No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ناول ۔۔۔۔ انمول سے بے مول
ازقلم ۔۔۔ صبا مغل
قسط ۔۔۔۔ 9
ثوبان کے سوال پر وہ سنبھلی اور بولی تو بس اتنا ۔۔۔
“بچوں کو اس کے باپ کے پاس چھوڑنے آئی تھی ۔۔
تمہیں کیا ضرورت تھی باہر تک انے کی ۔۔ ان ے ساتھ ان کی گورنس تھی ۔۔۔ ایک سوال داغا اس نے ۔۔ ہانیہ زچ ہوکر بولی ۔۔۔
“کچھ کام تھا , تمہیں اس سے کیا ۔۔۔ لہجے میں اکڑ اور غرور تھا ۔۔۔
“بچوں کی ماں نہیں آئی ۔۔۔ ثوبان نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا ۔۔۔ ہانیہ کو ایسا لگا وہ اس کے اندر تک جھانکنے کی صلاحیت رکھتا ہو جیسے ۔۔۔
اس کے سوال کے بعد چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں اس لیۓ صاف بولی ۔۔۔
” تم کوئی جاسوسی آفسر لگے ہو جو سب بتاؤں , چلو کیا یاد کروگے بتا دیتی ہوں ۔۔۔بچوں کی ماں ان کی پیدائش کے وقت گزر گئی ۔۔ اور کچھ یا جاؤں ۔۔۔
آخری لفظ کہتے وقت اس نے کندھے اچکاۓ اور قدم واپسی کے لیۓ موڑے پر ثوبان کی اگلی بات نے اسے سہی معنوں میں شاک کیا ۔۔۔
“اوہ تو تم ان بچوں کے نازک جذبات کا فائدہ اٹھا رہی ہو ان کے باپ کو حاصل کرنے کے لیۓ ۔۔۔ ایم آۓ رائیٹ ۔۔۔ ثوبان سے اس ڈائریکٹ اٹیک کی امید نہیں تھی ہانیہ کو ۔۔۔
“تو تمہیں کیا پرابلم ہے ۔۔۔ میں تو تمہارے معاملے میں نہیں بولتی تم نے صبا سے شادی کا فیصلہ کر لیا میں نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا ۔۔۔ اتنے بھی گئے گزرے تم نہیں ہوں کہ اتنی معمولی لڑکی اپنے لیے چوز کرو کیا واقعی کہیں تم اپنا کانفیڈینس تو نہیں لوز کر بیٹھے ہو ہم دونوں بہنوں کی ریجیکشن کے بعد ۔۔۔ تمہیں کوئی اچھی لڑکی کبھی مل ہی نہیں سکتی ۔۔۔ جو اپنے سے بڑی عمر کی لڑکی ۔۔۔ اس کا لہجہ سراسر تمسخر اڑاتا ہوا تھا ۔۔۔
“شٹ اپ ہانیہ ۔ ۔ اپنی زبان کو لگام دو ۔۔۔ ثوبان نے غصے سے کہا ۔۔۔
ہانیہ نے ڈائریکٹ اس کی انا اور غیرت پر اٹیک کیا ۔۔۔ وہ ایسی ہی تھی اپنا معاملہ دبانے کے لیۓ دوسرے کا معاملہ اٹھا کر اس پر تنقید کرنا ۔۔۔
“اوکے کچھ نہیں کہتی تو تم بھی میرے معاملے میں ٹانگ اڑانے کے بجاۓ چپ رہو ۔۔۔ ہانیہ کا انداز اسے وارن کرنے جیسا تھا ۔۔۔
