔۔۔
“ہممم چلو ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔
دونوں کیمپس کے گیٹ میں داخل ہوئیں اسی وقت چھ سات گاڑیان ایک ساتھ مین گیٹ سے آئیں اور ساتھ ہی کچھ پروفیسر ایک ساتھ باہر آۓ ۔۔۔ ہانیہ اور سحرش حیرت سے دیکھنے لگے ۔۔۔
“تم لوگ اندر جاؤ چیف گیسٹ اگۓ ہیں ۔۔۔ اسی وقت یونی کے گارڈ نے کہا ۔۔۔
سحرش جو اندر کی طرف بڑھنے لگی تھی ہانیہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
“کیا ہے سحرش نے ہاتھ چھڑانا چاہا ۔۔۔ پر ہانیہ اسے تھوڑا سائیڈ پے لگئی ۔۔ اب وہ دونوں تو سامنے کامنظر صاف دیکھ سکتی تھیں پر ان دونوں کو کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا ۔۔۔
“رکو دیکھنے دو ۔۔۔ اس پروٹوکول سے کون ایا ہے ۔۔۔ ہانیہ نے تجسس سے کہا۔۔
ہانیہ کی نظر سامنے کے منظر پر جمی ہوئی تھی ۔۔۔
تین چار گاڑیوں سے تو گارڈ نکلے ایک گارڈ نے دروازہ کھولا ۔۔۔۔ سب پروفیسر لائن میں کھڑے تھے اس شخصیت کا استقبال کرنے کے لیۓ ۔۔۔ اب وہ بھی منتظر تھی جبکہ سحرش کوفت کا شکار ہورہی تھی کیونکہ وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر لوگوں کو دیکھنا پسند نہیں کرتی تھی کیونکہ اس کا ماننا تھا اس طرح احساسِ کمتری پیدا ہوتی ہے انسان کے اندر ۔۔۔ یہ بات وہ اکثر سمجھاتی تھی ہانیہ کو پر ہانیہ ٹال دیتی ۔۔۔
چھ فٹ کی ہائیٹ کا اک شہزادہ گاڑی سے باہر نکلا سوٹیڈ بوٹیڈ , بلیک کلر کے بال جو نفاست سے بنے ہوۓ کالی گہری سیاہ انکھیں غرور سے بھریں , سفید رنگت فرینچ بریڈ وہ ترکی کی ریاست کا شہزادہ سا لگا ہانیہ کو , وہ سانس روکے اس حسین مرد کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ خوابوں کا شہزادہ جیسے روبرو اگیا ہو ۔۔۔ بس انکھیں کھولے اسے ہی دیکھ رہی تھی ایسا لگا سننے اور بولنے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہو ۔۔۔
“او بیبی ہوش میں آؤ چیف گیسٹ اندر جاچکے ہیں ۔۔۔ اس کی انکھوں کے سامنے چٹکی بجائی سحرش نے پر وہ کھوئی تھی اس لمحے میں ۔۔۔ آخرکار سحرش نے اسے جھنجھوڑا ہوش میں لانے کے لیے ۔۔۔ ہانیہ نے انکھیں جھپکی اور کہا “اف سحرش یہی ہے میرے سپنوں کا شہزادہ ۔۔۔
“او بہن ہوش کے ناخن لو اس کی عمر اور اپنی دیکھو ۔۔۔ سحرش نے اس کا دھیان اس طرف لانا چاہا کیونکہ یہ شخص لگ بھگ اسے بتیس یا پینتیس کا لگا ۔۔۔
“رہنے دو اب ایسا بھی کوئی اولڈ نہیں پرسنالٹی دیکھو غضب کی ہے تھوڑی عمر بڑی کوئی معنی نہیں رکھتی ۔۔۔ ہانیہ نے شانے اچکا کر کہا ۔۔۔
“تھوڑی نہیں کافی بڑی ہے , مے بی شادی شدہ ہو ۔۔۔ اس لیۓ سنبھالو خود کو تم تو فلیٹ ہوگئی ہو ۔۔۔ سحرش نے اپنی سوچ کے حساب سے کہا ۔۔۔
“کیڑے پڑیں تمہارے منہ میں ۔۔۔ اللہ نہ کرے شادی شدہ ہو ۔۔۔