“مجھے کوئی شوق نہیں تمہارے معاملوں میں بولنے کا ۔۔۔ بس ان بچوں کی وجہ سے خود کو روک نہیں پایا ۔۔۔ اب کے وہ نارمل لہجے میں بولا پر کتنا ضبط کرکے اس نے خود کو نارمل کیا تھا وہ ہانیہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔ یہی تو مسئلہ تھا ہانیہ کبھی سوچتی ہی نہیں تھی بولنے سے پہلے کرنے سے پہلے جو دل چاہتا ہے وہ کر گزرتی ۔۔۔
“بہت جلد ولید خانزادہ آۓ گا میرا ہاتھ مانگنے ۔۔۔ امید کرتی ہوں تم کچھ غلط کرنے کے بجاۓ میرا ساتھ دوگے ورنہ مجھے تم جانتے ہو تمہارا اور صبا کا جینا حرام کرنا مجھے اچھی طرح اتا ہے ۔۔۔
وہ اچھی طرح جانتی تھی اس شخص کی اہمیت اس گھر میں اس لیۓ اسے دھمکانا اس نے اپنا فرض سمجھا ۔۔۔
“اور تمہیں لگتا ہے میں ڈر گیا تمہاری دھمکی سے ۔۔۔ ثوبان کا تمسخر اڑاتا لہجہ ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ , ہانیہ کو غصے دلانا کے لیۓ بہت تھا ۔۔۔
“مجھے پتا ہے تم کو فرق نہیں پڑتا جیسے مجھے بھی تمہارے ہونے نا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہارا فیور ۔۔۔ مجھے اتا ہے حالات کو اپنے فیور میں کرنا ۔۔۔
غصے کی شدت سے سفید چہرہ لال گلاب سا لگ رہا تھا گلاب کی پنکھڑی سے ہونٹ اور لال ہوگۓ تھے ۔۔۔ اس کا قیامت خیز حسن کسی بھی مومن کا ایمان بہکا سکتا تھا ۔۔۔ کچھ لمحے لگے ثوبان کو بھی لگے سنبھلنے میں چند لمحے , نظر چراتا ہوا وہ بولا ۔۔۔
“مطلبی خودپرست جو ہو , سب کرسکتی ہو تم , پر سارے کھیل میں بچوں کو کھلونا مت سمجھنا ۔۔۔ ثوبان نے تاسف سے کہا ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں دو خوبصورت بچوں کا معصوم چہرہ ایا اس لیۓ ہانیہ کو سمجھانے سے خود کو روک نہ پایا ۔۔۔
“تھینکس , آۓ ڈونٹ کیئر ۔۔۔ طنزیہ لہجے میں بول کر اگے بڑھ گۓ ۔۔۔
“اللہ تمہیں ہدایت دے ہانیہ , تم جیسی بھی ہو ہماری اپنی ہو تمہارے خیر خواہ ہیں ہم سب ۔۔۔
ثوبان اس کے پیچھے ہی اندر اگیا بینکیوٹ میں ۔۔۔
@@@@@@@
آہستہ آہستہ سب مہمان جانے لگے تھے ۔۔۔ نایاب پورا وقت ساتھ تھی رانیہ کے ۔۔۔ گھر والوں کے چہرے پر رونق کا نام ونشان نہ تھا ۔۔۔ احمد صاحب اور نازیہ بیگم کو سخت مایوس کیا سعاد کے رویۓ نے پر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا نکاح ہوچکا تھا ۔۔۔ احد صاحب اور یسرا کو دیکھ کر کچھ اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ وہ خوش ہیں یا دکھی ۔۔۔