ہانیہ نے جل کر کہا اور تھوڑا سنبھلی سحرش نے منہ بنایا کہنا تو اور کچھ بھی چاہتی تھی پر زبان کو لاک لگانا پڑا ۔۔
“اچھا چلو اندر ۔۔۔ سحرش نے بات بدل کر کہا ۔۔۔
@@@@@@@
سارہ اپی سب سے مل کر بہت خوش ہوئی اور فراز اسے خوش دیکھ کر خوش ہورہا تھا ۔۔۔ ایک رات میں اپنی سی ہوگئی تھی وہ ۔۔۔
“ارے مانو , ہانیہ کہاں ہے۔۔۔ سارہ نے پوچھا رانیہ سے ۔۔۔
“آپی یونی گئیں ہیں بس انے والیں ہونگی ۔۔۔ اس نے سھولت سے کہا ۔۔۔
اسی وقت عباس اگیا اور کہا رانیہ سے۔۔۔
“آپی یہ کھانا ٹیلیگرام کردوں تارا آپی کے گھر ۔۔۔
“ہممم جاکر کردو ۔۔۔ فراز اور اس کی کزن نایاب نے حیرت سے سنا اور زیرلب کہا “ٹیلیگرام” ۔۔۔ دونوں حیران ہوۓ یہ کیا ہے ۔۔۔
دونوں کی حیرت پر سب دھیمے سے مسکاۓ “آئیں اپ کو دکھائیں۔۔۔ رانیہ نے کہا ۔۔
پھر وہ ان کو چھت پر لے گئی جہاں ایک رسی بندھی تھی سڑک کے دوسرے طرف کی چھت تک اور پلی بھی لگی تھی ۔۔۔ وہان ایک باسکٹ لٹکی تھی جس میں باؤل رکھا بریانی کا ۔۔۔ اور اسی وقت ایک چھوٹا سا پتھر سامنے والوں کے لوہے کے دروازے پے مارا ۔۔ آواز پر ایک بچہ نکلا جسے رانیہ نے آواز دی اور کہا ۔۔ “اوۓ پپو لے بھیج رہی ہوں چھت پر آؤ ۔۔۔
اسی وقت مسکراتی ایک لڑکی نکلی اور دوڑتی چھت پر آئی۔۔۔
اس نے رسی سے کھیچنا شروع کیا اور باسکٹ اس طرف جانے لگی ۔۔۔
نایاب دلچسپی سے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔
“واہ کیا سسٹم بنایا ہوا ۔۔۔ اس دور میں بھی یہ سب ہوتا ہے ۔۔۔ نایاب نے حیرت سے کہا ۔۔۔
“یہاں اپ کو ایسا بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا یہ سب رانیہ کے خرافاتی دماغ کا کارنامہ ہے ۔۔۔ رانیہ کے بجاۓ سارہ نے کہا ۔۔۔ جس پر رانیہ مسکائی ۔۔۔
“واؤ سو انوویٹوو گرل ۔۔۔ نایاب نے دلچسپی سے کہا ۔۔۔ اس کی نظروں کا مرکز وہی بنی رہی کیونکہ اب وہ اور عباس ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے کیونکہ رانیہ کے ہاتھ سے موبائل جو چھینی تھی عباس نے ۔۔۔
“نایاب اپی نیچے چلیں ان کی یہ مستیاں تو چلتی رہیں گی رانیہ تو ہمارے اس گھر کی چڑیا ہے اور اس کے چہچانے سے رونق لگی رہتی ہے ۔۔۔
نایاب کی نظرین اسی پر مرکوز تھیں رانیہ اس کے سر پے چپاٹ لگارہی تھی کیونکہ اب وہ اپنا موبائل اس سے لینے میں کامیاب جو ہوچکی تھی ۔۔۔
پھر سب نیچے اگۓ ۔۔۔ ابھی پانچ منٹ مشکل سے گزرے تھے کہ تارا خود اگئی اور رانیہ اور تارا گلے لگ کے ملیں ۔۔۔
“اوۓ یارا کیا ہوا ۔۔۔ رانیہ دل سے گلے ملنے کے بعد کہا ۔۔۔ نایاب رانیہ کا محبت بھرا انداز دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“وہ دونوں موٹے بریانی ہڑپ کرگۓ اس لیۓ میں خود یہاں آگئی ۔۔