توقیر صاحب نے پیار اور بہت سی دعائیں دیں رانیہ کو جاتے ہوۓ ۔۔۔ سارا اور فراز ساتھ تھے پورا وقت ۔۔۔ سارا فراز اور نایاب رانیہ کو گھر چھوڑنے آۓ تھے ۔۔۔ ثوبان کو بھی فکر ہورہی تھی رانیہ کی ۔۔۔ اسے بھی سعاد ٹھیک نہ لگا رانیہ کے لیۓ پر وہ جانتا تھا اس کا کچھ کہنا معنی نہیں رکھتا ۔۔۔
رانیہ کو مطئمن کرچکی تھی نایاب ۔۔ پر جتنا اچھا دن شروع ہوا تھا اختام ویسا بلکل نہ تھا کچھ مایوس تھے سعاد کی طرف سی اور کچھ کو اچھے کی امید تھی ۔۔۔
بحرحال یہ دن بھی گزر گیا اگر اج کی رات کوئی خوش تھا سہی معنیٰ میں تو وہ ہانیہ تھی ۔۔۔ کل ولید خانزادہ نے آنا تھا اور اس کے ساتھ ہوگا یہ احساس کتنا خوش کن تھا کوئی پوچھتا ہانیہ سے , مسکان ہونٹوں سے جدا ہونے کا نام نہ لے رہی تھی ۔۔۔
نایاب رانیہ کا موبائل نمبر لے گئی تھی ۔۔۔ اس وجہ سے اسے امید تھی سعاد فون کرے گا پر ایسا کچھ بھی نہ ہوا وہ تھک کے سوگئی ۔۔۔
@@@@@@@
“آپی کیا بات ہے , صبح سے سہی جواب نہیں دے رہیں آپ ۔۔۔ پلیز مجھ سے برداش نہیں آپ کی ناراضگی آپ سب جانتی ہیں , آپ صرف بہن نہیں مان باپ دونوں ہیں میرا کل خاندان اپ ہیں ۔۔۔ سعاد نے نایاب کے گھنٹوں پر ہاتھ رکھ کے اس کے سامنے زمیں پر بیٹھتے ہوۓ کہا ۔۔
“پاغل ہو کھڑے ہوجاؤ اٹھو زمیں سے ۔۔۔ وہ جلدی کھڑا ہوگیا نایاب کے حکم پر ۔۔۔
“اب بتائیں ناراضگی ختم ۔۔۔ سعاد نے لاڈ سے پوچھا ۔۔۔
“میں ناراض نہیں سمجھے , جاؤ جو دل چاہے کرو ۔۔۔ نایاب نے ہلکی آواز میں کہا ۔۔۔
“سوری کہتا ہوں پلیز مان جائیں ۔۔۔ چلیں کان پکڑتا ہوں بس ۔۔۔ اس نے واقعی میں کان پکڑ لیۓ ۔۔۔ نایاب نے اس کے ہاتھ ہٹاۓ کانوں سے ۔۔۔
“پہلے اپنی کرتے ہو پھر معافی مانگنا کیا فائدہ اس سب کا ۔۔۔ نایاب نے دکھ سے کہا ۔۔
سعاد کا سرد انداز لیا دیا رویہ دوسروں سے اسے دکھی کرتا تھا ورنہ نایاب کے لیۓ بےانتہا محبت تھی سعاد کے پاس پر باقی سب سے وہ فارمل ہی رہتا تھا ۔۔۔ جس کی وجہ سے نایاب اکثر دکھی ہوجاتی ۔۔۔ ایک طرف سعاد کا ایسا انداز دوسری طرف فراز کی خوشمزاجی سب سے پیار محبت سے بات کرنا سب کو ویلیو دینا نایاب کو سعاد کے لیۓ فکرمند کرتا اسے دکھ ہوتا اس کا بھائی ایسا کیوں نہیں محبت کرنے والا ملنسار ۔۔۔ یہی سب سوچ کر اس نے محبت کرنے والی سب کی پرواہ کرنے والی رشتوں کو محبت اور اہمیت دینے والی رانیہ کو پسند کیا ۔۔۔ نایاب کی سب امیدیں اب رانیہ سے تھی وہی اسے بدل سکتی ۔۔۔ کیا واقعی سعاد کو بدل پاۓ گی رانیہ یا پھر کیا ہوگی زندگی ان کی یہ سب وقت نے بتانا تھا ۔۔۔