“اچھا کیا اپی بھی آئی ہوئی ہیں ۔۔۔
وہ اپی اور سب سے بھی ملی ۔۔۔
“کھانا لگ گیا ہے آؤ کھاتے ہیں ۔۔۔ یسرا بیگم نے کہا ۔۔۔
“پر چاچی ہانیہ کو انے دیں ۔۔ سارہ نے کہا ۔۔۔
“رہنے دو تم لوگ شروع کرو وہ اکر کھالے گی ۔۔
سب ڈائینگ کی طرف اگۓ ۔۔۔
@@@@@@@@
“اف مسٹر ولید خانزادہ کیا نام ہے کیا اس کی پرسنیلٹی ہے ۔۔۔ ہانیہ نے آہ بھرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“سنبھل جا ۔۔۔ سحرش نے کہا ۔۔۔ اور کچھ کہتی پر ہانیہ نے اسے ٹوکا ۔۔۔
“چپ کر مجھے دیکھنے دے ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی انکھوں کی پیاس بجھا رہی ہو ۔۔۔ سحرش کو افسوس ہوا اپنی دوست کے لیۓ ۔۔۔ کیونکہ اسے یہ شخص صرف سراب ہی لگا ۔۔۔
سحرش نے بہت دفعہ اسے موضوع سے ہٹانا چاہا پر ہانیہ نہ ہٹی ۔۔۔ اسے یاد دلارہی تھی کہ سارہ اپی انتظار کررہیں ہونگی اب چلنا چاہیۓ پر ہانیہ کا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا ۔۔۔ اس لیۓ چپ ہوگئی ۔ ولید خانزادہ جب گیا تب جاکر وہ طلسم سے باہر نکلی ۔۔۔ گھڑی دیکھ کر سر پر ہاتھ مارا اور کہا ۔۔۔
“اف سحرش چھوڑو سب گھر پہچنا ہے امی غصہ ہونگی ۔۔
“کیوں , جب اتنی دیر میں یہی کہے رہی تھی تب تو میری بات تمہارے پلے نہیں پڑی اب کس بات کی جلدی ۔۔۔ سحرش نے منہ بنا کر کہا ۔۔۔
“اف سوری یار چلو دیر ہورہی ہے ۔۔ سحرش اس کے ساتھ اگے بڑھی وہ دونوں جانے لگیں ۔۔۔ اسی وقت ان کی ایک کلاس فیلو نے آواز دی ہانیہ کو اس کی آواز پر ہانیہ پلٹی ۔۔۔
“یار تم نے کچھ وقت پہلے کہا تھا کوئی اچھی ہوم ٹیوشن مل جاۓ تو بتانا ۔۔ میرے پاس اچھی آفر ہے ۔۔۔ وانیہ نے ہانیہ سے کہا ۔۔۔
“ہمممم کہو ۔۔۔
“یہ لو ایڈریس اس پر جاؤ ۔۔۔
“تم جانتی ہو ۔۔۔ ہانیہ نے پوچھا ۔۔۔
“نہیں میری ایک فرینڈ کے جاننے والے ہیں ایک ویک پہلے تم کو دینا تھا پر تم آنہیں رہیں تھیں پھر پتا چلا تم کزن کی شادی میں مصروف ہو ۔۔۔
“یار اب تک وہان کوئی اور ٹیچر اگئی ہو تو ۔۔۔ ہانیہ نے فکر سے کہا ۔۔۔
“تم فوں نمبر پر کال کرلو پتا چل جاۓ گا ۔۔۔ وانیہ کے کہنے پر اس نے پرچے پر لکھا نمبر دیکھا ۔۔۔
“ہممم دیکھتی ہوں ۔۔۔ پر تھینک یو یار تم نے بتایا ۔۔۔ مجھے اس کی ضرورت تھی ۔۔۔
“یو ویلکم ۔۔۔ پھر دونوں نے ہاتھ ملایا اور وانیہ چلی گئی ۔۔۔
ہانیہ کا فرینڈ سرکل کافی بڑا تھا اس کی خوبصورتی اور ایٹیٹیود اسے سب سے ممتاز کرتا تھا وہ پڑھائی میں بھی بہت ہوشیار تھی ۔۔۔ اسی لیۓ سب اسے بیوٹی وتھ برین کا کامبینیشن کہتے تھے ۔۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو سحرش ۔۔۔ ہانیہ نے اس کو انکھیں دکھانے پر کہا ۔۔۔
“تمہیں کیا ضرورت ہے ہوم ٹیوشن دینے کی ۔۔۔ سحرش نے کہا ۔۔۔
“یار اس بہانے ہاتھ تنگ نہیں رہے گا تم جانتی ہو مجھے کمانے کا کتنا شوق ہے اور اوپر سے میری خواہشات بھی کتنی اونچی اور مہنگیں ہیں جب دیکھو سب سے سننے کو ملتا ہے اتنا مہنگا نہ لو یہ نہ لو وہ نہ لو فضول ہے ۔۔۔ مجھے زہر لگتیں ہیں سب کی باتیں ۔۔۔ پھر سب گھر میں ایک جیسا لو جبکہ تم جانتی ہو مجھے سب سے الگ اور منفرد چیزین اچھی لگتیں ہیں اور جبکہ ہمارے اس جوائنٹ فیملی سسٹم سے مجھے چڑ ہے ۔۔۔ اس بہانے چڑیا گھر سے تو میری جان چُھوٹی رہے گی جہان ہر وقت محبت کا میلو ڈرامہ چلتا رہتا ہے ۔۔۔
” کیا بکواس ہے یار کتنی محبت ہے تمہارے گھر میں اور تم نے اچھے خاصے گھر کو چڑیا گھر کا نام دے دیا ہوش کے ناخن لو ۔۔۔ ایسے بھی کوئی اپنے گھر کو کہتا ہے کتنی محبت سے سب رہتے ہو وہان ۔۔۔ سحرش نے شاکی لہجے میں کہا اسے شدید دکھ اور صدمہ لگا تھا اس کی بات سے ۔۔۔
“رہنے دو تمہیں کیا پتا جو میرے ساتھ ہوتا ہے وہ مجھے پتہ ہے جو میرے اوپر گزرتی ہے وہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔۔۔ ہانیہ بھی کم نہ تھی جس نے اس کے کہے ایک لفظ کو اہمیت نہ دیتے ہوۓ رد کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
” اچھا میں بھی تو سنوں کہ ایسا بھی کیا ہوتا ہے تمہارے ساتھ وہاں پر ۔۔۔ سحرش نے طنزیہ کہا ۔۔۔ کیونکہ وہ تو ہمیشہ اتی جاتی رہی تھی اس گھر میں اور سب سے واقف بھی تھی ۔۔۔
” جس چیز کی پرمیشن مانگو میرے ماں باپ مجھے منع کردیتے ہیں جبکہ دوسرے غیر لوگ چاچا چاچی وغیرہ سب میرا ساتھ دے کر مجھے سپورٹ کرتے ہیں ۔۔۔ ایک تو ان کے ڈرامے میرے سمجھ میں نہیں آتے اگر کسی کے ماں باپ منع کرتے ہیں تو کچھ سوچ کر ہی کرتے ہونگے ۔۔۔ پر نہیں اس گھر میں سب کو خود سے زیادہ دوسروں کے مسئلوں کی فکر ہے اور مجھے زہر لگتا ہے دوسروں کی فکر کرنا بندے کو چاہئے اپنے کام سے کام رکھے دوسروں کے معاملے میں نہ پڑے ۔۔۔ پر نہیں اس چڑیا گھر کا تو ایک ہی مسئلہ ہے ایک دوسرے کے معاملوں میں بولنا کوئی اپنے کام سے کام نہیں رکھتا بیچ میں پڑنے کی سب کی عادت ہے ۔۔۔ ہانیہ نے نفرت آمیز لہجے میں کہا اور حیران ہوکر سحرش دیکھ رہی تھی اسے ۔۔۔
جو باتیں اچھی لگنے جیسی تھیں وہی زہر لگ رہیں تھیں اسے ۔۔۔ کچھ کہنا ہانیہ کو فضول ہی لگا اسے ۔۔۔ اس لیۓ سحرش نے منہ کھول کر دوبارہ بند کردیا ۔۔۔
“کچھ کہوگی نہیں ۔۔۔ ہانیہ نے اس کے انداز پر ٹوکتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“نہیں کیونکہ میرے لفظ بےکار ہوجانے ہیں تمہیں اب وقت ہی سمجھاۓ گا اس گھر کی قدر ۔۔۔
“ہممممم جب بھی بولنا فضول بولنا چلو دیر ہورہی ہے ۔۔۔ ناک منہ چڑھا کر ہانیہ نے کہا ۔۔”ہممم چلو اسی کے انداز میں سحرش نے کہا ۔۔ اور پھر دونوں ساتھ ہی نکل آئیں یونی سے ۔۔۔