“اف آپی اپ مجھے جانتی ہیں پھر اتنا شوشا کیوں کرتی ہیں مجھے بیزاریت ہوتی ہے سب سے ۔۔۔ مجھے سادگی پسند ہے فضول خرچی رسموں کے نام پر مجھے پسند نہیں ۔۔۔ وہ ایسا سیدھا سیدھا بولنے والا بنددہ تھا ۔۔۔
“تم اکلوتے بھائی ہو میرے یہ سب تمہارا ہے اس لیۓ تم پر خرچ کرکے مجھے خوشی ہوتی ہے ۔۔۔ نایاب کے لہجے میں ماں کی ممتا جیسی محبت تھی سعاد کے لیۓ ۔۔۔
“اف پھر وہی بات میں کہا نا جب سیف بھائی نے سارا بزنس پاپا کا سنبھالا ہے تو سب اپ کا ہوگیا , میرا وہی جو میری محنت کا ہے ۔۔۔ میرا سب کچھ امریکا میں ہے ۔۔۔ سعاد نے دوٹوک کہا ۔۔۔
“پاغل ہو تم سعاد ۔۔۔۔ تم اصل حقدار ہو سمجھے , مجھے اور سیف کو کسی چیز کی تمنا نہیں , ہمارے پاس اللہ دیا بہت ہے ۔۔۔ میں صرف اپنا حصہ لوں گی تمہیں تمہارا حصہ ملے گا سمجھے ۔۔۔ نایاب نے اس کے بکھرے بالوں کو درست کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“نہیں آپی ۔۔۔ یہ میں بہت پہلے اپ کو کلیئر کہہ چکا ہوں میں اب کچھ نہیں لوں گا اللہ کا دیا بہت ہے اگے جو میرے خواب ہیں وہ میں اور میری بیوی مل کے پورے کریں گے ۔۔۔ میں سوچ رہا ہوں اس بار سب اپ کے نام کرکے پھر امریکہ جاؤں گا اپنی بیوی کو لے کر ۔۔۔ سعاد نے دبنگ لہجے میں کہا ۔۔۔ نایاب جانتی تھی اب اسے روکنا ممکن نہیں جو وہ ٹھان لیتا وہ کرکے رہتا ۔۔۔
یہ بات سعاد اچھی طرح جانتا تھا اس کے باپ کے جانے کے بعد مینیجر کی لالچ کی وجہ سے خسارے میں رہا ان کا بزنس ۔۔۔ یہ سیف ہی تھا نایاب کا شوہر جس نے اپنا پیسا لگا کر دن رات محنت سے اسے اجاگر کیا اس بزنس کو دوبارہ کھڑا کیا اس کے باپ کے نام کو مٹنے نہ دیا ۔۔۔ یہ ان کا بڑپن تھا جو ابھی بھی پاپا کے نام سے بزنس چل رہا تھا ورنہ زیادہ حصہ سیف کا تھا پر ہمیشہ سب سعاد کا کہتے دونوں میاں بیوی ۔۔۔ وہ اتنا بھی احسان فراموش نہ تھا ان سے سب لے لیتا ۔۔۔ اس لیۓ اب کے وہ پکے کاغذ بنا کر سب نایاب کے نام کرنے کا ارادہ کرچکا تھا ۔۔ اس بات سے توقیر صاحب اور فراز متفق تھے ۔۔۔
“سعاد یہ بعد کی باتیں ہیں پہلے میری بھابھی کو ڈھیر ساری شاپنگ کراؤ ۔۔۔ مجھے کچھ نہیں چاہیۓ سمجھے ۔۔۔ سب تمہارا ہے تمہارا ہی رہے گا ۔۔۔ نایاب نے محبت سے اس کا ماتھا چوم کر کہا ۔۔۔ وہ سعاد کو بھائی کم بیٹا زیادہ سمجھتی تھی ۔۔۔