@@@@@@@@
ابھی شام کے پانچ بجے تھے لائیٹ چلی گئی ۔۔۔ سب سے زیادہ پریشان نایاب ہی ہوئی تھی کیونکہ اسے عادت نہ تھی اندھیرا اور گرمی برداش کی ۔۔۔ فراز نے جلدی سے کہا “چلتے ہیں اب ۔۔۔ اسے نایاب کی فکر تھی ۔۔۔
“ارے رکیں اب اسپیشل جگہ چلتے ہیں گرمی بلکل نہیں لگے گی ۔۔۔ پھر نایاب کو لے کر وہ باہر آۓ اور درخت کے نیچے کرسیاں لگائیں سب بیٹھ گۓ ۔۔۔ میٹھی ٹھنڈی ہوا کے ساۓ میں سب نے لیمون پانی پیا ۔۔جس سے جسم کو تنوانائی کا احساس ہوا اور سکوں کی سکوں اندر میں اترتا محسوس کیا اس نے ۔۔۔۔ نایاب کو محبت بھرا یہ گھر بہت اچھا لگا ۔۔۔ رانیہ جھولے پر بیٹھی چھوٹی سی اسکول گرل لگی اسے ۔۔۔ اس کا کھلکھلانا اور مسکرانا ہر بات پر بلا کی حاضر جواب تھی اور اس کی حاضر جوابی نایاب کو پسند آئی ۔۔۔
صبا خاموشی سے گھر کے کام نپٹاتی کسی کی انکھ میں کم ہی سماتی تھی کیونکہ اس کے پاس نہ حسن تھا اور نہ بولنے کا فن ۔۔۔ گھر کی بڑی لڑکی تھی سگھڑ خاموش مزاج اور خاص کر اندر کی خوبصورتی سے بھرپور تھی پر کسی کی انکھ نہ پڑتی تھی اس پر کیونکہ اندر بھلا کون دیکھتا ہے یہاں تو بس باہر کا حسن معنی رکھتا ہے جو اس کے پاس کم تھا باقی لڑکیوں کے بنسبت اس لیۓ اس کا رشتہ اب تک نہ ہوا تھا ۔۔۔ پر سب بڑوں کو یقین تھا صبا کے لیۓ بھی اچھا رشتہ ضرور ملے گا اللہ پر یقین تھا سب کو ۔۔۔ اس وقت وہ چھبیس سال کی ہوچکی تھی ۔۔۔
چھاؤں میں بیٹھے سب باتوں مصروف تھے بڑے بھی بیٹھے تھے ۔۔۔ اسی وقت گلی میں آواز آئی جس پر صفدر نے کہا ۔۔۔
“رانیہ باجی اپ کے بابا جی اگۓ کچوریوں والے ۔۔۔
“نایاب اپی اپ جانتی ہیں جب میں چھوٹی تھی تب سے یہ باباجی کچوریان بیچتے ہیں اور رانیہ کو تو بیٹی کی طرح سمجھتے ہیں اس کے علاوہ سب سے پیسے لیتے ہیں اس لیۓ ہم انہیں رانیہ کے کچوری والے باباجی کہتے ہیں ۔۔۔سارہ نے مزے سے بتایا ۔۔۔
نازیہ بیگم اب اس کے بچنے کا قصہ بتارہیں جسے غور سے سن رہی تھی ۔۔۔
نایاب کو اندازہ ہورہا تھا رانیہ گھر کے علاوہ آس پڑوس میں بھی پسند کی جاتی ہے ۔۔۔
“بیٹا تم بور تو نہیں ہورہی ۔۔۔ اچانک یسرا بیگم نے کہا ۔۔۔
“ارے نہیں آنٹی سچ میں مجھے خوشی ہوئی یہاں اکر سب سے مل کر اور اپ کا اپس میں پیار دیکھ کر دل خوش ہوگیا ہے ۔۔۔ فراز کے منہ سے جتنی تعریف سنی بلکل سہی سنی ۔۔۔ ہمیشہ یاد رہے گا یہ دن ۔۔۔ نایاب نے دل سے کہا سب اس کی بات پر مسکرا اٹھی پھر سب نے اسے کچھ نہ کچھ تحفے میں دیا ۔۔۔ وہ انکار کرتی رہی پر سب کے خلوص کو دیکھ کر اسے تحائف لینے پڑے ۔۔۔ نایاب فراز کے تایا کی بیٹی ہے مان باپ گزر چکے تھے نایاب کا بس ایک بھائی تھا ۔۔۔ تایا کی بڑی بیٹی کی حیثیت سے اسے کافی اہمیت حاصل تھی ۔۔۔
ہانیہ یونی سے اکر سب سے مل کر اپنے روم میں تھی وہ ایسی محفلوں کا کم ہی حصہ بنتی تھی ۔۔۔
“اب ہمیں چلنا چاہیۓ ۔۔۔ فراز نے کہا ۔۔۔
سب اداس ہورہے تھے سارہ کے جانے کا سوچ کر ۔۔۔
“چلیں اپی فراز نے نایاب سے کہا ۔۔۔
نایاب کے اٹھنے پر سب کھڑے ہوگۓ ۔۔۔ ابھی نازیہ بیگم کچھ کہنے کا سوچ ہی رہیں تھیں کہ فراز نے کہا ۔۔۔
“آنٹی سارہ اج رات یہیں رہے گی کل اجاؤں گا لینے ۔۔
سب پر شادی مرگ سی کیفیت چھا گئی فراز کی بات سن کے ۔۔۔
“شکریہ بیٹے میں اپ سے اجازت مانگنے والی تھی سارہ کی۔۔۔
“ارے آنٹی اجازت نہیں حکم کیا کریں ۔۔۔ فراز کی بات پر سب مسکرا اٹھے ۔۔۔
خوش رہو آباد رہو دل خوش کردیا میرا تم نے ۔۔۔ نازیہ بیگم نے کہا ۔۔۔ سب خوش تھے اس کے ٹھرنے پھر سب نے مل کر فراز اور نایاب کو دروازے تک چھوڑا ۔۔۔
@@@@@@
لائیٹ انے کے بعد سب اندر اگۓ تھے ۔۔۔ ہانیہ بھی اکر بیٹھی تھی اب سارہ کے پاس ۔۔۔ کچھ یاد انے پر ہانیہ نے کہا ۔۔۔
“جلدی دکھائیں فراز بھائی نے کیا دیا منہ دکھائی میں ۔۔۔۔
سارہ نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ اگے کیا اور انگوٹھی کی طرف اشارہ کیا اس کے چہرے پر خوشی تھی ۔۔۔۔
“اوہ پیار کی پہلی نشانی ذرہ مجھے بھی دکھائیں مجھے تو منہ دکھائی کی رسم بہت پسند ہے ۔۔۔۔۔ رانیہ نے کہا شوق سے ۔۔۔۔ وہ کافی ایکسائیٹمینٹ میں اگئی ۔۔۔
“ہاۓ یہ دی ھے اتنے برے حالات تو انکے نہیں لگتے ۔۔۔۔۔ ہانیہ نے دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔ اس کے چہرے پر افسوس ہی تھا ۔۔۔۔
سارہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا ۔۔۔۔ سامنے پرواہ کسے تھی ۔۔۔۔
جلدی سے رانیہ نے ہاتھ اپنی اور کرکے دیکھا اور کہا ۔۔۔۔۔
“ہاۓ اللہ ۔۔۔۔ فراز بھائی نے ایسی انگھوٹھی دے کے کمال کردیا ۔۔۔ جوئلر کو دکھائیں گولڈ کی بھی ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔
رانیہ نے قہقہہ لگاتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔۔
سارہ کا چہرہ اتر چکا تھا اور اس کی آنکھ میں پانی اگیا ۔۔۔۔
“ایسے نہیں کہتے رانیہ ہانیہ ۔۔۔۔۔ صبا نے جلدی سے دونوں کو سرزش کی ۔۔۔۔
ہانیہ نے افسوس بھرے انداز میں کہا ۔۔۔۔
“صبا اپی اپ تو رہنے ہی دیں اوقات نا ہو بندے کی تو منہ دکھائی نہ دے پر ایسی تو نہ دے ۔۔۔۔۔ اپ جیسے معمولی شکل کی لڑکیاں تو ایسی باتیں ہی کرتی ہیں ۔۔۔۔۔
ہانیہ نے تو صبا کی معمولی شکل کو بھی لپیٹ میں لے لیا ۔۔۔۔۔
رانیہ نے اپنی بہن کا ہاتھ دبایا پر وہ ہانیہ ہی کیا جو زبان پر قابو رکھے ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