“آپی مجھے یہاں کے کپڑے پسند نہیں جو لینا ہے اپ لیں وہ یہیں پہنے گی وہاں اس طرح کا لباس میں نہیں پہننے دوں گا اسے ۔۔۔ یہاں سے صرف وہی کپڑے امریکہ جائیں گے جو مجھے پسند ہیں ۔۔۔ سعاد نے صاف گوئی سے کہا ۔۔۔
“سعاد تم بہت مینن ہو ۔۔۔ نایاب نے اسے چڑایا ۔۔۔
“وہ تو میں ہوں ۔۔۔ اپ جانتی ہیں ۔۔۔ سعاد نے مزے سے کہا اور وہ مسکرایا ۔۔۔ اس کی مسکانے پر نایاب بھی دل کھول کے کے مسکرائی ۔۔۔
@@@@@@@@
آج ہانیہ کی تیاری غضب کی تھی ۔۔۔ ٹھیک نو بجے وہ ریڈی تھی ۔۔۔ احمد صاحب سے وہ اجازت لے چکی تھی ۔۔۔ یسرا کو ناگوار گزرا تھا پر گھر کے بڑوں کے بیچ وہ اپنی بات نہیں کہے سکتی تھیں ۔۔ حالانکہ وہ ماں تھیں اپنی بیٹی کی خودسری ناگوار گزرتی تھی پر ہانیہ کو اس بات کی پرواہ نہ تھی ۔۔۔
ٹھیک نو بج کے پانچ منٹ پر گاڑی کی آواز آئی جیسے کنفرم ہوا وہ خداحافظ کہتی باہر آئی ۔۔۔ اس کی چال میں غرور اور اکڑ تھی ۔۔۔
پر گاڑی میں صرف دونوں بچوں کو دیکھ کر وہ حیران ہوئی ۔۔۔ بچوں سے پوچھنے پر پتا چلا وہ مغرور شخص اپنی گاڑی میں پہنچے گا سکول ۔۔۔
ہانیہ کلس کر رہ گئی ۔۔۔ غصہ شدید ارہا تھا پر اس وقت وہ بچوں پر ظاہر کرنے سے قاصر تھی ۔۔۔
“کب تک بچو گے آنا میرے پاس ہی ہے تمہیں ولید خانزادہ ۔۔۔ اس نے ایک ادا سے اپنے بال جھٹکے اور سوچ کر مسکرائی ۔۔۔
اگر وہ کوئی سمجھدار لڑکی ہوتی تو ضرور سمجھتی کہ کتنا احتیاط پسند شخص ہے یہ , لڑکی کی عزت کتنی انمول اور نازک ہوتی ہے اس سے بہتر شاید کوئی نہیں جانتا تھا ۔۔۔ ہانیہ کیسی لڑکی تھی جو خود کو بےمول کررہی تھی کسی مرد پیچھے , ایک وہ مرد تھا جو اپنی عزت تو کرتا تھا ہی پر عورت کی عزت کرنا بھی خوب جانتا تھا ۔۔۔
وہ واقعی سکول کے باہر اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا ۔۔۔ ہانیہ نے سلام کا جواب دینے کے بعد ایک نظر بھی نہ دیکھا ولید خانزادہ کی طرف اس کا دھیاں صرف بچوں پر تھا ۔۔۔
بچوں کی کلاس ٹیچر نے خوشی کا اظہار کیا ان کے آنے پر ۔۔۔ پہلے ان کو غلط فہمی ہوئی شاید ہانیہ ان کی مسز ہے شاید وہ سیکینڈ میرج کرچکے ہوں پر ولید خانزادہ نے شرمندہ ہوکر ان کو کلیئر کیا ۔۔۔ ایک دم کلاس ٹیچر کا ایسا کہنا تھوڑا سا ہانیہ کو بھی عجیب لگا پر یہ کچھ لمحے کی بات تھی اس کے بعد گدگدا سا نیا احساس جاگا اس کے اندر ۔۔۔ اس احساس نے اسے سرشار کیا ۔۔۔ “چلو کسی نے تو اسے اس طرف متوجہ کیا ۔۔۔ اسی بہانے اس مغرور شخص کو ایسا کوئی خیال ہی آجائے ۔۔۔۔ ہانیہ نے سوچا ۔۔۔
رزلٹ تو نارمل ایا تھا پر بچوں میں ایا چینج اس کی بہت تعریف کی تھی انہوں نے ۔۔۔ ٹیچر نے کھل کے اظہار کیا پہلے کس طرح بچے خود شرارت کرتے تھے دوسرے بچوں کو اکساتے , غلط لفظوں کا استعمال کرتے ہر وقت بدمزاج ہٹ دھرم تھے ہر ٹیچر کو شکایت ہوتی تھی پر اب تمیز والے ہر ٹیچر کی سننا تھوڑی بہت شرارت ضرور کرتے پر تمیز کے دائرے میں رہ کر کرتے ہیں ۔۔۔ سب ٹیچر اب خوش ہیں بچوں سے ۔۔۔ چڑچڑاپن بھی دور ہوگیا ہے دونوں بچوں میں سے , بلکہ خوش مزاج ہوگۓ ہیں دونوں بچے ۔۔۔
ولید خانزادہ نے کھلے دل سے کریڈٹ دیا ہانیہ کو اور خوشی سے انٹروڈیوس کروایا کلاس ٹیچر سے ۔۔۔ ہانیہ کے چہرے پر مسکراہٹ اگئی ۔۔۔ وہ جو صرف ان کے رپوٹ کارڈ پر نظر جماۓ ہوۓ تھی اب کھل کے مسکرائی ۔۔۔
دونوں بچے اس کا ہاتھ تھامے کلاس سے باہر نکلے اسی وقت مسز بہزاد سکول کی پرنسپل گزریں جنہوں نے سلام کیا ولید خانزادہ کو ۔۔۔ جس کا جواب اس نے خوشی سے دیا ۔۔۔
“میں اپ کی طرف ارہا تھا آنٹی بچوں کو گاڑی تک چھوڑنے کے بعد ۔۔۔ ولید نے کہا ۔۔۔
“یہ لڑکی کوں ہے بچوں کے ساتھ ولید ۔۔۔ انہوں نے پوچھا کیونکہ بچے جس طرح اسے تھامے ہوۓ تھے کافی حیران کن تھا ۔۔۔
“یہی بچوں کی ٹیچر ہے مس ہانیہ ۔۔۔ ولید خانزادہ نے نارمل لہجے میں کہا ۔۔۔
“میرے اڑیل بھانجے کے اڑیل بچوں کو سدھارنے والی یہ ہے ۔۔۔ نائس ٹو میٹ یو ہانیہ ۔۔ دونوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا حال احوال پوچھا ۔۔۔
ولید خجل سا ہوا ہانیہ کے سامنے اس طرح کہنے پر اپنی خالہ کو وہ کچھ کہے نہیں سکتا تھا ۔۔۔
“اوکے میں بچوں کو چھوڑ کے اتا ہوں اپ کے پاس آنٹی ۔۔
“پاپا ٹیچر سے کہیں ہمارے ساتھ گھر چلیں ۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔
“ہممم اپ گھر جائیں ۔ ۔ ولید نے کہا ۔۔۔
“پر سر ۔۔۔ ہانیہ نے کچھ کہنا چاہا پر وہ اس کی بات کاٹ گیا ۔ ۔
“میں گھر اکر اپ سے بات کرتا ہوں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے حکمیہ لہجے میں کہا جس کی وجہ سے ہانیہ کو خاموش ہونا پڑا ۔۔۔
ان کو گاڑی تک چھوڑنے کے بعد پرنسپل کی آفیس ایا ۔۔۔ ولید نے ہی اس سکول میں اسکالرشپ سسٹم اسٹارٹ کیا تھا جس کی فنڈنگ وہ اور اس کے کچھ دوست کرتے تھے ۔۔۔ ان کی کوششوں کی وجہ سے نارمل گھر کے بچے بھی اس مہنگے سکول کی فیس کا خرچہ اٹھانے کے قابل ہوگئے تھے ۔۔۔
اس نے چیک کاٹ کے آنٹی کے ہاتھ میں دیا ۔۔ مسز بہزاد کی پر سوچ نظریں ولید پر ٹکی تھیں ۔ ۔
” کیا بات ہے آنٹی آپ کس سوچ میں گم میں ۔۔۔ ولید نے پوچھا ۔۔
“کچھ کہنا چاہتی ہوں پر سوچ رہی ہوں کہوں یا نہ کہوں ۔۔۔ انہوں نے پرسوچ انداز میں کہا ۔۔
” کیا بات ہے آنٹی کھل کے کہیں ۔۔۔ اسے لگا شاید فنڈز کے رلیٹڈ بات ہوگی ۔۔۔
” پتا نہیں یہ جگہ مناسب ہے بھی یا نہیں پر بیٹا کیا کروں کہے بغیر مجھ سے رہا بھی نہیں جائے گا ۔۔۔ انہوں نے ماتھا مسلتے ہوۓ کہا ۔۔۔ بس ایک ہی منظر ان کی انکھوں میں گھوم رہا تھا ہانیہ کے دونوں بازو بچوں کے گرفت میں تھے اور وہ ہنس ہنس کر ان بہلا رہی تھی ۔۔۔
” آپ خالا ہیں میری کھل کے کہیں ۔۔۔ ولید نے کھلے دل سے اجازت دی کہنے کی ۔۔۔
” بیٹا یہی وہ لڑکی ہے جو تمہارے بچوں کو ماں کا پیار دے سکتی ہے ۔۔۔ اب شادی کرلو ۔۔۔ ایک لمبی سانس خارج کی اپنی بات مکمل کرنے بعد ایسا لگتا تھا کہ ایک بات کہنے میں انہوں نے صدیوں کی مسافت طے کی ہو ۔۔۔
“آنٹی یہ آپ کیا کہے رہیں ہیں ۔۔۔ ولید کو شاک لگا ان کی بات پر۔۔
” جو خوشی بچوں کی آنکھوں میں میں نے دیکھی ہے وہ آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ۔۔ بہت بدل گۓ ہیں بچے ہر ایک ٹیچر اس چینج کی تعریف کررہی ہے ۔۔۔
“بس آنٹی میں چلتا ہوں جو ممکن نہیں اس کی بات نہ کریں مجھ سے ۔۔۔
وہ اٹھ کے کھڑا ہوا ۔۔۔
” ولید ٹھرو چائے تو پی کر جاؤ ۔۔۔ ان کو سمجھ نہ کیا کہیں تو اسی بہانے ولید کو روکنا چاہا ۔۔۔
“نہیں آنٹی تھینک یو ۔۔۔ اس نے ضبط سے کہا ۔۔ وہ جانتی تھیں کہ انہوں نے اپنے بھانجے کا دل دکھا چکی ہیں اور وہ خود کو کہنے سے روک بھی نہیں پا رہی تھیں یہ سب کہنے سے ۔۔۔
” ولید ایک بات میری سنو رکو ۔۔۔ وہ جو دروازے کے ناب پے ہاتھ رکھ رہا تھا ایک دم ٹھرا اور پلٹا پر کہا کچھ نہیں وہ سمجھ رہیں تھیں ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا ہونٹ بھینچے ہوۓ تھے اس نے ۔۔۔ پر انداز سوالیہ تھا ۔۔۔
” جہاں تک میں دیکھ رہی ہوں وہاں تمہاری سوچ بھی نہیں ہے پر ایک بات بتا دیتی ہوں بہت جلد تمہارے خود کے بچے تمہارے سامنے ہونگے یہ سوال لیئے تب کیا کروگے تم یہ سوچنا ضرور ۔۔۔
“ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔۔۔ ولید خانزادہ نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلاگیا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
